افغانستان کی جانب سے فائر کیے گئے آٹھ ڈرونز کو ہوا میں ہی تباہ کر دیا: رپورٹ
15:29, 23/09/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 09:59, 24/09/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

Dawn
فائل فوٹوپاکستان میں سکیورٹی فورسز نے بتایا ہے کہ' ہمسایہ ملک افغانستان کی جانب سے فائر کیے گئے آٹھ ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ یہ ڈرونز پاکستان کے سرحدی علاقے طور خم بارڈر اور کوہاٹ میں تباہ کیے گئے'۔
پاکستانی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق 'سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ افغانستان کی جانب سے فائر کیے گئے ڈرونز کو سرحدی علاقوں میں فعال فضائی ڈیفنس سسٹم کے ذریعے تباہ کیا گیا ہے'۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ' پاکستانی فورسز اور ایئر فورس کے شاہینوں نے مہارت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا'۔
ذرئع کے مطابق آٹھ میں سے چار ڈرونز کو طور خم بارڈر کے علاقے میں گرایا گیا جبکہ باقی چار کو کوہاٹ کے علاقے میں تباہ کیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ' افغانستان سے ہونے والی یہ دراندازی افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کی براہِ راست حمایت اور سرپرستی کا ایک اور ثبوت ہے'۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ' تباہ کیے گئے ڈرونز کا ملبہ قبضے میں لینے اور اسے جائے وقوعہ سے منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کرم سیکٹر میں فائرنگ کے تبادلے اور بدھ کو ہونے والی ڈرون دراندازی نے افغان طالبان حکومت کی ’پریشانی اور انتشار‘ کی صورتحال کو ظاہر کیا ہے'۔
یہ پیش رفت خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے جواب میں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف فضائی حملوں کے دو روز بعد سامنے آئی ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پیر کو جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 'ان حملوں میں 28 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے'۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ' افغانستان کا بدستور دہشت گردی کا مرکز رہنا تشویش کا باعث ہے اور پاکستان کو درپیش خطرہ افغانستان سے پیدا ہو رہا ہے'۔
وزارت کے مطابق فضائی حملوں سے قبل 20 ستمبر کو سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے اضلاع کوہاٹ اور ہنگو میں دہشت گردوں کے ایک گروہ کے خلاف ’پلان بنا کر انٹیلی جنس کی بنیاد پر زمینی کارروائی‘ کی تھی، جس میں 9 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
پاکستانی فضائی حملے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں واقع پرانی پولیس لائنز پر ہونے والے بڑے حملے کے بعد کیے گئے تھے۔ جس میں 23 افراد جاں گئی تھی اور تقریباً 100 زخمی ہوئے تھے۔ علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے رات بھر جاری رہنے والے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 20 ستمبر کو ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے اور مسلح جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 2 افسران سمیت 6 اہلکاروں کی موت ہوئی تھی جبکہ 8 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔
