سخت گیر مذہبی گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے پاکستان میں توہینِ مذہب کے مقدمات میں نمایاں کمی: رپورٹ
15:06, 06/08/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 15:10, 06/08/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

فائل فوٹو
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان میں سخت گیر گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے توہینِ مذہب کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رپورٹ میں ان واقعات میں کمی کی ایک وجہ تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف کارروائیوں کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1990 سے اب تک توہینِ مذہب کے الزامات کے بعد ہجوم کے ہاتھوں قتل کے تقریباً 90 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق رواں سال اب تک توہینِ مذہب کے صرف 13 مقدمات درج ہوئے ہیں جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم ہیں۔
اسی طرح آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (اے سی ایل ای ڈی) کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران پاکستان میں ہر سال توہینِ مذہب سے متعلق حملے یا فسادات کے اوسطاً سات واقعات پیش آئے ہیں جب کہ گزشتہ بارہ ماہ میں صرف ایک ایسا واقعہ پیش آیا۔
کراچی میں گزشتہ ماہ ایک مسیحی خاندان پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد سینکڑوں افراد کا ہجوم جمع ہوگیا تھا۔ تاہم موقع پر پہنچنے والی پولیس ٹیم نے ہجوم کو سمجھا بجھا کر صورتِ حال کو قابو میں کر لیا تھا۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشتعل ہجوم سے ملزمان کو بچا لینے کی اس بار ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ماضی کی طرح ہجوم کو مشتعل کرنے والے طاقت ور مذہبی شدت پسند گروہ اس بار موجود نہیں تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ صورتِ حال فوج کی نگرانی میں جاری کریک ڈاؤن کا نتیجہ تھی جس کے باعث رواں سال توہینِ مذہب کے درج مقدمات میں تقریباً دو تہائی کمی آئی ہے۔
ہجوم کو سمجھا کر صورتِ حال قابو میں کرنے والے پولیس افسر سنگھار علی ملک نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کی اپنی توقع کے برعکس لوگ ان کی بات سننے پر آمادہ ہو گئے۔ چوں کہ کوئی شدت پسند رہنما ہجوم کو مزید مشتعل کرنے کے لیے موجود نہیں تھا، اس لیے پولیس کی جانب سے تحقیقات کی یقین دہانی پر لوگ منتشر ہوگئے۔

بلدیہ ٹاؤن میں پیش آنے والے واقعے میں پولیس افسر لوگوں کو سمجھاتے ہوئے
'فوجی قیادت کی نگرانی میں کارروائی'
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے مذہبی گروہوں کو ماضی میں فوج کی حمایت حاصل رہی ہے۔ تاہم چار حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اب انہی گروہوں کے خلاف کارروائی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی نگرانی میں کی جا رہی ہے۔
ذرائع اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا اور پاکستان کی معیشت کو عالمی نظام سے زیادہ مؤثر انداز میں جوڑنا ہے۔ جب کہ عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جنرل عاصم منیر کے قریبی حلقے سے وابستہ ایک ذریعے نے بتایا کہ 'فیلڈ مارشل واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ شدت پسند مذہبی گروہ اور ترقی کرتا ہوا پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔'
ذرائع کے مطابق وہ ذاتی طور پر یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ ایسے گروہوں کو کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے تاکہ پاکستان کا عالمی تشخص بہتر بنایا جا سکے۔
پاکستان کی فوج نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
حکومت اور فوج 'ایک صفحے پر'
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ریاست نے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا ہے۔ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں اور اس معاملے پر پہلے کبھی اتنی واضح پالیسی نہیں تھی۔ ہمارا مقصد ہر اس گروہ کو کچلنا ہے جو عوام یا ملک کو اپنے نظریات کے ذریعے یرغمال بنانا چاہے۔'
دو حکومتی ذرائع کے مطابق 2025 کے وسط میں حکومت کو خدشہ پیدا ہوا کہ فرانس اور دیگر یورپی ممالک کے خلاف شدت پسند گروہوں کی مہم پاکستان کے لیے یورپی یونین کی تجارتی مراعات خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
پاکستان کی تقریباً ایک تہائی برآمدات یورپی یونین کو جاتی ہیں اور اگر یہ مراعات ختم ہوتیں تو معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی تھی۔
اس کے علاوہ امریکی انتظامیہ بھی پاکستان میں مسیحیوں کے مبینہ استحصال کا معاملہ اٹھاتی رہی ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے گزشتہ سال سفارش کی تھی کہ پاکستان کو دوبارہ 'تشویش کا خصوصی ملک' قرار دیا جائے۔ تاہم پاکستان اس مؤقف کو مسترد کرتا آیا ہے۔
ٹی ایل پی پر پابندی
رپورٹ کے مطابق سخت گیر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر گزشتہ سال کے آخر میں اس وقت پابندی عائد کر دی گئی تھی جب اس نے اسلام آباد کی طرف مارچ کی کوشش کی تھی۔ کریک ڈاؤن کے دوران ٹی ایل پی کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، مساجد سیل کی گئیں اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے۔
ٹی ایل پی کے رہنما سعد رضوی اور ان کے چھوٹے بھائی اس کریک ڈاؤن کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔ ان کے بارے میں پولیس کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ روپوش ہیں جب کہ ٹی ایل پی انہیں لاپتا قرار دیتے ہیں۔ ٹی ایل پی کے ترجمان نے جماعت پر پابندی کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔
'اپنے لوگ'
ٹی ایل پی 2015 میں اس وقت قائم ہوئی تھی جب پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری قید میں تھے۔
کئی تجزیہ کاروں کے مطابق ابتدا ہی سے یہ شبہات موجود تھے کہ اس جماعت کے قیام میں ریاستی اداروں، خصوصاً خفیہ ایجنسیوں کا کردار تھا تاکہ سول حکومتوں پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
2017 کے پرتشدد احتجاج کے بعد اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ٹی ایل پی کے مظاہرین کو 'ہمارے اپنے لوگ' قرار دیا تھا۔
اگرچہ بعد میں سپریم کورٹ نے فوج اور خفیہ اداروں کو سیاست سے دور رہنے کی ہدایت کی لیکن ٹی ایل پی سے ان کے تعلق پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
مسیحی خاندان کے خلاف الزامات غلط ثابت ہوئے
کراچی میں مسیحی خاندان کو بچانے والے پولیس افسر سنگھار علی ملک نے کہا کہ اس روز 'ہم سب کے دلوں میں خوف تھا۔'
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں تحقیقات میں خاندان کے خلاف لگائے گئے الزامات جھوٹے ثابت ہوئے۔
کراچی میں بچائی جانے والی مسیحی خاتون نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ 'جسمانی طور پر تو اب ہم محفوظ ہیں، لیکن خوف ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔'