برطرف امریکی جنرل نے امریکہ کے پاس میزائلوں کی کمی کے حوالے سے خبردار کیا تھا: رپورٹ

10:17, 16/10/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 12:30, 16/10/2026, جمعہ
ویب ڈیسک
برطرف امریکی جنرل نے امریکہ کے پاس میزائلوں کی کمی کے حوالے سے خبردار کیا تھا: رپورٹ
AA
جنگ سے قبل امریکہ کے پاس تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے تقریباً 355 انٹرسیپٹرز موجود تھے، جن میں سے اندازاً 190 سے 290 تک استعمال ہو چکے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے سابق سربراہ جنرل رینڈی جارج نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے کئی ماہ قبل خبردار کیا تھا کہ امریکی میزائل دفاعی نظام کے ذخائر انتہائی کم ہیں اور انہیں دوبارہ مطلوبہ سطح تک پہنچانے میں 2030 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق جنرل رینڈی جارج نے دسمبر کے آخر میں یہ اس حوالے سے خبردار کیا تھا، جبکہ ایران کے خلاف جنگ اس کے تقریباً دو ماہ بعد شروع ہوئی۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نےاپریل میں جنگ کے دوران انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جنرل جارج کا یہ انکشاف پینٹاگون کی مالی سال 2027 کے لیے فوجی وسائل کی تقسیم سے متعلق منصوبہ بندی میں شامل تھا۔ اس میں ٹرمینل ہائی الٹیٹیو ایریا ڈیفنس (تھاڈ)، انٹرسیپٹرز اور پیٹریاٹ میزائلوں کی شدید کمی کی نشاندہی کی گئی تھی، جبکہ ان کے ذخائر 2030 تک بھی حکمتِ عملی کے لحاظ سے کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

امریکی حکام نے اس کمی کی وجوہات میں یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی، اسرائیل کی فوجی معاونت اور دفاعی صنعت کی محدود پیداواری صلاحیت کو شامل کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایران کےخلاف جنگ نے امریکی ہتھیاروں کےذخائر پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے تخمینے کے مطابق امریکہ 2026 کےآغاز میں تقریباً 2,300 پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر رکھتا تھا، جن میں سے جنگ کے دوران 1,050 سے 1,430 تک استعمال کیے گئے۔

جنگ سے قبل امریکہ کے پاس تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے تقریباً 355 انٹرسیپٹرز موجود تھے، جن میں سے اندازاً 190 سے 290 تک استعمال ہو چکے ہیں۔

سی ایس آئی ایس کے سینئر مشیر اور امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ کرنل مارک کینشین نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں یہ دفاعی نظام انتہائی اہم ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فضائی دفاع اور میزائل دفاع بہت اہم ثابت ہوں گے، کیونکہ بیجنگ کے ساتھ بڑے پیمانے پر ممکنہ تصادم کے لیے انٹرسیپٹر میزائلوں کے وسیع ذخائر درکار ہوں گے۔‘

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے کا عمل بھی طویل ہے۔ سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے تھاڈ انٹرسیپٹرز کے نئے آرڈرز کی فراہمی میں چار سال سے زیادہ وقت لگتا ہے، جبکہ پیٹریاٹ پی اے سی تھری میزائلوں کے آرڈرز مکمل کرنے میں اوسطاً ساڑھے تین سال درکار ہوتے ہیں۔

دوسری جانب، پینٹاگون نے امریکی ہتھیاروں کی کمی سے متعلق دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی گولہ بارود اور ہتھیاروں کی کمی سے متعلق دعوے غلط ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاس وہ تمام وسائل موجود ہیں جن کی مدد سے صدر کے انتخاب کردہ وقت اور مقام پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔


پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026