کوہاٹ: نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے سے 5 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد کی موت
16:35, 18/09/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 17:42, 18/09/2026, جمعہ
ویب ڈیسک

تصویر: سکیرن گریب
جان سے جانے والے لوگوں میں 5 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پُرانے پولیس لائنز کے قریب نماز جمعہ کے وقت خودکش دھماکہ ہوا۔حکام نے بتایا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس آفیسر اور ان کی اہل خانہ جمعے کی نماز ادا کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق دھماکے میں 16 لوگ ہلاک ہوئے جبکہ 57 لوگ زخمی ہوئے۔
جان سے جانے والے لوگوں میں 5 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ صوبائی پولیس کے چیف ذولفقار حمید نے کہا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی پولیس کمپلیکس کے باہر دیوار سے ٹکرائی جس کے بعد گن فائر شروع ہو گئے۔
انگلیڈ کی خبر ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق خود کش بمبار سمیت چھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے سے عمارت کی حفاظتی دیوار تباہ ہوگئی، جبکہ ایمبولینسوں کے پہنچنے پر لوگ ملبے سے زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ویڈیوز میں سڑک پر زخمی افراد کو پڑے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ خون آلود کپڑوں میں موجود دیگر افراد زخمیوں کی مدد کر رہے تھے۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ تمام سات حملہ آور دھماکے اور اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے۔
وزارت داخلہ نے حملہ آوروں کی کارروائیوں کو ’بزدلانہ اقدامات‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس سے قوم کے ’پختہ عزم‘ کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران عسکریت پسندی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں زیادہ تر فوج اور پولیس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
علاقے کے بڑے عسکریت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے جمعے کو ہونے والے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ٹی ٹی پی کئی سنی عسکریت پسند تنظیموں پر مشتمل ایک تنظیمی اتحاد ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں کو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور تربیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ عسکریت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
