اگر مذاکرات نہ ہوئے تو ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے: امریکی صدر کا یو این جنرل اسمبلی میں خطاب
09:36, 23/09/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 09:36, 23/09/2026, بدھ
ویب ڈیسک

تصویر: اے ایف پی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران کو تباہ کرسکتا ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران کو تباہ کرسکتا ہے۔‘
انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سفارتی کوششوں کے دوران جلد معاہدہ ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا۔
نیویارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’انہیں ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے۔‘
ان کے مطابق ایک راستہ یہ ہے کہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہو جس کے ذریعے وہ دوبارہ تعمیر ہو اور پہلے سے زیادہ مضبوط ملک بنے، یا پھر اسلامی جمہوریہ ایران کو فوری طور پر تباہ کردیا جائے۔
ایران کی مسلح افواج نے ٹرمپ کے بیان کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جارحیت کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کن اور غیر متوقع حملوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
دوسری جانب تقریباً سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رہیں۔ یہ تنازع امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ثالثوں کے ذریعے طویل بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق ثالث دن بھر دونوں فریقوں کے درمیان آتے جاتے رہے۔
بعد ازاں امریکی صدر نے بتایا کہ ان کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے ملاقات کو ’بہت اچھی‘ قرار دیا، تاہم کہا کہ ایرانی نمائندے اعلیٰ ترین سطح کے نہیں تھے۔