دوبارہ مذاکرات کرانے کی کوشش، پاکستان کی ایران کو دورۂ اسلام آباد کی دعوت: رپورٹ
10:17, 04/08/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 10:38, 04/08/2026, منگل
ویب ڈیسکAA

IRANIAN FOREIGN MINISTRY / HANDOUT
پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم کی ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کی ایک فائل فوٹوپاکستان کی جانب سے ایرانی مذاکرات کاروں کو دورۂ اسلام آباد کی دعوت دیے جانے کی اطلاعات ہیں تاکہ امریکہ کے ساتھ تعطل کے شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے رابطہ کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی صورتِ حال پر گفتگو کی۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں بگڑتی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے 'انادلو' نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے ایران کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار باقر قالیباف کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے۔
انادلو ایجنسی کے مطابق ایک سرکاری ذریعے نے انہیں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ اطلاع دی ہے کہ پاکستان نے ایرانی مذاکرات کاروں کو اسلام آباد بلایا ہے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ ایرانی رہنما اسے قبول کر کے پاکستان آئیں گے یا نہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ہفتے کو ایران پر شیڈول شدید حملے منسوخ کر دیے تاکہ بات چیت کو موقع دیا جا سکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اتحادیوں نے انہیں ایسا کرنے پر آمادہ کیا کیوں کہ معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا ایران امریکہ مذاکرات پیر سے دوبارہ شروع ہوں گے۔ تاہم ایران کی جانب سے اس کی تردید سامنے آئی تھی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ تہران ابھی امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہا۔
پیر کو ہی پاکستان کی حکومت کے کچھ ذرائع کے حوالے سے انادلو ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ فی الحال مذاکرات کے لیے کوئی تاریخ یا مقام طے نہیں ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور قطر بطور ثالث واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے تاریخ اور مقام طے کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے 17 جون کو پاکستان کی ثالثی سے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت 60 دنوں کے اندر دونوں فریقین نے مذاکرات سے اپنے مسائل اور اختلافات کا حل نکالنا تھا۔ لیکن یہ معاملہ تعطل کا شکار ہو گیا اور دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا جو اب تک جاری ہے۔ 60 دن کا وقت تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے تاہم حتمی معاہدے کی سمت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