ایران میں سکول اور سپورٹس سینٹر پر امریکی حملے جنگی جرائم ہیں : اقوام متحدہ
00:14, 20/09/2026, اتوارا: اپ ڈیٹ: 11:22, 21/09/2026, پیر
ویب ڈیسک

CNBC
میناب۔ایراناقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے کہا ہے کہ فروری میں ایران میں ایک سکول اور سپورٹس کمپلیکس پر امریکی فضائی حملوں کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا اور یہ کاروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
جبکہ ایرانی حکام نےحکومت مخالف مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کیے ہیں۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی جانے والی ایران سے متعلق ’انڈیپینڈنٹ انٹرنیشنل فیکٹ فائنڈنگ مشن‘ کی رپورٹ میں ’میں فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے دوران امریکہ کے طرزِ عمل اور دسمبر کے اواخر میں شروع ہونے والی ملک گیر بدامنی پر ایرانی حکومت کے ردعمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔‘
پینٹاگون نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال ہمارے پاس حتمی طور پر بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے اس رپورٹ کے ردعمل میں کہا کہ ’اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے انسانی حقوق کے لیے کچھ حاصل نہیں کیا، موجودہ تنازعے میں جنگی جرائم کا ارتکاب صرف ایران نے کیا ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق ایران کے جنوبی شہر میناب میں شجرہ طیبہ پرائمری سکول پر حملے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں 120 سکولی بچے شامل تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سکول ایک واضح شہری ہدف تھا جو پاسداران انقلاب کے بحری کمپلیکس کے قریب واقع تھا، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی ابتدائی اندرونی تحقیقات سے ظاہر ہوا تھا کہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں مہلک حملے کا ذمہ دار امریکہ ہی تھا۔
جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’فروری میں ایران میں لڑکیوں کے سکول پر جان بوجھ کر حملہ نہیں کیا گیا تھا۔‘
انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ 1979 کے انقلاب میں شیعہ مذہبی رہنماؤں کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ سب سے بڑا کریک ڈاؤن تھا جس میں عام راہگیر بھی مارے گئے۔ تہران نے الزام لگایا تھا کہ تشدد کے پیچھے جلاوطن اپوزیشن اور امریکہ و اسرائیل کی حمایت یافتہ دہشت گرد ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا لیکن ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔‘
جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 3,038 افراد ہلاک اور 25,000 زخمی ہوئے تھے۔