<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:content="https://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom">
  <channel>
    <title>Yenisafak UR</title>
    <link>http://ur.yenisafak.com</link>
    <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/rss-feeds?contentType=column" rel="self" type="application/rss+xml" />
    <description>RSS Feed</description>
    <copyright>(c) 2026, Yenisafak UR</copyright>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 13:53:54 GMT+3</lastBuildDate>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:53:54 GMT+3</pubDate>
    <language>tr-TR</language>
    <image>
      <title>Yenisafak UR</title>
      <url>https://assets.yenisafak.com/yenisafak/wwwroot/images/site-icon/yenisafak-ur.png</url>
      <link>http://ur.yenisafak.com/</link>
    </image>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو یا نہ ہو، 'اسرائیلی چھاؤنی' کو ختم کر دیا جائے گا۔ جو لوگ 'نئے جغرافیے' کو نہیں سمجھتے، وہ خودکشی کر رہے ہیں۔ عثمانیوں نے بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر ایک دور بدل دیا تھا۔ اب ترکیہ 'دوسری بار' دور بدلے گا۔ کیسے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/2899</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/-/2899" rel="standout" />
      <description>اگر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور ایران کسی حقیقی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو خطے میں طاقت کا نقشہ کیسا ہوگا؟ کیا جنگ سے کمزور ہونے والا ایران، جس کی علاقائی طاقت بھی متاثر ہوئی ہے، دوبارہ مضبوط ہو کر ابھرے گا یا ایک کمزور ریاست کی صورت میں اپنی سرزمین تک محدود ہو جائے گا؟ یا پھر وہ خود کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کرے گا جس نے "امریکہ کے خلاف فتح حاصل کی؟" وہ خلیجی ریاستیں جو ایرانی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس سمت لے جائیں گی؟ کیا خلیجی عرب ممالک</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور ایران کسی حقیقی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو خطے میں طاقت کا نقشہ کیسا ہوگا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا جنگ سے کمزور ہونے والا ایران، جس کی علاقائی طاقت بھی متاثر ہوئی ہے، دوبارہ مضبوط ہو کر ابھرے گا یا ایک کمزور ریاست کی صورت میں اپنی سرزمین تک محدود ہو جائے گا؟ یا پھر وہ خود کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کرے گا جس نے "امریکہ کے خلاف فتح حاصل کی؟"</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ خلیجی ریاستیں جو ایرانی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس سمت لے جائیں گی؟ کیا خلیجی عرب ممالک کو یہ ادراک ہوگا کہ امریکہ نہ تو ان کی حفاظت کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنے فوجی اڈوں کی۔ اور یہ کہ اسرائیل کے ساتھ امن صرف اسرائیل کی طاقت بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے؟ کیا وہ ایک نئی طاقت ور شراکت داری کو مکمل طور پر قبول کر لیں گے جس کے آثار ہم پہلے ہی دیکھ رہے ہیں؟</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور یورپ کے لیے "اسرائیل کا بوجھ" اٹھانا "خودکشی" کے مترادف ہوگا۔</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا اسرائیل کے اثر و رسوخ کا دائرہ سکڑ جائے گا یا فلسطین، لبنان اور شام پر اس کے حملے مزید شدت اختیار کریں گے؟ اور کیا امریکہ اور یورپ یہ سمجھ پائیں گے کہ اسرائیل کی حمایت کر کے وہ اپنے ہی اثر و رسوخ اور علاقوں سے محروم ہو جائیں گے جو ان کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا ترکیہ اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے اسرائیل کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات امریکہ اور یورپ کو کوئی پیغام دینے کے لیے کافی ہوں گے؟ یا وہ اسی اندھے پن میں گرفتار رہیں گے جو انہیں دنیا سے محروم کر دے گا اور وہ "اسرائیل کا بوجھ" اٹھاتے رہ جائیں گے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا امریکہ یہ محسوس کرنے کے بعد کہ اسرائیل کے ذریعے خطے کو تشکیل دینا اب ممکن نہیں رہا، ترکیہ کی قیادت میں بننے والے جغرافیائی نقشے کو اپنے مفادات کے لیے زیادہ موزوں سمجھے گا؟ کیا وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک "محدود علاقے میں قید ملک" کی شبیہ سے نکل سکے گا؟ کیا وہ نظریاتی انتہا پسندی سے آزاد ہو سکے گا؟</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا نئی علاقائی شراکت داری امید کی کرن بن سکتی ہے؟</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا ترکیہ، شام، عراق، سعودی عرب، مصر اور پاکستان جیسے ممالک کے درمیان سیکیورٹی شراکت داری خطے اور بیرونی مداخلت کرنے والوں کو ایک نئی حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور کر دے گی؟ چاہے وہ دل سے ایسا نہ بھی چاہتے ہوں، کیا وہ اسے نئی عالمی حقیقت کے طور پر قبول کریں گے اور اس سمت میں اقدامات لینا شروع کریں گے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے خطے میں بالکل نئی حقیقتیں پیدا کر دی ہیں۔ تمام ممالک کے مؤقف ازسرِنو متعین ہو رہے ہیں۔ تمام ممالک کے امریکہ اور یورپ کے ساتھ تعلقات دوبارہ تشکیل پائیں گے۔ اسرائیل کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا تمام ممالک کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ اسٹیٹس کو ختم ہو چکا ہے۔ اسرائیل کے ترجیحی علاقائی نقشہ سازی کے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور یورپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا علاقائی اسٹیٹس کو ختم ہو چکا ہے۔ یورپ، امریکہ اور اسرائیل کی برتری پر مبنی جو طاقت کا نقشہ ترتیب دیا گیا تھا، وہ اب بکھر چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مغرب کے مقابلے میں احساسِ کمتری اور کمتر ہونے کا احساس ختم ہو چکا ہے۔ خطہ اپنی پرانی طاقت دوبارہ حاصل کر رہا ہے اور ایک ایسی سرزمین میں تبدیل ہو رہا ہے جو باہر سے مسلط کی جانے والی ہر قسم کی صف بندی کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور یورپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ اسرائیل کو استعمال کرکے حکومتوں اور ممالک کو ڈرانے اور تابع رکھنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں "امریکہ اور یورپ کیا کہیں گے؟" کا خوف ختم ہو چکا ہے۔ امریکی اور یورپی ہتھیاروں کے ذریعے ممالک پر حملہ کرنے، انہیں تقسیم کرنے اور دہشت گرد تنظیموں کو ان کی تادیب کے لیے استعمال کرنے کی تاریخ ختم ہو چکی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ دور بھی ختم ہو چکا ہے جس میں امریکہ اور یورپ، ترکہ اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات اسرائیل کے ذریعے قائم کرتے تھے اور اسرائیل کو ترجیح دینے والا علاقائی ڈیزائن تشکیل دیتے تھے۔ اب اس حوالے سے کوئی قوت باقی نہیں رہی۔ اب سے جب تک اسرائیل موجود رہے گا، امریکہ اور یورپ اس کی قیمت چکائیں گے اور وہ قیمت بہت بھاری ہوگی۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کو ترکیہ کے ساتھ میز پر بیٹھنا ہوگا! وہ تمام میزیں جہاں اسرائیل موجود تھا، اب منہدم ہو چکی ہیں۔</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر وہ اب بھی خطے میں اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ترکیہ، عرب ممالک اور ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ اگر وہ انہیں نظر انداز کرکے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری رکھتے ہیں تو وہ ہمیشہ کے لیے ہار جائیں گے۔ ایک ایسے دور میں جب صرف خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا "اسرائیلی اضافے" کا بوجھ اٹھا رہی ہے، اس "چھاؤنی" کو بند کرنا سب کا مشترکہ مفاد بن چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ جو بھی طریقہ اختیار کریں، جب تک اسرائیل کے ساتھ اسی راستے پر چلتے رہیں گے، وہ ہارتے رہیں گے۔ یہ ناگزیر ہے۔ جب ترکیہ کی بیداری اور اس جغرافیے کی بیداری زمین کے محور پر ایک عظیم طوفان میں تبدیل ہو رہی ہے جو بحرِ اوقیانوس کے ساحلوں سے لے کر بحرالکاہل کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی ہے، تو ان کا "پرانی کہانیوں" پر اصرار شاید مغربی عالمی غلبے کے لیے سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">زوال، سرپرستی اور تباہی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب وہ نقشے نہیں بنا سکیں گے…</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمارے خطے کے لیے تباہی، زوال اور سرپرستی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ممالک کو ان کے رہنماؤں اور حکومتوں کو خرید کر تابع بنانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ تشدد کی دھمکیوں اور اسرائیل کے خوف کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کسی خطے کے وسائل، دولت، حکومتوں اور سرزمین کا استحصال کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ مغربی تہذیب کی دو سو سالہ بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ہم ایک ایسے تاریخی دور کے اختتام پر پہنچ چکے ہیں جس میں طاقت، دفاع، آزادی، خودمختاری اور قومی سرحدوں کا تعین مغرب کرتا تھا۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">"نئی چیزیں" ہمارے ملک میں پھل پھول رہی ہیں۔ وہ "پرانی دنیا" کے نمائندے ہیں۔</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم ایک نئی دنیا میں بیدار ہو چکے ہیں، لیکن وہ نہیں ہوئے۔ ہم نے خود کو ایک نئی طاقت کے لیے وقف کر دیا ہے جب کہ وہ اپنی طاقت کھونا شروع ہو چکے ہیں۔ ہم ایک وسیع تر جغرافیائی نقشے پر غور کر رہے ہیں جب کہ وہ اب بھی پرانے نقشوں کو روند رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پانچ سو سال بعد ہم دنیا کے نئے طاقت کے نقشے کے مرکز میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ وہ صرف اپنی موجودہ حیثیت بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں نئی چیزیں جنم لے رہی ہیں جب کہ وہ ایک فرسودہ دنیا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انسانیت نے بحرِ اوقیانوس کی صدیوں پر محیط بالادستی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا ہے جب کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے اندر مزید سمٹتے جا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر وہ صرف ترکیہ کو سمجھ سکتےتو یہ بھی کافی ہوتا۔ لیکن اس کے بجائے وہ اپنے غرور، ہتھیاروں، دولت اور ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتے ہوئے طاقت کے نشے میں مبتلا ہو گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے ترکیہ کو نظر انداز کیا۔ حالاں کہ ترکیہ ایک ایسی سیاسی جینیاتی ساخت رکھتا تھا جو جغرافیہ کو تشکیل دیتی ہے۔ ایک سو سال تک وہ ترکیہ کو اپنی گرفت میں رکھنے کے عادی رہے۔ حالانکہ ترکیہ ایک ایسے طاقتور نقشے کا وارث تھا جو دیوارِ چین سے لے کر ویانا تک پھیلا ہوا تھا۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ ترکیہ کو روک نہ سکے مگر اب جلد ہی اسے روکنے کی کوشش کریں گے</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اور اب ایک صدی بعد، ترکیہ اپنے نقشے، اپنی تاریخ اور اپنے سیاسی ڈی این اے کی طرف واپس آ چکا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری واپسی صدیوں کا رخ بدل دیتی ہے۔ جو لوگ اسے محض بیان بازی سمجھتے ہیں، وہ سلطنتوں کی تاریخ کو یاد نہیں رکھتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم اس وقت تاریخ کے اسی موڑ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ صرف ہم ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ بھی اسے دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ بیس سال ترکیہ کو "روکنے" کے لیے اندرونی اور بیرونی حملے ہوتے رہے لیکن وہ سب ناکام ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ ترکیہ کی رفتار بھی کم نہ کر سکے۔ اس لیے اب صرف ایک راستہ بچا ہے: ترکیہ کے قریب رہنا۔ میرا ماننا ہے کہ اب امریکہ اور یورپ اپنی کلیدی پالیسیوں میں ترکیہ کے قریب رہنے کو ترجیح دیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اور اس جغرافیے میں ترکیہ کی ترجیحات، جغرافیہ اور تاریخ کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر، اور شراکت داری کا وہ نقشہ جسے وہ قائم کرنا چاہتا ہے، سب سے اہم ہوں گے۔ کوئی بھی اسے روک نہیں سکے گا۔ جو اسے روکنے کی کوشش کریں گے وہ نقصان اٹھائیں گے اور جو ترکیہ کے ساتھ چلیں گے وہ طاقت حاصل کریں گے۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">"اسرائیلی چھاؤنی ختم کی جائے گی اور جنگوں کو جغرافیے سے باہر دھکیل دیا جائے گا"</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمارے نئے جغرافیائی خطے میں "اسرائیلی چھاؤنی" ایک خطرہ ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے۔ تمام دہشت گرد تنظیمیں اسرائیل اور مغرب سے جنم لیتی ہیں اور ان سب کو ختم کیا جانا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملکوں پر حملہ کرنے اور علاقوں پر قبضہ کرنے کا دور ختم کر دیا جائے گا۔ جنگوں اور تنازعات کو یقینی طور پر جغرافیائی حدود سے باہر دھکیل دیا جائے گا۔ فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات کو جنگوں میں تبدیل کرنے والے تمام راستے بند کر دیے جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمارے جغرافیائی ڈیزائن میں آبنائے ملاکا سے نہر سویز تک، خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک، آبنائے داردانیلز اور باسفورس سے مشرقی بحیرہ روم اور بحیرہ اسود تک، اور زمینی تجارتی راہداریوں سے سمندری گزرگاہوں تک، تمام علاقوں کو بیرونی مداخلت اور کنٹرول سے محفوظ رکھا جائے گا۔ یہ تمام خطے علاقائی ممالک کے مکمل کنٹرول اور خودمختاری کے تحت ہوں گے۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">"نئے جغرافیے" کو ایک سپر نسل درکار ہے</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئے جغرافیائی ڈیزائن میں وسطی ایشیا سے مشرقی افریقہ تک اور جنوبی ایشیا سے پورے مغربی ایشیا تک پھیلا ہوا ایک سپر بیلٹ اور مڈل بیلٹ معاشی خطہ قائم کیا جائے گا۔ اس خطے کو مغربی مداخلت اور قبضے کے نقشوں سے نکال دیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دانش مند شہروں کے تجربے اور تاریخ کو، جو بعض اوقات ریاستوں سے بھی بڑھ کر رہے ہیں، آج کے دور تک منتقل کیا جائے گا۔ اس وسیع علاقے میں مشترکہ دفاعی وسائل تشکیل دیے جائیں گے اور اس جغرافیے کی دولت خود اسی جغرافیے کے لوگوں کی ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ، پاکستان، مصر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا ایک نیا جال جو دیگر ممالک کی بھی گہری توجہ حاصل کر رہا ہے، اس نئے عالمی نظام کا بنیادی مرکز بن سکتا ہے۔ اگر سیاسی ارادہ اس ہدف کو حاصل نہ کر سکا تو خطرات اور دنیا کے نئے طاقت کے توازن اسے مجبور کر سکتے ہیں۔ خطے کے طاقتور ممالک کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ کو اسرائیل کی سرحدوں پر اپنی موجودگی قائم کرنی چاہیے</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اسرائیل جس کے پاس اپنی کوئی حقیقی طاقت نہیں، ترکیہ اور مصر دونوں کے لیے خطرہ ہے اور اسی طرح سعودی عرب کے لیے بھی خطرہ بنے گا۔ پورے اس وسیع خطے کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ اسرائیل کو نقشے سے ہٹا دیا جائے، کیونکہ مستقبل کا کوئی اور منظرنامہ ان ممالک کو سلامتی فراہم نہیں کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ، شام، عراق اور لبنان کے درمیان فوری طور پر ایک مشترکہ دفاعی ڈھال قائم کی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر شام اور لبنان کے درمیان قربت، بلکہ شراکت داری فوری طور پر قائم کی جانی چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ کو شام اور لبنان دونوں کے ذریعے اسرائیل کی سرحدوں پر اپنی موجودگی قائم کرنی چاہیے۔ اسرائیل کی بحیرہ روم کے علاوہ تمام زمینی سرحدوں کو محدود کرنے کے لیے ترکیہ کے پاس بڑے اقدامات اٹھانے کا وقت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">عثمانیوں نے بازنطینیوں کو شکست دے کر ایک دور بدل دیا۔ ترکیہ دوسری بار دور بدلتے ہوئے اسرائیل کو ختم کرے گا</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چاہے امریکہ اور ایران سوئس مذاکرات میں کسی معاہدے تک پہنچیں یا نہ پہنچیں، خطے کے لیے تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہو چکا ہے۔ آگے کا راستہ تبدیل نہیں ہوگا۔ خطے اور اس کی اقوام کی تقدیر متعین ہو چکی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اس راستے پر چلیں جو ہمارے سامنے کھل چکا ہے، غیر یقینی صورت حال کے سامنے سرنگوں ہوئے بغیر۔ یہ تاریخ کا ایک نیا موڑ ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سلطنتِ عثمانیہ نے بازنطین کو شکست دے کر ایک دور کو بدل دیا تھا۔ اس نے کرسچین دنیا کی عظیم سلطنت کو تباہ کر دیا تھا جس سے یورپ اور عالمی تاریخ دونوں تبدیل ہو گئیں۔ ترکیہ بھی جغرافیہ کے نقشے سے اسرائیل کو ہٹا کر دوسری بار تاریخ اور دور کو بدل دے گا۔ اس بار یہودی نسل سے تعلق رکھنے والی وہ "چوکی" جو ہماری جغرافیائی سرزمین کے دل میں بنائی گئی اور جس نے خوفناک تباہیوں کو جنم دیا، ختم کر دی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاریخ کو کبھی کم مت سمجھو۔ اقوام کی سیاسی جینیات کو کبھی کم مت سمجھو۔ جغرافیے کی طاقت کو کبھی کم مت سمجھو۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ جغرافیے کے اندرونی تنازعات کو جغرافیے سے باہر لے جائیں۔ باقی سب خود بخود ہو جائے گا۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہر کسی کے لیے اب "درست اندازے" لگانے کا وقت آ گیا ہے!</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوئٹزرلینڈ میں کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ واضح نہیں ہے۔ ایک معاہدہ ہو سکتا ہے، یا اسرائیل اسے سبوتاژ کر سکتا ہے۔ جو بھی ہو، امریکہ اور یورپ اب اسرائیل کی حمایت کا بوجھ برداشت نہیں کر سکیں گے، اور نہ ہی اس کے لیے خطے کے تمام ممالک کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئے علاقائی طاقت کے نقشے کی شکل واضح ہو چکی ہے۔ یہ طوفان سینکڑوں سال تک جاری رہے گا۔ ہم یقیناً اپنے حساب کتاب کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے لیے بھی اب اپنے حساب کتاب کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو وہ اس دنیا کو مزید تیزی سے کھو دیں گے جو وہ پہلے ہی کھو رہے ہیں، اور اس خطے میں ان کی طاقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/2899</link>
      <subcategory>ابراہیم کاراگُل</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/4b4a3bee-4opzh84jl3vhsea8okck3v.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:53:54 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا ٹرمپ اسرائیل کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا اسرائیل سے ہٹ کر بھی کوئی امریکی انٹیلی جنس موجود ہے؟ کیا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں دوری آ سکتی ہے؟ خطے کے اصل طاقت ور عناصر متحرک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل ایک ایسی تفصیل بن گیا ہے جسے "کچل کر آگے بڑھ جانا" ہے۔ ہمارے منصوبے اس سے کہیں بڑے ہیں! کمزور ممالک کا اتحاد بھی محض ایک تفصیل ہے!</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/2886</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/-/2886" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ بظاہر اسرائیل کو شدید پریشانی میں مبتلا کر چکا ہے۔ اگر کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسرائیل کی بے چینی مزید بڑھ جائے گی اور ممکن ہے کہ یہ خوف میں تبدیل ہو جائے۔ اگر یہ سب کوئی ڈرامہ نہیں ہے، اگر اسرائیلی حلقوں کا ردِعمل مصنوعی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے یہ معاہدہ اسرائیل کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ شاید امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کسی قسم کی تبدیلی یا سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہم</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ بظاہر اسرائیل کو شدید پریشانی میں مبتلا کر چکا ہے۔ اگر کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسرائیل کی بے چینی مزید بڑھ جائے گی اور ممکن ہے کہ یہ خوف میں تبدیل ہو جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر یہ سب کوئی ڈرامہ نہیں ہے، اگر اسرائیلی حلقوں کا ردِعمل مصنوعی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے یہ معاہدہ اسرائیل کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ شاید امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کسی قسم کی تبدیلی یا سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم یہ باتیں ایک ہزار سال تک نہیں بھولیں گے!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ اسرائیل کی اپنی کوئی حقیقی طاقت نہیں۔ اسرائیل کو طاقت امریکہ سے ملتی ہے۔ عراق پر حملے سے شروع ہونے والی اور گزشتہ تیس برسوں میں لڑی گئی تمام جنگیں امریکی طاقت کے ذریعے لڑی گئیں لیکن فائدہ اسرائیل کو پہنچانے کے لیے۔ چند گروہوں کے تحفظ کے نام پر وسیع خطے تباہ کیے گئے، ممالک ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے، شہر کھنڈرات میں بدل گئے اور لاکھوں لوگ مارے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کی خاطر امریکہ اور یورپ نے اس خطے سے جو قیمت وصول کی ہے، وہ ایک ہزار سال تک فراموش نہیں کی جائے گی۔ کوئی ایک ریاست ایسی نہیں جسے نقصان نہ پہنچایا گیا ہو، کوئی ایک قوم ایسی نہیں جسے دکھ نہ دیا گیا ہو۔ گزشتہ دو سو برسوں میں ہمارے خطے نے دو بڑی تباہیاں دیکھی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پہلی تباہی جنگ عظم اول اس کے بعد کے نتائج کی صورت میں۔ اور دوسری 1950 کی دہائی کے بعد اسرائیل کے لیے دوبارہ شروع ہونے والی تباہی کی لہر کی شکل میں۔ ہمارے لیے "اسرائیل کی قیمت" تقریباً اتنی ہی بھاری رہی ہے جتنی خود عالمی جنگ کی تباہی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمارا غصہ شدید اور ہماری یادداشت زندہ ہے، ہر قتل کا حساب لیا جائے گا</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی اثر و رسوخ کے باعث ایک ایسی تباہی رونما ہوئی جس نے پورے مشرقِ وسطیٰ (مغربی ایشیا)، مشرقی اور شمالی افریقہ، جنوبی ایشیا کے بڑے حصے، بحیرہ احمر، خلیج فارس، مشرقی بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان خطوں کی اقوام اور ریاستیں اب مزید ایسی قیمت ادا نہیں کریں گی۔ تاہم وہ ماضی میں ادا کی گئی قیمت کا حساب ضرور لیں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہماری سرزمین انسانی تہذیب کا مرکز ہے۔ اس کی برداشت جتنی وسیع ہے، اس کا غصہ بھی اتنا ہی شدید ہے، اور اس کی یادداشت نہایت گہری ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر تباہی کی ایک قیمت ہوتی ہے اور ہر شہر کی ایک یادداشت ہوتی ہے۔ اسرائیل کے نام پر امریکہ اور یورپ نے جو جرائم، قتلِ عام اور مصائب اس خطے کی اقوام پر مسلط کیے ہیں، ان کا حساب ایک دن ضرور لیا جائے گا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑنے والی ہے؟ فوری جواب کی ضرورت نہیں!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر یہ اطلاعات درست ہیں — اور اس معاملے میں ہر خبر کو احتیاط کی نظر سے دیکھنا چاہیے — تو ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر ایران کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ ردعمل کہ "یہ آپ کا معاہدہ ہے"، اسرائیلی انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماؤں کے بیانات کہ "اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے، ہم اس معاہدے کے پابند نہیں"، امریکہ میں اسرائیل نواز سخت گیر حلقوں کا غصہ، اور یہ عمومی توقع کہ اسرائیل اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا، سب اس بات کی علامت ہو سکتے ہیں کہ ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات پیدا ہو رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ رپورٹس کے مطابق اسرائیل باضابطہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ سے معاہدے کی تفصیلات مانگ رہا ہے، لیکن امریکی انتظامیہ انہیں دینے سے انکار کر رہی ہے۔ اس دوران امریکہ کے اندر یہ بحث بھی شروع ہو چکی ہے کہ کیا "امریکی مفادات کو اسرائیلی مفادات پر ترجیح دی جانی چاہیے۔"</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو کیا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں واقعی دراڑ پڑنے والی ہے؟ کیا ٹرمپ اسرائیل کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ کیا اسرائیل کی وہ طاقت، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے امریکہ کو یرغمال بنا رکھا ہے، کمزور کی جا سکتی ہے؟ امریکہ کب تک اسرائیل کو اپنے مفادات کو نقصان پہنچانے کی اجازت دے گا؟ کیا وہ اسرائیل کو امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور اس کے عالمی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے سے روک سکے گا؟</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل دنیا کا سب سے ناپسندیدہ ملک بن چکا ہے، اس نفرت کے نتائج ضرور نکلیں گے!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان سوالات کے بارے میں یقینی طور پر کوئی بات کرنا بہت مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن اگر امریکہ میں اسرائیل سے ہٹ کر بھی کوئی آزاد سوچ موجود ہے، اگر وہ عالمی طاقت کے نقشے میں آنے والی گہری تبدیلیوں کو دیکھ سکتا ہے، تو اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل کو امریکہ کو مسلسل کمزور کرنے سے کیسے روکا جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کی ساکھ کس حد تک کم ہو چکی ہے، حتیٰ کہ یورپ میں بھی۔ اس وقت اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ ناپسندیدہ ملک بن چکا ہے اور ناپسندیدگی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اگر امریکہ اس نفرت کو اپنے ساتھ جوڑ لیتا ہے تو امریکہ کے خلاف نفرت بھی مزید بڑھے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ کے خلاف بھی منفی جذبات پہلے ہی کافی حد تک بڑھ چکے ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">معاہدہ ایران کے حق میں دکھائی دیتا ہے۔ آخر اسرائیل کو اتنی پریشانی کیوں ہے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم نہیں جانتے کہ ٹرمپ کی یہ خواہش کتنی حقیقت پسندانہ ہے کہ "اسرائیل کو لبنان سے نکل جانا چاہیے"، اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ اسرائیل اس بات پر کتنا عمل کرے گا۔ تاہم اسرائیلی انتہا پسند دائیں بازو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اکثر نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ "سخت رویہ" اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا امریکہ اسرائیل سے الگ ہو کر اس خطے میں اپنا کوئی الگ ایجنڈا آگے بڑھانا چاہتا ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی سامنے آنے والی شقیں درست ہیں تو وہ زیادہ تر ایران کے حق میں نظر آتی ہیں۔ ان شقوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی خاطر جنگ میں جانے سے ناخوش ہے۔ گویا اس نے تقریباً ہر اہم معاملے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، ایران کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے، اور ان دلائل کو بھی تقریباً کمزور کر دیا ہے جن کی بنیاد پر اسرائیل نے حملوں کا جواز پیش کیا تھا۔ یہ واضح ہے کہ یہی چیز اسرائیل کو سب سے زیادہ ناراض کر رہی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمزور ممالک کا اتحاد: اس سے کوئی نیا جغرافیائی نقشہ وجود میں نہیں آئے گا</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم اپنے سامنے ایک علاقائی طاقت کی کشمکش دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل بحیرہ احمر میں صومالی لینڈ، خلیج فارس میں متحدہ عرب امارات، مشرقی بحیرہ روم میں یونانی قبرصی انتظامیہ اور بحیرہ ایجیئن میں یونان کے ساتھ مل کر ایک نیا جغرافیائی اور سیاسی ڈھانچہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ ان نسبتاً کمزور ممالک کے ساتھ مل کر طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اپنے ہتھیاروں کے ذریعے پورے خطے پر حملے کر رہا ہے، خوف کی فضا پیدا کر رہا ہے اور تقریباً تمام ممالک کی نظر میں ایک خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن اس سے نہ کوئی نیا جغرافیائی نقشہ تشکیل پائے گا اور نہ ہی کوئی مستقل علاقائی طاقت کا نظام وجود میں آئے گا۔ جس لمحے امریکی ہتھیاروں کی طاقت ختم ہوگی، اسرائیل اور اس کے ساتھ کھڑے یہ تمام ممالک بھی تباہ ہوں گے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">"جغرافیہ کے اصل مالکان" نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ "زمین کے محور" کو بدل دے گا۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پھر ایک بہت بڑا بیداری کا عمل ہے جس کی قیادت ترکیہ کر رہا ہے۔ اس میں بڑی طاقتیں اور خطے کے ممالک شامل ہیں جو مشرقی افریقہ سے لے کر انڈیا کی سرحد تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ طاقت کا ایک ابھار ہے جو عظیم سلطنتوں اور ریاستوں کی وراثت سے چل رہا ہے اور جو 21ویں صدی کی طاقت کے توازن کو بدل رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">"جغرافیہ کے مالک" پہلی جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار دوبارہ اٹھ رہے ہیں اور زمین کے مرکز کو بدل رہے ہیں۔ اور جب یورپ زوال کے دور میں داخل ہو رہا ہے، وہ تاریخ کے بہاؤ کو اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں اور ایک بڑا جغرافیائی نقشہ احتیاط سے بنا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ یورپی ممالک نے یہ دیکھا ہے۔ اگرچہ انہوں نے غزہ میں نسل کشی میں حصہ لیا اور امریکا کے دباؤ میں اسرائیل کی حمایت کی، لیکن انہیں احساس ہوا کہ تاریخ اب اس طرح نہیں چلے گی۔ تو سوال یہ ہے کہ امریکا کی سیاسی سوچ یہ کب سمجھے گی؟ کیا وہ اسرائیل کی خاطر دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو کمزور کرتے رہیں گے؟</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل امریکہ کی طاقت کی عمر کم کر رہا ہے۔ وہ اسے زہر دے رہا ہے، اسے تیزی سے کھا رہا ہے۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا وہ یہ جوا کھیلیں گے؟ اسرائیل کی حفاظت کی خاطر امریکی طاقت کو کمزور اور دنیا سے الگ کرنے کا خطرہ مول لیں گے؟ کیا وہ سمجھیں گے کہ یہودیوں نے خود کو پوری دنیا کا دشمن بنا لیا ہے اور ایک دن لوگ ان کے خلاف بھی کھڑے ہو جائیں گے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک ایسی خطرناک طاقت کے سامنے جھکنا جو انسانیت کے خلاف جنگ کرتی ہے، تمام ریاستوں اور قوموں کو تباہ کر دے گا۔ انسانی دنیا آخرکار اس زہر کو اگل دے گی اور ایسی سلطنتوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو لوگ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ اسرائیل امریکہ کی عمر کم کر رہا ہے، وہ دنیا کے مستقبل کے بارے میں اپنی پیشگوئیوں میں ناکام ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ان کی اپنی دنیا سے باہر کی دنیا کیسے بدل رہی ہے، کیسے طاقت کی لڑائی ہو رہی ہے اور یہ کس طرح پرانے عالمی نظام کو بدل دے گی۔ کیونکہ وہ ایک موقع کھونے والے ہیں کہ وہ دنیا کو درست نظر سے دیکھ سکیں، ایک ایسی سوچ کے ساتھ جو اسرائیل اور طاقت سے متاثر ہو چکی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">جغرافیہ کے نئے معمار بڑی پیش رفت کر رہے ہیں۔ </h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ اور اس کے نئے جغرافیائی منصوبے کے معمار دنیا کے مستقبل کی طرف بڑے قدم بڑھا رہے ہیں۔ ہر وہ ملک جو عالمی اور علاقائی طاقت چاہتا ہے، اس ابھار سے فائدہ اٹھانا چاہے گا اور اس کے ساتھ نظر آنا چاہے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرد جنگ اور اس سے پہلے کے دور کا تباہ شدہ جغرافیہ اب نہیں رہے گا۔ اب کوئی "قابلِ کنٹرول" جغرافیہ نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں جو لوگ اس طاقت کے نقشے کے خلاف ہوں گے جو دنیا کا محور بن رہا ہے، وہ بھی مرکزی طاقت کے نظام میں اپنی طاقت کھو دیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پھر ہم دیکھیں گے کہ جنہوں نے اسرائیل کی "دہشت گرد سوچ" کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، انہوں نے کیا کھویا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے تاریخ اور طاقت کو کیسے کھو دیا۔ ہم دیکھیں گے کہ اسرائیل ایسے جغرافیے میں جگہ نہیں بنا سکے گا۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ اس نے کس طرح کچھ ریاستوں کو انسانی نظام میں قابو کیا ہے، اور کچھ کو تاریخ سے باہر کر دیا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مغرب کو اب "اسرائیلی چوکی" کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو کیا امریکا یہ دیکھ سکے گا؟ یا وہ اسرائیل کے زیرِ اثر اپنی سوچ کے ساتھ دنیا کھو دے گا؟ یاد رکھیں، ان ممالک اور باقی دنیا کے درمیان فرق اب سرمایہ، ٹیکنالوجی، دفاع اور انسانی وسائل کے لحاظ سے کم ہو رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">زمین کے وسائل کی بڑی اکثریت بھی ان "نئی طاقتوں" کے کنٹرول میں ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صرف ہتھیاروں کے زور پر دنیا پر قبضہ ممکن نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل یورپ کی اور بعد میں امریکا کی، "20ویں صدی کی چوکی" ہے۔ یہ مغربی محاذ ہے جو اس صدی کی حالات کے مطابق بنایا گیا تھا۔ لیکن 20ویں صدی کے حالات اب موجود نہیں۔ وہ نظام جس میں مغرب پوری دنیا پر حاوی تھا، ختم ہو چکا ہے۔ نہ اس کے پاس وہ طاقت ہے نہ ادارے۔ مغرب کو اب اسرائیل جیسی چوکی کی ضرورت نہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کا سب سے بڑا جھوٹ: "ہم مغرب کے لیے لڑ رہے ہیں..."</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ نسل کشی کرنے والے لوگ یہ کہہ کر اپنی نئی اسٹریٹجک حیثیت بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ "ہم مغرب کے لیے لڑ رہے ہیں" لیکن دنیا کی نئی سمت میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر وہ اس پر یقین کریں، اگر وہ پورے مغرب کو ایک "دہشت گرد تنظیم" کی سوچ کے حوالے کر دیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ لیکن جلد یا بدیر قومیں موجودہ قیادت کے خلاف آواز اٹھائیں گی جو اس نظام میں الجھی ہوئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا ایران کے ساتھ معاہدہ شاید امریکہ کو ایک موقع دے سکتا ہے۔ شاید امریکی سیاسی سوچ اسرائیل سے ہٹ کر دنیا کو دیکھنے کی کوشش کرے۔ شاید وہ اس جال کو سمجھ جائیں جو اسرائیل نے ان کے لیے بنایا ہے۔ یا شاید نہیں؛ یہ ان پر ہے۔ لیکن دنیا اپنی سمت پر چلتی رہے گی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل بار بار ترکیہ پر حملہ کیوں کر رہا ہے؟ اس خوف کی وجہ کیا ہے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آج کل اسرائیل براہ راست ترکیہ پر حملے کر رہا ہے۔ "ترکیہ عثمانی سلطنت دوبارہ بنا رہا ہے" کہہ کر وہ عرب ممالک کو ڈرانے اور امریکی فوجی طاقت کو ترکیہ کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ یونان اور قبرصی انتظامیہ جیسے ممالک کے ساتھ ترکیہ کے خلاف محاذ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کھلے عام "ترکیہ پر حملے" کی دھمکیاں دے رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن جو طوفان وہ دیکھیں گے وہ اتنا بڑا ہوگا کہ یہ باتیں، یہ تلاشیں بے معنی ہو جائیں گی۔ مزید یہ کہ نیا جغرافیائی منصوبہ انہیں دبا دے گا اور وہ سانس بھی نہیں لے سکیں گے۔ "جغرافیہ ایک ہتھیار ہے" کا مطلب آج پہلے سے زیادہ واضح ہے۔ اور وہ جانتے ہیں کہ یہ ہتھیار اب ان کی طرف ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا۔ لیکن کیا امریکہ خود کو ترکیہ کے خلاف بھی استعمال ہونے دے گا؟ کیا وہ اس کے نقصانات کا حساب لگائے گا؟ کیا وہ سمجھے گا کہ یہ مغربی ایشیا میں امریکا کی موجودگی کو ختم کر دے گا؟ میرا خیال ہے وہ سمجھے گا۔ میرا خیال ہے وہ اس جال میں نہیں پھنسے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل خود کو اس پورے خطے میں "نہ ہونے کے برابر" ہونے نہیں دے گا۔ کوئی بھی ریاست جو تھوڑی سی بھی عقل رکھتی ہو، ایسا نہیں کرے گی۔ ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آگے کیا ہو سکتا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل صرف ایک تفصیل ہے، ایک معمولی چیز جسے "کچلا اور آگے بڑھا جائے گا"!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا ٹرمپ اسرائیل کے اثر سے نکل سکتے ہیں؟ کیا وہ اسرائیل کو روک سکتے ہیں؟ کیا امریکا خود کو صرف اسرائیل کا ہتھیار سمجھتا رہے گا اور خطے میں اپنی طاقت کھو دے گا؟ یہ وہ سوال ہیں جو امریکی عوام پوچھیں گے۔ انہیں جلد یہ دیکھنا چاہیے، جیسے یورپ میں اشارے نظر آ رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم یہ بڑا تاریخی قدم، یہ طاقت کا ابھار، یہ جغرافیہ کی نئی تشکیل اسرائیل کے خلاف نہیں کر رہے۔ یہ دنیا کی سطح پر ایک عالمی کوشش ہے۔ اسرائیل اس بڑے مقصد میں صرف ایک چھوٹی سی تفصیل ہے۔ ایک تفصیل جسے اس عمل کے دوران روند کر آگے بڑھا جائے گا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/2886</link>
      <subcategory>ابراہیم کاراگُل</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/18/75b0d0be-a-trmp-syl-qbh-te-n-h-w-n-j-d-e-a-kht-s-h-ch-f-r-z-d-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 12:11:56 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’ہم سرپرائز وار کی تیاری کر رہے ہیں‘: اسرائیلی چیف آف اسٹاف کا یہ بیان کیا ترکیہ کی جانب اشارہ ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/2563</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/-/2563" rel="standout" />
      <description>اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر کہتے ہیں کہ ’ہم سرپرائز وار (جنگ) کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہمیں ہر محاذ پر چوکنا رہنا ہوگا۔‘ غزہ میں نسل کشی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اب کس قسم کی نئی جنونیت کی طرف جا سکتے ہیں۔ اگر اسرائیل کو ’ریاست‘ سمجھنے کے بجائے اسے ایک نسلی نظریاتی ’تنظیم‘ کے طور پر دیکھیں اور پھر اندازہ لگائیں کہ انسانیت دشمن، بگڑی ہوئی قیادت کے زیرِ انتظام ایسی حکومت کیا کرسکتی ہے اور یہ دنیا کو کس سمت دھکیل سکتی ہے۔  اچانک جنگ کس کے خلاف؟ تو پھر یہ ’اچانک جنگ‘ کس کے خلاف ہوگی؟ شام</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر کہتے ہیں کہ ’ہم سرپرائز وار (جنگ) کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہمیں ہر محاذ پر چوکنا رہنا ہوگا۔‘ غزہ میں نسل کشی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اب کس قسم کی نئی جنونیت کی طرف جا سکتے ہیں۔ اگر اسرائیل کو ’ریاست‘ سمجھنے کے بجائے اسے ایک نسلی نظریاتی ’تنظیم‘ کے طور پر دیکھیں اور پھر اندازہ لگائیں کہ انسانیت دشمن، بگڑی ہوئی قیادت کے زیرِ انتظام ایسی حکومت کیا کرسکتی ہے اور یہ دنیا کو کس سمت دھکیل سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اچانک جنگ کس کے خلاف؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو پھر یہ ’اچانک جنگ‘ کس کے خلاف ہوگی؟ شام کے خلاف؟ عراق یا ایران کے خلاف؟ مصر کے سینائی علاقے پر قبضہ؟ یا پھر ترکیہ کے اندر کچھ مخصوص مقامات پر حملے، تاکہ پورے خطے کو جنگ میں دھکیل دیا جائے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ سب ممکن ہے۔ اسرائیل بڑی جنگ کے لیے امریکا اور یورپ کو مجبور کرنے کی سازشیں تیار کر رہا ہے۔ وہ یہ پہلے بھی کر چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جیسے 11 ستمبر کو جب عراق پر حملہ ہوا، جیسے افغانستان پر حملہ ہوا، لیکن اس بار وہ شاید ایسا حملہ کرے جو شدید غصے کو جنم دے اور اچانک کئی ملکوں کو جنگ میں گھسیٹ لے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کی جانب سے شام کو تقسیم کرنے کا مطلب ہے کہ اسرائیل ترکیہ کی جنوبی سرحد پر موجود ہوگا</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شام میں (عرب سوشلسٹ جماعت) بعث حکومت کے خاتمے کی پہلی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ شامی عوام آج یہاں تک ایک بہت بھاری قیمت چکا کر پہنچے ہیں۔ لیکن اسرائیل ہر ممکن طریقے سے اسے ’تقسیم‘ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور وہ یہ سب کچھ چھپ کر نہیں بلکہ کھلے عام کررہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ دروز کمیونٹی کے ذریعے ملک کے کچھ حصے الگ کر رہا ہے۔ کچھ علاقوں پر براہِ راست قبضہ کرکے انہیں اپنے کنٹرول میں لے رہا ہے۔ پرانے بعث نظام کے باقی ماندہ عناصر کو استعمال کرکے اندرونی استحکام کو بھی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سب سے بڑھ کر، شامی کرد ملیشیا وائے پی جی (پیپلز پروٹیکشن یونٹس) کے ذریعے وہ ملک کے ایک تہائی حصے پر قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست ہم آہنگی میں چلنے والی وائے پی جی شام کی علاقائی سالمیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائے پی جی 2025 کے آخر تک دی گئی ڈیڈ لائن ماننے سے انکاری ہے، اسرائیلی اشاروں پر وقت ضائع کر رہی ہے اور حقیقت میں ایک نئی جنگ کی تیاری کر رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو پھر ترکیہ اسرائیل کی جانب سے شام کو تقسیم کرنے پر کیا کہے گا؟ کیا اسے وائے پی جی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا وہ اپنی سرحد کے بالکل ساتھ اسرائیل کو قبول کرے گا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ ترکیہ کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا! جبکہ اسرائیل کا سب سے بڑا خوف ترکیہ ہی ہے!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سب جانتے ہیں کہ یہ ترکیہ کے لیے یہ تباہ کن فیصلہ ہوگا اور ایسی کسی بات کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر اسرائیل وائے پی جے کے ذریعے شام میں نئی جنگ چھیڑتا ہے تو یہ صرف شام کو ہی غیر مستحکم نہیں کرے گی، بلکہ ترکیہ کے ساتھ ایک نئی محاذ آرائی کا آغاز بھی کرے گی۔ ’دہشت گردی سے پاک ترکیہ‘ کی کوششوں کو سبوتاژ کیا جائے گا اور ایک بڑا بحران پھوٹ پڑے گا جو ترکیہ اور شام، دونوں کو لپیٹ میں لے لے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اصل میں بات ترکیہ–اسرائیل جنگ کی ہے۔ اسرائیل کی پوری حکمتِ عملی شام اور خطے میں ترکیہ کا اثر کمزور کرنے پر مبنی ہے۔ کیونکہ اب ان کے نزدیک سب سے بڑا خطرہ ترکیہ ہے اور وہ خود بھی اس کا کھلے عام اعتراف کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اردوان اور مزدوم عبدي (وائے پی جے کے کمانڈر) کی ملاقات کی خبریں جھوٹ ہیں! ترکیہ اس کہانی کو ہضم نہیں کرے گا</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک ایسا بیانیہ گھڑا جا رہا ہے جس میں ترکیہ کے اندر وائے پی جے اور اسرائیل سے جڑے حلقے یہ جھوٹ پھیلا رہے ہیں کہ صدر اردوان مزدوم عبدي سے ملاقات کرنے والے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایسی ملاقات ہونے والی ہے اور احمد الشراع اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دعویٰ کرنے والے ایک ایسی بے بنیاد کہانی آگے بڑھا رہے ہیں کہ ترکیہ شام سے منہ موڑ کر وائے پی جے کے ساتھ شراکت داری کر لے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک ایسا منصوبہ بنایا جا رہا ہے جس کے ذریعے اچانک وائے پی جے کو ’ریاست‘ کا درجہ اور مزدوم عبدي کو ’صدر‘ کا مقام دے دیا جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یقیناً ترکیہ کے اندر ایک بہت فعال حلقہ ہے جو اس بیانیے کو بیچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن اس خطے کی ہزار سالہ تاریخی روایت کے لیے نہ تو یہ معاملہ ہضم کرنا ممکن ہے اور نہ ہی اس کھیل کو نہ سمجھنا مشکل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/2563</link>
      <subcategory>ابراہیم کاراگُل</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/9/2f2dc8cf-dyr6l3hz98zlwzm4ihfmi.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 15:23:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>جنگیں ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے ٹرمپ کیا وینزویلا پر حملہ کریں گے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2518</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2518" rel="standout" />
      <description>حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کے لیے فوجی مداخلت کا اشارہ دے رہی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع یہ دلیل دے رہا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ اور منشیات سے جڑی دہشت گردی امریکہ کے لیے فوری خطرہ ہیں اور وہ بین الاقوامی پانیوں میں ایسے جہازوں کے خلاف عدالتی کارروائی کے بغیر حملے کر رہا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ منشیات سمگل کر رہے ہیں۔ کیریبین میں بحری فوجی دستوں کی تعیناتی اور صدر ٹرمپ کا اعلان کہ انہوں نے سی آئی اے کو وینزویلا میں کارروائی کرنے کی اجازت دی ہے، ایسے اقدامات ہیں جو جنگ کے</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کے لیے فوجی مداخلت کا اشارہ دے رہی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع یہ دلیل دے رہا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ اور منشیات سے جڑی دہشت گردی امریکہ کے لیے فوری خطرہ ہیں اور وہ بین الاقوامی پانیوں میں ایسے جہازوں کے خلاف عدالتی کارروائی کے بغیر حملے کر رہا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ منشیات سمگل کر رہے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیریبین میں بحری فوجی دستوں کی تعیناتی اور صدر ٹرمپ کا اعلان کہ انہوں نے سی آئی اے کو وینزویلا میں کارروائی کرنے کی اجازت دی ہے، ایسے اقدامات ہیں جو جنگ کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔ اپنی پہلی مدت میں حکومت بدلنے کے لیے زیادہ دباؤ اور بین الاقوامی تنہائی کی پالیسی اپنانے کے بعد، ٹرمپ اپنی دوسری مدت میں زیادہ تر فوجی اور خفیہ کارروائیوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی، فوجی مداخلت یا وینزویلا پر قبضے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، جو امریکہ کو جنوبی امریکہ میں ایک طویل اور مشکل جنگ میں پھنس سکتا ہے، جسے ’نئی ویتنام‘ کہا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ٹرمپ کو قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم امریکی صدر کا وہ بیان کہ وینزویلا کے رہنما مادورو ’بات کرنا چاہتے ہیں‘ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ عارضی طور پر مکمل حملے کے بجائے طاقت کے مظاہرے پر اکتفا کررہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکمت عملی کا مقصد</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بات واضح ہے کہ واشنگٹن کی وینزویلا پر دباؤ کی حکمت عملی صرف منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ (جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وینزویلا ریاستی سطح پر ’منشیات سے جڑی دہشت گردی‘ پھیلا رہا ہے) کا مؤقف ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ امریکہ کے لیے براہ راست قومی سلامتی کا خطرہ ہے۔ اس طرح وہ کانگریس سے جنگ کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائیاں انجام دینے کا اختیار استعمال کر رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ صرف منشیات کے خلاف جنگ میں نئے دور کے اشارے دینے سے کہیں زیادہ ہیں۔ کیریبین میں فوجی تعیناتیاں، سی آئی اے کو دی گئی کارروائی کی اجازت اور تقریباً 20 بحری حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک وسیع مقصد ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا بیان (جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مادورو حکومت کو بدلنا چاہتے ہیں) اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ فوجی مداخلت کے ذریعے بھی یہ مقصد حاصل کر سکتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> لیکن میرے خیال میں اس بات میں زیادہ حقیقت ہے کہ امریکہ وینزویلا کی قیادت کو ہٹانے کے لیے براہِ راست حملہ یا فوجی مداخلت کرنے کے بجائے، دباؤ بڑھاتے ہوئے کچھ رعایتیں حاصل کرنے اور ملک کے اندرونی بحران کو آگے بڑھنے دینا چاہے گا۔ ایک ایسی لچکدار پالیسی، جس میں فوجی کارروائیوں کی دھمکی کے ذریعے مادورو پر مسلسل دباؤ ڈالا جائے بنسبت اس کے کہ امریکہ ایک ہی کارروائی میں اسے ہٹا دے۔ ایسا کرنے سے واشنگٹن یہ بھی اشارہ دے رہا ہے کہ وہ اس خطے پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے، خاص طور پر روس اور چائنہ کے حالیہ بڑھتے اثر و رسوخ کے جواب میں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مداخلت کے ممکنہ منظرنامے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ محدود اور مرحلہ وار فوجی کارروائیوں پر مبنی ہائبرڈ مداخلت کو ترجیح دے، بجائے اس کے کہ مکمل زمینی حملہ کیا جائے۔ وینزویلا کے ساحل کے قریب بحری فوج کی تعیناتی کی وجہ سے امریکہ سمندری ناکہ بندی کر سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ٹھیک نشانہ بازی بھی کر سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملک کے اندر سی آئی اے اور سپیشل فورسز کی بڑھتی ہوئی سرگرمی حکومت کو اندر سے کمزور کرسکتی ہیں۔ لیکن اگر جیسے ہی فوجی خطرے کی باتیں بڑھیں، مادورو کی حمایت میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ لوگ بیرونی دھمکیوں کے خلاف یکجا ہوجائیں گے۔ چونکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ اسے ایک اور ویتنام، عراق یا افغانستان جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے، اس لیے مداخلت کا منظرنامہ ایسے ماڈل میں بدل سکتا ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو حکومت بدلنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہ پہلے ہی واضح ہے کہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی پاناما میں 1990 کے امریکی حملے جتنی آسان نہیں ہوگی جس میں نوریگا کو ہٹا دیا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنے ہی ملک میں سیاسی رکاوٹیں، خطے میں ردعمل اور عالمی طاقت کے توازن کی صورتحال ٹرمپ انتظامیہ کے لیے وینزویلا پر ممکنہ حملے کے حوالے سے بڑے چیلنجز ہیں۔ امریکی عوام نئی بیرونی فوجی مداخلت کے سخت مخالف ہیں اور کانگریس سے جنگ کی منظوری حاصل کرنا ٹرمپ کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ منشیات سے جڑی دہشت گردی کے دلائل دے رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے علاوہ ٹرمپ مہنگائی کے مسائل پر قابو پانے میں ناکام، امریکہ میں ہسپانوی کمیونٹی کے ساتھ امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے کشیدگی اور ایپسٹین اسکینڈل کی وجہ سے اپنے حمایتی حلقوں میں پھوٹ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت بہت کم ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ حقیقت کہ برازیل، کولمبیا اور میکسیکو جیسے ممالک ممکنہ حملے کے خلاف پہلے ہی آواز بلند کر رہے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو خطے میں حمایت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ وینزویلا میں روس کی فوجی موجودگی کی وجہ سے بھی پوتن امریکی مداخلت کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔ ان سب عوامل کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ وینزویلا کے معاملے میں ایسا طریقہ اپنا رہے ہیں جس میں وہ بہت زیادہ دباؤ تو ڈالتے ہیں، لیکن مکمل جنگ کی طرف نہیں جاسکتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ واشنگٹن وینزویلا کی حکومت کو کمزور کرنے اور اس دباؤ کی حکمت عملی کے ذریعے خود کو لاطینی امریکہ کی اہم طاقت کے طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ براہِ راست حملہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے انتظامیہ کی فوجی تعیناتی اور پینٹاگون کی سمگلرز کے خلاف عدالتی کارروائی کے بغیر حملے اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ واشنگٹن منشیات کے خلاف کارروائی کے بہانے خطے میں اپنا کنٹرول ظاہر کر رہا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس تناظر میں وینزویلا امریکہ، روس اور چائنہ کے درمیان عالمی طاقت کے مقابلے کا ایک سب سے اہم محاذ بن کر سامنے آتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سب سے اچھا منظرنامہ یہ ہوگا کہ اس کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی مادورو کو ہٹائے اور ایسی حکومت لائے جو امریکہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ بدترین منظرنامہ یہ ہوگا کہ مکمل جنگ چھیڑی جائے اور سالوں تک جاری رہنے والی گوریلا جنگ میں پھنس جائیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ درمیانی راستہ اختیار کریں گے، فوجی کارروائیاں جاری رکھیں گے لیکن بڑے پیمانے پر جنگ سے بچیں گے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2518</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/11/20/975a7127-rqiipni51padf3xl9ihnm.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 13:28:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حکومت پر شاہی اثر و رسوخ اور عوام کا احتجاج: مراکش میں کیا ہورہا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/2385</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/2385" rel="standout" />
      <description>چند دن کے لیے سڑکوں پر احتجاج، کارکنان کے نعرے، صحت اور تعلیم میں اصلاحات کے مطالبات، کچھ شہروں میں سرکاری عمارتوں میں آگ اور گرفتاریاں۔۔۔۔ عالمی میڈیا جب مراکش پر رپورٹ کررہے تھے تو احتجاج پہلے ہی پولیس مداخلت کے ذریعے کم ہو چکا تھا۔ جو لوگ خطے پر گہری نظر رکھتے ہیں، انہوں نے پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ ایسے مظاہرے مراکش جیسے ملک میں زیادہ بڑھنے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے۔ اٹلانٹک اور بحیرہ روم کے درمیان واقع اور افریقہ کے اندرونی علاقوں اور یورپ کے ساتھ مضبوط رابطے رکھنے والا مراکش اسلامی دنیا</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چند دن کے لیے سڑکوں پر احتجاج، کارکنان کے نعرے، صحت اور تعلیم میں اصلاحات کے مطالبات، کچھ شہروں میں سرکاری عمارتوں میں آگ اور گرفتاریاں۔۔۔۔ عالمی میڈیا جب مراکش پر رپورٹ کررہے تھے تو احتجاج پہلے ہی پولیس مداخلت کے ذریعے کم ہو چکا تھا۔ جو لوگ خطے پر گہری نظر رکھتے ہیں، انہوں نے پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ ایسے مظاہرے مراکش جیسے ملک میں زیادہ بڑھنے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اٹلانٹک اور بحیرہ روم کے درمیان واقع اور افریقہ کے اندرونی علاقوں اور یورپ کے ساتھ مضبوط رابطے رکھنے والا مراکش اسلامی دنیا کے سب سے منفرد ممالک میں سے ایک ہے۔ سیاحتی طور پر دلکش اور مستند، سماجی طور پر متحرک اور رنگین اور سیاسی طور پر اپنی منفرد توازن کی بنیاد پر قائم۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مراکش کے بادشاہ کا ملک کے اندر کافی اثر و سوخ ہے۔ موجودہ خاندان، جو 1600 کی صدی کے پہلے نصف میں قائم ہوا، صدیوں کے تغیرات اور جدید خیالات کے اثرات کے باوجود عوام انہیں احترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> البتہ، اس تعظیم کے پیچھے ایک منظم ریاستی نظام ہے: مذہبی گروپوں اور ریاست کے درمیان مفاد پر مبنی تعلقات، مساجد پر سخت کنٹرول، پورے ملک میں خفیہ اطلاع دہندگان کا نیٹ ورک، اور پولیس پر اختیارات—یہ سب بادشاہت کے زیر انتظام بخوبی چلائے جاتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عوام کے قریب رہنے کے لیے شاہی انتظامیہ مذہبیت کے مظاہروں پر زور دیتی ہے۔ اس سلسلے میں، ملک بھر میں موجود خانقاہوں اور صوفی مراکز کی فراخ دلانہ حمایت، میلاد النبی ﷺ کی ولادت کے جشن کے موقع پر شاہی خاندان کے افراد کی مساجد میں موجودگی، تراویح اور عید کی نمازوں کی عوامی نمائش اور رمضان میں بادشاہ کی موجودگی میں دی جانے والی دینی درسیں (جنہیں ’دروس حسنیہ‘ کہا جاتا ہے) نیز بادشاہ کا خود عید الاضحیٰ کی قربانی دینا، یہ سب عوام پر نمایاں اثر ڈالنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چونکہ مراکش کے بادشاہان حکومت چلانے اور عوامی پیغام رسانی میں ماہر ہیں، عموماً وہ ’ناپسندیدہ کام‘ حکومت یا وزرائے اعلیٰ یا وزرا پر ڈال دیتے ہیں، یعنی ایسے کام جس سے عوام کی جانب سے شدید ردعمل آسکتا ہے۔ اس طرح عوام کی ناراضگی حکومت پر مرکوز ہوتی ہے، جبکہ بادشاہ اپنی ’عاقل رہنما‘ اور ’جھگڑوں میں ثالث‘ کا کردار ادا کرنے کی حیثیت برقرار رکھتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مثال کے طور پر، 22 دسمبر 2020 کو مراکش اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ اُس وقت کے وزیر اعظم سعد الدین العثمانی نے رباط میں کیا۔ نہ کہ بادشاہ محمد ششم۔ عثمانی، جو بربر نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلامی انصاف و ترقی پارٹی کے سربراہ ہیں، اس معاہدے کا چہرہ بن گئے اور اسرائیل کی رسمی پہچان کے لیے عوامی ردعمل برداشت کیا۔ اس طرح بادشاہ نے اسلام پسند جماعتوں کے برسوں پر محیط بیانیے کو مؤثر طریقے سے کمزور کر دیا۔ بعد میں وزیر اعظم عثمانی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور بادشاہ نے اس کی جگہ مخزن کے اہم رکن اور ارب پتی کاروباری شخصیت عزیز اخنوش کو وزیر اعظم مقرر کر دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سیاسی نظام میں بادشاہ کی پیرس میں لیک شدہ ویڈیوز، شاہی خاندان کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوالات، یا سابق ملکہ للا سلمى بنانی کے طلاق کے بعد خود کو الگ کر لینے کی وجوہات عوام میں بڑے ردعمل یا بادشاہت پر اعتماد کو متاثر کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چونکہ بادشاہ کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے، اس لیے توقع کی جارہی ہے ان کے بیٹے مولائی حسن ان کے جانشینی ہوں گے اور ’حسن III‘ کے طور پر تخت سنبھالیں گے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ نوجوان ولی عہد، جو 2003 میں پیدا ہوئے، اپنے والد اور دادا کے قائم کردہ مضبوط نظام کو کس حد تک کامیابی سے چلا پائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بھی پڑھیں:</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2306" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/4/17/7fbad0c1-xx0rqfgtejp7pcbhwa5a.png" data-title="’جو سمجھتے ہیں کہ وہ ترکیہ پر حملہ کرسکتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں کہ یہ حکمت عملی کتنی خطرناک ثابت ہوگی‘" data-url="/columns/-/2306" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">’جو سمجھتے ہیں کہ وہ ترکیہ پر حملہ کرسکتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں کہ یہ حکمت عملی کتنی خطرناک ثابت ہوگی‘</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2247" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/4/17/7fbad0c1-xx0rqfgtejp7pcbhwa5a.png" data-title="’مغربی سیکیورٹی عرب ممالک کے لیے صرف دھوکہ ہے‘" data-url="/columns/-/2247" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">’مغربی سیکیورٹی عرب ممالک کے لیے صرف دھوکہ ہے‘</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2162" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/08/resized_a3775-85d5yasinaktay2.png" data-title="افغانستان میں داخل ہونا آسان ہے مگر نکلنا مشکل، کیا طالبان پشتون قوم پرست ہیں؟انہوں نے اتنا مشکل مسئلہ کیسے حل کر لیا؟" data-url="/columns/yasin-aktay/2162" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">افغانستان میں داخل ہونا آسان ہے مگر نکلنا مشکل، کیا طالبان پشتون قوم پرست ہیں؟انہوں نے اتنا مشکل مسئلہ کیسے حل کر لیا؟</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2160" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_97e03-c366suleymanseyfiogun2.png" data-title="ٹرمپ پوتن ملاقات: معاہدے، قیاس آرائیاں اور سیاسی اثرات" data-url="/columns/--/2160" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">ٹرمپ پوتن ملاقات: معاہدے، قیاس آرائیاں اور سیاسی اثرات</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2140" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/2/1/32f8d50f-qjjjvvo963gm6ge2kuxmif.png" data-title="کیا فرانس اور برطانیہ فلسطین کو ریاست تسلیم کر لیں گے؟" data-url="/columns/selcuk-turkyilmaz/2140" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">کیا فرانس اور برطانیہ فلسطین کو ریاست تسلیم کر لیں گے؟</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/2385</link>
