آبنائے ہرمز کے بعد پائپ لائن کی بندش، سعودی عرب نے یورپ کے لیے تیل کی ترسیل روک دی

12:32, 16/09/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 14:51, 16/09/2026, بدھ
ویب ڈیسک
آبنائے ہرمز کے بعد پائپ لائن کی بندش، سعودی عرب نے یورپ کے لیے تیل کی ترسیل روک دی
تصویر: اے ایف پی
سعودی عرب کے مطابق عراقی ملیشیا کی جانب سے حملے کے بعد مملکت کو جمعے کو ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند کرنی پڑی۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایسٹ ویسٹ پائپ لائن تباہ ہونے کے بعد سعودی عرب کو یورپ کے لیے تیل کی ترسیل روکنی پڑی ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل پہنچنے پر سعودی عرب سے تیل خریدنے والے ممالک متبادل راستے کو ڈھونڈ رہے ہیں۔

سعودی عرب کے مطابق عراقی ملیشیا کی جانب سے حملے کے بعد مملکت کو جمعے کو ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند کرنی پڑی۔انگلینڈ کی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے حوالے سے سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی جس کے بعد ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر انحصار بڑھ گیا تھا۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے منگل کو یورپ میں تیل کے خریداروں کو اطلاع دے دی تھی کہ ستمبر کے مہینے میں بھیجے جانے والے تیل کی ترسیل کو روک دیا گیا ہے۔

سعودی آئل کمپنی آرامکو کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

تجارت پر نظر رکھنے والے زرائع کے مطابق سعودی تیل کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے زریعے ترسیل کم ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات اور عراق کی طرح مجبوراً آبنائے ہرمز کے راستے کو اختیار کرنا پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق جو کہ تجارت کے لیے خطر ناک راستہ ہے۔

مڈل ایسٹ میں پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر خلیجی ممالک میں تیل برآمد کرنے والے ملک یومیہ صرف 7 سے 9 ملین بیرل تیل برآمد کر رہے ہیں۔ یہ مقدار جنگ سے پہلے برآمد ہونے والے تیل کا صرف 30 سے 40 فیصد ہے۔

لندن سٹاک ایکسچینج کی جانب سے جاری عداد و شمار کے مطابق تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جو برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل تک تک چلی گئی ہے جو یورپ کی مارکیٹ میں پہنچنے کے بعد اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 122 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔

دنیا بھر میں تیل کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے ’وورٹیکسا‘ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے 7 سے 13 ستمبر کے دوران 12 بحری جہازوں میں 22 ملین بیرل تیل لوڈ کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ابتدائی طور پر یہ نہیں پتا لگایا جا سکا کہ یورپ جانے والے کتنے کارگو جہاز کینسل ہوئے اور ینبع پر کتنے عرصے کے لیے تیل کی ترسیل رکی رہے گی۔

پالش کمپنی کا تیل کی خریداری کے لیے سعودی عرب کے متبادل پر غور

پولینڈ کی آئل فرم ’اورلین‘ تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے سعودی عرب کے بجائے کسی اور ملک سے تیل کی خریداری کے حوالے سے کام کر رہی ہے۔

سعودی آئل کمپنی آرامکو 2022 میں پولینڈ کی آئل فرم ’اورلین‘ کو تیل سپلائی کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بن گئی تھی جو اب اپنی اصل مقدار کا صرف 40 فیصد سپلائی کر رہی ہے۔

پالش کمپنی نے کمرشل ٹرانزیکشن کے حوالے سے زیادہ معلومات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک میں تیل کی ترسیل کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘

پالش کمپنی اورلین کے ترجمان نے کہا ہے کہ کمپنی کی ترجیح حالیہ تیل کی پیداوار اور مارکیٹ کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے تیل کی خریدی جانے والی مقدار کو اڈجسٹ کرنا ہے۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026