پاکستانی حملوں میں 28 لوگوں کی موت کا دعویٰ، افغانستان کے بیان کی تردید
10:18, 01/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 17:02, 01/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

AFP
فائل فوٹوپاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات کے مطابق کارروائی میں ابتدائی اطلاعات کے تحت 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
وزارت اطلاعات نے جمعرات کو ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’آپریشن غضب للحق‘ کے کے سلسلے میں دہشت گردوں، ان کے نیٹ ورکس اور معاونین کو ختم کرنے کا عزم ہے۔ جس کے تحت ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق کارروائی میں اہداف کو تباہ کردیا گیا جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق ان ٹھکانوں میں ذخیرہ کیے گئے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔
وزارت نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام پر زور دیا ہے، تاہم پاکستانی شہریوں کی سلامتی اس کی ’اولین ترجیح‘ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ افغانستان بدستور دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے اور پاکستان کو لاحق خطرہ افغانستان سے پیدا ہوتا ہے۔ وزارت کے مطابق اسی تناظر میں دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا اور ’زیادہ سے زیادہ احتیاط‘ برتتے ہوئے کسی جانی نقصان سے بچنے کی کوشش کی گئی۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ ’غضب للحق‘ کے نام سے جاری انسداد دہشت گردی مہم ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے تک مکمل طور پر جاری رہے گی۔
پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت سے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں، بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی میں جاری ایک رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے لیے مسلسل حمایت نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔ جبکہ رپورٹ نے ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی کے درمیان بڑھتے ہوئے آپریشنل روابط کی بھی نشاندہی کی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے فضائی حملوں کے حوالے سے افغان حکام کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کارروائی میں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہلاکتوں سے متعلق دونوں جانب کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
