امریکی فوج کا دو دہائیوں بعد عراق سے انخلا کا فیصلہ، داعش کی واپسی کا خدشہ
17:14, 29/09/2026, منگل
ویب ڈیسک

امریکی فوج
عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا۔ فائل فوٹوامریکی افواج بدھ تک عراق میں اپنے آخری اڈوں سے انخلا کر لیں گی، اس انخلا کو ایران اور اس کے اتحادی فتح کے طور پر منا رہے ہیں، جہاں دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط جنگ کے دوران 4,500 امریکی ہلاک ہوئے تھے۔
عراقی سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انخلا پر 2024 میں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں اتفاق ہوا تھا اور اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے باوجود نافذ کیا ہے اور ساتھ ہی ’داعیش‘ سمیت امریکہ کے دیگر دشمنوں کو بھی دوبارہ سر اٹھانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
اتحادیوں کا رد عمل
عراق کے سیکیورٹی تجزیہ کار جاسم البہادلی نے کہا ہے کہ اتحادی افواج کے نکلنے سے ایران کو سٹریٹجک طور پر فائدہ ہو گا کیونکہ اس سے برسوں سے عراق میں ایران کے اثر و رسوخ کے جواب میں کام کرنے والی فوجی موجودگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔
عراق میں ’اسلامک ریزسٹنس‘ کے کمانڈر ابو مجتبیٰ الیاسری نے اس امریکی انخلا کو عراقی اسلامی مزاحمتی گروپوں اور عراقیوں کے لیے ایک تاریخی فتح اور امریکی منصوبے کے لیے ایک شکست قرار دیا۔
انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ 30 ستمبر کو ہم عراق کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے خاتمے اور ہمارے ملک پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں قابض افواج کی ناکامی کا جشن منائیں گے۔ 

داعش کا خطرہ
اگرچہ امریکی افواج کا انخلا عام طور پر عراقیوں میں مقبول ہے، لیکن وہ لوگ جو ایران کے گروپوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سے پریشان ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ یہ انخلا وقت سے پہلے ہے۔
عراق کے شہر ’فلوجہ‘ جو کبھی امریکی مخالف مزاحمت کا گڑھ تھا۔ اس شہر کے ایک سنی قبائلی رہنما عبدالرحمن الزوبعی نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ’ ہمارا ماننا ہے کہ عراق اس وقت سیکورٹی کی ذمہ داریاں مکمل طور پر سنبھالنے کے لیے ابھی پوری طرح تیار نہیں ہے۔’
کرد کمانڈر سروان بارزانی نے کہا کہ امریکی انٹیلیجنس، لاجسٹک سپورٹ اور ڈرونز کے بغیر اسلامک سٹیٹ (داعش )کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے گی، جبکہ سٹریٹجک اہمیت کے حامل تیل پیدا کرنے والے شہر میں کرکوک میں تعینات ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار کرنل خالد البیاتی نے کہا کہ اسلامک سٹیٹ یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ اب بھی طاقتور ہے اوربڑے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