عمان کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق منصوبہ پیش کیے جانے کی اطلاعات؛ 'رضاکارانہ فیس کی تجویز شامل ہے'

10:58, 29/07/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 10:58, 29/07/2026, بدھ
ویب ڈیسک
عمان کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق منصوبہ پیش کیے جانے کی اطلاعات؛ 'رضاکارانہ فیس کی تجویز شامل ہے'
AFP
عمان کے ساحل کے قریب سے ایک بحری جہاز گزرتے ہوئے (فائل فوٹو)

عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک تجویز ایران کو پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں جسے خلیجی ریاستوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کا کہنا ہے کہ اسے ایک خلیجی عہدے دار اور ایک مغربی سفارت کار نے منگل کو اس پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق عمان نے خلیجی ریاستوں کا حمایت یافتہ ایک منصوبہ ایران کو پیش کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام کیسے چلایا جائے۔ اس منصوبے میں اس راستے کو استعمال کرنے پر رضاکارانہ فیس لینے کی تجویز شامل ہے۔

تاہم ایک امریکی عہدے دار نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کسی بھی قسم کی فیس یا ٹول لینے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور زور دیا ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی گزرگاہ ہے جو ایرانی کنٹرول یا پابندیوں سے آزاد ہونی چاہیے۔ امریکی عہدے دار نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا ہے کہ جس معاہدے پر بات چیت چل رہی ہے، اس میں کسی قسم کا ٹول یا فیس وصولی نہیں ہوگی۔

ایران کیا چاہتا ہے؟

ایران چاہتا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کا انتظام چلائے۔ کیوں کہ آبنائے ہرمز کے ایک کنارے پر ایران جب کہ دوسرے پر عمان واقع ہے۔ جب کہ ایران اس آبی گزرگاہ کو استعمال کرنے والے جہازوں پر سروس فیس عائد کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز اسی صورت میں بحال ہو جیسے ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے تھی۔ تب جہاز آزادانہ اور بغیر فیس ادا کیے گزرتے تھے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی گزرگاہ ہے جس پر ٹول یا فیس لگانا غیر قانونی ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران نے عمان کو تجویز دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران اپنی جانب سے یکطرفہ بحری آمد و رفت کا انتظام سنبھالے جب کہ عمان مخالف سمت کی بحری آمد و رفت کے ایک حصے کا انتظام کرے، تاہم مکمل ذمے داری اس کے پاس نہ ہو۔

رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک خلیجی ذریعے اور ایک مغربی سفارت کار کے مطابق عمان کی تجویز کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا جب کہ بحری جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس رضاکارانہ ہوگی۔

یہ نظام ایشیا کی آبنائے ملاکا میں رائج ماڈل سے مشابہ ہوگا جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور بحری جہازوں سے رضاکارانہ مالی تعاون طلب کرتے ہیں جسے جہاز رانی، ماحولیاتی تحفظ اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز پر خرچ کیا جاتا ہے۔

مغربی سفارت کار نے اس نظام کا موازنہ فضائی سفر کے لیے رضاکارانہ کاربن ٹیکس سے کیا جس میں ہوائی ٹکٹ خریدنے والا مسافر اپنی مرضی سے اضافی رقم ادا کر کے اپنے کاربن اخراج کے ازالے میں حصہ ڈال سکتا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزرائے خارجہ نے منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس منعقد کیا، جس میں تنازع کی تازہ صورت حال اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فائل فوٹو
فائل فوٹو

ادھر ایرانی مشترکہ فوجی کمان نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس کے تحت بحری جہازوں کو ہونے والے نقصانات کا معاوضہ منجمد ایرانی اثاثوں سے ادا کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فوجی کمان نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک یا کمپنی اس منصوبے کے تحت ادائیگی قبول کرے گی، ایران کی مسلح افواج اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

دوسری جانب خطے میں بحری نقل و حمل کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے 20 جولائی کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھولتے ہوئے بحیرہ احمر میں سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا۔

منگل کی شب حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل داغے جس کے نتیجے میں ٹینکر کو واپس مڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026