سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان جوہری توانائی کے ایک اہم معاہدے پر دستخط، معاہدہ ریاض کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہوگا: ٹرمپ
12:22, 23/07/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 16:14, 23/07/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

AFP
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شہزادہ محمد بن سلمان (فائل فوٹو)سعودی عرب کی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ بدھ کو امریکہ کے ساتھ جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں تعاون کا ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب اپنی سرزمین پر امریکی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے نیوکلیئر ری ایکٹر بنا سکتا ہے۔
سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کو '123 معاہدے' کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت امریکہ کسی دوسرے ملک میں جوہری تعاون کے منصوبے میں شامل ہو سکتا ہے۔ ریاض اور واشنگٹن اس سول نیوکلیئر معاہدے پر کئی برسوں سے کام کر رہے تھے۔ صدر ٹرمپ کی پہلی مدت اور جو بائیڈن کے دورِ صدارت میں بھی اس معاہدے پر کام جاری تھا۔
معاہدے پر دستخط سعودی وزیرِ توانائی عبد العزیز بن سلمان اور امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے بدھ کو کیے ہیں۔ ٹرمپ حکومت نے اسے 'باہمی تحفظ کا معاہدہ' قرار دیا ہے۔
سعودی وزارتِ توانائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'یہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹرٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ یہ معاہدہ توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دے گا جس کے ذریعے مہارت، علم اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ آسان بنایا جائے گا۔'
وزارتِ توانائی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'اس کا مقصد جوہری تحفظ، جوہری سلامتی اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام سے متعلق اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیار کو یقینی بنانے کی کوششوں میں کردار ادا کرنا بھی ہے۔'
معاہدہ کیوں اہم ہے؟
یہ ریاض اور واشنگٹن کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے، اس سے قبل ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا جس کی ایک بڑی وجہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے حامی گروپوں کے تحفظات ہیں۔ ان کا اعتراض ہے کہ ایسا معاہدہ سعودی عرب کو مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کی راہ فراہم کر سکتا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ کے مجوزہ منصوبے کے برعکس موجودہ معاہدے میں اضافی پروٹوکول شامل نہیں ہے جو اقوام متحدہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو اچانک اور تفصیلی معائنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اقوام متحدہ کا جوہری نگران ادارہ سعودی عرب کی جوہری توانائی کی تنصیبات کا اچانک معائنہ نہیں کر سکتا۔
اس معاہدے کے تحت ممکنہ طور پر سعودی عرب کو یورینیم افزودہ کرنے اور جوہری فضلے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ دونوں عمل ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کے راستے سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس متحدہ عرب امارات نے 2009 میں امریکہ کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدے میں ان دونوں حقوق سے دست برداری اختیار کی تھی۔
امریکی محکمۂ توانائی کے مطابق یہ معاہدہ اب کانگریس کو بھیجا جا رہا ہے۔ اگر کانگریس آئندہ 90 کے دنوں کے اندر اجلاس میں اس پر کوئی اعتراض کرتے ہوئے مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کر سکی تو معاہدہ خودبخود نافذ ہو جائے گا۔ تاہم صدارتی ویٹو کو مسترد کرنے کے لیے کانگریس میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
بعض جوہری ماہرین نے امریکی قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو مسترد کر دیں۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب جوہری ہتھیار بنائے۔ لیکن اگر ایران نے ایسا کیا تو سعودی عرب بھی ایٹمی ہتھیار بنائے گا۔ ان کے اس مؤقف نے خطے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔
کئی ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکہ۔اسرائیل جنگ کے دوران یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا آغاز کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے جوہری معاہدے کو ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور ریاض کے درمیان جمعرات کو طے پانے والا جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہوگا۔ واضح رہے کہ ابراہیمی معاہدے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ 'سول نیوکلیئر معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے محکمۂ توانائی کے درمیان بے پا گیا ہے۔ اس میں یورینیم کی افزودگی نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بعض رپورٹس میں یہ کہا گیا تھا کہ اس معاہدے کے تحت ریاض یورینیم افزودہ کر سکے گا۔ تاہم ٹرمپ نے اس کی تردید کی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ صرف غیر عسکری مقاصد کے لیے ہے جیسا اس سے قبل ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر کے ساتھ بھی کیا جا چکا ہے۔ تاہم ان کے بقول یہ معاہدہ پوری طرح اس بات سے مشروط ہے کہ سعودی عرب انتہائی قابلِ احترام اور کامیاب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوگا۔
ابراہیمی معاہدے ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اسرائیل اور عرب ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے کرائے تھے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان ان معاہدوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم سعودی عرب اس سے پیچھے ہٹتا آیا ہے۔
سعودی عرب کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ فلسطین کے قیام تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