ایران کے خلاف جنگ میں فوج اسلحہ ذخائر میں کمی ہوئی: امریکہ کا اعتراف
15:46, 15/09/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 10:33, 16/09/2026, بدھ
ویب ڈیسک

تصویر: امریکی نیوی
امریکا نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں امریکی فوج کے اہم اسلحے کے ذخائر میں کمی ہوئی ہے امریکا نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں امریکی فوج کے اہم اسلحے کے ذخائر میں کمی ہوئی ہے اور جنگی ہتھیاروں کی دوبارہ فراہمی میں دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی جاری کردہ رپورٹ میں 28 فروری سے 30 جون تک کی جنگی کارروائیوں کے اخراجات، نقصانات اور امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر پڑنے والے اثرات کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی شریک ہوئے، ہزاروں جنگی مشنز کئے گئے اور تقریباً 22.3 ارب ڈالر کے ہتھیار استعمال کیے گئے۔ جنگ کی براہ راست لاگت تقریباً 33.4 ارب ڈالر رہی، جس میں 22.3 ارب ڈالر ہتھیاروں، 3.7 ارب ڈالر آلات کے نقصانات اور 7.4 ارب ڈالر دیگر اخراجات پر صرف ہوئے۔
اور ان ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ بڑھنے کے اخراجات شامل نہیں کئے گئے، اسی وجہ سے جنگ کی مجموعی لاگت کے مختلف اندازے بھی سامنے آئے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جولائی میں جنگ کی لاگت 37.5 ارب ڈالر بتائی تھی، جبکہ بعض امریکی رپورٹس میں یہ لاگت 80 سے 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔
رپورٹ نے اس خدشے کی بھی تصدیق کی کہ جنگ کے دوران امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر نمایاں دباؤ پڑا۔ مارچ میں واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ جنگ کے پہلے چار ہفتوں میں امریکا نے 850 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل داغے تھے۔
پینٹاگون کے مطابق ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے خریداری اور پیداوار کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے جبکہ اہم خام مال اور منتخب ہتھیاروں کا ذخیرہ بڑھایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں کی سیکڑوں عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچایا وہ تباہ ہوئیں، درجنوں امریکی طیارے اور ڈرونز بھی متاثر ہوئے۔
پینٹاگون نے تصدیق کی کہ ایران نے بحرین میں امریکی بحریہ کے اہم لاجسٹکس مرکز کو ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران کم از کم 30 بڑے امریکی ڈرونز بھی تباہ ہوئے اور امریکی سفارتی تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔ عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتی املاک کو تقریباً 18.4 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا جبکہ 20 ہزار سے زائد امریکی فوجی اور سفارتی اہلکار بھی جنگ کے دوران اپنے مقامات سے منتقل ہوئے۔
رپورٹ کےمطابق ’آپریشن ایپک فیوری‘ نے صرف امریکی ہتھیاروں کے بڑے پیمانے پر استعمال ہی نہیں کیا بلکہ ان ہتھیاروں کو دوبارہ پورا کرنے، علاقائی فوجی اڈوں کی حفاظت اور اہلکاروں اور ساز و سامان کی منتقلی کے حوالے سے بھی امریکی فوج پر نمایاں دباؤ ڈالا۔