بلوچستان میں کوئلے کی کان میں دھماکہ: 34 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں، امدادی کارروائیاں جاری
11:04, 31/07/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 11:04, 31/07/2026, جمعہ
ویب ڈیسک

ہلاک ہونے والے 28 کان کنوں کا تعلق ایک ہی گاؤں سے بتایا جاتا ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے بعد اب تک 34 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ مزید کان کنوں کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ حادثہ بلوچستان کے علاقے سورینج میں جمعرات کو پیش آیا تھا جو کوئٹہ سے تقریباً 40 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ جس وقت دھماکہ ہوا، اس وقت تقریباً 36 افراد کان میں موجود تھے۔
بلوچستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے 'پی ڈی ایم اے' کے مطابق جمعے کی صبح تک کان سے 34 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ مزید دو کان کنوں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
حکام کی جانب سے دھماکے کی حتمی وجہ تو نہیں بتائی گئی تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ دھماکہ کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے ہوا۔
مقامی میڈیا میں رپورٹ ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں سے 28 کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے سوات کے ایک ہی گاؤں سے تھا۔
پاکستان میں کوئلے اور دیگر معدنیات کی کانوں میں حادثات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ جانی نقصان کے اعتبار سے بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں رواں سال پیش آنے والا سب سے بڑا حادثہ ہے۔
بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حادثات کے خلاف وقتاً فوقتاً احتجاج بھی ہوتے رہتے ہیں۔ مظاہرین کان کنوں کی ہلاکتوں اور کانوں میں مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے حادثے کی انکوائری کر کے وجوہات اور ذمے داروں کے تعین کی ہدایت کی ہے۔