<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/">
  <channel>
    <title>Yenisafak UR</title>
    <description>RSS Feed</description>
    <link>http://ur.yenisafak.com</link>
    <atom:link rel="self" type="application/rss+xml" href="http://ur.yenisafak.com/rss?contenttype=column" />
    <atom:link rel="hub" href="https://pubsubhubbub.appspot.com/" />
    <copyright>(c) 2026, Yenisafak UR</copyright>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 13:53:54 +0300</lastBuildDate>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:53:54 +0300</pubDate>
    <language>tr-TR</language>
    <image>
      <title>Yenisafak UR</title>
      <url>https://assets.yenisafak.com/yenisafak/wwwroot/images/site-icon/yenisafak-ur.png</url>
      <link>http://ur.yenisafak.com/</link>
    </image>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو یا نہ ہو، 'اسرائیلی چھاؤنی' کو ختم کر دیا جائے گا۔ جو لوگ 'نئے جغرافیے' کو نہیں سمجھتے، وہ خودکشی کر رہے ہیں۔ عثمانیوں نے بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر ایک دور بدل دیا تھا۔ اب ترکیہ 'دوسری بار' دور بدلے گا۔ کیسے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/2899</guid>
      <description>اگر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور ایران کسی حقیقی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو خطے میں طاقت کا نقشہ کیسا ہوگا؟ کیا جنگ سے کمزور ہونے والا ایران، جس کی علاقائی طاقت بھی متاثر ہوئی ہے، دوبارہ مضبوط ہو کر ابھرے گا یا ایک کمزور ریاست کی صورت میں اپنی سرزمین تک محدود ہو جائے گا؟ یا پھر وہ خود کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کرے گا جس نے "امریکہ کے خلاف فتح حاصل کی؟" وہ خلیجی ریاستیں جو ایرانی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس سمت لے جائیں گی؟ کیا خلیجی عرب ممالک</description>
      <category>columns</category>
      <category>ابراہیم کاراگُل</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/2899</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/webp" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/4b4a3bee-4opzh84jl3vhsea8okck3v.webp" />
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:53:54 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا ٹرمپ اسرائیل کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا اسرائیل سے ہٹ کر بھی کوئی امریکی انٹیلی جنس موجود ہے؟ کیا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں دوری آ سکتی ہے؟ خطے کے اصل طاقت ور عناصر متحرک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل ایک ایسی تفصیل بن گیا ہے جسے "کچل کر آگے بڑھ جانا" ہے۔ ہمارے منصوبے اس سے کہیں بڑے ہیں! کمزور ممالک کا اتحاد بھی محض ایک تفصیل ہے!</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/2886</guid>
      <description>امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ بظاہر اسرائیل کو شدید پریشانی میں مبتلا کر چکا ہے۔ اگر کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسرائیل کی بے چینی مزید بڑھ جائے گی اور ممکن ہے کہ یہ خوف میں تبدیل ہو جائے۔ اگر یہ سب کوئی ڈرامہ نہیں ہے، اگر اسرائیلی حلقوں کا ردِعمل مصنوعی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے یہ معاہدہ اسرائیل کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ شاید امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کسی قسم کی تبدیلی یا سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہم</description>
      <category>columns</category>
      <category>ابراہیم کاراگُل</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/2886</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/webp" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/18/75b0d0be-a-trmp-syl-qbh-te-n-h-w-n-j-d-e-a-kht-s-h-ch-f-r-z-d-.webp" />
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 12:11:56 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’ہم سرپرائز وار کی تیاری کر رہے ہیں‘: اسرائیلی چیف آف اسٹاف کا یہ بیان کیا ترکیہ کی جانب اشارہ ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/2563</guid>
      <description>اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر کہتے ہیں کہ ’ہم سرپرائز وار (جنگ) کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہمیں ہر محاذ پر چوکنا رہنا ہوگا۔‘ غزہ میں نسل کشی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اب کس قسم کی نئی جنونیت کی طرف جا سکتے ہیں۔ اگر اسرائیل کو ’ریاست‘ سمجھنے کے بجائے اسے ایک نسلی نظریاتی ’تنظیم‘ کے طور پر دیکھیں اور پھر اندازہ لگائیں کہ انسانیت دشمن، بگڑی ہوئی قیادت کے زیرِ انتظام ایسی حکومت کیا کرسکتی ہے اور یہ دنیا کو کس سمت دھکیل سکتی ہے۔  اچانک جنگ کس کے خلاف؟ تو پھر یہ ’اچانک جنگ‘ کس کے خلاف ہوگی؟ شام</description>
      <category>columns</category>
      <category>ابراہیم کاراگُل</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/2563</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/webp" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/9/2f2dc8cf-dyr6l3hz98zlwzm4ihfmi.webp" />
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 15:23:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>جنگیں ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے ٹرمپ کیا وینزویلا پر حملہ کریں گے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2518</guid>
      <description>حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کے لیے فوجی مداخلت کا اشارہ دے رہی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع یہ دلیل دے رہا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ اور منشیات سے جڑی دہشت گردی امریکہ کے لیے فوری خطرہ ہیں اور وہ بین الاقوامی پانیوں میں ایسے جہازوں کے خلاف عدالتی کارروائی کے بغیر حملے کر رہا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ منشیات سمگل کر رہے ہیں۔ کیریبین میں بحری فوجی دستوں کی تعیناتی اور صدر ٹرمپ کا اعلان کہ انہوں نے سی آئی اے کو وینزویلا میں کارروائی کرنے کی اجازت دی ہے، ایسے اقدامات ہیں جو جنگ کے</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2518</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/webp" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/11/20/975a7127-rqiipni51padf3xl9ihnm.webp" />
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 13:28:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حکومت پر شاہی اثر و رسوخ اور عوام کا احتجاج: مراکش میں کیا ہورہا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/2385</guid>
      <description>چند دن کے لیے سڑکوں پر احتجاج، کارکنان کے نعرے، صحت اور تعلیم میں اصلاحات کے مطالبات، کچھ شہروں میں سرکاری عمارتوں میں آگ اور گرفتاریاں۔۔۔۔ عالمی میڈیا جب مراکش پر رپورٹ کررہے تھے تو احتجاج پہلے ہی پولیس مداخلت کے ذریعے کم ہو چکا تھا۔ جو لوگ خطے پر گہری نظر رکھتے ہیں، انہوں نے پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ ایسے مظاہرے مراکش جیسے ملک میں زیادہ بڑھنے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے۔ اٹلانٹک اور بحیرہ روم کے درمیان واقع اور افریقہ کے اندرونی علاقوں اور یورپ کے ساتھ مضبوط رابطے رکھنے والا مراکش اسلامی دنیا</description>
      <category>columns</category>
      <category>طہٰ کلنچ</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/2385</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/webp" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/10/16/29d88b9e-nt7xeyj7s68p38litm3aq8.webp" />
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 13:18:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>شرم الشیخ کے اجلاس میں 'نئے مشرقِ وسطیٰ کا جنم'</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2386</guid>
