پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہرین اور فورسز کی جھڑپیں، ہلاکتوں کے متضاد دعوے اور غیر ملکی ایجنڈے پر عمل کرنے کا الزام

11:45, 29/07/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 11:45, 29/07/2026, بدھ
ویب ڈیسک
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہرین اور فورسز کی جھڑپیں، ہلاکتوں کے متضاد دعوے اور غیر ملکی ایجنڈے پر عمل کرنے کا الزام
سوشل میڈیا پر کشمیر میں ہونے والی جھڑپوں کی متعدد ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کے دوران میرپور اور راولاکوٹ کے علاقوں میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

ایک طرف ان جھڑپوں میں دونوں جانب سے متعدد ہلاکتوں کے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں تو وہیں کشمیر پولیس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ پولیس نے بعض مشتبہ گرفتار افراد سے ہتھیار برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کے ایس ایس پی خاور علی شوکت نے الزام لگایا کہ راولاکوٹ میں ہونے والے واقعات تنظیم کے پرامن احتجاج کے دعوؤں سے ہم آہنگ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پرتشدد واقعات، اشتعال انگیزی اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں نے حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے بقول قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آئینی و قانونی ذمے داری ہے کہ جب بھی پولیس یا سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ ہو تو وہ اقدام کریں۔

واضح رہے کہ کشمیر میں جاری احتجاج کے دوران راولاکوٹ اور میرپور میں مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کی جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں فائرنگ کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پیر اور منگل کو سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اس کے ایک درجن سے زیادہ کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دوسری جانب حکام مظاہرین پر فائرنگ کا الزام لگاتے ہیں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایس ایس پی پولیس خاور علی کے بقول مظاہرین کی فائرنگ اور حملوں سے ایک رینجرز اہلکار ہلاک جب کہ 15 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب قطر کے نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کی رپورٹ میں کم از کم 20 ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کی جھڑپیں پیر کو راولاکوٹ میں شروع ہوئی تھیں جس کے بعد منگل کو میرپور میں مظاہرہ کیا گیا تو وہاں بھی جھڑپیں ہوئیں۔

پولیس افسر کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ 'ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کالعدم تنظیم کسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد کشمیر کے امن اور بھائی چارے کو خراب کرنا ہے۔'

انہوں نے الزام لگایا کہ 'کل اور آج، جس طرح ہماری فورسز پر جدید اور بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے گئے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروہ کوئی عام تنظیم نہیں ہے۔'

کشمیر پولیس کے ایس ایس پی نے پریس کانفرنس میں مظاہرین کی جانب سے عائد کیے گئے تمام الزامات کو مسترد کیا اور انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026