      <subcategory>طہٰ کلنچ</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/10/16/29d88b9e-nt7xeyj7s68p38litm3aq8.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 13:18:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>شرم الشیخ کے اجلاس میں 'نئے مشرقِ وسطیٰ کا جنم'</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2386</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2386" rel="standout" />
      <description>غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو ایک مستقل امن عمل میں تبدیل کرنے کے لیے علاقائی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'ایک نیا مشرقِ وسطیٰ جنم لے رہا ہے۔' اور وعدہ کیا کہ وہ اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ امن کے ارادے کا اعلامیہ، جس پر صدر اردوان نے بھی دستخط کیے، اس کا مقصد صرف غزہ کی جنگ ختم کرنا نہیں۔ بلکہ یہ فریقین کے درمیان خطے میں استحکام یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے عزم کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ امن منصوبے کے نفاذ کے معاہدے سے علاقائی</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو ایک مستقل امن عمل میں تبدیل کرنے کے لیے علاقائی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'ایک نیا مشرقِ وسطیٰ جنم لے رہا ہے۔' اور وعدہ کیا کہ وہ اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ امن کے ارادے کا اعلامیہ، جس پر صدر اردوان نے بھی دستخط کیے، اس کا مقصد صرف غزہ کی جنگ ختم کرنا نہیں۔ بلکہ یہ فریقین کے درمیان خطے میں استحکام یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے عزم کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ امن منصوبے کے نفاذ کے معاہدے سے علاقائی ممالک کو یہ موقع ملے گا کہ اگر اسرائیل امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوئی کوشش کرے تو وہ ٹرمپ سے مداخلت کی درخواست کر سکیں۔ سابق امریکی صدر بائیڈن نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے سے گریز کیا اور اسے غیر مشروط حمایت فراہم کی۔ لیکن اس کے برعکس ٹرمپ نے قطر پر حملے کے بعد فوری ردِعمل دیا اور وہ خطے کے ممالک کے خدشات سننے میں زیادہ آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ 'نئے مشرقِ وسطیٰ کی پیدائش' سے ٹرمپ کا مطلب غالباً یہ ہے کہ وہ اپنے اسرائیل کے حامی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امن اعلامیے کی عمل درآمد کی قوت</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شرم الشیخ میں ہونے والی کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ کیوں کہ اس کے ذریعے خطے کے ممالک کی ٹرمپ کے منصوبے کے پر رضامندی کو باضابطہ شکل دی گئی۔ اس سے قبل ترکیہ کی بھرپور سفارتی کوششوں کے باعث عرب اور اسلامی ممالک نے ایک مشترکہ مؤقف اختیار کیا تھا۔ لیکن امریکا کی حمایت یافتہ اسرائیل کی زبردست فوجی طاقت کے استعمال کو روکا نہیں جا سکا تھا۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ عرب ممالک اسرائیل یا امریکا کے خلاف سخت ردعمل دے کر واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قطر میں حماس کے وفد پر اسرائیلی حملے کے بعد قطر کے ردعمل نے ٹرمپ کو کوئی اقدام کرنے پر مجبور کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ حملے پر اپنی ناراضی کا عوامی اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا کہ وہ 'فتح' کا اعلان کریں اور ایک معاہدے پر دستخط کریں۔ اس کے بدلے میں ٹرمپ نے شرم الشیخ کانفرنس سے قبل اسرائیل کا دورہ کیا تاکہ نیتن یاہو کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کریں۔ اور ساتھ ہی خود کو مرکزی ثالث اور امن کے اسپانسر کے طور پر پیش کرتے ہوئے عرب ممالک کے ساتھ ایک امن عمل شروع کرنے کا وعدہ بھی کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ مصر میں دستخط ہونے والا امن اعلامیہ اسرائیل کو قانونی طور پر امن معاہدے پر عمل درآمد کرنے کا پابند نہیں کرتا، لیکن اگر اسرائیل دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ ایک نفسیاتی رکاوٹ کے طور پر کام کرے گا۔ کیوں کہ ایسا کرنا 'ٹرمپ کے امن منصوبے' کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا۔ ٹرمپ کے پاس خطے کے ممالک خطے کے دیگر ملکوں اور بالخصوص قطر جیسے خلیجی ملکوں کی بات سننے کی مضبوط وجوہات ہیں جو بڑی سرمایہ کاری کی طاقت رکھتے ہیں۔ ٹرمپ ان ممالک کے ساتھ امریکہ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ تاہم ان ممالک کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ورنہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری نسل کشی باقی فلسطین تک بھی پھیل سکتی ہے۔ اگر عرب ملک اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے امریکی تعلقات کو فلسطین کے مسئلے سے جوڑنے سے گریز کرتے رہے، تو دیرپا امن حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ لیکن اگر اعلامیے پر دستخط کرنے والے ممالک اس معاہدے کو اس صورت میں استعمال کریں کہ ٹرمپ اسرائیل پر اپنا دباؤ برقرار رکھیں، تو پائیدار امن کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیا مشرقِ وسطیٰ؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شرم الشیخ میں اپنی تقریر کے دوران ٹرمپ نے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کو بڑی کامیابی قرار دینے میں ذرا دیر نہیں کی اور 'نئے مشرقِ وسطیٰ کے جنم' کی بات کی۔ یہ بات واضح ہے کہ اس وژن میں نہ تو اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی کوئی بات شامل ہے اور نہ ہی گزشتہ دو سالوں میں اسرائیل کی جانب سے کی گئی نسل کشی پر کسی احتساب کا ذکر ہے۔ ٹرمپ کے منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کی تعمیرِ نو کو ایک بین الاقوامی کمیشن کے تحت انجام دینے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ لیکن ان دونوں اہداف کے نفاذ میں سنگین رکاوٹیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اس منصوبے میں ایسی کوئی واضح شق نہیں جو اسرائیل کو دوبارہ حملے شروع کرنے سے روکے۔ اس سب کے باوجود ٹرمپ خود کو امن کے داعی اور 'نئے مشرقِ وسطیٰ' کے مرکزی کردار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ 'امن لانے والے رہنما' کے طور پر وہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کی معمول پر واپسی کے ایجنڈے کو بھی آگے بڑھائیں گے۔ تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ٹرمپ کا وژن عرب۔اسرائیل امن کو محفوظ بنانا چاہتا ہے مگر ایک بار پھر فلسطین کے مسئلے کو پسِ پشت ڈال کر۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس کے سات اکتوبر کے حملوں نے ایک بار پھر یہ دکھایا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو حل کیے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے 'ابراہیمی معاہدوں' کو آگے بڑھایا اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا۔ اپنی دوسری مدت میں انہوں نے ایک طرف اسرائیل کی حمایت جاری رکھی اور دوسری طرف ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے بھی کیے۔ اسرائیل میں اپنی تقریر کے دوران ٹرمپ نے ذاتی طور پر اسرائیلی لابی کی طاقت کو تسلیم کیا اور اشارہ دیا کہ ارب پتی ڈونر میرئم ایڈلسن، جو یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے میں اثرورسوخ رکھتی ہیں، 'امریکہ سے زیادہ اسرائیل سے محبت کرتی ہیں۔' یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنگ کے امکان اور اسرائیل کے قطر پر حملے کے حوالے سے غیر مطمئن تھے۔ ان کے بیانات سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنے حمایتیوں میں بڑھتے ہوئے اسرائیل مخالف جذبات کے بارے میں حساس ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ مسئلہ فلسطین کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتے، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ خطے کے ممالک کا دباؤ اسرائیلی لابی کے اثر و رسوخ کو کسی حد تک متوازن کر سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شرم الشیخ میں ہونے والا امن اعلامیہ اس لیے اہم نہیں کہ یہ فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات پیش نہیں کرتا۔ بلکہ اس لیے ہے کہ یہ ٹرمپ کی سرپرستی میں سامنے آیا ہے۔ وہ واحد شخصیت ہیں جو اسرائیل پر حقیقی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس عمل سے نہ تو دو ریاستی حل کی امید کی جا سکتی ہے نہ ہی کسی نئے علاقائی سیکیورٹی ڈھانچے کی۔ لیکن اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ واشنگٹن کو اسرائیل کی نسل کشی روکنے اور غزہ کو ذرا سانس لینے کا موقع دینے میں مدد کر سکتا ہے۔ جب تک اسرائیل کا قبضہ برقرار ہے، نہ فلسطین کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایک حقیقی 'نیا مشرقِ وسطیٰ' وجود میں آ سکتا ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے ممالک کو اب اس واحد فریق پر کچھ اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے جو اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ ملک ایک متحد مؤقف اختیار کرنا سیکھ لیں تو شاید تب ہی نئے مشرقِ وسطیٰ کا جنم حقیقت بن سکے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2386</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/10/16/04017c19-iyjcnkg6etow3eb58ivq1.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 17:29:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’جو سمجھتے ہیں کہ وہ ترکیہ پر حملہ کرسکتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں کہ یہ حکمت عملی کتنی خطرناک ثابت ہوگی‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/2306</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/-/2306" rel="standout" />
      <description>وہ اس قدر نفرت کا نشانہ بن چکے ہیں کہ دنیا کے ہر کونے سے، تھائی لینڈ سے لے کر چلی تک، یورپی ممالک سے لے کر دور دراز مقامات تک، انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے حلیف ممالک میں بھی سڑکوں پر یہود مخالف مظاہرے کررہے ہیں۔ کوئی انہیں اپنے ملکوں، شہروں، سڑکوں، ہوٹلوں، ریستورانوں یا کیفے میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ ’مستقبل سوشل میڈیا گلیمر کی طرح نہیں ہوگا‘ چاہے وہ ٹک ٹاک ویڈیوز میں جتنا بھی ہنسیں، چاہے جتنا بھی ناچیں، وہ خود کو زمین پر سب سے زیادہ نفرت کیے جانے والی کمیونٹی بنانے میں کامیاب ہو</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ اس قدر نفرت کا نشانہ بن چکے ہیں کہ دنیا کے ہر کونے سے، تھائی لینڈ سے لے کر چلی تک، یورپی ممالک سے لے کر دور دراز مقامات تک، انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے حلیف ممالک میں بھی سڑکوں پر یہود مخالف مظاہرے کررہے ہیں۔ کوئی انہیں اپنے ملکوں، شہروں، سڑکوں، ہوٹلوں، ریستورانوں یا کیفے میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ </p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’مستقبل سوشل میڈیا گلیمر کی طرح نہیں ہوگا‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> چاہے وہ ٹک ٹاک ویڈیوز میں جتنا بھی ہنسیں، چاہے جتنا بھی ناچیں، وہ خود کو زمین پر سب سے زیادہ نفرت کیے جانے والی کمیونٹی بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ انہوں نے خود کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کےعلاوہ انہیں ممالک، اقوام اور انسانی نسل کے لیے ایک خطرہ اور برائی قرار دے کر ملامت کیا گیا ہے۔ اگلا قدم یہ ہے کہ یہودیوں کو ہر جگہ سے نکالا جائے، حتیٰ کہ یورپ میں بھی۔ امریکی ہتھیار بھی تمہیں بچا نہیں پائیں گے، تم یہاں تک کہ یورپ کی سڑکوں پر بھی نہیں چل پاؤگے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہی موجودہ صورتحال ہے۔ لیکن چند ہی دنوں بعد میں ہم دیکھیں گے کہ ایک عالمی طوفان اُن سب کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ نفرت اور غصہ اتنا بڑھ جائے گا کہ وہ اپنے گھروں، سڑکوں اور شہروں سے نکلنے کے قابل نہیں رہیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی ہتھیار اور یورپی حکومتوں اور رہنماؤں کی حمایت بھی اُن کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ وہ دیکھیں گے کہ یہ ہتھیار زیادہ تر انہی کے خلاف پلٹ رہے ہیں۔ اسرائیل کا نقشہ مشرقِ وسطیٰ میں ہے، لیکن وہ دیکھیں گے کہ یہود کے خلاف غصہ یورپ اور امریکہ میں ہے۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’نسل کشی‘ سے بھی بڑا ایک خطرہ ہمارے بہت قریب ہے‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’نسل کشی‘ سے بھی بڑا ایک خطرہ ہمارے بہت قریب ہے۔ اسرائیل نے اپنے ہی ہاتھوں سے تمام یہودیوں کو انسانی نسل کا مشترکہ دشمن بنا دیا ہے۔ اب وہ کسی اور کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے، اب کوئی ہمدردی یا ترس اُن پر اثر نہیں کرے گی۔ اُن کے ذہن اور لاشعور میں جو برائی ہے، وہ اتنی شدید اور گہری ہے کہ وہ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہ نہیں سکتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم جس نسل کشی کے گواہ ہیں، وہ نہ غزہ ہے، نہ فلسطین۔ یہ اُن کی عربوں سے نفرت نہیں ہے۔ ہم ایک ایسے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں جو نسل کشی سے بھی بڑا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب صاف ہو گیا ہے کہ ایک نسل، قوم یا کمیونٹی زمین اور پوری انسانیت کے لیے کتنی بڑی برائی کر سکتی ہے اور کیا خوفناک منصوبے اپنے ذہن میں رکھتی ہے۔ یہی اصل خطرہ ہے جسے ہمیں روکنا چاہیے! یہ لوگ صرف غزہ میں نسل کشی کرنے پر اکتفا نہیں کریں گے تاکہ وعدہ کی گئی زمین حاصل کریں۔ وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے ساتھ جغرافیہ کو رہائش کے لائق نہیں بنا دیں گے۔ ان کے ذہن میں انسانیت کو مکمل ختم کرنے کے بھی منصوبے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اگر یہی رفتار رہی، تو وعدہ کی گئی زمین تک پہنچنے کی کوشش میں وہ خود جہنم کی تہہ میں جا پہنچیں گے۔ دنیا کو تباہ کرنے کی کوشش میں وہ خود ہی تباہ ہو جائیں گے۔ جب وہ ممالک کے نقشے سے کھیلیں گے، تو ان کے ہاتھ میں جو نقشہ ہے وہ بھی کھو بیٹھیں گے۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’ریاستوں کے دھوکے میں نہ آئیں، قومیں آپ کو برباد کر دیں گی‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> صرف چھوٹے سے غزہ میں جو کچھ انہوں نے کیا ہے، اس سے انہوں نے  بیسویں صدی میں کیے گئے بیانات بے اثر ہوگئے ہیں۔ اب اینٹی سیمیٹزم یا یہودی نسل کشی جیسے تصورات کسی کے لیے کوئی مطلب نہیں رکھتے۔ اب کوئی ان کے جھوٹ نہیں سننا چاہتا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب کوئی ان کی تقریریں یا ان کے نظریے سنجیدگی سے نہیں لیتا۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ آپ کو مبالغہ لگ سکتا ہے۔ آپ اگر صرف ریاستوں اور حکومتوں کو دیکھیں تو شاید آپ کو ایسا نہ لگے۔ لیکن ریاستیں، حکومتیں اور طاقت کے مراکز بدلتے رہتے ہیں۔ مگر قوموں، ملکوں، شہروں کی یادداشت ہزاروں سال زندہ رہتی ہے، یہ نہیں بدلتی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس لیے ریاستوں کو نہ دیکھیں بلکہ قوموں کو دیکھیں۔ دیکھیں انہوں نے اپنی یادداشت میں کیا جمع کر رکھا ہے۔ دیکھیں یہودیوں کے ہاتھ سے وہ تمام اوزار کیسے نکل رہے ہیں جو ان یادوں کو بدل سکتے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’جو بھی میزائل تم چلاؤ گے، وہ واپس تمہاری طرف لوٹے گا‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> یاد رکھو اب یہ ممکن نہیں رہا کہ پرانے طرز کے میڈیا، عالمی اداروں، خریدے ہوئے رہنماؤں یا حکومتوں کے ذریعے انسانیت کی یادداشت اور اجتماعی شعور کو بدلا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس لیے جو بھی گولی، جو بھی میزائل وہ بھیجیں گے، وہ سب پلٹ کر انہی کے پاس جائے گی۔ جو بھی برائی وہ کریں گے، وہ کئی گنا بڑھ کر انہی پر واپس آئے گی۔ یہ نوٹ کر لو کہ آج انسانیت جو غصے اور درد کے ساتھ جواب دے رہی ہے، کل وہی طاقت اور سزا کے ساتھ جواب دے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’نتن یاہو کا قتل بھی تمہیں نہیں بچا سکے گا‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اب سے اسرائیل کے پاس نیکی کا کوئی راستہ نہیں بچا۔ وہ مزید برائیاں کریں گے اور مزید گہرائی میں ڈوبیں گے۔ وہ زیادہ خطرناک اقدامات کریں گے۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نتن یاہو کا قتل انہیں اس گڑھے سے نہیں نکالے گا۔ کیونکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اجتماعی برائی اور اجتماعی نسل کشی کیسے ہوتی ہے، یہ صرف ریاست تک محدود نہیں بلکہ پوری قوم اس کی حمایت کرتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ غزہ میں قتل و غارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یمن، شام اور لبنان پر حملے جاری ہیں۔ وہ ایران پر دوبارہ حملہ کرنے اور مصر کے جزیرہ نما سینا پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’آج پچاس کشتیاں، کل سو جہاز۔ آج چند سو، کل لاکھوں‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ اتنے بے وقوف ہیں کہ وہ یہاں تک سوچتے ہیں کہ ترکیہ پر بھی حملہ کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ترکیہ پر حملہ کریں گے تو انہیں یہ اندازہ تک نہیں کہ بحیرہ روم کیسے بپھر جائے گا، جل اٹھے گا اور پورا خطہ کس طرح ایک ہتھیار بن جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پچاس سے زائد کشتیاں جب بحیرہ روم کے بیچوں بیچ روانہ ہوں اور وہ لوگ جو غزہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہی کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے ہوں، تو وہ انسان دوست لوگوں پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ ایک انسانی کوشش کو عسکری طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر وہ غزّہ فلوٹیلا کو روک دیں تو ایک بڑی کھیپ آئے گی۔ آج پچاس کشتیاں کل سو، دو سو، تین سو جہاز بن جائیں گی۔ سمندری قافلے کے ساتھ زمینی راستے سے بھی لاکھوں لوگ شامل ہو جائیں گے۔  </p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’اسرائیل ایک ہفتے میں خاک کا ڈھیر بن سکتا ہے‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> انسانی تاریخ میں بہت سے بڑے ظالم دفن ہو چکے ہیں۔ کئی طاقتور سلطنتیں مٹ کر راکھ بن گئی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ ایک کمزور ملک ہے۔ یہودی چند چھوٹے سے گروہ ہیں۔ اُن کے پاس بڑے جنگ میں ایک ہفتے تک مزاحمت کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ ہتھیلی جتنا چھوٹا سا رقبہ تین دن میں راکھ ہو سکتا ہے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو اب طاقت دکھانے کا وقت آ گیا ہے۔۔ اب وہ لمحہ ہے جب سمندر (بحیرہ روم) پر حملہ کر کے ان کے جہازوں کو نقصان پہنچانا اور زمینی سرحدوں پر دباؤ ڈال کر ان کے دفاع کو کمزور کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے گھروں میں محفوظ محسوس نہیں ہونے دینا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ’اب انہیں ڈرانے کا وقت آ گیا ہے، اب مزید تاخیر نہیں کرسکتے‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اب ’دھمکانے‘ کا وقت ہے۔ اب وہ لمحہ آ پہنچا ہے جب بحیرہ روم میں ایک اسرائیلی جنگی جہاز غرق ہو، ان کا ایک طیارہ مار گرایا جائے۔ اب ان کے گھر بمباری کا وقت ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمیں یہ کرنا ہوگا تاکہ بڑی برائیاں روکی جا سکیں۔ ہمیں ایک ایسے برائی کو بند کرنا ہوگا جو رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ ہمیں اپنے ممالک، اپنے لوگوں اور اپنے شہروں کے لیے ایک متحرک مزاحمتی تحریک بنانی ہوگی۔ </p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’اگر غزہ فلوٹیلا کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا تو یہودیوں کو یرغمال بنانا لازمی ہوگا‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اگر دمشق بمباری کا شکار ہوا تو تل ابیب کو بمباری کا نشانہ بنایا جانا چاہیے۔ اگر تہران پر حملہ ہوا تو تل ابیب پر حملہ ہونا چاہیے۔ اگر سرحدوں پر دراندازی ہوئی تو اسرائیل کی سرحدوں پر دراندازی ہونی چاہیے۔ اگر وہ سب کو قتل کریں تو ان کے قائدین کےساتھ بھی ویسا ہونا چاہیے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر غزہ فلوٹیلا کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا، اگر کشتیاں ڈبو دی گئیں، اگر لوگ گرفتار کیے گئے، تو دنیا بھر میں یہودیوں کو یرغمال بنا لینا چاہیے۔ جو لوگ آزاد لوگوں کے لیے بحیرہ روم بند کرتے ہیں، ان کے لیے پوری دنیا بند ہو جانی چاہیے۔ </p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’یروشلم کو ہر صورت بچانا ہوگا، مزید تاخیر نہیں کرسکتے‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> جو بھی اس علاقے میں رہتا ہے، یروشلم کو یہودی قبضے سے آزاد کرانا ضروری ہے۔ اس مقدس شہر کا مقدر ایسے بیمار معاشرے کے ہاتھ میں نہیں چھوڑا جا سکتا جسے کسی مذہب، قوم یا انسانیت کی کوئی قدر نہ ہو اور جو انسانی نسل کو زمین سے مٹا ڈالنے تک آپہنچا ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ اگر قتل کریں تو انہیں اپنے ملکوں سے نکال باہر کرو۔ انہیں اپنے شہروں سے نکال باہر کرو۔ اب سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو اسرائیل کی سرحدوں کی طرف دھکیلنے کا وقت آ گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ واضح ہے کہ مزید بڑے آفات کا انتظار کرنا انسانیت کی سب سے بڑی حماقت ہو گی۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’ہر کسی کو اسرائیل سے لڑنا چاہیے‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ بحیرہ روم میں ایک اسرائیلی جنگی جہاز ڈبو دیا جائے۔ ایک اسرائیلی طیارہ گرایا دیا جائے۔ مرنے والے عام لوگ نہیں بلکہ اسرائیلی فوجی ہوں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گذشتہ ہزار سالوں میں اس خطے نے کیا کچھ دیکھا ہے، اور وہ کیا ہے؟تاریخ جس طرف جارہی ہے اسے جانے دیا جائے۔ اگر ضرورت پڑے تو بحیرہ روم جلایا جائے۔ اگر یہ کام نہیں کیے گئے تو حالات بہت بدتر ہوجائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل سے لڑنا اس خطے میں رہنے والے ہر انسان کا فرض ہے۔ یہ ترکس، عرب، فارسی، کُرد اور اس وسیع خطے میں رہنے والے ہر ایک کا بنیادی فرض ہے۔ جب تک اسرائیل اس نقشے سےمٹ نہ جائے، اس خطے میں کوئی جنگ ختم نہیں ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/2306</link>
      <subcategory>ابراہیم کاراگُل</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/10/1/21f34c03-b2i9jamsqfeid71e61y8qn.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 11:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’مغربی سیکیورٹی عرب ممالک کے لیے صرف دھوکہ ہے‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/2247</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/-/2247" rel="standout" />
      <description>اسرائیل کا قطر پر حملہ، جس میں امریکہ کی حمایت بھی شامل تھی، عرب دنیا کے لیے ایک صدمے کی طرح تھا۔ اگرچہ کچھ ممالک نے امریکی خوف کے باعث اپنا فضائی حدود اسرائیل کے لیے کھول دیا، یہ حملہ اس بات کا اعلان تھا کہ 21ویں صدی کے پہلے چار عشروں کے اختتام پر عرب دنیا خوفناک تنہائی کی طرف دھکیل دی جائے گی۔ اب جو صدمہ عرب دنیا محسوس کر رہی ہے، وہ عارضی یا لمحاتی نہیں ہے۔ کیونکہ اس حملے نے وہ سیکورٹی اصول بے معنی کر دیے جو عرب ریاستوں نے قائم کیے، جن پر وہ امید لگائے ہوئے تھے اور جن پر یقین کرتے تھے کہ وہ انہیں</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کا قطر پر حملہ، جس میں امریکہ کی حمایت بھی شامل تھی، عرب دنیا کے لیے ایک صدمے کی طرح تھا۔ اگرچہ کچھ ممالک نے امریکی خوف کے باعث اپنا فضائی حدود اسرائیل کے لیے کھول دیا، یہ حملہ اس بات کا اعلان تھا کہ 21ویں صدی کے پہلے چار عشروں کے اختتام پر عرب دنیا خوفناک تنہائی کی طرف دھکیل دی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب جو صدمہ عرب دنیا محسوس کر رہی ہے، وہ عارضی یا لمحاتی نہیں ہے۔ کیونکہ اس حملے نے وہ سیکورٹی اصول بے معنی کر دیے جو عرب ریاستوں نے قائم کیے، جن پر وہ امید لگائے ہوئے تھے اور جن پر یقین کرتے تھے کہ وہ انہیں محفوظ رکھیں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کی عرب حکومتوں کو دی گئی سیکیورٹی اسرائیل کی خواہشات تک محدود ہے!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب حکومتوں پر جو ’امریکہ اور برطانیہ کی حفاظت‘ کا پردہ تھا، وہ اب ہٹ چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی سیکورٹی کی گارنٹی صرف اسرائیل کی خواہشات تک محدود تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بھی ظاہر ہو گیا ہے کہ یہ گارنٹی صرف اس وقت دی گئی تھیں جب عرب ممالک مکمل طور پر اسرائیل کی ترجیحات کے مطابق تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے عرب حکومتوں کو صرف اس وقت تحفظ دیا جب بات ایران، روس یا مغرب کی ناپسندیدہ طاقتوں کی ہو۔ انہوں نے صرف اس بات کی حمایت کی کہ علاقے میں اُبھرتی ہوئی طاقتوں کو روکا جائے۔ لیکن جب معاملہ مغرب اور اسرائیل کی علاقائی خواہشات کا آیا، تو عرب ممالک کے لیے کوئی گارنٹی موجود نہیں تھی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2221" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/9/10/b24199a7-t91v8y36zw7ywyaji56c4.webp" data-title="قطر کیوں اہم ہے اور حماس کے رہنما یہاں کیوں رہتے ہیں؟" data-url="/news/2221" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">قطر کیوں اہم ہے اور حماس کے رہنما یہاں کیوں رہتے ہیں؟</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2236" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/9/15/1560368e-ob8zbogfvjbax912lhmuka.webp" data-title="اسرائیلی حملوں کے خلاف قطر میں عرب اور مسلم ملکوں کا ہنگامی اجلاس" data-url="/world/2236" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">اسرائیلی حملوں کے خلاف قطر میں عرب اور مسلم ملکوں کا ہنگامی اجلاس</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">صرف عرب حکومتوں کے سیکورٹی اصول ہی نہیں، بلکہ ان کی طاقت اور اقتدار کی گارنٹی بھی ختم ہو گئی ہیں۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید یہ صدمہ پہلے والے صدمے سے بھی بڑا ہو، اور حتیٰ کہ عرب حکومتیں چاہے کتنی بھی ’اطاعت کریں یا مکمل فرمانبرداری‘ دکھائیں، یہ نقصان پورا نہیں ہو سکے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب معاشروں کو اب سمجھنا ہوگا کہ ان کی آزادی، حدود، خودمختاری اور طاقت کی بنیادیں امریکی اور برطانوی نوآبادیاتی مفادات کی حفاظت اور اسرائیل کے ساتھ مکمل اطاعت پر مبنی تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر حالات اسی طرح چلتے رہے، تو عرب قوم پوری 21ویں صدی میں پیچھے رہ جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس نقصان کی ابتدا پہلے ہی امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے عراق پر حملے سے شروع ہو چکی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1990 کے بعد سے ہماری خطے میں ہونے والی تمام جنگیں عرب زمینوں پر ہوئیں اور عرب ممالک اکثر ہارتے رہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب دنیا کی سرحدیں سکڑ رہی تھیں اور یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">واحد استثناء شام ہے اور یہ ترکیہ کی بدولت ممکن ہوا۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شام میں حکومت کی تبدیلی صرف ترکیہ کی زبردست صبر اور مستقل مزاجی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ اگر ترکیہ نہ ہوتا، تو عرب قوم پہلے ہی شام کھو چکی ہوتی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب ریاستوں نے ہر موقع پر انتہائی خطرناک اور تباہ کن پالیسی اپنائی: اپنی طاقت بچانے کے لیے ممالک قربان کیے۔ انہوں نے اپنی طاقت کو اپنے ممالک پر ترجیح دی۔ حالانکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن ہوسکتی تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا کا نقشہ بدل رہا ہے اور دانشمندانہ فیصلے کیے جا رہے تھے، مگر عرب ریاستوں نے فائدہ نہ اٹھایا۔ وہ ’امریکہ اور برطانیہ کی حفاظت کافی ہے‘ کے بھروسے میں چلتے رہے، حالانکہ حقیقت میں ایسی کوئی سیکیورٹی موجود ہی نہیں تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مغربی طاقتوں نے عرب حکومتوں کی توجہ چھوٹے داخلی خطرات کی طرف مبذول کرائی۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے چھوٹے خطرات کو بہت بڑے مسائل میں بدل دیا اور عرب ریاستوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے ہی عوام کے خلاف لڑیں۔ یہ ایک طرح کی ذہنی دہشتگردی تھی اور عرب حکومتیں اس میں شکست کھا گئیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ آخری بڑا امتحان تھا۔ عرب قوم کے منتخب بیٹے نسل کشی کا شکار ہوئے۔ اسرائیل کی بربریت اتنی شدید تھی کہ یہ پہلے کے کسی بھی اسرائیلی قتل عام سے بڑھ کر انسانی نسل کے خلاف جارحیت بن گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بچے اور شیر خوار قتل کیے گئے اور جو زندہ بچے رہے انہیں بھوک سے مارا گیا۔ پوری دنیا نے اس وحشت کو دیکھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جہاں اسپین اور آئرلینڈ جیسے ممالک نے انسانی بنیاد پر حساس موقف اختیار کیا، عرب ریاستوں نے ایسا نہیں کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عالمی سطح پر آگاہی کے تمام اقدامات میں صرف عرب ممالک شامل نہیں تھے، جو ایک حیران کن اور افسوسناک صورتحال تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1577" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_97e03-c366suleymanseyfiogun2.png" data-title="ہر لمحے بدلتی مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست: ترکیہ، اسرائیل اور اثر و رسوخ کی جنگ" data-url="/columns/--/1577" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">ہر لمحے بدلتی مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست: ترکیہ، اسرائیل اور اثر و رسوخ کی جنگ</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب ریاستوں نے غزہ کو قربانی کے طور پر پیش کیا، اسے رشوت کے طور پر اسرائیل کو دے دیا۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب حکومتوں نے غزہ اور اس کے باشندوں کو اسرائیل کے لیے قربان کیا اور اسرائیل کو نسل کشی کا حق دے دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ ایک بالواسطہ معاہدہ تھا، جس کے تحت عرب ریاستوں کی سیکورٹی کی منصوبہ بندی کی گئی اور اس طرح بہت سے ممالک نسل کشی کے خفیہ شراکت دار بن گئے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب حکومتوں نے سوچا کہ اس بار غزہ کو رشوت کے طور پر دیتے ہیں، ہماری سیکیورٹی برقرار رہے گی اور امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ پارٹنرشپ جاری رہے گی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو عرب حکومتیں ’امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ شراکت‘ کہتی تھیں، وہ حقیقت میں اپنے ہی ممالک اور عوام کو خطرے میں ڈال رہی تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور اسرائیل کے لیے عرب ممالک کسی حقیقی اتحاف کی حیثیت نہیں رکھتے تھے، بلکہ وہ صرف ایسے ممالک تھے جنہیں وہ اپنی مرضی کے مطابق قابو پانے یا غلام بنانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ مسئلہ صرف غزہ تک محدود نہیں تھا، بلکہ عرب دنیا کے لیے ایک وسیع خطرہ تھا۔ </h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا نے یہ بات سمجھ لی، مگر عرب حکومتیں ابھی تک اس حقیقت کو نہیں سمجھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پچھلے تیس سالوں میں سیکڑوں ارب ڈالر کی رشوتوں کے ذریعے نہ صرف غزہ بلکہ زمینیں اور ممالک بھی رشوت کے طور پر دیے گئے اور غزہ اس کا تازہ ترین مثال ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا جان چکی ہے کہ اصل مسئلہ صرف غزہ نہیں، لیکن عرب ریاستیں ابھی بھی پرانی کہانیوں یا پرانی سوچ پر یقین رکھتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قطر پر ہونے والے صدمے کو صرف حماس کو نشانہ بنایا گیا کہہ کر کم نہیں سمجھنا چاہیے، اور کوئی بھی اپنے آپ کو بہانے سے صاف نہیں کر سکتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب ریاستوں کو داخلی اور خارجی محاذ بنانا ہوگا۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب ممالک کو داخلی اور خارجی سطح پر مضبوط اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ مصر، الجزائر، سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک کو اپنے اندرونی مسائل میں ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد بنانا چاہیے، جبکہ مصر، الجزائر، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا اور سعودی عرب کو بیرونی خطرات کے مقابلے کے لیے مشترکہ اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب وقت آ گیا ہے کہ ممالک صرف اپنے مفاد میں نہیں بلکہ جغرافیائی سطح پر شراکت داری کریں، کیونکہ کوئی بھی ملک اکیلا عالمی یا علاقائی خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ترکی، مصر، شام اور قطر کے ساتھ مل کر عرب دنیا کے لیے ایک مضبوط آپشن فراہم کر سکتا ہے اور اس کے تحت خصوصی فوجی تعاون اور مشترکہ افواج بھی قائم کی جا سکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی جارحیت غزہ میں نہیں رکے گی۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ شام-لبنان لائن تک جاری رہے گی اور ریڈ سی سے فارس کی خلیج تک پھیلے گی۔ آپ کے دارالحکومت بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔ اب صرف طاقت ہی اس کا حل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ وقت ہے جاگنے کا، ذہنی قید سے آزاد ہونے کا اور اپنی طاقت کو بروئے کار لانے کا ورنہ عرب دنیا غزہ جیسی تباہی کا شکار ہو جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2221" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/9/10/b24199a7-t91v8y36zw7ywyaji56c4.webp" data-title="قطر کیوں اہم ہے اور حماس کے رہنما یہاں کیوں رہتے ہیں؟" data-url="/news/2221" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">قطر کیوں اہم ہے اور حماس کے رہنما یہاں کیوں رہتے ہیں؟</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2236" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/9/15/1560368e-ob8zbogfvjbax912lhmuka.webp" data-title="اسرائیلی حملوں کے خلاف قطر میں عرب اور مسلم ملکوں کا ہنگامی اجلاس" data-url="/world/2236" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">اسرائیلی حملوں کے خلاف قطر میں عرب اور مسلم ملکوں کا ہنگامی اجلاس</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2232" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/9/12/11c4b123-gyo15gqt6etreczxp1w3jd.webp" data-title="اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر پر حملے کی مذمت " data-url="/news/2232" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر پر حملے کی مذمت </span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2219" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/9/9/1ba93a7a-ecfns4axq9riei27o72jm.webp" data-title="اسرائیل کا قطر کے دارالحکومت دوحا میں فضائی حملہ، حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ" data-url="/world/2219" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">اسرائیل کا قطر کے دارالحکومت دوحا میں فضائی حملہ، حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2220" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/9/10/d6ee47ae-3wr8yifnpff2erotkf4bsm.webp" data-title="اسرائیل کا قطر پر حملہ: حماس کے کون سے رہنما بچ گئے اور مارے جانے والے چھ افراد کون ہیں؟" data-url="/world/2220" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">اسرائیل کا قطر پر حملہ: حماس کے کون سے رہنما بچ گئے اور مارے جانے والے چھ افراد کون ہیں؟</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/2247</link>
      <subcategory>ابراہیم کاراگُل</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/9/16/3d69fa46-dp7nc3jtvven8hqdqet4uk.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 15:21:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>افغانستان میں داخل ہونا آسان ہے مگر نکلنا مشکل، کیا طالبان پشتون قوم پرست ہیں؟
انہوں نے اتنا مشکل مسئلہ کیسے حل کر لیا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yasin-aktay/2162</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/yasin-aktay/2162" rel="standout" />
      <description>طالبان، جو آج افغانستان میں حکومت کر رہے ہیں، اپنے وطن کے دفاع کا 48 سالہ ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ تجربہ قربانیوں، شہادتوں، غازیوں، اسٹریٹجک اور جنگی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ صبر اور استقامت سے حاصل ہوا ہے۔ ایسی کون سی سوچ، جذبہ یا ابن خلدون کے الفاظ میں ’عصبیہ‘ تھا، جس نے ان لوگوں کو اتنا پختہ کر دیا کہ انہوں نے پہلے روس اور پھر امریکہ کو افغانستان میں مداخلت پر پچھتانے پر مجبور کر دیا اور اور انہوں نے اپنی آزادی کے معاملے پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا؟ جب آپ انہیں قریب سے دیکھتے ہیں تو واضح ہو</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طالبان، جو آج افغانستان میں حکومت کر رہے ہیں، اپنے وطن کے دفاع کا 48 سالہ ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ تجربہ قربانیوں، شہادتوں، غازیوں، اسٹریٹجک اور جنگی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ صبر اور استقامت سے حاصل ہوا ہے۔ ایسی کون سی سوچ، جذبہ یا ابن خلدون کے الفاظ میں ’عصبیہ‘ تھا، جس نے ان لوگوں کو اتنا پختہ کر دیا کہ انہوں نے پہلے روس اور پھر امریکہ کو افغانستان میں مداخلت پر پچھتانے پر مجبور کر دیا اور اور انہوں نے اپنی آزادی کے معاملے پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا؟ جب آپ انہیں قریب سے دیکھتے ہیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی اصل طاقت انہیں مذہب سے ملتی ہے۔ ایسی سوچ جو نہ کسی جدید نظریے سے متاثر ہے نہ کسی سیاسی سوچ سے۔ بلکہ ان کا جذبہ خالص مذہبی بنیاد پر ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے لیبیا کے شیر عمر مختار نے 95 سال پہلے اپنے دشمن اطالوی کمانڈر کو کہا تھا، ویسے ہی طالبان بھی بار بار اپنے مخالفین کو کہتے رہے: ہماری تم سے لڑائی اس لیے ہے کہ ہمارا دین ہمیں اس کا حکم دیتا ہے۔ کیوں کہ تم قبضہ کرنے آئے ہو اور تم مسلمانوں کی سرزمین پر قابض ہو کر یہاں اپنی بے راہ روی مسلط کرنا چاہ رہے ہو۔ تم کہتے ہو کہ ہم یہ جنگ نہیں جیت سکتے کیوں کہ تم طاقت ور ہو اور سپر پاور ہو۔ لیکن ہمارے لیے جیت یا ہار کا فیصلہ کرنے والے تم کوئی نہیں۔ ہم تم سے لڑیں گے اور سو سال تک بھی لڑتے رہیں گے۔ اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم اتنا لڑ سکتے ہو تو آؤ، رہو یہاں۔ مگر یاد رکھنا کہ جتنی دیر بھی رہ لو، تم ہمیں ہرا نہیں سکو گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طالبان کے اس مؤقف نے بہت جلد امریکہ اور نیٹو افواج کو مایوس کر دیا۔ کچھ ہی وقت میں وہ کابل کے چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئے تھے اور شروع سے ہی وہ واپسی کا راستہ تلاش کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ طالبان کے بارے میں تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ وہ جاہل ہیں۔ لیکن یہی وہی گروپ ہے جس نے حیرت انگیز جنگی حکمتِ عملی اور کامیابیوں کے ذریعے امریکہ جیسی سپر پاور کو بھی خوف زدہ کر دیا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان کا تو مطلب ہی ’علم کے طلب گار‘ ہے۔ یہ وہی طالبان ہیں جنہیں بعض لوگ ناپسند بھی کرتے ہیں مگر انہوں نے منشیات کے مسئلے کو ایسے حل کیا جو اتنے کم وقت میں کوئی اور طاقت نہیں کر سکتی تھی۔ انہوں نے ایسا معاشرتی امن قائم کیا جو کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ اور انہوں نے پورے افغانستان میں ایک ایسا سیکیورٹی نظام قطالبان کے اس مؤقف نے امریکہ اور نیٹو افواج کو بہت جلد مایوس کر دیا۔ کچھ ہی وقت میں وہ کابل کے چند مخصوص علاقوں ائم کیا جو اس ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ہم نے ان سب باتوں کی مختلف ذرائع سے کئی بار جانچ کر کے تصدیق کی ہے۔ پچاس سال میں پہلی مرتبہ افغانستان میں لوگ پورے ملک میں آزادی سے اور کسی سیکیورٹی کے مسئلے کے بغیر سفر کر سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب ہم یہ سب باتیں کرتے ہیں تو ہمارا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ افغانستان ایک مکمل طور پر ترقی یافتہ اور جدید ملک بن گیا ہے اور ہر تاریخی و ثقافتی مسئلے سے آزاد ہو گیا ہے۔ بلکہ ہمارا زور طالبان کی اس غیر معمولی کارکردگی پر ہے کہ اسلامی امارت نے مختصر وقت میں کچھ ایسے بڑے مسائل کو حل کیا ہے جو کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ طالبان نے گزشتہ 20 سال تک پہاڑوں میں یا زیر زمین رہ کر قابض قوتوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑی ہے۔ وہ نہایت مشکل حالات میں مزاحمت کرتے رہے۔ اس عرصے میں ان کے پاس یہ سہولت ہی نہیں تھی کہ وہ ایک ایسی تربیت یافتہ ٹیم تیار کر سکیں جو ریاست کو پیشہ ورانہ انداز میں چلا سکے اور یہ ممکن بھی نہیں تھا۔ اسی لیے اب جب وہ اقتدار میں آئے ہیں تو حکومت کے کئی معاملات، حتیٰ کہ معمولی معاملات میں بھی، انہیں مسائل کا سامنا ہے۔ وہ ابھی تک مکمل طور پر ایسی بیوروکریسی قائم نہیں کر سکے جو ریاستی نظام کو مؤثر طریقے سے چلا سکے۔ لیکن اسی کمی میں ان کے لیے ایک فائدہ بھی چھپا ہوا ہے۔ کیوں کہ بیوروکریسی کی پیچیدگیوں سے آزاد ہونے کی وجہ سے وہ فیصلے تیزی سے کر سکتے ہیں۔ وہ اس وقت نئے نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور وہ اس مرحلے میں بہت سے معاملات کو بیوروکریٹک تاخیر سے بچا کر تیزی سے نمتا سکتے ہیں۔ البتہ ملک کو اب بھی کئی بڑے مسائل کا سامنا ہے جنہیں حل کیا جانا باقی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم نے دوستی پر اپنی کتاب کا عربی ایڈیشن افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کو پیش کیا۔ کابل کی گلیوں اور سڑکوں پر جو صفائی کا معیار ہم نے دیکھا وہ دوسرے مشرقی ملکوں کے مقابلے میں بے مثال تھا۔ یہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ وہاں بلدیاتی نظام مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔ جب ہم نے اس بارے میں مزید معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ یہ بھی طالبان کی ترجیحات میں شامل شعبوں میں سے ایک ہے۔ پہلے جب صفائی کے بڑے منصوبے چلائے جاتے تھے تو وہ پیچھے صرف کوڑا کرکٹ اور آلودگی کے ڈھیر چھوڑ جاتے تھے۔ اب نہایت کم خرچ میں ایسی صفائی کی جاتی ہے کہ شہر صاف ستھرا اور منظم دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح، بہت سے سڑکوں اور انفراسٹرکچر کے منصوبے جو پہلے ادھورے چھوڑ دیے گئے تھے یا شروع ہی نہیں ہو سکے تھے، اب تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں صرف چار سال کے اندر ایک قابلِ ذکر معاشی استحکام قائم ہو چکا ہے۔ جب اسلامی امارت نے اقتدار سنبھالا، اُس وقت ڈالر کی قیمت 130 افغانی کے قریب تھی۔ لیکن جلد ہی یہ گھٹ کر 65 سے 70 افغانی کے درمیان آ گئی اور تب سے اب تک اسی سطح پر برقرار ہے۔ اس دوران مہنگائی کی شرح تقریباً صفر کے قریب ہے۔ ہماری ملاقات کے دوران وزیر خارجہ امیر خان متقی نے یہ دعویٰ کیا کہ اس وقت افغانستان دنیا کا سب سے سستا ملک ہے۔ ہم نے اپنی کتاب ’دوستی پر‘ کا عربی ایڈیشن افغانستان کے وزیرِ تجارت نورالدین عزیزی کو بھی پیش کیا۔ اس موقع پر ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے یہ معاشی استحکام کیسے قائم کیا، ڈالر کی قدر کس طرح کم کی اور پھر اسے برقرار رکھا اور یہ سب کچھ جنگ کے بعد کی بدحالی اور عالمی پابندیوں کے باوجود کیسے ممکن ہوا؟ اس پر انہوں نے ایک دلچسپ تجزیہ اور کئی اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے ہم نے ملک میں ڈالر میں لین دین کو روک دیا۔ پہلے 90 فیصد تجارت ڈالر میں ہوتی تھی، اب 95 فیصد لین دین افغانی کرنسی میں ہو رہا ہے۔ ہم نے کرنسی کو ایک تجارتی چیز بننے سے بھی روکا ہے یعنی اب کوئی افغانی پر سٹے بازی یا چالاکی سے منافع حاصل نہیں کر سکتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے بدعنوانی کا خاتمہ کیا اور سرکاری اخراجات کو کم سے کم سطح پر لے آئے۔ ان اقدامات کی بدولت اب وہ مسائل بھی حل ہو رہے ہیں جو پہلے بڑے بجٹ ہونے کے باوجود حل نہیں ہو پاتے تھے اور ساتھ ہی اب کئی نئے منصوبے بھی بآسانی شروع کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے جب اس موضوع پر چند مثالیں پیش کیں تو وہ بھی طالبان کی اُن ’ناممکن‘ پالیسیوں کا عملی مظہر تھیں جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ ماضی میں کسی بھی صوبے کے گورنر کی تنخواہ اور اخراجات کبھی بھی 40 سے 50 ہزار ڈالر ماہانہ سے کم نہیں ہوتے تھے۔ اگر وہ کہیں سفر کرتا تو اس کے ساتھ 20 گاڑیوں کا قافلہ ہوتا۔ ب، وہی گورنر اپنی ذاتی گاڑی میں اکیلے دفتر جاتا ہے اور کچھ تو سائیکل پر بھی سفر کرتے ہیں۔ ان کی تنخواہ ایک ہزار ڈالر سے بھی کم ہے۔ کئی اعلیٰ افسران اپنا کھانا گھر سے ٹفن میں لاتے ہیں۔ سب سے نمایاں مثال افغانستان کے موجودہ رہنما شیخ ہبت اللہ اخوندزادہ کی زندگی ہے، جنہوں نے کابل آ کر حکومتی محل میں بیٹھنے کے بجائے قندھار میں اپنے مدرسے میں رہنے کو ترجیح دی۔ وہ مکمل طور پر عوامی نظروں سے دور رہتے ہیں اور ظاہری شان و شوکت سے الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ طرزِ زندگی طالبان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے نزدیک قیادت کسی نصیب کے انعام یا طاقت کی علامت نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری ہے جس کا روحانی پہلو بھی ہے۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایسا تصور جو ماضی میں بظاہر ناممکن تھا، یعنی ریاست اور اخلاق کا امتزاج، طالبان کی حکومت میں حقیقت بنتا دکھائی دیتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ادھر وزیرِ تجارت نورالدین عزیزی جو خود تاجک نسل سے تعلق رکھتے ہیں، طالبان حکومت میں ایک نہایت اہم عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ وہ خود کو اُن لوگوں کے الزامات کے خلاف ایک زندہ مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں جو طالبان کو صرف پشتون قوم پرست گروہ قرار دیتے ہیں۔ وہ طالبان حکومت کے کئی اعلیٰ عہدوں پر غیر پشتون افراد کے نام گنواتے ہیں جن میں سے ایک اہم نام ازبک نائب وزیرِاعظم عبدالسلام حنفی کا ہے۔ ان مثالوں کے بعد اُن لوگوں کے پاس کوئی جواز باقی نہیں رہتا جو خود کو ازبک قوم کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں یا راشد دوستم جیسے کرداروں کے خواب دیکھتے ہیں۔ جنہیں آج صرف جنگی جرائم کی یاد کے طور پر جانا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان راشد دوستم کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور طالبان پر پشتون قوم پرستی کا الزام لگا کر جو جگہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ ناکام ہے۔ وزیرِ تجارت عزیزی واضح طور پر کہتے ہیں کہ طالبان کی حکومت کسی تنگ نظر قوم پرستی پر مبنی نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسلامی امارت کے فیصلے تمام اقوام و اقلیتوں کی فلاح کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک کے تمام شہری، چاہے ان کا تعلق کسی بھی نسل یا قوم سے ہو، تجارت اور حکمرانی کے میدان میں برابر کے حقوق اور مواقع رکھتے ہیں۔ طالبان ذاتی یا نسلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ ان کی توجہ دینی اصولوں اور قومی مفاد پر مرکوز ہے۔ وزیرِ تجارت نے یہ بھی کہا کہ ان کا مقصد ایسی حکومت قائم کرنا ہے جو سیکیورٹی، معاشی استحکام، اور اخلاقی رہنمائی میں توازن قائم کرے۔</p><p><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">افغانستان کے دورے کے دوران ہم نے دیکھا کہ خواتین عوامی مقامات پر موجود ہیں۔ اگرچہ وہ دینی اصولوں کے مطابق پردے اور حدود کا خیال رکھتی ہیں۔ وہ اسپتالوں، اسکولوں، اور بعض دفاتر میں کام کر رہی ہیں جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں میں خواتین کو شرکت کی اجازت ہے۔ بشرطیکہ وہ ان کی شریعت کی تشریح کی خلاف ورزی نہ کریں۔تعلیم کے حوالے سے ایک واضح اور مضبوط توجہ موجود ہے۔ تمام طبقات کے لیے تعلیم کو اہم سمجھا جاتا ہے، اور دینی مدارس کے ساتھ ساتھ جدید تعلیمی ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو متوازن ہوں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کابل اور دیگر بڑے شہروں میں سیکیورٹی کی صورتِ حال واضح طور پر بہتر نظر آتی ہے۔ جگہ جگہ چیک پوسٹس، گشت کرنے والی ٹیمیں اور فوری ردِعمل والے دستے مؤثر انداز میں نظم و ضبط قائم رکھے ہوئے ہیں۔ جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور اغوا اور ڈکیتی جیسے واقعات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اب ایسا تحفظ محسوس کرتے ہیں جو کئی دہائیوں سے ناپید تھا۔ حتیٰ کہ غیر ملکی افراد بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ طالبان حکومت میں وہ خود کو توقع سے کہیں زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین الاقوامی پابندیاں اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں لیکن طالبان نے ان کا متبادل راستہ تلاش کر لیا ہے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت جاری ہے اور ملکی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ زراعت سے متعلق پالیسیوں، مقامی صنعت کاری اور درآمدات کے نظم و نسق نے ایک ایسا خودکفیل نظام قائم کیا ہے جو مکمل طور پر بیرونی امداد پر انحصار نہیں کرتا۔ عالمی دباؤ اور مالی پابندیوں کے باوجود، افغان معیشت میں استحکام اور مزاحمت کی علامات نظر آ رہی ہیں جو ایک مضبوط داخلی نظام کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملاقاتوں کے دوران حکومتی عہدے داروں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ صبر، دینی اصولوں سے وابستگی، اور عملی انداز میں مسائل کا حل ان کی حکمرانی کا بنیادی راستہ ہے۔ فیصلے اہم رہنماؤں کے مشورے سے کیے جاتے ہیں اور ان پر عمل درآمد میں رفتار اور ان کے مؤثر ہونے کو بیوروکریسی پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر کسی جگہ غلطی ہو جائے تو اسے جلد درست کیا جاتا ہے، اور حکومتی ڈھانچے کے اندر احتساب کا نظام بھی موجود ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگرچہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان اب بھی مکمل طور پر مثالی نہیں لیکن سیکیورٹی، معاشی استحکام، طرزِ حکمرانی، اور سماجی نظم و ضبط میں جو بہتری آئی ہے، وہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ مسائل اب بھی موجود ہیں لیکن صرف چند سالوں میں جو تیز اور مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں وہ قابلِ توجہ ہیں۔ جو بھی اس تحریک کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ صرف ظاہری تاثرات یا سنی سنائی باتوں پر نہ جائے، بلکہ ان کی پالیسیوں، مقاصد، اور عملی اقدامات کا بغور مشاہدہ کرے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ینی شفق اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yasin-aktay/2162</link>
      <subcategory>یاسین اکتائے</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/8/19/537806a4-l4g99af5ultqck69vos8.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 19 Aug 2025 13:54:50 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ پوتن ملاقات: معاہدے، قیاس آرائیاں اور سیاسی اثرات</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/2160</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/--/2160" rel="standout" />
      <description>الاسکا سمٹ ختم ہو گیا۔ ایسے اجلاسوں میں عام طور پر جو کچھ کہا یا طے پایا جاتا ہے، وہ مکمل طور پر عوام تک نہیں پہنچتا۔ کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد پوتن اور ٹرمپ نے انتہائی مختصر بیانات دیے۔ ایسی صورت میں جب میڈیا کے پاس مکمل معلومات نہیں ہوتیں، تو لوگ خود ہی باڈی لینگویج، رسمی انداز اور چند جھلکیوں کو دیکھ کر حد سے زیادہ مفہوم نکالنے لگتے ہیں۔ شفافیت کی کمی کی وجہ سے لوگ قیاس آرائی کرنے لگتے ہیں۔ میں نے اجلاس کی لائیو کوریج دیکھی۔ سب کچھ مضحکہ خیز لگ رہا تھا۔ کچھ صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ استقبالیہ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الاسکا سمٹ ختم ہو گیا۔ ایسے اجلاسوں میں عام طور پر جو کچھ کہا یا طے پایا جاتا ہے، وہ مکمل طور پر عوام تک نہیں پہنچتا۔ کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد پوتن اور ٹرمپ نے انتہائی مختصر بیانات دیے۔ ایسی صورت میں جب میڈیا کے پاس مکمل معلومات نہیں ہوتیں، تو لوگ خود ہی باڈی لینگویج، رسمی انداز اور چند جھلکیوں کو دیکھ کر حد سے زیادہ مفہوم نکالنے لگتے ہیں۔ شفافیت کی کمی کی وجہ سے لوگ قیاس آرائی کرنے لگتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">میں نے اجلاس کی لائیو کوریج دیکھی۔ سب کچھ مضحکہ خیز لگ رہا تھا۔ کچھ صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ استقبالیہ جان بوجھ کر سادہ رکھا گیا تاکہ پوتن کو ذلیل کیا جائے، حالانکہ یہ پروٹوکول کے مطابق تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ امریکی فائٹر جیٹ کا اوور فلائی اشارہ تھا کہ ٹرمپ پوتن کو اپنی طاقت یا اثرورسوخ دکھا رہے ہیں۔ پھر کچھ لوگوں نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے سویٹر پر لکھے ہوئے ’CCCP‘ (سابقہ سوویت یونین کا مخفف) کو روس کی طاقت دکھانے کا اشارہ سمجھا۔ لیکن حقیقت میں یہ سب بہت مضحکہ خیز تھا، لوگ ہر چھوٹی چیز کو زیادہ اہمیت دے کر تجزیہ کرنے لگے اور ہر کوئی باڈی لینگویج یا خفیہ علامات سمجھنے والا ماہر بن گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اصل میں، دکھائی جانے والی تصویری جھلکیاں بہت محدود تھیں۔ ٹرمپ اور پوتن ملاقات سے پہلے فوٹو کے لیے کھڑے ہوئے، سیدھے بیٹھے اور بہت کم حرکت یا تاثرات کے ساتھ، صحافیوں کی کسی قسم کی ردعمل حاصل کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کرتے ہوئے۔ ایک موقع پر پوتن نے کچھ بولا، لیکن آواز صاف سنائی نہیں دی۔ پھر صحافیوں کو باہر نکال دیا گیا، دروازے بند کر دیے گئے اور چند گھنٹوں بعد دونوں رہنما دوبارہ آئے، بغیر کسی جذبات کے مختصر اور سطحی بیانات دیے اور پھر اجلاس ختم ہو گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ سمٹ صرف امریکہ اور روس کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے نہیں تھا، جو بائیڈن کے دور میں تقریباً ختم ہو چکے تھے۔ بلکہ ایک منصوبہ بند قدم تھا تاکہ نئی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو۔ یہ اتفاقی ملاقات نہیں تھی، بلکہ مہینوں کی تیاری اور بات چیت کے بعد ہوئی۔ اس کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک پہلے ہی اہم مسائل پر متفق تھے، اور سمٹ کا مقصد ان معاملات کی تصدیق کرنا اور باقی قابلِ مذاکرات موضوعات پر بات کرنا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جن مسائل پر ابھی مکمل اتفاق نہیں تھا، ٹرمپ اور پوتن نے شاید کچھ سمجھوتے کیے۔ اگر کوئی پیش رفت ہوئی تو اچھا ہے، ورنہ وہ مسائل بعد میں دیکھے جائیں گے اور زیادہ توجہ اُن چیزوں پر دی گئی جہاں پہلے ہی اتفاق تھا۔ یہ عام مذاکرات کا طریقہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم کبھی مکمل تفصیل نہیں جان پائیں گے، لیکن اندازہ صاف ہے: اختلافات سے زیادہ معاہدے ہوئے۔ اور اس کا اثر صرف امریکہ-روس تعلقات تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہے۔ پھر بھی، الاسکا سمٹ کو یالٹا سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ یالٹا دوسری جنگِ عظیم کے بعد ’تین بڑی طاقتوں‘ کا ایک اہم تقسیم شدہ اجلاس تھا۔ الاسکا سمٹ زیادہ تر اس طرح کے غیر مستحکم معاہدوں کی طرح ہے جو دوسری جنگِ عظیم سے پہلے کیے گئے تھے۔ یاد رکھیں، شروع میں برطانیہ ہٹلر کی بڑھتی ہوئی طاقت سے زیادہ پریشان نہیں تھا، بلکہ اس میں نازی حمایت بھی عام تھی۔ چیمبرلین نے نازی ازم کو سوویت یونین کے خلاف ایک مفید آلہ سمجھا، اور اسٹالن نے بھی ہٹلر کے ساتھ غیر حملہ کا معاہدہ کیا۔ ہم جانتے ہیں یہ کیسے ختم ہوا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو نہیں، الاسکا سمٹ سے کوئی نئی عالمی نظام پیدا نہیں ہوگا۔  اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ امریکہ اور روس کے تعلقات ہمیشہ اچھے رہیں گے۔ اگر یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے اور انڈیا بھی شامل ہوا، تو وہ ممالک جو باہر رہ جائیں، جیسے چین، برطانیہ، جرمنی اور فرانس، ردعمل دیں گے۔ انہیں ہلکا مت لینا، وہ بس خاموشی سے نہیں دیکھیں گے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ بیجنگ اور لندن کس طرح ردعمل دکھائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">باہر سے یہ اثرات فوراً ظاہر نہیں ہوں گے۔ لیکن ملک کے اندر، خاص طور پر ٹرمپ کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ پوتن اس معاملے میں زیادہ فکر نہیں ہے۔ تاہم ٹرمپ پہلے ہی کسی نہ کسی بہانے نیشنل گارڈ کو سڑکوں پر بھیجنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ اس پر قریب سے نظر رکھنا ضروری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکی کے لیے سبق یہ ہے کہ فیصلے کرتے وقت تمام ممکنہ نتائج کا خیال رکھنا ضروری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ینی شفق اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/2160</link>