      <description>غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو ایک مستقل امن عمل میں تبدیل کرنے کے لیے علاقائی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'ایک نیا مشرقِ وسطیٰ جنم لے رہا ہے۔' اور وعدہ کیا کہ وہ اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ امن کے ارادے کا اعلامیہ، جس پر صدر اردوان نے بھی دستخط کیے، اس کا مقصد صرف غزہ کی جنگ ختم کرنا نہیں۔ بلکہ یہ فریقین کے درمیان خطے میں استحکام یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے عزم کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ امن منصوبے کے نفاذ کے معاہدے سے علاقائی</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2386</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/webp" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/10/16/04017c19-iyjcnkg6etow3eb58ivq1.webp" />
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 17:29:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’جو سمجھتے ہیں کہ وہ ترکیہ پر حملہ کرسکتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں کہ یہ حکمت عملی کتنی خطرناک ثابت ہوگی‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/2306</guid>
      <description>وہ اس قدر نفرت کا نشانہ بن چکے ہیں کہ دنیا کے ہر کونے سے، تھائی لینڈ سے لے کر چلی تک، یورپی ممالک سے لے کر دور دراز مقامات تک، انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے حلیف ممالک میں بھی سڑکوں پر یہود مخالف مظاہرے کررہے ہیں۔ کوئی انہیں اپنے ملکوں، شہروں، سڑکوں، ہوٹلوں، ریستورانوں یا کیفے میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ ’مستقبل سوشل میڈیا گلیمر کی طرح نہیں ہوگا‘ چاہے وہ ٹک ٹاک ویڈیوز میں جتنا بھی ہنسیں، چاہے جتنا بھی ناچیں، وہ خود کو زمین پر سب سے زیادہ نفرت کیے جانے والی کمیونٹی بنانے میں کامیاب ہو</description>
      <category>columns</category>
      <category>ابراہیم کاراگُل</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/2306</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/webp" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/10/1/21f34c03-b2i9jamsqfeid71e61y8qn.webp" />
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 11:06:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’مغربی سیکیورٹی عرب ممالک کے لیے صرف دھوکہ ہے‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/2247</guid>
      <description>اسرائیل کا قطر پر حملہ، جس میں امریکہ کی حمایت بھی شامل تھی، عرب دنیا کے لیے ایک صدمے کی طرح تھا۔ اگرچہ کچھ ممالک نے امریکی خوف کے باعث اپنا فضائی حدود اسرائیل کے لیے کھول دیا، یہ حملہ اس بات کا اعلان تھا کہ 21ویں صدی کے پہلے چار عشروں کے اختتام پر عرب دنیا خوفناک تنہائی کی طرف دھکیل دی جائے گی۔ اب جو صدمہ عرب دنیا محسوس کر رہی ہے، وہ عارضی یا لمحاتی نہیں ہے۔ کیونکہ اس حملے نے وہ سیکورٹی اصول بے معنی کر دیے جو عرب ریاستوں نے قائم کیے، جن پر وہ امید لگائے ہوئے تھے اور جن پر یقین کرتے تھے کہ وہ انہیں</description>
      <category>columns</category>
      <category>ابراہیم کاراگُل</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/2247</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/webp" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/9/16/3d69fa46-dp7nc3jtvven8hqdqet4uk.webp" />
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 15:21:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>افغانستان میں داخل ہونا آسان ہے مگر نکلنا مشکل، کیا طالبان پشتون قوم پرست ہیں؟
انہوں نے اتنا مشکل مسئلہ کیسے حل کر لیا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yasin-aktay/2162</guid>
      <description>طالبان، جو آج افغانستان میں حکومت کر رہے ہیں، اپنے وطن کے دفاع کا 48 سالہ ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ تجربہ قربانیوں، شہادتوں، غازیوں، اسٹریٹجک اور جنگی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ صبر اور استقامت سے حاصل ہوا ہے۔ ایسی کون سی سوچ، جذبہ یا ابن خلدون کے الفاظ میں ’عصبیہ‘ تھا، جس نے ان لوگوں کو اتنا پختہ کر دیا کہ انہوں نے پہلے روس اور پھر امریکہ کو افغانستان میں مداخلت پر پچھتانے پر مجبور کر دیا اور اور انہوں نے اپنی آزادی کے معاملے پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا؟ جب آپ انہیں قریب سے دیکھتے ہیں تو واضح ہو</description>
      <category>columns</category>
      <category>یاسین اکتائے</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yasin-aktay/2162</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/8/19/537806a4-l4g99af5ultqck69vos8.jpeg" />
      <pubDate>Tue, 19 Aug 2025 13:54:50 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ پوتن ملاقات: معاہدے، قیاس آرائیاں اور سیاسی اثرات</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/2160</guid>
      <description>الاسکا سمٹ ختم ہو گیا۔ ایسے اجلاسوں میں عام طور پر جو کچھ کہا یا طے پایا جاتا ہے، وہ مکمل طور پر عوام تک نہیں پہنچتا۔ کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد پوتن اور ٹرمپ نے انتہائی مختصر بیانات دیے۔ ایسی صورت میں جب میڈیا کے پاس مکمل معلومات نہیں ہوتیں، تو لوگ خود ہی باڈی لینگویج، رسمی انداز اور چند جھلکیوں کو دیکھ کر حد سے زیادہ مفہوم نکالنے لگتے ہیں۔ شفافیت کی کمی کی وجہ سے لوگ قیاس آرائی کرنے لگتے ہیں۔ میں نے اجلاس کی لائیو کوریج دیکھی۔ سب کچھ مضحکہ خیز لگ رہا تھا۔ کچھ صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ استقبالیہ</description>
      <category>columns</category>
      <category>سلیمان سیفی اوئن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/2160</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/8/19/377a4f3d-8q75n4hgmjnzjkqnxw4i0r.jpeg" />
      <pubDate>Tue, 19 Aug 2025 09:55:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا فرانس اور برطانیہ فلسطین کو ریاست تسلیم کر لیں گے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/2140</guid>
      <description>فرانس اور برطانیہ نے حال ہی میں یکے بعد دیگرے یہ بیانات دیے کہ وہ فلسطین کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ مگر یہ اعلانات کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں اور بالخصوص ان ممالک کی ساکھ پر سوال اٹھتے ہیں۔ یہ شک و شبہ بالکل جائز ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہی دونوں ملک ماضی میں مشہور سائکس-پیکو معاہدے کے فریق تھے۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس نے موجودہ دور کے بہت سے تنازعات کی بنیاد رکھی۔ اس معاہدے کے تحت سلطنتِ عثمانیہ کے علاقوں کو سرحدوں میں تقسیم کیا گیا اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹ دیا گیا۔ اور اسی تقسیم نے اسرائیل</description>
      <category>columns</category>
      <category>سِلچک ترکیلماز</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/2140</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/8/12/d8625e1d-6uf8gw3dzvpiatwz9e2vjk.jpeg" />
      <pubDate>Mon, 11 Aug 2025 14:55:21 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’اسرائیل کی مسلسل حمایت امریکہ کے لیے اب سیاسی بوجھ‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/2089</guid>
      <description>امریکہ میں اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کے حوالے سے عوامی رائے میں ڈرامائی تبدیلی نے صیہونیوں اور ان کے امریکی اتحادیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ تمام ووٹر گروپس (جیسے نوجوان، بوڑھے، ریپبلکن، ڈیموکریٹس وغیرہ) میں اسرائیل کے لیے ہمدردی میں کمی آ رہی ہے۔ اسی دوران   پہلے جس ’اسرائیل لابی‘ کو پسِ پردہ سمجھا جاتا تھا، وہ اب کھل کر وائٹ ہاؤس اور کانگریس پر اثرانداز ہوتی نظر آ رہی ہے اور یہ بات عوام میں تنازع اور سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ یہ تبدیلی ڈیموکریٹک پارٹی پر سب سے</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/2089</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/7/29/09de9494-ljgu25wu13rgr05lrsvv.jpeg" />
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 16:28:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>نیتن یاہو ہر معاملے میں ٹرمپ کے حامی، شام کے معاملے پر کیوں نہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2060</guid>
