یمن میں حالیہ جھڑپوں سے دو ہفتوں کے دوران 57 ہزار سے زائد بچے بے گھر ہوئے: یونیسیف
16:04, 17/09/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

UNICEF
یمن کے علاقے عدن میں متاثرہ بچوں کی اپنے خیموں کے باہر کھڑے تصویر
یونیسیف نے بدھ کی رات جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے باعث صرف دو ہفتوں میں 57 ہزار سے زائد بچے بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے پہلے سے جاری شدید انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے کے مطابق 3 ستمبر سے اب تک ایک لاکھ 4 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جن میں 57 ہزار سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔ جس کی وجہ مغربی تعز، جنوبی الحدیدہ، مآرب اور دیگر علاقوں میں لڑائی کا شدت اختیار کر جانا ہے۔
یونیسیف نے کہا ہے کہ اس دوران کم از کم نو بچوں کی ہلاکت اور 12 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ یمن کے مغربی ساحل کو عدن سے ملانے والی سڑک پر ہونے والے ایک حملے کے بعد تین مزید بچے لاپتہ ہو گئے ہیں۔
لڑائی کے باعث یونیسیف کے تعاون سے چلنے والے 26 صحت مراکز میں خدمات معطل ہو گئی ہیں جب کہ 243 سکول بند یا کلاسیں معطل ہو گئی ہیں جس سے ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد طلبہ متاثر ہوئے ہیں۔
یونیسیف کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ریجنل ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبیڈر نے کہا کہ’یمن کے بچے پہلے ہی دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک سے گزر رہے تھے، اب صرف دو ہفتوں میں ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔’
یونیسیف نے کہا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے متاثرہ 2 لاکھ 31 ہزار افراد تک ہنگامی امداد پہنچانے کے لیے اپنی کاروائیاں بڑھا رہا ہے۔
جس میں صحت مراکز کی مدد، تعز میں ‘ہائیجین کٹس ‘ اور پانی کے ٹینکوں کی تقسیم، مارب میں اضافی پانی کی فراہمی اور عدن، مارب اور تعز میں 9 موبائل ہیلتھ ٹیموں کی تعیناتی شامل ہے۔
ادارے کے مطابق 2 لاکھ سے زائد افراد کو صاف پانی، حفظان صحت کا سامان اور تباہ شدہ نظام کی فوری مرمت کے ذریعے امداد فراہم کی جائے گی۔
اس کشیدگی میں اضافے سے پہلے بھی یمن میں تقریباً ایک کروڑ 22 لاکھ بچے انسانی امداد کے محتاج تھے، 5 سال سے کم عمر کے 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جن میں 5 لاکھ 15 ہزار شدید قلت کا شکار ہیں، جب کہ 32 لاکھ بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