غزہ پر فلم بنانے والے ہدایتکاروں کی شہریت کی منسوخی پر 200 اسرائیلی ڈائریکٹرز کا حمایتی بیان

11:28, 15/09/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 15:56, 15/09/2026, منگل
ویب ڈیسک
غزہ پر فلم بنانے والے ہدایتکاروں کی شہریت کی منسوخی پر 200 اسرائیلی ڈائریکٹرز کا حمایتی بیان
AFP
فائل فوٹو

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد اسرائیلی فلمسازوں نے دستاویزی فلم ‘نازا’ کے ڈایریکٹرز کی حمایت میں ایک درخواست پر دستخط کیے ہیں، جس میں ایک سابق فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں نے غزہ میں ’قتل عام‘ کے حوالے سے گواہی دی ہے۔

درخواست پر دستخط کرنے والوں میں معروف ڈائریکٹرز اری فولمین، شلومی الکابیٹز، ران تال اور مائیکل اویاڈ شامل ہیں۔ جنہوں نے کہا کہ فنکاروں اور صحافیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاشروں کی عکاسی کریں جن میں وہ کام کرتے ہیں۔

برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ اور ’جے ڈبلیو فلمز‘ کی تیار کردہ دستاویزی فلم ‘ نازا’ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے 24 گمنام اندرونی ذرائع کے انٹرویوز پر مبنی ہے، جن میں غزہ میں نگرانی، اہداف کے تعین اور فضائی حملوں پر بات کی گئی ہے۔

ابراہام اور زور نے اس سے قبل آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ‘نو ادر لینڈ ‘ پر فلسطینی فلم سازوں باسل عادرا اور حمدان بلال کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ پٹیشن اس وقت سامنے آئی جب فلم کے ڈائریکٹرز یووال ابراہام اور ریچل زور کو تنقید اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

فلم ’نازا‘ کے ڈائریکٹرز نے 83 ویں وینس انٹڑنیشنل فلم فیسٹیول میں فلم ‘ نازا ‘ نے اسپیشل جیوری پرائز جیتا ہے۔

جس پر اسرائیل کے وزیر ثقافت و کھیل میکی زوہار نے اسے ’غداری‘ قرار دیتے ہوئے ڈائریلٹرز کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم قانون کے مطابق وزیر اکیلے شہریت منسوخ نہیں کر سکتے۔ اسرائیلی قانون کے تحت اس کے لیے وزیر داخلہ اور عدالتوں پر مشتمل باقاعدہ قانونی عمل درکار ہے۔


پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026