مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر امریکا نے ایرانی وفد کو نیویارک سے فوری روانگی کا حکم دے دیا
09:43, 01/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 09:43, 01/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

تصویر: اے ایف پی
مارکو روبیو کی ہدایت پر اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کو آگاہ کیا کہ عباس عراقچی کے وفد کو ’فوری طور پر‘ نیویارک چھوڑنا ہوگا۔ایک امریکی عہدیدار نے بدھ کو ترک خبر ایجنسی انادولو کو تصدیق کی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود ایرانی وفد کو امریکا چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق امریکی مشن نے پیر کی شام امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ہدایت پر اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کو آگاہ کیا کہ عباس عراقچی کے وفد کو ’فوری طور پر‘ نیویارک چھوڑنا ہوگا۔
ایک امریکی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا کہ ایرانی وفد ’ایرانی وفد کا قیام مقررہ وقت سے زیادہ ہو چکا تھا‘ اور چونکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ختم ہو گیا ہے اس لیے اب ان کے جانے کا وقت تھا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ایرانی وفد مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح ایک بج کر 20 منٹ پر نیویارک سے دوحہ جانے والی پرواز میں سوار ہوا۔ تاہم ایک دوسرے ذریعے کے مطابق عراقچی پہلے ہی پیر کی رات تہران واپس جانے والے تھے۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو پیر کی صبح ایران کے ساتھ مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت کی امید تھی، تاہم دن گزرنے کے ساتھ واضح ہوگیا کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں علاقائی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قطری ثالث امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ سمجھوتے کی ایک تجویز پر مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے جواب میں تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم راستے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کردیا۔
جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جون میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بھی جاری ہیں۔ اس یادداشت میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی بحال کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