سعودی عرب نے مسافروں کو لینے کے لیے آنے والے اسرائیلی جہازوں کو ملک میں آنے سے روک دیا: رپورٹ
10:13, 01/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 10:53, 01/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

AA
فلائی دبئی ایئرلائن۔ فائل فوٹومتحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی پرواز میں ایک پائلٹ نے چاقو کے وار کر کے ساتھی پائلٹ کو زخمی کر دیا اس دوران فلائی دبئی کی پرواز کو ہنگامی طور پر سعودی عرب لینڈ کرا لیا گیا۔ جس کے بعد اسرائیل نے سعودی عرب سے مسافروں کو واپس لانے کے لیے اسرائیلی جہازوں کو مملکت آنے کی اجازت مانگی جسے سعودی عرب نے مسترد کر دیا۔
انگلینڈ کی خبر ایجنسی روئٹرز کو دو مختلف زرئع نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے درخواست کی تھی کہ اسرائیلی فوجی طیاروں کو سعودی عرب سے اسرائیلی شہریوں کو واپس لانے کی اجازت دی جائے۔ واضع رہے کہ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
سعودی عرب کے سرکاری میڈیا آفس نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔
ذرائع میں سے ایک نے بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ اسرائیلی مسافروں کو لانے کے لیے ’سپر ہرکیولس‘ طیارے بھیجنے کی تیاری کر رہی تھی۔
تاہم ایئرلائن کے مطابق مسافر فلائی دبئی کے طیاروں پر ہی اپنا سفر جاری رکھیں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی ’فلائی دبئی‘ کے پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کرنے کے بعد طیارے کو گرانے کی کوشش کی، تاہم مسافروں نے اسے قابو کر لیا اور دیگر پائلٹس نے طیارے کو بحفاظت سعودی عرب میں اتار لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائے۔ اس معاہدے کے تحت کئی عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم بھی کیے تھے۔ تاہم سعودی عرب طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیش رفت کے بغیر ان معاہدوں میں شمولیت کو مسترد کرتا رہا ہے۔
بدھ کو ایک سینئر سعودی عہدیدار نے سعودی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ملاقات کی خبروں کی تردید کی تھی۔
یہ تردید اسرائیلی میڈیا کی ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں کہا گیا تھا کہ نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے حالیہ دورے کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے حکام سے ملاقات کی تھی اور ان میں ایک سعودی عہدیدار بھی شامل تھا۔