پاکستان نے اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی سہولت مانگ لی: رپورٹ
11:01, 22/07/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 11:02, 22/07/2026, بدھ
ویب ڈیسک

پاکستان اور امریکی وزرائے خزانہ کی منگل کو ملاقات بھی ہوئی ہے۔
پاکستان کی جانب سے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی سہولت حاصل کرنے کے لیے درخواست کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسلام آباد نے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے یہ مدد مانگی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی کی درخواست کی ہے جو اگر منظور ہو جاتی ہے تو اسلام آباد کی معیشت کے لیے ایک لائف لائن ہوگی۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب واشنگٹن میں موجود ہیں جہاں ان کی امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ سے منگل کو ملاقات ہوئی۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں اسلام آباد نے امریکہ اور پاکستان کی حکومت کے درمیان 10 ارب ڈالر مالیت کی دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کے قیام کی درخواست کی ہے جس کی مدت پانچ سال تک رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اگر اس سہولت پر اتفاق ہو جاتا ہے تو اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے، روپے پر دباؤ میں کمی آئے گی اور ملک کا مالیاتی اداروں پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں پر عمل درآمد کر رہا ہے۔
درخواست قبول ہونے کے 'قوی امکانات'
پاکستان کے مقامی اخبار 'ڈان نیوز' کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانے نے اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں جب کہ امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے بھی معاملے پر تبصرے سے گریز کیا گیا ہے۔
تاہم 'ڈان نیوز' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے قوی امکانات ہیں کہ امریکہ اسلام آباد کی درخواست قبول کر لے گا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے ساتھ روابط برقرار رکھنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور وہ ایک سے زیادہ مواقع پر پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد دینے کے عزم کا اظہار بھی کر چکی ہے۔
محکمۂ خزانہ پاکستان کے بیان میں 10 ارب ڈالر کا کوئی ذکر نہیں
پاکستان کے محکمۂ خزانہ نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی اسکاٹ بیسینٹ سے ملاقات کی تصویر اور پیغام جاری کیا ہے تاہم اس میں 10 ارب ڈالر کی اس درخواست کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر محمد اورنگزیب نے اپنے امریکی ہم منصب کو پاکستان کے میکرواکنامک استحکام اور برآمدات پر مبنی گروتھ کے سفر سے آگاہ کیا اور علاقائی صورتِ حال کے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات کو بھی اجاگر کیا۔
محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹوں تک بہتر رسائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگز میں اضافے پر مبنی مارکیٹ رسائی کے حوالے سے امریکی تعاون کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی ہوتی کیا ہے؟
ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسلٹیز امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت کی سہولت ہے جو عموماً ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ کے ذریعے دی جاتی ہے۔
ان کے تحت شراکت دار ممالک کو ڈالر، کرنسی سویپ یا مالی ضمانتیں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ اس ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور کرنسی کو مستحکم رکھا جا سکے۔
مجوزہ سہولت ایک ایسا مالیاتی نظام ہوگی جس کے تحت امریکی حکومت اپنے محکمۂ خزانہ کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ کے ذریعے پاکستان کو قرضے یا دیگر مالی معاونت فراہم کرے گی۔ تاکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنایا جا سکے، قرضوں کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے اور معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے۔