ٹرمپ کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
11:14, 17/08/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 11:16, 17/08/2026, پیر
ویب ڈیسک

AFP
فائل فوٹوامریکی صدر ڈونلڈ ٹڑمپ نے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک بڑا جرات مندانہ اور اہم پہلا قدم قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ ٹروتھ سوشل‘ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے بلا آخر مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ اس بات کی علامت ہے کہ مشرقِ وسطی کے ممالک ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں اور اس خطے کے ممالک مستقبل میں زیادہ موثر انداز میں اپنا دفاع کر سکیں گے۔
بین الاقوامی رد عمل
پاکستان وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب کی گئی حوصلہ افزائی کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان، برادر ملک سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر اپنے ممالک اور پورے خطے کے دفاع و سلامتی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرتا رہے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کی قیادت کو بھی سراہا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مند اور فیصلہ کن قیادت نے جنوبی ایشیا میں جوہری تباہی کو ٹالنے اور لاکھوں جانیں بچانے میں مدد دی ہے۔شہباز شریف کے مطابق پائیدار امن ہی عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کی بنیادی شرط ہے۔
پاکستانی حکام نےیہ واضع کیا ہےکہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ سات اگست کو طے پایا تھا۔ معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اجتماعی دفاعی قوت کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترکیہ کے وزارتِ دفاع کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں مملک سیاسی اور عسکری تعاون کے لیے مختلف طریقہ کار تشکیل دیں گے۔ جبکہ دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون بھی مزید بڑھایا جائے گا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد ترک وزیر خارجہ ہاقان فیدان ترکیہ کی خبر ایجنسی انادلو کو بتایاہے کہ ہو سکتا ہے اگلے مرحلے میں مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہو جائے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’کچھ عناصر ایسے ہیں جو مصر کے اس معاہدے میں شامل ہونے کے راستے میں آ رہے ہیں۔ تاہم مصر یا اور ترک وزیر خارجہ کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی کہا ہے کہ اس معاہدے کا دائرہ کار صرف تین ممالک تک محدود نہیں اورمستقبل میں خطے کے مزید مملک اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
کویت، بحرین اور صومالیہ سمیت متعدد ممالک نے بھی اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