ٹرمپ نے ‘آرٹیفیشل انٹیلی جنس’ کا نام تبدیل کر کے ‘سپر انٹیلی جنس’ کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے
12:42, 30/09/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 12:44, 30/09/2026, بدھ
ویب ڈیسک

AFP
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے ۔ فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاوس میں اعلی سطحی اجلاس کے بعد باضابطہ طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا نام تبدیل کر کے ایگزیکٹو برانچ میں ‘سپر انٹیلی جنس’ رکھ دیا۔
حکم نامے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وفاقی محکمے اور ایجنسیاں سرکاری خط و کتابت، عوامی بیانات، سرکاری دستاویزات اور دیگر غیر قانونی نوعیت کے سرکاری مواد میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال بند کرکے سپر انٹیلی جنس استعمال کریں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے ‘ فاکس نیوز’ کے مطابق ٹرمپ نے اجلاس کے بعد دستخط شدہ ایک ایگزیکٹو آرڈر میں لکھا کہ امریکی انوویٹرز( ایلون مسک، مارک زکربرگ، سندر پچائی اور جینسن ہوانگ ) غیر معمولی ٹیکنالوجیز کو متعارف کرا رہے ہیں، وہ اس تصور سے کہیں بڑھ کر ہیں جو 'آرٹیفیشل انٹیلی جنس' کی اصطلاح پہلی بار استعمال میں آئی تھی۔
یہ حکم صدر کے معاون برائے سائنس و ٹیکنالوجی کو سپر انٹیلی جنس (ایس آئی) کی باقاعدہ وفاقی تعریف تیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جو مسلسل ترقی کرتی تکنیکی حدود کی عکاسی کرے گی۔
وائٹ ہاؤس حکام کو 60 روز میں سپر انٹیلیجنس ‘ایس آئی’ کی باضابطہ قانونی تعریف کے لیے مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکا سپر انٹیلی جنس کے میدان میں دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ اس لیے ایسی اصطلاح استعمال ہونی چاہیے جو ان ٹیکنالوجیز کی صلاحیت اور مستقبل کے امکانات کی عکاسی کرتی ہو۔
انتظامیہ نے امریکہ کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی جائے پیدائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب سے اے آئی تحقیق کے ایک شعبے کے طور پر سامنے آئی ہے، تب سے لے کر اب تک 70 سال سے زائد عرصے سے امریکہ اس ٹیکنالوجی کی ترقی اور اسے نافذ کرنے میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