پاکستان میں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شامل براڈ پیک پر 10 کوہ پیما لاپتا، برفانی تودے کی زد میں آنے کا شبہ
10:33, 31/07/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 10:33, 31/07/2026, جمعہ
ویب ڈیسک

براڈ پیک
پاکستان میں واقع دنیا کے 12 ویں بلند ترین پہاڑ براڈ پیک پر کم از کم 10 کوہ پیما لاپتا ہو گئے ہیں جن میں نیپال کے مشہور کوہ پیما نرمل پٌرجا بھی شامل ہیں۔
پاکستانی اسپورٹس ایسوسی ایشن اور کوہ پیماؤں کو ٹریک کرنے والی کمپنی کے عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ افراد ایک برفانی تودے کی زد میں آ کر حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔
کوہ پیماؤں کی ٹریکنگ کمپنی سیون سمٹ ٹریکس کے عہدے دار چھانگ داوا شرپا کے مطابق کوہ پیما اس 8051 میٹر بلند چوٹی کو عبور کرنے کی کوشش کے دوران جمعرات کو لاپتا ہوئے اور ممکنہ طور پر کسی برفانی تودے کی زد میں آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جس وقت برفانی تودہ گرا، کوہ پیماؤں کی ٹیم اس وقت 6600 میٹر کی بلندی پر تھی اور وہی ان کی آخری لوکیشن موصول ہوئی۔
براڈ پیک دنیا کی ان 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک ہے جن کی بلندی 8000 میٹر سے زیادہ ہے۔ گو کہ اس کا نمبر 12 واں ہے مگر اسے پاکستان کے مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔
چھانگ کا کہنا تھا کہ لاپتا کوہ پیماؤں میں ان کی کمپنی کے تین شرپا گائیڈ شامل ہیں جن میں نیپال کے معروف کوہ پیما نرمل پرجا بھی ہیں جو دنیا کی تمام 14 بلند ترین چوٹیوں کو سب سے کم وقت میں سر کرنے کا عالمی ریکارڈ رکھتے ہیں۔

نرمل پرجا
نرمل پرجا کے سفر پر نیٹ فلکس نے ڈاکیومینٹری بھی بنائی تھی جس کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔
پاکستان میں کوہ پیمائی کے ایک غیر سرکاری ادارے 'الپائن کلب آف پاکستان' کا کہنا ہے کہ 'اسے کوہ پیماؤں کی ٹیم کے برفانی تودے کی زد میں آنے کی انتہائی تشویش ناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔'
الپائن کلب کے مطابق پاکستان کی فوج کے دو ہیلی کاپٹر ریسکیو مشن پر روانہ ہو چکے ہیں۔
الپائن کلب کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد میں نیپالی کوہ پیماؤں کے علاوہ پاکستان، عمان، امریکہ اور چائنہ کے کوہ پیما بھی شامل ہیں۔ برفانی تودہ گرنے کے بعد سے ان تمام افراد سے ان کی ٹیم کا رابطہ منقطع ہے۔
گلگت بلتستان کی ریاستی حکومت اور پاکستان کی فوج کی جانب سے اس پر فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ نیپال، پانچ پاکستان اور ایک تبت میں واقع ہے۔ کوہ پیمائی کے ماہرین کہتے ہیں کہ آج تک صرف تین درجن کے قریب کوہ پیما ان تمام 14 چوٹیوں کو سر کر سکے ہیں۔
