میٹا کو امریکی ریاست کے صارفین کو گمراہ کرنے پر 25 ارب ڈالر ادا کرنےکا حکم
14:57, 22/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 14:58, 22/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

Shuttestock
فائل فوٹوامریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت میں میٹا پلیٹ فارمز کو 25 ارب ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جیوری کی جانب سے یہ فیصلہ کمپنی کو صارفین کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا، یہ مقدمہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی صدارتی انتخابات کی مہم سے جڑی سیاسی کنسلٹنگ فرم کے لاکھوں فیس بک صارفین کا ڈیٹا بغیر اجازت حاصل کرنے کے الزامات سے متعلق تھا۔
ریاست کے اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ امریکی تاریخ میں کسی ایک ریاست کی جانب سے کمپنی کے خلاف سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک ہے جج فرانسس میتھیو نے لکھا کہ’ فیس بک کی سال کی غلط کاری اس کے بنیادی کاروباری طریقوں سے جڑی ہے۔‘
عدالت کےجج نے ریاستی قانون کے تحت 219 ارب ڈالر سے زیادہ جرمانہ قرار دیا لیکن اسے کم کر کے 25 ارب ڈالر کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت آیا جب چھ دیگر ریاستوں نے کیمبرج اینالٹیکا نامی فرم سے متعلق مقدمات 459.2 ملین ڈالر دیے، جو میٹا کے 17.1 ارب ڈالر کے ملٹی اسٹیٹ معاہدے کا حصہ تھا۔
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے 2021 میں میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس کے بعد انکشاف ہوا تھا کہ کیمبرج اینالٹیکا نے تھرڈ پارٹی ایپ کے ذریعے 87 ملین فیس بک صارفین کا ذاتی ڈیٹا حاصل کیا۔
ریاست نے الزام لگایا کہ میٹا نے صارفین سے ڈیٹا تک رسائی، نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات سے متعلق غلط بولا تھا۔
واضح رہے کہ کیمبرج اینالٹیکا نے 2016 میں ٹرمپ کی کامیاب صدارتی مہم کے لیے کام کیا اور ووٹر پروفائلنگ کے لیے لاکھوں اکاؤنٹس کی معلومات حاصل کی تھیں، اب بند ہو چکی ہے۔