جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی فوج تعینات کرنے کو مسترد کردیا
12:30, 20/09/2026, اتوارا: اپ ڈیٹ: 13:11, 21/09/2026, پیر
ویب ڈیسک

The Korea Times
فائل فوٹوجنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے پیش نظر جنگی دستوں کی تعیناتی کو مسترد کردیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’جنوبی کوریا ایسے انداز میں فوجی اہلکار نہیں بھیجے گا جس کی وجہ سے وہ کسی بیرونی تنازعے میں پھنس جائیں۔‘
جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی ’یونہاپ‘ کے مطابق صدر لی نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ایسی کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی جس سے ہم کسی تنازع میں ملوث ہوں، ہماری جنگ میں کوئی بھی شمولیت یا عمل دخل نہیں ہے۔‘
تاہم صدر نے کہا کہ ’جنوبی کوریا کو اپنے شہریوں اور خام تیل کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ کے لیے کم سے کم وہ اقدامات کیے جائیں جو ضروری ہیں۔‘
جنوبی کوریا کے اخبار 'دی چوسن ڈیلی 'کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگی بنیادوں پر فوج کو تعینات ہونے کی اجازت نہیں کی جائے گی اور اعادہ کیا کہ جنوبی کوریا عدم شمولیت اور عدم مداخلت کے اپنے اصول پر قائم رہے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا امریکہ کے دباؤ پر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں ممکنہ کردار ادا کرنے پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جن اثاثوں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں میری ٹائم طیارے، بارودی مواد ناکارہ بنانے والی ٹیمیں اور بحری بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے والے سسٹم شامل ہیں، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
آبنائے ہرمز جنوبی کوریا کے لیے توانائی کی سپلائی کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جبکہ ایران سے متعلق تنازع اور یمن کے حوثی گروپ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے جہاز رانی اور خام تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں ۔
صدرنے کہا کہ تنازع کے ابتدائی دور میں جنوبی کوریا کو خام تیل حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ بحری جہازوں نے خطرے والے سمندری راستوں سے گریز کیا تھا۔
واضح رہے کہ ایران نے جنوبی کوریا کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں کسی بھی فوجی کاروائی میں حصہ لیں گے تو اس اقدام کے سنگین نتائج ہوں گے۔