وائٹ ہاؤس کوریج پر پابندی، میڈیا اداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کر دیا
17:33, 21/09/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 17:50, 21/09/2026, پیر
ویب ڈیسک

Reuters
فائل فوٹوامریکی میڈیا ادارے سی این این ، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد اپنے پہلے ترمیمی حقوق کے تحفظ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ کر رہے ہیں۔
تینوں خبر رساں اداروں نے بتایا کہ ’انہوں نے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے کہ مقدمہ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ‘اس معاملے میں اسی ہفتے ہنگامی سماعت متوقع ہے’۔
انہوں نے مشترکہ بیان میں لکھا ہے کہ ‘بغیر کسی نوٹس یا کارروائی کے وائٹ ہاؤس نے ہمارے صحافیوں کی اسناد منسوخ کر دی ہیں کیونکہ انہیں ہماری رپورٹنگ پر اعتراض تھا ۔‘
اگر اس اقدام کو چیلنج نہ کیا گیا تو یہ پریس کی آزادی اور حکومتی مداخلت سے پاک آزادانہ صحافت تک عوام کے حق کے لیے خطرہ بن جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس مقدمے کا مقصد آئین کی پہلی ترمیم کے تحت ہمارے حقوق کا تحفظ اور اس اصول کا دفاع کرنا ہے کہ حکومت یہ طے نہیں کرتی کہ پریس کیا رپورٹ یا شائع کرے۔‘
جبکہ وائٹ ہاؤس کے نمائندوں نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب مقدمے کے اعلان کے بعد پیر کو سوشل میڈیا پر ایک اور پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے اس پابندی کا دفاع کیا اور بغیر کسی ثبوت کے نیوز میڈیا کو سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے لکھا کہ ’وائٹ ہاؤس آزاد پریس پر حملہ نہیں کر رہا، یہ ایسی چیز ہے جسے میں بہت عزیز رکھتا ہوں یہ ’جعلی خبروں‘ کے خلاف ایک کارروائی کر رہا ہے،‘
انہوں نے مزیدلکھا کہ ’یہ کرپٹ، ملک کو نقصان پہنچانے کے مقصد پراور مکمل طور پر بے قابو ہے۔ یہ ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اسے ابھی روکا جانا چاہیے۔‘
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے وائٹ ہاؤس اور پریس کے درمیان دہائیوں پر محیط روایات کو ختم کر دیا ہے۔انہوں نے کئی بڑے خبر رساں اداروں کی صدر تک رسائی روک دی ہے جبکہ ایسے نئے میڈیا اداروں کو ترجیح دی ہے جنہیں انتظامیہ کے لیے ذیادہ ہمدرد سمجھا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ متعدد خبر رساں اداروں کے خلاف پہلے ہی مقدمات دائر کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کا تازہ ترین اقدام اس وقت سامنے آیا جب ان کے ساتھی ریپبلکنز نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں اپنی معمولی اکثریت کا دفاع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام ریپبلکنز کے خلاف اور صدر ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح کے قریب ہے۔