      <subcategory>سلیمان سیفی اوئن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/8/19/377a4f3d-8q75n4hgmjnzjkqnxw4i0r.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 19 Aug 2025 09:55:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا فرانس اور برطانیہ فلسطین کو ریاست تسلیم کر لیں گے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/2140</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/2140" rel="standout" />
      <description>فرانس اور برطانیہ نے حال ہی میں یکے بعد دیگرے یہ بیانات دیے کہ وہ فلسطین کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ مگر یہ اعلانات کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں اور بالخصوص ان ممالک کی ساکھ پر سوال اٹھتے ہیں۔ یہ شک و شبہ بالکل جائز ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہی دونوں ملک ماضی میں مشہور سائکس-پیکو معاہدے کے فریق تھے۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس نے موجودہ دور کے بہت سے تنازعات کی بنیاد رکھی۔ اس معاہدے کے تحت سلطنتِ عثمانیہ کے علاقوں کو سرحدوں میں تقسیم کیا گیا اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹ دیا گیا۔ اور اسی تقسیم نے اسرائیل</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فرانس اور برطانیہ نے حال ہی میں یکے بعد دیگرے یہ بیانات دیے کہ وہ فلسطین کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ مگر یہ اعلانات کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں اور بالخصوص ان ممالک کی ساکھ پر سوال اٹھتے ہیں۔ یہ شک و شبہ بالکل جائز ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہی دونوں ملک ماضی میں مشہور سائکس-پیکو معاہدے کے فریق تھے۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس نے موجودہ دور کے بہت سے تنازعات کی بنیاد رکھی۔ اس معاہدے کے تحت سلطنتِ عثمانیہ کے علاقوں کو سرحدوں میں تقسیم کیا گیا اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹ دیا گیا۔ اور اسی تقسیم نے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانیہ نے اسرائیل کے قیام کے لیے 30 سال کوششیں کیں جب کہ فرانس نے اس نوآبادیاتی نظام کی مسلسل حمایت کی۔ یہی فرانس تھا جس نے اسرائیل کو ایٹمی ہتھیار فراہم کیے جن کی وجہ سے اسرائیل کو ایسا مقام مل گیا جہاں کوئی اسے چھو بھی نہ سکے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد، اسرائیل کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہو گئی اور اس نے فوراً توسیع کی پالیسی اپنا لی۔ اس کے بعد فلسطین کا مسئلہ صرف علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ انسانیت کا بحران بن گیا۔ بعد ازاں جرمنی نے بھی خوش دلی سے اس نوآبادیاتی منصوبے کو قبول کر لیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان مغربی طاقتوں نے اس نوآبادیاتی منصوبے کو ایک نظریاتی کہانی میں لپیٹ کر پیش کیا جو یہودیوں کی مظلومیت کے بیانیے پر مبنی تھی۔ سات اکتوبر 2023 تک ان کے راستے میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں تھی۔ لیکن یہی دن ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے ایک صدی پرانے نظام کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ سامراجی طاقتیں اپنا اخلاقی لبادہ اتار کر اور کھل کر سب کے سامنے آ گئیں۔ دنیا کی نظریں جب ان کے اقدامات پر مرکوز ہوئیں تو اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسرائیل کے مظالم سب کو نظر آنے لگے جس کا شاید ان قوتوں کو اندازہ نہیں تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فرانس اور برطانیہ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے سے متعلق بیانات بظاہر اسرائیل کے لیے تنبیہ کے طور پر پیش کیے گئے ہیں لیکن ان بیانات کو اگر اس ماضی کے تناظر میں دیکھیں تو انہیں بہت احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر ملک کے اسرائیل کے ساتھ تعلق اور صہیونیت کے ساتھ وابستگی کو الگ الگ جانچنا ہوگا۔ اگرچہ ان دونوں ممالک کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن اسرائیل کے ساتھ ان کا اتحاد اس چیز سے جڑا ہے جسے وہ ’ریاستی مفاد‘ کہتے ہیں۔ جرمنی کی سابق چانسلر انجیلا مرکل نے ایک بار کہا تھا کہ ’اسرائیل کی سلامتی جرمنی کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے‘۔ ان کے بعد جرمن وزیرِ خارجہ انالینا بیئربوک نے اور بھی کھل کر کہا کہ ’جب تک اسرائیل کی سلامتی یقینی نہیں ہو جاتی، ہم شہریوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنانے سے ہچکچائیں گے نہیں۔ یہ ہمارا فرض ہے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عام تاثر کے برخلاف برطانیہ نے بھی کھلے عام اسرائیل کی توسیع پسندانہ جارحیت اور آبادکاروں کے تشدد کی حمایت کی ہے۔ برطانوی لیبر پارٹی کے رہنما کیئر اسٹارمر نے تو اور زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا جب انہوں نے یہ کہا کہ اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ وہ غزہ کی خوراک، پانی اور بجلی بند کر دے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہوں نے فلسطینیوں کو اجتماعی بھوک کا شکار بنانے کو جائز قرار دے دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تقریباً ایک صدی سے یہ ریاستیں اسرائیل کو ایک ’منافع بخش سرمایہ کاری‘ کے طور پر دیکھتی آئی ہیں۔ اور یہ جملہ کسی اور کا نہیں بلکہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کا ہے۔ یہی سوچ ان تمام مغربی ممالک کی حکمران اشرافیہ میں پائی جاتی ہے جن کا پہلے ذکر ہوا۔ لیکن عوامی سطح پر صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ لوگوں میں اسرائیل کے خلاف شدید غصہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں لیبر پارٹی کے ایک سابق رہنما جیریمی کوربن، جو فلسطین کے معاملے پر اپنی جماعت سے اختلاف رکھتے ہیں، مبینہ طور پر ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ یہ جماعت عوامی مقبولیت حاصل کر سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم اس کے باوجود بااثر اشرافیہ کی صہیونیت کے لیے حمایت بدستور قائم ہے۔ امریکہ میں بھی اسی قسم کی تقسیم اب واضح ہونے لگی ہے اور وہاں یہ نظریاتی خلیج شاید اور بھی گہری ہو رہی ہے۔ لیکن یہ تبدیلیاں ابھی تک پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتیں۔ نہ صرف حکومتی طبقہ بلکہ علمی اور فکری حلقوں کا ایک بڑا حصہ بھی اب تک اسرائیل کی حمایت کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کی توسیع پسندانہ جارحیت اور سامراجی قوتوں کی طرف سے اسے ملنے والی غیر متزلزل حمایت کے مقابلے میں اب سب سے فیصلہ کن کردار ترکیہ اور مسلم دنیا کے ردعمل کا ہوکا۔ عام تاثر کے برخلاف مسلم دنیا نے ہمیشہ سامراج کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ سات اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی عوام نے جس حیرت انگیز مزاحمت کا مظاہرہ کیا، وہ عالمی توجہ کا حق دار ہے۔ مگر اسے وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دی جانی چاہیے تھی۔ اس دن کے بعد سے صہیونی اسرائیل کے گرد بنائے گئے بہت سے ’افسانے‘ ایک ایک کر کے ٹوٹتے جا رہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں عوامی رائے تیزی سے اسرائیل سے وابستہ ہر چیز کے خلاف ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے عالمی غلبے کا جو نظام بنایا ہوا تھا، اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ شہید یحییٰ سنوار اور ان کے ساتھیوں نے ان کی نام نہاد ناقابلِ شکست حیثیت کو پاش پاش کر دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ ان کی شراکت داری بے نقاب ہو چکی ہے لیکن فرانس اور برطانیہ نے گزشتہ دو برسوں میں واضح کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی حمایت سے اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ وقتی سیاسی چالوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کریں لیکن ان کے طویل المدتی اہداف اب بھی وہی ہیں۔ تاہم اگر اندرونِ ملک عوامی مخالفت کافی مضبوط ہو گئی تو ان کی پالیسیوں میں تبدیلی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ مسلم دنیا کو ان طاقتوں کے خلاف ایک مضبوط، متحد اور واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ صرف اسی صورت میں حالات کے دھارے کو موڑا جا سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ینی شفق اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/2140</link>
      <subcategory>سِلچک ترکیلماز</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/8/12/d8625e1d-6uf8gw3dzvpiatwz9e2vjk.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 11 Aug 2025 14:55:21 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’اسرائیل کی مسلسل حمایت امریکہ کے لیے اب سیاسی بوجھ‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/2089</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/2089" rel="standout" />
      <description>امریکہ میں اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کے حوالے سے عوامی رائے میں ڈرامائی تبدیلی نے صیہونیوں اور ان کے امریکی اتحادیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ تمام ووٹر گروپس (جیسے نوجوان، بوڑھے، ریپبلکن، ڈیموکریٹس وغیرہ) میں اسرائیل کے لیے ہمدردی میں کمی آ رہی ہے۔ اسی دوران   پہلے جس ’اسرائیل لابی‘ کو پسِ پردہ سمجھا جاتا تھا، وہ اب کھل کر وائٹ ہاؤس اور کانگریس پر اثرانداز ہوتی نظر آ رہی ہے اور یہ بات عوام میں تنازع اور سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ یہ تبدیلی ڈیموکریٹک پارٹی پر سب سے</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ میں اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کے حوالے سے عوامی رائے میں ڈرامائی تبدیلی نے صیہونیوں اور ان کے امریکی اتحادیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ تمام ووٹر گروپس (جیسے نوجوان، بوڑھے، ریپبلکن، ڈیموکریٹس وغیرہ) میں اسرائیل کے لیے ہمدردی میں کمی آ رہی ہے۔ اسی دوران   پہلے جس ’اسرائیل لابی‘ کو پسِ پردہ سمجھا جاتا تھا، وہ اب کھل کر وائٹ ہاؤس اور کانگریس پر اثرانداز ہوتی نظر آ رہی ہے اور یہ بات عوام میں تنازع اور سوالات کو جنم دے رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ تبدیلی ڈیموکریٹک پارٹی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔ پارٹی کی پرانی لیڈرشپ اور نوجوان کارکنوں کے درمیان اختلاف بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی اختلاف 2024 کے الیکشن میں کملا ہیرس کی ہار کی بڑی وجہ بنا۔ جب وہ بائیڈن کے ساتھ نائب صدر تھیں، تو انہوں نے پارٹی کے نوجوان اور ترقی پسند لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کیا اور اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد پر کوئی شرط لگانے سے انکار کر دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مین سٹریم میڈیا اور ڈیموکریٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے کملا ہیرس کی شکست میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کے کردار کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی۔ الیکشن کے بعد جب میڈیا اداروں نے تجزیے کیے تو انہوں نے پارٹی کے نوجوان اور ترقی پسند ووٹرز کی رائے اور خدشات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے، نظر انداز کر دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/7/29/766c0a4f-befunky-collage---2025-07-29t183205953.jpg" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/7/29/766c0a4f-befunky-collage---2025-07-29t183205953.jpg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن نیویارک کے میئر کے لیے ہونے والے حالیہ ڈیموکریٹک پرائمری الیکشن نے پارٹی کے بڑے رہنماؤں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ظہران ممدانی، جو اسرائیل پر کھل کر تنقید کرتے ہیں، نے اسرائیل کے پُرجوش حامی اور سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دے دی۔ یوگنڈا میں ایک انڈین خاندان میں پیدا ہونے والے ممدانی کی جیت نے اسرائیل لابی اور ڈیموکریٹک قیادت دونوں کو حیران کر دیا۔ اب پارٹی کی اعلیٰ قیادت یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے کہ ممدانی کی امیدواری کے جواب میں کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیویارک، جو امریکی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے، میں ممدانی کی مقبولیت ڈیموکریٹ پارٹی کے اسرائیل نواز  حلقے کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے: کیا پارٹی کی قیادت آخرکار یہ تسلیم کرے گی کہ اسرائیل کی اندھی حمایت اب ان کے لیے سیاسی نقصان کا سبب بن رہی ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیموکریٹس پہلے ہی صدارتی الیکشن ہار چکے ہیں اور اب کانگریس کے دونوں حصوں (یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ) میں بھی ان کی اکثریت نہیں رہی۔ 2026 میں ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں اور سینیٹ کی کچھ نشستوں پر دوبارہ انتخابات ہوں گے۔ ایسے وقت میں جب ’فلسطینیوں کی نسل کشی‘ کی خبریں ہر جگہ چھائی ہوئی ہیں، اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے جذبات کو نظر انداز کرنا اب مشکل ہو گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک لبرل یہودی مصنف پیٹر بینارٹ نے 6 جولائی کو نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے کالم ’ڈیموکریٹس کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اسرائیل پر رائے تیزی سے بدل رہی ہیں‘ میں اس صورتحال کو واضح انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے لکھا کہ جن لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ ممدانی پرائمری الیکشن ہار جائیں گے، وہ عوامی رائے میں آنے والی تبدیلی کو سمجھنے میں ناکام رہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> بینارٹ کے مطابق ممدانی کی غیر متوقع جیت اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی منظرنامہ اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نوجوان ڈیموکریٹس اور پارٹی کی پرانی قیادت کے درمیان اسرائیل کے حوالے سے بڑھتا ہوا فرق پارٹی کے مستقبل کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ بینارٹ نے لکھا کہ اگر ڈیموکریٹس نے اسرائیل اور فلسطین سے متعلق عوامی رائے میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کو نظر انداز کیا، تو یہ ان کے لیے ایک سنگین غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بینارٹ نے حالیہ سروے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا:</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’2013 میں ڈیموکریٹس اسرائیل کو فلسطینیوں پر 36 پوائنٹس کی برتری سے ترجیح دیتے تھے۔ آج وہ فلسطینیوں کو اسرائیل پر 38 پوائنٹس سے ترجیح دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ نوجوان ریپبلکنز، خاص طور پر 50 سال سے کم عمر لوگ، بھی اب اسرائیل کو منفی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مختصراً یہ کہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اب امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے اندر ایک شدید متنازع مسئلہ بن چکی ہے۔ پارٹی قیادت اور نوجوان ووٹرز کے درمیان بڑھتا ہوا یہ ٹکراؤ امریکی سیاست کا مستقبل بدل سکتا ہے۔ جیسے جیسے امریکی عوام کی نظر میں اسرائیل ایک سیاسی اور اخلاقی بوجھ بنتا جا رہا ہے، یہ اندرونی اختلافات مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عالمی سطح پر بھی امریکہ کو اب ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو صرف اسرائیل کی پالیسیوں کا تسلسل ہے اور یہی تاثر واشنگٹن کو دنیا میں پہلے سے زیادہ تنہا کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/2089</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/7/29/09de9494-ljgu25wu13rgr05lrsvv.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 16:28:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>نیتن یاہو ہر معاملے میں ٹرمپ کے حامی، شام کے معاملے پر کیوں نہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2060</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2060" rel="standout" />
      <description>بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سات ماہ کے دوران شام نے سیاسی استحکام کی طرف نمایاں پیش رفت کی ہے۔ تاہم السویدہ میں بدامنی کے حالیہ واقعات یہ یاد دلاتے ہیں کہ آگے کا سفر اب بھی طویل اور مشکل ہے۔ احمد الشراع کی قیادت میں شام کی نئی حکومت نے مختلف گروپس کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی سفارتی شناخت حاصل کرنے کے لیے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی سے لے کر نسلی اور فرقہ وارانہ برادریوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے تک، شام میں کئی مثبت پیش رفتیں ہوئی ہیں۔تاہم</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سات ماہ کے دوران شام نے سیاسی استحکام کی طرف نمایاں پیش رفت کی ہے۔ تاہم السویدہ میں بدامنی کے حالیہ واقعات یہ یاد دلاتے ہیں کہ آگے کا سفر اب بھی طویل اور مشکل ہے۔ احمد الشراع کی قیادت میں شام کی نئی حکومت نے مختلف گروپس کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی سفارتی شناخت حاصل کرنے کے لیے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی سے لے کر نسلی اور فرقہ وارانہ برادریوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے تک، شام میں کئی مثبت پیش رفتیں ہوئی ہیں۔تاہم السویدا کے واقعات میں اسرائیل کا جو کردار رہا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں استحکام اب بھی علاقائی حالات سے جڑا ہوا ہے۔ اسرائیل کی مداخلت کو اس کی ان مسلسل کوششوں کے حصے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جن کا مقصد خطے میں طاقت کا توازن اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اسرائیل کی یہ کوشش اس وقت مزید شدت سے نظر آئی جب اس نے ایران پر حملہ کر کے امریکہ کو بھی اس جنگ میں جھونک دیا تھا۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">واشنگٹن کی ’تشویش‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل نے السویدہ میں ہونے والی جھڑپوں میں اس جواز کے تحت مداخلت کی کہ وہ دروز آبادی کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ لیکن بالآخر اسے واشنگٹن کے دباؤ پر جنگ بندی کرنا پڑی۔ اس سے قبل بھی نیتن یاہو کی حکومت دروز کے تحفظ کے نام پر بدامنی کو ہوا دے چکی ہے۔ لیکن شام میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں براہِ راست مداخلت سے لگتا ہے کہ اسرائیل یہ نارملائز کرنا چاہتا ہے کہ وہ جب چاہے شام کے اندر آزادانہ کوئی کارروائی کر سکے۔ دمشق اور شامی سرحدی علاقوں پر اسرائیل کے حملے اب معمول بن چکے ہیں جو ٹرمپ انتظامیہ کی شام میں استحکام لانے کی ترجیح سے بھی واضح طور پر متصادم نظر آتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ شام سے مکمل انخلا کے خواہش مند ہیں اور دمشق کو امن و امان بحال کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔ مگر نیتن یاہو کا مؤقف ان سے مختلف ہے جو جنوبی شام کو "غیر عسکری" بنانے کی بات کرتے ہیں۔ امریکہ کے ترکیہ میں سفیر اور شام کے لیے خصوصی نمائندے ٹام بیرک نے اسرائیل کی مداخلت کو اپنے دفاع کا اقدام قرار دیا۔ لیکن ساتھ ہی اسے "بہت الجھن زدہ" اور "انتہائی نامناسب وقت پر کیا گیا" عمل بھی کہا جو واشنگٹن کی ناراضی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ہاؤس سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے شام پر حملے اور غزہ میں ایک کیتھولک چرچ پر حملہ صدر ٹرمپ کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ ان واقعات کے بعد ٹرمپ نے فوراً اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو فون کیا تاکہ "معاملہ سلجھایا جا سکے"۔ امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض ارکان نجی محفلوں میں نیتن یاہو کو "پاگل آدمی" کہنے لگے ہیں۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو کی بے لگام مہم</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سات اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سے نیتن یاہو مستقل جنگی کیفیت میں دکھائی دیتے ہیں اور وہ اپنا سیاسی مستقبل خطے میں محاذ آرائی پر تعمیر کر رہے ہیں۔ اسرائیل اب قومی خودمختاری کی پروا کیے بغیر لبنان، ایران، شام اور یمن کو بھی اپنے نشانے پر رکھ چکا ہے۔ نیتن یاہو ایک ایسی اسٹریٹیجک حقیقت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر کہیں بھی مداخلت کر سکے۔ اگرچہ وہ وقتی طور پر واشنگٹن کے خدشات دور کرنے کے لیے محدود اقدامات کر سکتے ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ وہ اپنے موجودہ راستے پر ہی چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ عوامی سطح پر ناراضی کے باوجود امریکہ کی اسرائیل کے لیے حمایت برقرار رہے گی۔ اسی یقین کی بنیاد پر اسرائیل سمجھتا ہے کہ اسے کسی سیاسی یا عسکری ردِعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو مؤثر طور پر بائیڈن اور ٹرمپ دونوں کی انتظامیہ کو ایسی پوزیشن میں دھکیلنے میں کامیاب رہے ہیں جہاں وہ اسرائیل کو روکنے کے بجائے اس کے اقدامات کے بعد "صورتِ حال کو سنبھالنے" میں مصروف رہتے ہیں۔ اسی لیے نیتن یاہو کو یہ ایسا تاریخی موقع نظر آ رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو خطے میں ایک ایسی طاقت کے طور پر منوا لیں جو آزادی سے جب جو چاہے کر سکے۔ ٹام بیرک کے اشارے کے مطابق اسرائیل خطے میں مضبوط خودمختار ریاستیں نہیں چاہتا۔ اسرائیل فوجی مداخلتوں کے ذریعے اور دروز اقلیت اور کرد وائے پی جی پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ شام کے داخلی معاملات کی سمت خود طے کرنا چاہتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">​​ہم نے پہلے اس پر بات کی تھی کہ بشارالاسد کے بعد شام کا مستقبل اس کی اس صلاحیت پر منحصر ہوگا کہ وہ اندرونی تنازعات اور علاقائی دباؤ کو کس حد تک سنبھال پاتا ہے۔ گزشتہ سات ماہ کے دوران علویوں اور دروز گروہوں کے درمیان داخلی جھڑپوں اور اسرائیلی مداخلتوں نے شام کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ اسرائیل کی موجودہ پالیسیوں کی بنیاد پر یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ وہ شام کو ایک تقسیم شدہ، کمزور اور غیر خودمختار ملک کے طور پر ہی دیکھنا چاہتا ہے ۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے برعکس ٹرمپ انتظامیہ شام کو ایسے ملک کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے جہاں استحکام اور مختلف نسلی و مذہبی گروہوں کی نمائندگی ہو۔ بائیڈن حکومت کی جانب سے افغانستان سے جلد بازی میں کیے گئے انخلا کے برعکس ٹرمپ چاہتے ہیں کہ شام سے انخلا زیادہ منظم طریقے سے ہو۔ لیکن بجائے اس کے کہ نیتن یاہو پر مسلسل دباؤ ڈالیں، وہ سیکیورٹی کے نام پر اسرائیلی اقدامات کا جواز پیش کرتے نظر آتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حالاں کہ سب یہ بات جانتے ہیں کہ شام اسرائیل کے لیے کوئی حقیقی خطرہ نہیں اورشام میں استحکام خطے کی سیکیورٹی کے لیے نہایت اہم ہے۔ مگر نیتن یاہو کو اس بات پر قائل کرنا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واشنگٹن میں اسرائیل کے حامی گروپ پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ دمشق سے مزید مطالبات کرے جس سے نیتن یاہو کو مزید چالیں چلنے کی گنجائش ملتی ہے۔ یہ بات دن بدن زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ شام کے مستقبل کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل ایک صفحے پر نہیں ہیں اور اس فاصلے کو کم کرنا بھی آسان کام نہیں ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ امریکہ ایک مستحکم اور متحد شام کو ترجیح دیتا ہے، اسرائیل واضح طور پر ایک منقسم اور کمزور شام کی کوششیں کر رہا ہے۔ واشنگٹن اس بات پر بھی آمادہ نظر نہیں آتا کہ وہ اتنا سیاسی دباؤ ڈالے کہ اپنی پالیسی کو نافذ کرا سکے۔ اگر صدر ٹرمپ واقعی یہ چاہتے ہیں کہ ان کے دورِ صدارت کے بعد شام مکمل انتشار کا شکار نہ ہو تو انہیں اسرائیلی مداخلت کے خلاف کہیں زیادہ سخت مؤقف اپنانا ہوگا۔ لیکن اب تک واشنگٹن صرف اس حد تک مطمئن دکھائی دیتا ہے کہ اسرائیلی مداخلت کو معمولی سطح تک محدود رکھا جائے۔ اور وہ اتنی سختی نہیں کرنا چاہتا جو تل ابیب کو خطے کے لیے امریکی وژن قبول کرنے پر مجبور کر سکے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/2060</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/7/23/e5dd0817-r86id0kn993ec41j399qd.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 23 Jul 2025 13:24:39 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بدلتے اتحاد، نیا عالمی منظرنامہ: کیا 2025 میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/mehmet-akif-soysal/1962</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/mehmet-akif-soysal/1962" rel="standout" />
      <description>روس یوکرین جنگ کے بعد دنیا میں کشیدگی اور پولرائزیشن میں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ دنوں میں یہ کھلے عام تصادم کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پہلے انڈیا اور پاکستان کے درمیان اور پھر اسرائیل اور ایران کے درمیان۔اگرچہ فی الحال انڈیا-پاکستان اور اسرائیل-ایران کے درمیان لڑائی تھم چکی ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ تنازعات مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی معاملے میں کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا جو مستقل امن کی ضمانت دے سکے۔ جہاں تک روس اور یوکرین کی جنگ کا تعلق ہے، تو اس پر عالمی توجہ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس یوکرین جنگ کے بعد دنیا میں کشیدگی اور پولرائزیشن میں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ دنوں میں یہ کھلے عام تصادم کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پہلے انڈیا اور پاکستان کے درمیان اور پھر اسرائیل اور ایران کے درمیان۔اگرچہ فی الحال انڈیا-پاکستان اور اسرائیل-ایران کے درمیان لڑائی تھم چکی ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ تنازعات مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی معاملے میں کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا جو مستقل امن کی ضمانت دے سکے۔ جہاں تک روس اور یوکرین کی جنگ کا تعلق ہے، تو اس پر عالمی توجہ دن بدن کم ہوتی جارہی ہے، نہ کوئی جنگ بندی ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی امن معاہدہ ہوا ہے۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو پھر اگلا خطرناک محاذ کون سا ہو سکتا ہے؟</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر امریکی خزانے کے بانڈز کے چارٹ پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ جاپان پچھلے پندرہ سال سے تقریباً ایک ہی سطح پر اپنی سرمایہ کاری برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ برطانیہ نے اپنی سرمایہ کاری دوگنی کر دی ہے۔ لیکن سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ چائنہ مسلسل امریکی بانڈز میں اپنی سرمایہ کاری کم کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ مالیاتی اتار چڑھاؤ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ اگلا بڑا تناؤ معیشت کے محاذ پر ہو، خاص طور پر امریکہ اور چین کے درمیان۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو 2025 میں کیا صورتحال ہے؟</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی رجحان کا تسلسل اس سال بھی نظر آ رہا ہے۔ چائنہ نے امریکا کو جو قرض دیا ہوا تھا، وہ پچھلے بیس سال میں سب سے کم ہو گیا ہے۔ دوسری طرف برطانیہ امریکا کے بانڈز زیادہ سے زیادہ خرید رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے چائنہ پیچھے ہٹ رہا ہے اور اس کی جگہ برطانیہ لے رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ صورتحال چائنہ کی کسی بڑی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ کیا کرنے والا ہے، یہ ابھی واضح نہیں، لیکن ایک بات صاف ہے: چائنہ کچھ بڑا کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ </p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تقریباً ایک صدی تک چائنہ مغربی دنیا کے ساتھ کھڑا رہا۔ لیکن کس کے خلاف؟</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تقریباً 100 سال تک چائنہ مغربی ممالک (جیسے امریکہ، برطانیہ) کے ساتھ کھڑا رہا، خاص طور پر جاپان کے خلاف۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ نے پہلی عالمی جنگ میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا، اگرچہ اس کی سرزمین پر جرمنی اور جاپان کے درمیان جھڑپیں ضرور ہوئیں۔ دوسری عالمی جنگ میں چائنہ نے جاپان کے خلاف مغرب کا ساتھ دیا۔ جاپان کی بڑھتی فوجی طاقت کے باوجود چائنہ نے آٹھ سال تک مزاحمت جاری رکھی۔ اس مزاحمت نے جاپان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی مکمل فوجی طاقت سوویت یونین کے محاذ یا بحرالکاہل کی طرف نہ موڑ سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی مزاحمت کے باعث امریکا نے چائنہ کو ’چوتھا بڑا اتحادی‘ قرار دیا (امریکا، برطانیہ اور سوویت یونین کے ساتھ) اور جنگ کے بعد چائنہ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت ملی۔ یوں چائنہ ان چند ایشیائی ممالک میں سے ایک بن گیا جس نے جاپان سے براہِ راست جنگ لڑی اور بین الاقوامی سطح پر خود کو منوایا۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب وہی چائنہ اور جاپان جو ایک دوسرے کے مخالف تھے، اب ان کی پوزیشنیں الٹ گئی ہیں۔ دوسری طرف چائنہ کا رویہ بتا رہا ہے کہ وہ اب مغرب کا ساتھ چھوڑ کر کوئی نیا راستہ اپنا رہا ہے۔ اب جاپان مکمل طور پر امریکا اور مغربی دنیا کا اتحادی بن چکا ہے، جبکہ چائنہ کے رویے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنا راستہ تبدیل کر چکا ہے۔ چائنہ کی طرف سے امریکی بانڈز کم کرنا اس کی پالیسی میں تبدیلی کا واضح ثبوت ہے۔ جیسے دوسری جنگِ عظیم میں امریکا اور سوویت یونین اتحادی تھے لیکن بعد میں دشمن بن گئے اور سرد جنگ شروع ہوئی، ویسی ہی ایک دراڑ اب امریکا اور چائنہ کے درمیان بنتی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئے اتحاد اور تقسیم اب امریکی خزانے کے بانڈز کے ذریعے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے، لیکن کیا وہ براہِ راست جنگ چھیڑے گا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> میری رائے میں امریکا اور سوویت یونین جیسی سرد جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ کیونکہ اگر امریکا اور چائنہ جیسے دو بڑے طاقتور ممالک آپس میں کھلی جنگ میں اُترے، تو یہ پوری دنیا کے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسی جنگ میں سب ہاریں گے۔۔۔۔ کوئی نہیں جیتے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/mehmet-akif-soysal/1962</link>
      <subcategory>مہمت عاکیف سویسل</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/7/1/ce005a33-sblx9tsk3ai2w5hrvu2bn.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 01 Jul 2025 12:10:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران، اسرائیل اور ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کے بیچ الجھا امریکہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1951</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1951" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں کیے گئے وعدے پورے نہ ہونے کا الزام ’ڈیپ اسٹیٹ‘ پر عائد کیا۔ یہ اصطلاح ایسے خفیہ بیوروکریٹس اور سیاسی اشرافیہ کے گروہ کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اپنی مرضی سے پالیسیاں بناتے ہیں اور غیرمعمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے حامیوں کے مطابق ’ڈیپ اسٹیٹ‘ ہی وہ طاقت ہے جو امریکا کو مہنگی اور طویل جنگوں میں دھکیلتی رہی ہے، جن پر کھربوں ڈالر خرچ ہوئے اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ یوں ان کے نزدیک امریکا کے تمام بڑے مسائل کی جڑ یہی ’ڈیپ اسٹیٹ‘ ہے۔ اپنی دوسری مدتِ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں کیے گئے وعدے پورے نہ ہونے کا الزام ’ڈیپ اسٹیٹ‘ پر عائد کیا۔ یہ اصطلاح ایسے خفیہ بیوروکریٹس اور سیاسی اشرافیہ کے گروہ کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اپنی مرضی سے پالیسیاں بناتے ہیں اور غیرمعمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے حامیوں کے مطابق ’ڈیپ اسٹیٹ‘ ہی وہ طاقت ہے جو امریکا کو مہنگی اور طویل جنگوں میں دھکیلتی رہی ہے، جن پر کھربوں ڈالر خرچ ہوئے اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ یوں ان کے نزدیک امریکا کے تمام بڑے مسائل کی جڑ یہی ’ڈیپ اسٹیٹ‘ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اپنی دوسری مدتِ صدارت کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے بارہا وعدہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت کو ڈیپ اسٹیٹ کے اثر سے پاک کریں گے۔ اس مقصد کے لیے اُن کے ایک نمایاں اقدام میں تولسی گیبارڈ کو، جو ڈیموکریٹک پارٹی چھوڑ کر ریپبلکن کیمپ میں شامل ہو چکی تھیں، نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر مقرر کرنا شامل تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مارچ میں کانگریس کو دی گئی ایک معمول کی انٹیلیجنس بریفنگ میں تولسی گیبارڈ نے رپورٹ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے۔ تاہم جب صدر ٹرمپ کینیڈا میں منعقدہ جی-7 سربراہی اجلاس سے واپس آئے اور ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تلخ انداز میں کہا کہ ’مجھے پروا نہیں کہ اُس نے کیا کہا، ایران بم بنانے کے بہت قریب تھے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجھے نہیں لگتا کہ ٹرمپ خود بھی اپنی باتوں پر یقین رکھتے ہیں، بلکہ شاید وہ یہ بیانیہ اس لیے بنا رہے ہیں تاکہ اگر امریکا اسرائیل کی جنگ میں براہِ راست شامل ہو جائے تو اس کا جواز پیش کیا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسا ہی ایک بہانہ 2003 میں عراق پر حملے کے وقت بھی استعمال کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2016 کے انتخابات سے پہلے ٹرمپ نے خود اس وقت کی بُش انتظامیہ پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے امریکی عوام سے جھوٹ بولا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’وہ (بُش) کہتے ہیں کہ وہاں تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، مگر وہاں کچھ بھی نہیں تھا اور وہ جانتے تھے کہ کچھ نہیں ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اس بیان پر قدامت پسند تجزیہ کار مارک لیوِن نے سخت ردِعمل دیا، اور ٹرمپ کو ’پاگل انتہا پسند‘ اور ’جھوٹا‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے حد پار کر دی ہے۔ اب وہی مارک لیوِن، جو کبھی ٹرمپ کو ’جھوٹا‘ کہہ چکے تھے، آجکل ٹرمپ کے کان میں سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ ’ایران پر بمباری کرو، ایران پر بمباری کرو، ایران پر بمباری کرو۔‘ دوسری طرف قدامت پسند تجزیہ کار ٹَکَر کارلسن ہیں، جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ لیوِن امریکا کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران سے جنگ کے مسئلے پر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کے درمیان اختلاف ہیں جس کی ایک واضح مثال مارک لیوِن اور ٹَکَر کارلسن کے الگ الگ مؤقف ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ مئی میں ریاض (سعودی عرب) میں ایک تقریر کے دوران ٹرمپ نے نیوکانز (جنگ پسند قدامت پسندوں) کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وہ اُن کے طریقۂ کار کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ جب تہران کے ساتھ مذاکرات جاری تھے، ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران پر حملے کی اجازت دی تاہم ٹرمپ نے خود فوری طور پر کوئی سخت ردعمل ظاہر نہیں کیا بلکہ فیصلہ کیا کہ وہ زمینی حالات کو دیکھ کر ہی کوئی قدم اٹھائیں گے۔ اُن کا حالیہ اقدام، ایران کو دو ہفتے کی مہلت دینا کہ وہ معاہدہ کرے، بظاہر اسی پالیسی کی تصدیق کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> 1939 میں ونسٹن چرچل نے روس کو یوں بیان کیا تھا کہ ’ایک پہیلی، جو ایک راز میں لپٹی ہوئی ہے اور وہ راز بھی ایک معمہ کے اندر چھپا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ٹرمپ کے متضاد بیانات مجھے اسی قول کی یاد دلاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کی بہت بڑی ذمہ داری خود ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔ جب انہوں نے 2015 کے ایران جوہری معاہدے، جس پر سابق صدر اوباما نے دستخط کیے تھے، سے امریکا کو باہر نکالا، تو انہوں نے دراصل مسائل کا پنڈورا باکس کھول دیا۔انہوں نے یہ قدم اپنے صہیونی ارب پتی ڈونرز کو خوش کرنے کے لیے اٹھایا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اب ’نیتن یاہو لابی‘ ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کر دیں۔ یہ لابی بھرپور مہم چلا رہی ہے تاکہ ٹرمپ کو قائل کیا جا سکے کہ ایران کے جوہری ٹھکانوں کو ختم کرنے کا واحد راستہ امریکی بمباری ہے۔  مگر کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتیٰ کہ امریکی فوجی طاقت بھی یہ ہدف مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکتی اور الٹا یہ کارروائی زمینی جنگ چھیڑ سکتی ہے، جو پورے خطے یا حتیٰ کہ دنیا کو ایک بڑے تنازع میں دھکیل سکتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو کا ہدف یہ ہے کہ پہلا حملہ امریکا کرے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔ وہ پہلا بم ٹرمپ کی ’امریکا فرسٹ‘ پالیسی کا خاتمہ ہو گا اور ایک نئے باب کا آغاز ہو گا جس میں امریکی عوام ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ لیے جائیں گے جو ان کے مفاد میں نہیں بلکہ اسرائیل کے مفاد میں ہو گی۔اب تاریخ ٹرمپ کو کس نظر سے دیکھے گی، یہ ان کے اگلے فیصلوں پر منحصر ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> کیا وہ ’جنگوں کا خاتمہ کرنے والا صدر‘ کہلائیں گے یا ایک اور جنگ کا زنجیر میں اضافہ کرنے والے؟ ٹرمپ، جو کبھی نوبل امن انعام جیتنے کے خواب دیکھتے تھے، شاید اب اسرائیل سے ایک مختلف ’انعام‘ حاصل کریں: ’جنگ، تباہی اور بربادی کا انعام‘ اور یوں ’امریکا فرسٹ‘ کی کہانی شاید خود امریکا کے لیے ہی ایک تباہی کی ابتدا ثابت ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1951</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/6/26/08c92968-0of20mh6i1uo0snpdmbr1n.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 26 Jun 2025 06:39:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا ٹرمپ جنگ روکنے کے لیے نئی جنگ چھیڑیں گے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1943</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1943" rel="standout" />
      <description>اسرائیل ایران پر حملوں سے دنیا کو ایک بڑی جنگ، حتیٰ کہ عالمی جنگ کی طرف لے جارہا ہے۔ آپ کو یہ بات بظاہر مبالغہ آمیز یا ڈرامائی لگ سکتی ہے، لیکن بعض اوقات ہمارے اندر کے خدشات اور احساسات دراصل اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جس کی طرف ہم آنکھیں بند کیے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جیسے دو عالمی جنگوں میں ہوا، عالمی تباہی یا جنگ کوئی حادثاتی یا خاموش پیش رفت نہیں رہی، بلکہ سب کچھ کھلے عام، واضح انداز میں ہو رہا ہے، لیکن پھر بھی دنیا اسے روکنے میں ناکام ہے۔ امریکی مورخ باربرا ٹک مین نے اپنی مشہور کتاب ’The March</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل ایران پر حملوں سے دنیا کو ایک بڑی جنگ، حتیٰ کہ عالمی جنگ کی طرف لے جارہا ہے۔ آپ کو یہ بات بظاہر مبالغہ آمیز یا ڈرامائی لگ سکتی ہے، لیکن بعض اوقات ہمارے اندر کے خدشات اور احساسات دراصل اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جس کی طرف ہم آنکھیں بند کیے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جیسے دو عالمی جنگوں میں ہوا، عالمی تباہی یا جنگ کوئی حادثاتی یا خاموش پیش رفت نہیں رہی، بلکہ سب کچھ کھلے عام، واضح انداز میں ہو رہا ہے، لیکن پھر بھی دنیا اسے روکنے میں ناکام ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی مورخ باربرا ٹک مین نے اپنی مشہور کتاب ’The March of Folly: From Troy to Vietnam‘ میں یہ بتایا کہ انسانی تاریخ میں کئی بڑی جنگیں اور تباہیاں دراصل حکمرانوں کی ضد اور اَنا کا نتیجہ تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کا جرمن ترجمہ اور بھی دوٹوک تھا: ’حکمرانوں کی حماقت‘، اپنی اس وسیع طور پر زیرِ بحث آنے والی کتاب میں، ٹک مین نے وہ تباہ کن جنگیں گنوائیں جو ایسے حکمرانوں نے چھیڑیں جو یا تو دیکھنے سے قاصر تھے یا جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے تھے کہ تباہی اُن کے سامنے کھڑی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ کس طرح بار بار لیڈرز نے خبردار کیے جانے کے باوجود تباہی کی طرف قدم بڑھا دیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2500 سال پہلے ایتھنز کے جنرل تھوسی ڈائیڈیز (Thucydides) نے بھی تاریخ کو خود کو دہراتے ہوئے دیکھا۔ اپنی مشہور تحریر Peloponnesian War (پیلپونیسیائی جنگ) میں، جو کلاسیکی یونان کے زوال کا سبب بنی، انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ ان کا کام ’ہمیشہ کے لیے ایک اثاثہ‘ بنے گا۔ اگرچہ وہ 27 سالہ جنگ کے اختتام تک زندہ نہ رہ سکے، مگر اُن کا یقین تھا کہ آنے والی نسلیں اُن غلط فیصلوں، جذبات اور اقدامات سے سبق حاصل کریں گی جنہوں نے اس تباہ کن جنگ کو جنم دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیلپونیسیائی جنگ، جس میں سیکڑوں ریاستیں، ٹوٹتے اتحاد اور مسلسل بدلتے ہوئے دوست و دشمن شامل تھے، بظاہر قدیم دنیا کی ایک عالمی جنگ جیسی تھی۔ اس جنگ کا ایک بڑا سبق یہ ہے: غلط اندازے اور فیصلے پوری قوموں کو ایسی تباہی میں دھکیل سکتے ہیں جس سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک نمایاں مثال ایتھنز کا سسلی پر تباہ کن حملہ ہے۔ ایتھنی باشندے اِس زعم میں مبتلا ہو گئے تھے کہ وہ سسلی کی ریاستوں کی دولت لوٹ کر اپنی جاری جنگوں کو باآسانی مالی طور پر چلا سکتے ہیں۔ اسی خوداعتمادی اور غرور میں انہوں نے سسلی پر حملہ کیا۔ لیکن یہ مہم بری طرح ناکام ہوئی اور ایتھنز کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور جنگ کا پلڑا اسپارٹا کے حق میں جھک گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت کی بڑی طاقت، ایران (فارس) نے اسپارٹا کا ساتھ دے دیا، حالانکہ وہ پہلے دونوں کا دشمن تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آج کے مورخین اکثر اس سسلی مہم کو ’ایتھنز کا ویتنام‘ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں گھسنا آسان مگر نکلنا ناممکن تھا اور جو بالآخر شکست کھانا پڑی ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنگوں سے کمزور ہونے کے بعد ایتھنز اور اسپارٹا دونوں بالآخر شمال میں اُبھرنے والی مقدونیہ کی سلطنت کے ہاتھوں مغلوب ہو گئیں۔ یوں ان کی صدیوں پرانی دشمنی ختم ہوئی اور طاقت اُس شخص کے والد کے پاس چلی گئی جسے آج ہم سکندرِ اعظم (Alexander the Great) کے نام سے جانتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آج امریکہ، اسرائیل کو حوصلہ دے کر ایک خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔ کوئی نہیں مانتا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ امریکہ کی اجازت کے بغیر کیا ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سابق صدر ٹرمپ نے کئی بار کہا تھا کہ وہ امریکہ کو لمبی اور بے مقصد جنگوں سے نکالیں گے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اور باوجود اس کے کہ نیو کانز (جنگ پسند قدامت پسند) اور اسرائیل کے حامی حلقے کچھ بھی کہیں، عام امریکی عوام نہیں چاہتے کہ ان کا ملک اسرائیل کی جنگوں میں گھسیٹا جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ٹرمپ یہ بات سمجھتے ہیں۔ اسرائیل بھی جانتا ہے۔ نیو کانز بھی۔ لیکن اسرائیل کو ڈر ہے کہ کہیں امریکہ اس کا ساتھ نہ چھوڑ دے، اس لیے وہ شاید امریکہ کو زبردستی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کرے، جو پورے خطے میں جنگ بھڑکا سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم اس وقت دنیا میں طاقت کے بدلتے توازن کے انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> جیسے شیکسپیئر نے کہا تھا ہم ایک ایسے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں دنیا کا نظام بگڑ چکا ہے اور سب کچھ اُلجھتا جا رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لوگ پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ اسرائیل کے بے قابو اقدامات صرف مشرقِ وسطیٰ نہیں، بلکہ دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی جنگ چھڑوا سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے ایک بار کہا تھا کہ ’میں نئی جنگیں شروع نہیں کروں گا، میں انہیں ختم کروں گا۔‘ لیکن اب وہ نیتن یاہو کو شہ دے کر شاید ایک نہیں، کئی جنگوں کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ ٹرمپ کے پاس اب بھی اس سب کو روکنے کی طاقت موجود ہے۔ کیونکہ اسرائیل کو امریکہ کی ضرورت زیادہ ہے، جبکہ امریکہ کو اسرائیل کی اتنی ضرورت نہیں۔ اگر امریکہ اپنی حمایت واپس لے لے، تو اسرائیل کے لیے جنگ جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہے اور یہ بات خود اسرائیلی بھی جانتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رومن ریاست کے رہنما کیٹو دی ایلڈر نے ایک بار کہا تھا کہ ’جو لوگ برائی روک سکتے ہیں لیکن خاموش رہتے ہیں، وہ دراصل اس برائی کو بڑھاوا دے رہے ہوتے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب جب خود ٹرمپ کے حامی بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کی جنگوں میں نہ پڑے، تو بہتر یہی ہوگا کہ ٹرمپ ان آوازوں پر دھیان دیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر وہ واقعی چاہتے ہیں کہ نئی جنگیں نہ ہوں، تو پھر انہیں ان مشیروں (نیو کانز) کی باتوں کو نظر انداز کرنا ہوگا جو ہمیشہ جنگ کو ترجیح دیتے ہیں، اور ان خبردار کرنے والی آوازوں پر دھیان دینا ہوگا جو خطرے سے آگاہ کر رہی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن افسوس کہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب تباہی قریب آتی ہے تو اکثر حکمران اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں اور آج وہی تباہی ہمارے خطے (مشرقِ وسطیٰ) کی طرف بڑھ رہی ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1943</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/6/19/432cc8ad-hgm6kkmhg5h7jr2pql3319.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 19 Jun 2025 11:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا انڈیا پاکستان کشیدگی کے پیچھے اسرائیل اور امریکہ کی خفیہ منصوبہ بندی چھپی ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/1841</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/-/1841" rel="standout" />
      <description>تصور کریں انڈیا پاکستان پر حملہ کرتا ہے۔ جواب میں پاکستان اور بنگلہ دیش، دونوں انڈیا پر حملہ کرلیتے ہیں۔ ان ملکوں کے درمیان پرانے حل نہ ہونے والے جھگڑے، جو 20ویں صدی سے چلے آ رہے تھے، ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ چائنہ بھی خاموش نہیں رہتا۔ وہ نارتھ سے انڈیا پر حملہ کرتا ہے، کیونکہ وہ انڈیا کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ چائنہ جانتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کئی سالوں سے انڈیا کی مدد کر رہے تھے تاکہ چائنہ کی طاقت کو روکا جا سکے۔ شاید کچھ بڑی طاقتیں پہلے سے اس  موقع کی تلاش میں ہیں۔ ادھر افغانستان</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تصور کریں انڈیا پاکستان پر حملہ کرتا ہے۔ جواب میں پاکستان اور بنگلہ دیش، دونوں انڈیا پر حملہ کرلیتے ہیں۔ ان ملکوں کے درمیان پرانے حل نہ ہونے والے جھگڑے، جو 20ویں صدی سے چلے آ رہے تھے، ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ بھی خاموش نہیں رہتا۔ وہ نارتھ سے انڈیا پر حملہ کرتا ہے، کیونکہ وہ انڈیا کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ چائنہ جانتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کئی سالوں سے انڈیا کی مدد کر رہے تھے تاکہ چائنہ کی طاقت کو روکا جا سکے۔ شاید کچھ بڑی طاقتیں پہلے سے اس  موقع کی تلاش میں ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ادھر افغانستان کی طالبان حکومت، جو ابھی تک پاکستان سے ناراض ہے،  ایک ایسے موقع کی تلاش میں ہے جسے وہ اپنے فائدے کے لیے استعمال کرسکے۔ اگرچہ اس وقت طالبان کے انڈیا کے ساتھ تعلقات کچھ بہتر ہیں، لیکن پھر بھی وہ پاکستان پر حملے کا سوچ سکتے ہیں۔ مگر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ پورے اسلامی دنیا کی حمایت کھو سکتے ہیں اور شاید واقعی کھو بیٹھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بلوچستان کے ذریعے دو ملکوں کو تقسیم کرنے کا منصوبہ</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی دوران ایران اس صورتحال کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے، جس سے پاکستان کے ساتھ تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ یاد رکھیں ایران اور پاکستان پہلے ہی بلوچستان سرحد کے قریب میزائل حملے کر چکے ہیں۔ پاکستان کو دونوں طرف سے مسائل کا سامنا ہے، ایک ایران اور دوسرا افغانستان۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پھر اسی وقت امریکہ اور اسرائیل بلوچستان میں علیحدگی پسند گروپوں کو متحرک کرتے ہیں، اس بار ان کا ہدف پاکستان اور ایران دونوں ہیں اور پھر دونوں ممالک انتشار کے دہانے تک پہنچ جاتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس افراتفری میں امریکہ اور اسرائیل بحرِ ہند میں ایک نیا طاقتور بحری اڈہ حاصل کر لیتے ہیں اور بلوچستان کے قدرتی گیس کے ذخائر تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">آذربائیجان-ایران جھڑپیں</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جیسے ہی تنازعہ پورے خطے میں پھیلتا ہے، آذربائیجان اور ایران بھی لڑائی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ آذربائیجان، جسے اسرائیل کی حمایت حاصل ہے، ایران پر حملہ کرلیتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی دوران ایران کے اندر نسلی ترکوں کو بھی اکسایا جاتا ہے، جس سے ایران کے اندر انتشار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر ایسا ہوا تو پوری صورتحال اسرائیل کے مفاد میں جائے گی۔ انڈیا سے لے کر ایران تک، قزوین سے لے کر خلیج فارس تک، پورا خطہ جنگ میں گھرا ہوا ہوگا اور اسرائیل اپنے تمام مفادات کا استعمال کرکے مشرق وسطیٰ پر کنٹرول حاصل کرلے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">صرف ترکیہ ہی اس کھیل کو روک سکتا ہے</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کھیل کو جو اسرائیل نے ڈیزائن کیا اور امریکہ نے چلایا، صرف ترکیہ ہی روک سکتا ہے۔ ترکیہ کے پاس وہ طاقت، حکمت عملی اور تجربہ ہے جو اس کھیل کو روکنے کے لیے ضروری ہے، جیسا کہ اس نے شام، لیبیا، پی کے کے کے منصوبوں اور اسرائیل-یونان محور کے خلاف مشرقی بحیرہ روم میں کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یقیناً یہ سب ابھی مبالغہ آمیز لگ سکتا ہے۔ لیکن چونکہ ہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں ہر دن میں غیر معمولی اور غیر متوقع واقعات ہو رہے ہیں، اس لیے یہ کہنا بھی مشکل ہو رہا ہے کہ کل کیا ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">چین-امریکہ تجارتی جنگ، اسرائیل کے منصوبے اور علاقائی جنگ</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب دنیا امریکہ اور چائنہ کی تجارتی جنگ کے جیوپولیٹیکل اثرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھی، اصل دھماکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہوتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک خوفناک تیز رفتار میں دور دو نیوکلئیر طاقتیں جنگ کے دہانے پر پہنچ جاتی ہیں۔ انڈیا-اسرائیل کی پارٹنرشپ اور امریکی نائب صدر کا انڈیا کا دورہ، عالمی سطح پر ایک مضبوط اشارہ ہے کہ امریکہ انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک دہشت گرد حملہ جس میں 29 لوگ مارے گئے، اس کی وجہ سے صورتحال شدت اختیار کرتی ہے۔ انڈیا فوراً پاکستان پر الزام لگاتا ہے اور پھر دونوں ملک جنگ کے بارے میں کھلے الفاظ میں بات کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عام طور پر کسی ایک حملے کے بعد حالات اتنی تیزی سے خراب نہیں ہوتے، لیکن اس مخصوص صورتحال میں منصوبہ واضح تھا۔ نائب صدر جیمز ڈیوڈ (جے ڈی) وینس حملے کے اگلے ہی دن انڈیا میں موجود تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنگ سے پہلے آخری گھنٹے</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی جانب سے غیر جانبدار تحقیقات کی درخواست کو نظر انداز کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے سیکورٹی ذرائع نے اس حملے کے لیے اسرائیلی اور انڈین انٹیلیجنس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ فوجوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔ بارڈرز بند کرکے دونوں ملکوں کے شہریوں کو اپنے اپنے وطن واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ فضائی حدود بند کر دی گئیں۔ جنگ بندی معاہدے معطل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ انڈیا نے سندھ طاس معاہدے سے الگ ہوکر پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی دی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پھر دونوں فوجوں نے ایل او سی پر فائرنگ کرنا شروع کردی اور میزائل سسٹمز فعال کردیے گئے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب دونوں ممالک جنگ کے ’آخری گھنٹے‘ میں پہنچ چکے ہیں۔ صورتحال مزید کشیدہ ہوئی تو یہ صرف انڈیا اور پاکستان کو ہی نہیں بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل شام میں ترکیہ کے ساتھ کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے، لیکن ترکیہ کی پاکستان اور انڈونیشیا کے ساتھ فوجی اتحادی تعلقات مضبوط ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا اور پاکستان کے درمیان اچانک جنگ کی طرف بڑھنا واضح طور پر ایک بڑے منصوبے کا حصہ لگتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا پاکستان کشیدگی سے ترکیہ کو بھی پیغام دیا جارہا ہے</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ انڈیا کے ساتھ ہے اور چائنہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ پورے خطے میں، مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک، بشمول وسطی ایشیا میں، کچھ بڑا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسا لگ رہا ہے جیسے ایک ایسا منصوبہ بنایا جا رہا ہو جس کا تعلق ترکیہ کے اتحادی ممالک سے بھی ہو۔ یہ صرف علاقائی رقابتوں کی بات نہیں ہے بلکہ یہ امریکی اور چائنہ کے درمیان طاقت کی بڑی لڑائی کا حصہ ہے اور اس سب کے مرکز میں اسرائیل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور اسرائیل انڈیا کے ذریعے چائنہ اور ترکیہ کو ایک پیغام بھیج رہے ہیں۔ دونوں طرف سے فوجی حمایت پہلے ہی بھیجی جا چکی ہے: امریکہ اور اسرائیل نے انڈیا کو اور ترکیہ نے پاکستان کو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اور بنگلہ دیش بھی اکیلے انڈیا کو توڑ سکتے ہیں</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہوگا، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے۔  شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش بھی جنگ میں شامل ہونے کا امکان رکھتا ہے۔ آج کل پاکستان اور بنگلہ دیش تیزی سے اپنے بھائی چارے کے تعلقات کو دوبارہ مضبوط کر رہے ہیں اور بنگلہ دیش کی فوج پہلے ہی انڈین سرحد پر اضافی دستے بھیج رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر صرف پاکستان اور بنگلہ دیش انڈیا کے ساتھ ایک ہی وقت میں لڑیں، تو یہ انڈیا کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔ چائنہ کی طرف سے انڈیا کے نارتھ پر دباؤ پہلے ہی بڑھ رہا ہے۔ جس سے انڈیا جلد ہی ایک ایسے خوفناک منظرنامے میں پھنس سکتا ہے جس سے نکلنا مشکل ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور اسرائیل شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ انڈیا کو چائنہ کو دبانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں لیکن نتیجہ ممکنہ طور پر اس کے برعکس ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ منصوبہ جلدبازی میں اور بغیر سوچے سمجھے بنایا گیا لگتا ہے۔ انڈیا کا علاقائی اثر بڑھانے کے بجائے، یہ جنگ اسے تباہ کر دے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا جنگ نہیں جیت سکتا، اسے صرف سازش کے لیے استعمال کیا جارہا ہے</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کے پاس کسی جنگ کو جیتنے یا اس سے کچھ حاصل کرنے کا کوئی حقیقت پسندانہ موقع نہیں ہے۔ تاریخ میں اس نے کبھی بھی جنگ کے ذریعے کچھ نہیں حاصل کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تمام دعووں کے باوجود اس کی علاقائی فوجی صلاحیت بہت محدود ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے، انڈیا کو صرف سازشی منصوبے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور کچھ نہیں۔ مغربی حمایت اسے بچا نہیں سکتی۔ انڈیا کو چائنہ کے خلاف توازن بنانے کی کوشش مہنگی پڑے گی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چاہے انڈیا کی معیشت بڑھے یا اس کی آبادی زیادہ ہو، اس کی عالمی سطح پر کھیلنے کی صلاحیت ابھی بھی ابتدائی سطح کی ہے اور چونکہ انڈیا کے پاس کوئی سامراجی روایت نہیں ہے، جن کی مدد سے وہ دنیا بھر میں اپنی طاقت یا اثر و رسوخ قائم کر سکے اس لیے وہ عالمی سطح پر طاقت حاصل نہیں کرسکتا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl"> سب سے بڑا خمیازہ اسرائیل کو بھگتنا پڑے گا</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس وسیع علاقے کو، جو انڈونیشیا سے لے کر ایٹلانٹک تک پھیلا ہے، جنوبی ایشیا کے ذریعے تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی۔ اسرائیل شاید ابھی یہ کوشش کر رہا ہو لیکن یہ تباہی کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ جب ردعمل آئے گا، تو اسرائیل ہی قیمت چکائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم شاید پاکستان اور بنگلہ دیش کو ایک نئے علاقائی طاقت کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھیں گے۔ کیونکہ اگر چائنہ اور ترکیہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، تو امریکہ یا اسرائیل کی حمایت انڈیا کو بچانے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ انڈیا ٹوٹ جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس خطے میں اںڈیا کا کوئی حمایتی نہیں ہوگا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صرف ایک سوال باقی ہے کہ ایران اور افغانستان کہاں کھڑے ہوں گے۔ ان دونوں کے علاوہ انڈونیشیا اور ترکیہ کے درمیان کوئی بھی ملک اںڈیا کی حمایت نہیں کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا مکمل طور پر تنہا ہوگا اور اس کی معیشت تباہ ہو جائے گی، اسرائیل چاہتا ہے کہ امریکہ کی طاقت کے ذریعے ایران کو کمزور کرے، انڈیا کی طاقت سے پاکستان کو اور ترکیہ کو یونان اور قبرص کے ذریعے کمزور کرے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کل وہ انڈونیشیا کو آسٹریلیا کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن پچھلے دس سالوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جہاں بھی ترکیہ نے مداخلت کی، اس نے کھیل کے قوانین بدل دیے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم نے ہر اس تنازعے میں تاریخ کو دوبارہ لکھتے ہوئے دیکھا ہے جس میں ترکیہ نے مداخلت کی اور پاکستان-انڈیا کی جنگ اب تک کا سب سے بڑا گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر جنگ چھڑتی ہے، تو انڈیا کشمیر کھو دے گا۔</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر جنگ چھڑتی ہے، تو انڈیا کشمیر کھو دے گا۔ امریکہ-اسرائیل کا اتحاد جنوبی ایشیا میں بڑے اسٹرٹیجک شکستوں کا سامنا کرے گا۔ اور جب گرد بکھرے گی، تو شاید پورے اس علاقے میں کوئی ایسا ملک نہ ہو جو امریکہ یا اسرائیل کو اپنے ساتھی کے طور پر دیکھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ: اگر اسرائیل اور امریکہ انڈیا کو پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر پورے خطے میں تصادم پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، تو اصل ردعمل خود مشرق وسطیٰ سے آئے گا۔ جو انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بابوری، سلجوقی، عثمانی۔۔۔ یہ سب اس جنگ میں شامل ہوں گے!</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">موجودہ عالمی سیاسی تناؤ اور جنگوں میں تاریخی سلطنتوں جیسے بابوری، سلجوقی اور عثمانی کی میراث یا طاقتیں دوبارہ فعال ہو سکتی ہیں اور ایک بڑی جنگ میں حصہ لے سکتی ہیں۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ بھی اس صورتحال کا حصہ ہو سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر تاریخ نے دوبارہ زور پکڑا، تو اس کے اثرات بہت گہرے اور اہم ہوں گے، اور تب ہی یہ واضح ہوگا کہ کون اپنی غلط حکمت عملی یا فیصلے کی وجہ سے شکست کھا رہا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے تنازعہ کا حل صرف جنوبی ایشیا میں نہیں، بلکہ اس کا جواب بحیرہ روم اور مشرق وسطیٰ کے علاقے میں ہوگا، جہاں عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے اثر ڈال سکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/1841</link>
