پاکستان میں غربت انڈیا اور بنگلہ دیش سے بھی زیادہ ہو گئی : اقوام متحدہ کی رپورٹ
12:27, 13/10/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 12:40, 13/10/2026, منگل
ویب ڈیسک

Medium
فائل فوٹواقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ‘کثیر جہتی غربت انڈیکس’ کے مطابق پاکستان کی ایک تہائی سے زائد آبادی صحت، تعلیم اور معیار زندگی میں محرومیوں کا شکار ہے۔
نیویارک میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ’پاکستان میں 38.3 فیصد آبادی کثیر جہتی غربت میں مبتلا ہے، جبکہ انڈیا میں یہ شرح 16.4 فیصد اور بنگلہ دیش میں 14.9 فیصد ہے۔‘
یہ اعداد و شمار مختلف سالوں میں کیے گئے گھریلو سروے پر مبنی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شدت 51.7 فیصد ہے، جبکہ 12.9 فیصد آبادی غربت کے خطرے سے دوچار ہے۔
یہ انڈیکس صرف آمدنی کو نہیں بلکہ غذائیت، بچوں کی اموات، تعلیم، سکول میں حاضری، پینے کا صاف پانی، بجلی، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی کو بھی نظر میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔

UNDP
کثیر جہتی غربت انڈیکسرپورٹ میں عالمی سطح پر تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 15 سالوں میں پہلی بار کثیر جہتی غربت میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا بھر میں 1.2 ارب افراد اس کا شکار ہیں، جو گزشتہ رپورٹ سے 5 کروڑ 15 لاکھ زیادہ ہے۔ ان میں 61 کروڑ 70 لاکھ بچے شامل ہیں جبکہ 83 فیصد متاثرہ افراد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔
یو این ڈی پی کے علاقائی اعداد و شمار کے مطابق ’جنوبی ایشیا میں کثیر جہتی غربت کی شرح تقریباً 19.3 فیصد ہے، جبکہ مزید 18.4 فیصد آبادی اس قسم کی غربت کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔‘
یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا کہ ’غربت میں اضافہ دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان اعداد و شمار کے پیچھے 1.2 ارب انسان ہیں جو بھوک، تعلیم کی کمی اور صاف پانی و بجلی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔‘