مسعود پزیشکیان نے کہا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آج بھی ایران کو مکمل طور پر قبول ہے : شہباز شریف
11:02, 25/09/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 13:30, 25/09/2026, جمعہ
ویب ڈیسک

X
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایران کے صدر مسود پزیشکیان سے اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کر رہے ہیں۔پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ ’ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے انہیں بتایا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو)آج بھی ایران کو مکمل طور پر قبول ہے اور وہ اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔‘
وزیراعظم کا یہ بیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر کے ساتھ تفصیلی گفتگو کے بعد سامنے آیا۔
اس سے قبل وزیر اعظم آفس کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ملاقات میں وزیر اعظم نے اسلام اباد مفاہمتی یاداشت پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والا 14 نکاتی عبوری معاہدہ تھا جس نے جاری تنازع کے خاتمے کا فریم ورک دیا تھا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان نے ثالث کے طور پر اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
جبکہ ایران نے اس تزویراتی آبی گزرگاہ سے ہونے والی آمدورفت پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے، تاہم تنازع وقفے وقفے سے حملوں اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کے ساتھ جاری ہے، جبکہ ایران نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے ٹریفک پر کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم اور ایرانی صدر کی ملاقات کے بعد میڈیا نے ان سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے میں پیش رفت کے امکان پر پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم نے جواب دیا کہ ’پاکستان کی قیادت اسلام آباد ایم او یو کے تحت امن کوششوں کو تیز کرنے کے لیے متحد ہے۔‘
انہوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کا بھی ذکر کیا جو دنیا بھر میں تیل اور ایندھن کی ترسیل کے لیے دو اہم آبی راستے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے متاثر ہوئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ ’آبنائے ہرمز اور باب المندب کی موجودہ صورتحال اور وہاں ہونے والی اشتعال انگیز سرگرمیاں تقاضا کرتی ہیں کہ برادر اور دوست ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اسی مقصد کے لیے آج میں نے ایرانی صدر سے ملاقات کی، ان کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اور انہیں بتایا کہ خطے میں امن کی بحالی وقت کی ضرورت ہے،ایک بہت اہم ضرورت ہے۔‘
میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم نے مزید بتایا کہ ’صدر پزشکیان کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اسلام آباد مفاہمتی یاداشت کو تسلیم کرنے کا اعادہ کیا۔‘
انہوں نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان قریبی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مشترکہ کاوش سفارتی کوششوں اور معاشی استحکام دونوں میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔‘
ملاقات میں پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی کے ساتھ ساتھ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے۔