      <subcategory>ابراہیم کاراگُل</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/5/1/3d4f0be1-qzkhb7c5k9j4l5mdfrpw.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 01 May 2025 08:50:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’جب اسرائیل کو طاقت سے جواب دینے کا وقت آیا ہے، تو کیا ہم غزہ خالی کرا کے اسرائیل کو بچائیں؟ اور اسے ’ہجرت‘ کہیں؟ ایسی ہجرت حرام ہے!‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/-/1803</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/-/1803" rel="standout" />
      <description>غزہ ہمارے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا فلسطینی عوام کی عظیم جدوجہد صرف فلسطین تک محدود ہے؟ یا پھر غزہ میں ظلم اور نسل کشی کی صورتحال خطے کی طاقتور ریاستوں پر بھی کچھ ذمے داریاں عائد کرتی ہے؟ کیا غزہ کے عوام کو بچانے کا واحد حل یہی ہے کہ انہیں ان کے وطن سے نکال کر کہیں اور بسا دیا جائے؟ لیکن کیا یہ جلاوطنی نہیں؟ جبری ہجرت؟ نسلی کشی؟ اور یہ بیانیہ کون پھیلا رہا ہے؟ کون اس سوچ کو ہمارے دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش کر رہا ہے؟ کیا غزہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا ہے؟ نہیں! غزہ ایک سوچ ہے۔ یہ مزاحمت کی سب سے روشن</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ ہمارے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا فلسطینی عوام کی عظیم جدوجہد صرف فلسطین تک محدود ہے؟ یا پھر غزہ میں ظلم اور نسل کشی کی صورتحال خطے کی طاقتور ریاستوں پر بھی کچھ ذمے داریاں عائد کرتی ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا غزہ کے عوام کو بچانے کا واحد حل یہی ہے کہ انہیں ان کے وطن سے نکال کر کہیں اور بسا دیا جائے؟ لیکن کیا یہ جلاوطنی نہیں؟ جبری ہجرت؟ نسلی کشی؟ اور یہ بیانیہ کون پھیلا رہا ہے؟ کون اس سوچ کو ہمارے دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش کر رہا ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا غزہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نہیں! غزہ ایک سوچ ہے۔ یہ مزاحمت کی سب سے روشن مثال ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> یہ کوئی جائیداد نہیں جسے خریدا یا بیچا جا سکے۔ یہ کوئی ایسی جگہ نہیں جس کی قیمت لگائی جا سکے، جسے مال و دولت کے ترازو میں تولا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ کے عوام محض ایک ایسی آبادی نہیں جسے معاشی امداد کی ضرورت ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ وہ پناہ گزین نہیں جو روایتی تعریفوں میں فِٹ ہوتے ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جانیں کسی وقتی مفاد یا وقتی سکون کے لیے نہیں دے رہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ شناخت، عزت اور اپنی وجود کی سب سے خالص شکل کے لیے جانیں دے رہے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ وہ سچ ہے جو ہمیں شرمندہ کرتا ہے، ہمارے ضمیر پر بوجھ بن کر بیٹھا ہے، ہمارے سروں کو جھکا دیتا ہے، ہمارے ہاتھوں کو مٹھی میں بند کر دیتا ہے، ہمارے دلوں کو بے بسی میں مروڑ دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمیں شرمندہ کرتی ہے اور ہمیں ہمارے اپنے وجود سے سوال کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چھوٹا سا غزہ، صرف فلسطین کے لیے نہیں،  نہ صرف عرب دنیا کے لیے ہے بلکہ ایک الٰہی پیغام ہے جو پوری مسلم اُمہ کو چند سچے اور ثابت قدم انسانوں کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ اکیسویں صدی کی صلیبی جنگوں کے خلاف سب سے واضح مزاحمت ہے، ایک ایسا منصوبہ جس کا مقصد صفایا کرنا ہے، جس کی شدت گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے اور جو پچھلے تیس برسوں میں انتہا پر پہنچ چکی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم نے تاریخ کو غلط سمجھا ہے۔ صلیبی جنگوں کے وقت سے لے کر آج تک۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلسطینیوں کی جدوجہد صرف زمین کے حصول یا زندہ رہنے کی کوشش نہیں ہے۔ یہ ایک گہری اور تاریخی معنویت رکھتی ہے، ایسی معنویت جو پوری مسلم تاریخ، دنیا کے طاقت کے نظام اور انصاف کے عالمی تصور سے ٹکرا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> غزہ کے لوگوں نے اپنی جانوں کی قیمت پر، اپنے لہو سے، ہولناکیوں کے بیچ میں کھڑے ہو کر،  ہمیں یہ دکھایا ہے کہ یہ صرف بقا کی لڑائی نہیں— یہ انسانیت، وقار اور حق کی آخری صف ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر غزہ صرف زمین کا مسئلہ ہوتا، اگر مقصد صرف 25 لاکھ انسانوں کو زندہ رکھنا ہوتا— تو مسلم دنیا کی وسیع و عریض زمینیں انہیں بانہیں کھول کر خوش آمدید کہہ چکی ہوتیں۔ لیکن مسئلہ زمین کا نہیں، وجود کا ہے۔ شناخت کا ہے۔ اور تاریخ سے وہ وعدہ پورا کرنے کا ہے جو ہمیں یاد بھی نہیں رہا— لیکن وہ اپنے لہو سے اسے نبھا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ صرف سوچنے کا انداز ہی ہمیں شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ جو لوگ اس مسئلے کو اتنے محدود دائرے میں دیکھتے ہیں، وہ نہ تاریخ کا شعور رکھتے ہیں، نہ جغرافیے کی پہچان۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صلیبی جنگوں کے آغاز سے لے کر، اناطولیہ سے یروشلم تک جو جنگیں لڑی گئیں، جو قربانیں دی گئیں۔ ان کی جو تشریح یہ لوگ کرتے ہیں، وہ صرف کھوکھلے الفاظ ہیں، جن میں نہ وقار ہے، نہ شعور۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> یہ لوگ اُس عظیم مزاحمت کو سمجھنے سے قاصر ہیں، جو آج ہم ترکیہ کے ساتھ مل کر جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا ہم نے ملازگرٹ کی جنگ لڑی، کیا ہم نے اناطولیہ فتح کیا، صرف اس لیے کہ اسے لوٹا جا سکے؟ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مدینہ کا دفاع، غزہ میں 1917 کی لڑائیاں، یا وہ مہمات جن میں اناطولیہ کے سپوتوں کو یمن، بین النہرین (میسوپوٹیمیا) اور سویز بھیجا گیا— یہ سب صرف زمین کے لیے تھے، تو وہ یا تو جاہل ہیں یا بیوقوف۔ اور اگر وہ جان بوجھ کر ایسا سوچتے اور اس سوچ کو پھیلاتے ہیں— تو وہ غدار ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ صرف تاریخی واقعات نہیں، یہ ہماری شناخت، ہماری غیرت، اور ہمارے شعور کا تسلسل ہیں۔  یہ وہ کہانیاں ہیں جو نسلوں کو زندہ رکھتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسے لوگ شاید یہ سمجھتے ہوں کہ ہم نے 1071 میں اناطولیہ کا رخ صرف اسے لوٹنے، اس کی وادیوں پر قبضہ جمانے کے لیے کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شاید وہ یہ بھی سمجھتے ہوں کہ ہم ویانا کے دروازوں تک صرف اس لیے گئے کہ بلقان اور یورپ کی دولت پر ہاتھ صاف کر سکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بھی ممکن ہے کہ وہ یہ مانتے ہوں کہ جب ہم نے آچے (Aceh) کو نوآبادیاتی قوتوں کے خلاف مدد دی، تو ہمارا مقصد انڈونیشیا کا تیل چرا لینا تھا—حالانکہ اُس وقت وہاں تیل کا وجود ہی نہ تھا، مگر ان کی سوچ کی سطحیت اتنی گہری ہے کہ وہ پھر بھی اسے سچ مان لیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے یروشلم کو زیتون کے درختوں کے لیے نہیں فتح کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران لبنان اور مشرق وسطیٰ پر اپنی دولت صرف اس لیے نچھاور کی کہ وہ ان سے دولت سمیٹ سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسی سوچ نہ صرف حقائق سے محروم ہے، بلکہ ایک عظیم تہذیب، ایک تاریخی مشن اور ایک روحانی وابستگی کو بھی غلط طریقے سے پیش کرتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ شاید یہ سمجھتے ہوں گے کہ برطانیہ نے یروشلم پر قبضہ صرف اس کے زیتون کے باغات کے لیے کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شاید وہ یہ مانتے ہوں کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کا زوال اور اس کے بعد قائم ہونے والی نوآبادیاتی حکومتیں صرف اس خطے کے تیل کو لوٹنے کے لیے تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن تاریخ، جغرافیہ، شناخت، ماضی کا شعور اور مستقبل کے لیے وژن، اس کے ساتھ ساتھ ترکیہ کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی۔ یہ سب زمین، دولت یا خوشحالی سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یقیناً یہ چیزیں گہری اہمیت رکھتی ہیں۔ یقیناً ہم اپنی سرزمین کے تصور کو مقدس مانتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اس کے علاوہ ایک اور حساب کتاب بھی ہے جو انسان کی تاریخ جتنا قدیم ہے اور یہی وہ حساب کتاب ہے جس کا ہم حصہ ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھ پاتے، ان کے پاس ترکیہ یا اس خطے کے حال و مستقبل کے بارے میں کچھ کہنے کو نہیں ہوگا—کچھ بھی قیمتی پیش کرنے کو نہیں ہوگا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>اپنے ذہنوں کو آزاد کرو!</strong></h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">20ویں صدی کی ذہنی آلودگی—جو استعماریت کا دور تھا—ہمیں ابھی تک اندھا کیے ہوئے ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو لوگ اس ذہنی صفائی سے نہیں گزرے، وہ حقیقت میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے نہیں سمجھ سکتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو لوگ ذہنی آزادی کا تصور نہیں کر سکتے، وہ کبھی بھی غزہ میں جو ہو رہا ہے اسے نہیں سمجھ پائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمیں فوراً ان تخریبی خیالات سے نجات حاصل کرنی ہوگی جو ابھی تک ان لوگوں کے دماغوں میں بستے ہیں جو امریکیوں، برطانویوں، یورپیوں، یا حتی کہ اسرائیلیوں کی طرح سوچتے ہیں—اور جو ہماری قوموں، ہمارے عوام کے مقدر پر بات کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>امریکی-اسرائیلی ایجنڈوں کو اسلامی زبان میں بیچنا</strong></h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اتوار کو ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس دعوے کی سختی سے تردید کی کہ غزہ کے شہریوں کو شام کے لیے بنائے گئے کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ایسا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی ایسے رپورٹس گردش کر رہی تھیں جن میں کہا جا رہا تھا کہ غزہ کے شہریوں کو ترکیہ یا الجزائر جیسے مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ خیال ’ہجرت‘ کے لبادے میں پیش کیا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اگر واضح طور پر کہا جائے: یہ امریکی اور اسرائیل کا اصل منصوبہ ہے—ایک ایسا منصوبہ جسے اسرائیل اپنے طور پر نافذ نہیں کر سکتا۔ خیال سادہ ہے: لوگوں کو نکال دو، غزہ پر قبضہ کر لو، اور پھر کام مکمل سمجھ لو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو پھر کیا ہوگا؟ اگر کوئی کل باسفورس کا دعویٰ کرے، تو کیا ہمیں استنبول سے بھی ہجرت کرنی چاہیے؟ اگر وہ مغربی شام کا مطالبہ کریں، تو کیا ہم دوبارہ لوگوں کو وہاں سے منتقل کر دیں؟ کیا ہمیں آج شکست قبول کرنی چاہیے یہ امید رکھتے ہوئے کہ بعد میں واپس آ سکیں گے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ 30 سالوں میں مسلم سرزمینوں میں قائم ہونے والی بیشتر دہشت گرد تنظیمیں خود کو اسلامی شناخت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ تنظیمیں جیسے داعش یا الشباب نے مغربی مفادات کے لیے جنگ لڑی، مسلم معاشروں کو تباہ کیا اور ہماری زمینوں کو غیر ملکی حملے کے لیے سازگار بنا دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم نے برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل کے لیے ’جہاد‘ دیکھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جی ہاں، یہاں جہاد لڑا گیا—امریکہ کے لیے۔ ایک صدی سے ہم نے لوگوں کو برطانیہ کے لیے جہاد کا اعلان کرتے دیکھا۔ خاموشی سے، کچھ اسرائیل کے لیے بھی لڑے۔ مسلمانوں کو ان غیر ملکی طاقتوں کے لیے گولی چلانے، قتل کرنے اور مرنے کے لیے متحرک کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ تنظیمیں ختم نہیں ہوئیں۔ آج وہ غزہ کے مقدر کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ جیسے اسرائیل چاہتا ہے، وہ بڑے پیمانے پر جلاوطنی کے حق میں ہیں، اور اس سے بھی بدتر یہ کہ وہ اسے ایک مذہبی حل کے طور پر پیش کر رہے ہیں جسے ’ہجرت‘ کا نام دیا جارہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کمزور اور خوفزدہ ہے۔ اس کی طاقت صرف آپ کے ذہنوں میں ہے—اس سے آزاد ہو جاؤ</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شام، سینا، لبنان یا غزہ کی طرف کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جانا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل ایک کمزور اور بزدل ریاست ہے۔ ایک ایسا ملک جو نسل کشی کے باوجود غزہ کے چھوٹے علاقے پر ابھی تک کنٹرول نہیں کرسکا، وہ دوسرے ممالک کو دھمکیاں دینے کا حق نہیں رکھتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کی طاقت صرف اپنے مخالفین کے ذہنوں میں ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کا وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر آج کوئی جلاوطنی کو ’ہجرت‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے، تو ہمیں پہلے ان نوآبادیاتی ذہنیتوں سے خود کو آزاد کرنا ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمیں کبھی بھی انہیں ہماری جغرافیہ کو دوبارہ گروی رکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ انگریزی-امریکی-اسرائیلی عالمی نظریہ کو کبھی بھی ترکیہ کے مستقبل پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف فوجی آپشنز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو لوگ ابھی بھی ’واپسی‘ یا ’منتقلی‘ کی بات کر رہے ہیں، ان کی اب کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رہی۔ ان کے الفاظ میں کوئی وزن نہیں رہا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمیں اسلام کو ہمارے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے! غزہ جیتا ہے۔ آپ ہار گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو لوگ نسل کشی کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں جمع کر سکے اور اب ہار تسلیم کرنے کی تجویز دیتے ہیں—ان لوگوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عثمانی شکست کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اگر وہ اب بھی ذہنی شکست میں زندہ ہیں، تو وہ ترکیہ کا حصہ نہیں، غزہ کا حصہ نہیں، اسلامی دنیا کا حصہ نہیں ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ امریکہ کے ہیں۔ برطانیہ کے ہیں۔ اسرائیل کے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سب کو اپنے موقف کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمیں کسی کو اسلام کو ہمارے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ہمیں دھوکہ دہی کو مذہبی اصطلاحات میں چھپانے نہیں دینا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم نے اس سرزمین پر برطانوی جاسوسوں کو ’شیخ‘ بنتے دیکھا ہے۔ ہم اب مزید ایسا نہیں دیکھنا چاہتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شاید آپ نے نوٹ نہ کیا ہو، لیکن غزہ کی مزاحمت نے اسرائیل کے زوال کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اسرائیل کے خلاف طاقت استعمال کرنے کے دروازے کو کھول چکا ہے۔ اب تاریخ کا رخ یہی ہے—چاہے آپ کو پسند ہو یا نہ ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن جو لوگ ’ہجرت‘ کی تجویز دے رہے ہیں، تاریخ ان کے لیے گزر چکی ہے۔ وہ اس دنیا کا حصہ نہیں ہیں جو اب جنم لے رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ جیت چکا ہے۔ آپ ہار چکے ہیں۔ آئیے، اب جو کچھ اگلا ہے اس پر توجہ مرکوز کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/-/1803</link>
      <subcategory>ابراہیم کاراگُل</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/4/16/9a5d1dbd-ygcwiftd1eiqji2x3v3vgl.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 16 Apr 2025 07:45:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ - پیوٹن گفتگو اور جیوپولیٹیکل شطرنج </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/1761</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/--/1761" rel="standout" />
      <description>جب روس نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ وہ یوکرین کے خلاف ایک ’آپریشن‘ شروع کرے گا، تو زیادہ تر لوگوں نے سوچا کہ یوکرین ایک آسان ہدف ہوگا اور یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، شاید ایک ہفتے کے اندر۔ پھر روس نے کچھ عرصہ پہلے کریمیا پر بھی اسی طرح تیزی سے قبضہ کر لیا تھا۔ پیوٹن نے اس آپریشن کے مقاصد یوں بیان کیے: دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں کو آزاد کرانا، جہاں روسی اقلیت آباد ہے، یوکرین سے نیو نازی گروپس کا خاتمہ کرنا اور یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روکنا شامل ہے۔  جنگ مختلف علاقوں میں ایک ساتھ شروع ہوئی،</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب روس نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ وہ یوکرین کے خلاف ایک ’آپریشن‘ شروع کرے گا، تو زیادہ تر لوگوں نے سوچا کہ یوکرین ایک آسان ہدف ہوگا اور یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، شاید ایک ہفتے کے اندر۔ پھر روس نے کچھ عرصہ پہلے کریمیا پر بھی اسی طرح تیزی سے قبضہ کر لیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیوٹن نے اس آپریشن کے مقاصد یوں بیان کیے: دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں کو آزاد کرانا، جہاں روسی اقلیت آباد ہے، یوکرین سے نیو نازی گروپس کا خاتمہ کرنا اور یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روکنا شامل ہے۔  جنگ مختلف علاقوں میں ایک ساتھ شروع ہوئی، لیکن سب سے بڑا اور اہم حملہ شمالی سمت سے کیا گیا، جس کا ہدف براہ راست یوکرین کا دارالحکومت کییف تھا۔ لیکن جیسے جیسے جنگ آگے بڑھی، روسی فوج مشکلات کا شکار ہونے لگی۔ یوکرینی مزاحمت توقع سے کہیں زیادہ سخت ثابت ہوئی۔ اچانک روس نے کئی علاقوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جیاس کہ وہ خارکیف جیسے علاقوں سے پیچھے ہٹ گیا جنہیں اس نے قبضے میں تو لے لیا تھا مگر زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکا اور اپنی تمام تر طاقت مشرق میں یعنی دونباس کے علاقے پر مرکوز کر دی۔ وہاں اس نے بحیرہ ایزوو کے قریب ماریوپول جیسے اسٹریٹیجک مقامات پر قبضہ کر لیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس کا یوکرین کے ساتھ ایک روایتی جنگ میں الجھنا پہلے دو سالوں میں تمام توقعات کے برعکس ثابت ہوا۔ کئی ماہرین نے اس کی وجہ روسی اداروں، خاص طور پر اس کی فوج کی کمزوری کو قرار دیا۔ بعض تجزیہ کاروں کا تو یہ بھی خیال تھا کہ جنگ کے دوسرے سال میں یوکرین جو جوابی حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا، جو موسم سرما کے ختم ہونے کے بعد شروع ہونا تھا، اس کی وجہ سے روس کو شکست ہو جائے گی اور وہ قبضہ کیے گئے یوکرینی علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ روس نے اس حملے کو پسپا کر دیا اور آہستہ مگر منظم طریقے سے اپنی پیش قدمی جاری رکھی۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ روس یوکرین کے 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس نے جو بھاری قیمت چکائی ہے، اسے دیکھتے ہوئے وہ لوگ غلط نہیں جو کہتے ہیں کہ یہ فتح درحقیقت کوئی بڑی کامیابی نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اہم سوالات کو دوبارہ سوچا جائے۔ کیا روس، جو خود کو ایک سپر پاور کہتا ہے اور دنیا بھی اسے ایسا ہی مانتی ہے، واقعی یوکرین کے خلاف کمزور ثابت ہوا اور اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا؟ یوکرین، جسے مغرب کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود سپر پاور نہیں کہا جا سکتا۔ (صرف ویگنر بغاوت یا یوکرین کی جانب سے کرُسک پر مختصر قبضہ ہی اس کے لیے ایک بڑی ہزیمت کے طور پر کافی ہے۔) اگر ایسا ہے، تو کیا تین سال میں صرف 20 فیصد یوکرین پر قبضہ کر لینا کوئی تسلی بخش کامیابی ہے؟ اور اگر روس اسے فتح کہتا ہے، تو کیا یہ ایک پائرک فتح (Pyrrhic Victory) نہیں، یعنی ایسی کامیابی جو بہت زیادہ نقصان کے بعد حاصل ہوئی ہو؟ یہ سوالات، جو خود ہی اپنے جواب دیتے ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ روس نے جنگ تو جیتی، لیکن وسیع تناظر میں وہ ہار رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سچ کہوں تو میں مانتا ہوں کہ جنگ کے دوران روسی فوج کو کئی طرح کی کمزوریاں اور مشکلات پیش آئیں، اس نے کچھ غلطیاں کیں، اور یوکرین نے جس شدت سے مزاحمت کی، وہ توقع سے زیادہ سخت ثابت ہوئی۔  لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ روس اکثر جنگوں کی خراب شروعات کرتا ہے مگر انہیں شاندار انداز میں ختم کرتا ہے۔ (نیپولین جنگیں اور دوسری جنگ عظیم اس کی واضح مثالیں ہیں، جہاں روس ابتدا میں کمزور ترین حالت میں تھا لیکن آخرکار فاتح بن کر ابھرا۔)  روس نے، چاہے وقتی طور پر اپنی ساکھ کھو بھی دی ہو، دانستہ طور پر ایک کم شدت والی جنگ چُنی، تاکہ طویل مدتی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ اس نے اپنی پوری فوجی صلاحیت کے مطابق نہیں بلکہ کہیں کم شدت سے جنگ لڑی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس مغرب کے اندر بڑھتی ہوئی دراڑوں سے بخوبی واقف تھا۔ غور کریں: روس بہت پہلے سے سمجھ چکا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد وجود میں آنے والا نظام، جو شمالی امریکہ اور یورپ کو جوڑتا تھا، کمزور ہو رہا ہے۔ ڈیٹنٹے (کشیدگی میں نرمی) کے دوران، روس نے آہستہ آہستہ یورپ، خاص طور پر جرمنی، کو توانائی اور دیگر شعبوں کے ذریعے اپنی طرف مائل کر لیا تھا۔ لیکن سوویت یونین کے خاتمے اور مشرقی یورپ کے ہاتھ سے نکل جانے نے اس عمل کو روک دیا، کیونکہ نیٹو کے مدِمقابل وارسا معاہدہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روسی تاریخی اور سیاسی نظریات (جدلیات) کو سمجھتے ہیں، یعنی وہ یہ مانتے ہیں کہ اگر ایک طاقتور فوجی اتحاد (وارسا معاہدہ) ختم ہو چکا ہے، تو اس کے مدِمقابل نیٹو بھی زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکتا۔ لیکن اس کے لیے صبر درکار تھا۔ روس نے بغور دیکھا کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان دراڑیں مزید گہری ہو رہی ہیں۔ اسے معلوم تھا کہ نیٹو کے خاتمے اور سرد جنگ کے مکمل اختتام کا اصل راستہ اسی خلیج کو مزید وسیع کرنا تھا۔ شاید پیوٹن نے کریملن میں بیٹھ کر ہنستے ہوئے میکرون کے الفاظ سنے ہوں کہ ’نیٹو دماغی موت کا شکار ہو رہا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پھر بائیڈن اور ان کی جماعت (ڈیموکریٹس) نے روس کے خلاف جنگ کو ایک موقع کے طور پر استعمال کیا تاکہ نیٹو کو دوبارہ فعال اور مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے یوکرین میں موجود قوم پرست گروہوں کو روس کے خلاف کھڑا کیا اور جنگ کو مزید بھڑکایا، تاکہ روس کو اشتعال دلا کر ایک بڑا تنازع کھڑا کیا جا سکے۔ اس حکمت عملی کا بظاہر یہ فائدہ ہوا کہ نیٹو، جو کمزور ہو رہا تھا، دوبارہ متحرک ہو گیا۔ امریکہ اور یورپ، جو کچھ عرصے سے اندرونی اختلافات کا شکار تھے، ایک بار پھر متحد ہو گئے، اور سویڈن اور فن لینڈ جیسے نئے ممالک نیٹو میں شامل ہو گئے، جس سے اتحاد کو مزید تقویت ملی۔ لیکن روسی قیادت نے اسے نیٹو کی آخری کوشش سمجھا، جیسے زوال پذیر ادارے آخری وقت میں سب سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔ روس نے کیا کیا؟ ایک محتاط، کم شدت والی جنگ چُنی تاکہ نیٹو کو مزید طاقتور ہونے کا موقع نہ ملے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری طرف کریملن کو نظر آ رہا تھا کہ ٹرمپ کی واپسی ممکن ہے اور اگر وہ اقتدار میں آئے، تو وہ خود نیٹو کا خاتمہ کر دیں گے۔ (جیسا کہ صدر اردوآن نے کہا کہ ’یہ نظام بنانے والے ہی اب اسے توڑ رہے ہیں۔‘) پیوٹن صرف ایک جنگ نہیں لڑ رہا تھا، بلکہ وہ ایک بڑی تصویر دیکھ رہے تھے—ایک ایسی دنیا جہاں نیٹو کا وجود ختم ہو چکا ہو اور روس ایک نئی عالمی طاقت کے طور پر اپنی جگہ بنا چکا ہو۔ یہی ایک کامیاب ریاستی حکمت عملی کی نشانی ہوتی ہے: وقتی فوائد کو قربان کر کے طویل مدتی جیت پر نظر رکھنا اور بعض اوقات اس راہ میں بہنے والا خون بھی حکمتِ عملی کا حصہ بن جاتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/1761</link>
      <subcategory>سلیمان سیفی اوئن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/3/25/71f82c07-dp5b76zojgqs0bsuacl2ip.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 25 Mar 2025 11:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’نیتن یاہو ترکیہ سے خوفزدہ ہے‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1753</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1753" rel="standout" />
      <description>حالیہ دنوں کی سب سے اہم خبروں میں سے ایک یہ ہے: ’اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے ملٹری سیکریٹری آر گوفمین کو ماسکو بھیج دیا۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ روس شام میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے۔‘ اس خبر کا ایک دلچسپ پس منظر ہے، جو اسرائیلی میڈیا میں شائع ہوئی۔ اسرائیل، ترکیہ کے بارے میں دن بہ دن زیادہ فکر مند ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو ترکیہ سے شام کے بارے میں وہ جواب نہیں ملا جو وہ چاہتا تھا۔ موجودہ صورتحال کیا ہے؟ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔ اسرائیل کی بنیادی حکمت عملی ہمیشہ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حالیہ دنوں کی سب سے اہم خبروں میں سے ایک یہ ہے: ’اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے ملٹری سیکریٹری آر گوفمین کو ماسکو بھیج دیا۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ روس شام میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس خبر کا ایک دلچسپ پس منظر ہے، جو اسرائیلی میڈیا میں شائع ہوئی۔ اسرائیل، ترکیہ کے بارے میں دن بہ دن زیادہ فکر مند ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو ترکیہ سے شام کے بارے میں وہ جواب نہیں ملا جو وہ چاہتا تھا۔ موجودہ صورتحال کیا ہے؟ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کی بنیادی حکمت عملی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ شام کمزور اور تقسیم رہے اور بشارالاسد اس مقصد کے لیے موزوں شخصیت تھے، کیونکہ وہ اپنی ہی عوام کے ساتھ تنازعے میں تھے اور ملک ٹوٹنے کے قریب تھا۔ اسرائیل کے لیے شام میں اسد اور ایران کی موجودگی ایک مثالی صورتحال تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اُس وقت اسرائیل کا روس کے ساتھ ایک معاہدہ تھا۔ شام کی فضائی حدود روس اور امریکہ دونوں کے کنٹرول میں تھی۔ 2019 میں روس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اسرائیل کو ایرانی اہداف پر حملے کرنے کی مکمل آزادی حاصل تھی۔ ہر حملے سے پہلے روس کو آگاہ کیا جاتا، تاکہ فوجی سطح پر ہم آہنگی برقرار رہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اب شام میں صورتحال اسرائیل کے لیے بالکل بدل چکی ہے۔ اسد کو اپوزیشن نے ہٹا دیا ہے۔ شام کے صدر احمد الشرع ایک دانشمندانہ اور عملی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ وہ تمام گروہوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، ملک کی علاقائی سالمیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بین الاقوامی طاقتوں کو مثبت اشارے دے رہے ہیں تاکہ شام پر عائد پابندیاں ختم کی جا سکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس حوالے سے انہوں نے کافی کام کیا ہے۔ دوسری طرف خلیجی ممالک نے دمشق میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یورپی یونین نے بھی بینکنگ، توانائی اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں شام پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب شامی حکومت روس کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاکہ ملک کو مستحکم اور معمول پر لایا جا سکے اور اس عمل میں ترکیہ ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ 12 فروری کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے احمد الشرع کو فون کیا۔ اس گفتگو میں روس نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شام کی سماجی و اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حال ہی میں جب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف انقرہ میں موجود تھے، تو یہ خبریں سامنے آئیں کہ شامی وزیر خارجہ شعیبانی نے خفیہ طور پر انقرہ کا دورہ کیا اور لاوروف سے ملاقات کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس کے لیے شام میں اپنی بحری اڈوں کا مستقبل ایک اہم مسئلہ ہے۔ 8 دسمبر کے بعد ایک روسی عہدیدار نے کہا کہ ’ہم شامیوں سے بات کرنا چاہتے ہیں، یہ ان کا فیصلہ ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کہا جا رہا ہے کہ شام محدود روسی فوجی موجودگی کا مخالف نہیں، شرط یہ ہے کہ ایسا سخت ضابطوں کے تحت ہو اور ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ نہ ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل شام میں بدلتی ہوئی صورتحال کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اس نے گولان کی پہاڑیوں پر اپنا قبضہ مزید بڑھا دیا ہے۔ وہ شام کے تمام فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اسرائیل امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ شام پر عائد پابندیاں ختم نہ کی جائیں۔ ساتھ ہی وہ ایس ڈی جی/پی کے کے نامی دہشت گرد گروہ کو کہہ رہا ہے کہ وہ ’ہتھیار نہ ڈالیں‘ تاکہ شام مزید تقسیم کا شکار ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اِس وقت اسرائیل دروز کمیونٹی کو بھی اشتعال دلا رہا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ’ہم شام میں موجود انتہا پسند اسلامی حکومت کو دروز کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے‘ اور فوج کو تیار کرنے کی ہدایت ایک خطرناک قدم ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے جواب میں لبنانی دروز رہنما ولید جنبلاط کا انتباہ حوصلہ افزا ہے: ’شامیوں کو اسرائیل کی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ اسرائیل انتشار پھیلا رہا ہے۔ میں شام جاؤں گا اور الشرع سے ملاقات کروں گا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی دھمکیوں کے باوجود دمشق کی سیکیورٹی فورسز کو بعض دروز اکثریتی علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے، جو دروز کمیونٹی کے ساتھ ایک معاہدے کا حصہ ہے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان تمام اقدامات کے پیچھے اسرائیل کا حتمی ہدف دمشق میں بغاوت کرانا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ کامیاب ہوں گے، لیکن وہ ضرور کوشش کریں گے۔ جو لوگ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، وہ دیکھ سکتے ہیں کہ اسرائیل کی پروپیگنڈا مشینری پوری طاقت سے الشرع حکومت کو بدنام کرنے اور اسے دہشت گردی سے جوڑنے میں مصروف ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب واپس آتے ہیں اس پیش رفت کی طرف جس کا ذکر شروع میں کیا گیا تھا۔ اسرائیل ماسکو میں کیا تلاش کر رہا ہے؟ اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب نے ترکیہ کے بجائے روس سے رابطہ کرنے کو ترجیح دی ہے، کیونکہ ترکیہ اس خطے میں سب سے طاقتور ملک بن چکا ہے۔ (یہ بھی قابلِ غور ہے کہ یہ دورہ اسی وقت ہوا جب ماسکو اور دمشق کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔)</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کو تین بڑے مسائل کی فکر ہے: (1) ترکیہ اور شام کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات، (2) شامی فوج کی تربیت اور اسے فراہم کی جانے والی جدید ٹیکنالوجی، (3) شامی فضائی حدود کا کنٹرول۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئیے کچھ اور وجوہات بھی شامل کرتے ہیں۔ اسرائیل، ترکیہ کے ساتھ وہ نہیں کر سکتا جو وہ ایران کے ساتھ کرتا ہے— یعنی ترکیہ کو بدنام نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ترکیہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کام کرتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ ایک بڑی اقتصادی اور عسکری طاقت ہے۔ اس کی فوج ایک مضبوط ڈیٹرنٹ (روکنے والی قوت) ہے اور دنیا کی ان چند افواج میں شامل ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور عملی جنگی تجربے کو کامیابی سے یکجا کر چکی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈونلڈ ٹرمپ، جن پر اسرائیل بھروسا کرتا ہے، ترکیہ اور صدر اردوان کا احترام کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شام میں استحکام ترکیہ کے لیے قومی سلامتی کا معاملہ ہے— کیونکہ دہشت گردی اور مہاجرین جیسے خطرات براہِ راست ترکیہ کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے انقرہ شام میں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل ترکیہ کے ساتھ براہِ راست تصادم سے خوفزدہ ہے۔ کچھ لوگ تو اسے ناگزیر سمجھ رہے ہیں۔ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ لیکن میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں: میں نے سنا تھا کہ تل ابیب روس کے ساتھ ایک پرانے طرز کا معاہدہ چاہتا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو ترکیہ سے بھی کچھ توقعات تھیں، لیکن اسے مثبت اشارہ نہیں ملا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ماسکو جا پہنچا۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1753</link>
      <subcategory>یحییٰ بوستان</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/3/21/2bad8f61-cxqkmwbcdklxoguy7qqlnk.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 21 Mar 2025 12:10:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور یورپ میں بڑھتی دوریاں—یوکرین جنگ کا نیا رُخ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1714</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1714" rel="standout" />
      <description>امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے اس اتوار کو سی این این پر ڈانا بُش کے شو میں کہا کہ یوکرین نیٹو میں شامل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر یوکرین نیٹو کا رکن بن گیا تو امریکہ کو آرٹیکل 5 کے تحت یوکرین کا دفاع کرنا ہوگا، کیونکہ اگر یوکرین پر حملہ ہوتا ہے تو امریکہ کو امریکی فوجی مداخلت کا امکان پیدا ہو سکتا ہے اور والٹز کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہے۔ والٹز کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں زبانی تکرار ہوئی</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے اس اتوار کو سی این این پر ڈانا بُش کے شو میں کہا کہ یوکرین نیٹو میں شامل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر یوکرین نیٹو کا رکن بن گیا تو امریکہ کو آرٹیکل 5 کے تحت یوکرین کا دفاع کرنا ہوگا، کیونکہ اگر یوکرین پر حملہ ہوتا ہے تو امریکہ کو امریکی فوجی مداخلت کا امکان پیدا ہو سکتا ہے اور والٹز کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">والٹز کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں زبانی تکرار ہوئی تھی۔ اگرچہ واشنگٹن میں زیلنسکی کا گرمجوشی سے استقبال نہیں کیا گیا، لیکن برطانیہ میں انہیں ہیرو کے طور پر خوش آمدید کہا گیا۔ والٹز کے بیان کو اس نظر سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ برطانیہ اور دوسرے یورپی نیٹو ممالک کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ امریکہ یوکرین کی نیٹو رکنیت کے حق میں نہیں، چاہے یورپی ممالک اس کی حمایت کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">والٹز واضح کر رہے ہیں کہ یوکرین امریکہ کی مکمل حمایت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ دوسرے لفظوں میں، ان کا زیلنسکی کو پیغام ہے کہ: نیٹو کو بھول جاؤ۔ جن یورپی ممالک پر تم بھروسہ کر رہے ہو، وہ زیادہ مدد نہیں کر سکتے۔ جو ہم کہتے ہیں، وہی کرو، تب شاید تم یوکرین کے بچے کھچے حصے کو بچا سکو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یوکرین کے لیے اصل المیہ یہ ہے کہ امریکہ نے یہ بات یوکرین کو دس سال پہلے نہیں بتائی تھی۔ نیٹو میں شامل ہونے کی امید دے کر واشنگٹن نے کیف کو ایک خطرناک راستے پر ڈال دیا ہے۔ یوکرین کو جھوٹی امیدیں دی گئیں، لیکن آخر میں کچھ ہاتھ نہ آیا اور اب بائیڈن انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ جنگ کے بعد نیٹو کی رکنیت پر غور کریں گے، یہ بات صرف جنگ کو لمبا کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ شاید یہی اصل پلان تھا، کیونکہ ’بائیڈن کا امریکہ‘ تو شروع سے ہی روس کو کمزور کرنے میں لگا ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرد جنگ کے آخری باب کے ایک اہم کردار، بین الاقوامی اقتصادیات کے پروفیسر جیفری ساکس کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی یوکرین پالیسی ہی اس جنگ کی وجہ بنی۔ جیفری ساکس پچھلے 36 سالوں سے امریکا، یورپ اور روس کے درمیان ہونے والی بڑی سیاسی اور معاشی پالیسیوں میں براہِ راست شامل رہے ہیں۔ 1989 میں انہوں نے پولینڈ کی حکومت کو اقتصادی اصلاحات کے بارے میں مشورے دیے، جب ملک کمیونزم سے نکل کر ایک آزاد معیشت کی طرف بڑھ رہا تھا۔ 1990-91 میں انہوں نے سوویت یونین کے آخری رہنما میخائل گورباچوف کو معاشی پالیسیوں پر گائیڈ کیا، جب سوویت یونین زوال پذیر تھا۔ 1991-93 میں جب بورس یلسن روس کے پہلے صدر بنے، تو جیفری ساکس نے انہیں معیشت کی بحالی اور آزاد منڈی کی پالیسیوں پر مشورے دیے۔ بعد میں انہوں نے یوکرین کے صدر لیونیڈ کوچما کی اقتصادی ٹیم کے ساتھ بھی کام کیا تاکہ یوکرین کی معیشت کو ترقی دی جا سکے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فروری میں جیفری ساکس نے یورپی پارلیمنٹ میں ایک تقریب کے دوران ’جیوپولیٹکس آف پیس‘ کے عنوان سے ایک تقریر کی۔ اس میں انہوں نے وضاحت کی کہ سرد جنگ کے بعد نیٹو کی پالیسی نے کس طرح یوکرین کو تباہی کی طرف دھکیل دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2021 کے آخر میں پیوٹن نے دو سیکیورٹی معاہدوں کے مسودے پیش کیے۔ ایک یورپ کے ساتھ اور دوسرا امریکہ کے ساتھ، سب سے بڑا تنازع کیا تھا؟ یوکرین کی نیٹو رکنیت۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جیفری ساکس نے پیش گوئی کی کہ اگر نیٹو نے یوکرین کے لیے اپنے دروازے باضابطہ طور پر بند نہ کیے تو جنگ ناگزیر ہوگی۔ اسی لیے انہوں نے فوری طور پر امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کو فون کیا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس گفتگو کو یاد کرتے ہوئے، جیفری ساکس نے کہا:</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’جیک، جنگ سے بچو۔ تم اسے روک سکتے ہو۔ امریکہ کو بس اتنا کہنا ہے: "نیٹو یوکرین تک نہیں پھیلے گا۔"‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سلیوان نے انہیں تسلی دی: ’نیٹو یوکرین تک نہیں پھیلے گا، فکر نہ کرو۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ساکس نے زور دیا: ’پھر یہ بات عوامی طور پر اعلان کرو۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سلیوان نے انکار کر دیا: ’نہیں، نہیں، نہیں۔ ہم یہ کھل کر نہیں کہہ سکتے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ساکس نے مزید دباؤ ڈالا: ’کیا تم واقعی ایسی چیز پر جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہو جو ویسے بھی ہونے والی نہیں؟‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سلیوان کا آخری جواب؟ ’فکر نہ کرو، جیف۔ جنگ نہیں ہوگی۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یقیناً جیفری ساکس کی وارننگ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اور پھر جو ہوا، وہ سب جانتے ہیں۔  بائیڈن انتظامیہ نے نیٹو کے معاملے پر بات کرنے سے انکار کر دیا، اور جنگ شروع ہو گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جیفری ساکس کے مطابق نیٹو کی نام نہاد ’اوپن ڈور پالیسی‘ (جو نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 10 پر مبنی ہے) نیٹو کی سب سے بےوقوفانہ پالیسیوں میں سے ایک ہے۔ روس کی یہ تشویش کہ نیٹو اس کی سرحدوں کے قریب آ رہا ہے، مکمل طور پر نظر انداز کر دی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنی تقریر میں جیفری ساکس نے ایک واضح مثال دی:</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’میرے کینیڈین اور میکسیکن دوستوں سے میں کہوں گا: ایسی غلطی مت کرنا۔ فرض کریں، ٹرمپ کینیڈا کو امریکہ میں شامل کرنا چاہے، اور جواب میں کینیڈا چائنہ سے کہے، 'ہماری مدد کے لیے اونٹاریو میں ایک فوجی اڈہ بنا دو۔' میں یہ مشورہ نہیں دوں گا۔ لیکن کیا امریکہ یہ کہہ کر خاموش بیٹھے گا کہ ’یہ کینیڈا اور چائنہ کا معاملہ ہے، ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں؟‘ ہرگز نہیں، امریکہ فوراً کینیڈا پر حملہ کر دے گا۔"</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پھر بھی، یورپی حکام، نیٹو کے رہنما اور برسلز کے پالیسی ساز مسلسل یہی دہراتے رہے کہ نیٹو کی رکنیت میں اضافے کا روس سے کوئی تعلق نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جیفری ساکس نے کہا کہ ’یہ تو جیوپولیٹکس کے بنیادی اصول بھی نہیں، یہ تو بس سوچنے کی صلاحیت نہ ہونے والی بات ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن انتظامیہ نے سنجیدہ مذاکرات سے انکار کرکے فروری 2022 میں جنگ کا راستہ ہموار کر دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ واضح نہیں کہ جیفری ساکس کی تقریر کا کتنا اثر ہوا، لیکن ایک بات صاف ہے، امریکہ اور یورپ کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے یوکرین کو ایسے چھوڑ دیا جیسے کوئی ناپسندیدہ بچہ، جبکہ برطانیہ اس کا نگران بننے کی کوشش کر رہا ہے اور بدستور بائیڈن کی پالیسی کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔ فی الحال حالات یہی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1714</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/3/8/d5920bfa-oq6c7n7s1qhpufwttr1bgb.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Sat, 08 Mar 2025 06:39:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ، روس اور یوکرین: پس پردہ کیا چل رہا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yusuf-dinc/1696</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/yusuf-dinc/1696" rel="standout" />
      <description>جیسے ہی ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا، ان کی خارجہ پالیسی سے متعلق انداز بدلا ہوا نظر آ رہا ہے۔ وہ اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادیوں کے علاوہ ان تمام لوگوں کو نظر انداز کررہے ہیں جو بائیڈں کے ساتھ کام کرچکے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو یوکرین-روس جنگ میں شامل تھے۔ مثال کے طور پر پولینڈ کے صدر کو دیکھ لیں، جو واحد یورپی رہنما تھے جنہوں نے نیٹو اور امریکہ کو اعتماد میں لینے کے لیے اپنے ملک کے دفاعی اخراجات بڑھانے کا وعدہ کیا۔ ٹرمپ نے انہیں ملاقات کے لیے طویل انتظار کروایا اور جب ملاقات ہوئی تو صرف دس منٹ تک جاری</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جیسے ہی ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا، ان کی خارجہ پالیسی سے متعلق انداز بدلا ہوا نظر آ رہا ہے۔ وہ اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادیوں کے علاوہ ان تمام لوگوں کو نظر انداز کررہے ہیں جو بائیڈں کے ساتھ کام کرچکے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو یوکرین-روس جنگ میں شامل تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مثال کے طور پر پولینڈ کے صدر کو دیکھ لیں، جو واحد یورپی رہنما تھے جنہوں نے نیٹو اور امریکہ کو اعتماد میں لینے کے لیے اپنے ملک کے دفاعی اخراجات بڑھانے کا وعدہ کیا۔ ٹرمپ نے انہیں ملاقات کے لیے طویل انتظار کروایا اور جب ملاقات ہوئی تو صرف دس منٹ تک جاری رہی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجھے لگتا ہے کہ ایلون مسک بھی یورپ کے سیاسی منظرنامے کو بدلنے میں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اگر امریکہ یورپ کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو اس کہانی کے کئی ممکنہ رخ ہو سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسی صورتحال میں، یوکرین-روس جنگ ختم کرنے کی بات چیت کا انداز بھی بدل رہا ہے۔ اب یوکرین مذاکرات کی میز پر نہیں بلکہ خود ایک شکار بن چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانیہ نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کی یوکرین کے قدرتی وسائل پر نظریں ہیں۔ جب 2003 میں عراق کے وسائل پر قبضہ کرلیا گیا تھا، تو برطانیہ نے بھی اپنا حصہ لیا تھا۔ لیکن ٹرمپ یوکرین میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ میرے خیال میں تقریباً سب کچھ ۔۔۔۔۔۔۔ نایاب معدنیات سے لے کر اس کے بندرگاہ تک۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اس بڑے منصوبے کے پیچھے ایک اور، کہیں زیادہ اہم چیز چھپی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس پر بات کریں، آئیے نسبتاً کم اہم مگر قیمتی چیز پر نظر ڈالیں۔ یہ کہاں ہے؟ یہ سمندر کے نیچے موجود ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">میں جنگ کے آغاز سے ہی اپنے مؤقف پر قائم ہوں کہ یہ تنازع بحیرہ اسود میں یوکرین کے توانائی کے ذخائر کے بارے میں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ نے جب بحیرہ اسود میں توانائی کے ذخائر دریافت کیے اور ان کی ترقی پر کام شروع کیا، تو اس خطے کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی تھی۔ ترکیہ کے بعد یوکرین کے پاس بحیرہ اسود میں سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے۔ رومانیہ پہلے ہی اپنی سمندری حدود میں توانائی کے ذخائر کی تصدیق کر چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ نے اپنی متوازن پالیسی، توانائی کے شعبے میں مہارت، انجینئرنگ صلاحیتوں، اور فوجی قوت کی بدولت بحیرہ اسود کے دیگر ممالک کے لیے ایک قابلِ اعتماد پارٹنر کے طور پر خود کو منوایا ہے اور امکانات کو حقیقت میں بدل رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بالکل اسی طرح جیسے آج صومالیہ میں ہو رہا ہے، یوکرین بھی ترکیہ کے ساتھ شراکت داری میں اپنے وسائل تلاش کر سکتا تھا۔ اگر توانائی کے وسیع امکانات رکھنے والا یوکرین یورپی یونین کا حصہ بن جاتا ہے، تو یورپ کا روسی توانائی پر انحصار ختم ہو سکتا تھا۔ لیکن یہی امکان روس اور امریکہ دونوں کے لیے خطرہ تھا—کیونکہ امریکا بھی یورپ کے توانائی کے انحصار سے فائدہ اٹھاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی طرح یوکرین تباہ ہوا۔ چاہے روس صرف کریمیا پر قابض کرے، تب بھی یوکرین کی خصوصی اقتصادی زون ختم ہورہا ہے۔ یہی پیوٹن کی جیت ہے—وہ توانائی کے ذخائر کو نہیں چھیڑے گا، لیکن یورپ کو اپنے وسائل کا محتاج بنائے رکھے گا۔ اب فرض کریں کہ یوکرین اپنی اقتصادی حدود پر مکمل کنٹرول برقرار رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں، اس کے توانائی کے ذخائر ٹرمپ کے لیے ’نسبتاً کم اہم مگر قیمتی چیز‘ بن جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کسی کو نہیں معلوم کہ روس اور امریکہ پس پردہ کیا ڈیلنگ کر رہے ہیں، لیکن یورپ کے لیے حالات بہت نازک ہیں۔ البتہ، جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، وہ ترکیہ ہے۔ اگر امریکہ کے مطالبات وہی ہیں جو برطانیہ نے لیک کیے ہیں، تو روس یقیناً شدید ناراض ہوگا۔ اور شاید زیلنسکی کے گرد کھینچی گئی یہ حفاظتی لکیر درحقیقت کسی بڑے کھیل کا حصہ ہو سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر امریکہ یوکرین کی بندرگاہوں پر قبضہ کر لیتا ہے، تو اس کا سب سے زیادہ اثر ترکیہ پر پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سب سے بڑا انعام، جو ان تمام معاملات کے پیچھے چھپا ہے، ’مونٹرو کنونشن‘ ہے۔ اگر یوکرین کی بندرگاہیں امریکی کنٹرول میں چلی جاتی ہیں، تو ان کی قانونی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اور اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز بحیرہ اسود میں داخل ہو سکتے ہیں، تو اس کا نتیجہ عدم استحکام ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بحیرہ اسود میں عدم استحکام نہ صرف ترکیہ کی توانائی کی خودمختاری بلکہ اس کے توانائی مرکز (Energy Hub) بننے کے امکانات کے لیے بھی خطرہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسی صورتحال میں ’مونٹرو کنونشن‘ ترکیہ کے لیے ایک انتہائی اہم جغرافیائی و اقتصادی ہتھیار بن جاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر روس یوکرین-روس امن مذاکرات میں بڑے منظرنامے کو نظر انداز کرتا ہے، تو ترکیہ کو عدم استحکام کے نقصانات سے بچنے کے لیے اپنی حکمت عملی خود ترتیب دینی پڑے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شاید یہی وجہ تھی کہ گزشتہ روز لاوروف ترکیہ کے دورے پر آئے۔ اب غزہ بحران کے علاوہ، ترکیہ ٹرمپ کے ساتھ ممکنہ تعلقات کی طرف بڑھ رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بالکل سائنس فکشن فلموں میں خلائی مخلوق سے پہلی ملاقات جیسا ہے جس میں دو امکانات ہوتے ہیں: ’ہیلو، زمینی باشندوں! ہم امن کے ساتھ آئے ہیں۔‘ یا پھر ایک طاقتور دھمکی دی جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح، ٹرمپ ایک ’اجنبی‘ کی طرح ہماری دنیا میں داخل ہو رہے ہیں۔ اب آگے کیا ہوگا؟ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ترکیہ اپنی اندرونی طاقت اور اتحاد کو کس طرح برقرار رکھتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں: </strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1473" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_97e03-c366suleymanseyfiogun2.png" data-title="روس یوکرین جنگ: پوکر، رشین رولیٹ اور تاریخ کا نازک موڑ" data-url="/columns/--/1473" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">روس یوکرین جنگ: پوکر، رشین رولیٹ اور تاریخ کا نازک موڑ</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1240" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_97e03-c366suleymanseyfiogun2.png" data-title="’اگر روس جنگ جیت گیا تو یوکرین ایک اور افغانستان بن جائے گا‘" data-url="/columns/suleyman-seyfi-ogun/1240" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">’اگر روس جنگ جیت گیا تو یوکرین ایک اور افغانستان بن جائے گا‘</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1606" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2023/2/8/c8e9b1a1-s2xeq61kffe1b7lh202rj4.png" data-title="ٹرمپ 2.0" data-url="/columns/kadir-ustun/1606" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">ٹرمپ 2.0</span></span></span></span></p><p><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yusuf-dinc/1696</link>
      <subcategory>یوسف دنچ</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 03 Mar 2025 12:12:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ میں فلسطینیوں کو کیا حاصل ہوا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/1632</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/1632" rel="standout" />
