یمن میں سعودی حملوں سے ستمبر سے اب تک ایک لاکھ 30 ہزار افراد بے گھر : اقوام متحدہ

11:35, 23/09/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 14:39, 23/09/2026, بدھ
ویب ڈیسک
یمن میں سعودی حملوں سے ستمبر سے اب تک ایک لاکھ 30 ہزار افراد بے گھر : اقوام متحدہ
Middle East Eye
فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ( یو این ایچ سی آر) نے منگل کو خبردار کیا ہے کہ یمن میں حوثی تحریک کے خلاف سعودی جنگ کے باعث ستمبر کے آغاز سے اب تک کم از کم ایک لاکھ 30 ہزار افراد اپنے گھر چھوڑنے پرمجبور ہوچکے ہیں۔

سعودی فضائی حملوں اور انصار اللہ (حوثیوں) اور حکومتی افواج کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں مغربی اور وسطی یمن میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔

یو این ایچ سی آر نے ستمبر کے حوالے سے کہا کہ شہری مسلسل اس تنازع کا خمیازہ بھگت رہے ہیں،اور کم از کم 110 افراد ہلاک و زخمی ہوئے، جن میں 28 جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

ادارے نے کہا کہ تعز اس بحران کا ‘مرکز’ بنا ہوا ہے اور بے گھر ہونے والے افراد میں سے 60 فیصد سے زائد کا تعلق اسی علاقے سے ہے، جبکہ متعدد خاندان لڑائی کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ’ الجوف، مارب اور الحدیدہ کے گورنریٹس سے بھی لوگوں کے بے گھر ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جو تنازعے کے کئی محاذوں پر پھیلنے کی عکاسی کرتا ہے۔

یمنی حکومتی افواج نے منگل کو بتایا کہ سعودی عرب نے صوبہ تعز کے مغرب میں حوثی ٹھکانوں اور اسلحہ کے ذخیروں پر فضائی حملے کیے ہیں ۔ جس کے چند گھنٹے بعد سعودی سول ڈیفنس نے نجران ریجن میں ممکنہ حملے کی وارننگ جاری کی۔ جبکہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

حکام نے ایک بیان میں کہا کہ ’اپنی حفاظت کے لیے سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں اور ہجوم کرنے یا ویڈیو بنانے سے گریز کریں۔‘

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے سربراہ، وزیر اعظم شائع الزندانی نے سعودی اخبار ’عکاظ‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں یہ تسلیم کیا کہ آبنائے باب المندب پر حوثیوں کا قبضہ انتہائی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، یہ جنگ کا خاتمہ نہیں ہے۔ ‘

انہوں نے کہا کہ سعودی حمایت یافتہ افواج ’کھوئی ہوئی پوزیشنیں واپس لینے کے لیے تیاری کی سطح بڑھا رہی ہیں۔‘

الجوف اور مارب میں بھی جھڑپوں حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ لڑائی سے جان بچا کر کم از کم تین ہزار بے گھر افراد مارب پہنچ چکے ہیں، جو صنعا سے تقریباً 120 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔

دوسری جانب لڑائی کے ساتھ ساتھ انسانی بحران بھی سنگین ہو رہا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے خبردار کیا کہ ’بھوک پھیل رہی ہے،کیونکہ کافی لوگوں کو خوراک میسر نہیں ہے اور طبی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ خالی ہاتھ کیمپوں میں لوٹ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یمن اپنی خوراک کا تقریباً 90 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے، جبکہ ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد جو کہ ملک کی کل آبادی کا نصف حصہ ہے شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت میں مبتلا ہیں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026