      <description>بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سات ماہ کے دوران شام نے سیاسی استحکام کی طرف نمایاں پیش رفت کی ہے۔ تاہم السویدہ میں بدامنی کے حالیہ واقعات یہ یاد دلاتے ہیں کہ آگے کا سفر اب بھی طویل اور مشکل ہے۔ احمد الشراع کی قیادت میں شام کی نئی حکومت نے مختلف گروپس کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی سفارتی شناخت حاصل کرنے کے لیے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی سے لے کر نسلی اور فرقہ وارانہ برادریوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے تک، شام میں کئی مثبت پیش رفتیں ہوئی ہیں۔تاہم</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2060</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/7/23/e5dd0817-r86id0kn993ec41j399qd.jpeg" />
      <pubDate>Wed, 23 Jul 2025 13:24:39 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بدلتے اتحاد، نیا عالمی منظرنامہ: کیا 2025 میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/mehmet-akif-soysal/1962</guid>
      <description>روس یوکرین جنگ کے بعد دنیا میں کشیدگی اور پولرائزیشن میں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ دنوں میں یہ کھلے عام تصادم کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پہلے انڈیا اور پاکستان کے درمیان اور پھر اسرائیل اور ایران کے درمیان۔اگرچہ فی الحال انڈیا-پاکستان اور اسرائیل-ایران کے درمیان لڑائی تھم چکی ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ تنازعات مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی معاملے میں کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا جو مستقل امن کی ضمانت دے سکے۔ جہاں تک روس اور یوکرین کی جنگ کا تعلق ہے، تو اس پر عالمی توجہ</description>
      <category>columns</category>
      <category>مہمت عاکیف سویسل</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/mehmet-akif-soysal/1962</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/7/1/ce005a33-sblx9tsk3ai2w5hrvu2bn.jpeg" />
      <pubDate>Tue, 01 Jul 2025 12:10:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران، اسرائیل اور ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کے بیچ الجھا امریکہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1951</guid>
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں کیے گئے وعدے پورے نہ ہونے کا الزام ’ڈیپ اسٹیٹ‘ پر عائد کیا۔ یہ اصطلاح ایسے خفیہ بیوروکریٹس اور سیاسی اشرافیہ کے گروہ کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اپنی مرضی سے پالیسیاں بناتے ہیں اور غیرمعمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے حامیوں کے مطابق ’ڈیپ اسٹیٹ‘ ہی وہ طاقت ہے جو امریکا کو مہنگی اور طویل جنگوں میں دھکیلتی رہی ہے، جن پر کھربوں ڈالر خرچ ہوئے اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ یوں ان کے نزدیک امریکا کے تمام بڑے مسائل کی جڑ یہی ’ڈیپ اسٹیٹ‘ ہے۔ اپنی دوسری مدتِ</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1951</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/6/26/08c92968-0of20mh6i1uo0snpdmbr1n.jpeg" />
      <pubDate>Thu, 26 Jun 2025 06:39:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا ٹرمپ جنگ روکنے کے لیے نئی جنگ چھیڑیں گے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1943</guid>
      <description>اسرائیل ایران پر حملوں سے دنیا کو ایک بڑی جنگ، حتیٰ کہ عالمی جنگ کی طرف لے جارہا ہے۔ آپ کو یہ بات بظاہر مبالغہ آمیز یا ڈرامائی لگ سکتی ہے، لیکن بعض اوقات ہمارے اندر کے خدشات اور احساسات دراصل اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جس کی طرف ہم آنکھیں بند کیے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جیسے دو عالمی جنگوں میں ہوا، عالمی تباہی یا جنگ کوئی حادثاتی یا خاموش پیش رفت نہیں رہی، بلکہ سب کچھ کھلے عام، واضح انداز میں ہو رہا ہے، لیکن پھر بھی دنیا اسے روکنے میں ناکام ہے۔ امریکی مورخ باربرا ٹک مین نے اپنی مشہور کتاب ’The March</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1943</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/6/19/432cc8ad-hgm6kkmhg5h7jr2pql3319.jpeg" />
      <pubDate>Thu, 19 Jun 2025 11:06:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا انڈیا پاکستان کشیدگی کے پیچھے اسرائیل اور امریکہ کی خفیہ منصوبہ بندی چھپی ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/1841</guid>
      <description>تصور کریں انڈیا پاکستان پر حملہ کرتا ہے۔ جواب میں پاکستان اور بنگلہ دیش، دونوں انڈیا پر حملہ کرلیتے ہیں۔ ان ملکوں کے درمیان پرانے حل نہ ہونے والے جھگڑے، جو 20ویں صدی سے چلے آ رہے تھے، ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ چائنہ بھی خاموش نہیں رہتا۔ وہ نارتھ سے انڈیا پر حملہ کرتا ہے، کیونکہ وہ انڈیا کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ چائنہ جانتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کئی سالوں سے انڈیا کی مدد کر رہے تھے تاکہ چائنہ کی طاقت کو روکا جا سکے۔ شاید کچھ بڑی طاقتیں پہلے سے اس  موقع کی تلاش میں ہیں۔ ادھر افغانستان</description>
      <category>columns</category>
      <category>ابراہیم کاراگُل</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/1841</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/5/1/3d4f0be1-qzkhb7c5k9j4l5mdfrpw.jpeg" />
      <pubDate>Thu, 01 May 2025 08:50:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’جب اسرائیل کو طاقت سے جواب دینے کا وقت آیا ہے، تو کیا ہم غزہ خالی کرا کے اسرائیل کو بچائیں؟ اور اسے ’ہجرت‘ کہیں؟ ایسی ہجرت حرام ہے!‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/1803</guid>
      <description>غزہ ہمارے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا فلسطینی عوام کی عظیم جدوجہد صرف فلسطین تک محدود ہے؟ یا پھر غزہ میں ظلم اور نسل کشی کی صورتحال خطے کی طاقتور ریاستوں پر بھی کچھ ذمے داریاں عائد کرتی ہے؟ کیا غزہ کے عوام کو بچانے کا واحد حل یہی ہے کہ انہیں ان کے وطن سے نکال کر کہیں اور بسا دیا جائے؟ لیکن کیا یہ جلاوطنی نہیں؟ جبری ہجرت؟ نسلی کشی؟ اور یہ بیانیہ کون پھیلا رہا ہے؟ کون اس سوچ کو ہمارے دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش کر رہا ہے؟ کیا غزہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا ہے؟ نہیں! غزہ ایک سوچ ہے۔ یہ مزاحمت کی سب سے روشن</description>
      <category>columns</category>
      <category>ابراہیم کاراگُل</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/1803</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/4/16/9a5d1dbd-ygcwiftd1eiqji2x3v3vgl.jpeg" />
      <pubDate>Wed, 16 Apr 2025 07:45:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ - پیوٹن گفتگو اور جیوپولیٹیکل شطرنج </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/1761</guid>
      <description>جب روس نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ وہ یوکرین کے خلاف ایک ’آپریشن‘ شروع کرے گا، تو زیادہ تر لوگوں نے سوچا کہ یوکرین ایک آسان ہدف ہوگا اور یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، شاید ایک ہفتے کے اندر۔ پھر روس نے کچھ عرصہ پہلے کریمیا پر بھی اسی طرح تیزی سے قبضہ کر لیا تھا۔ پیوٹن نے اس آپریشن کے مقاصد یوں بیان کیے: دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں کو آزاد کرانا، جہاں روسی اقلیت آباد ہے، یوکرین سے نیو نازی گروپس کا خاتمہ کرنا اور یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روکنا شامل ہے۔  جنگ مختلف علاقوں میں ایک ساتھ شروع ہوئی،</description>
      <category>columns</category>
      <category>سلیمان سیفی اوئن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/1761</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/3/25/71f82c07-dp5b76zojgqs0bsuacl2ip.jpeg" />
      <pubDate>Tue, 25 Mar 2025 11:06:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’نیتن یاہو ترکیہ سے خوفزدہ ہے‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1753</guid>
      <description>حالیہ دنوں کی سب سے اہم خبروں میں سے ایک یہ ہے: ’اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے ملٹری سیکریٹری آر گوفمین کو ماسکو بھیج دیا۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ روس شام میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے۔‘ اس خبر کا ایک دلچسپ پس منظر ہے، جو اسرائیلی میڈیا میں شائع ہوئی۔ اسرائیل، ترکیہ کے بارے میں دن بہ دن زیادہ فکر مند ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو ترکیہ سے شام کے بارے میں وہ جواب نہیں ملا جو وہ چاہتا تھا۔ موجودہ صورتحال کیا ہے؟ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔ اسرائیل کی بنیادی حکمت عملی ہمیشہ</description>
      <category>columns</category>
      <category>یحییٰ بوستان</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1753</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/3/21/2bad8f61-cxqkmwbcdklxoguy7qqlnk.jpeg" />
      <pubDate>Fri, 21 Mar 2025 12:10:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور یورپ میں بڑھتی دوریاں—یوکرین جنگ کا نیا رُخ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1714</guid>
      <description>امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے اس اتوار کو سی این این پر ڈانا بُش کے شو میں کہا کہ یوکرین نیٹو میں شامل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر یوکرین نیٹو کا رکن بن گیا تو امریکہ کو آرٹیکل 5 کے تحت یوکرین کا دفاع کرنا ہوگا، کیونکہ اگر یوکرین پر حملہ ہوتا ہے تو امریکہ کو امریکی فوجی مداخلت کا امکان پیدا ہو سکتا ہے اور والٹز کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہے۔ والٹز کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں زبانی تکرار ہوئی</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1714</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <media:content medium="image" type="image/jpeg" url="https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/3/8/d5920bfa-oq6c7n7s1qhpufwttr1bgb.jpeg" />
      <pubDate>Sat, 08 Mar 2025 06:39:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ، روس اور یوکرین: پس پردہ کیا چل رہا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yusuf-dinc/1696</guid>
      <description>جیسے ہی ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا، ان کی خارجہ پالیسی سے متعلق انداز بدلا ہوا نظر آ رہا ہے۔ وہ اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادیوں کے علاوہ ان تمام لوگوں کو نظر انداز کررہے ہیں جو بائیڈں کے ساتھ کام کرچکے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو یوکرین-روس جنگ میں شامل تھے۔ مثال کے طور پر پولینڈ کے صدر کو دیکھ لیں، جو واحد یورپی رہنما تھے جنہوں نے نیٹو اور امریکہ کو اعتماد میں لینے کے لیے اپنے ملک کے دفاعی اخراجات بڑھانے کا وعدہ کیا۔ ٹرمپ نے انہیں ملاقات کے لیے طویل انتظار کروایا اور جب ملاقات ہوئی تو صرف دس منٹ تک جاری</description>
      <category>columns</category>
      <category>یوسف دنچ</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yusuf-dinc/1696</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 03 Mar 2025 12:12:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ میں فلسطینیوں کو کیا حاصل ہوا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/1632</guid>
      <description>غزہ میں سیز فائر معاہدے کے بعد بھی اسرائیل کے ویسٹ بینک پر حملے جاری ہیں۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اسرائیل کو امریکہ اور برطانیہ کی ’کالونی‘ (یعنی نوآبادیاتی یا فوجی اڈا) سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل ایسے حملوں کو اپنے اسٹریٹجک اہداف کے حصول کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ ان مقاصد کی جڑیں آبادکار بستیوں کے پھیلاؤ میں چھپی ہیں، جب غزہ میں نسل کشی جاری تھی، ویسٹ بینک میں آبادکاروں (یعنی وہ لوگ جو مقامی لوگوں کی زمین پر قابض ہوکر وہاں بستے ہیں) نے پہلے ہی غزہ کے حوالے سے اپنے اگلے اقدامات کی منصوبہ</description>
      <category>columns</category>
      <category>سِلچک ترکیلماز</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/1632</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 03 Feb 2025 11:05:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>انسٹاگرام کے مطابق کیا میں کوفیہ پہننے والا دہشت گرد ہوں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/ersin-celik/1614</guid>
      <description>کچھ عرصے سے میں نے سوشل میڈیا کا استعمال کم کر دیا ہے اور کبھی کبھار اپنے تجربات وہاں شیئر کرتا ہوں۔ ایک صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا مینیجر کے طور پر میں نے اپنا اسکرین ٹائم خاصا کم کر لیا ہے۔ نو مہینے پہلے میں نے اپنا ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ مکمل طور پر بند کر دیا تھا اور کافی عرصے سے فیس بک بھی استعمال نہیں کیا۔ جس کے بعد صرف انسٹاگرام رہ جاتا ہے جہاں میں نسل کشی، غزہ کی مزاحمت، شامی انقلاب جیسے موضوعات پر پوسٹس اور کتابوں پر تبصرے کی وڈیوز شیئر کرتا ہوں۔ لیکن انسٹاگرام نے میرا اکاوٴنٹ پر شیڈو بین لگا</description>
      <category>columns</category>
      <category>ارسِن چیلِک</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/ersin-celik/1614</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Wed, 29 Jan 2025 08:12:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ 2.0</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1606</guid>
      <description>دوسری بار امریکہ کے صدر بننے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سیاسی تاریخ میں وہ منفرد کارنامہ انجام دیا ہے جو اس سے پہلے صرف ایک بار دیکھا گیا۔ 2020 کا الیکشن ہارنے کے بعد بہت لوگوں نے سوچا تھا کہ ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو گیا ہے، مگر انہوں نے تمام پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا اور ری پبلکن پارٹی کی مضبوط حمایت اور ڈیموکریٹک پارٹی کی اسٹریٹجک غلطیوں کے باعث وہ شاندار طریقے سے وائٹ ہاؤس لوٹے ہیں۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ امریکی تاریخ کے واحد صدر ہیں جو عدالت سے مجرم قرار پائے ہیں۔ پیر کوحلف برداری کے بعد ٹرمپ</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1606</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 27 Jan 2025 12:09:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حماس کے ترجمان ابوعبیدہ  نے جو کچھ کہا سچ ثابت ہوا۔۔۔۔۔۔</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yasin-aktay/1605</guid>
      <description>20 جنوری تک امریکہ میں تمام نظریں سابق صدر جو بائیڈن کی الوداعی تقریر پر تھیں۔ نئے صدر کی حلف برداری سے قبل دی گئی بائیڈن کی بطور صدر آخری  تقریر کو دنیا بھر میں اہمیت دی گئی ۔اس تقریر میں بائیڈن کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چار سالہ دور کا جائزہ پیش کریں، ان شعبوں پر روشنی ڈالیں جن کے بارے وہ ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔ اپنا دور ختم ہونے سے صرف تین دن پہلے بائیڈن نے اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی کے معاہدے کو کامیابی کے طور پر پیش کیا، اسے اپنی حکومت کے کارناموں میں سے ایک قرار دیا۔ اس خطاب کے دوران الجزیرہ</description>
      <category>columns</category>
      <category>یاسین اکتائے</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yasin-aktay/1605</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 27 Jan 2025 11:04:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ شام میں کیا چاہتا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1589</guid>
      <description>امریکہ آخر شام میں کیا چاہتا ہے؟ یہ بحث بے کار ہے کیوںکہ اس سوال کا کوئی واضح جواب موجود نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ کئی سالوں سے امریکہ کی شام میں ’ڈی فیکٹو پالیسی‘ زیادہ تر اس پر مبنی رہی ہے کہ وہ ’کیا نہیں چاہتا‘، بجائے اس کے کہ کوئی جامع حکمت عملی ہو۔ اس غیر واضح پالیسی کی وجہ سے امریکہ کا رویہ غیر مستقل رہا ہے۔ کبھی وہ شام کے تنازعے سے خود کو دور رکھنا چاہتا ہے اور کبھی شام کو مکمل طور پر ایران اور روس کے اثر و رسوخ میں جانے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اوباما، ٹرمپ اور بائیڈن کی حکومتوں</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1589</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Wed, 22 Jan 2025 15:36:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ کا دوسرا دور کیسا ہوگا؟ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/1468</guid>
      <description>ترکیہ میں ایک طبقہ ایسا ہے جو چاہتا تھا کہ ٹرمپ امریکی انتخابات جیتیں  اور جب ایسا ہوا تو اس طبقے کے لوگوں کو بے حد خوشی بھی ہوئی۔ بظاہر ان کی وجوہات جائز لگتی ہیں۔ ڈیموکریٹس طویل عرصے سے ترکیہ کے ساتھ سرد مہری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، بائیڈن دور میں ان کا رویہ دشمنی کی حد تک سخت ہوگیا تھا۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ یہاں تک کہ انتخابی مہم کے دوران بھی بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ ترکیہ کی حکومت کی حمایت نہیں کریں گے اوراس کے خاتمے کےلیے اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اگرچہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب</description>
      <category>columns</category>
      <category>سلیمان سیفی اوئن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/1468</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Tue, 21 Jan 2025 09:07:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ہر لمحے بدلتی مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست: ترکیہ، اسرائیل اور اثر و رسوخ کی جنگ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/1577</guid>
      <description>جس وقت دنیا کی توجہ روس یوکرین جنگ پر مرکوز تھی، 7 اکتوبر کے واقعات اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت نے ہر ایک کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ واقعہ سب محض اتفاق نہیں تھا۔ اسرائیل کی فاشسٹ، انتہا پسند حکومت نے موقعے کا فائدہ اٹھایا اور غزہ میں حقیقی نسل کشی شروع کردی۔ وہ وہیں صرف یہی پر نہیں رکے، بلکہ انہوں نے لبنان اور شام تک اپنا آپریشن پھیلا دیا۔ اس وسعت کا بنیادی مقصد ایران کے ساتھ ایک محاز آرائی میں الجھنا تھا۔  لیکن اس کی دو بڑی عالمی وجوہات بھی تھیں۔ ایران کے علاوہ اس</description>
      <category>columns</category>
      <category>سلیمان سیفی اوئن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/1577</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 20 Jan 2025 12:51:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بشار الاسد کی حکومت کا زوال: کیا شام میں آمریت کا سورج غروب ہو چکا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1576</guid>
      <description>اس بات پر تو تقریباً سب ہی متفق ہیں کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کا زوال دراصل سرد جنگ کے دوران قائم ہونے والے جغرافیائی سیاسی نظام کے خاتمے کے ایک نئے مرحلے کا ثبوت ہے۔ یہ نظام عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد سامراجی طاقتوں نے مصنوعی طور پر قائم کیا تھا۔ اسے سرد جنگ دور میں خطے پر قبضہ جمانے کے لیے نافذ کیا گیا۔ اسرائیل کا قیام بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی تھا۔ 1990 کی دہائی تک سرد جنگ ختم ہوچکی تھی۔ سوویت یونین ٹوٹ چکا تھا اور امریکہ واحد عالمی سپر پاور کے طورپر خود کومنوا چکا تھا۔ تاہم طاقت کے زور</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1576</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 20 Jan 2025 12:06:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/1575</guid>
      <description>ترکیہ کے نارتھ اور ایسٹ افریقا کے ملکوں (جیسے صومالیہ، ایتھوپیا، لیبیا اورسوڈان) سے تعلقات کو کچھ لوگ توسیع پسندانہ عزائم کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ درحقیقت کالونیل ازم یعنی نوآبادیات (نئی بستیاں بسا کر کسی علاقے پر قبضہ کرنا اور اس کے وسائل لُوٹنے) کا جو لیبل عثمانی دور میں لگایا گیا تھا، پڑوسی ملکوں سے تعلقات کی وجہ سے آج بھی ترکیہ پر لگایا جارہا ہے۔ ان مفروضوں کا حقیقت سے تعلق نہیں۔ تاہم جب خطہ مختلف طاقتوں کے لیے میدان جنگ بنا تو ترکیہ کو سب سے پہلے اپنے  بچاؤ کا مسئلہ درپیش تھا۔ شام کے معاملے</description>
      <category>columns</category>
      <category>سِلچک ترکیلماز</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/1575</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 20 Jan 2025 09:54:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>روس یوکرین جنگ: پوکر، رشین رولیٹ اور تاریخ کا نازک موڑ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/1473</guid>
      <description>یونیورسٹی کے دنوں میں کافی ہاؤسز میں میرا بہت زیادہ وقت گزرتا تھا، مجھے آج بھی حیرت ہوتی ہے کہ اتنے شور ہنگامے کے دوران بھی میں نے  بھرپور توجہ کے ساتھ مطالعہ کیا۔ مگر کبھی بھی کافی ہاؤسز کے کھیلوں جیسا کہ بیکگیمن یا تاش کبھی نہیں سیکھ سکا، اس کے بجائے میں کچھ دوستوں کے ساتھ شطرنج کھیلا کرتا تھا۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جو مجھے بہت پسند تھا، میں اسے انسانی ذہن کی عظیم ترین ایجاد سمجھتا تھا۔ آج بھی مجھے اس کھیل کا مزہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے تو میں ضائع نہیں کرتا۔ میرے کچھ دوست پوکر کھیلنا پسند کرتے</description>
      <category>columns</category>
      <category>سلیمان سیفی اوئن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/1473</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Fri, 13 Dec 2024 08:50:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>صیہونیت کا زوال: پروپیگنڈے کا خاتمہ اور عالمی ردعمل</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1458</guid>
      <description>سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں 15 سے 19 اگست 1899 کے دوران تیسری صیہونی کانگریس کا اجلاس ہوا تو ایجنڈے میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ دنیا کے سامنے صیہونیت کو کس طرح پیش کیا جائے۔ سیاسی صیہونیت کے رہنما اور صیہونی کانگریس کے بانی تھیوڈور ہرزل نے اس کے لیے ’پروپیگنڈا‘ کی اصطلاح متعارف کرائی۔ چونکہ اُس وقت اِس لفظ کا کوئی منفی مطلب نہیں نکلا تھا اس لیے ہرزل نے کانگریس کے شرکا پر زور دیا کہ ’عوام کے لیے پروپیگنڈا کرو، انہیں بتاؤ کہ تم کون ہو!‘ کچھ وقت کے بعد تھیوڈور ہرزل کے قریبی ساتھی ناہم سوکولو نے ’پروپیگنڈا‘</description>
      <category>columns</category>
      <category>طہٰ کلنچ</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1458</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 25 Nov 2024 08:07:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی سے پہلے یوکرین جنگ میں شدت</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1457</guid>
      <description>بائیڈن انتظامیہ نے حال ہی میں یوکرین کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ روس پر حملوں کے لیے لانگ رینج میزائل سسٹم (طویل فاصلے تک مار کرنے والے) استعمال کر سکتا ہے، امریکہ کے اس فیصلے کی وجہ سے جنگ میں شدت آگئی ہے۔ یوکرین کے رہنما ایک عرصے سے واشنگٹن کو اس معاملے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن رپورٹس کے مطابق روس کی جانب سے نارتھ کوریا کی فوجوں کو جنگ میں استعمال کرنے کے بعد بائیڈن نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ بائیڈن یوکرین کی مکمل فوجی حمایت کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے پر عزم ہے، وہ یقینی بنانا چاہتے ہیں</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1457</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 25 Nov 2024 07:45:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی اور  یورپ میں کیا فرق پڑے گا؟ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/ihsan-aktas/1453</guid>
      <description>امریکہ کے صدارتی الیکشن گزر چکے ہیں مگر دنیا لمبے عرصے تک ان کے سیاسی اثرات محسوس کرے گی۔ ایک ایسی عالمی سوچ، جس نے انسانیت کو انتشار کی طرف دھکیلا، انسانی جینیات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، جائز کو ناجائز قرار دیا اور اقدار کو نظر انداز کیا، اُسے الیکشن سے دھچکا پہنچا ہے۔ اقدار کو نظر انداز کیا ہے، سے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اب اسے اہم چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہودی بالادستی کے نظریے پر قائم یہ صہیونی عالمی ذہنیت بعض اوقات سازشی تھیوری کی طرح لگتی ہے، لیکن امریکی عوام نے ایک فیصلہ کیا جس میں اشرافیہ</description>
      <category>columns</category>
      <category>احسان اکتاش</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/ihsan-aktas/1453</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Thu, 21 Nov 2024 08:07:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا ڈیموکریٹک پارٹی اپنی شکست کا ’پوسٹ مارٹم‘ کرے گی یا اُن کا پہلے سے کمزور اتحاد ٹوٹ جائے گا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1452</guid>
      <description>جوبائیڈن نے 2020 میں 8 کروڑ 10 لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 5 نومبر کو کملا ہیرس کو تقریباً 7 کروڑ ووٹ ملے جبکہ ٹرمپ کو 2024 میں تقریباً اتنے ہی ووٹ ملے ہیں جتنے 2020 میں ملے تھے۔ ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی نے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے دونوں ایوان جیت لیے۔ انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹس کےلیے سب سے زیادہ پریشان کن سات اہم سوئنگ ریاستوں میں شکست تھی۔ انہیں پورا یقین تھا کہ وہ ’بلیو وال‘ (نیلی دیوار) سے جانی جانے والے اسٹیٹس پنسلوینیا، مشی گن، وسکونسن سے جیت جائیں گے اور کملا ہیرس</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1452</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Thu, 21 Nov 2024 07:46:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ترکیہ کے اندازے اور ٹرمپ کی جیت</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1450</guid>
      <description>اپریل میں انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات بہتر ہونے لگے تھے۔ مثال کے طور پر دونوں ممالک کے رہنماوٴں کے درمیان سویڈن کی نیٹو میں شمولیت اور ایف 16 لڑاکا طیاروں سے متعلق بات چیت ہوئی تھی۔ دونوں ممالک کے حکام شام میں دہشت گرد گروہوں کے مستقبل پر بھی بات چیت کر رہے تھے۔ یہ مثبت پیش رفت ترک صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان اہم ملاقات کی طرف بڑھ رہی تھی جو مئی میں وائٹ ہاؤس میں طے تھی۔ مگر انقرہ نے بائیڈن کی ٹیم کو اطلاع دی کہ شیڈول میں کچھ مسائل کی وجہ سے وہ امریکہ کا دورہ</description>
      <category>columns</category>
      <category>یحییٰ بوستان</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1450</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Wed, 20 Nov 2024 13:14:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بائیڈن کی غلطی، اشرافیہ اور امریکی سیاست کا مستقبل</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1419</guid>
      <description>الیکشن سے چند دن پہلے امریکی صدر بائیڈن کی غلطی نے ہیڈلائنز میں جگہ بنائی۔ ٹرمپ کے حامی ایک کامیڈین نے جب میڈیسن اسکوائر ریلی میں کیریبین ریاست پورٹو ریکو کو کچرے کا ڈھیر قرار دیا تو بائیڈن نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اصل کچرا تو وہ لوگ ہیں جو ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔ بائیڈن کی غلطی ایسے ماحول میں سامنے آئی جہاں پنسلوانیا میں تقریباً پانچ لاکھ  پورٹو ریکن ٹرمپ کو سپورٹ کرنے پر مجبور ہوئے۔ بائیڈن اپنے بیان کی صفائی دیتے رہے اور کملا ہیرس نے اُن کے اس بیان سے خود کو یہ کہہ کر الگ کردیا کہ ووٹنگ کے رجحان</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1419</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Tue, 12 Nov 2024 08:49:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>مشرقِ وسطیٰ کی سرحدیں اور برطانوی اثرو رسوخ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1420</guid>
      <description>’ابن سعود کے ساتھ ہمارا دن بہت اچھا گزرا۔ میں جتنے لوگوں سے ملا ہوں وہ سب سے زیادہ متاثر کن لوگوں میں شامل ہیں۔ دومیٹر سے اونچا قد اور پروقار شخصیت، وہ خو کو پرسکون ظاہر کرتے ہیں اور انہوں نے عسکری رہنما کے طور پر اپنی بہادری کو ثابت کیا ہے۔ ان میں فوجی اور سیاسی قیادت کی بھرپور صلاحیت ہے۔‘ یہ الفاظ تھے مشہور برطانوی ایجنٹ اور سیاح گرٹروڈ بیل کے، جنہیں 27 نومبر 1916 کو عراق کے شہر بصرہ میں سعودی عرب کے مستقبل کے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود سے ملاقات  کا موقع ملا۔ صحرا میں ان کی ملاقات مشرق وسطیٰ کی</description>
      <category>columns</category>
      <category>طہٰ کلنچ</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1420</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Tue, 12 Nov 2024 08:26:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>صدارتی انتخابات 2024: کون سا امریکا الیکشن جیتے گا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1406</guid>
      <description>5 جنوری کو امریکی عوام صرف اپنا صدر ہی نہیں چنیں گے بلکہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے ایک تہائی ارکان بھی منتخب کریں گے۔ موجودہ صورت حال میں دیکھا جائے تو ایوان میں ری پبلکنز کو معمولی برتری حاصل ہے جبکہ سینیٹ پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہے۔توقعات تو یہی ہیں کہ ری پبلکنز ہاؤس پر اپنی معمولی اکثریت کو برقرار رکھ سکیں گے اور شاید سینیٹ کی دوڑ میں بھی اُن کی پوزیشن تھوڑی بہتر ہوسکتی ہے۔ ڈیموکریٹس کے لیے سیٹیں بچانے کا چیلنج ری پبلکنز کے مقابلے میں زیادہ بڑا ہے خصوصاً سینیٹ کی آٹھ سیِٹوں پر سخت مقابلہ متوقع</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1406</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Tue, 05 Nov 2024 07:45:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> فلسطینیوں کی بہادری اور مزاحمت  کی عظیم داستان </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/ihsan-aktas/1394</guid>
      <description>جب تمام معاشرے خدا کی راہ میں شہید ہونے کا مطلب بھول چکے تھے، ایسے میں آزادی کی جنگیں بہت سے گمنام ہیروز کو منظر عام پر لے آئیں۔ پہلی جنگ عظیم اور ترکیہ کی جنگ آزادی کی تاریخ سیکڑوں بے نام ہیروز اور بہادری کی بے شمار کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ حال ہی میں پروفیسر مظہرباگلی (ترک ماہر سماجی علوم) نے فرانسیسی قبضے سے عرفہ کی آزادی میں میئر اور قبائل کے منظم کردار کے بارے میں بات کی۔ ہم ان تاریخی حقائق کو اپنے ملک کے چپے چپے پر اور سلطنت عثمانیہ کی چھن جانے والی زمینوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ فلسطین کے محاذ</description>
      <category>columns</category>
      <category>احسان اکتاش</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/ihsan-aktas/1394</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Thu, 31 Oct 2024 11:06:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ میں انسانی بحران  یا امریکا کے صدارتی الیکشن، اصل مسئلہ کیا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1388</guid>
      <description>یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو بھییجا گیا خط، جس میں کہا گیا کہ غزہ میں امداد کی فراہمی روکنے کی صورت میں ہتھیاروں کی سپلائی روکی جاسکتی ہے، امریکی صدارتی الیکشن سے منسلک نہیں ہے۔ غزہ میں ایک سال سے جاری نسل کُشی اورشہریوں کو غذائی قلت کا شکار کرنے والی پالیسیز پر آنکھیں بند رکھنے والی بائیڈن حکومت کو الیکشن سے صرف تین ہفتے پہلے غزہ کا بحران یاد آگیا۔ اس کی ٹائمنگ اور خط کے مندرجات لیک ہونا ممکنہ طورپر دوہفتوں سے اسرائیل کے ساتھ  جاری مذاکرات کا ایک حصہ ہوسکتا ہے۔</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1388</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Tue, 29 Oct 2024 11:03:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ میں بھوک، پیاس اور ادویات کی کمی، امریکا نے اسرائیل کو ’میڈیکل قتل عام‘ کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1385</guid>
      <description>امریکا اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی میں ’چیتے جیسی پھرتی‘ دکھا رہا ہے جبکہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ’کچھوے کی چال‘ سے ہورہی ہے۔ ’فلسطینیوں کی نسل کشی‘ پر بائیڈن انتظامیہ کا یہ رد عمل دنیا کے سامنے ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کو مارنے کے لیے نہ صرف آسمان سے امریکی بم برسا رہا ہے بلکہ بھوک، پیاس اور دواؤں کی قلت کے ذریعے انہیں موت کے منہ میں بھیج رہا ہے۔ 13 اکتوبر کو امریکی وزیرِ خارجہ انتونی بلنکن اور وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ اور اسٹرٹیجک افیئرز کے وزیر</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1385</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 28 Oct 2024 11:06:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> 7 اکتوبر کے بعد سے نہ ختم ہونے والی جنگ اور اسرائیل کی نئی حکمت عملی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1361</guid>