      <description>غزہ میں سیز فائر معاہدے کے بعد بھی اسرائیل کے ویسٹ بینک پر حملے جاری ہیں۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اسرائیل کو امریکہ اور برطانیہ کی ’کالونی‘ (یعنی نوآبادیاتی یا فوجی اڈا) سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل ایسے حملوں کو اپنے اسٹریٹجک اہداف کے حصول کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ ان مقاصد کی جڑیں آبادکار بستیوں کے پھیلاؤ میں چھپی ہیں، جب غزہ میں نسل کشی جاری تھی، ویسٹ بینک میں آبادکاروں (یعنی وہ لوگ جو مقامی لوگوں کی زمین پر قابض ہوکر وہاں بستے ہیں) نے پہلے ہی غزہ کے حوالے سے اپنے اگلے اقدامات کی منصوبہ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ میں سیز فائر معاہدے کے بعد بھی اسرائیل کے ویسٹ بینک پر حملے جاری ہیں۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اسرائیل کو امریکہ اور برطانیہ کی ’کالونی‘ (یعنی نوآبادیاتی یا فوجی اڈا) سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل ایسے حملوں کو اپنے اسٹریٹجک اہداف کے حصول کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ ان مقاصد کی جڑیں آبادکار بستیوں کے پھیلاؤ میں چھپی ہیں، جب غزہ میں نسل کشی جاری تھی، ویسٹ بینک میں آبادکاروں (یعنی وہ لوگ جو مقامی لوگوں کی زمین پر قابض ہوکر وہاں بستے ہیں) نے پہلے ہی غزہ کے حوالے سے اپنے اگلے اقدامات کی منصوبہ بندی شروع کرلی تھی۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی ڈاکیومنٹری ’سیکرڈ آکیوپیشن‘ میں ویسٹ بینک میں آبادکار تنظیموں  کے بارے میں اہم معلومات پیش کی گئی ہیں۔ یہودی آبادکاروں کو یقین تھا کہ وہ کامیاب ہوں گے اور اسی لیے وہ غزہ کو مقبوضہ کالونی بنانے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ جنگ بندی کے بعد نئے امریکی صدر ٹرمپ بھی اِن منصوبوں سے متاثر نظر آئے، انہوں نے غزہ کے ساحلوں پر خوبصورت گھروں کی تعمیر کی بات کی۔ یہ اشارہ ہے کہ آبادکاروں کے قبضے کے منصوبے سے کون آگاہ تھا۔ لیکن آبادکار اپنے عزائم کے باوجود ناکام رہے۔ غزہ والوں کے گھر بھلے ہی کھنڈر بن گئے، مگر وہ سب اُن گھروں میں واپس آباد ہوگئے اور اس طرح ویسٹ بینک کے آبادکاروں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسے سوال جیسا کہ ’کیا فلسطینی جیتے یا اسرائیل؟‘ اور ان پر ہونے والی بحث اکثر تقسیم اور کشیدگی پیدا کرتی ہیں۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ’اس میں جیت کہاں ہے؟ غزہ تباہ ہوگیا، ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے اور خطہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔‘ ان کے لیے جواب یہ ہے کہ فلسطینیوں کے چہرے پر موجود مسکراہٹ کو سمجھنا تقریباً ناممکن ہے۔ کئی لوگ اس سوچ سے متفق ہیں۔ کچھ لوگ تو غزہ کی بری حالت کو یکسر مسترد کرتے ہیں، کہتے ہیں مغربی نظام بالکل ٹھیک کام کررہا ہے اور یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں کہ وہاں کیا ہوا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">زیادہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ قدامت پسند مذہبی گروہوں کا یہ عقیدہ ہے کہ غزہ کے لوگ اسرائیل کو شکست نہیں دے سکتے۔  بدقسمتی سے یہ پولرائزیشن اس وجہ سے بھی بڑھ گئی ہے کہ لوگ ان واقعات کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کا اثر غزہ سے متعلق مباحثوں پر بھی پڑا ہے، حتیٰ کہ کچھ لوگ بنیادی تصورات کو بھی ٹھیک سے نہیں سمجھتے، اس وجہ سے لوگوں کا رویہ نادانی یا من مانی والا ہوجاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آبادکار ریاستی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کام کرتے ہیں تاکہ ریاست اپنے کالونائزیشن (یعنی کسی دوسرے علاقے پر قبضہ اور حکمرانی) کے مقاصد حاصل کر سکے۔ اسرائیل نے کافی عرصہ پہلے آباد کاروں کے ذریعے غزہ پر قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ آباد کاروں کو اب نان اسٹیٹ ایکٹرز یا غیر ریاستی عناصر  کہا جانے لگا ہے۔ وہ کسی قانون کے پابند نہیں ہیں۔ ترکیہ میں، یہ گروہ زیادہ ترگمنام ہیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں وہ بھی ’آبادکار‘ کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ کچھ لوگ دلیل دیتے  ہیں کہ آباد کاروں کو ’چور‘ کہنا ضروری ہے، ان کے خیال میں  ’آبادکار‘ کا لفظ ان کے اقدامات کی سنگینی کو بیان نہیں کرتا۔ میں اصطلاحات پر بحث نہیں کروں گا، لیکن نوآبادیاتی توسیع میں آباد کاروں کے خصوصی کردار کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ آباد کار دراصل افراد یا منظم گروہ ہیں جو ریاستی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے غیر ریاستی ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی چوری واضح ہے، لیکن ان کے اعمال کو محض چوری تک محدود کرنا گمراہی ہے۔ حملے اور قبضے جیسی اصطلاحات بھی آباد کاروں کے اقدامات کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آبادکاروں کے تحفظ کے لیے ’ہگانا‘ جیسی تنظیمیں قائم کی گئیں تھیں۔ این جی اوز اور مالیاتی اداروں نے آبادکار بستیوں کے پھیلاؤ کویقینی بنانے کے لیے کام کیا۔ اگر ہم اس کو ایک منظم مسئلے کے طور پر نہ دیکھیں تو ہم غزہ کے لوگوں کی عزم و حوصلے کو سمجھ نہیں سکتے، جو ملبے کے ڈھیر پر سر اٹھا کر چل  رہے ہیں۔ سسٹم کے اندر کام کرنے والے اپوزیشن گروپس ایسا عزم اور حوصلہ کبھی ظاہر نہیں کر سکتے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر بننے کے بعد ٹرمپ کی بیان بازی نے نوآبادیاتی پھیلاؤ کا نیا دور شروع کردیا۔ ان کے بیانات کے جغرافیائی سیاسی اثرات پر بات کرنا ضروری ہے، درحقیقت ان کے بیانات نوآبادیاتی پھیلاؤ کی سوچ کو واضح کرتے ہیں۔  ایک خیال یہ تھا کہ ایسی پالیسیز اُنیسویں صدی میں ختم کر دی گئی تھیں، مگر صیہونیوں نے فلسطین میں ان پالیسیوں پر عمل جاری رکھا۔  فلسطینیوں نے پہلی بار صیہونیوں کو اپنے بل بوتے پر روکا ہے۔ انہوں نے 15 ماہ تک مزاحمت کی، آبادکاروں کو نئی سیٹلمنٹس کی جڑیں پھیلانے سے روکے رکھا۔ اس مزاحمت نے بھی امریکی عزائم کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان واقعات کو ایک نظام کے حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے، اسی صورت میں ہم  فلسطینیوں کی کامیابیوں کی بہتر طورپر تعریف کرسکتے ہیں۔  یہ کامیابیاں جدوجہد کے ایک نئے نظریہ کی نمائندگی کرتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں: </strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1575" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/2/1/32f8d50f-qjjjvvo963gm6ge2kuxmif.png" data-title="’شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟‘" data-url="/columns/selcuk-turkyilmaz/1575" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">’شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟‘</span></span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1614" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2021/02/22/09/16/554x554resized_efb17-21c06cb2author5.png" data-title="انسٹاگرام کے مطابق کیا میں کوفیہ پہننے والا دہشت گرد ہوں؟" data-url="/columns/ersin-celik/1614" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">انسٹاگرام کے مطابق کیا میں کوفیہ پہننے والا دہشت گرد ہوں؟</span></span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1577" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_97e03-c366suleymanseyfiogun2.png" data-title="ہر لمحے بدلتی مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست: ترکیہ، اسرائیل اور اثر و رسوخ کی جنگ" data-url="/columns/--/1577" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">ہر لمحے بدلتی مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست: ترکیہ، اسرائیل اور اثر و رسوخ کی جنگ</span></span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1267" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_acdae-037babdullahmuradoglu2.png" data-title="اسرائیل کے ہاتھوں امریکی شہریوں کی ہلاکتیں معاف، یہ دوہرا معیار کب تک؟" data-url="/columns/abdullah-muradoglu/1267" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">اسرائیل کے ہاتھوں امریکی شہریوں کی ہلاکتیں معاف، یہ دوہرا معیار کب تک؟</span></span></span></span></span></p><p><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/1632</link>
      <subcategory>سِلچک ترکیلماز</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 03 Feb 2025 11:05:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>انسٹاگرام کے مطابق کیا میں کوفیہ پہننے والا دہشت گرد ہوں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/ersin-celik/1614</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/ersin-celik/1614" rel="standout" />
      <description>کچھ عرصے سے میں نے سوشل میڈیا کا استعمال کم کر دیا ہے اور کبھی کبھار اپنے تجربات وہاں شیئر کرتا ہوں۔ ایک صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا مینیجر کے طور پر میں نے اپنا اسکرین ٹائم خاصا کم کر لیا ہے۔ نو مہینے پہلے میں نے اپنا ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ مکمل طور پر بند کر دیا تھا اور کافی عرصے سے فیس بک بھی استعمال نہیں کیا۔ جس کے بعد صرف انسٹاگرام رہ جاتا ہے جہاں میں نسل کشی، غزہ کی مزاحمت، شامی انقلاب جیسے موضوعات پر پوسٹس اور کتابوں پر تبصرے کی وڈیوز شیئر کرتا ہوں۔ لیکن انسٹاگرام نے میرا اکاوٴنٹ پر شیڈو بین لگا</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ عرصے سے میں نے سوشل میڈیا کا استعمال کم کر دیا ہے اور کبھی کبھار اپنے تجربات وہاں شیئر کرتا ہوں۔ ایک صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا مینیجر کے طور پر میں نے اپنا اسکرین ٹائم خاصا کم کر لیا ہے۔ نو مہینے پہلے میں نے اپنا ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ مکمل طور پر بند کر دیا تھا اور کافی عرصے سے فیس بک بھی استعمال نہیں کیا۔ جس کے بعد صرف انسٹاگرام رہ جاتا ہے جہاں میں نسل کشی، غزہ کی مزاحمت، شامی انقلاب جیسے موضوعات پر پوسٹس اور کتابوں پر تبصرے کی وڈیوز شیئر کرتا ہوں۔ لیکن انسٹاگرام نے میرا اکاوٴنٹ پر شیڈو بین لگا دیا ہے، جس کی وجہ سے بہت کم لوگ میری پوسٹس دیکھ پاتے ہیں اور مجھے مختلف لیبلز دے دیے گئے ہیں۔ صرف گزشتہ ہفتے ہی میری تین پوسٹس ہٹا دی گئی تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان میں سے کم از کم دو پوسٹس آپ کو بالکل معمولی لگیں گی، پھر بھی انسٹاگرام نے مجھے دہشت گرد قرار دے دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پہلے میں آپ کو تھوڑا پس منظر یاد دلا دوں: جب حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کو اسرائیل نے تہران میں قتل کیا، تو میٹا پر ’اظہار رائے کا بحران‘ آگیا۔ ترکیہ میں انسٹاگرام نے الگورتھم کی مدد سے اسماعیل ہنیہ سے متعلق لاکھوں پوسٹس کو محدود کر دیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سنسرشپ اقدامات دیکھنے کو ملے۔ اس کے جواب میں ترکیہ کی حکومت نے اس پلیٹ فارم تک رسائی پر پابندیاں لگا دیں اور اسے کئی دن تک بند رکھا گیا۔ ترکیہ کے تقریباً 60 لاکھ انسٹاگرام صارفین کو اس صورتحال میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں کچھ لوگوں نے حکومت پر اظہار رائے کی آزادی محدود کرنے کا الزام لگایا، وہیں دیگر لوگوں نے سمجھ لیا کہ میٹا کے غیر معمولی اختیارات کے خلاف یہ ضروری قدم تھا۔ وزارت ٹرانسپورٹ اور ترک انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن  ٹیکنالوجیزاتھارٹی عوامی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہے اور مذاکرات کے نتیجے میں دونوں پارٹیز کے درمیان سمجھوتہ طے پا گیا۔ میٹا نے یقین دلایا کہ وہ اے آئی سے چلنے والے ٹیگنگ الگورتھم کی مدد سے پوسٹس بلاوجہ ڈیلیٹ نہیں کرے گا۔ اگرچہ میٹا نے اسرائیل سے متعلق اپنی پالیسیوں میں کچھ نرمی کی، لیکن غزہ سے متعلق مواد کی سنسرشپ جاری رکھی۔ مثال کے طور پر انہوں نے میری ایک پوسٹ ہٹا دی جو میں نے کئی مہینوں پہلے دوحہ میں ایک جنازے کے موقعے پر شیئر کی تھی۔ (اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ قطر کے شہر دوحہ میں ادا کی گئی تھی)    </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ واضح ہے کہ میٹا، جس میں فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ شامل ہیں، ’لامحدود آزادی‘ کے نعرے کے پیچھے چھپ کر مکمل طور پر اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں اور پھر بھی اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ 4 ارب صارفین کی اس ڈیجیٹل سلطنت نے 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری نسل کشی کے ہر مرحلے میں کھل کر حمایت کی ہے۔ بظاہر، انہوں نے مظالم کو چھپانے اور بیانیے کو دبانے کی کوشش کی، جبکہ خفیہ طور پر صیہونی انٹیلیجنس نیٹ ورکس کا حصہ بن گئے۔ ٹیک ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک نے غزہ کے گھروں اور کیمپوں میں رہنے والوں کے ایڈریس اور آمد و رفت سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کیا۔ تمام ثبوت کھلے عام موجود ہیں، اور میٹا کا مؤقف شیشے کی طرح صاف ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب دیکھتے ہیں کہ کس طرح انسٹاگرام نے مجھے تقریباً دہشت گرد قرار دے دیا: میں نے یحییٰ سنوار (جنہیں شہید کیا گیا تھا) کی ایک تصویر شیئر کی تھی، جسے گزشتہ ہفتے انسٹاگرام نے ہٹا دیا۔ یہ تصویر میں نے تقریباً تین ماہ پہلے اسی دن شیئر کی تھی جب انہیں قتل کیا گیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، انسٹاگرام نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اے آئی ٹولز کے ذریعے ’بلینکٹ سنسرشپ‘ (کسی خاص موضوع سے متعلق ہر طرح کا مواد روک دینا) سے گریز کرے گا۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ اب وہ ہر پوسٹ کو الگ سے جانچ رہے ہیں اور میری باری آچکی تھی۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ میٹا اسرائیل کے دباؤ میں آ کر حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ یحییٰ سنوار کی تصویر کا ہٹایا جانا دراصل صیہونی پابندیوں کی پالیسی کا حصہ تھا، جس کے ذریعے انہیں نسل کشی کی حمایت میں اپنی مرضی سے اقدامات کرنے کا غیر اخلاقی حق مل جاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">4 جنوری کو مجھے سنسرشپ کے ایک اور اقدام کا سامنا کرنا پڑا۔ انسٹاگرام نے میری ایک تصویر اور پوسٹ ہٹا دی، جو شامی انقلاب کے فوراً بعد حلب کے خان العسل گاؤں میں ایک گھر کے سامنے لی گئی تھی۔ تصویر میں مجھے ایک دروازے کے ساتھ کھڑا دکھایا گیا ہے، جس کی بالکونی پر 'ابو قاسم کا گھر' لکھا ہوا تھا۔ مجھے جو نوٹیفکیشن موصول ہوا، اس میں کہا تھا کہ 'ایسا لگتا ہے کہ آپ نے کسی ایسے شخص یا تنظیم کی علامات شیئر کی ہیں، بھیجی ہیں، یا لائیک کی ہیں جسے ہم نے خطرناک قرار دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/29/e2fa86d6-befunky-collage---2025-01-29t125334824.jpg" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/29/e2fa86d6-befunky-collage---2025-01-29t125334824.jpg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">میٹا نے یحییٰ سنوار سے متعلق میری پوسٹ پر بھی یہی وارننگ جاری کی تھی۔ لیکن ایک ایسے گاؤں کے خالی گھر کی تصویر اور کہانی، جس پر بشار الاسد نے بمباری کی تھی، آخر کس طرح کسی قسم کا خطرہ بن سکتی ہیں؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ مگر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ کیا ہوگا اگر زکربرگ کو ماسکو میں پناہ لینے والے اسد کی ایک کال آئی ہو، جس میں انہوں نے کہا ہو، 'وہ آپ کے پلیٹ فارم پر باغیوں کی تعریف کر رہے ہیں۔ وہ دہشت گرد ہیں۔ حماس سے مختلف نہیں ہیں۔ بہت جلد وہ اسرائیل کے لیے بھی مسائل پیدا کریں گے، اور آپ انہیں پلیٹ فارم دے رہے ہیں۔' کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے؟ کیا اسد ایسا کر سکتے ہیں؟ بالکل کر سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگلے دن ایک اور پابندی سامنے آئی۔ اس بار انہوں نے فلسطینی کوفیہ کو نشانہ بنایا۔ مہینوں پہلے، میں نے ایک مظاہرے میں کوفیہ پہنے ہوئے اپنی تصویر شیئر کی تھی، جو میری پروفائل پکچر بھی تھی۔ انسٹاگرام نے مجھے ایک اور نوٹیفکیشن بھیجا جس میں کہا گیا کہ 'ہم نے آپ کی تصویر ہٹا دی ہے' اور وجہ یہ بتائی کہ 'آپ نے ایسے افراد یا تنظیموں کی علامتیں شیئر کی ہیں جنہیں ہم خطرناک سمجھتے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے ساتھ ہی کوفیہ، جسے دنیا بھر میں فلسطینی قوم اور ان کی مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے، انسٹاگرام کی بلیک لسٹ میں باقاعدہ طور پر شامل ہو گیا۔ جیسے انسٹاگرام فلسطینی خواتین، بچوں، بلکہ شیرخوار بچوں کو بھی دہشت گردوں کا لیبل دیتا رہا ہے، ویسے ہی انسٹاگرام نے مجھ پر بھی 'ممکنہ دہشت گرد' کا لیبل لگا دیا۔ کل، میری کوئی بھی ویزا درخواست ان ہٹائی گئی پوسٹس کی وجہ سے رد ہو سکتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ لا محدود آزادی کی بھی کوئی حدود ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو اب کیا ہوگا؟ میں نے اپیل کی ہے لیکن مجھے کوئی توقعات نہیں ہیں۔ یہ ان کا پلیٹ فارم ہے۔ اگر وہ کل میرا اکاؤنٹ بند کر دیں، تو مجھے کوئی حیرت نہیں ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ، میں ایک کالم لکھ کر آگے بڑھ جاؤں گا۔ ایک بات جو میں کہنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اگر میٹا اس شدت سے پوسٹس کی چھان بین اور علامات پر پابندیاں لگا رہا ہے، تو یہ اسرائیل کی بقا کی ایک مایوس کن کوشش ہے۔ وہ اپنی ساکھ مکمل طور پر کھو چکے ہیں اور اب دوبارہ مقبولیت حاصل کرنے کے لیے کوئی نیا تاثر قائم نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ گولڈن گلوبز میں ہولوکاسٹ پر مبنی فلموں کو ایوارڈ دینا بھی اس بیانیے کا حتمی مرحلہ محسوس ہوتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہیں ہمارے کفیے پر پابندیاں لگانے دیں۔ جب تک غزہ کی مزاحمت جاری ہے، ہم اپنے اکاؤنٹس کی فکر میں اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے۔ اگر وہ دہشت گردوں کی تلاش میں ہیں، تو وہ رہا اسرائیل!</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1394" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/2/1/3d3d4c04-jbb0igbi4sp8d6rp2m0i6i.png" data-title=" فلسطینیوں کی بہادری اور مزاحمت  کی عظیم داستان " data-url="/columns/ihsan-aktas/1394" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"> فلسطینیوں کی بہادری اور مزاحمت  کی عظیم داستان </span></span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1575" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/2/1/32f8d50f-qjjjvvo963gm6ge2kuxmif.png" data-title="’شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟‘" data-url="/columns/selcuk-turkyilmaz/1575" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">’شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟‘</span></span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1606" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2023/2/8/c8e9b1a1-s2xeq61kffe1b7lh202rj4.png" data-title="ٹرمپ 2.0" data-url="/columns/kadir-ustun/1606" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">ٹرمپ 2.0</span></span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1605" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/08/resized_a3775-85d5yasinaktay2.png" data-title="حماس کے ترجمان ابوعبیدہ  نے جو کچھ کہا سچ ثابت ہوا۔۔۔۔۔۔" data-url="/columns/yasin-aktay/1605" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">حماس کے ترجمان ابوعبیدہ  نے جو کچھ کہا سچ ثابت ہوا۔۔۔۔۔۔</span></span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/ersin-celik/1614</link>
      <subcategory>ارسِن چیلِک</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Wed, 29 Jan 2025 08:12:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ 2.0</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1606</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1606" rel="standout" />
      <description>دوسری بار امریکہ کے صدر بننے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سیاسی تاریخ میں وہ منفرد کارنامہ انجام دیا ہے جو اس سے پہلے صرف ایک بار دیکھا گیا۔ 2020 کا الیکشن ہارنے کے بعد بہت لوگوں نے سوچا تھا کہ ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو گیا ہے، مگر انہوں نے تمام پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا اور ری پبلکن پارٹی کی مضبوط حمایت اور ڈیموکریٹک پارٹی کی اسٹریٹجک غلطیوں کے باعث وہ شاندار طریقے سے وائٹ ہاؤس لوٹے ہیں۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ امریکی تاریخ کے واحد صدر ہیں جو عدالت سے مجرم قرار پائے ہیں۔ پیر کوحلف برداری کے بعد ٹرمپ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری بار امریکہ کے صدر بننے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سیاسی تاریخ میں وہ منفرد کارنامہ انجام دیا ہے جو اس سے پہلے صرف ایک بار دیکھا گیا۔ 2020 کا الیکشن ہارنے کے بعد بہت لوگوں نے سوچا تھا کہ ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو گیا ہے، مگر انہوں نے تمام پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا اور ری پبلکن پارٹی کی مضبوط حمایت اور ڈیموکریٹک پارٹی کی اسٹریٹجک غلطیوں کے باعث وہ شاندار طریقے سے وائٹ ہاؤس لوٹے ہیں۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ امریکی تاریخ کے واحد صدر ہیں جو عدالت سے مجرم قرار پائے ہیں۔ پیر کوحلف برداری کے بعد ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈرز کے ڈھیر لگا دیے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے دوسرے دور میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا پہلا دور</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کی صدارت کا ابتدائی عرصہ ان کے اور امریکی قوم کے لیے غیر متوقع کامیابی کا دور تھا۔ انہوں نے ری پبلکن پارٹی میں انتشار کا فائدہ اٹھایا، پرائمریز کے مرحلے میں وہ دیگرامیدواروں کے مقابلے میں کامیاب ہوئے۔ مگر ان کی صدارت پر الیکشن میں روسی مداخلت کے الزامات کی گہری چھاپ لگ گئی۔ اپنے پہلے دور میں ٹرمپ کو پارٹی کے اندر، میڈیا میں، کانگریس میں اور امریکی بیوروکریسی کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنے پہلے دور حکومت میں ٹرمپ کو ’ماگا‘ یعنی ’میک امریکا گریٹ اگین‘ (امریکا کو دوبارہ عظیم ملک بنانے) کے ایجنڈے کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ اگرچہ انہوں نے سپریم کورٹ میں کنزرویٹو ججز کو تعینات کیا جو ان کی دیرپا کامیابی سمجھی جاتی ہے مگر کووڈ 19 کی وبا سے متعلق ان کی غیر موٴثر پالیسیوں کی وجہ سے ان کے دوبارہ الیکشن جیتنے کے امکانات کم ہوگئے۔ بڑے پیمانے پر بدانتظامی کی وجہ سے ان کی حکومت ویکسین کی تیاری کے باوجود اس کا کریڈٹ نہ لے سکی۔ ان کے پہلے دور کا تاثر کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن کی غلطیاں</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو بائیڈن کی 2020 میں جیت کی سب سے بڑی وجہ ٹرمپ کی طرف سے وبا کے دوران کیے گئے فیصلوں پر عوامی ناپسندیدگی تھی۔ بائیڈن کا دعویٰ تھا کہ وہ قوم کو متحد کرنے اور بحران سے نکالنے والے لیڈر ثابت ہوں گے مگر وہ بھی قوم کی توقعات پر پورے نہ اترے۔ ان کا دور مباحثوں میں بری کارکردگی، فیصلہ کن قیادت سے محرومی اور ان کی بڑھتی عمر پر تنقید کے حوالے سے بھرا رہا۔ انہوں نے مہنگائی سے لے کر بارڈر سیکیورٹی تک، یوکرین کی امداد سے غزہ کے بحران تک ہر معاملے میں اسٹریٹجک غلطیاں کیں، نتیجے کے طور پر ٹرمپ کی دھماکے دار واپسی کے لیے انہوں نے بہت ساری وجوہات فراہم کیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے علاوہ ٹرمپ کے خلاف قانونی کارروائیاں جن سے ان کے سیاسی کیریئر کے خاتمے کا خدشہ تھا، اُس کا اُلٹ نتیجہ نکلا۔ عدالت میں لمبی پیشیوں سے ٹرمپ کا یہ بیانیہ زور پکڑ گیا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا دوسرا دور </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پہلے دور کے برعکس ٹرمپ کی اوول آفس میں واپسی نسبتاً زیادہ بڑی حمایت کے ساتھ ہوئی ہے، ری پبلکن پارٹی پہلے سے زیادہ متحد ہے اور کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اس کا مضبوط کنٹرول ہے۔ میڈیا اداروں کا بھی ٹرمپ سے متعلق مؤقف نرم رہا، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کی کوشش بھی یہی ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی کے ساتھ چلا جائے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے، ان میں اتنی طاقت یا حوصلہ نہیں رہا کہ وہ ٹرمپ کا مؤثر طور پر مقابلہ کر سکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنے حلف برداری کے خطاب اور ڈھیروں ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے ٹرمپ  نے واضح کردیا ہے کہ وہ تنازعات کے خوف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے میکسیکو کی سرحد پر نیشنل ایمرجنسی لگا دی، بڑے پیمانے پر پناہ گزینوں کے انخلا کا فیصلہ کیا، پیدائش کی بنیاد پر شہریت کا حق ختم کرنے کی بحث چھیڑ دی۔ پیرس ماحولیاتی معاہدے اور عالمی ادارہ صحت سے باہر نکلنے جیسے بڑے فیصلے کیے، انہوں نے سب سے پہلے امریکہ کو اہمیت دینے کی پالیسی کا واضح اعلان کیا۔ دوسری طرف کینیڈا اور میکسیکو کی برآمدات پر ٹیرف عائد کرکے امریکی تجارتی مفادات کے تحفظ کی پالیسی کا اظہارکیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے بعض متنازعہ اقدامات پر دوبارہ غور کرنے کا اشارہ دیا ہے جیسے پانامہ کینال کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش اور گرین لینڈ کو دوبارہ خریدنے کی کوششیں کرنے کا اعلان ہے۔ عالمی سطح پر وہ یوکرین کا تنازعہ حل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، چائنہ اور ایران پر دباؤ بڑھاسکتے ہیں اور  فلسطین کے مسئلے پر اسرائیلی ایجنڈے کی حمایت کرسکتے ہیں۔ شام سے انخلا کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشکلات اور ممکنہ بحران</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ اپنے دوسرے دورِ صدارت کا آغاز پُراعتماد اور بڑی حمایت کے ساتھ کررہے ہیں، لیکن اس طاقت کا صحیح استعمال نہ کیا گیا تو جلدی نیچے گرسکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کا سنجیدہ مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط رہنما کے تحت متحد ہونا ہوگا، جو کہ قریبی مستقبل میں مشکل نظر آتا ہے۔  ٹرمپ نے اگر 2026 کے مڈٹرم انتخابات تک یہی رفتار برقرار رکھی تو وہ آئین میں ترمیم کی بات چیت شروع کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ تیسرے دور کے لیے صدارت کا امکان پیدا کیا جا سکے۔ اگر چہ ایسا ہونے کے بہت کم امکانات ہیں مگر روایات کو توڑنے والے ٹرمپ کے مزاج کے مطابق ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا دوسرا دور مقامی اور بین الاقوامی سیاست کے لیے اہم موڑ ثابت ہورہا ہے۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ وہ اپنی سیاسی قوت کو مزید مضبوط کرتے ہیں یا دوبارہ ملنے والے اس مینڈیٹ کو ضائع کرتے ہیں۔ مگر یہ بات طے ہے کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکی سیاست کو تبدیل کردیا ہے اور خود کو نئی مثالیں قائم کرنے والا صدر ثابت کردیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1606</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 27 Jan 2025 12:09:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حماس کے ترجمان ابوعبیدہ  نے جو کچھ کہا سچ ثابت ہوا۔۔۔۔۔۔</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yasin-aktay/1605</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/yasin-aktay/1605" rel="standout" />
      <description>20 جنوری تک امریکہ میں تمام نظریں سابق صدر جو بائیڈن کی الوداعی تقریر پر تھیں۔ نئے صدر کی حلف برداری سے قبل دی گئی بائیڈن کی بطور صدر آخری  تقریر کو دنیا بھر میں اہمیت دی گئی ۔اس تقریر میں بائیڈن کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چار سالہ دور کا جائزہ پیش کریں، ان شعبوں پر روشنی ڈالیں جن کے بارے وہ ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔ اپنا دور ختم ہونے سے صرف تین دن پہلے بائیڈن نے اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی کے معاہدے کو کامیابی کے طور پر پیش کیا، اسے اپنی حکومت کے کارناموں میں سے ایک قرار دیا۔ اس خطاب کے دوران الجزیرہ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">20 جنوری تک امریکہ میں تمام نظریں سابق صدر جو بائیڈن کی الوداعی تقریر پر تھیں۔ نئے صدر کی حلف برداری سے قبل دی گئی بائیڈن کی بطور صدر آخری  تقریر کو دنیا بھر میں اہمیت دی گئی ۔اس تقریر میں بائیڈن کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چار سالہ دور کا جائزہ پیش کریں، ان شعبوں پر روشنی ڈالیں جن کے بارے وہ ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنا دور ختم ہونے سے صرف تین دن پہلے بائیڈن نے اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی کے معاہدے کو کامیابی کے طور پر پیش کیا، اسے اپنی حکومت کے کارناموں میں سے ایک قرار دیا۔ اس خطاب کے دوران الجزیرہ کی لائیو نشریات میں اچانک خلل آیا اور بائیڈن کی جگہ حماس ملٹری ونگ کے ترجمان ابوعبیدہ کے بیان کی پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو نشر ہوئی۔ ادارے کے اس انتخاب پر سوال اُٹھے کہ کیا ابوعبیدہ کے ویڈیو بیان کے لیے اتنی اہم نشریات کو روکنا ضروری تھا؟ اس پر مختلف آراء ہوسکتی ہیں تاہم بہت سے لوگوں نے اسے جرات مندانہ اور علامتی  اقدام قرار دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن نے تقریر میں جو کچھ کہا (خصوصاً مشرق وسطیٰ کے بارے میں) اسے ناقدین نے سراسر جھوٹ یا پھر غیر اہم قرار دیا۔ بائیڈن کی حکومت میں 471 دن تک امریکہ غزہ میں نسل کشی پر نا صرف خاموش رہا بلکہ اس نے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت بھی کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی امریکی صدر کے پاس مداخلت کر کے ایسے اقدامات کو رکوانے کا اختیار ہے۔ حلف اٹھانے سے پہلے ٹرمپ کے بیانات سے ثابت ہوا کہ امریکہ اس معاملے میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، ان بیانات سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں میں امریکہ کے کردار کا راز بھی فاش ہوگیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن کے خطاب کے برعکس، ابوعبیدہ کے بیان کو زیادہ واضح اور حقائق پر مبنی قرار دیا گیا۔ یہاں تک کہ مخالفین بھی ان کی باتوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ کچھ اسرائیلی میڈیا اداروں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ابوعبیدہ کے بیانات میں غزہ کے زمینی حقائق کے بارے میں نیتن یاہو سے زیادہ وضاحت ہوتی ہے، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کے دعوے  قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ 7اکتوبر کے بعد غزہ میں ہونے والی پیش رفت نیتن ہاہو کے بیانات سے مختلف اور ابوعبیدہ کے بیانات کے مطابق تھی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طوفان الاقصیٰ آپریشن (7 اکتوبر حماس حملے) کے اہم ترین نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ ابوعبیدہ کا بیانیہ مزید طاقتور ہوگیا ہے، اس نے اسرائیلی اور امریکی بیانات کی بنیادیں ہلا دیں۔ حماس اور اس کے ترجمان نے میڈیا، ادب، سیاست اور سنیما کے ذریعے پھیلائے گئے صیہونی بیانیے کو عبرتناک شکست دی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خود اسرائیل کے اندر عام لوگوں کا بھی نیتن یاہو پر سے اعتماد ختم ہوگیا ہے۔ بڑی تعداد میں اسرائیلی شہری قابل اعتبار معلومات کے لیے ابوعبیدہ کی اپ ڈیٹس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی عہدیداروں پر اپنے ہی عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگ رہا ہے۔ دوسری طرف ابوعبیدہ کے بیانات سچے ثابت ہورہے ہیں۔ ان کی شفافیت میں فلسطینیوں کے بھاری نقصانات کے امکانات کو تسلیم کرنا بھی شامل ہے، اس سے ان کی ساکھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔ انہوں نے مسلسل اس بات پر زوردیا ہے کہ ان کی جدوجہد ایک جہاد ہے جس میں فتح اور شہادت دونوں شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ابوعبیدہ کے تازہ ترین خطاب کو فتح کا اعلان قراردیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ قرآن کی سورہ الا اسراء کی آیات کا حوالہ دیا اور مزاحمت کی دینی بنیادوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ قبضے کے خلاف مزاحمت کی جڑیں مذہبی اصولوں پر مبنی ہونی چاہئیں۔ قبضہ کرنے والے جارحیت کے جواز کے لیے مذہب کے بیانیے کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں، ان کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کی تقریر کا اہم اورنمایاں حصہ قربانیوں کا اعتراف تھا، انہوں نے یحیٰی سنوار، اسماعیل ہنیہ، صالح العروری جیسے رہنماؤں  کی شہادت کا خصوصی ذکر کیا۔ دیگر تحریکوں کے برعکس جہاں قائیدین کی موت مقصد کو کمزور کر دیتی ہے، ان رہنماؤں کی شہادت نے مزاحمت میں نئی جان ڈال دی۔ خاص طور پر یحیٰی سنوار کی شہادت نے انہیں بے مثال بہادری کی علامت بنا دیا ہے۔ اور اُن کی قربانی نے صرف غزہ ہی نہیں دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں کو نیا جذبہ فراہم کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ابوعبیدہ کے اعلان نے ثابت کیا کہ اس جدوجہد کی بنیاد پختہ ایمان ہے، یہ ذاتی مفادات یا دنیاوی فائدے سے پاک ہے۔ ان کے الفاظ نے یاددلایا کہ ان کا مقصد مقدس ہے اوروہ شہادت کو اعلیٰ ترین رتبہ سمجھتے ہیں۔  رہنماؤں کا قربانی دینے پر تیار رہنا ان کے مشن سے خلوص  کا ایک ثبوت قراردیا جارہاہے ۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yasin-aktay/1605</link>
      <subcategory>یاسین اکتائے</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 27 Jan 2025 11:04:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ شام میں کیا چاہتا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1589</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1589" rel="standout" />
      <description>امریکہ آخر شام میں کیا چاہتا ہے؟ یہ بحث بے کار ہے کیوںکہ اس سوال کا کوئی واضح جواب موجود نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ کئی سالوں سے امریکہ کی شام میں ’ڈی فیکٹو پالیسی‘ زیادہ تر اس پر مبنی رہی ہے کہ وہ ’کیا نہیں چاہتا‘، بجائے اس کے کہ کوئی جامع حکمت عملی ہو۔ اس غیر واضح پالیسی کی وجہ سے امریکہ کا رویہ غیر مستقل رہا ہے۔ کبھی وہ شام کے تنازعے سے خود کو دور رکھنا چاہتا ہے اور کبھی شام کو مکمل طور پر ایران اور روس کے اثر و رسوخ میں جانے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اوباما، ٹرمپ اور بائیڈن کی حکومتوں</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ آخر شام میں کیا چاہتا ہے؟ یہ بحث بے کار ہے کیوںکہ اس سوال کا کوئی واضح جواب موجود نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ کئی سالوں سے امریکہ کی شام میں ’ڈی فیکٹو پالیسی‘ زیادہ تر اس پر مبنی رہی ہے کہ وہ ’کیا نہیں چاہتا‘، بجائے اس کے کہ کوئی جامع حکمت عملی ہو۔ اس غیر واضح پالیسی کی وجہ سے امریکہ کا رویہ غیر مستقل رہا ہے۔ کبھی وہ شام کے تنازعے سے خود کو دور رکھنا چاہتا ہے اور کبھی شام کو مکمل طور پر ایران اور روس کے اثر و رسوخ میں جانے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اوباما، ٹرمپ اور بائیڈن کی حکومتوں کے دوران شام سے متعلق غیر واضح اور متضاد پالیسی دراصل امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں اپنی توجہ اور وسائل کم کرکے چائنہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے مقابلے پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔شام میں امریکہ کی پالیسی کو 'پالیسی آف نو پالیسی' کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ یعنی امریکہ نے شام کے معاملے میں نہ تو کوئی واضح حکمت عملی اپنائی اور نہ ہی مؤثر اقدامات کیے۔ ایک طرف وہ اپنی طے کردہ 'ریڈ لائنز' کو نظر انداز کرتا رہا، جبکہ دوسری طرف سیاسی حل کی طرف بھی کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ یہ غیر فعال اور متضاد رویہ شام کی خانہ جنگی کے خاتمے اور خطے میں استحکام لانے کی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ رہا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آج ایسا لگتا ہے کہ امریکہ واضح طور پر یہ کہنے سے قاصر ہے کہ وہ شام میں کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اوباما کی ہچکچاہٹ</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب عرب ممالک میں عوامی انقلابی تحریک شام تک پہنچی تو اُس وقت کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی قیادت میں اوباما حکومت شام میں اپوزیشن کی حمایت اور حکومت کی تبدیلی کے حق میں نظر آئی۔ تاہم اوباما امریکا کو مشرق وسطیٰ سے نکالنے اور ایشیا پر توجہ رکھنا چاہتے تھے، ان کی ترجیح ایران کی نیوکلیئر ڈیل تھی اسی وجہ سے انہوں نے شام کو اسٹریٹجک ترجیح نہ بننے دیا۔ اہم موڑ جیسے کہ شام کی اپوزیشن کی حمایت کے منصوبوں کو ملتوی کرنا، نوفلائی زونز کے قیام سے انکار، تنازعے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے طور پر پیش کرنا اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر روس کی مدد سے ڈیزارمامنٹ معاہدہ (یعنی اسلحے کا استعمال کم کرنے کا معاہدے) کرنا—یہ چند مثالیں ہیں جو شام میں فیصلہ کن کارروائی کے سلسلے میں اوباما کی ہچکچاہٹ کو ظاہر کرتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں اہم موڑ تب آیا جب داعش نے عراق کے شہر موصل پر قبضہ کیا اور کوبانی  (شام کا ایک شہر) کی جانب پیش قدمی کی۔ اس کے جواب میں اوباما نے امریکی فوجیوں کو براہِ راست میدان جنگ میں بھیجنے کے بجائے پینٹاگون کو وہاں کی مقامی فورسز یا گروپوں کو تربیت، اسلحہ اور دیگر مدد فراہم کرنے کا ٹاسک دیا تاکہ وہ داعش کی ’خلافت‘ کو ختم کر سکیں۔ اس کے نتیجے میں 2014 کے شروع میں پی وائے ڈی (ڈیموکریٹک یونین پارٹی: شام کی کرد اپوزیشن جماعت) کو’عارضی‘ اور ’محدود‘ حمایت ملنا شروع ہوئی۔ اگرچہ اوباما کی کم لاگت والی پالیسی داعش کے خلاف مستقل تعاون کی شکل اختیار کرتی نظر آئی، لیکن یہ واضح تھا کہ (امریکہ اور مقامی اتحادیوں کے درمیان) یہ تعلق ہمیشہ کے لیے نہیں چل سکتا تھا اور آخرکار ختم ہو جائے گا۔ کانگریس، جو اس بات پر مطمئن تھی کہ داعش مخالف مہم کامیاب رہی، اس نے اس شراکت داری کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اسے اسٹریٹجک مقصد کا نام دے دیا۔ (جو دراصل ایک تیکنیکی اور عارضی حل تھا)</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا یقین</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب اوباما کی تیکنیکی مداخلت، جو کہ کسی حد تک اسٹریٹجک شراکت داری کی صورت اختیار کر گئی تھی، ٹرمپ کے دور میں بھی جاری رہی، تو ٹرمپ نے یہ سوال اٹھایا کہ ‘ہم شام میں کیا کر رہے ہیں؟‘ تاہم سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے دلائل نے ٹرمپ کو قائل کیا کہ امریکہ نے پی وائے ڈی (کرد ملیشیا) کے ساتھ مل کر جنگ لڑی ہے اور اب وہ  ایران اور روس کےلیے میدان خالی نہیں چھوڑ سکتا۔ اس کے علاوہ کانگریس اور عوامی رائے نے بھی ٹرمپ پر دباؤ ڈالا کہ وہ کردوں کی حمایت جاری رکھے، کیونکہ انہیں چھوڑ دینا امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ شام میں کوئی بڑا فائدہ نہیں دیکھ رہے تھے، جس کی وجہ سے شام میں امریکہ کی حکمت عملی کمزور اور غیر واضح ہوتی نظر آ رہی تھی۔ پی وائے ڈی (کرد ملیشیا) کی حمایت ختم کرنے کے لیے وہ واحد شخص جو ٹرمپ کو قائل کر سکتا تھا، وہ ترک صدر رجب طیب اردگان تھے۔ شام کے لیے ترکیہ کی مستقل پالیسی میں تمام توجہ بارڈر سیکیورٹی، پناہ گزینوں کے مسئلے، فوجی مداخلتوں اور سیاسی مذاکرات پر تھی۔ یہی امور ٹرمپ کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوئے کہ وہ شام سے امریکی افواج کو واپس بلائیں اور داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کی کامیابی کا اعلان کریں۔ تاہم، واشنگٹن کی وسیع تر پالیسی، جو اسرائیل کے مفادات کی حفاظت اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی موجودگی کو برقرار رکھنے پر مرکوز تھی، نے آخرکار ٹرمپ کی ذاتی ترجیحات پر غالب آ کر فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں شام میں امریکی فوج کی موجودگی برقرار رکھی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن کی بے حسی</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن انتظامیہ نے شام کے حوالے سے پالیسی کے خلا کو برقرار رکھا اور اپنی توجہ صرف دو اہم مسائل پر مرکوز رکھی: داعش کے خلاف جنگ اور انسانی امداد کی فراہمی۔ افغانستان، یوکرین اور غزہ کے معاملات میں مصروف بائیڈن نے مشرق وسطیٰ کے لیے کوئی مکمل حکمت عملی ترتیب دینے میں دلچسپی نہیں دکھائی، اور شام کے حوالے سے تو بالکل بھی نہیں۔ جیسے جیسے ان کی مدت ختم ہورہی تھی، بائیڈن انتظامیہ کی توجہ شام سے ی پی جی کے مکمل انخلا سے پیدا ہونے والی شرمندگی سے بچنے اور ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکان پر مرکوز تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اِس وقت امریکہ کی جانب سے ایک ایسے گروپ کی حمایت جاری رکھنا جو نیٹو کے اتحادی ترکیہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہے، اس کی پالیسی کے خلا اور ابہام کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پی وائے ڈی (کرد ملیشیا) کی حمایت کو جذباتی بنیادوں پر جائز قرار دینا، جیسے کہ یہ دعویٰ کیا جائے کہ ہم نے مل کر لڑائی لڑی، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شام میں امریکہ کی حکمت عملی میں واضح سوچ اور منصوبہ بندی کی کمی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">آگے کیا ہوگا؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پچھلے چند برسوں میں واشنگٹن حکومت  نے شام سے متعلق کوئی جامع پالیسی وضع نہیں کی، امکان یہی ہے کہ آئندہ بھی امریکا ایسا کچھ نہیں کرے گا۔ اس کے بجائے امریکہ شاید موجودہ ’کامیابیوں‘ کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھے مگر اسے ایک مؤثر حکمت عملی میں تبدیل کرنے کے لیے امریکہ کو فیصلہ کرنے کی ہچکچاہٹ اور عدم دلچسپی کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر امریکہ شام کے لیے کوئی پائیدار پالیسی بنانا چاہتا ہے، تو اسے ایک نیا وژن یا سوچ اپنانا ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1468" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_97e03-c366suleymanseyfiogun2.png" data-title="ٹرمپ کا دوسرا دور کیسا ہوگا؟ " data-url="/columns/--/1468" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">ٹرمپ کا دوسرا دور کیسا ہوگا؟ </span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1577" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_97e03-c366suleymanseyfiogun2.png" data-title="ہر لمحے بدلتی مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست: ترکیہ، اسرائیل اور اثر و رسوخ کی جنگ" data-url="/columns/--/1577" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">ہر لمحے بدلتی مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست: ترکیہ، اسرائیل اور اثر و رسوخ کی جنگ</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1576" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_acdae-037babdullahmuradoglu2.png" data-title="بشار الاسد کی حکومت کا زوال: کیا شام میں آمریت کا سورج غروب ہو چکا ہے؟" data-url="/columns/abdullah-muradoglu/1576" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">بشار الاسد کی حکومت کا زوال: کیا شام میں آمریت کا سورج غروب ہو چکا ہے؟</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1575" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/2/1/32f8d50f-qjjjvvo963gm6ge2kuxmif.png" data-title="’شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟‘" data-url="/columns/selcuk-turkyilmaz/1575" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">’شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟‘</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1589</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Wed, 22 Jan 2025 15:36:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ کا دوسرا دور کیسا ہوگا؟ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/1468</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/--/1468" rel="standout" />
      <description>ترکیہ میں ایک طبقہ ایسا ہے جو چاہتا تھا کہ ٹرمپ امریکی انتخابات جیتیں  اور جب ایسا ہوا تو اس طبقے کے لوگوں کو بے حد خوشی بھی ہوئی۔ بظاہر ان کی وجوہات جائز لگتی ہیں۔ ڈیموکریٹس طویل عرصے سے ترکیہ کے ساتھ سرد مہری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، بائیڈن دور میں ان کا رویہ دشمنی کی حد تک سخت ہوگیا تھا۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ یہاں تک کہ انتخابی مہم کے دوران بھی بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ ترکیہ کی حکومت کی حمایت نہیں کریں گے اوراس کے خاتمے کےلیے اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اگرچہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ میں ایک طبقہ ایسا ہے جو چاہتا تھا کہ ٹرمپ امریکی انتخابات جیتیں  اور جب ایسا ہوا تو اس طبقے کے لوگوں کو بے حد خوشی بھی ہوئی۔ بظاہر ان کی وجوہات جائز لگتی ہیں۔ ڈیموکریٹس طویل عرصے سے ترکیہ کے ساتھ سرد مہری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، بائیڈن دور میں ان کا رویہ دشمنی کی حد تک سخت ہوگیا تھا۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ یہاں تک کہ انتخابی مہم کے دوران بھی بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ ترکیہ کی حکومت کی حمایت نہیں کریں گے اوراس کے خاتمے کےلیے اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اگرچہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، تو بائیڈن اور دیگر ڈیموکریٹس نے اکثر مختلف پلیٹ فارمز پر ترکیہ کو نظر انداز کیا اور تنقید کا نشانہ بنایا۔ جس کی وجہ سے ترکیہ کے لوگ ٹرمپ کے دور کو یاد کرنے لگے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ درست ہے کہ ٹرمپ میں بھی خامیاں تھیں لیکن کم ازکم وہ ترکیہ سے کھلے عام دشمنی نہیں رکھتے تھے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان مسائل پر بات چیت کے لیے جب چاہیں ٹرمپ سے رابطہ کر سکتے تھے۔ یہ سیاسی تعلق سے کہیں بڑھ کر گہری عوامی ہم آہنگی کا معاملہ تھا۔ ٹرمپ نے امریکہ کے سینٹرل اور ساوٴتھ ریاستوں سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کی نمائندگی کی (وہ لوگ جنہیں نظر انداز کیا گیا اور اکثر ڈیموکریٹس سے جڑے اشرافیہ کے گروپوں کی طرف سے انہیں حقیر سمجھا گیا)۔ ٹرمپ کا سادہ انداز گفتگو، دوستانہ انداز اور قوم پرست بیانیہ نے ترکیہ میں موجود چند لوگوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں کے دِل جیت لیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیاست سے پہلے معیشت</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کی مقبولیت کا ایک سبب ان کا کاروباری پس منظر بھی ہے۔ عام طور پر سیاسی امور پر معاشی امور کو ترجیح دے کر ہم نسبتاً زیادہ مستحکم دنیا تشکیل دے سکتے ہیں۔ انتہائی تقسیم زدہ سیاسی فضا میں ایسا ممکن ہے جہاں معاشی مفادات پر توجہ دینا زیادہ محفوظ لگتا ہے۔ مگر اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے یعنی معاشی ترجیحات پر زیادہ توجہ دینے سے بھی سیاسی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ میرے خیال میں معاشی ترجیحات کو قابو میں رکھنے کے لیے عقل سے سیاسی فیصلے کرکے توازن برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ معاشی مقاصد کو سیاست پر ترجیح دینے سے (جیسا کہ ٹرمپ بھی سوچ رہے ہیں) مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنگوں کو ختم کرنے سے متعلق ٹرمپ کا بیان سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اس پر وسائل اور لاگت  بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن یہی سوچ اگر منافع بخش معلوم ہوں تو نئی جنگیں بھی شروع ہو سکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیموکریٹس کا ریکارڈ</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیموکریٹس نے ’امریکہ واپس آگیا‘ کے نعرے پر الیکشن مہم چلائی، لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ یہ پردے میں چھپے نیو کنزرویٹو ایجنڈے سے زیادہ کچھ نہیں تھا، جس کا مقصد عسکریت پسندی میں اضافہ تھا۔ یہ نقطہ نظر براہ راست روس یوکرین جنگ اور بلا واسطہ اسرائیل فلسطین تنازعے کی وجہ بنا۔ جہاں اسرائیل نے ڈیموکرٹس  کے عسکریت پسند مؤقف کو ایک موقع کے طور  استعمال کیا وہیں روس یوکرین جنگ ڈیموکریٹس کے لیے ایک مشکل چیلنج بن گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس یوکرین جنگ قابو سے باہر ہوگئی اور ڈیموکریٹس روس کو اقتصادی طور پر کمزور نہ کر سکے۔ اس کے بجائے ان کا سامنا ہوا عسکری طور پر زیادہ مضبوط روس سے ہوا جس کے چائنہ اور انڈیا تعلقات بہتر ہورہے تھے۔ اسی دوران اسرائیل فلسطین جنگ، ایک ایسا بحران بن گیا جس کی نہ تو ڈیموکریٹس کو توقع تھی نہ ہی اس کو سنبھالنا ان کے بس میں تھا۔ نا چاہتے ہوئے بھی وہ اسرائیل کی حمایت پر مجبور ہوگئے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کی جانب جھکاؤ</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بالکل واضح ہے کہ امریکہ کی با اثرشخصیات ڈیموکریٹس کی کارکاردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ لہٰذا انہوں نے سمجھا کہ ٹرمپ ہی ملکی مسائل کا واحد حل ہیں۔ دن بدن بگڑتی یوکرین جنگ کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت تھی جس کی قابلیت ڈیموکریٹس خاص کر کملا ہیرس کی قیادت میں نظر نہیں آرہی تھی۔ ٹرمپ جو شروع سے اس جنگ کے ناقد ہیں اس کام کے لیے بہتر انتخاب تھے۔ اس وقت امریکی پالیسی اسرائیل کے مقاصد کو سپورٹ کرنے اور چائنہ کو تنہا کرنے کے لیے انڈیا، گلف ممالک اور ممکنہ طور پر روس پر مشتمل ایک وسیع اتحاد بنانے میں تبدیل ہوگئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے نیوکونز سپورٹرز</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ پالیوکنزرویٹو(وہ سیاسی لوگ جو قدامت پسند اصولوں اور نظریوں کی حمایت کرتے ہیں) نہیں جو کچھ لوگ انہیں سمجھتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان کے سفر کی شروعات وہیں سے  ہوئی تھی لیکن اب وہ نیوکنزرویٹوز کے اُس طبقے کے ساتھ زیادہ ہم آہنگی رکھتے ہیں جو جنگ کو یورپ سے مشرق وسطیٰ منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کی توقعات کے مطابق ٹرمپ کے دور میں روس یوکرین جنگ کے خاتمے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن کشیدگی کم کرکے اور جنگ کے دورانیے کو بڑھا کر روس کو کمزور ہوجائے گا۔ روسی سرزمین پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملوں سے واضح پیغام ملتا ہے کہ جب تک روس کو کمزور نہیں کیا جاتا یہ جنگ جاری رہے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یورپ اس حکمت عملی میں اپنا کردار ادا کرنے لیے تیار نظر آتا ہے۔ جرمنی میں قیادت کی تبدیلی کے باوجود آنے والی کرسچن ڈیموکریٹ حکومت نے یوکرین کی مزید حمایت کا وعدہ کیا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپ اس تنازعے میں امریکی حکمت عملی کے تحت اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مستقبل میں کیا ہوگا؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کی جیت پر روس کا محتاط ردعمل اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ان تمام محرکات کو سمجھتا ہے۔ ٹرمپ یوکرین جنگ کی کشیدگی شاید کم کروا سکیں لیکن ان کی انتظامیہ روس کو فیصلہ کن فتح دلوانے کے حق میں نہیں ہوگی۔ بلکہ اس تنازعے کو بڑھا دیا جائے گا تا کہ مستقبل میں عالمی نظام میں روس کی دوبارہ شمولیت امریکی شرائط کے مطابق ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ واقعی یہ مقاصد حاصل کر سکتے ہیں؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/1468</link>
      <subcategory>سلیمان سیفی اوئن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Tue, 21 Jan 2025 09:07:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ہر لمحے بدلتی مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست: ترکیہ، اسرائیل اور اثر و رسوخ کی جنگ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/1577</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/--/1577" rel="standout" />
      <description>جس وقت دنیا کی توجہ روس یوکرین جنگ پر مرکوز تھی، 7 اکتوبر کے واقعات اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت نے ہر ایک کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ واقعہ سب محض اتفاق نہیں تھا۔ اسرائیل کی فاشسٹ، انتہا پسند حکومت نے موقعے کا فائدہ اٹھایا اور غزہ میں حقیقی نسل کشی شروع کردی۔ وہ وہیں صرف یہی پر نہیں رکے، بلکہ انہوں نے لبنان اور شام تک اپنا آپریشن پھیلا دیا۔ اس وسعت کا بنیادی مقصد ایران کے ساتھ ایک محاز آرائی میں الجھنا تھا۔  لیکن اس کی دو بڑی عالمی وجوہات بھی تھیں۔ ایران کے علاوہ اس</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جس وقت دنیا کی توجہ روس یوکرین جنگ پر مرکوز تھی، 7 اکتوبر کے واقعات اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت نے ہر ایک کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ واقعہ سب محض اتفاق نہیں تھا۔ اسرائیل کی فاشسٹ، انتہا پسند حکومت نے موقعے کا فائدہ اٹھایا اور غزہ میں حقیقی نسل کشی شروع کردی۔ وہ وہیں صرف یہی پر نہیں رکے، بلکہ انہوں نے لبنان اور شام تک اپنا آپریشن پھیلا دیا۔ اس وسعت کا بنیادی مقصد ایران کے ساتھ ایک محاز آرائی میں الجھنا تھا۔  لیکن اس کی دو بڑی عالمی وجوہات بھی تھیں۔ ایران کے علاوہ اس کا مقصد مشرقی بحیرہ روم، مشرقِ وسطیٰ اور آخرکار افریقہ میں روس اور چائنہ کا اثرو رسوخ ختم کرنا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یوکرین کے ساتھ جنگ میں مصروف روس نے انڈیا اور چائنہ کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کیے اور ایران اور نارتھ کوریا کے ساتھ اسٹریٹجک اورملٹری اتحاد قائم کیا۔ آخر میں چائنہ ایران کے ساتھ ایک طویل مدتی پروگرام میں شامل ہوگیا، جس کا مقصد ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">7 اکتوبر اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات دراصل ان تمام معاملات کو سبوتاژ کرنے کی سازش تھی۔ روس کو مشرقِ وسطیٰ میں سر اٹھانے والے ایران مخالف جذبات کے سامنے جدوجہد کرنا پڑی، جو یوکرین جنگ کی وجہ سے پہلے ہی خطے میں اپنی عسکری موجودگی محدود کر چکا تھا۔ روس سمجھتا تھا کہ وہ ایران کے بغیر مشرق وسطیٰ میں اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکتا لیکن وہ ایران کے ساتھ اتحاد کے نقصانات سے بھی آگاہ تھا۔ اسرائیلی حملے بنا روک ٹوک جاری رہے۔ روس نے آستانه مذاکرات کے ذریعے اسد حکومت اور ترکیہ کے مابین سفارتی  راستے کھولنے کی کوششش کی، لیکن یہ قدم انتہائی تاخیر سے اور کسی حد تک مایوسی کے نتیجے میں اٹھایا گیا تھا۔ یہ بات سب پر واضح تھی کہ اردووان-اسد ملاقات بے سود رہے گی۔ ترکیہ نے اس بات کو سمجھ لیا اور ایران اسے کبھی تسلیم نہ کرتا۔ تاہم ترکیہ نے نام کی ہی سہی لیکن برتری قائم رکھتے ہوئے یہ یقینی بنایا کہ کم از کم وہ مذاکرات رد کرنے والی پارٹی نہیں ہے، اور یہی ٹھیک فیصلہ ثابت ہوا۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں روس کا مزید کوئی عمل دخل نہیں رہا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ واضح تھا کہ اسد کی پوزیشن غیریقینی ہوتی جا رہی تھی۔ عرب لیگ میں شام کی دوبارہ شمولیت کا معاملہ، جس پر خلیجی عربوں اور مصر نے اسد کو ایک اور موقع دینے کی پیشکش بھی کی تھی، اسد کے لیے کچھ زیادہ فائدہ مند نہیں تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران اور اس کے اتحادی اکتوبر 7 کے بعد پیش آنے والے واقعات کے لیے تیار نہیں تھے۔ حزب اللہ نے 7 اکتوبر کے بعد فوری طور پر حماس کا ساتھ نہیں دیا۔ اگر ایسا ہوتا تو، ہم نہیں جانتے کہ حالات کچھ مختلف ہوتے یا نہیں۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے فوری فوجی کارروائیاں کیں اور لبنان میں حزب اللہ کی فورسز کو پیچھے دھکیل کر لیتانی دریا کے شمال تک محدود کر دیا۔ پھر اس نے شام پر شدید بمباری کرتے ہوئے ایران کی پوزیشن کو کمزور کیا اور پھر شام کے حالات تبدیل ہونا شروع ہو چکے تھے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسا لگتا ہے کہ ترکی نے حالات پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔ اس نے ادلب میں اسٹرکچر قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی، عراق میں اپنی موجودگی بڑھائی، اور قندیل ریجن میں آپریشن ’کلا-لاک‘ کے ذریعے پی کے کے (کردستان ورکرز پارٹی، ترکیہ میں موجود کرد مزاحمتی تحریک) کو کمزور کر دیا۔ ان آپریشنز کو شام کی صورتحال سے علیحدہ کر کہ نہیں دیکھا جاسکتا۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بشار الاسد کے زوال اور ساتھ ہی روس اور ایران کو منظر سے باہر کرنے کی حکمت عملی کسی مزید وضاحت کی محتاج نہیں۔ ابتدا سے ہی میں نے لکھا تھا کہ یہ ایک اینگلو-امریکن منصوبے کا حصہ تھا جس کے کئی عناصر تھے۔  علاقائی سطح پر اس میں دو متضاد عناصر شامل تھے: اسرائیل اور ترکیہ۔ آگے مشرق وسطیٰ میں جو کچھ بھی ہوگا وہ بلا شبہ ان دونوں پارٹیز کے درمیان طاقت کی جنگ ہوگی۔ قدیم دریائے فراط یہاں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ دریائے فراط کے مغرب میں، ترکیہ ہے، جس کا کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے)، سیرین نیشنل آرمی (ایس ایم او)  اور ہئیت تحریرالشام (ایچ ٹی ایس) جیسی مزاحمتی تحریکوں پر مضبوط کنٹرول ہے اور یہ اثر و رسوخ وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک سال کی جنگ سے تھکا ہوا اسرائیل،  دریائے فراط کے مغرب میں ترکیہ کے کنٹرول اور دمشق میں اس کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے حواس باختہ ہے۔ قطر کے سوا خلیجی عرب ریاستوں اور مصر میں بھی ہمیں ایسے ہی خدشات نظر آتے ہیں۔ اسرائیل گولان کی پہاڑیوں کے ارد گرد ایک محفوظ زون بنانے پر بھی توجہ مرکوز کر رہا ہے جبکہ مشرق میں پیپلز ڈیفنس یونٹس ( پی وائے ڈی، شام میں موجود کرد جنگجوؤں)  کے دہشتگردوں کی حمایت بڑھا رہا ہے۔ ہئیت تحریر الشام جو واضح کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، بھی اس صورتحال سے مطمئن نہیں۔ ہئیت تحریرالشام اور سیرین نیشنل آرمی کے اتحاد کو کمزور کرنے کے لیے اسرائیل ہر ممکن کوشش کرے گا، اس کے ساتھ وہ ترکیہ اور ہئیت تحریر الشام کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ اسرائیل یہاں نہیں رکے گا، بلکہ وہ اربیل (عراقی کردستان ریجن کا ایک شہر) میں ترکیہ کے اثرورسوخ کو بھی نشانہ بنائے گا۔ اس کا اگلا قدم شاید ایران میں انتشار پیدا کرنا اور ترکیہ-ایران محاز آرائی کا اسٹیج تیار کرنا ہو۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے جواب میں، ترکیہ ہئیت تحریر الشام اور پیپلز ڈیفنس یونٹ(پی وائے ڈی) کے درمیان فاصلوں کو برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔ اسی دوران، وہ دریائے فراط کے مشرق سے پی وائے ڈی کے خاتمے کے لیے انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کر رہا۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ ترکیہ کے لیے معاملہ 30 کلومیٹر کے سیکیورٹی زون بنانے سے کہیں زیادہ آگے کا ہے۔ ترک انٹیلیجنس، جس کو کبھی ہئیت تحریرالشام کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے، خطے سے پی وائے ڈی  اور کردش عرب عناصر کے خاتمے پر کام کر رہی ہے تاکہ پی وائے ڈی کا اثر و رسوخ کم ہو۔ اگر ضرورت پڑی تو اس مقصد کے لیے ترک فوج بھی مداخلت کر سکتی ہے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنیادی مسئلہ اس بات کے گرد گھومتا ہے کہ اینگلو۔سیکسن انرجی کمپنیز خلیج اور مشرقی بحیرہ روم سے انرجی وسائل کو کس طرح یورپ تک لے جائیں گی۔ اس کا منطقی انتخاب تو یقیناً ترکیہ ہے۔ لیکن اسرائیل کی مخالفت اور طاقت کے حصول کے لیے اس کا جنون، معاملات کو الجھا دیتے ہیں۔ اسرائیل کی سب سے بڑی امید یہ ہے کہ ٹرمپ، بڑی دفاعی اور ٹیکنالوجی کمپنیز کی حمایت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئیں گے۔ ٹرمپ کی فیصلہ سازی میں دو متضاد عناصر شامل ہیں، ایک ان کی عملی اقتصادی ذہنیت جو ترکیہ کے حق میں جاتی ہے، دوسرے ایک ایونجلیکل نظریاتی اپروچ جو اسرائیل کی حمایت کرتی ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کونسی ذہنیت غالب آئے گی اور برطانوی اسٹیبلشمنٹ کس حد تک ٹرمپ کو کنٹرول کر سکے گی۔  یہ کہنا قبل از وقت ہو سکتا ہے، لیکن ایک سوال باقی ہے ۔ اگر ترکیہ یہ طاقت کی جنگ جیت جاتا ہے تو اس کے بدلے میں ہم سے کیا مانگا جائے گا؟ کیا ہم ایک نئی کرمین جنگ کے دہانے پر ہیں؟ خدا نہ خواستہ۔۔۔۔۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں: </strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1576" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_acdae-037babdullahmuradoglu2.png" data-title="بشار الاسد کی حکومت کا زوال: کیا شام میں آمریت کا سورج غروب ہو چکا ہے؟" data-url="/columns/abdullah-muradoglu/1576" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">بشار الاسد کی حکومت کا زوال: کیا شام میں آمریت کا سورج غروب ہو چکا ہے؟</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1575" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/2/1/32f8d50f-qjjjvvo963gm6ge2kuxmif.png" data-title="’شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟‘" data-url="/columns/selcuk-turkyilmaz/1575" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">’شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟‘</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1327" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2017/06/14/02/26/554x554resized_75d1b-234e5aedddd.png" data-title="حزب اللہ، لبنان کے مسائل کا حل ہے یا خود ایک مسئلہ؟" data-url="/columns/taha-kilinc/1327" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">حزب اللہ، لبنان کے مسائل کا حل ہے یا خود ایک مسئلہ؟</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/1577</link>
