امریکہ نے ایران کے جوہری اور توانائی مراکز پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا منصوبہ بنا لیا: رپورٹ
14:35, 15/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 18:03, 15/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

Getty Images
فائل فوٹوامریکہ کے نشریاتی ادارے سی این این نے ان منصوبوں سے واقف متعدد امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ امریکی فوج نے حملے کے نئے منصوبے تیار کیے ہیں۔
ان منصوبوں میں اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیتے ہیں تو ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات پر ’مدر آف آل بمز‘کے استعمال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’ ایٹم بم کے علاوہ امریکہ کے اسلحہ خانے کے سب سے بڑے بم جی بی یو-43 بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ بم‘ ( ایم او اے بی ) کا ممکنہ استعمال ایران کے ساتھ تنازع میں بڑی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
سی این این کے مطابق 'صدر ٹرمپ نے فوج کو ایران کے خلاف اضافی حملوں کے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ ان ممکنہ اہداف میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور اس کے جوہری پروگرام سے وابستہ تنصیبات شامل ہیں۔'
یہ منصوبے آئندہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں فعال کیے جا سکتے ہیں اگر صدر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران میں 'پک ایکس ماؤنٹین' پر واقع مشتبہ زیر زمین جوہری تنصیب پر حملے کے منصوبوں میں واضح طور پر 'ایم او اے بی' کے استعمال کا ذکر ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کئی بار اس پہاڑ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکے ہیں جہاں امریکہ اور اسرائیل کے خیال میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے پرزے زخیرہ رکھے ہیں۔
فوجی منصوبہ بندی کے مذاکرات سے واقف ایک ذریعے نے سی این این کو بتاتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ 'یہ ہتھیار زمین میں گہرائی تک مار کرنے کے لیے موزوں نہیں ہے۔'
ذرائع کا کہنا ہے کہ 'اگر یہ بم توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا آبادی کے قریب گرایا گیا تو بڑے پیمانے پر شہری جانی نقصان کا اندیشہ ہے، جبکہ اس کا اصل مقصد ایران پر نفسیاتی دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔'