آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب میں بھی جہاز رانی متاثر ہونے سے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کتنی متاثر ہوں گی؟
10:55, 24/07/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 10:56, 24/07/2026, جمعہ
ویب ڈیسک

فائل فوٹو
آبنائے ہرمز کے بعد بحیرۂ احمر میں داخل ہونے والے سمندری راستے باب المندب میں حوثیوں کی وجہ سے بحری ٹریفک متاثر ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
یہ دونوں انتہائی اہم بحری گزرگاہیں بند ہونے یا ان میں تعطل آنے کی وجہ سے سعودی عرب کے پاس تیل برآمد کرنے کا صرف ایک راستہ بچا ہے جو ہے مصر کی نہرِ سوئز۔ لیکن اس راستے میں پیچیدگیاں بھی ہیں، اضافی اخراجات اور وقت کا ضیاع بھی۔
اگرچہ سعودی عرب ماضی میں اپنے تیل کی کچھ ترسیلات کے لیے سوئز کینال کو استعمال کرتا آیا ہے، لیکن کئی دہائیوں سے یہ اس کا مرکزی برآمدی روٹ نہیں رہا۔
1970 اور 1980 کی دہائیوں میں سعودی عرب کے تیل کے بڑے خریدار یورپی ممالک اور امریکہ تھے لیکن اب اس کے زیادہ تر خریدار ایشیائی ممالک ہیں۔ اور ایشیائی ملکوں تک کم وقت اور کم خرچ میں تیل پہنچانے کے لیے باب المندب کا راستہ بہت اہم ہے۔
اگر سعودی عرب اس راستے کو استعمال نہیں کر پاتا تو اس کے آئل ٹینکرز کو نہرِ سوئز کے راستے سے نکل کر پورے افریقہ کے گرد چکر لگا کر اپنا سفر مکمل کرنا ہوگا جس میں ایک مہینے کا اضافی وقت لگے گا۔ 

مثلاً ابھی باب المندب کے راستے سعودی عرب کے ینبوع پورٹ سے آئل ٹینکروں کو تائیوان پہنچنے میں صرف 19 دن لگتے ہیں۔ اگر یہی سفر سوئز کینال والے راستے سے کیا جائے گا تو 48 دن کا وقت لگے گا۔
اس طرح صرف وقت ہی دوگنا نہیں لگے گا بلکہ اخراجات بھی ڈبل ہو جائیں گے۔ جو سفر ابھی 12 لاکھ 60 ہزار ڈالر کے اخراجات میں طے ہوتا ہے، اس کی لاگت تقریباً 28 لاکھ 70 ہزار ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق نہرِ سوئز پار کرنے کے لیے 10 لاکھ ڈالر کی فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔

ینبوع پورٹ
اس کے علاوہ بڑے آئل ٹینکرز نہرِ سوئز سے اپنی پوری استعداد کے مطابق تیل نہیں لے جا سکیں گے۔ سوئز کینال سے جہاز گزارنے کے لیے بڑے آئل ٹینکروں کا آدھا خالی ہونا ضروری ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کرنے کے بعد سے سعودی عرب نے تیل کی اپنی زیادہ تر برآمدات بحیرۂ احمر کے راستے سے کرنا شروع کر دی تھیں۔ تاہم اس ہفتے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی ناکہ بندی کے اعلان اور پھر سعودی آئل ٹینکروں پر کیے گئے حملوں کے بعد اس کے لیے یہ راستہ بھی خطروں سے خالی نہیں رہا۔