      <subcategory>سلیمان سیفی اوئن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 20 Jan 2025 12:51:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بشار الاسد کی حکومت کا زوال: کیا شام میں آمریت کا سورج غروب ہو چکا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1576</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1576" rel="standout" />
      <description>اس بات پر تو تقریباً سب ہی متفق ہیں کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کا زوال دراصل سرد جنگ کے دوران قائم ہونے والے جغرافیائی سیاسی نظام کے خاتمے کے ایک نئے مرحلے کا ثبوت ہے۔ یہ نظام عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد سامراجی طاقتوں نے مصنوعی طور پر قائم کیا تھا۔ اسے سرد جنگ دور میں خطے پر قبضہ جمانے کے لیے نافذ کیا گیا۔ اسرائیل کا قیام بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی تھا۔ 1990 کی دہائی تک سرد جنگ ختم ہوچکی تھی۔ سوویت یونین ٹوٹ چکا تھا اور امریکہ واحد عالمی سپر پاور کے طورپر خود کومنوا چکا تھا۔ تاہم طاقت کے زور</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس بات پر تو تقریباً سب ہی متفق ہیں کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کا زوال دراصل سرد جنگ کے دوران قائم ہونے والے جغرافیائی سیاسی نظام کے خاتمے کے ایک نئے مرحلے کا ثبوت ہے۔ یہ نظام عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد سامراجی طاقتوں نے مصنوعی طور پر قائم کیا تھا۔ اسے سرد جنگ دور میں خطے پر قبضہ جمانے کے لیے نافذ کیا گیا۔ اسرائیل کا قیام بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1990 کی دہائی تک سرد جنگ ختم ہوچکی تھی۔ سوویت یونین ٹوٹ چکا تھا اور امریکہ واحد عالمی سپر پاور کے طورپر خود کومنوا چکا تھا۔ تاہم طاقت کے زور پر مشرق وسطیٰ کے نقشے میں تبدیلی کرنے کی امریکی کوششیں (جیسے عراق اور افغانستان میں) خطے کے سیاسی سماجی حقائق کے خلاف ہونے کے باعث ناکام رہیں۔ ان تنازعات سے واضح ہوا کہ  کسی بیرونی طاقت کی جانب سے کسی قوم کی تعمیر مسلط کرنا ایک بےکار کوشش ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوال یہ ہے کہ پھر اسد حکومت سرد جنگ کے اتنے عرصے بعد تک کیسے چلتی رہی؟ خلیجی ریاستیں، اسرائیل اور مغرب نے اس کی حمایت اس لیے کی کہ اس کے زوال کی صورت میں پیدا ہونےوالے سیاسی خلا سے اُن کے مفادات کو خطرہ ہوسکتا تھا۔ مگر یہ حمایت ہمیشہ کے لیے نہیں تھی۔ جونہی عالمی صورتحال تبدیل ہوئی یہ ناگزیر ہوگیا کہ مشرق وسطیٰ کا فرسودہ جغرافیائی سیاسی ڈھانچہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسد حکومت نے’خاموشی کی سلطنت‘ پر حکمرانی کی، جس کی بنیاد خفیہ قیدخانوں اور اجتماعی قبروں پر رکھی گئی تھی۔ اب زمین میں دفن خوفناک داستانیں سامنے آرہی ہیں۔ آمر حکومت نے مغرب سمیت دیگر اتحادیوں کی مدد سے جو مظالم کیے وہ سب آشکار ہورہے ہیں۔ مغرب اس تباہی و بربادی سے لاتعلقی ظاہر کرتا ہے۔ 61 سال تک یہ نظام موجود رہا اور اس کا بےنقاب ہونا ان تمام لوگوں پر سوال اٹھاتا ہے جو اس کی بقا میں مددگار تھے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لبرل بین الاقوامی اصولوں پر عمل کی دعویدار مغربی طاقتیں مشرق وسطیٰ او شمالی افریقا میں مقامی سطح پراٹھنے والی اصلاحی تحریکوں کو ناکام بنانے کی ذمہ دار ہیں۔ جابر حکومتوں کی حمایت کرکے انہوں نے ان معاشروں میں فطری ارتقاء کو نقصان پہنچایا، انتہا پسندی کو فروغ دیا جس نے پورے خطے کو نقصان پہنچایا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حافظ الاسد اور دیگر عرب حکومتوں نے فلسطینی تحریک کا فائدہ اٹھایا، اسے تنازعات کے حل کو روکنے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے یقینی بنایا کہ فلسطینی ریاست قائم نہ ہو۔ حافظ الاسد کے دور میں دمشق سمیت عرب دارالحکومتوں میں شروع ہونے والی انقلابی تحریکوں کو دبایا گیا۔ اپنے والد کی طرح بشارالاسد کی بھی فلسطینی تحریک سے کوئی حقیقی وابستگی نہیں تھی، ان کی توجہ مفاد پرست اتحادوں کے ذریعے اپنی حکومت کو برقرار رکھنے  پر تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب صورتحال بدل چکی ہے، بشار الاسد وراثت میں ملی آمریت کے آخری حکمران تھے جو تباہی سے بال بال بچے ہیں۔ دیگر غاصب حکمرانوں کی طرح انہوں نے اپنے بچاؤ کو ترجیح دی اور اپنے اطراف موجود لوگوں کو دھوکہ دیا۔ ان کی حکومت کے محافظوں کو اگر ان کے فرار کے منصوبوں کا پتہ ہوتا تو وہ ان پر حملہ کرنے میں شاید بالکل نہ ہچکچاتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غاصب اور جابر حکمران اپنے لوگوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں اور پیچھے انتشار چھوڑ جاتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کئی برسوں سے حافظ اور بشارالاسد کے حامی نعرے لگاتے ہیں کہ ’ہمارا خون اور روح تمہارے لیے ہے‘۔ بشارالاسد کے عمل سے ایسا نہیں لگتا کہ وہ ایسی کوئی قربانی لینے کے حقدار ہیں۔ تاریخ خود کو دہراتی ہے، عوام روتے ہیں تو غاصب حکمران ہنستے ہیں، اقتدار چھن جائے تو اپنے قریبی ساتھیوں کو انجام کا سامنا کرنے کے لیے چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں: </strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1473" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_97e03-c366suleymanseyfiogun2.png" data-title="روس یوکرین جنگ: پوکر، رشین رولیٹ اور تاریخ کا نازک موڑ" data-url="/columns/--/1473" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">روس یوکرین جنگ: پوکر، رشین رولیٹ اور تاریخ کا نازک موڑ</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1468" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_97e03-c366suleymanseyfiogun2.png" data-title="ٹرمپ کا دوسرا دور کیسا ہوگا؟ " data-url="/columns/--/1468" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">ٹرمپ کا دوسرا دور کیسا ہوگا؟ </span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1458" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2017/06/14/02/26/554x554resized_75d1b-234e5aedddd.png" data-title="صیہونیت کا زوال: پروپیگنڈے کا خاتمہ اور عالمی ردعمل" data-url="/columns/taha-kilinc/1458" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">صیہونیت کا زوال: پروپیگنڈے کا خاتمہ اور عالمی ردعمل</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1576</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 20 Jan 2025 12:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/1575</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/1575" rel="standout" />
      <description>ترکیہ کے نارتھ اور ایسٹ افریقا کے ملکوں (جیسے صومالیہ، ایتھوپیا، لیبیا اورسوڈان) سے تعلقات کو کچھ لوگ توسیع پسندانہ عزائم کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ درحقیقت کالونیل ازم یعنی نوآبادیات (نئی بستیاں بسا کر کسی علاقے پر قبضہ کرنا اور اس کے وسائل لُوٹنے) کا جو لیبل عثمانی دور میں لگایا گیا تھا، پڑوسی ملکوں سے تعلقات کی وجہ سے آج بھی ترکیہ پر لگایا جارہا ہے۔ ان مفروضوں کا حقیقت سے تعلق نہیں۔ تاہم جب خطہ مختلف طاقتوں کے لیے میدان جنگ بنا تو ترکیہ کو سب سے پہلے اپنے  بچاؤ کا مسئلہ درپیش تھا۔ شام کے معاملے</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ کے نارتھ اور ایسٹ افریقا کے ملکوں (جیسے صومالیہ، ایتھوپیا، لیبیا اورسوڈان) سے تعلقات کو کچھ لوگ توسیع پسندانہ عزائم کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ درحقیقت کالونیل ازم یعنی نوآبادیات (نئی بستیاں بسا کر کسی علاقے پر قبضہ کرنا اور اس کے وسائل لُوٹنے) کا جو لیبل عثمانی دور میں لگایا گیا تھا، پڑوسی ملکوں سے تعلقات کی وجہ سے آج بھی ترکیہ پر لگایا جارہا ہے۔ ان مفروضوں کا حقیقت سے تعلق نہیں۔ تاہم جب خطہ مختلف طاقتوں کے لیے میدان جنگ بنا تو ترکیہ کو سب سے پہلے اپنے  بچاؤ کا مسئلہ درپیش تھا۔ شام کے معاملے میں مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ مزید پیچیدہ ہوگئے جس کا ترکیہ کے اندرونی معاملات پر گہرا اثر ہوا۔ اس عرصے میں وہ لوگ جنہیں مسائل کے معقول حل کی حمایت کرنی  چاہیے تھی وہ خود بڑھتے ہوئے مسائل کا ایک حصہ بن گئے۔ اس کے نتیجے میں ترکیہ کے قدامت پسند گروپوں کو بھی یہاں مقیم شامیوں کے معاملے پر (جو چاہتے ہیں کہ شامی ترکیہ سے چلے جائیں) جغرافیائی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ مشرقی فلسفیوں کے تجزیوں کا اثر وقت کے ساتھ گہرا ہوا ہے اور ہم نے اپنی تاریخ کو اسی انداز میں دیکھنا شروع کردیا ہے جیسا وہ دِکھانا چاہتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کالونیل ازم کا جو لیبل عثمانی دور میں لگایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترجمے کی غلطی کس طرح بڑا اثر ڈال سکتی ہے اور کس طرح غیرملکی نظریات آسانی سے پھیل سکتے ہیں۔ کالونیل ازم کی اصطلاح دراصل اس لفظ کے وسیع معنی کا احاطہ نہیں کرسکتی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسے استحصال کے تصور کے مترادف کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مشہور ترین ڈکشنریز نے اس کا ترجمہ ایکسپلوئیٹیشن اور آپریشن  کے لفظوں میں کیا ہے۔ ترکیہ  کے معروف ماہرین معاشیات بھی لفظ کالونیل ازم کو انہی معنوں میں استعمال کرتے ہیں، اس وجہ سے ہی اس لفظ کے لیے بےبنیاد استحصال کا تصور رائج ہوگیا۔ عثمانی تاریخ کو اِس نظر سے دیکھنے والے یہی سمجھتے ہیں کہ اس دور میں لوگوں کو استحصال، بدسلوکی اور جبر کا نشانہ بنایا گیا اور وہ اسی طرح نوآبادیاتی تصور کو عثمانی تاریخ سےجوڑتے ہیں۔ اگر انہیں علم ہوتا کہ یہ بچگانہ خیالات نظر کا دھوکا ہے، تو آج ان کی سوچ مختلف ہوتی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب کالونیل ازم کی اصطلاح کے معنی وسیع ہوگئے ہیں۔ مگر اب بھی یہ آبادکار کالونیل ازم کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ اس لیے ہم آبادکار کالونیل ازم کے اقدامات اور دیگر طرز کے کالونیل ازم کے اقدامات میں فرق نہیں کرسکتے۔ ہم یہ فرض کرسکتے ہیں کہ اس لفظ کے معنی پہلے جیسے سخت نہیں رہے۔ تاہم آبادکار کالونیل ازم بھی کالونیل ازم کی ہی ایک شاخ ہے اور اس کا تعلق خاص انسانی آبادی سے ہے۔ وہ لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ اس لفظ کے معنوں میں نرمی آئی ہے انہیں اس خاص کمیونٹی کے اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ وہ لوگ جو غاصبانہ قبضے کے شکار رہے ہیں وہ حیران رہ جائیں گے۔ آبادکار کالونیل ازم کو حملے جیسی اصطلاح سے نہیں ملانا چاہیے۔ چھ سو سالہ عثمانی سلطنت کی تاریخ میں آپ کو آبادکار کالونیل ازم کی ایک بھی مثال نہیں ملے گی۔ کسی بھی نظریے کو ماننے والے تاریخ دان، ماہرمعاشیات، ماہرسیاسیات کو عثمانی تاریخ کے واقعات میں میں یا ترکیہ کے گرد موجودہ صورتحال میں آبادکار کالونیل ازم کی سوچ نظر نہیں آئے گی۔ مگرکالونیل اِزم اور حملے جیسی اصطلاحات معنی کو دھندلا دیتی ہیں اور موازنے کا امکان باقی نہیں رہنے دیتیں۔ جب فرانسیسی اور برطانوی تاریخ کا موازنہ ترک تاریخ سے کیا جاتا ہے تو بڑے اختلافات سامنے آتے ہیں جو آج کے دور میں سمجھنا بہت ضروری ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جرگین اوسٹرہیمل کی کتابیں ترکیہ میں بھی پڑھی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ  جو نظام عثمانی سلطنت نے 1517 سے 1798 کے دوران مصر میں قائم کیا اس سے عوام کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اوسٹرہیمل کے مطابق الگ زبان ہونے کے باوجود کیونکہ مذہب ایک ہی تھا اس لیے عدل و انصاف سے حکومت کے اسلامی تصور کو نقصان نہیں پہنچا۔ اس سلسلے میں یہ درست نہیں کہ ایم آئی ٹی (ترک انٹیلی جنس) کے صدر ابراہیم کلین کی دمشق میں امیہ مسجد میں عبادت کو صرف مذہبی یا جذباتی معنوں تک محدود کردیا جائے۔ میں نہیں جانتا کہ کلین کو شامی عوام سے ملنے والی محبت سے کیسا محسوس ہوا ہوگا مگر اتنا یقین ہے کہ اس محبت کی وجہ نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا ہوگا۔  وہ لوگ بھی حیران ہوں گے جو مدتوں سے کہہ رہے تھے کہ ’ہمارا آبادیاتی ڈھانچہ متاثر ہورہا ہے، ہماری ثقافت پر حملہ ہورہا ہے، شامیوں کو جلدازجلد یہاں سے چلے جانا چاہیے۔‘ انہوں نے ایسی بڑی جیوپالیٹیکل تبدیلی کی توقع بھی نہیں کی ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شامی انقلاب کے شور میں کہیں ہم فلسطین کو بھول تو نہیں رہے؟ یا خطے کا دل کہیں اور دھڑکنے لگا ہے؟ ہم ایک بہت اہم دور میں زندہ ہیں۔ نئی  سوچوں کے بغیر اس دور کا فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1458" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2017/06/14/02/26/554x554resized_75d1b-234e5aedddd.png" data-title="صیہونیت کا زوال: پروپیگنڈے کا خاتمہ اور عالمی ردعمل" data-url="/columns/taha-kilinc/1458" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">صیہونیت کا زوال: پروپیگنڈے کا خاتمہ اور عالمی ردعمل</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1457" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2023/2/8/c8e9b1a1-s2xeq61kffe1b7lh202rj4.png" data-title="ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی سے پہلے یوکرین جنگ میں شدت" data-url="/columns/kadir-ustun/1457" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی سے پہلے یوکرین جنگ میں شدت</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1452" data-cover-image-path="/resim/imagecrop/2015/06/07/resized_acdae-037babdullahmuradoglu2.png" data-title="کیا ڈیموکریٹک پارٹی اپنی شکست کا ’پوسٹ مارٹم‘ کرے گی یا اُن کا پہلے سے کمزور اتحاد ٹوٹ جائے گا؟" data-url="/columns/abdullah-muradoglu/1452" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">کیا ڈیموکریٹک پارٹی اپنی شکست کا ’پوسٹ مارٹم‘ کرے گی یا اُن کا پہلے سے کمزور اتحاد ٹوٹ جائے گا؟</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/selcuk-turkyilmaz/1575</link>
      <subcategory>سِلچک ترکیلماز</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 20 Jan 2025 09:54:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>روس یوکرین جنگ: پوکر، رشین رولیٹ اور تاریخ کا نازک موڑ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/1473</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/--/1473" rel="standout" />
      <description>یونیورسٹی کے دنوں میں کافی ہاؤسز میں میرا بہت زیادہ وقت گزرتا تھا، مجھے آج بھی حیرت ہوتی ہے کہ اتنے شور ہنگامے کے دوران بھی میں نے  بھرپور توجہ کے ساتھ مطالعہ کیا۔ مگر کبھی بھی کافی ہاؤسز کے کھیلوں جیسا کہ بیکگیمن یا تاش کبھی نہیں سیکھ سکا، اس کے بجائے میں کچھ دوستوں کے ساتھ شطرنج کھیلا کرتا تھا۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جو مجھے بہت پسند تھا، میں اسے انسانی ذہن کی عظیم ترین ایجاد سمجھتا تھا۔ آج بھی مجھے اس کھیل کا مزہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے تو میں ضائع نہیں کرتا۔ میرے کچھ دوست پوکر کھیلنا پسند کرتے</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یونیورسٹی کے دنوں میں کافی ہاؤسز میں میرا بہت زیادہ وقت گزرتا تھا، مجھے آج بھی حیرت ہوتی ہے کہ اتنے شور ہنگامے کے دوران بھی میں نے  بھرپور توجہ کے ساتھ مطالعہ کیا۔ مگر کبھی بھی کافی ہاؤسز کے کھیلوں جیسا کہ بیکگیمن یا تاش کبھی نہیں سیکھ سکا، اس کے بجائے میں کچھ دوستوں کے ساتھ شطرنج کھیلا کرتا تھا۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جو مجھے بہت پسند تھا، میں اسے انسانی ذہن کی عظیم ترین ایجاد سمجھتا تھا۔ آج بھی مجھے اس کھیل کا مزہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے تو میں ضائع نہیں کرتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">میرے کچھ دوست پوکر کھیلنا پسند کرتے تھے۔ وہ عجیب اور نہ سمجھ آنے والے الفاظ استعمال کرتے تھے، ان میں ’بلف‘ سب سے نمایاں لفظ تھا۔ اگرچہ مجھے کبھی پوکر کھیلنا نہیں آیا مگر آہستہ آہستہ میں یہ ضرور سمجھ گیا کہ بلفنگ ہوتی کیا ہے۔ جھوٹے دعوؤں سے اپنے مخالف کو دھوکہ دینا ’بلف‘ کہلاتا ہے۔ بلف میں کامیابی کا دارومدار دوسری پارٹی کو ہار ماننے پر مجبور کرنا ہے جس سے وہ جیتا ہوا گیم ہار جائے یعنی کسی ہارتے ہوئے کھلاڑی کو گیم کا پانسہ اپنے حق میں پلٹنے کا موقع مل جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بلفنگ دراصل دوسروں کو دھوکے میں رکھ کر جیتنے کی ایک حکمت عملی ہے یعنی دوسری پارٹی پر یہ ظاہر کرنا کہ آپ کی پوزیشن مضبوط ہے اور آپ رسک لے رہے ہیں لیکن حقیقت اس کے الٹ ہے۔ یہ جوئے کی طرح ہے، اگر آپ کا بلف کام کر گیا تو آپ جیت جائیں گے۔ اگر یہ ناکام رہا تو ہار یقینی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے میرے ذہن میں ایک اور کھیل ’رشین رولیٹ‘ ( Russian roulette) کا خیال آیا۔ پوکر کے برعکس اس کھیل میں ہار کا مطلب یقینی موت ہے۔ اس کھیل میں ایک ریوالور میں ایک ہی گولی ڈال کر اسے گھما دیا جاتا ہے اور کھلاڑی کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے۔ جو اسے اپنے سر کی طرف کر کے ٹریگر دبا دیتا ہے۔ اگر گولی چل جائے تو وہ مر جاتا ہے اگر نہیں چلے تو وہ بچ جاتا ہے اور ریوالور اگلے کھلاڑی کی طرف بڑھا دیتا ہے جس کی موت کا خطرہ پہلے کھلاڑی کے مقابلے میں زیادہ ہوجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ خونی کھیل جنگ کی وجہ سے نفسیاتی دباؤ کا شکار روسی سپاہیوں کے درمیان شروع ہوا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اسی طرح کا ایک کھیل لبنان میں خانہ جنگی کے دوران  پیرا ملٹری فوجی گروپوں کو بھی کھیلتے دیکھا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پوکر اور رشین رولیٹ، دونوں کھیل یاد آنے کی وجہ یوکرین-روس تنازع ہے۔ یہ جنگ اپنے آغاز سے پوکر کی طرح لڑی گئی۔ یورپ اور مغرب نے  بڑے دعوؤں کے ذریعے کشیدگی کو بڑھایا مگر روس کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ سے گریز کیا، اس کے بجائے انہوں نے یوکرین کو نیٹو کی لڑائی کے لیے بطور پراکسی استعمال کیا۔ ظاہر ہے اس کی قیمت یوکرین کو یہ بھگتنا پڑی جو آج تباہ و برباد ہوکر رہ گیا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر اور لاپتہ ہوگئے، شہر ملبے کے ڈھیر میں بدل گئے۔ اب بھی توقعات کے برعکس روس کو ہرایا نہیں جاسکا۔ اس کے بجائے اس نے معیشت کو جنگ کے رخ پر ڈھال لیا ہے، چین اور انڈیا کی مدد سے روس  پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا۔ مگر اپنے ہزاروں لوگوں کی جان سمیت اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس نے شروع میں کچھ بڑی غلطیاں کیں جن میں اندرونی اختلافات بشمول ویگنر اور اس کی تنظیم پروگزن بھی شامل ہے (پروگزن کرائے کے فوجیوں کی ایک روسی تنظیم ہے جو یوکرین اور شام سمیت مختلف ممالک میں روسی مفادات کے لیے لڑتی ہے)۔ مگر بعد میں سنبھل کر یوکرین سے ہونے والے حملوں کا دفاع کیا اور 20 فیصد سے زائد یوکرین پر قبضہ کرلیا۔ حال ہی میں روس نے تیزی دکھاتے ہوئے تھکی ہاری یوکرینی فوج کی مزاحمت کو آخری حدوں تک دھکیل دیا۔ اگر یہ رہی سہی مزاحمت بھی دم توڑ گئی تو روس آدھے سے زیادہ یوکرین پر قبضے کے اپنے بنیادی مقصد میں کامیاب ہوجائےگا۔ پیوٹن جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں مگر مذاکرات سے پہلے جیت کی پوزیشن میں آنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے مطالبات مؤثر طور پر منواسکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے پوٹن۔ٹرمپ پارٹنرشپ سے متعلق افواہیں بھی گرم ہیں۔ ویسے تو ٹرمپ کے الیکشن جیتنے کے بعد روس کی جانب سے کوئی گرم جوشی ظاہر نہیں کی گئی اور پوٹن نے بھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ انہیں اندازہ تھا کہ ٹرمپ کی جیت سے فوری طور پر امن نہیں ہوگا۔ الیکشن سے پہلے ٹرمپ اور سابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی ملاقات کی خبریں بھی سامنے آئیں جس میں ٹرمپ پر جنگ جاری رکھنے کےلیے اصرار کیا گیا۔ ٹرمپ نے اگر شروع میں کچھ مزاحمت کی بھی ہوگی تو ممکنہ طور پر بار بار قاتلانہ حملوں کے ذریعے انہیں تعاون پر مجبور کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیٹو کی جانب سے یوکرین کو روس پر حملوں کے لیے لانگ رینج میزائل استعمال کرنے کی اجازت کے معاملے پر ٹرمپ کی خاموشی اور پھر اس کی تائید کشیدگی میں خطرناک اضافے کا اشارہ ہے۔  روس نے اس کے ردعمل میں اپنے جوہری پالیسی میں پہلی بار تبدیلی کی اور پہلی بار یوکرین کے خلاف بین البراعظمی میزائل استعمال کیا۔ کریملن نے دنیا بھر میں امریکی فوجی اڈوں پر ایٹمی حملوں کی دھمکی دی اور کہا کہ ممکنہ طور پر لندن، پیرس، برلن حتیٰ کہ امریکہ کے مشرقی ساحلی شہروں کو دس سے پندرہ منٹ میں دنیا کے نقشے سے مٹا دے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا تباہی کے دہانے پر ہے، نیٹو نے روس کی دھمکی کو بلف (پوکر کی اصطلاح) سمجھتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ پوکر کی اصطلاح میں نیٹو نے روس کی وارننگز کو چیلنج کیا اور مزید دھمکیوں یا چالوں کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ یہ تنازع اب رشین رولیٹ کا خونی کھیل شروع ہوگیا ہے، کسی کو معلوم نہیں پہلے ٹریگر کون دبائے گا اور اس کے بعد کیا نتیجہ نکلے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ جنگ کے خاتمے کی باتیں ہورہی ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ ان کا مقصد امن پر بات چیت سے پہلے روس کو اتنا کمزور کردینا ہے کہ اس کےلیے سنبھلنا ممکن نہ رہے۔ تاہم روس کی جانب سے ایسی شرائط قبول کرنے سے انکار واضح ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو صدیوں تک باقی رہنے والی صنعتی تہذیب کا زوال دیکھ رہے ہیں۔ یہ زوال صرف معاشی بحران، مہنگائی، بےروزگاری یا پیداواری نقصان تک محدود نہیں، بلکہ اس تہذیب کو مضبوط کرنے والے ادارے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔ عجیب تضاد ہے کہ سائنس، فلسفے اور آرٹ کی تہذیب نے انسانیت کو پوکر اور رشین رولیٹ تک محدود کردیا ہے، سمجھ نہیں آتا ہمیں رونا چاہیے یا ہنسنا چاہیے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/1473</link>
      <subcategory>سلیمان سیفی اوئن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Fri, 13 Dec 2024 08:50:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>صیہونیت کا زوال: پروپیگنڈے کا خاتمہ اور عالمی ردعمل</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1458</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1458" rel="standout" />
      <description>سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں 15 سے 19 اگست 1899 کے دوران تیسری صیہونی کانگریس کا اجلاس ہوا تو ایجنڈے میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ دنیا کے سامنے صیہونیت کو کس طرح پیش کیا جائے۔ سیاسی صیہونیت کے رہنما اور صیہونی کانگریس کے بانی تھیوڈور ہرزل نے اس کے لیے ’پروپیگنڈا‘ کی اصطلاح متعارف کرائی۔ چونکہ اُس وقت اِس لفظ کا کوئی منفی مطلب نہیں نکلا تھا اس لیے ہرزل نے کانگریس کے شرکا پر زور دیا کہ ’عوام کے لیے پروپیگنڈا کرو، انہیں بتاؤ کہ تم کون ہو!‘ کچھ وقت کے بعد تھیوڈور ہرزل کے قریبی ساتھی ناہم سوکولو نے ’پروپیگنڈا‘</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں 15 سے 19 اگست 1899 کے دوران تیسری صیہونی کانگریس کا اجلاس ہوا تو ایجنڈے میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ دنیا کے سامنے صیہونیت کو کس طرح پیش کیا جائے۔ سیاسی صیہونیت کے رہنما اور صیہونی کانگریس کے بانی تھیوڈور ہرزل نے اس کے لیے ’پروپیگنڈا‘ کی اصطلاح متعارف کرائی۔ چونکہ اُس وقت اِس لفظ کا کوئی منفی مطلب نہیں نکلا تھا اس لیے ہرزل نے کانگریس کے شرکا پر زور دیا کہ ’عوام کے لیے پروپیگنڈا کرو، انہیں بتاؤ کہ تم کون ہو!‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ وقت کے بعد تھیوڈور ہرزل کے قریبی ساتھی ناہم سوکولو نے ’پروپیگنڈا‘ کی جگہ ’حسبارا‘ کی اصطلاح استعمال کی، عبرانی زبان کے اس لفظ کا مطلب ’وضاحت‘ ہے۔ یہ لفظ آگے چل کر صیہونیوں اور بعد میں اسرائیل کی طرف سے دنیا بھر میں رائے عامہ کی تشکیل کے لیے استعمال کیے جانے والا پیچیدہ لابنگ سسٹم بن گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا بھر میں حسبارا مہم</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">20ویں صدی کے شروع میں جب فلسطینی سرزمین پر قبضہ مضبوط ہوا تو صیہونی گروپوں نے بڑے پیمانے پر حسبارا مہم شروع کردی۔ ان کی ابتدائی توجہ میڈیا اور تعلیمی شعبے پر تھی، جو رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے اہم طریقے تھے۔ ان کوششوں میں تمام اہم وسائل خرچ کیے گئے، بااثر لوگوں کو بھرتی کیا گیا، مصنفّوں اور مفکّروں کو اچھی تنخواہیں دی گئیں، منصوبوں کو فنڈز اور اسپانسرشپ دی گئیں اور بعض صورتوں میں بلیک میلنگ کے ذریعہ دباؤ ڈال کر کام کرایا گیا۔ ان کوششوں کا مقصد ایک حسبارا نیٹ ورک کا قیام تھا جس نے دنیا کے سامنے فلسطین پر قبضے کی ہوبہو وہی تصویر پیش کی جیسی صیہونی دکھانا چاہتے تھے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وقت کے ساتھ یہ کوششیں فلم، موسیقی اور تفریحی صنعتوں تک بڑھا دیا گیا۔ ’یہودیوں کی مظلومیت‘ کا تاثر اُبھارنے والی پروڈکشنز کو اجاگر کیا گیا اور ہولوکاسٹ (جرمنی میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کا قتلِ عام) پر مبنی فلموں پر ایوارڈز پیش کیے گئے۔ صیہونیت اور اسرائیلی بیانیے کا فروغ آسکر جیتنے کے لیے تقریباً بنیادی ضرورت بن گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسلامی ممالک، حسبارا کے نشانے پر</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حسبارا ایک ایسا نیٹ ورک بن گیا تھا جو بغیر کسی پابندیوں کے مختلف طریقے استعمال کرنے لگا، اور پھر اس کی زیادہ تر توجہ اسلامی ممالک پر مرکوز تھی۔ اسکالرز اور ریسرچرز کو منتخب کرنے کے لیے اسکالرشپ دینا شروع کردیں، سول سوسائٹی کے منصوبوں کو فنڈز فراہم کیے گئے، صحافت، سفارت کاری، عوامی اداروں اور یہاں تک کہ سوشل میڈیا کی مشہور شخصیات کو بھی ٹارگٹ کیا۔ تقریباً تمام ہی اسلامی ممالک میں ایسی اثرشخصیات یا لمحات نظر آئیں گے جنہیں حسبارا نے تشکیل دیا یا متاثر کیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">زوال کا سفر </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حسبارا کو ایک طاقتور آپریشن سمجھنا بہر حال درست نہیں ہوگا۔ اگرچہ اس پر اربوں ڈالرز خرچ ہوئے لیکن اس کے باوجود حالیہ برسوں میں یہ نیٹ ورک کمزور پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ لوگوں نے تیزی سے صیہونی حمایت یافتہ میڈیا کی جانبدارانہ پالیسی کو مسترد کرنا شروع کردیا ہے جو فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کو ’دو فریقوں کا تنازعہ‘ بناکر پیش کرتا ہے ۔’اسرائیل کے دفاع کے حق‘ کی آڑ میں مظالم کو جواز دینے کے دعوے اپنی ساکھ کھو رہے ہیں اور حملوں میں مارے گئے شہریوں کو ’دہشت گرد تنظیموں کے‘ زیر استعمال ’انسانی ڈھال‘  قرار دینے جیسے الزامات اب قبول نہیں کیے جا رہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ میں حالیہ اسرائیلی حملے صرف فلسطینی جانوں کے نقصان سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ اس عرصے میں اسرائیل کی بدنامی میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک صدی سے زائد کی صبر آزما محنت کے نتیجے میں بننے والا صیہونیوں کا ’مثبت‘ امیج چند ماہ میں مسخ ہوکر رہ گیا ہے۔  بےشک حسبارا بری طرح تباہ ہوگیا ہے اور صیہونیت اور اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پرنفرت میں ماضی سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلیوں یا صیہونیوں کے طور پر پہچان اب فخر کی بات نہیں بلکہ دنیا کے کئی حصوں میں تو اب یہ خطرے والی بات ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ تحریر جذبات بھڑکانے کی کوئی کوشش نہیں بلکہ محض ایک یاد دہانی ہے، بلکہ یہ ایک سچائی کی یاد دہانی ہے جسے کوئی بھی سمجھ دار شخص دیکھ سکتا ہے۔ تاریخ اپنے اصولوں سے ہٹے بغیر اپنا راستہ جاری رکھتی ہے۔ آنے والا دور صرف صیہونی منصوبے کا زوال ہی نہیں بلکہ اس کا شیرازہ بکھرتا بھی دیکھے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1458</link>
      <subcategory>طہٰ کلنچ</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 25 Nov 2024 08:07:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی سے پہلے یوکرین جنگ میں شدت</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1457</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1457" rel="standout" />
      <description>بائیڈن انتظامیہ نے حال ہی میں یوکرین کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ روس پر حملوں کے لیے لانگ رینج میزائل سسٹم (طویل فاصلے تک مار کرنے والے) استعمال کر سکتا ہے، امریکہ کے اس فیصلے کی وجہ سے جنگ میں شدت آگئی ہے۔ یوکرین کے رہنما ایک عرصے سے واشنگٹن کو اس معاملے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن رپورٹس کے مطابق روس کی جانب سے نارتھ کوریا کی فوجوں کو جنگ میں استعمال کرنے کے بعد بائیڈن نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ بائیڈن یوکرین کی مکمل فوجی حمایت کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے پر عزم ہے، وہ یقینی بنانا چاہتے ہیں</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن انتظامیہ نے حال ہی میں یوکرین کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ روس پر حملوں کے لیے لانگ رینج میزائل سسٹم (طویل فاصلے تک مار کرنے والے) استعمال کر سکتا ہے، امریکہ کے اس فیصلے کی وجہ سے جنگ میں شدت آگئی ہے۔ یوکرین کے رہنما ایک عرصے سے واشنگٹن کو اس معاملے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن رپورٹس کے مطابق روس کی جانب سے نارتھ کوریا کی فوجوں کو جنگ میں استعمال کرنے کے بعد بائیڈن نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ بائیڈن یوکرین کی مکمل فوجی حمایت کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے پر عزم ہے، وہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، ممکنہ مذاکرات میں یوکرین کا پلڑا بھاری  ہو۔ دوسری جانب روس نے اپنا دفاعی اور جوہری حکمت عملیاں تبدیل کردی ہیں، تاکہ مذاکرات سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکے۔ لیکن دونوں جانب سے مسلسل بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی سے لگتا ہے کہ لڑائی جلدی ختم نہیں ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے آنے سے کیا فرق پڑے گا؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نومنتخب صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں یوکرین جنگ کے خاتمے اور غیر مشروط امریکی امداد بند کرنے کے وعدوں پر زور دیا۔ امریکی عوام میں یوکرین کو امداد دینے کے حوالے سے کم ہوتی حمایت کے پیش نظر ٹرمپ نے اس تنازعے کو ملکی معیشت سے جوڑ دیا۔ انہوں نے بائیڈن انتظامیہ پر امریکی سرحدوں کی حفاظت کے بجائے یوکرین کی حفاطت کو ترجیح دینے کا الزام عائد کیا۔ اور یوکرین کو دی جانے والی امداد کو قرضوں میں بدلنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان کی مشکلات میں کمی لائی جاسکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹس کے مطابق صدر منتخب ہوتے ہی ٹرمپ نے پیوٹن سے بات کی اور جنگ کو مزید نہ بڑھانے پر زور دیا۔ ٹرمپ نے ملاقات سے انکار نہیں کیا، لیکن روس کے سرکاری میڈیا پر میلانیا ٹرمپ کی ماڈلنگ کے دنوں کی فوٹیجز چلانے سے یہ افواہیں گردش کرتی رہی کہ دونوں رہنماؤں میں کشیدگی ہے۔ کریملن ذرائع نے ملاقات کے امکان کو یکسر مسترد کردیا ہے، لیکن ٹرمپ کا صدارت سنبھالتے ہی مذاکرات شروع کرنے کا عزم واضح ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ 20 جنوری کو ٹرمپ کے باضابطہ طور پر صدارت سنبھالنے سے پہلے بائیڈن، زیلنسکی اور پیوٹن کی توجہ اپنی اپنی پوزیشنز مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">جوہری جنگ کا خطرہ</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن کی طرف سے روسی اسلحہ ڈپو اور سپلائی لائنز کو نشانہ بنانے کے لیے یوکرین کو امریکی ساختہ اے ٹی اے سی ایم ایس (190 میل رینج والے میزائل) اور برطانوی اسٹارم شیڈو (155 میل رینج والے میزائل) سسٹمز کے استعمال کی اجازت دینا جوہری جنگ کے خطرے کو بڑھا رہا ہے۔ روس کی نئی جوہری پالیسی کے مطابق اگر روس کی علاقائی سالمیت کو کسی قسم کت فوجی خطرات ہیں تو اسے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حق حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی یوکرین کو اسلحہ فرہم کرنے والے ممالک کو بھی اس تنازعے میں فریق بنایا گیا ہے جس سے ایک جوہری جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی سرد جنگ کے دوران امریکہ اور روس نے جوہری تصادم سے گریز کیا ہے، لیکن یوکرین میں مسلسل بڑھتی کشیدگی سے جنگ ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں دیتے۔ اگر روس نے جنگ میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کا استعمال شروع کردیا تو جنگ کی نوعیت یکسر بدل جائے گی اور مغرب اس کا جواب دینے پر مجبور ہو جائے گا۔ اگر روس ایسے اقدام سے باز رہتا ہے تب بھی وہ اپنی نئی دفاعی حکمت عملی کے تحت یوکرین کے حامی نیٹو ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے جس سے تنازعے کی نوعیت تبدیل ہوجائے گی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیٹو ممالک اور یورپ کا کردار</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فِن لینڈ اور سوئیڈن کی انٹرنیٹ کیبلز میں حالیہ رکاوٹیں اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ روس یوکرین کی حمایت کرنے والے نیٹو ممالک کو بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں کا مقصد یورپی ملکوں کو یوکرین کی حمایت سے پیچھے ہٹنے کے لیے مجبور کرنا ہے، خصوصاً اُس وقت جب ٹرمپ کی صدارت کی صورت میں یوکرین کے لیے امریکی امداد بھی بند ہونے کا امکان ہے۔ امریکی حمایت کے بغیر، یورپ کی مدد ڈگمگا سکتی ہے، جس سے روس کی حکمت عملی مزید مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر روس نے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تو نیٹو اور امریکہ کے پاس اس کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا اور یہ پہلے سے کمزور پڑتے مغربی اتحاد میں مزید دراڑیں ڈالنے کا باعث بنے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مذاکرات کے امکانات</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کی مذاکرات کی حکمت عملی کا انحصار روس کے زیادہ تر مطالبات کو جائز تسلیم کرنے اور اس طرح پیوٹن کو جنگ کے خاتمے پر آمادہ  کرنے پر ہوگا۔ لیکن ایک جامع امن معاہدے کے بجائے روس فی الحال ڈیڈ لاک کو ترجیح دے گا۔ اگرچہ ٹرمپ خود کو ایک ڈیل میکر کی صورت میں پیش کرنا چاہتے ہیں، تاہم روس کسی خاطر خواہ فائدے کے بغیر اپنے مقاصد سے دستبردار نہیں ہوگا۔ اسی طرح مغرب یوکرین پر علاقائی نقصانات قبول کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالے گا جس کے نتیجے میں کوئی بھی معاہدہ نازک ثابت ہوگا۔   </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیسری عالمی جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے ساتھ، امریکی امداد پر ٹرمپ کا اثر و رسوخ دونوں فریقین کو مذاکرات کے لیے آمادہ کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ کوشش بھی ناکام رہی تو ٹرمپ کو دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوئی اور حکمت عملی اپنانی پڑے گی، یا پھر بائیڈن کی پالیسیز کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ جاری رکھنا پڑے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1457</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 25 Nov 2024 07:45:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی اور  یورپ میں کیا فرق پڑے گا؟ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/ihsan-aktas/1453</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/ihsan-aktas/1453" rel="standout" />
      <description>امریکہ کے صدارتی الیکشن گزر چکے ہیں مگر دنیا لمبے عرصے تک ان کے سیاسی اثرات محسوس کرے گی۔ ایک ایسی عالمی سوچ، جس نے انسانیت کو انتشار کی طرف دھکیلا، انسانی جینیات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، جائز کو ناجائز قرار دیا اور اقدار کو نظر انداز کیا، اُسے الیکشن سے دھچکا پہنچا ہے۔ اقدار کو نظر انداز کیا ہے، سے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اب اسے اہم چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہودی بالادستی کے نظریے پر قائم یہ صہیونی عالمی ذہنیت بعض اوقات سازشی تھیوری کی طرح لگتی ہے، لیکن امریکی عوام نے ایک فیصلہ کیا جس میں اشرافیہ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کے صدارتی الیکشن گزر چکے ہیں مگر دنیا لمبے عرصے تک ان کے سیاسی اثرات محسوس کرے گی۔ ایک ایسی عالمی سوچ، جس نے انسانیت کو انتشار کی طرف دھکیلا، انسانی جینیات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، جائز کو ناجائز قرار دیا اور اقدار کو نظر انداز کیا، اُسے الیکشن سے دھچکا پہنچا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقدار کو نظر انداز کیا ہے، سے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اب اسے اہم چیلنجوں کا سامنا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہودی بالادستی کے نظریے پر قائم یہ صہیونی عالمی ذہنیت بعض اوقات سازشی تھیوری کی طرح لگتی ہے، لیکن امریکی عوام نے ایک فیصلہ کیا جس میں اشرافیہ کے گروہ پر اپنے مفادات کو ترجیح دی گئی۔ یہ حقیقت کہ پوری دنیا کی نظریں امریکی الیکشن کی رات پر تھیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبدیلیاں نہ صرف امریکہ پر اثر انداز ہوں گی بلکہ دیگر ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آسکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی انتخابی سرویز غلط کیوں ثابت ہوئے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکا میں صرف 15 فیصد شہری عالمی میڈیا مثلاً سی این این، فاکس، سی این بی سی، بلومبرگ، نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ کی خبروں پر یقین کرتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ کے اندرون ایلیٹ طبقے پر ان میڈیا چینلز کا اچھا خاصا اثرورسوخ ہے۔ اسی طرح کی غلطی اس وقت ہوئی جب ٹرمپ پہلی بار منتخب ہوئے، کیونکہ چند چھوٹی ریسرچ ٹیموں کے علاوہ تقریباً سبھی نے پیش گوئی کی تھی کہ ہلیری کلنٹن جیت جائیں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عالمی میڈیا کا اثر نہ صرف امریکی بلکہ عالمی سطح پر ان کے ناظرین کو متاثر کرتا ہے۔ بیشتر ریسرچ کمپنیوں کی ڈیموکریٹس سے قربت نے میڈیا اور پولنگ سیکٹر کے درمیان فرق کو ختم کردیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ میں بھی گزشتہ صدارتی انتخابات میں ایسی ہی صورتحال سامنے آئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً 20 پولنگ ریسرچ کمپنیوں اور بائیں بازوں کے حامی کمالسٹ میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کلچ داراوغلو 55 سے 60 فیصد اکثریت لے کر جیت جائیں گے۔ انہوں نے بھی اپنی مرضی کے نتائج کی پیش گوئی کی تھی تاہم حقیقت اس کے برعکس تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تین اہم مسائل امریکی انتخابات پر اثر انداز ہوئے: معیشت، امیگریشن اور ڈیموکریٹک ووٹروں پر غزہ تنازعہ کے اثرات ہیں۔ اس کےعلاوہ ایل جی بی ٹی لابی کی جانب سے خاندانی نظام کو لاحق خطرات کو بھی نظر انداز کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کی جیت سے یورپ میں کیا فرق پڑے گا؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">توقع ہے کہ ٹرمپ  براہ راست امریکہ کے اندرونی مسائل پر توجہ دیں گے اور یورپ کے لیے ان کے پاس کم ہی وقت ہوگا۔ بائیڈن کے دور سے پہلے یورپ انتشار کا شکار تھا۔ بائیڈن نے یورپ کو متحد کرنے کی کوشش کی جس کی قیمت یوکرین جنگ میں نقصان کی صورت میں چکانا پڑی۔  جرمنی، فرانس اور ترکیہ میں قریبی تعلقات اس عرصے کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اگر یوکرین کی جنگ ختم ہوگئی تو جرمنی اور روس کے تعلقات میں پھر بہتری آسکتی ہے مگر یورپی اقوام کے جیوپولیٹکل نقصان کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">خارجہ پالیسی میں کیا تبدیلیاں آئیں گی؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ روس کے ساتھ تنازعے سے بچنے، چائنہ اور ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ معاشی اورعالمی مقابلہ بازی کی وجہ سے ان کی زیادہ توجہ چائنہ پر رہے گی۔ سعودی عرب اور گلف ممالک کے ساتھ 500 ارب ڈالر کی ہتھیاروں کی ڈیل پر دوبارہ کام شروع ہونے کا بھی امکان ہے۔ چائنہ کے خلاف ’انڈیا کارڈ‘ کو مضبوط کرنا بھی ایک اہم کام ہوسکتا ہے، انڈیا کی برِکس رکنیت اسے مزید اہم بناتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">شام میں (کرد)  ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے لیے مشکلات</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں یوکرین میں جنگ ختم ہوگئی تو شام میں امریکہ، ترکیہ اور روس کے درمیان اتفاق رائے ہوسکتا ہے۔ اس صورت حال میں ایران کا رد عمل کیا ہوگا اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ ایران کا انتشار کا نظریہ کھل کر سامنے آرہا ہے۔ ایران کی اپنے پڑوسی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی حکمت عملی الٹا جواب دینے لگی ہے ور خود ایران کو خطرہ ہے۔  ایسا لگتا ہے کہ ترکیہ اور عراق کی جانب سے استحکام کی کوششوں کو سپورٹ کرنے کے سوا ایران کے پاس کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">خاندانی اِقدار مضبوط ہوں گی </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن کے دور میں ایل جی بی ٹی لابی زور پکڑ گئی تھی اور اسے انسانیت کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جارہا تھا۔ اس کو تیزی سے روکنے میں روسی صدر پیوٹن، ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے نمایاں کوششیں کیں۔ امریکہ ان تبدیلیوں کی سخت مخالفت کی گئی اور اسکولوں میں شدید مباحثے ہوئے۔ بائیڈن کے بعد امید ہے کہ اب خاندانی اقدار کی بحالی  کو ترجیح دی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم نے ترکیہ کی جینار رپورٹ کے مبصرین میں سے ایک ارسن چلیک اور سوشیولوجیسٹ نوزات چلیک سے ملاقات کی جنہوں نے حال ہی میں ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس وقت وہ اپنے ایک کالم پر کام کر رہے تھے جس کی سوچنے پر مجبور کرنے والی سُرخی انہوں نے ہم سے شیئر کی۔ ’آج سے مرد بچے پیدا نہیں کریں گے‘، یہ ایک جملہ صورتحال کو پوری طرح بیان کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکا ۔ ترکیہ تعلقات </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پچھلے چار سال میں ترکیہ علاقائی طاقت بننے کے اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا۔ امریکہ سے کیسے تعلقات ہونے چاہئیں، اس بارے میں بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرنا ہوگا۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آخر میں بس اتنا ہی کہ امریکی الیکشنز کا صرف امریکہ پر اثر نہیں ہوگا۔ بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں تبدیلی کے دروازے کھلیں گے۔ دیکھتے ہیں مستقبل میں کہاں، کیا ہونے والا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/ihsan-aktas/1453</link>
      <subcategory>احسان اکتاش</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Thu, 21 Nov 2024 08:07:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا ڈیموکریٹک پارٹی اپنی شکست کا ’پوسٹ مارٹم‘ کرے گی یا اُن کا پہلے سے کمزور اتحاد ٹوٹ جائے گا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1452</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1452" rel="standout" />
      <description>جوبائیڈن نے 2020 میں 8 کروڑ 10 لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 5 نومبر کو کملا ہیرس کو تقریباً 7 کروڑ ووٹ ملے جبکہ ٹرمپ کو 2024 میں تقریباً اتنے ہی ووٹ ملے ہیں جتنے 2020 میں ملے تھے۔ ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی نے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے دونوں ایوان جیت لیے۔ انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹس کےلیے سب سے زیادہ پریشان کن سات اہم سوئنگ ریاستوں میں شکست تھی۔ انہیں پورا یقین تھا کہ وہ ’بلیو وال‘ (نیلی دیوار) سے جانی جانے والے اسٹیٹس پنسلوینیا، مشی گن، وسکونسن سے جیت جائیں گے اور کملا ہیرس</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جوبائیڈن نے 2020 میں 8 کروڑ 10 لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 5 نومبر کو کملا ہیرس کو تقریباً 7 کروڑ ووٹ ملے جبکہ ٹرمپ کو 2024 میں تقریباً اتنے ہی ووٹ ملے ہیں جتنے 2020 میں ملے تھے۔ ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی نے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے دونوں ایوان جیت لیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹس کےلیے سب سے زیادہ پریشان کن سات اہم سوئنگ ریاستوں میں شکست تھی۔ انہیں پورا یقین تھا کہ وہ ’بلیو وال‘ (نیلی دیوار) سے جانی جانے والے اسٹیٹس پنسلوینیا، مشی گن، وسکونسن سے جیت جائیں گے اور کملا ہیرس صدر بن جائیں گیں، لیکن ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کی نیلی دیوار کو توڑ دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">معاشی اور امیگریشن مسائل نے انتخابی نتائج میں اہم کردار ادا کیا۔ بائیڈن۔ہیرس حکومت کی جانب سے غزہ پر حملے کے لیے اسرائیل کی حمایت کے بعد یہ تو طے تھا کہ عرب۔امریکی آبادی والی ریاستیں اُن کے ہاتھ سے جائیں گی۔ 1968 میں بھی نائب امریکی صدر ہیوبرٹ ہمفری کو اسی طرح ویتنام جنگ کا خمیازہ الیکشن میں شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔ اب بھی ویسی ہی کہانی ہے۔ روایتی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی عرب امریکی اور نوجوان ووٹرز نے اسرائیل کے لیے غیرمشروط امریکی حمایت کی پالیسی کی مخالفت کی اور بائیڈن اور ہیرس کو بار بار وارننگ دی۔ نیو کنزرویٹیوز اور اینٹی ٹرمپ ری پبلکنز پر بھروسہ کرتے ہوئے کملا ہیرس نے ان وارننگ کو نظر انداز کیا، اس بات کو بھی فراموش کردیا کہ سوئنگ ریاستوں میں معمولی فرق بھی الیکشن میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ غفلت ڈیموکریٹس کو بہت مہنگی پڑی۔ کچھ عرب امریکیوں نے گھر پر رہنا بہتر سمجھا، کچھ نے احتجاجاً ٹرمپ کو ووٹ دیا جبکہ ایک بڑی تعداد نے گرین پارٹی کے امیدوار جِل اسٹیِن کا انتخاب کیا۔ عرب امریکیوں کی سب سے زیادہ تعداد ریاست مشی گن میں ہے جہاں 2020 میں جو بائیڈن کی جیت کا مارجن ایک لاکھ 54 ہزار تھا۔ کملا ہیرس کو یہاں تقریباً 78 ہزار ووٹوں کے مارجن سے شکست ہوئی جبکہ گرین پارٹی اور دیگر امیدواروں کے مجموعی ووٹ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کے لیے غیر مشروط امریکی حمایت پر عرب امریکیوں اور دیگر ووٹرز نے پہلے بائیڈن اور پھر ہیرس کے خلاف احتجاج کیا۔ پورے امریکہ کی یونیورسٹیز میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے مگر کملا ہیرس کا جواب واضح تھا، ’اسرائیل کی حمایت نہیں چھوڑی جائے گی‘۔ مشی گن کے نتائج  بائیڈن-ہیرس حکومت کے اسرائیل سے متعلق مؤقف کی عوام میں ناپسندیدگی کا ثبوت ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرا تصور کریں ایک کمپنی جن کے پروڈکٹس سے کسٹمرز غیر مطمئن ہیں اور وہ کمپنی اُن کی شکایت کو نظر انداز کررہی ہو۔ جب گاہکوں کی شکایات احتجاج میں بدل جائے تو کمپنی ردعمل دے کہ ’ہم آپ کے غصے کو سمجھ سکتے ہیں مگر ہماری پراڈکٹ ایسی ہی رہیں گی‘۔ پھر گاہکوں کے پاس اُس کمپنی کے پاس دوبارہ نہ جانے جت سوا کیا آپشن ہوگا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کملا ہیرس کو اپنے ووٹرز سے اندھی وفاداری کی امید رکھتی تھیں۔ مگر سیاست کے میدان میں ’آواز بلند کرنا‘ یا ’ساتھ چھوڑ جانا‘ دو طاقتور آپشز ہیں۔ ووٹرز کے ساتھ چھوڑ جانے کے خطرے کو نظر انداز کرکے ہیرس نے ٹرمپ کو وہ رسی تھما دی جس سے ڈیموکریٹس کو پھانسی ملی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">البرٹ ہرشمین نے اسی موضوع پر اپنی کتاب میں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ جب ’ایگزٹ‘ (یعنی باہر جانے) آپشن موجود ہو تو آواز طاقتور ہوجاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اداروں کے نظام کو چلانے کے لیے آواز کے کردار کو سمجھنا بہت اہم ہے۔ ہیرس کے کیریئر میں ان کا اور ڈیموکریٹک پارٹی کا  ووٹرز کی آوازوں پر کان نہ دھرنا ایک بڑی غلطی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیموکریٹس نے نوجوان، سیاہ فام اورلاطینی ووٹرز کی بڑی تعداد کی حمایت  بھی کھوئی، یہ وہ گروپس ہیں جنہیں ڈیموکریٹس نے غیر اہم سممجھا تھا۔ بائیڈن نے 2020 میں 92 فیصد سیاہ فام اور 65 فیصد لاطینی ووٹرز کے ووٹ حاصل کیے۔ 2024 تک ٹرمپ نے 32 فیصد سیاہ فام اور 46 فیصد لاطینی ووٹ چھین لیے، اس طرح انہیں مختلف نسلی اور لسانی گروپوں میں مقبولیت حاصل ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک اور اہم پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ امریکی ورکنگ کلاس کا رجحان ڈیموکریٹک پارٹی سے ہٹ کر ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت کی طرف ہوگیا۔ ڈیموکریٹس جو پہلے ہی سفید فام ورکنگ کلاس کی اکثریت کی حمایت کھوچکے تھے سیاہ فام اور لاطینی ورکرز کے  ووٹوں سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جیتنے والے کی کامیابی کے ساتھ ہارنے والے کی شکست کی وجوہات کا جائزہ لینا بھی بہت ضروری ہے۔ کیا ڈیموکریٹک پارٹی اپنی شکست کو سمجھنے کے لیے پوسٹ مارٹم کرے گی یا ساتھ چھوڑ جانے والے ووٹرز پر الزام دھر کر بات ختم کر دے گی؟ ڈیموکریٹس کے لیے پہلا چیلنج اندرونی اختلافات سے نمٹنا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کے آنے سے ڈیموکریٹس اپنی غلطیاں ٹھیک کرنے پر مجبور ہوں گے یا اس سے ان کا پہلے سے کمزور اتحاد ٹوٹ جائے گا؟</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1452</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Thu, 21 Nov 2024 07:46:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ترکیہ کے اندازے اور ٹرمپ کی جیت</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1450</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1450" rel="standout" />
