اقوام متحدہ امن کے قیام کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا ہے، سلامتی کونسل میں اصلاحات ضروری ہیں: ترک صدر
10:12, 23/09/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 10:58, 23/09/2026, بدھ
ویب ڈیسک

تصویر: اقوام متحدہ
ترک صدر نے ان ممالک پر زور دیا جو فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ امن کے قیام کی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہوچکا ہے اور سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
رجب طیب اردوان کئی برس سے سلامتی کونسل کے سٹرکچر کو مزید جامع بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 190 سے زائد ممالک کی مرضی کو 5 ممالک کی خواہشات کا تابع رکھنے والا نظام غیر منصفانہ ہے اور نہ ہی مکمل طور پر اعتماد قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ 81 سال قبل امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے قائم کیا گیا اقوام متحدہ اس مقصد کو پورا کرنے سے قاصر ہوچکا ہے، بلکہ اسے ایسا کرنے کے قابل نہیں رہنے دیا گیا۔
اردوان نے غزہ کی صورتحال کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’جو شخص انسانیت، ہمدردی اور رحم کے جذبات کے ساتھ انصاف اور ضمیر کا احساس رکھتا ہو، وہ غزہ میں جاری صورتحال سے آنکھیں بند نہیں کرسکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ فلسطینی صدر محمود عباس مسلسل دو برس سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس شرکت کے لیے نہیں آ سکے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یہ ناانصافی ضمیر کو زخمی کرتی ہے۔

تصویر: اقوام متحدہ
’غزہ کے لوگ اپنے پیاروں کو آج بھی ملبے تلے ڈھونڈ رہے ہیں، وہ اپنے گھر والوں، بچوں اور والدین کی لاشیں نکال رہے ہیں‘ترک صدر نے ان ممالک پر زور دیا جو فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں، جبکہ تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر دباؤ بڑھائیں۔
صدر اردوان نے غزہ کو ’غزہ کی پٹی اس وقت بچوں کا سب سے بڑا قبر استان بن چکی ہے۔‘
انہوں نے کہا ہے کہ ’پچھلے تین سال کے دوران غزہ میں 74 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی جانیں لی گئیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین تھی۔‘
ترک صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا ہے کہ ’فلسطین، سوڈان، لبنان اور دیگر بحران زدا ممالک جنہوں نے اقوام متحدہ سے امید لگائی تھی وہ مایوس ہو گئے ہیں۔‘
’ہمارے فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی انسانی جذبات کو مجروع کرتی ہے۔غزہ نہ صرف دنیا میں بچوں کا سب سے بڑا قبرستان ہے بلکہ دھماکوں سے بچوں کو معذور کرنے کی جگہ بھی ہے۔‘
غزہ میں بچوں کے قتل کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ ’’غزہ کے لوگ اپنے پیاروں کو آج بھی ملبے تلے ڈھونڈ رہے ہیں، وہ اپنے گھر والوں، بچوں اور والدین کی لاشیں نکال رہے ہیں۔‘
نیٹو کے رکن ترکیہ نے اسرائیل اور غزہ میں اس کی جنگ پر سخت تنقید کی ہے اور اسرائیلی حملوں کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ ترکیہ نے متعدد مرتبہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اسرائیل نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