      <description>اب سے ایک برس پہلے اسی ہفتے میں ایک میٹنگ کے سلسلے میں انقرہ میں تھا۔ جب حماس نے 7 اکتوبرکوحملوں کا آغاز کیا تو فلسطین کا مسئلہ اجلاس کے ایجنڈے میں اہم حصہ بن گیا تھا۔ اسرائیل کی سیکیورٹی کی کمزوریوں پر بھی بحث ہوئی اور حماس کے حملے کی ٹائمنگ کے بارے میں بھی بہت بات ہوئی۔ اس بات پر سب متفق تھے کہ اسرائیل کا جواب اس حملے سے کئی گنا بڑا ہوگا۔ یہ بات بھی واضح تھی کہ اسرائیل اور حماس کی لڑائی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے والی ہے، اس بات پر بھی بحث ہورہی تھی کہ مسئلے کے سیاسی حل کے لیے کیا کرنا ہوگا۔</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1361</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 14 Oct 2024 13:17:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکا میں صدارتی الیکشن اور صدر بائیڈن کا کھیل: کیا وہ واقعی کملا ہیرس کی جیت چاہتے ہیں یا کچھ اور؟ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1356</guid>
      <description>پبلک سروے کے مطابق 61 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ کو اسلحہ اور گولہ بارود اسرائیل کو ایکسپورٹ نہیں کرنے چاہیے۔ ڈیموکریٹک ووٹرز کی 77 فیصد آبادی کا بھی یہی خیال ہے۔ اس ڈیٹا سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ امریکی سوسائٹی میں اسرائیل کی حمایت کم ہوتی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لبرل یہودیوں میں زائنزم (صیہونیت) اور اسرائیل سے جذباتی لگاؤ بھی کم ہورہا ہے۔ امریکی یہودیوں کی نوجوان نسل خود کو زائنزم سے دور کر رہی ہے۔ اسرائیل اور اسرائیلی لابی کا سب سے بڑا خوف ہی جذباتی اور نظریاتی طور پر مقبولیت</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1356</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 14 Oct 2024 07:44:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ میں جو امریکا کر رہا ہے کیا یہ اس کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے یا کچھ اور؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1353</guid>
      <description>29 مئی 2017 کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فرانسیسی اخبار ’لی فیگارو‘ کو خصوصی انٹرویو دیا جہاں ایک جگہ پوتن نے امریکی صدور کی جانب سے خارجہ پالیسیوں کو سنبھالنے سے متعلق دلچسپ ریمارکس دیے۔ انہوں نے کہا کہ: ’میں نے اب تک تین امریکی صدور سے مل چکا ہوں، وہ آئے اور چلے گئے مگر پالیسیاں جیسی تھیں ویسی ہی رہیں۔ جانتے ہیں کیوں؟ مضبوط بیوروکریسی کی وجہ سے۔ جب بھی کوئی نیا صدر منتخب ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی نیا صدر منتخب ہوتا ہے، ہوسکتا ہے اس کے خیالات مختلف ہوں مگر پھر سیاہ سوٹ میں ملبوس بریف کیس والے آدمی</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1353</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Thu, 10 Oct 2024 15:24:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حزب اللہ، لبنان کے مسائل کا حل ہے یا خود ایک مسئلہ؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1327</guid>
      <description>14 فروری 2005 کی صبح کو لبنانی دارالحکومت بیروت میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ تاریخ کے چند ہولناک ترین واقعات میں سے ایک پیش آیا تھا، سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو ان کے قافلے پر ایک دھماکے میں ہلاک کردیا گیا۔ رفیق حریری سعودی عرب سے قریبی تعلقات کی وجہ سے مشہور تھے اور لبنان میں 1975 سے جاری خانہ جنگی (سِول وار) کے خاتمے کیلئے 1989 میں طے پانے والے طائف معاہدے میں ان کا کرداراہم تھا۔ رفیق حریری نے دوبار لبنان کے وزیراعظم کے طورپر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ پہلی بار 1992 سے 1998 تک دوسری بار2000 سے2004</description>
      <category>columns</category>
      <category>طہٰ کلنچ</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1327</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Thu, 03 Oct 2024 09:04:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ہماری جیبوں میں بم ہیں: کیا ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں گے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/ersin-celik/1325</guid>
      <description>لبنان میں بیپر دھماکوں کو صرف ’سائبر حملے‘ کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل کے ہتھکنڈوں کے بارے میں بہت ساری پریشان کن تھیوریز بھی لکھی گئی ہیں۔ امریکی میڈیا کی حالیہ خبروں اور سوشل میڈیا پر ماہرین کی رائے  کے مطابق حزب اللہ کے ارکان کے پھٹنے والے بیپرز کے حیران کن اثرات پوری دنیا میں بالکل اُسی طرح پھیل رہے ہیں جیسا کہ اسرائیل چاہتا تھا۔ اسرائیل کا نشانہ صرف حزب اللہ نہیں ہے جیسا کہ پچھلے 12 مہینوں سے وہ غزہ کے لوگوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ اسرائیل ہر حملے کے ساتھ ایک نئی دہلیز عبور کر رہا ہے اور</description>
      <category>columns</category>
      <category>ارسِن چیلِک</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/ersin-celik/1325</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Thu, 03 Oct 2024 07:47:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکی صدارتی الیکشن: کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک ایک ووٹ فیصلہ کن</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1300</guid>
      <description>پچھلے کالم میں ہم نے بات کی تھی کہ امریکا میں ’نیوکانز‘ ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کو سپورٹ کرسکتے ہیں۔ اب ڈیموکریٹک پارٹی اپنی الیکشن مہم میں مسیحی برادری کے سفید فام ایونجیلیکلز، جو ریپبلکنز کے لیے اہم ووٹرز ہیں، کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔ (ایونجیلیکل مسیحی مرادری سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جو اکثر سیاسی طور پر سرگرم ہوتے ہیں اور قدامت پسند پالیسیوں کی حمایت کے لئے جانے جاتے ہیں جبکہ نیو کانز امریکا میں ایک سیاسی گروپ ہے جو دنیا بھر میں اور خاص طور پر مڈل ایسٹ میں مضبوط خارجہ پالیسی</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1300</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Thu, 26 Sep 2024 15:26:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>مڈل ایسٹ بحران: کیا ہم ریاستی دہشت گردی کے دور سے گزر رہے ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/1299</guid>
      <description>ریاستوں کی تاریخ میں بغاوتوں کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ سینٹر پیریفری تھیوری کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں تو ریاست کی اصل طاقت منظم طورپر قائم مرکزی حکومت یعنی پیریفری ہوتی ہے۔ اس مرکز سے جو بھی کچھ جتنا زیادہ دُور ہے اُس کی اہمیت اُتنی ہی کم ہے۔ مثال کے طور پر سلطنت عثمانیہ میں جو علاقے اور افراد مرکز سے دور تھے وہ سیاسی طور پر کم طاقتور تھے۔ مرکزی حکومت ان علاقوں سے وسائل جمع کرتی تھی جو زیادہ تر ٹیکس کی صورت میں ہوتے تھے۔ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھنے کی صورت میں بغاوت کا خطرہ پیدا ہوجاتا جس سے مرکزی حکومت</description>
      <category>columns</category>
      <category>سلیمان سیفی اوئن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/1299</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Wed, 25 Sep 2024 08:40:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>اسرائیل کے ہاتھوں امریکی شہریوں کی ہلاکتیں معاف، یہ دوہرا معیار کب تک؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1267</guid>
      <description>اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے ویسٹ بینک میں 26 سالہ ترک نژاد امریکی خاتون عائشہ ازگی ایگی کو گولی مار کر اُس وقت قتل کردیا گیا جب وہ اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کررہی تھیں۔ وہ فلسطین کی حمایت یافتہ تنظیم انٹرنیشنل سولیڈیریٹی موومنٹ (آئی ایس ایم) کی ممبر تھیں۔ یہ وہی تنظیم ہے جس میں ایک امریکی ایکٹوسٹ ریچل کوری بھی شامل تھیں جو 2003 میں غزہ میں ایک اسرائیلی بلڈوزر سے ہلاک ہو گئی تھیں۔ وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان شان سیویٹ نے عائشہ ازگی کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان نے</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1267</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Fri, 13 Sep 2024 11:09:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کملا ہیرس، ٹرمپ صدارتی مباحثہ: ’اصل امتحان تو غیرجانبدار ریاستوں میں ہوگا‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1275</guid>