      <description>اپریل میں انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات بہتر ہونے لگے تھے۔ مثال کے طور پر دونوں ممالک کے رہنماوٴں کے درمیان سویڈن کی نیٹو میں شمولیت اور ایف 16 لڑاکا طیاروں سے متعلق بات چیت ہوئی تھی۔ دونوں ممالک کے حکام شام میں دہشت گرد گروہوں کے مستقبل پر بھی بات چیت کر رہے تھے۔ یہ مثبت پیش رفت ترک صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان اہم ملاقات کی طرف بڑھ رہی تھی جو مئی میں وائٹ ہاؤس میں طے تھی۔ مگر انقرہ نے بائیڈن کی ٹیم کو اطلاع دی کہ شیڈول میں کچھ مسائل کی وجہ سے وہ امریکہ کا دورہ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپریل میں انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات بہتر ہونے لگے تھے۔ مثال کے طور پر دونوں ممالک کے رہنماوٴں کے درمیان سویڈن کی نیٹو میں شمولیت اور ایف 16 لڑاکا طیاروں سے متعلق بات چیت ہوئی تھی۔ دونوں ممالک کے حکام شام میں دہشت گرد گروہوں کے مستقبل پر بھی بات چیت کر رہے تھے۔ یہ مثبت پیش رفت ترک صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان اہم ملاقات کی طرف بڑھ رہی تھی جو مئی میں وائٹ ہاؤس میں طے تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مگر انقرہ نے بائیڈن کی ٹیم کو اطلاع دی کہ شیڈول میں کچھ مسائل کی وجہ سے وہ امریکہ کا دورہ نہیں کرسکیں گے۔ جواب میں بائیڈن حکومت نے انقرہ سے نئی تاریخیں مانگیں۔ جولائی میں امریکہ میں نیٹو سمٹ ہونی تھی اور اس کے بعد بائیڈن کی انتخابی مہم کا سلسلہ تیز ہوجاتا اس لیے امریکا نے یہ خواہش ظاہر کی کہ ملاقات جولائی سے پہلے ہو جائے پھر بھی ترکیہ نے فائنل ٹائم لائن نہیں دی۔ ترکیہ کا اندازہ تھا کہ ٹرمپ کے الیکشن جیتنے کے چانسز زیادہ ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">فیدان کی اہم اور خفیہ ملاقات</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ اندازے صرف توقعات نہیں بلکہ انقرہ کی ترجیح بھی تھی۔ تعلقات میں اُتار چڑھاؤ کے باوجود اردوان اور ٹرمپ میں قریبی تعلقات ہیں، یہی نہیں بلکہ دونوں کے پاس ایک دوسرے کے پرسنل فون نمبرز ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ  انقرہ کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو بائیڈن کے مقابلے میں مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹس کے پاس مسائل کی ایک لمبی فہرست تھی جبکہ ٹرمپ  کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) اور ایس 400  جیسے معاملات کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ مختصراً غزہ کے بارے میں بائیڈن کے مؤقف اور ڈیموکریٹس کی ممکنہ ہار کے بعد انقرہ ممکنہ طور پر مزید سفارتی مصروفیات سے پہلے انتخابی نتائج کا انتظار کررہے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انقرہ نے بائیڈن کی ٹیم سے تعلقات اچھے رکھے مگر اصل امیدیں ٹرمپ سے لگا لی تھیں۔ اس تاثر کو جولائی کے مہینے میں واشنگٹن میں نیٹو سمٹ کے دوران ترک وزیرخارجہ حقان فیدان کی رچرڈ گرینیل سے خفیہ ملاقات (گرینیل سے متعلق افواہیں ہیں کہ ٹرمپ انہیں وزیرخارجہ بنانے والے ہیں) نے مزید مضبوط کیا۔ ٹرمپ کی کامیابی سے متعلق ترکیہ کی پیشگوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔ صدر اردوان نے ٹرمپ کو ’میرے دوست ٹرمپ‘ کہہ کر مبارک باد دی اور دونوں نے فون پر بات کی۔ اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">سینٹ کام ٹرمپ پر دباؤ ڈال سکتی ہے</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے دور میں ترکیہ چار بڑی پیش رفت کی توقع کرسکتا ہے، کچھ اس کے حق میں ہیں جبکہ کچھ مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پہلی بات یہ ہے کہ امریکہ کے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تعلقات پہلے ہی موضوع بحث تھے۔ میں نے پہلے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ اگر کملا ہیرس جیت گئیں تو پی کے کے کو امریکی امداد کو کم کرنے یا ختم کرنے کے عمل میں کافی وقت لگے گا لیکن ٹرمپ جیتے تو یہ عمل تیزی سے ہوگا۔ ٹرمپ کی ٹیم نے الیکشن سے پہلے خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے واضح طورپر یہ بات کہی تھی کہ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) یا وائے پی جی کے دہشتگردوں کی حمایت کی پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔ مگر شام میں دہشت گردوں کی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے سینٹ کام  (امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ) صدر پر دباؤ ڈال سکتی ہے، ہوسکتا ہے ایسا کسی نئے نام یا بھیس میں ہو، ممکن ہے کہ مقامی الیکشن کے ذریعے انہیں سیاسی شناخت دے دی جائے، مگر دیکھنا ہوگا کہ یہ کیسے ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری اہم بات ٹرمپ کی یوکرین پالیسی ہے جو کچھ یوں ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر روس سے مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا اور آئندہ امریکی امداد کو امن مذاکرات میں یوکرین کی شرکت سے مشروط کردیا جائے گا۔ مذاکرات موجودہ جنگی لائنوں کی بنیاد پر ہوں گے۔ اس پیش رفت کا اثر ترکیہ پر مثبت ہوگا، روس سے تعلقات کی وجہ سے پابندیوں کا دباؤ کم ہوجائے گا۔  وزیرخارجہ فیدان نے پہلے کہا تھا کہ ’ہمارا مقصد کاٹسا ( یہ امریکی مخالف ممالک پر پابندی لگانے کا ایکٹ ہے) سے باہر نکلنا ہے اور ہم اس کے لیے منفرد حل پر کام کررہے ہیں ۔‘ اگرچہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن ماسکو کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو معمول پر لانے سے شام میں روس کے ساتھ زیادہ جارحیت بڑھ سکتی ہے، جس سے ترکیہ کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">یورپی یونین پر ترکیہ کا بڑھتا ہوا اثر</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیسری بات یہ ہے کہ یورپی یونین ٹرمپ کے صدر بننے کے لیے ایک سال سے انتظار کررہے ہیں، تاکہ اسٹرٹیجک خودمختاری حاصل کرسکے۔ پلان میں دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے، نئی جوہری دفاعی حکمت عملی تیار کرنے اور متحد فوجی کمانڈ اسٹرکچر کی تشکیل شامل ہیں۔ اس مشکل مرحلے میں برسلز چاہتا ہے کہ ترکیہ اُس کا ساتھ دے۔ یورپی اسکائی شیلڈ پراجیکٹ سے لے کر یورو فائٹر تک، پابندیوں کے خاتمے سے لے کر ایتھنز کے ساتھ نرمی کے تعلقات تک، پچھلے سال میں جو کچھ ہوا، اس بات کا اشارہ ہے کہ ترکیہ کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چوتھا، ٹرمپ نے ’سرکل الائنس‘ تشکیل دیا جس کا مقصد گلف ممالک کو اسرائیل کے قریب لانا، تل ابیب کی حفاظت اور ایران کو محدود کرنا ہے۔ بائیڈن نے یہ پالیسی معمولی تبدیلی کے ساتھ جاری رکھی تھی۔ اسرائیل نے 7اکتوبر کے واقعات کو بہانہ بناتے ہوئے جو سٹرٹیجی اختیار کی اس میں غزہ پر قبضے کی کوشش، لبنان اور شام میں بفرزون بنانا، ایران کو شام سے باہر نکالنا، اور ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا شامل ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے 2020 میں قاسم سلیمانی کے قتل کے احکامات ایران کو شام سے باہر نکالنے کی کوششوں کا آغاز تھے۔ اگرچہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جنگ ختم کریں گے مگر اس امن کی نوعیت ابھی واضح نہیں ہے۔ امکان ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کے لیے حمایت کا سلسلہ وہیں سے جوڑیں گے جہاں سے ٹوٹا تھا۔ نیتن یاہو نے اہم موقع پر وزیر دفاع گیلینٹ کو ہٹادیا جو اعتدال پسند اور بائیڈن حکومت کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی الیکشن سے ذرا پہلے ان کی جگہ سخت مؤقف رکھنے والے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز کو وزیر دفاع بنانا سب کچھ واضح کررہا ہے۔ (مجھے یقین ہے ایک دن امریکہ نیتن یاہو کی وجہ سے بڑا نقصان اٹھائے گا اور پچھتائے گا، یقیناً ٹرمپ ہی ایسا کریں گے مگر یہ کہانی پھر سہی)</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے دور کے بارے میں کہنے کے لیے تو بہت کچھ ہے مگر فی الحال اس خیال پر بات ختم کرتے ہیں کہ بڑے فیصلوں سے پہلے اردوان اور ٹرمپ کی ملاقات کا امکان ہے۔ وہ ملاقات جو بائیڈن سے ہوتے ہوتے رہ گئی جلد ٹرمپ کے ساتھ دوبارہ طے پاسکتی ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1450</link>
      <subcategory>یحییٰ بوستان</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Wed, 20 Nov 2024 13:14:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بائیڈن کی غلطی، اشرافیہ اور امریکی سیاست کا مستقبل</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1419</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1419" rel="standout" />
      <description>الیکشن سے چند دن پہلے امریکی صدر بائیڈن کی غلطی نے ہیڈلائنز میں جگہ بنائی۔ ٹرمپ کے حامی ایک کامیڈین نے جب میڈیسن اسکوائر ریلی میں کیریبین ریاست پورٹو ریکو کو کچرے کا ڈھیر قرار دیا تو بائیڈن نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اصل کچرا تو وہ لوگ ہیں جو ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔ بائیڈن کی غلطی ایسے ماحول میں سامنے آئی جہاں پنسلوانیا میں تقریباً پانچ لاکھ  پورٹو ریکن ٹرمپ کو سپورٹ کرنے پر مجبور ہوئے۔ بائیڈن اپنے بیان کی صفائی دیتے رہے اور کملا ہیرس نے اُن کے اس بیان سے خود کو یہ کہہ کر الگ کردیا کہ ووٹنگ کے رجحان</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الیکشن سے چند دن پہلے امریکی صدر بائیڈن کی غلطی نے ہیڈلائنز میں جگہ بنائی۔ ٹرمپ کے حامی ایک کامیڈین نے جب میڈیسن اسکوائر ریلی میں کیریبین ریاست پورٹو ریکو کو کچرے کا ڈھیر قرار دیا تو بائیڈن نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اصل کچرا تو وہ لوگ ہیں جو ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔ بائیڈن کی غلطی ایسے ماحول میں سامنے آئی جہاں پنسلوانیا میں تقریباً پانچ لاکھ  پورٹو ریکن ٹرمپ کو سپورٹ کرنے پر مجبور ہوئے۔ بائیڈن اپنے بیان کی صفائی دیتے رہے اور کملا ہیرس نے اُن کے اس بیان سے خود کو یہ کہہ کر الگ کردیا کہ ووٹنگ کے رجحان کے حساب سے کسی کے متعلق اس طرح حتمی رائے نہیں دینی چاہیے۔ ٹرمپ نے علامتی طور پر امریکی جھنڈوں والے کچرے کی گاڑی پر سوار ہو کر اس صورتحال کو بھرپور انداز میں اپنے حق میں استعمال کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">فاشسٹ اور کچرا</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچرے کے جھگڑے سے یاد آیا کہ 2016 کی انتخابی مہم کے دوران ہیلری کلنٹن  نے ٹرمپ کے حامیوں کو ’باسکٹ آف ڈیپلوریبل‘ یا ’قابل مذمت لوگوں کا گروہ‘ قرار دیا تھا۔ اس بیان سے انہیں الیکشن میں کافی نقصان اٹھانا پڑا، اس بیان سے ان کے متعلق یہ تاثر مضبوط ہوا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی وہ امیدوار ہیں جنہیں زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں۔ ایسے ریمارکس سے ٹرمپ کا ایسا امیج سامنے آیا کہ جیسے وہ محروم طبقے کے حقیقی نمائندے ہیں۔ بائیڈن اس طرح کی غلطیوں کے حوالے سے کافی مشہور ہیں اور ان کے اس ریکارڈ کی وجہ سے زیادہ نقصان کا اندیشہ نہیں، کملا ہیرس نے بھی ان الفاظ سے خود کو علیحدہ کرنے کی کوشش کی ہے مگر پھر بھی اس غلطی کی ٹائنمنگ کملا ہیرس کو اچھا خاصا نقصان پہنچا سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے وقت ضائع کیے بغیر اپنے اوپر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے لوگوں کی توجہ کا رخ ڈیموکریٹک پارٹی رہنماؤں کے پرانے بیانات مثلاً  ناقابل اصلاح، فاشسٹ اور کچرا کی طرف کردیا۔ ٹرمپ کو پورٹوریکو اور نازی جنرل سے موازنے جیسے بیانات پر تنقید کا سامنا تھا۔ اگرچہ اس حکمت عملی سے ٹرمپ کے حامی ایک بار اکھٹا ہوگئے مگر یہ واضح نہیں کہ ان ووٹرز پر کیا اثر پڑے گا جنہوں نے کسی کو بھی ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ووٹرز میں بڑی تعداد تقسیم پیدا کرنے والی بیان بازی سے تنگ آچکے ہے اور ان کی دلچسپی معیشت ، امیگریشن اور ابورشن جیسے عوامی معاملات میں زیادہ ہے۔ ٹرمپ کی ذاتی دولت کو سامنے رکھا جائے تو ان کے ڈیموکریٹک پارٹی پر ایلیٹ ازم کے الزامات سے بھی ووٹرزیادہ متاثر نہیں ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک تہائی سے زیادہ ووٹرز نے ووٹ کاسٹ کردیا ہے، دونوں جماعتوں کے الیکشن مہم کی توجہ 5 نومبر کو ووٹرز کو باہر نکالنے پر ہے۔  کملا ہیرس کی مہم کو ڈیموکریٹک پارٹی کی روایتی طور پر عوام میں موجودگی کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ پنسلوینیا جیسی بیٹل گراؤنڈ ریاست میں جہاں ٹرمپ کی ٹیم نے دھاندلی کے الزامات پہلے ہی لگادئیے ہیں وہاں مقابلہ تقریباً برابر کا ہے۔  پورٹوریکن ووٹرز خاص طورپر پنسلوینیا میں فیصلہ کن قوت کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں ، ٹرمپ کی اس کمیونٹی  تک حالیہ رسائی ان کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہیرس کی آخری ریلی</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واشنگٹن ڈی سی میں آخری خطاب کے دوران کملا ہیرس نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا، انہیں امریکی جمہوریت کے لیے خطرہ قراردیا۔ کملا نے اپنا آخری خطاب وائٹ ہاؤس کے قریب کیا جہاں 2020 میں ٹرمپ کا نتائج کو قبول نہ کرنے پر فسادات کی وجہ بنا تھا، اپنی  ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کملا ہیرس نے اتحاد کا پیغام دیا۔ مسائل کو عملی طورپر حل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ آزاد اور غیرجانبدار ووٹرز سے اُن کی اپیل، میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ٹرمپ کے  جوشیلے بیانات سے بالکل اُلٹ تھی۔ کملا ہیرس نے ابورشن  کے حق کی حمایت میں واضح مؤقف اختیار کیا اور  آج کے پولرائزڈ  ماحول میں اتحاد پر زوردیتے ہوئے ٹرمپ پر تنقید کی اور توازن کو برقرار رکھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خود کو تبدیلی کا امیدوار ظاہر کرتے ہوئے کملا ہیرس نے واشگٹن سے باہر اپنے کیریئرکا ذکر کرکے  بطور آؤٹ سائیڈر اپنی اہمیت کو اجاگر کیا، یہ وہ حکمت عملی ہے جس کا اوباما اور ٹرمپ کو فائدہ ہوا تھا۔ اگرچہ کملا ہیرس کو بطور سینیٹر اور نائب صدر کام کا تجربہ ہے تاہم انہوں نے واشنگٹن سے دور اپنے کیریئر کا تذکرہ کیا۔ لیکن بائیڈن کی پالیسیز سے ان کی قریبی وابستگی ان کے اِس آؤٹ سائیڈر کا تاثر دینے کی کوشش کو مکمل طورپر کامیاب نہیں ہونے دیتی جبکہ ٹرمپ ارب پتی بیک گراؤنڈ کے باوجود کامیابی سے آؤٹ سائیڈر ہونے کا دعویٰ کرکے اس سے فائدہ اٹھاچکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جوں جوں اہم صدارتی انتخاب قریب آرہے ہیں (جس کے امریکہ اور دنیا دونوں پر بڑے نتائج ہو سکتے ہیں) ’کچرے‘ کے بیان جیسے چھوٹے، غیر اہم مسائل پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کیونکہ اس طرح کے اہم انتخابات کے پیش نظر، توجہ زیادہ اہم معاملات پر مرکوز ہونی چاہیے، لیکن اس کے بجائے معمولی تنازعات کی طرف موڑ دیا جا رہا ہے۔ ایک ایسے سیاسی تناظر میں جہاں امریکی عوام اپنے سماجی و اقتصادی مسائل کے حل کی توقع رکھتے ہیں اور نظام پر اعتماد کم ہوچکا ہے، امیدواروں کی جانب سے توہین آمیز اور تضحیک آمیز بیانات نے شدید عدم اطمینان پیدا کردیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بہت سے ووٹروں کو ایسا لگتا ہے کہ دو بُرے لوگوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے جارہے ہیں۔ اسے کلاسک انتخابی مہم کا ماحول کہا جا سکتا ہے، لیکن  لیکن امریکی سیاست میں حقیقی پالیسی کے مسائل کی بجائے شناخت پر مبنی تنازعات پر توجہ مرکوز کرنے کی طرف تبدیلی مستقبل کے لیے پریشان کن ہے۔ بہت سے امریکی ووٹرز اس سیاسی ماحول سے پیدا ہونے والی ناامیدی، بے بسی اور مایوسی کے احساس کے ساتھ ووٹ ڈالیں گے، یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ انتخابات  کے نتائج کسی حقیقی سیاسی تبدیلی کا ناعث نہیں بن سکتا۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1419</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Tue, 12 Nov 2024 08:49:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>مشرقِ وسطیٰ کی سرحدیں اور برطانوی اثرو رسوخ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1420</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1420" rel="standout" />
      <description>’ابن سعود کے ساتھ ہمارا دن بہت اچھا گزرا۔ میں جتنے لوگوں سے ملا ہوں وہ سب سے زیادہ متاثر کن لوگوں میں شامل ہیں۔ دومیٹر سے اونچا قد اور پروقار شخصیت، وہ خو کو پرسکون ظاہر کرتے ہیں اور انہوں نے عسکری رہنما کے طور پر اپنی بہادری کو ثابت کیا ہے۔ ان میں فوجی اور سیاسی قیادت کی بھرپور صلاحیت ہے۔‘ یہ الفاظ تھے مشہور برطانوی ایجنٹ اور سیاح گرٹروڈ بیل کے، جنہیں 27 نومبر 1916 کو عراق کے شہر بصرہ میں سعودی عرب کے مستقبل کے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود سے ملاقات  کا موقع ملا۔ صحرا میں ان کی ملاقات مشرق وسطیٰ کی</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’ابن سعود کے ساتھ ہمارا دن بہت اچھا گزرا۔ میں جتنے لوگوں سے ملا ہوں وہ سب سے زیادہ متاثر کن لوگوں میں شامل ہیں۔ دومیٹر سے اونچا قد اور پروقار شخصیت، وہ خو کو پرسکون ظاہر کرتے ہیں اور انہوں نے عسکری رہنما کے طور پر اپنی بہادری کو ثابت کیا ہے۔ ان میں فوجی اور سیاسی قیادت کی بھرپور صلاحیت ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ الفاظ تھے مشہور برطانوی ایجنٹ اور سیاح گرٹروڈ بیل کے، جنہیں 27 نومبر 1916 کو عراق کے شہر بصرہ میں سعودی عرب کے مستقبل کے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود سے ملاقات  کا موقع ملا۔ صحرا میں ان کی ملاقات مشرق وسطیٰ کی جدید تاریخ کے اہم لمحات میں سے ایک بن گئی ۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جون 1916 میں جب شریف حسین نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حجاز میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت  کا آغاز کیا تو برطانیہ نے دوسرے عرب علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ بغداد میں برطانوی ہائی کمشنر پرسی کوکس نے عبدالعزیز کو خلیج فارس کے ساحلی مقام پر ملاقات کی دعوت دی۔ 11 سے 12نومبر 1916 میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران ہی عبدالعزیز کو کویت میں 23 نومبر کو منعقد ہونے والی ریجنل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ یہ اجلاس برطانوی سرپرستی میں منعقد ہوا اور امیر کویت، جابر بن مبارک الصباح نے میزبانی کی۔ اس اجتماع نے خلیج کے اہم قبائلی رہنماؤں کو اکٹھا کیا۔ پرسی کاکس کا مقصد شریف حسین کی بغاوت کی حمایت کے لیے عرب رہنماؤں کو اکٹھا کرنا تھا۔ ابن سعود نے ہچکچاہٹ کے ساتھ  بغاوت کی حمایت کا وعدہ کیا، لیکن اس کا اصل مقصد کویت-عرب سرحد کے لیے اپنے حق میں سرحدی معاہدہ کرنا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کویت میں  وقت گزارنے کے بعد ابن سعود 27 نومبر کو ایک ملاقات  کے لیے بصرہ چلے گئے، جس میں گرٹروڈ بیل نے شرکت کی، ان سے سرحدی مسائل پر بات چیت کی توقع تھی۔ مگر انگریزوں کا مقصد فوجی طاقت دکھا کر اپنی برتری ظاہر کرنا تھا۔ درحقیقت، پرسی کاکس نے عبدالعزیز کے لیے ایک سفر کا منصوبہ بنایا تھا جس میں فوجی محاذوں کے دورے اور جنگی مشقوں کے جائزے شامل تھے۔ عبدالعزیز نے سیاسی سمجھ بوجھ کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی حکام کے خطے میں دلچسپی کےاظہار کا جواب دیا۔ انہوں نے  اس زمین کے حصول کی خواہش ظاہر کی جو کویت کے حوالے کی جانے والی تھی۔ برطانوی حکام یہ کہنے پرمجبور ہوگئے کہ ’وہاں تیل بھی ہوسکتا ہے‘۔ برطانوی منصوبہ واضح تھا، وہ کویت کو ایک اسٹریٹجک مقام کے طور پر استعمال کرتے ہوئے قدیم بصرہ بندرگاہ سے بچنا چاہتے تھے جہاں دجلہ اور فرات دریا ملتے ہیں۔ کویت کا مقام اور تیل کے وسیع ذخائر خطے میں جاری کشیدگی کو جنم دیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرحدیں تناؤ کا مرکز ہوتی ہیں اور برطانوی سلطنت نے، ہر اس سرزمین پر جس پر اس کا کنٹرول تھا، اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ سرحدیں اس طرح کھینچی جائیں جس سے ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہے۔  مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک اسلامی دنیا میں آج جہاں جہاں سرحدی تنازعات ہیں، وہاں اکثر برطانیہ کا عمل دخل جاسکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> جب جمہوریہ ترکی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اور نئی سرحدیں طے کی جا رہی تھیں، برطانوی دباؤ نے ہماری اصل سرحدوں کو شامل کرنے سے روک دیا، جسے ’قومی معاہدہ‘ (میثاقِ ملی) کہا جاتا ہے۔ لندن کا یہ اثر و رسوخ ایک بڑی وجہ تھی کہ ترکیہ عراق کی نئی ہاشمی بادشاہت کے ساتھ کرکوک اور موصل کو اپنی سرحدوں میں شامل کرنے کے معاہدے تک نہیں پہنچ سکا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں کی سرحدیں اس طرح کھینچی گئیں جو مستقبل میں تنازعات کا باعث بنے۔ ایسا سوچنا نادانی ہوگی کہ سامراجی قوتیں مشرق وسطیٰ جیسے پانی اور معدنی وسائل سے مالا مال خطے کو نظر انداز کردیں گی۔ اس مشکل دور میں ترکیہ کو چوکنا رہنا ہوگا، اس کے استحکام کو نشانہ بنانے والے منصوبوں میں شدت آسکتی ہے۔ یقینی بنانا ہوگا تاریخ کے تکلیف دہ تجربات دوبارہ پیش نہ آئیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1420</link>
      <subcategory>طہٰ کلنچ</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Tue, 12 Nov 2024 08:26:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>صدارتی انتخابات 2024: کون سا امریکا الیکشن جیتے گا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1406</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1406" rel="standout" />
      <description>5 جنوری کو امریکی عوام صرف اپنا صدر ہی نہیں چنیں گے بلکہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے ایک تہائی ارکان بھی منتخب کریں گے۔ موجودہ صورت حال میں دیکھا جائے تو ایوان میں ری پبلکنز کو معمولی برتری حاصل ہے جبکہ سینیٹ پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہے۔توقعات تو یہی ہیں کہ ری پبلکنز ہاؤس پر اپنی معمولی اکثریت کو برقرار رکھ سکیں گے اور شاید سینیٹ کی دوڑ میں بھی اُن کی پوزیشن تھوڑی بہتر ہوسکتی ہے۔ ڈیموکریٹس کے لیے سیٹیں بچانے کا چیلنج ری پبلکنز کے مقابلے میں زیادہ بڑا ہے خصوصاً سینیٹ کی آٹھ سیِٹوں پر سخت مقابلہ متوقع</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">5 جنوری کو امریکی عوام صرف اپنا صدر ہی نہیں چنیں گے بلکہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے ایک تہائی ارکان بھی منتخب کریں گے۔ موجودہ صورت حال میں دیکھا جائے تو ایوان میں ری پبلکنز کو معمولی برتری حاصل ہے جبکہ سینیٹ پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہے۔توقعات تو یہی ہیں کہ ری پبلکنز ہاؤس پر اپنی معمولی اکثریت کو برقرار رکھ سکیں گے اور شاید سینیٹ کی دوڑ میں بھی اُن کی پوزیشن تھوڑی بہتر ہوسکتی ہے۔ ڈیموکریٹس کے لیے سیٹیں بچانے کا چیلنج ری پبلکنز کے مقابلے میں زیادہ بڑا ہے خصوصاً سینیٹ کی آٹھ سیِٹوں پر سخت مقابلہ متوقع ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ تیسری بار  صدر کاانتخاب لڑ رہے ہیں، اور اگر وہ ہار گئے  تو اگلی بار اُنہیں مقابلے میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملے گا۔ 2016 سے ری پبلکن پارٹی پر ٹرمپ کا کنٹرول ہے۔ روایتی طورپر وہ صدر جو الیکشن ہار جائے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے مگر 2020 میں شکست کے بعد ٹرمپ نے ایسا نہیں کیا۔ ’سینٹرسٹ ری پبلکنز‘  اور ’نیوکونز‘ اس انتظار میں ہیں کہ کب پارٹی پر سے ٹرمپ کا اثر کمزور ہو، کچھ تو صرف اس لیے  کملا ہیرس کے حامی ہوگئے ہیں کہ اُن کی جیت دراصل ٹرمپ کی ہار ہوگی۔ ٹرمپ کی شکست کی صورت میں ری پبلکن میں اندرونی لڑائی امکان ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کملا ہیرس کی شکست کی صورت میں ڈیموکریٹک محاذ پر بھی یہی صورتحال متوقع ہے۔ ابھی سے الزام تراشی کی لہر اٹھنا شروع ہوگئی ہے۔ کملا ہیرس کی نامزدگی پرائمری الیکشن کے ذریعے نہیں بلکہ جوبائیڈن کی وجہ سے ہوئی جنہوں نے پرائمری الیکشن جیتنے کے بعد اپنی دوڑ ادھوری چھوڑ دی تھی۔ نتیجتاً بائیڈن اور ان کی ٹیم نے کملا ہیرس کی نامزدگی کو پوری طرح قبول نہیں کیا اور اکثر ان کےساتھ غیر اہم نائب صدروالا رویہ اختیار کیا۔  سیاسی مبصرین بطور نائب صدر کملا ہیرس کی ناقص کارکردگی کے تاثر کو اس صورتحال کی ایک وجہ سمجھتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنی پوری انتخابی مہم میں کملا ہیرس نے  بائیڈن کے ساتھ  سامنے آنے سے گریز کیا جبکہ بائیڈن جو اپنی الگ ریلیاں منعقد کرتے رہے، انہوں نے کئی غلطیاں کرکے انجانے میں ٹرمپ کو فائدہ پہنچایا۔ پہلے انہوں نے یہ بیان دیا کہ ٹرمپ  کو ’لاک اَپ‘ یعنی  قید کردینا چاہیے بعد میں وضاحت دی کہ مطلب تھا ’لاکڈ آؤٹ آف دی بیلٹس‘ یعنی انتخابی عمل سے باہر کردینا چاہیے۔ ٹرمپ کے حامیوں کو ’کچرا‘ کہنے کے بیان نے بھی کملا ہیرس کو سیاسی طور پر مشکل پوزیشن میں ڈال دیا۔ کملا ہیرس نے معاملات  کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی، وائٹ ہاؤس نے تو بائیڈن کے ریمارکس کو آفیشل ریکارڈ سے ہی مٹا کر پروٹوکولز کی خلاف ورزی کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الیکشن سے جُڑا ایک اور معاملہ ٹرمپ کی ممکنہ شکست کے بعد سیاسی انتشار کا خطرہ ہے۔ تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے  انتخابی نتائج کو قبول کرنے سےانکار کردیا تو اُس سے زیادہ بُرے واقعات پیش آسکتے ہیں جو 3 نومبر 2020 اور 6 جنوری 2021 کے درمیان پیش آئے تھے جب کیپٹل ہل پر دھاوا بول دیا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ اور اتحادی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کملا ہیرس کی کامیابی کی صورت میں انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔ امکان ہے کہ الیکشن کے بعد کانگریس میں ٹرمپ کے ہم خیال نمائندوں کی تعداد پہلے سے بڑھ جائے گی۔ کئی ری پبلکنز جنہوں نے 2020 کے انتخابی نتائج کو مانا تھا وہ پرائمریز کے مرحلے میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ چیلنجرز سے شکست کھا گئے تھے اور اسی لیے ٹرمپ کی گرفت مزید مضبوط ہوگئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بات ری پبلکن پارٹی کے زیرِ انتظام ریاستی حکومتوں کے لیے بھی درست ہے جن کے پاس انتخابی نتائج کی توثیق کا اختیارہے۔ اگر کملا ہیرس جیت گئیں تو ممکن ہے کہ مزید ریاستیں ٹرمپ کے ساتھ مل جائیں جس سے الیکشن کے بعد سیاسی افراتفری مزید بڑھ سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی ایف بی آئی اور ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے الیکشن کے بعد  کے مہینوں میں صورتحال بگڑنے کے حوالے سے وارننگز جاری کر رکھی ہیں۔ یہ ایک اشارہ ہے کہ شدت پسند گروپوں میں الیکشن نتائج کے حوالے سے خانہ جنگی (سول وار) کے بارے میں چرچا ہورہی ہے۔  ڈی ایچ ایس نے رواں برس ہی 2025 تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ جاری کی ہے اور کہا ہے کہ 2024 کے انتخابات شدت پسند گروپوں کو وجہ فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بہت کم وقت رہ گیا ہے اور ٹرمپ اور ہیرس کا مقابلہ تقریباً برابر ہے۔ میں نے پچھلے آرٹیکل میں بھی لکھا تھا کہ انتخابی نتائج کا فیصلہ سات اہم ریاستیں کریں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی معاشرے میں گہری سیاسی اور ثقافتی تقسیم کے  پیش نظر 5نومبر کے انتخابات پچھلی بار کے برعکس شدید مقابلے بازی کے ماحول میں ہورہے ہیں۔  سیاسی گرما گرمی کی چنگاری بڑھ کر خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ بظاہر دو مختلف نظریات رکھنے والے امریکا آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ اس مقابلے کا نتیجہ امریکا کے باقی دنیا سے تعلقات پر واضح طور پر اثر انداز ہونے جارہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1406</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Tue, 05 Nov 2024 07:45:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> فلسطینیوں کی بہادری اور مزاحمت  کی عظیم داستان </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/ihsan-aktas/1394</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/ihsan-aktas/1394" rel="standout" />
      <description>جب تمام معاشرے خدا کی راہ میں شہید ہونے کا مطلب بھول چکے تھے، ایسے میں آزادی کی جنگیں بہت سے گمنام ہیروز کو منظر عام پر لے آئیں۔ پہلی جنگ عظیم اور ترکیہ کی جنگ آزادی کی تاریخ سیکڑوں بے نام ہیروز اور بہادری کی بے شمار کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ حال ہی میں پروفیسر مظہرباگلی (ترک ماہر سماجی علوم) نے فرانسیسی قبضے سے عرفہ کی آزادی میں میئر اور قبائل کے منظم کردار کے بارے میں بات کی۔ ہم ان تاریخی حقائق کو اپنے ملک کے چپے چپے پر اور سلطنت عثمانیہ کی چھن جانے والی زمینوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ فلسطین کے محاذ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب تمام معاشرے خدا کی راہ میں شہید ہونے کا مطلب بھول چکے تھے، ایسے میں آزادی کی جنگیں بہت سے گمنام ہیروز کو منظر عام پر لے آئیں۔ پہلی جنگ عظیم اور ترکیہ کی جنگ آزادی کی تاریخ سیکڑوں بے نام ہیروز اور بہادری کی بے شمار کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ حال ہی میں پروفیسر مظہرباگلی (ترک ماہر سماجی علوم) نے فرانسیسی قبضے سے عرفہ کی آزادی میں میئر اور قبائل کے منظم کردار کے بارے میں بات کی۔ ہم ان تاریخی حقائق کو اپنے ملک کے چپے چپے پر اور سلطنت عثمانیہ کی چھن جانے والی زمینوں میں دیکھ سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلسطین کے محاذ پر غزہ سلطنت عثمانیہ کا آخری مضبوط گڑھ تھا۔ گیلی پولی کے شہداء کے قبرستان میں دفن غزہ کے باشندوں کی تعداد اناطولیہ کے صوبوں میں ہمارے شہداء سے کم نہیں ہے۔ جب انگریز انڈیا اور نیوزی لینڈ جیسی نوآبادیات سے لائے گئے فوجیوں کے ساتھ گیلی پولی کی جنگ لڑ رہے تھے، سلطنت عثمانیہ فلسطین سے لے کر بوسنیا اور حلب دیگر کے ساتھ جنگ لڑ رہی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سلطنت عثمانیہ کی 100 سالہ پسپائی کی کہانی ان قوموں کے لیے دردناک کہانیوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے اپنی سرزمینیں کھو دیں۔ نوآبادیاتی دور نے کوئی ملک خالی نہیں چھوڑا۔ پھر بھی انگریز آج کے دور میں ایسے زندگی گزاررہے ہیں جیسے ماضی میں ان کی کوئی کالونی نہ تھی اور گویا انہوں نے انسانیت کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی ہو۔ مثال کے طور پر استنبول پر برطانوی قبضے اور ان کی واپسی کا ذکر بالکل نہیں کیا جاتا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے بھوتوں نے استنبول پر حملہ کر دیا اور پیچھے ہٹ گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قوموں کے وجود کے لیے مضبوط قیادت ہی نہیں بہادر ہیروز بھی اہم ہیں، اس قوم کی تاریخ عظیم قربانیوں اور بہادری سے بھری پڑی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس کے باوجود سامراجی طاقتوں کی ثقافتی یلغار کی وجہ سے فاتح سلطان مہمت اور عبدالحمید کے سوا  تمام ہیروز کے نام ہماری یادوں سے مٹ چکے ہیں۔ تاہم اس قوم کے بچے یونانی دیوتاؤں اور مغرب کے جھوٹے ہیروز کو دل سے جانتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب غزہ کی جنگ شروع ہوئی تو لوگوں نے سمجھا کہ انسانیت کو ایک نئی صورتحال کا سامنا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کے تمام ممالک اسٹاک مارکیٹ، پیسہ، بِٹ کوائن اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز جیسے مادی مسائل میں گھرے ہوئے تھے۔ لوگ سوال کرتے تھے کہ ’میں دوسروں کی طرح خرچ کیوں نہیں کر سکتا؟‘ یا ’امریکہ میں بے پناہ دولت‘ کی تعریف کرتے تھے۔ یہاں تک کہ مذہبی رہنما بھی مادیت میں پھنس گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی شروع کی تو ہمیں ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمیں علم ہوا کہ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، ایسے لوگ ہیں جو اسرائیلی ویمپائرز کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ ایمان والوں کا معاشرہ تھا جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ کہتے تھے کہ ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ غزہ کے مسلمانوں نے باقی دنیا کے مسلمانوں کو اپنے عقیدے کا جائزہ لینے کا راستہ دکھایا، ہزاروں مسیحی لوگوں نے غزہ کے اُن والدین سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا جنہوں نے اپنے بچے کھو دیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار جیسے رہنماؤں اور ہزاروں ہیروز سمیت غزہ کے لوگوں نے انسانیت کو یاد دلایا کہ اچھائی، اخلاقیات اور انسانی اقدار اب بھی موجود ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دنیا کو دکھایا کہ کس طرح  شیطان کے سپاہی صیہونیوں نے انہیں غلام بنا رکھا ہے۔ آج امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں فلسطین میں نسل کشی کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کو احساس ہے کہ ان کے اپنے ممالک بھی غزہ کی طرح محصور ہیں۔ مرحوم اربکان (سابق ترک وزیراعظم) نے عمر بھر یہی آواز بلند کی کہ صیہونیت نے ایک آکٹوپس کی طرح پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ غزہ کی جنگ نے اس بیان کو پہلے سے کہیں زیادہ واضح کر دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عزالدین القسام مصر میں زیرتعلیم تھے اور وہیں سے گیلی پولی مہم میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہوئے، لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی جنگ ختم ہو گئی۔ وہ اپنے وطن واپس آئے اور قابض انگریزوں اور صیہونیوں کے خلاف اپنے لوگوں کو منظم کیا اور شہداء کے اس کارواں کا حصہ بنے جس کا آغاز رسول اللہﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تمام فلسطینی رہنماؤں کا یقین ہے کہ شہادت ان کا مقدر ہے۔ اسماعیل ہنیہ کی شہادت نے تمام مسلمانوں میں مایوسی کی کیفیت پیدا کردی۔ بے بسی کا احساس سب سے زیادہ پریشان کن ہوتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اللہ کی رحمت اور شہادت کی برکت سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف شیر کی طرح لڑنے والے یحییٰ سنوار کی شہادت فلسطین کی جنگ آزادی کے لیے ایک نئی امید بن گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آج عالمی میڈیا اسرائیل کی اس بھیانک غلطی پر بات کر رہا ہے۔ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ شہید یحییٰ سنوار لازوال ہیرو بن گئے۔ سنوار کے بارے میں اسرائیل اور امریکہ کے جھوٹ کی بنیاد پر مغربی ایکٹیوسٹس پوچھ رہے ہیں کہ ’ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ انہوں نے ہم سے مزید کتنے جھوٹ بولے ہیں؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جس وقت مسلم دنیا اپنی طاقت سے محروم ہوتی نظر آرہی تھی غزہ کے عظیم ہیروز نے سب سے پہلے ہمیں یاد دلایا کہ مسلمان ہونے، نیکی اور اعلیٰ اخلاق کا مطلب کیا ہے اور اللہ کا بندہ ہونا کیا ہے۔ آزادی کے متوالے دیگر مجاہدین کی طرح یحییٰ سنوار نے ہمیں سمجھایا کہ اب بھی فخرالدین پاشا (عثمانی فوج کے آخری کمانڈرز میں سے ایک، جو محافظ مدینہ کے لقب سے مشہور ہوئے) جیسے لوگ موجود ہیں جو بے خوفی سے لڑ کر پوری دنیا میں بیداری اور امید پیدا کرسکتے ہیں ۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خدا اُن کے درجات بلند کرے، کچھ لوگ ان کا موازنہ عمر مختار (لیبیا کے مجاہد جنہیں صحرا کا شیر کہا جاتا ہے،1931 میں اٹلی کی فوج نے انہیں پھانسی دے دی تھی) سے کرتے ہیں۔ سامراجی قوتوں کو اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔ فلسطینیوں کی روح کو نسل کُشی سے کچلا نہیں جاسکتا۔ وہ دوبارہ اُٹھیں گے اور پھر ظالم سامراجیوں کو اِس دنیا میں، جسے وہ سب کچھ سمجھتے ہیں، کہیں امن نہیں ملے گا، نہ ہی اُس آخرت میں جس پر وہ ایمان نہیں رکھتے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/ihsan-aktas/1394</link>
      <subcategory>احسان اکتاش</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Thu, 31 Oct 2024 11:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ میں انسانی بحران  یا امریکا کے صدارتی الیکشن، اصل مسئلہ کیا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1388</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1388" rel="standout" />
      <description>یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو بھییجا گیا خط، جس میں کہا گیا کہ غزہ میں امداد کی فراہمی روکنے کی صورت میں ہتھیاروں کی سپلائی روکی جاسکتی ہے، امریکی صدارتی الیکشن سے منسلک نہیں ہے۔ غزہ میں ایک سال سے جاری نسل کُشی اورشہریوں کو غذائی قلت کا شکار کرنے والی پالیسیز پر آنکھیں بند رکھنے والی بائیڈن حکومت کو الیکشن سے صرف تین ہفتے پہلے غزہ کا بحران یاد آگیا۔ اس کی ٹائمنگ اور خط کے مندرجات لیک ہونا ممکنہ طورپر دوہفتوں سے اسرائیل کے ساتھ  جاری مذاکرات کا ایک حصہ ہوسکتا ہے۔</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو بھییجا گیا خط، جس میں کہا گیا کہ غزہ میں امداد کی فراہمی روکنے کی صورت میں ہتھیاروں کی سپلائی روکی جاسکتی ہے، امریکی صدارتی الیکشن سے منسلک نہیں ہے۔ غزہ میں ایک سال سے جاری نسل کُشی اورشہریوں کو غذائی قلت کا شکار کرنے والی پالیسیز پر آنکھیں بند رکھنے والی بائیڈن حکومت کو الیکشن سے صرف تین ہفتے پہلے غزہ کا بحران یاد آگیا۔ اس کی ٹائمنگ اور خط کے مندرجات لیک ہونا ممکنہ طورپر دوہفتوں سے اسرائیل کے ساتھ  جاری مذاکرات کا ایک حصہ ہوسکتا ہے۔ امریکی حکومت اپنے عوام کو پییغام دیتی نظر آرہی ہے کہ وہ غزہ میں انسانی بحران کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے اور اس کے لیے ضرورت پڑی تو اسرائیل کی فوجی امداد روکی جاسکتی ہے۔ مگر بظاہر یہ کوشش غزہ کی صورتحال کے بارے میں کم اور الیکشن سے پہلے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کا خطرہ مول لینے سے بچنے سے معتلق زیادہ ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن ایران سے جنگ نہیں چاہتے</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملے کو وجہ بنا کر غزہ پر حملوں کی حمایت کی۔ اس نے امریکہ بھر میں ہونے والے مظاہروں سے جنگ بندی کے مطالبات کو نظر انداز کیا اور قانونی حدود کے باوجود اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کو ایسے طریقوں سے استعمال کرنے کی اجازت دی جس سے عام شہریوں کو نقصان ہوا۔ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کو مسلسل فراہمی کی وجہ سے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کچھ عہدیداروں نے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا۔ امریکی حکومت نے ایک ریڈ لائن طے کررکھی تھی کہ اگر اسرائیل رفح میں داخل ہوا تو فوجی امداد روک دی جائے گی مگر اس دھمکی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پھر شام میں ایرانی قونصلیٹ پر اسرائیلی حملے  کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں امریکی حکومت پرعوامی دباؤ کم ہوگیا اور کانگریس نے خاموشی سے اسرائیل کے لیے 17 ارب ڈالرز کا امدادی پیکج منظور کرلیا، جبکہ 9 ارب ڈالرز غزہ میں امداد کے لیے رکھے۔ بائیڈن انتظامیہ غزہ کے حالات زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے مالی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار تھی، لیکن صرف اس صورت میں جب اسرائیل نے ایسے اقدامات نہیں کیے جو جاری تنازعہ کو مزید خراب کر دیں۔ مگر نیتن یاہو خطرے کو بڑھاتے رہے اور بائیڈن انتظامیہ صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی۔ امریکی حکومت کے پاس غزہ میں جاری جنگ یا اسرائیل۔فلسطین تنازعے کو حل کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں تھی۔ حد تو یہ ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کی بنیاد پر بھی تل ابیب کو سیز فائر پر راضی نہیں کیا جا سکا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شام میں ایرانی قونصلیٹ پر حملے کے ذریعے نیتن یاہو نے اسرائیل-ایران کشیدگی کو ہوا دی۔ ساتھ ہی جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی کو بھی ایجنڈے پر رکھا۔ خطے میں جنگ کے خطرے کو بھانپنے کے باوجود بائیڈن انتظامیہ مجبور تھی کہ وہ اسرائیل کی سیکیورٹی کے لیے امریکی فوجیوں اور ہتھیار بھیجے۔ شروع سے ہی بائیڈن کی توجہ علاقائی تنازعہ سے بچنے پر تھی اور اس کی یہی کوشش تھی کہ معاملہ غزہ تک محدود رہے۔ مگر اسرائیل کی بھرپور کوشش تھی کہ موقع ملتے ہی واشنگٹن کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلے۔ اپریل اور اکتوبر میں ایران کے براہ راست جواب نے نیتن یاہو کا کام آسان کردیا، اگرچہ بائیڈن اب بھی ایران کے ساتھ جنگ کے خواہشمند نہیں تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے ایٹمی طاقت بننے کے امکانات</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ نے غزہ میں ہونے والی تباہی کے منفی اثرات یا نتائج کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لحاظ سے معمولی سمجھا۔ اگرچہ امریکہ نے اپنی عزت کھو دی اور دہرے معیار کے بے نقاب ہونے کے باوجود اسرائیل کے لیے سفارتی حمایت برقرار رکھی۔ غزہ میں قتلِ عام کو نظر انداز کرنے کے لیے امریکی فوجیوں کو جنگ میں بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی تاہم لبنان کے معاملے میں یہ واضح تھا کہ امریکہ وہاں خانہ جنگی نہیں چاہتا کیونکہ اس سے ایران اسرائیل جنگ کا خطرہ تھا اور پھر مجبوراً امریکہ کو بھی جنگ میں شامل ہونا پڑتا۔ امریکہ ایران جنگ کی صورت میں یہ بھی خطرہ تھا کہ ایران ایٹمی طاقت کے حصول کی کوشش تیز کردیتا، اس سے خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جاتی اور یہ واشنگٹن کے لیے بھیانک خواب جیسا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واشنگٹن نہیں چاہتا کہ ایران ایٹمی طاقت بنے کیونکہ اس سے صرف خطے میں نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایٹمی توازن بگڑ جائے گا۔ امریکہ کئی بار یہ کہہ چکا ہے وہ ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول قبول نہیں کرے گا۔ اگر امریکہ فوجی طاقت کے ذریعے ایران کی ایٹمی صلاحیت کا خاتمہ ممکن سمجھتا تو کب کا ایسا کر چکا ہوتا۔ اسرائیل اسی وجہ سے واشنگٹن کو ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے پر راضی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ اُسے اس کی مرضی کے بغیر کسی جنگ میں گھسیٹا جائے اور اس نے پچھلے دو ہفتوں سے اسرائیل کو روک رکھا ہے۔ اسی لیے اسرائیل جس نے یکم اکتوبر کے حملے کے بعد ایران کی جوہری اور تیل تنصیبات پر حملہ کرکے جواب دینے کی بات کی تھی، حال ہی میں کہا ہے کہ وہ صرف ایران کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ بائیڈن انتظامیہ نے واضح کردیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو وہ جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن انتظامیہ کے حالیہ خط کو اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ واشنگٹن صدارتی انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف اسرائیل کے ممکنہ ردعمل کے غیر متوقع نتائج کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ صرف ایک ہی تھاڈ ڈیفنس سسٹم (فضائی دفاعی نظام) اسرائیل بھیجنے کا مطلب یہی ہے کہ امریکہ ایران سے بڑی جنگ کے لیے تیاری نہیں کر رہا۔ اسرائیل پر غزہ میں امداد کے لیے دباؤ ڈالنے کی اداکاری کرکے اور اسرائیل کو الیکشن سے پہلے کوئی بڑا حملہ کرنے سے روک کر بائیڈن انتظامیہ اُس انتخابی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے جو فلسطین کے حامیوں کے مظاہروں کی وجہ سے بڑھتا جارہاہے۔ یکم اکتوبر کے ایرانی حملے نسبتاً زیادہ کارگر تھے اور اسرائیل نے بظاہر یہ بات سمجھ لی ہے کہ وہ امریکی مدد اور حمایت کے بغیر کوئی بڑی جنگ نہیں لڑسکتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن کے دوبارہ الیکشن نہ لڑنے کی ایک وجہ مسئلہ فلسطین بھی ہے اور یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس مسئلے کی وجہ سے کملا ہیرس کا صدارت کی کرسی پر بیٹھنے کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔ بائیڈن انتظامیہ نہیں چاہتی کہ نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں کوئی اکتوبر سرپرائز ملے ، وہ ایران کو اشتعال بھی نہیں دلانا چاہتی کہ کہیں وہ  ایٹمی طاقت کے حصول کی طرف قدم نہ بڑھا لے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ اصل ایشو غزہ میں مسلسل بگڑتا انسانی بحران نہیں بلکہ امریکی الیکشن ہیں۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1388</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Tue, 29 Oct 2024 11:03:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ میں بھوک، پیاس اور ادویات کی کمی، امریکا نے اسرائیل کو ’میڈیکل قتل عام‘ کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1385</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1385" rel="standout" />
      <description>امریکا اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی میں ’چیتے جیسی پھرتی‘ دکھا رہا ہے جبکہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ’کچھوے کی چال‘ سے ہورہی ہے۔ ’فلسطینیوں کی نسل کشی‘ پر بائیڈن انتظامیہ کا یہ رد عمل دنیا کے سامنے ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کو مارنے کے لیے نہ صرف آسمان سے امریکی بم برسا رہا ہے بلکہ بھوک، پیاس اور دواؤں کی قلت کے ذریعے انہیں موت کے منہ میں بھیج رہا ہے۔ 13 اکتوبر کو امریکی وزیرِ خارجہ انتونی بلنکن اور وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ اور اسٹرٹیجک افیئرز کے وزیر</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکا اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی میں ’چیتے جیسی پھرتی‘ دکھا رہا ہے جبکہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ’کچھوے کی چال‘ سے ہورہی ہے۔ ’فلسطینیوں کی نسل کشی‘ پر بائیڈن انتظامیہ کا یہ رد عمل دنیا کے سامنے ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کو مارنے کے لیے نہ صرف آسمان سے امریکی بم برسا رہا ہے بلکہ بھوک، پیاس اور دواؤں کی قلت کے ذریعے انہیں موت کے منہ میں بھیج رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">13 اکتوبر کو امریکی وزیرِ خارجہ انتونی بلنکن اور وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ اور اسٹرٹیجک افیئرز کے وزیر ران ڈیرمر کو خط بھیجا۔ جس میں اشارہ دیا گیا کہ غزہ میں دواؤں اور خوراک سمیت امداد کی فراہمی میں رکاوٹ کا اثر ہتھیاروں کی سپلائی پر پڑ سکتا ہے۔ مگر یہ وارننگ بے نتیجہ اور بے اثر رہی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خط میں اسرائیل کو غزہ میں انسانی امداد کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے 30 دن کی مہلت دی گئی۔ مگر اسرائیل تو پہلے ہی اِس سال مارچ میں امریکہ کو تحریری یقین دہانی کراچکا ہے کہ وہ امداد نہیں روکے گا۔ چھ مہینے سے زائد وقت گزر گیا مگر نہ اسرائیل نے اپنا رویہ بدلا، نہ ہی امریکا نے مؤقف تبدیل کیا، اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی بلا روک ٹوک جاری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ یہ خط ’پی آر اسٹنٹ‘ کے سوا کچھ نہیں جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ بائیڈن غزہ میں فلسطینیوں کی مدد کی کوشش کررہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اسرائیل بھوک، پیاس اور دواؤں کی قلت کو فلسطینیوں کی نسل کُشی کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ تو کیا بائیڈن انتظامیہ واقعی بے خبر ہے؟ دوسری جانب امریکی میڈیا بلنکن اورآسٹن کے خط کو سنگین وارننگ بنا کر پیش کررہا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انسانی امداد کے لیے کام کرنے والی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایجنسیز کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل جان بوجھ کر امدادی قافلوں کا راستہ روک رہا ہے، ان رپورٹس میں اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کی سفارش کی گئی ہے لیکن ان تمام رپورٹس کو نظر انداز کرتے ہوئے بلنکن نے کانگریس میں غلط بیانی کی، کہا کہ ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی کوئی وجہ موجود نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان 30 دنوں کی ڈیڈلائن ختم ہونے سے پہلے 13 نومبر کو امریکا میں الیکشن ہوجائیں گے اور بائیڈن جن کا سیاسی کیریئر جنوری 2025 میں ختم ہونے جا رہا ہے ، انہیں ’اسرائیل لابی‘ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ مگر اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے بائیڈن کو اپنی پوری سیاسی میموری کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور وہ ایسا کرنے کے قابل نظر نہیں آتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن انتظامیہ کا واحد ایکشن جو مستقل ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے وہ اسرائیل کو فوجی، مالی اور سفارتی امداد کو ہر قیمت پر جاری رکھنا ہے۔ اسرائیل پر کسی بھی قسم کی تنقید کھوکھلے لفظوں سے بڑھ کر کچھ نہیں جن کا مقصد اندرونی اور عالمی رد عمل  میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرانا ہے۔ بائیڈن ایسا ظاہر کررہے ہیں جیسے وہ غزہ میں انسانی امداد کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر درحقیقت فلسطینیوں کی نسل کشی مکمل کرنے کے  لیے اسرائیل کو مزید وقت دے رہے ہیں۔ بائیڈن کا یہ کھیل ایک سال سے جاری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن نے ایک بار کہا تھا کہ ’آپ کو صیہونی ہونے کے لیے یہودی ہونے کی ضرورت نہیں، میں ایک صیہونی ہوں‘۔ ان کا 1970  سے اسرائیل کے لیے یہی سیاسی مؤقف ہے۔ لبنان سمیت  مختلف علاقوں میں اسرائیل کے اندھا دھند حملوں پر ان کے ردعمل میں کبھی بھی انسانی یا اخلاقی اظہارِ تشویش سامنے نہیں آیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خوراک ، پانی، دواؤں یا بجلی کے بغیر موجود بچوں، بوڑھوں اور  بیمار فلسطینیوں کے لیے 30 دن کے اس انتظار کا مطلب صرف موت ہے۔ غزہ میں سیوریج اور پینے کے پانی کا انفرا سٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔ ہسپتالوں پر بمباری کی گئی، ہیلتھ کیئر کا عملہ مارا گیا۔ اس انتظار کے نتائج کا اصل اندازہ صرف ڈاکٹرز ہی لگا سکتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجھے کوئی شک نہیں کہ صیہونیوں نے سارا حساب لگا رکھا ہے کہ جسم کا کون سا حصہ کام کرنا چھوڑے گا یا کھانے، پانی اور دواؤں کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی صحت کو کب ایسا نقصان پہنچے گا کہ ان کا بچنا ممکن نہ رہے۔ غزہ میں امداد کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹ نے اسے کئی دہائیوں سے ایک ’کنسنٹریشن کیمپ‘ میں تبدیل کررکھا ہے  اور یہ سب کچھ ’Medical Genocide‘ (طبی قتل عام) کے منصوبے کا حصہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے اُس سے تو نازی ڈاکٹر جوزف مینگل بھی اپنی قبر سے نکل آئے گا، وہی جوزف مینگل جنہیں یہودی بچوں کے ساتھ بھیانک اور غیرانسانی تجربات کی وجہ سے ’اینجل آف ڈیتھ‘ یعنی موت کا فرشتہ کہا جاتا تھا کیونکہ انہیں کبھی بھی اپنے مظالم پر پچھتاوا نہیں ہوا۔ کیا کسی ایک صیہونی کو بھی غزہ میں جاری ’نسل کُشی‘ پر تکلیف ہوئی؟ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خود صیہونیوں کی بات چھوڑیں، وہ تو فلسطینیوں کو انسان بھی ہی نہیں سمجھتے۔ لیکن کیا  اسرائیل کی حامی مغربی حکومتیں بھی ایسا تسلیم کرتی ہیں کہ غزہ میں جاری انسانی بحران دراصل ایک ’میڈیکل قتلِ عام‘ ہے؟</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1385</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 28 Oct 2024 11:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> 7 اکتوبر کے بعد سے نہ ختم ہونے والی جنگ اور اسرائیل کی نئی حکمت عملی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1361</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1361" rel="standout" />
      <description>اب سے ایک برس پہلے اسی ہفتے میں ایک میٹنگ کے سلسلے میں انقرہ میں تھا۔ جب حماس نے 7 اکتوبرکوحملوں کا آغاز کیا تو فلسطین کا مسئلہ اجلاس کے ایجنڈے میں اہم حصہ بن گیا تھا۔ اسرائیل کی سیکیورٹی کی کمزوریوں پر بھی بحث ہوئی اور حماس کے حملے کی ٹائمنگ کے بارے میں بھی بہت بات ہوئی۔ اس بات پر سب متفق تھے کہ اسرائیل کا جواب اس حملے سے کئی گنا بڑا ہوگا۔ یہ بات بھی واضح تھی کہ اسرائیل اور حماس کی لڑائی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے والی ہے، اس بات پر بھی بحث ہورہی تھی کہ مسئلے کے سیاسی حل کے لیے کیا کرنا ہوگا۔</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب سے ایک برس پہلے اسی ہفتے میں ایک میٹنگ کے سلسلے میں انقرہ میں تھا۔ جب حماس نے 7 اکتوبرکوحملوں کا آغاز کیا تو فلسطین کا مسئلہ اجلاس کے ایجنڈے میں اہم حصہ بن گیا تھا۔ اسرائیل کی سیکیورٹی کی کمزوریوں پر بھی بحث ہوئی اور حماس کے حملے کی ٹائمنگ کے بارے میں بھی بہت بات ہوئی۔ اس بات پر سب متفق تھے کہ اسرائیل کا جواب اس حملے سے کئی گنا بڑا ہوگا۔ یہ بات بھی واضح تھی کہ اسرائیل اور حماس کی لڑائی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے والی ہے، اس بات پر بھی بحث ہورہی تھی کہ مسئلے کے سیاسی حل کے لیے کیا کرنا ہوگا۔ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ایک سال پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسرائیل غزہ کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑے گا، تنازعے کو دیگر ملکوں تک پھیلائے گا اور خود کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیل دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مسئلہ فلسطین ایک سال قبل </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پچھلے سال 7 اکتوبر سے صرف چند دن پہلے تک ایسا لگتا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے حل پر دنیا کی کوئی توجہ نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی حمایت کے ساتھ اسرائیل نے ’ابراہم اکارڈ‘ کے ذریعے کئی عرب ملکوں سے تعلقات  بہتر کرلیے تھے۔ بائیڈن انتظامیہ بھی اسرائیل کے سعودی عرب سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے مذاکرات کررہی تھی ۔ اسرائیل کا مؤقف تھا کہ فلسطین کا مسئلہ بس اب ایک معمولی حل طلب معاملے کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کا خیال تھا کہ سعودی عرب سے تعلقات قائم ہونے کے بعد یہ مسئلہ خود بخود ختم ہوجائے گا۔ اسرائیل نے امریکا اور کئی مغربی ملکوں سے یہ بات منوا لی تھی کہ فلسطینی ریاست  کا قیام غیرحقیقی تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اُس دوران جب غزہ کا محاصرہ جاری تھا تو ویسٹ بینک میں نئی بستیاں تعمیر کی جارہی تھیں، اسرائیلی قبضہ مضبوط اور غزہ کا گھیرا مزید تنگ ہوتا رہا۔ لاکھوں لوگ اسرائیل کے رحم و کرم پر تھے۔ ترکیہ نے غزہ کے محاصرے اور نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف آواز اٹھائی۔ سفارتی ذرائع استعمال کرکے اسرائیلی صدر پر رمضان میں فلسطینیوں پر مظالم روکنے کے لیے دباؤ ڈالا، تشدد روکنے کی یہ کوششیں کامیاب بھی ہوئیں۔ کئی برس بعد ترکیہ نے احتیاط کے ساتھ اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کیے مگر ساتھ ہی یروشلم کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلقات کے معمول پر آنے کا انحصار مسئلہ فلسطین کے حل پر ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو ریاستی حل کے حصول اور مسئلہ فلسطین کے پُرامن حل میں ناکامی کا سب سے بڑا ذمہ دار امریکا ہے جو شاید یہ چاہتا ہے کہ اس مسئلہ کو مکمل طور پر بھُلا دیا جائے۔ بائیڈن انتظامیہ ایران کے ساتھ ایٹمی ڈیل تو کرنا چاہتی تھی مگر دباؤ ڈالنے پر تیار نہیں تھی۔ ان کا مقصد ایران کے ساتھ معاملات کواسی طرح لٹکائے رکھنا تھا اور باقی مڈل ایسٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ساری توجہ چین پر رکھنا تھا۔ بائیڈن کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیوان نے یوکرین پر روسی حملے کو سنہری موقع سمجھتے ہوئے مغرب کو ہم آواز بنا لیا۔  7اکتوبر سے چند دن پہلے ایک آرٹیکل میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ مڈل ایسٹ میں جتنا امن اب ہے پہلے کبھی نہیں رہا اور اس خود ساختہ امن کا کریڈٹ امریکی انتظامیہ کو دے دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو کے لیے تاریخی موقع</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جس سکون کا سلیوان ذکر کر رہے تھے دراصل وہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔ حماس نے اسرائیل کے اس پروپیگنڈے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ایران کی مدد سے 7 اکتوبر کو حملہ کیا۔ توقعات سے زیادہ حماس کے شدید حملوں کو اندرونی سیاسی مسائل میں پھنسے نیتن یاہو نے ایک تاریخی موقع سمجھا۔ ان حملوں کو اسرائیل کا نائن الیون قرار دے کر نیتن یاہو نے امریکا کو ساتھ لیا اور ایک نہ ختم ہونے والی جنگ چھیڑ دی۔ اسرائیل کو حملے سے روکنے کے بجائے اُس کی بھرپور مدد کرتے ہوئے بائیڈن حکومت نے نیتن یاہو کا کام مزید آسان بنادیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پچھلے ایک سال میں اسرائیلی حکومت نے بین الاقوامی عدالتوں میں نسل کشی کے الزامات عائد کیے جانے کی پرواہ کیے بغیر امریکی حمایت کے ساتھ  مل کر نہ صرف غزہ کو تباہ کرکے رکھ دیا بلکہ فلسطینیوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔ نیتن یاہو نے اپنے سیاسی کیریئر کو بچانے اور امریکا کے لیے آپشنز کو محدود کرنے کے لیے نہ ختم ہونے والی  جنگ کا دائرہ شام، لبنان اور ایران تک پھیلا دیا۔ اس مرحلے پر جب بائیڈن انتظامیہ نے صدارتی انتخابات سے پہلے اسرائیل کی غزہ کی حکمت عملی پر تنقید کرنا چاہی تو نیتن یاہو نے شام میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کا حکم دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو کے اِس اقدام سے اشارہ ملا کہ اصل مسئلہ غزہ نہیں بلکہ ایران سے جنگ ہے، اس کے نتیجے میں اسرائیل کو امریکی کانگریس سے اربوں ڈالر امداد بھی ملی اور شاباشی بھی۔ یونیورسٹیوں میں احتجاج سمیت امریکا بھر میں مظاہروں کے باوجود بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کے ’دفاع کے حق‘  کی حمایت جاری رکھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہوایک شاطر سیاست دان ہیں جو امریکہ کے اندرونی سیاسی معاملات سے اچھی طرح باخبر ہیں اوراسرائیلی لابی کی طاقت کو استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتے، اپنی لابی کی مدد سے وہ امریکی کانگریس میں اسرائیل کے خلاف اپوزیشن کے دباؤ کو توڑنے میں بھی کامیاب رہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس وقت امریکی انتخابات سے پہلے وہاں موجود سیاسی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیتن یاہو کی حکومت مڈل ایسٹ کو بڑی جنگ میں دھکیلنے کے لیے ایران پر بڑے حملے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل حزب اللہ کو بےاثر کرنے کی کوشش کررہا ہے اور ایران کا ایٹمی پروگرام ختم کرانے کے لیے امریکا پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ  واشنگٹن اور تہران ایک دوسرے سے براہ راست  لڑنا نہیں چاہتے اور نیتن یاہو دھمکیوں سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ تاہم گزشتہ سال سے جاری  مستقل جنگ کی اسرائیلی حکمت عملی کو دیکھتے ہوئے اس خدشے کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ایران کے ساتھ طویل عرصے سے جاری علاقائی شیڈو وار اب ایک مکمل کھلی جنگ میں بدل جائے گی۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1361</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 14 Oct 2024 13:17:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکا میں صدارتی الیکشن اور صدر بائیڈن کا کھیل: کیا وہ واقعی کملا ہیرس کی جیت چاہتے ہیں یا کچھ اور؟ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1356</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1356" rel="standout" />
