امریکہ گرین لینڈ میں سرد جنگ دور کے فوجی اڈے دوبارہ کھولنے جا رہا ہے: رپورٹ
11:28, 22/09/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 11:49, 22/09/2026, منگل
ویب ڈیسک

Brussels Morning Newspaper
گرین لینڈ۔ فائل فوٹومعاملے سے واقف تین ذرائع کے مطابق امریکہ جنوبی گرین لینڈ میں ‘سرد جنگ’ کے دور کا فوجی اڈا دوبارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اس کے علاوہ مشرقی ساحل پر ایک اور فوجی اڈا قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جسے اب ڈنمارک کے ' ڈاگ سلیڈ پٹرول ' استعمال کرتے ہیں۔
جبکہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ یہ معاہدہ منگل کو طے پائے گا۔
ذرائع کے مطابق ان مقامات نارسارسواک اور میسٹرسوگ شامل ہیں۔ نارسارسواک میں 1950 کی دہائی میں امریکی’ بلیو ویسٹ ون بیس ‘ بند ہونے کے بعد آبادی چند درجن افراد تک محدود ہو گئی تھی، جبکہ میسٹرسوِگ ڈنمارک سپیشل فورسز کے یونٹ ‘سیریئس ڈاگ سلیڈ پٹرول‘ کے زیر استعمال فوجی چوکی ہے۔
توقع ہے کہ ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکہ منگل کو صبح 10:30 بجے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر معاہدے پر دستخط کریں گے۔
معاہدے کا متن منظر عام پر نہیں آیا اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی تفصیلات کو اس وقت تک حتمی شکل نہیں دی جائے گی جب تک کہ اس پر دستخط نہ ہو جائیں۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں نے تبصرے کے لیے خبر ایجنسی رائٹرز کی درخواست پر فوری طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے معاہدے کی تفصیلات پر تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’منگل کو دستخط گرین لینڈ اور امریکہ کی سلامتی کو محفوظ اور مستحکم بنائے گا۔‘
ڈنمارک کا کہنا ہے کہ ' یہ معاہدہ آرکٹک سیکورٹی کو صرف امریکہ اور ڈنمارک پر چھوڑنے کے بجائے شمالی بحر اوقیانوس کے فوجی دفاعی اتحاد کی نگرانی میں رکھتا ہے '۔
یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کئی ماہ تک جاری رہنے والے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔ وہ طویل عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ وہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول چاہتے ہیں اور اس نیم خود مختار ڈینش علاقے کے حصول کے لیے فوجی یا اقتصادی طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مسترد کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔
پولنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرین لینڈ کی بھاری اکثریت نے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکیوں کا سلسلہ جنوری میں اپنے عروج پر تھا، جس نے نیٹو کے اندر ایک سفارتی بحران پیدا کر دیا اور ڈنمارک و گرین لینڈ کو اس کشیدگی کو کم کرنے کے مقصد سے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور کر دیا۔
سرد جنگ کے دوران امریکہ نے گرین لینڈ میں 17 فوجی تنصیبات اور 10,000 سے زیادہ اہلکار رکھے تھے۔ جبکہ آج صرف ‘پٹوفک اسپیس بیس‘ باقی ہے جس میں تقریبا 150 امریکی فوجی موجود ہیں۔