      <description>امریکا کے صدارتی انتخابات میں صرف دو مہینے باقی رہ گئے ہیں، عوامی رائے کے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ ملک بھر میں کملا ہیرس اپنے مخالف ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلسل آگے ہیں۔ امریکی انتخابات کے نتائج کا تعین اکثر چند اہم ریاستوں پر ہوتا ہے، جنہیں سوئنگ اسٹیٹس یا غیر جانبدار ریاستیں کہا جاتا ہے۔ اس لیے ان ریاستوں کے پولز حتمی نتائج کی پیشن گوئی کے لیے زیادہ اہم ہیں۔ ملک بھر میں کملا ہیرس کو ستمبر کے آغاز میں ٹرمپ پر 3.2 فیصد کی برتری حاصل تھی، جبکہ جولائی میں دونوں کو برابر کی حمایت ملی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1275</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Fri, 13 Sep 2024 07:47:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’اگر روس جنگ جیت گیا تو یوکرین ایک اور افغانستان بن جائے گا‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/suleyman-seyfi-ogun/1240</guid>
      <description>روس یوکرین جنگ کو مستقبل میں ہائبرڈ کانفلکٹ یعنی مخلوط تنازع کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو ظاہر کرتا ہے کہ جنگ وقت کے ساتھ ساتھ کس طرح تبدیل ہوتی رہی۔ بعض ماہرین اسے فورتھ جنریشن وار کہتے ہیں۔ یہ روایتی جنگوں سے بہت مختلف ہے یعنی ایک ایسی جنگ جہاں کچھ عناصر کھل کر لڑرہے ہوں اور کچھ پس پردہ حصہ لے رہے ہوں۔ اس تنازع پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ روس اور یوکرین جنگ صرف دو ممالک کے درمیان ہی نہیں  بلکہ یہ معاملہ امریکہ اور چین کے ساتھ بھی جڑا ہے جہاں وہ دنیا بھر میں اپنا اثر و رسوخ اور طاقت</description>
      <category>columns</category>
      <category>سلیمان سیفی اوئن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/suleyman-seyfi-ogun/1240</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Thu, 12 Sep 2024 07:49:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے پر قتل کا خدشہ: کیا کوئی انہیں بلیک میل کر رہا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/bulent-orakoglu/1214</guid>
      <description>سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کے قتل کے خدشات کو سمجھنے کے لیے ہمیں 3 نومبر 2020 کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات اور 7 فروری 2020 کے آس پاس کے ہونے والے واقعات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جب ریاستی سطح پر انتخابی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس کی پریس کانفرنس میں ’ڈیل آف سنچری‘ نامی منصوبہ پیش کیا۔ جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کو حل کرنا تھا۔ یہ منصوبہ دو اہم وجوہات کی بنا پر حقیقی معاہدہ نہیں تھا، پہلی وجہ</description>
      <category>columns</category>
      <category>بیلانت اوراکوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/bulent-orakoglu/1214</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Wed, 21 Aug 2024 16:31:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا امریکا اسرائیل اور ایران کے جنگ پسند عناصر کو قائل کرسکتا ہے؟   </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1194</guid>
      <description>ان دنوں بائیڈن انتظامیہ ایران کو اسرائیل پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم نیتن یاہو کی حکومت کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی ضرورت سے زیادہ حمایت کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ پچھلے سال 7 اکتوبر کے حملے کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے نہ صرف مسلسل اسرائیل کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا بلکہ انسانی حقوق کے قوانین (جو امریکا دوسرے ممالک پر عائد کرتا آیا ہے) کو نظر انداز کیے بغیر اسرائیل کو ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کیے۔ جب امریکا نے رفح میں آپریشن کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا تو نیتن یاہو</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1194</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Thu, 15 Aug 2024 11:03:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا قاتلانہ حملہ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی کرسی تک لے جائے گا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1112</guid>
      <description>امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کے بعد ملک میں صدارتی دوڑ کے نتائج واضح طور پر تبدیل ہوگئے ہیں. ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ایسے وقت پیش آیا جب ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر جوبائیڈن پر استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔ قاتلانہ حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں تو عوام انہیں ایسے رہنما کے طور پر دیکھنے لگے جو خطرہ مول لے کر امریکی عوام کے لیے لڑتے ہیں۔ ریپبلکنز اس صورتحال کو سیاسی فتح کے طور پر دیکھ رہے ہیں، ٹرمپ کو اب اپنے حامیوں کو اکھٹا کرنا اور</description>
      <category>columns</category>
      <category>قدیر استن</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1112</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 05 Aug 2024 14:13:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’غزہ اور بیجنگ ڈیکلریشن‘، کیا فلسطین مسئلہ ایک دستاویز پر دستخط کرنے سے حل ہوجائے گا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1156</guid>
      <description>1987 میں پہلے انتفادہ نے ظاہر کیا کہ اسرائیلی قبضے کے حوالے سے فلسطینیوں کے حق میں فیصلہ کیے بغیر فلسطین میں مظاہروں اور بدامنی پر قابو پانا ناممکن ہے۔ فلسطینیوں پر کئی دہائیوں سے جاری ظلم و ستم اب ان کی برداشت سے باہر ہے۔ (یاد رہے کہ انتفادہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب کوئی تحریک شروع کرنا، عام طور پر یہ لفظ اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینیوں کی مزاحمت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے) اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینی شہری مزاحمت کررہے ہیں اور اسرائیل کی جوابی کارروائی کی وجہ سے ان میں صرف غصہ اور ناراضی</description>
      <category>columns</category>
      <category>طہٰ کلنچ</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1156</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Fri, 02 Aug 2024 14:02:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا ترکیہ اور شام کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے؟ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1137</guid>
      <description>میں ترکیہ اور شام کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہوں۔ خاص طور پر شام کے صدر بشارالاسد کے حالیہ بیان کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات بے نتیجہ نکلیں گے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بہت سی رکاوٹیں مذاکرات کو ناکام بنا سکتی ہیں۔ کیا انقرہ اور دمشق کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے؟ لیکن میں جو دیکھ رہا ہوں، ایسا نہیں ہوگا۔ آئیے اسے تھوڑا تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ انقرہ کا نقطہ نظر واضح ہے۔ صدر رجب طیب اردوان نے شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر زور</description>
      <category>columns</category>
      <category>یحییٰ بوستان</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1137</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 29 Jul 2024 11:46:00 +0300</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا امریکہ کا مسئلہ ٹرمپ ہے، یا کچھ اور؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1123</guid>
      <description>امریکہ میں بندوقوں کی تعداد وہاں کی آبادی سے بھی زیادہ ہے اور ہر سال تقریباً 40 ہزار سے زیادہ لوگ فائرنگ کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ کئی سالوں سے اسکولوں، گرجا گھروں، عبادت گاہوں، مالز اور تھیٹر جیسی جگہوں پر فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے اہل خانہ اسلحہ خریدنے سے متعلق سخت قانون کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ملک میں بندوقوں کی خریدو فروخت میں کمی نہ آسکی۔ اس کے برعکس کچھ سیاستدان اپنی انتخابی مہم کے دوران کھلے عام اسلحے کی نمائش کرتے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے اسلحہ ساز کمپنیاں</description>
      <category>columns</category>
      <category>عبداللہ مُراد اوغلو</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1123</link>
      <dc:creator><![CDATA[نیوز روم]]></dc:creator>
      <pubDate>Mon, 22 Jul 2024 11:41:00 +0300</pubDate>
    </item>
  </channel>
</rss>