      <description>پبلک سروے کے مطابق 61 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ کو اسلحہ اور گولہ بارود اسرائیل کو ایکسپورٹ نہیں کرنے چاہیے۔ ڈیموکریٹک ووٹرز کی 77 فیصد آبادی کا بھی یہی خیال ہے۔ اس ڈیٹا سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ امریکی سوسائٹی میں اسرائیل کی حمایت کم ہوتی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لبرل یہودیوں میں زائنزم (صیہونیت) اور اسرائیل سے جذباتی لگاؤ بھی کم ہورہا ہے۔ امریکی یہودیوں کی نوجوان نسل خود کو زائنزم سے دور کر رہی ہے۔ اسرائیل اور اسرائیلی لابی کا سب سے بڑا خوف ہی جذباتی اور نظریاتی طور پر مقبولیت</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> پبلک سروے کے مطابق 61 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ کو اسلحہ اور گولہ بارود اسرائیل کو ایکسپورٹ نہیں کرنے چاہیے۔ ڈیموکریٹک ووٹرز کی 77 فیصد آبادی کا بھی یہی خیال ہے۔ اس ڈیٹا سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ امریکی سوسائٹی میں اسرائیل کی حمایت کم ہوتی جارہی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے ساتھ ساتھ لبرل یہودیوں میں زائنزم (صیہونیت) اور اسرائیل سے جذباتی لگاؤ بھی کم ہورہا ہے۔ امریکی یہودیوں کی نوجوان نسل خود کو زائنزم سے دور کر رہی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل اور اسرائیلی لابی کا سب سے بڑا خوف ہی جذباتی اور نظریاتی طور پر مقبولیت میں کمی کا خدشہ ہے۔ امریکا کی سفید فام ایونجیلسٹ کمیونٹی میں عیسائی زائنسٹ گروپ اسرائیل کا سب سے بڑا حامی ہے مگر یہاں بھی وہی مسئلہ ہے کہ بڑی عمر کے لوگوں کے مقابلے میں نوجوانوں میں یہ حمایت کم ہے۔ اس کے علاوہ سفید فام ایونجلیکل آبادی میں کمی کے باعث اسرائیل کی حمایت اور بھی کمزور ہوگئی ہے جواس کے لیے مزید خطرے کی بات ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کانگریس میں ڈیموکریٹ ارکان اور نوجوان ڈیموکریٹس میں بھی اسرائیل کی حمایت کے معاملے پر سوال اُٹھ رہے ہیں، اس تمام صورتحال میں ڈیموکریٹک پارٹی پر اپنی اسرائیل حمایت پالیسیوں کو بدلنے کیلئے دباؤ بڑھ رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے پہلے تک بائیڈن حکومت نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے آفیشل بیانات میں  ’جنگ بندی‘ اور ’تناؤ میں کمی‘ جیسے الفاظ کا استعمال بھی محدود کردیا تھا۔  مگر ان کی پارٹی سے اندرونی دباؤ کے باعث بائیڈن کو یہ مؤقف تبدیل کرنا پڑا۔ اب بائیڈن نیا کھیل کھیل رہے ہیں کہ وہ بظاہر تو جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ سیز فائر کی کوششوں کے خلاف نیتن یاہو کو ہتھیاروں کی فراہمی بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بائیڈن نے نیتن یاہو کو حملے روکنے کے لیے کوئی وجہ بھی نہیں بتائی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے علاوہ یونیورسٹیز میں احتجاج کرنے والی طلبہ تنظیمیں اور لیبر یونینز جو ڈیموکریٹس کی روایتی اتحادی ہیں وہ بھی اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔  اس کے باوجود بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کی فوجی، سیاسی اور سفارتی حمایت  کررہی ہے اور اس وجہ سے خطے میں قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔ لیبر یونینز اور ڈیموکریٹس کےدرمیان بڑھتا فاصلہ بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لبنان پر اسرائیلی بمباری کے آغاز کے بعد ’یونائیٹڈ الیکٹریکل ورکرز یونین‘ نے ایک بیان میں اس بات کو اجاگر کیا تھا کہ کس طرح اسرائیل امریکا کے اربوں ڈالرز کے ہتھیار اور فوجی فنڈز  لبنانی شہریوں کے قتل عام میں استعمال کررہا ہے۔ بیان میں بائیڈن سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسرائیل کی فوجی امداد فوری طورپر بند کی جائے۔ ایک انٹرویو میں یونین لیڈر کارل روزن نے مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت  کی پالیسی ختم کرنے کے لیے انتظامیہ پر دباؤ ڈالاجائے۔  انہوں نے کہا تھا کہ ’کئی دہائیوں سے اسرائیل  مڈل ایسٹ میں ہمارا پالتو شکاری کُتا بنا ہوا ہے اور اُس کے گلے میں پٹہ ڈالنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے۔ اب تک ایسا نہ ہونے کی وجہ اندرونی سیاسی مسائل اور ہزاروں افراد کی موت سے ہونے والے ملٹری اور انڈسٹریل فوائد ہیں‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہر امریکی صدر کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسری بار عہدہ کی مدت مکمل کرے اور بائیڈن نے  دوبارہ الیکشن کے لیے نامزدگی بھی حاصل کرلی تھی مگر ان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیت کے حوالے سے سوالات اُٹھنے کے بعد بائیڈن کو دوبارہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ انتخابی دوڑ سے باہر ہونے کے باعث اُن کے خواب چکنا چور ہوگئے اور شاید اسی لیے وہ کملا ہیرس کے صدارتی امیدوار بننے سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھ کر، جنگ بندی کے لیے دباؤ نہ ڈال کر، نیتن یاہو کو لبنان پرحملے کے ذریعے جنگ پھیلانے کی اجازت دے کر بائیڈن  کملا ہیرس کی پوزیشن کو کمزور بنا رہے ہیں۔ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے سے بائیڈن کا گریز اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شاید انہیں  صدارتی الیکشن کے لیے کملا ہیرس کی جیت کی زیادہ فکر نہیں ، انہوں نے  کملا ہیرس کی الیکشن مہم میں شرکت نہیں کی اور بظاہر کملا ہیرس نے اُن کی غیر حاضری کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الیکشن کی نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کو جنگ سے روکنا کملا ہیرس کو فائدہ پہنچائے گا۔ اس طرح کی کوئی ڈیولپمنٹ ’اکتوبر سرپرائز‘ کا کام دے سکتی ہے جس سے انتخابی نتائج کملا ہیرس کے حق میں ہوجائیں مگر نیتن یاہو کا جنگ کو پھیلانا اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرمپ کو فائدہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ آخر بائیڈن اس صورتحال میں کملا ہیرس کی مدد کررہے ہیں یا نہیں؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1356</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 14 Oct 2024 07:44:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ میں جو امریکا کر رہا ہے کیا یہ اس کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے یا کچھ اور؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1353</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1353" rel="standout" />
      <description>29 مئی 2017 کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فرانسیسی اخبار ’لی فیگارو‘ کو خصوصی انٹرویو دیا جہاں ایک جگہ پوتن نے امریکی صدور کی جانب سے خارجہ پالیسیوں کو سنبھالنے سے متعلق دلچسپ ریمارکس دیے۔ انہوں نے کہا کہ: ’میں نے اب تک تین امریکی صدور سے مل چکا ہوں، وہ آئے اور چلے گئے مگر پالیسیاں جیسی تھیں ویسی ہی رہیں۔ جانتے ہیں کیوں؟ مضبوط بیوروکریسی کی وجہ سے۔ جب بھی کوئی نیا صدر منتخب ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی نیا صدر منتخب ہوتا ہے، ہوسکتا ہے اس کے خیالات مختلف ہوں مگر پھر سیاہ سوٹ میں ملبوس بریف کیس والے آدمی</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">29 مئی 2017 کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فرانسیسی اخبار ’لی فیگارو‘ کو خصوصی انٹرویو دیا جہاں ایک جگہ پوتن نے امریکی صدور کی جانب سے خارجہ پالیسیوں کو سنبھالنے سے متعلق دلچسپ ریمارکس دیے۔ انہوں نے کہا کہ: ’میں نے اب تک تین امریکی صدور سے مل چکا ہوں، وہ آئے اور چلے گئے مگر پالیسیاں جیسی تھیں ویسی ہی رہیں۔ جانتے ہیں کیوں؟ مضبوط بیوروکریسی کی وجہ سے۔ جب بھی کوئی نیا صدر منتخب ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی نیا صدر منتخب ہوتا ہے، ہوسکتا ہے اس کے خیالات مختلف ہوں مگر پھر سیاہ سوٹ میں ملبوس بریف کیس والے آدمی جنہوں نے سرخ کے علاہ سیاہ یا نیوی رنگ کی ٹائی پہنی ہوتی ہے، وہ انہیں سب سمجھا دیتے ہیں کہ نظام کیسے چلتا ہے اور پھر سب اچانک تبدیل ہوجاتا ہے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیوٹن نے اوبامہ کا حوالہ دیتے ہوئے انسانی حقوق کے بارے میں امریکی نقطہ نظر کی مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا: ’اوباما جو ایک لبرل، آگے کی سوچ رکھنے والا، ایک جمہوری پسند انسان ہے کیا اس نے منتخب ہونے سے پہلے گوانتانامو کو بند کرنے کا وعدہ  کیا تھا؟ کیا اس نے کیا تھا؟ اس سے نے ایسا نہیں کیا تھا۔ کیا میں وجہ جان سکتا ہوں ؟ کیا اس لیے کہ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا؟ مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا چاہتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پوتن نے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کس طرح لوگوں کو گوانتانامو کے فوجی کیمپ میں بغیر کسی مقدمے کے زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا۔ ’کیا آپ فرانس یا روس میں یہ سب تصور کرسکتے ہیں؟ اگر ایسا کچھ ہوا تو یہ ایک تباہی ہوگی۔ لیکن امریکا میں یہ سب ممکن ہے اور آج بھی ہورہا ہے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اِسی سال امریکی اخبار نے ایک دستاویز شائع کیا تھا جس نے پوتن کے دعوؤں کی مکمل حمایت کی تھی۔17 مئی کو امریکی محکمہ خارجہ کے پالیسی پلاننگ آفس کے ڈائریکٹر اور سیکیرٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹیلیریسن کے مشیر بریٹن ہوک نے تین صفحات کا میمو لکھا تھا اور پھر 19 دسمبر 2017 کو ’پولیٹیکو‘ میں نہال ٹوسی نے ’ Leaked Memo Taught Tillerson a Lesson on Human Rights‘ کے عنوان سے آرٹیکل بھی لکھا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایگزون موبل کے سابق سی ای او ٹلرسن کے لیے تیار کردہ میمو ایک طرح کا کریش کورس تھا۔ اس نے امریکی اتحاد میں جابر حکومتوں کو بچانے کے لیے انسانی حقوق کو ہتھیار کے طور پر ایران، چین اور شمالی کوریا جیسے دشمنوں کے خلاف استعمال کیا۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’اتحادیوں کے ساتھ مخالفوں کے مقابلے مختلف اور بہتر سلوک کیا جانا چاہیے۔ ورنہ ہمارے دشمن زیادہ اور اتحادی کم ہوں گے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیموکریٹک صدر بارک اوباما کے دور میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے سابق معاون وزیر خارجہ ٹام مالینووسکی نے میمو پر سخت تنقید کی۔ مالینووسکی کے مطابق امریکہ کی اخلاقیات کی اتھارٹی دنیا میں اس کے سب سے بڑے فوائد میں سے ایک تھی۔ ان کے خیال میں جمہوریت اور انسانی حقوق پر دوہرامعیار اس اخلاقی اتھارٹی کو کمزور کر دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن کیا یہ دستاویز ریپبلکن انتظامیہ کے لیے نئی تھیں؟ کیا ٹرمپ اس سے مستثنیٰ ہیں؟ جو بائیڈن کی انتظامیہ کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے بارے میں کیا خیال ہے، بائیڈن اوباما کے نائب صدر رہ چکے ہیں اور اب بطور صدر خدمات انجام دے رہے ہیں؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن یا اسٹیٹ سکریٹری انتونی بلنکن کو کسی سیاہ سوٹ میں ملبوس بریف کیس والے آدمیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ بائیڈن 1970 کی دہائی میں سینیٹ کے اعلی عہدے پر فائز ہونے کے بعد ایک تجربہ کار سیاستدان رہ چکے ہیں۔ جہاں تک بلنکن کا تعلق ہے وہ 1994 سے ڈیموکریٹ انتظامیہ میں ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ سمیت خارجہ پالیسی اورسیکیورٹی کے اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لہٰذا غزہ میں جاری نسل کشی کے باوجود بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں، رقم اور سفارتی مدد کی مسلسل فراہمی کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟ اسرائیل فلسطینیوں کو - چاہے بچے ہوں یا عورتیں- انسان سمجھتا ہی نہیں ہے۔ اسرائیل کے اندھا دھند حملوں میں 10 ہزار سے زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں اور 700 سے زیادہ ان بچوں کا قتل عام کیا جو اپنی پہلی سالگرہ تک نہیں منا سکے۔ اسرائیل نے بین الاقوامی انسانی تنظیموں کے ممبرز کو بھی قتل کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر امریکہ کی ’بلیک لسٹ‘ میں شامل کسی بھی ملک نے وہ کیا جو آج اسرائیل کررہا ہے  چاہے اس کا صرف ایک فیصد ہی کیوں نا ہو تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ کیا کوئی رہ گیا ہے جو امریکہ کی اخلاقی اتھارٹی یا انصاف پر سنجیدگی سے بات کر سکے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1353</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Thu, 10 Oct 2024 15:24:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حزب اللہ، لبنان کے مسائل کا حل ہے یا خود ایک مسئلہ؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1327</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1327" rel="standout" />
      <description>14 فروری 2005 کی صبح کو لبنانی دارالحکومت بیروت میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ تاریخ کے چند ہولناک ترین واقعات میں سے ایک پیش آیا تھا، سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو ان کے قافلے پر ایک دھماکے میں ہلاک کردیا گیا۔ رفیق حریری سعودی عرب سے قریبی تعلقات کی وجہ سے مشہور تھے اور لبنان میں 1975 سے جاری خانہ جنگی (سِول وار) کے خاتمے کیلئے 1989 میں طے پانے والے طائف معاہدے میں ان کا کرداراہم تھا۔ رفیق حریری نے دوبار لبنان کے وزیراعظم کے طورپر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ پہلی بار 1992 سے 1998 تک دوسری بار2000 سے2004</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">14 فروری 2005 کی صبح کو لبنانی دارالحکومت بیروت میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ تاریخ کے چند ہولناک ترین واقعات میں سے ایک پیش آیا تھا، سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو ان کے قافلے پر ایک دھماکے میں ہلاک کردیا گیا۔ رفیق حریری سعودی عرب سے قریبی تعلقات کی وجہ سے مشہور تھے اور لبنان میں 1975 سے جاری خانہ جنگی (سِول وار) کے خاتمے کیلئے 1989 میں طے پانے والے طائف معاہدے میں ان کا کرداراہم تھا۔ رفیق حریری نے دوبار لبنان کے وزیراعظم کے طورپر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ پہلی بار 1992 سے 1998 تک دوسری بار2000 سے2004 تک وہ اس اہم عہدے پر براجمان رہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب دنیا میں اپنے مضبوط تعلقات اور بے پناہ دولت کی مدد سے انہوں نے بیروت کی تعمیرنو میں اہم کردار ادا کیا اور لبنانی سُنی مسلمانوں کے لیے اہم سیاسی شخصیت بن گئے تھے۔1982 سے 2000 تک جنوبی لبنان پر اسرائیلی قبضے کے دوران اُن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔رفیق حریری نے 1976 سے لبنان میں موجود شامی فوج کو واپس بھیجنے کے مطالبے کی حمایت میں بھی مؤثر طور پر آواز بلند کی ۔ اس وجہ سے شامی حمایت یافتہ لبنانی صدر ایمل لاہود سے اُن کے اختلافات پیدا ہوگئے۔ جس کے باعث وہ وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہوئے اور اُس کے تقریباً چار ماہ بعد ہی اُن کا قتل کردیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حریری کے قتل کے بعد لبنان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں شامی فوج کو لبنان چھوڑنا پڑا۔ جس کے بعد ملک یہ بحث چھڑ گئی کہ رفیق حریری کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ کئی لوگوں نے ان کے قتل کا الزام شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ کو ٹھہرایا۔ لبنان میں شامی اور ایرانی اثرورسوخ اور اس کے خلاف رفیق حریری کا سخت مؤقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا اس لیے ان کے قتل کے بعد الزامات کا رخ حزب اللہ کی طرف تھا۔ انٹرنیشنل انویسٹی گیشن کمیشن کی ابتدائی رپورٹس میں اس قتل میں حزب اللہ کے ملوث ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔ تاہم حزب اللہ ہمیشہ اس قتل میں ملوث ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کے 1982 میں بیروت کے محاصرے کے دوران عسکری تنظیم حزب اللہ قائم ہوئی جو اسرائیلی کنٹرول کے خلاف مزاحمت کررہی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ لبنان میں ایک طاقتور گروپ بن گئی، سیاست اور تجارت پر اثرو سوخ بڑھانے کے علاوہ یہ ایران کی ایک پراکسی گروپ کے طور پر بھی کام کررہی تھی۔ جب اسرائیل نے 2000 میں لبنان سے انخلا کیا تو ایسا لگتا تھا کہ حزب اللہ اپنا اصل مقصد کھو چکی ہے۔ تاہم 2006 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​نے اس گروپ کو نئی طاقت دی۔ جس کے بعد اسے رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہونے کے تاثر کو ختم کرنے میں مدد ملی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">12 جولائی سے 14 اگست 2006 تک جاری رہنے والی لبنان اسرائیل جنگ کو جنگ ِجولائی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اسرائیلی جارحیت سے شروع ہونے والی یہ جنگ اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ جنگ کے خاتمے تک حزب اللہ نے خود کو لبنان کے محافظ کے طورپر منوا لیا تھا اور لبنان نے رفیق حریری کے قتک کو بڑی حد تک بھُلادیا تھا۔ پورا ملک حزب اللہ کا گرویدہ ہوگیا تھا، اس کی تعریف میں نعرے لگ رہے تھے ، نظمیں پڑھی جارہی تھیں، گلی گلی حزب اللہ کے ترانے گُونج رہے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جولائی کی جنگ کے بعد لبنان کے عیسائی گروہوں کے درمیان ایک مضبوط شراکت قائم ہوئی، جن کو فرانس اور حزب اللہ کی حمایت حاصل تھی۔ یہاں تک کہ ماضی میں حزب اللہ کے خلاف لڑنے والے عیسائی ملیشیا کے سابق رہنما بھی حزب اللہ کی مدد سے سیاست میں آگئے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال مشیل عون ہے جنہوں نے خانہ جنگی کے دوران حزب اللہ-ایران-شام تینوں سے جنگ لڑی تھی۔ طائف معاہدے کے بعد مشیل عون نے فرانس میں جلاوطنی اختیار کی، لیکن 2005 میں لبنان واپسی کے بعد  وہ حزب اللہ کی سپورٹ سے 2016 میں صدر منتخب ہوئے.</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لبنان میں عروج حاصل کرنے کے بعد حزب اللہ نے (جس میں اسرائیل کا کردار بھی ایک اہم وجہ ہے) عرب سپرنگ 2011 کے دوران پڑوسی ملک شام میں پرتشدد ناکہ بندیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ حزب اللہ نے بڑے پیمانے پر اپنے جنگجوؤں کو شام بھیجا، اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حزب اللہ نے اپنی جنگجووٴں کی تربیت کی اور حکمت عملی کو بھی بہتر بنایا۔ ایسے وقت میں جب ہزاروں شامی خواتین اور بچے مارے گئے اور بھوک کا شکار ہوئے، حزب اللہ نے اُس وقت وہی جواز استعمال کیا جو اب اسرائیل غزہ میں قتل عام کے لیے استعمال کررہا ہے یعنی ’دہشتگرد شہریوں کو انسانی ڈھال بنا رہے ہیں‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انسانی یادداشت کمزور ہوسکتی اور مشرق وسطیٰ کی سیاست بہت تیزرفتار، ممکن ہے کہ ہم واقعات اوراُن کی تاریخی اہمیت کو بھول جائیں، میں نے یہ مضمون یادیں تازہ کرنے اور تازہ واقعات کو سیاق وسباق کے مطابق بنانے کے لیے لکھا ہے۔ لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملوں کا جائزہ لیتے ہوئے اِس صورتحال کے پس منظر کو ضرور ذہن میں رکھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کالم کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں <a href="https://www.yenisafak.com/en/columns/taha-kilinc/the-lebanese-gordian-knot-3691610" target="_blank">کلک</a> کریں</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1327</link>
      <subcategory>طہٰ کلنچ</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Thu, 03 Oct 2024 09:04:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ہماری جیبوں میں بم ہیں: کیا ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں گے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/ersin-celik/1325</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/ersin-celik/1325" rel="standout" />
      <description>لبنان میں بیپر دھماکوں کو صرف ’سائبر حملے‘ کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل کے ہتھکنڈوں کے بارے میں بہت ساری پریشان کن تھیوریز بھی لکھی گئی ہیں۔ امریکی میڈیا کی حالیہ خبروں اور سوشل میڈیا پر ماہرین کی رائے  کے مطابق حزب اللہ کے ارکان کے پھٹنے والے بیپرز کے حیران کن اثرات پوری دنیا میں بالکل اُسی طرح پھیل رہے ہیں جیسا کہ اسرائیل چاہتا تھا۔ اسرائیل کا نشانہ صرف حزب اللہ نہیں ہے جیسا کہ پچھلے 12 مہینوں سے وہ غزہ کے لوگوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ اسرائیل ہر حملے کے ساتھ ایک نئی دہلیز عبور کر رہا ہے اور</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لبنان میں بیپر دھماکوں کو صرف ’سائبر حملے‘ کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل کے ہتھکنڈوں کے بارے میں بہت ساری پریشان کن تھیوریز بھی لکھی گئی ہیں۔ امریکی میڈیا کی حالیہ خبروں اور سوشل میڈیا پر ماہرین کی رائے  کے مطابق حزب اللہ کے ارکان کے پھٹنے والے بیپرز کے حیران کن اثرات پوری دنیا میں بالکل اُسی طرح پھیل رہے ہیں جیسا کہ اسرائیل چاہتا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کا نشانہ صرف حزب اللہ نہیں ہے جیسا کہ پچھلے 12 مہینوں سے وہ غزہ کے لوگوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ اسرائیل ہر حملے کے ساتھ ایک نئی دہلیز عبور کر رہا ہے اور 7 اکتوبر کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہوتا جارہا ہے۔ میں اکثر اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اسرائیل سوشل میڈیا  کو مضبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دہشت گردانہ حملے کے بعد افراتفری کو روکنے اور دہشت گرد تنظیموں کے پروپیگنڈے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے راستیں مختلف قسم کی پلانگز میں مصروف رہتی ہیں۔ دہشت گرد گروہ معاشرے کو ذہنی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور عوام کا حکومت پر سے اعتماد کو کمزور کر کے انہیں غیر محفوظ محسوس کرواتے ہیں۔ جسے ’سبمیشن‘ کہا جاتا ہے۔ حملوں کے بعد پرتشدد تصاویر شئیر کرکے ایسے مقاصد کو حاصل کرتے ہیں۔  ترکیہ میں 2015 میں پی کے کے اور آئی ایس آئی ایس کی پرتشدد کارروائیوں کا عوام پر واضح اثر پڑا۔ مثال کے طور پر 15 جولائی کی رات ترکی میں بغاوت کی کوشش کے دوران، بغاوت میں شامل فوجیوں نے جب اہم مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اسی وقت سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیل گئیں، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سپاہی عوام کو آئی ایس آئی ایس کے حملے سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس گمراہ کن معلومات کو واضح روکنے کے لیے ینی شفق نے رات 10 بجکر  37 منٹ پر ایک اہم اعلان کیا گیا کہ بغاوت کی کوشش دراصل فتح اللہ گولن کی تنظیم کے ذریعے کی جا رہی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">موضوع کی طرف واپس آتے ہیں، جب اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے 3000 سے زائد ارکان کے زیر استعمال بیپرز پر دھماکہ کیا گیا، جسے ایک بڑا دہشت گرد حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسرائیل نے لبنان میں بیپر حملوں سمیت ٹارگٹ کلنگ کے مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے اپنا اثر و سوخ برقرار رکھنے کا ایک نیا طریقہ شروع کیا ہے۔ یہ حکمت عملی حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد سے شروع ہوئی جو تہران کے ایک انتہائی محفوظ مقام پر مارے گئے تھے۔ ڈیوائسس کے اندر  30 سے 60 گرام بارودی مواد کرنا پیجر بنانے والی فیکٹری، حزب اللہ اور ایران کی سیکیورٹیپر سوالیہ نشان ہے۔ تاہم ایسی ڈیوائسس میں ایسا مواد نصب کرنا جس سے صرف میسج موصول کرنے پر ہی دھماکہ ہوجائے صرف سائنس فکشنل فلموں میں ہی ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ سب حقیقت ہے کوئی فلم، سکرپٹ یا  فکشن نہیں۔ جس وقت میں یہ لکھ رہا ہوں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ارکان کے زیر استعمال ریڈیو پھٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل نے اپنی طاقت دکھاناشروع کردی ہے۔۔ اب آگے کیا ہوگا؟ اگلا نشانہ ہمارے ٹیبلیٹس، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر ہوں گے۔۔؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بالکل اسی طرح ہے جب 1945 میں امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرائے تھے۔ ابتدائی طور پر دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے اپنا پہلا ایٹمی بم ’ٹرینٹی‘ میکسیکو کے صحرا میں آزمایا تھا،  20 دن بعد ’لٹل بوائے‘ نامی دوسرا بم ، جو 6 اگست 1945 کو ہیروشیما پر گرا جس سے ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے تین دن بعد ہی ’فیٹ مین‘ نامی ایک اور بم امریکا نے ناگاساکی پر گرایا جس میں صرف سیکنڈز میں 74 ہزار افراد ہلاک اور ایک تہائی شہر تباہ ہو گیا تھا۔  ان دونوں حملوں کو جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی پہلی اور واحد مثال کے طور پر جانا جاتا ہے۔ان حملوں کے بعد دنیا فوراً بدل گئی تھی۔ جنگ میں ملوث ممالک اور وہ ملک جنہوں نے نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کیا اس ایٹمی دھماکوں سے شدید متاثر ہوئے۔ امریکہ کے ہتھیار کی تباہ کن طاقت واضح ہو گئی تھی۔ روس کی طرف سے 1961 میں 'زار بمبا' ہائیڈروجن بم کے تجربے نے امریکہ کو حیران کردیا تھا۔  سرد جنگ کے دوران سپر پاورز کا جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنے کا فیصلہ انسانیت کے لیے ایک اہم یقین دہانی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اب سوال یہ ہے کہ موجودہ دور کی ٹیکناولوجی کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟ کیونکہ موجودہ نسل کے جنگی حربے ٹیسٹنگ کے لیے اب عام عوام پر استعمال ہو رہے ہیں، اسرائیل آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے غزہ میں لوگوں کونشانہ بنا رہا ہے۔ واٹس ایپ کا استعمال کرنے والے کروڑوں صارفین نے انکشاف کیا کہ مئی میں حماس کے کارکنان پر حملہ بھی خاص پلاننگ اور شناخت کے بعد کیا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہیروشیما پر بم گرانے سے پہلے امریکا نے جاپان کے لوگوں کے رہن سہن اور عادات سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا تھا تاکہ وہ حملے کے صحیح وقت کا تعین کرسکے۔ امریکہ نے اس وقت حملہ صبح 8 بجکر 15 منٹ پر کیا گیا جبکہ دوسری جانب اسرائیل بھی غزہ میں اپنے ’لوینڈر‘ نامی سوفٹ ویئر کے ذریعے بڑے پیمانے پر نسل کشی اور قتل عام کررہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس واقعے کے بعد ایک سوال نے لوگوں کو بےچینی میں مبتلا کیا کہ کیا ہمارے فون بھی بیپرز کی طرح پھٹ جائیں گے؟ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ناممکن ہے کیونکہ اصل بم تو ڈیوائس کے اندر نصب کیا گیا تھا۔ کمیونیکشن اور سائبر سیکیورٹی ریسرچر امت سنلاو نے ینی شفق کو بتایا کہ ہمارے فون کی بیٹریوں کو دور سے یا اسپائی ویئر کے ذریعے دھماکے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ لیتھیم بیٹریوں کے ماہر ڈاکٹر مہمت نوراللہ اٹیش نے بھی ینی شفق کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایسا کرنا ناممکن نہیں ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لہٰذا چاہے ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو، کیا ہم اپنی جیبوں میں ’بم‘ لیے ہوئے ہیں، جنہیں الگورتھم کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اب ہم یا تو اسرائیل کے گھٹنے ٹیک دیں یا آنے والی نئی ٹیکنالوجیز کی سچائی قبول کریں۔ اگرچہ ٹک ٹاک پر ویڈیوز دیکھتے ہوئے سیل فون ہمارے چہروں پر بیپر کی طرح نہیں پھٹ سکتےہیں، لیکن صرف ایک نوٹیفیکشن کے زریعے ہزاروں لوگ دھماکے کے خطرے میں آسکتے ہیں۔ کیا ہم اس چیز سے واقف ہیں؟ </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/ersin-celik/1325</link>
      <subcategory>ارسِن چیلِک</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Thu, 03 Oct 2024 07:47:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکی صدارتی الیکشن: کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک ایک ووٹ فیصلہ کن</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1300</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1300" rel="standout" />
      <description>پچھلے کالم میں ہم نے بات کی تھی کہ امریکا میں ’نیوکانز‘ ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کو سپورٹ کرسکتے ہیں۔ اب ڈیموکریٹک پارٹی اپنی الیکشن مہم میں مسیحی برادری کے سفید فام ایونجیلیکلز، جو ریپبلکنز کے لیے اہم ووٹرز ہیں، کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔ (ایونجیلیکل مسیحی مرادری سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جو اکثر سیاسی طور پر سرگرم ہوتے ہیں اور قدامت پسند پالیسیوں کی حمایت کے لئے جانے جاتے ہیں جبکہ نیو کانز امریکا میں ایک سیاسی گروپ ہے جو دنیا بھر میں اور خاص طور پر مڈل ایسٹ میں مضبوط خارجہ پالیسی</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پچھلے کالم میں ہم نے بات کی تھی کہ امریکا میں ’نیوکانز‘ ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کو سپورٹ کرسکتے ہیں۔ اب ڈیموکریٹک پارٹی اپنی الیکشن مہم میں مسیحی برادری کے سفید فام ایونجیلیکلز، جو ریپبلکنز کے لیے اہم ووٹرز ہیں، کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">(ایونجیلیکل مسیحی مرادری سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جو اکثر سیاسی طور پر سرگرم ہوتے ہیں اور قدامت پسند پالیسیوں کی حمایت کے لئے جانے جاتے ہیں جبکہ نیو کانز امریکا میں ایک سیاسی گروپ ہے جو دنیا بھر میں اور خاص طور پر مڈل ایسٹ میں مضبوط خارجہ پالیسی اور جمہوریت کو فروغ دیتے ہیں) </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سال 2016 کے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے طرزِ زندگی کی وجہ سے ایونجیلیکل شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ 2016 میں ایونجلیکل سیاستدان مائک پینس پرائمری انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہوئے۔ پرائمری انتخابات جیتنے کے بعد ٹرمپ نے سفید فام ایونجلیکل ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مائک پینس کو اپنا نائب صدارتی امیدوار بنایا۔ یوں 2016 کے انتخابات میں ٹرمپ نے ایونجیلیکلز کے 80  فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایونجیلیکلز امریکی آبادی کا تقریباً 14 فیصد حصہ ہیں، 2020 کے الیکشن میں ایونجیلیکلز کی ووٹرز کی شرح 20 فیصد تھی۔ انہیں ریپبلکن پارٹی کی ایک تہائی حمایت حاصل ہے۔ سفید فام پروٹیسٹنٹس اور سفید فام کیتھولکس کے ساتھ ایونجیلیکلز امریکہ میں جاری ثقافتی تنازعات میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ جنہیں اکثر امریکی کی ’کلچر وار‘ یا ’ثقافتی جنگیں‘ کہا جاتا ہے۔ سفید فام پروٹسٹنٹ آبادی کا 14فیصد اور سفید فام کیتھولک آبادی کا 13 فیصد حصہ ہیں۔ یہ تینوں گروپس ریپبلکن پارٹی کے اہم اتحادی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انتخابات جیتنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ایونجلیکلز زیادہ سپورٹ چاہیے۔ بارک اوباما نے 2008 میں 26 فیصد اور 2012 میں 21 فیصد سفید فام ایوینجلیکل ووٹ حاصل کر کے صدارتی انتخاب جیتا تھا۔ ہیلری کلنٹن 2016 میں انتخابات ہار گئی تھیں کیونکہ ان کو ایوینجلیکل کی صرف 16 فیصد حمایت ہی حاصل تھی۔ جو بائیڈن ان کی 24 فیصد حمایت حاصل کر کے انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ اس وقت 85 فیصد سفید فام ایوینجلیکل ریپبلیکنز کو سپورٹ کر رہے ہیں، جبکہ 14 فیصد ڈیموکریٹس کو سپورٹ کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نومبر 2024 کے انتخابات دونوں جماعتوں کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ ڈیموکریٹس کی توجہ صرف اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ ٹرمپ ہار جائیں، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ دو طرفہ امریکی سیاسی نظام کا تسلسل جاری رہے گا۔ ٹرمپ مخالف ریپبلکنز اور نیوکانز امید کر رہے ہیں کہ کملا ہیرس الیکشن جیت جائیں گی۔ ان کا خیال ہے کہ کملا ہیرس کی جیت سے انہیں فائدہ ہوگا خاص طور پر جب بات امریکی خارجہ پالیسی ہو جو ’نہ ختم ہونے والی جنگ‘ پر مبنی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2024 کے انتخابات میں ووٹوں کی تعداد میں معمولی کمی بیشی بھی انتہائی اہم ہوگی۔ لہٰذا ڈیموکریٹک پالیسی ساز سفید فام ایوینجلیکلز کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے والے ایوینجلیکل نے کملا ہیرس کی حمایت کے لیے ریلی نکالنا شروع کر دی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’ایوینجلیکل فار ہیرس‘ گروپ نے اس نظریے کو پھیلانے کے لیے مہم شروع کر دی ہے کہ ٹرمپ کے مقابلے کملا ہیرس بہتر کرسچن ہیں۔ فرینکلن گراہم اور ٹرمپ کی حمایت کرنے والے دیگر ایوینجلیکلز کہتے ہیں ’ایونجلیکلز فار ہیرس‘ ٹرمپ پر تنقید کرنے کے لیے ان کے والد کے نام کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ آج ان کے والد زندہ ہوتے تو ٹرمپ کو ہی ووٹ دیتے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بلی گراہم کی پوتی جیروشاہ ڈوفورڈ نے ’ایونجلیکلز فار ہیرس‘ کے زیر اہتمام ایک تقریب میں حصہ لیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹرمپ کی مسلسل حمایت نوجوانوں کو عیسائیت سے دور کر رہی ہے۔ ساتھ ہی مائیک پینس (جو ٹرمپ کے دور میں نائب صدر تھے) کھلے عام اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ٹرمپ کی حمایت نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ قدامت پسند ایونجیلیکل مصنف اور وکیل ڈیوڈ فرنچ نے ’نیو یارک ٹائمز‘ کے ایک کالم میں لکھا تھا کہ وہ ٹرمپ کی قدامت پسندی سے چھٹکارا پانے کے لیے کملا ہیرس کو ووٹ دیں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ایوینجلیکل کمیونٹی کی نمائندگی رکنے والے سماجی مذہبی لوگ اور ٹرمپ کی حمایت کرنے والے مذہبی لوگوں کے درمیان مسلسل بحث جاری ہے۔ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے ایونجلیکل لوگ یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ کملا ہیرس ایک شیطانی سیاست دان ہیں جو عیسائی کا روپ دھار رہی ہیں۔ وہ ہیرس کے ممکنہ حامیوں کو یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ’اگر آپ ہیرس کو ووٹ دیتے ہیں تو آپ ایونجلیکل نہیں ہیں‘۔ اس کے علاوہ ایونجلیکل کا عیسائی-صیہونی دھڑا، جو اسرائیل کی بھرپور حمایت کرتا ہے، ٹرمپ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سفید فام ایونجلیکل کے ووٹ امریکی انتخابات میں اہم کردار کریں گے۔ جس کی وجہ سے یہ گروپ دونوں جماعتوں کے لیے اہم توجہ کا مرکز ہے۔ الیکشن کی صورتحال کو بدلنا ڈیموکریٹس کے لیے آئندہ 2024 کے انتخابات اور ’ثقافتی جنگ‘ دونوں اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم ہے۔ وہیں ریپبلیکنز کے لیے بھی ان کی حمایت حاصل کیے رکھنا شدید ضروری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1300</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Thu, 26 Sep 2024 15:26:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>مڈل ایسٹ بحران: کیا ہم ریاستی دہشت گردی کے دور سے گزر رہے ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/--/1299</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/--/1299" rel="standout" />
      <description>ریاستوں کی تاریخ میں بغاوتوں کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ سینٹر پیریفری تھیوری کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں تو ریاست کی اصل طاقت منظم طورپر قائم مرکزی حکومت یعنی پیریفری ہوتی ہے۔ اس مرکز سے جو بھی کچھ جتنا زیادہ دُور ہے اُس کی اہمیت اُتنی ہی کم ہے۔ مثال کے طور پر سلطنت عثمانیہ میں جو علاقے اور افراد مرکز سے دور تھے وہ سیاسی طور پر کم طاقتور تھے۔ مرکزی حکومت ان علاقوں سے وسائل جمع کرتی تھی جو زیادہ تر ٹیکس کی صورت میں ہوتے تھے۔ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھنے کی صورت میں بغاوت کا خطرہ پیدا ہوجاتا جس سے مرکزی حکومت</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ریاستوں کی تاریخ میں بغاوتوں کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ سینٹر پیریفری تھیوری کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں تو ریاست کی اصل طاقت منظم طورپر قائم مرکزی حکومت یعنی پیریفری ہوتی ہے۔ اس مرکز سے جو بھی کچھ جتنا زیادہ دُور ہے اُس کی اہمیت اُتنی ہی کم ہے۔ مثال کے طور پر سلطنت عثمانیہ میں جو علاقے اور افراد مرکز سے دور تھے وہ سیاسی طور پر کم طاقتور تھے۔ مرکزی حکومت ان علاقوں سے وسائل جمع کرتی تھی جو زیادہ تر ٹیکس کی صورت میں ہوتے تھے۔ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھنے کی صورت میں بغاوت کا خطرہ پیدا ہوجاتا جس سے مرکزی حکومت کا نظام متاثر ہوسکتا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ریاستیں فوج بناتی ہیں ان فوجوں کا کام یا تو اپنی سرزمین کو بڑھانا یا جنگوں میں لڑ کر اپنی زمین کی حفاظت کرنا ہے۔ ان جنگوں کی خصوصیات، قواعد اور طریقے ایک سے ہوتے ہیں۔ جنگوں کا سب سے عام طریقہ یہ کہ جب فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتی ہیں۔ دو افواج میدان جنگ میں ایک دوسرے کا سامنا کرتی ہیں، فاتح کو وہ مل جاتا ہے جو وہ چاہتا ہے جبکہ لڑائی میں کمزور ثابت ہونے والا ہار کر نقصان اٹھاتا ہے۔۔ان جنگوں کی منطق قابل فہم ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ریاستی افواج کی ایک اور ذمہ داری اندرونی بغاوتوں سے نمٹنا بھی ہے۔ اگر ایک باغی تنظیم خود کو سامنے لاتی ہے تو فوج کے لیے کارروائی مشکل نہیں ہوتی ہے۔ باغیوں کے پاس اکثر فوج جیسی طاقت اور وسائل نہیں ہوتے جس کے نتیجے میں ان کے کچلے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس طاقت کے فرق سے نمٹنے کے لئے وہ اپنے طریقے بدلتے رہتے  ہیں۔ سامنے سے حملہ کرنے کے بجائے  وہ چھپے رہتے ہیں، جال بچھاتے ہیں اور غیر متوقع جگہوں سے اچانک حملے کرتے ہیں، جس سے فوج کے لیے انہیں شکست دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ افواج کے سامنے کوئی منظم دشمن نہیں ہوتا۔ تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ عظیم افواج نے بظاہر کمزور باغیوں کے ہاتھوں زبردست نقصان اٹھائے یا شکست کا بھی سامنا کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">(’منظم دشمن‘ سے مراد ایک مخالف قوت ہے جن کا کوئی واضح مقصد ہو یا مربوط طریقے سے کام کرتی ہو۔)</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ریاستیں آمنے سامنے ایک دوسرے کا مقابلہ کرتی ہیں، جبکہ باغی پیچھےسے حملہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یوں تو ریاستیں منظم حملوں کا طریقہ اختیارکرتی ہیں لیکن دیگر طریقوں سے بھی  اپنے حریف ریاستوں کو کمزور کرنے اور ان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ لہٰذا وہ حریف ملکوں میں اُٹھنے والی بغاوتوں کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کے لئے اُن باغی تحریکوں کو مدد فراہم کرسکتی ہیں۔ اس حوالے سے ریاستوں کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں اور ریاستیں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بھی ایسی کارروائیاں کرتی ہیں۔ جب ایسے طریقے عام ہوجائیں تو سیاست میں اخلاقی خرابیاں معمول کی بات بن جاتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ تاثر دیہی علاقوں میں اُٹھنے والی باغی تحریکوں کے لئے زیادہ مناسب ہے جہاں سرحد  سے نزدیک ہونے کی وجہ سے ریاستیں اپنا کنٹرول رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ غلاموں یا تاجروں کی بغاوتیں خونزیز ہونے کے باوجود بھی بآسانی دبانا ممکن ہوتا ہے۔ شہری بغاوتوں کی کامیابی کا بہت زیادہ دارومدار اس پر ہوتا ہے کہ کیا حکومت میں شامل با اثر لوگ ریاستی سطح پر ان کی حمایت کرتے ہیں یا اپنے ذاتی مفاد کے لئے ان تحریکوں کو ہوا دیتے ہیں۔ اس سے غیر معمولی صورت حال بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔ جس کے بعد ’امید ہے کہ ریاست کے بہترین مفاد میں ہوگا‘ جیسے بیانات سامنے آتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماڈرن ریاستوں کے پاس اہم ساز و سامان اور صلاحیت ہونے کی وجہ سے قدیم ریاستوں سے مختلف ہیں، نئے دور میں منظم افواج یعنی کسی ملک کے فوجی ادارے اور غیر منظم افواج یعنی گوریلا فائٹرز، ملیشیا یا باغی گروپس کے درمیان فرق کو دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب حکومتیں اپنے ملک کے اندر بغاوت یا دوسرے ممالک کے ساتھ تنازعات کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہیں، تو وہ اکثر غیر روایتی طریقوں کا سہارا لیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ایسے طریقوں کا استعمال معمول بن جاتا ہے۔ جاسوسی ایجنسیاں اور باغی گروپس، خواہ وہ تحفظ کے لیے ہوں یا حملہ کرنے کے لیے، حکومتوں کے کام کرنے کے طریقہ کار کا ایک باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں اور اب ریاستی نظام میں انہیں معمول کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایسی افواج جو روایتی جنگی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں، وہ خصوصی ٹیمیں اور یونٹ بناتے ہیں جنہیں غیر روایتی یا گوریلا جنگ سے نمٹنے کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔ اس سے وہ مختلف قسم کے تنازعات اور چیلنجز کے مطابق ڈھل سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ سب سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ہاں ریاستوں کے اپنے مفادات اور دشمنیاں ہوتی ہیں، تاہم ایسے طریقے ہمیشہ استعمال نہیں ہوسکتے، کچھ قوانین اور قوائد ہوتے ہیں جو ان تاریک یا ناگزیر سسٹم کو کسی حد تک منظم کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سی آئی اے امریکی قانون کے ذریعے قائم کی گئی تھی اور کے جی بی سویت یونین میں بنائی گئی۔ یہ ایجنسیاں ملک کے اندر باغی گروپس کے خلاف لڑتی ہیں اور بیرون ملک کی غیر رسمی طاقتوں کی پست پناہی اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور انہیں قانونی حیثیت دینے کے لیے اکثر ان پر ’قومی ہیرو‘، ’لبریشن فائٹرز‘ یا ’فریڈم آرمی‘ جیسے ناموں کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ایسے کام خفیہ طور پر کیے جاتے ہیں اور جب سوال کیا جائے تو ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرد جنگ کے دوران ریاستوں میں براہ راست جنگ نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ علاقائی تنازعات کی حمایت کرکے اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔ سرد جنگ کے بعد یہ توازن بدل گیا۔ متنازع علاقوں پر قبضوں کے قانونی جواز کے ساتھ مغرب نے براہ راست قومی ریاستوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ دہشت گردی کے تصور کا بے تحاشا اور غیرمحتاط استعمال شروع ہوگیا۔ اب یہ حال ہے کہ جن ریاستوں اور اقوام پر دہشت گردی کاالزام لگتا ہے انہیں مغرب کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہاں دہشت گردی کے تصور کا استعمال شروع ہوگیا جس کی واضح تعریف تو نہیں ہے لیکن اسے ہر جگہ پر لاگو جاتا ہے۔ اب وہ ممالک اور قومیں جن پر دہشت گردی کا الزام ہے اور مغربی اقدار کے لیے خطرہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے وہ بھی اس زمرے میں شامل ہیں۔ افغانستان، عراق، لیبیا، اور دیگر اس تبدیلی کے نتیجے میں سب سے پہلے متاثر ہوئے۔ یہ ایک بڑی تبدیلی تھی، کیونکہ غیر رسمی طاقتیں (گوریلا فائٹرز وغیرہ) اور ملکوں کی افواج کے درمیان فرق کم واضح ہو گیا۔ ایسا کرنے والے یہ نہیں سمجھے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ تبدیلی ریاستوں کو خود دہشت گردی پیدا کرنے والے اداروں میں تبدیل کردے گی۔ وقت نے ثابت کیا کہ ایسا ہی ہوا۔ ہم اس وقت حقیقی معنوں میں ریاستی دہشت گردی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات اس کی مثال ہیں۔ حال ہی میں لبنان میں  پیجر دھماکوں  کے ذریعے قتل عام اس کی واضح مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/--/1299</link>
      <subcategory>سلیمان سیفی اوئن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Wed, 25 Sep 2024 08:40:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>اسرائیل کے ہاتھوں امریکی شہریوں کی ہلاکتیں معاف، یہ دوہرا معیار کب تک؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1267</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1267" rel="standout" />
      <description>اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے ویسٹ بینک میں 26 سالہ ترک نژاد امریکی خاتون عائشہ ازگی ایگی کو گولی مار کر اُس وقت قتل کردیا گیا جب وہ اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کررہی تھیں۔ وہ فلسطین کی حمایت یافتہ تنظیم انٹرنیشنل سولیڈیریٹی موومنٹ (آئی ایس ایم) کی ممبر تھیں۔ یہ وہی تنظیم ہے جس میں ایک امریکی ایکٹوسٹ ریچل کوری بھی شامل تھیں جو 2003 میں غزہ میں ایک اسرائیلی بلڈوزر سے ہلاک ہو گئی تھیں۔ وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان شان سیویٹ نے عائشہ ازگی کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان نے</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے ویسٹ بینک میں 26 سالہ ترک نژاد امریکی خاتون عائشہ ازگی ایگی کو گولی مار کر اُس وقت قتل کردیا گیا جب وہ اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کررہی تھیں۔ وہ فلسطین کی حمایت یافتہ تنظیم انٹرنیشنل سولیڈیریٹی موومنٹ (آئی ایس ایم) کی ممبر تھیں۔ یہ وہی تنظیم ہے جس میں ایک امریکی ایکٹوسٹ ریچل کوری بھی شامل تھیں جو 2003 میں غزہ میں ایک اسرائیلی بلڈوزر سے ہلاک ہو گئی تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان شان سیویٹ نے عائشہ ازگی کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان نے کہا کہ انہوں نے مزید معلومات طلب کرنے اور تحقیقات شروع کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بھی اسی طرح کا بیان سامنے آیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں بیانات میں عائشہ ازگی کی موت کو افسوسناک قرار دیا گیا لیکن اس بات کو نظر انداز کیا گیا کہ ان کی ہلاکت اسرائیلی فوج کی گولیوں سے ہوئی ہے۔ جب صدر جوبائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس نے عائشہ ازگی کی موت سے متعلق گفتگو کی تو انہوں نے بھی اس نقطے کو نظرانداز کیا کہ اس واقعے کا ذمہ دار کون ہے۔ امریکا اور مغربی میڈیا کی جانب سے اس طرح کے بیانات جاری کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے جہاں ایسے واقعات میں اسرائیلی فوج کے ملوث ہونے کا براہ راست اعتراف نہیں کیا جاتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عائشہ ازگی پہلی امریکی خاتون نہیں ہیں جو فلسطینی قبضے والے علاقے میں اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بنیں۔ ریچل کوری، 14 سالہ محمود شالان، صحافی شیریں ابو اکلیح بھی اسی طرح مارے گئے لیکن ان کیسز کی تحقیقات کے لیے اسرائیل نے کبھی امریکی عدالتی حکام کے ساتھ تعاون نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کے مقدمات ابھی تک حتمی انجام تک نہیں پہنچے۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت نے بھی ان مقدمات کو ختم کرنے کے لیے گرین سگنل دیا جس کی وجہ سے اسرائیل کو جوابدہ نہ ہونے کا موقع مل گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حال ہی میں اسرائیلی نژاد امریکی قیدی ہیرس گولڈ برج پولن غزہ میں مردہ پائے گئے تو نائب صدر کملا ہیرس نے جوبائیڈن کی طرح اس بات پر زور دیا کہ دیگر ممالک میں امریکی شہریوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ امریکی حکام نے بھی اسرائیل کے اِس دعوے کو سپورٹ کیا کہ گولڈ برج پولن کو حماس نے ہلاک کیا۔ سینیٹر ٹام کاٹن نے بائیڈن انتظامیہ کو ’غزہ میں کارروائی جلد ختم‘ کرنے پر زور دیا جبکہ سینیٹر لنڈسے گراہم نے حماس سے انتقام لینے کا مطالبہ کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب اسرائیل کے ہاتھوں مارے جانے والے امریکیوں کی موت اکثر غیر واضح ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر 2016 میں تِل ابیب میں ایک فلسطینی کے ہاتھوں ایک امریکی ٹیلر فورس کی ہلاکت ہوئی جس کے بعد امریکی کانگریس میں ٹیلر فورس ایکٹ پاس ہوا جس کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو بھیجی جانے والی امداد کم کردی گئی۔ اُس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے بعد یہ ایکٹ قانون میں تبدیل ہوگیا اور بے گھر فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کی فنڈنگ میں بھی کمی کردی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ پچھلے سال سات اکتوبر کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل بمباری کے دوران 17 ہزار سے زیادہ بچوں سمیت 40 ہزار فلسطینیوں کی ہلاکت کے باوجود امریکا نے اسرائیل کو 50 ہزار ٹن ہتھیار فراہم کیے۔ اسرائیلی کارروائی میں امریکیوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیلی حکومت کو جوابدہ نہ ٹھہرانا امریکا کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1267</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Fri, 13 Sep 2024 11:09:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کملا ہیرس، ٹرمپ صدارتی مباحثہ: ’اصل امتحان تو غیرجانبدار ریاستوں میں ہوگا‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1275</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1275" rel="standout" />
      <description>امریکا کے صدارتی انتخابات میں صرف دو مہینے باقی رہ گئے ہیں، عوامی رائے کے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ ملک بھر میں کملا ہیرس اپنے مخالف ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلسل آگے ہیں۔ امریکی انتخابات کے نتائج کا تعین اکثر چند اہم ریاستوں پر ہوتا ہے، جنہیں سوئنگ اسٹیٹس یا غیر جانبدار ریاستیں کہا جاتا ہے۔ اس لیے ان ریاستوں کے پولز حتمی نتائج کی پیشن گوئی کے لیے زیادہ اہم ہیں۔ ملک بھر میں کملا ہیرس کو ستمبر کے آغاز میں ٹرمپ پر 3.2 فیصد کی برتری حاصل تھی، جبکہ جولائی میں دونوں کو برابر کی حمایت ملی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکا کے صدارتی انتخابات میں صرف دو مہینے باقی رہ گئے ہیں، عوامی رائے کے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ ملک بھر میں کملا ہیرس اپنے مخالف ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلسل آگے ہیں۔ امریکی انتخابات کے نتائج کا تعین اکثر چند اہم ریاستوں پر ہوتا ہے، جنہیں سوئنگ اسٹیٹس یا غیر جانبدار ریاستیں کہا جاتا ہے۔ اس لیے ان ریاستوں کے پولز حتمی نتائج کی پیشن گوئی کے لیے زیادہ اہم ہیں۔ ملک بھر میں کملا ہیرس کو ستمبر کے آغاز میں ٹرمپ پر 3.2 فیصد کی برتری حاصل تھی، جبکہ جولائی میں دونوں کو برابر کی حمایت ملی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کملا ہیرس نے اگست میں زیادہ مقبولیت حاصل کی لیکن ملک بھر میں ان کی پوزیشن اتنی زیادہ مضبوط نہیں رہی کہ وہ سوئنگ ریاستوں میں بڑی برتری حاصل کر سکے۔ اگلے دو مہینوں میں حیران کن تبدیلیاں آسکتی ہیں لیکن سوئنگ ریاستوں میں صدارتی مباحثے اور ہر امیدوار کی کارکردگی فاتح کا فیصلہ کرے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">(یاد رہے کہ سوئنگ اسٹیٹس یعنی غیرجانبدار ریاستیں، امریکہ میں کچھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن میں سے کسی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوتی اور وہاں الیکشن کے نتائج کسی بھی تبدیل ہوسکتے ہیں)</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوئنگ اسٹیٹس سروے </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے 6 سوئنگ ریاستوں کا سروے شئیر کیا جس کے مطابق ریاست مشی گن میں 48 فیصد اور وسکونسن میں 50 فیصد ووٹ کے ساتھ کملا ہیرس آگے ہیں۔ جبکہ ٹرمپ ان ریاستوں میں بالترتیب 43 فیصد اور 44 فیصد ووٹ کے ساتھ پیچھے ہیں۔ دوسری جانب ریاست ایریزونا میں ڈونلڈ ٹرمپ 49 فیصد ووٹ کے ساتھ آگے اور کملا ہیرس 44 فیصد ووٹ کے ساتھ پیچھے ہیں۔ اس کےعلاوہ ریاست جارجیا میں (48 فیصد ووٹ کے ساتھ  کملا ہیرس آگے اور 47 فیصد ووٹ کے ساتھ ٹرمپ پیچھے) اور پنسلوانیا (دونوں 47 فیصد) کے نتائج بہت قریب ہیں۔ ان سوئنگ ریاستوں کے صدارتی انتخابات کے نتائج کسی بھی پلٹ سکتے ہیں۔ سال 2020 کے صدارتی انتخابات میں بائیڈن نے مشی گن میں ایک لاکھ 50 ہزار ووٹ، وسکونسن میں 20 ہزار ووٹ، پنسلوانیا میں 80 ہزار ووٹ، ایریزونا میں 10 ہزار ووٹ اور جارجیا میں 11 ہزار ووٹ سے جیتے تھے۔ سوئنگ ریاستوں میں بائیڈن جیسی فتح حاصل کرنے کے لیے کملا ہیرس کو ایسی ریاست سے جیتنے کی ضرورت ہوگی جہاں سے ٹرمپ پہلے ہی کامیابی حاصل کرچکے ہوں، جو ایک اہم چیلنج ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوئنگ ریاستوں میں ووٹروں کے تحفظات پورے ملک میں ایک جیسے ہیں۔ جن میں معیشت، امیگریشن، جمہوریت اور تولیدی حقوق شامل ہیں۔ چھوٹے کاروباروں کو سپورٹ کرنے کے لیے اکنامک سپورٹ کے پروگرام سے متعلق کملا ہیرس کے حالیہ اعلان کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی سے متعلق سیاسی چیلنجز کو دور کرنا ہے جو بائیڈن کے دور صدارت میں ایک چیلنج تھا۔ وہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے، پہلی بار گھر خریدنے والوں کو ادائیگی میں مدد فراہم کرنے، چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس میں کٹوتیاں اور کیپٹل گین ٹیکس کی شرح کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ٹرمپ کی سینیٹر جے ڈی وینس کو نائب صدر کے امیدوار کے طور پر منتخب کرنے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک شاید یہ یقینی بنانا تھا کہ کوئی ایسا ہو جو سوئنگ ریاستوں میں ووٹروں کو راضی کرنے میں مدد کرے۔ جے ڈی وینس کملا ہیرس کی معاشی پالیسیوں اور ان کی بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ تعلقات پر تنقید اس لیے کررہے ہیں وہ یہ ظاہر کرسکیں کہ کملا ہیرس بائیڈن سے الگ ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس امیگریشن کو محدود کرکے امریکی ورکرز کے تحفظ پر بات کررہے ہیں جبکہ ہیرس کو معلوم ہے کہ بائیڈن کی ترقی پسند معاشی پالیسیوں نے کچھ سیاسی چیلنجز پیدا کیے ہیں، اس لیے وہ ان خدشات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ جمہوریت کو کمزور کرنے اور تولیدی حقوق کو محدود کرنے سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے موٴقف سے ڈیموکریٹک ووٹروں کی حمایت بڑھ سکتی ہے۔ تاہم جو ووٹرز کسی پارٹی کو سپورٹ نہیں کرتے انہیں اپنی طرف لانے کے لیے کملا ہیرس کو معیشت اور امیگریشن کے بارے میں واضح اور مضبوط پیغام دے کر ٹرمپ کی برتری کو کم کرنے کی ضرورت ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا 10 ستمبر کا صدارتی مباحثہ کوئی تبدیلی لاسکتا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگلے ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان پہلا صدارتی مباحثہ سوئنگ ریاستوں میں ووٹرز کی رائے پر اثر ڈال سکتی ہے تاہم اس سے دوڑ کے نتائج مکمل طور پر تبدیل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ جون میں ہونے والے صدارتی مباحثے میں ٹرمپ کے خلاف بائیڈن کی کمزور کارکردگی (جس کے بعد ان کی بڑھتی عمر اور ذہنی قابلیت سے متعلق خدشات پیدا ہوئے) صدارتی دوڑ سے باہر ہونے کی وجہ بنی۔  تاہم 10 ستمبر کو ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان اسی طرح کے سرپرائز کی توقع نہیں ہے کیونکہ امکان ہے کہ دونوں امیدوار اپنی حکمت عملیوں پر قائم رہیں گے۔ اگرچہ دونوں امیدواروں کا مقصد اپنے ووٹرز کو قائل کرنا ہوگا لیکن انہیں سوئنگ ریاستوں کے اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ یہ غیر یقینی ہے کہ آیا کملا ہیرس معیشت اور امیگریشن کے معاملات پر کوئی غیر معمولی  اقدام اٹھائیں گی، جہاں ٹرمپ کی پوزیشن مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ تاہم صرف جمہوریت اور تولیدی حقوق پر توجہ دینا ان کے جیتنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدارتی مباحثوں کا ایک بنیادی مقصد امیدواروں کو ایسا مواد دینا ہے جسے وہ بعد میں وہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر سکیں۔ ٹرمپ اپنے مخالفین کے کمزور لمحات اور غلطیوں کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ماہر رہے ہیں۔ تاہم کملا ہیرس کی صدارتی امیدوار کے لیے نامزدگی کے بعد ٹرمپ کے ان پر ذاتی حملے فائدہ مند ثابت نہیں ہوئے۔ ان کے ہیرس پر نسلی شناخت سے متعلق تبصرے اور انہیں سماج پر پابندی لگانے والی سیاستدان کہنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔ 10 ستمبر کے مباحثے میں ٹرمپ ممکنہ طور پر کملا ہیرس کو کسی اور نام کے ساتھ لیبل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ہو سکتا ہے کہ چونکہ کملا ہیرس ایک خاتون ہیں تو ٹرمپ ان پر ذاتی حملے نہ کریں۔ ٹرمپ ممکنہ طور پر معیشت اور امیگریشن پر توجہ مرکوز کریں گے، جب کہ کملا ہیرس خود کو بائیڈن سے الگ کرنے اور اہم مسائل پر اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1275</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Fri, 13 Sep 2024 07:47:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’اگر روس جنگ جیت گیا تو یوکرین ایک اور افغانستان بن جائے گا‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/suleyman-seyfi-ogun/1240</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/suleyman-seyfi-ogun/1240" rel="standout" />
      <description>روس یوکرین جنگ کو مستقبل میں ہائبرڈ کانفلکٹ یعنی مخلوط تنازع کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو ظاہر کرتا ہے کہ جنگ وقت کے ساتھ ساتھ کس طرح تبدیل ہوتی رہی۔ بعض ماہرین اسے فورتھ جنریشن وار کہتے ہیں۔ یہ روایتی جنگوں سے بہت مختلف ہے یعنی ایک ایسی جنگ جہاں کچھ عناصر کھل کر لڑرہے ہوں اور کچھ پس پردہ حصہ لے رہے ہوں۔ اس تنازع پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ روس اور یوکرین جنگ صرف دو ممالک کے درمیان ہی نہیں  بلکہ یہ معاملہ امریکہ اور چین کے ساتھ بھی جڑا ہے جہاں وہ دنیا بھر میں اپنا اثر و رسوخ اور طاقت</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس یوکرین جنگ کو مستقبل میں ہائبرڈ کانفلکٹ یعنی مخلوط تنازع کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو ظاہر کرتا ہے کہ جنگ وقت کے ساتھ ساتھ کس طرح تبدیل ہوتی رہی۔ بعض ماہرین اسے فورتھ جنریشن وار کہتے ہیں۔ یہ روایتی جنگوں سے بہت مختلف ہے یعنی ایک ایسی جنگ جہاں کچھ عناصر کھل کر لڑرہے ہوں اور کچھ پس پردہ حصہ لے رہے ہوں۔ اس تنازع پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ روس اور یوکرین جنگ صرف دو ممالک کے درمیان ہی نہیں  بلکہ یہ معاملہ امریکہ اور چین کے ساتھ بھی جڑا ہے جہاں وہ دنیا بھر میں اپنا اثر و رسوخ اور طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکا کی شمولیت یوکرین کو فراہم کی جانے والی مالی اور فوجی مدد کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ امریکہ براہ راست نہیں لڑ رہا ہے، لیکن اس کا اثر و رسوخ واضح ہے۔ تاہم چین کی شمولیت واضح نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حال ہی میں کچھ حیران کن واقعات رونما ہوئے ہیں۔ روس (جس نے یوکرین کے ایک بڑے حصے پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا ہے) ایسا لگتا ہے کہ اس جنگ میں اس کی جیت قریب ہے۔  جب ایسا لگا تھا کہ جنگ ختم ہورہی ہے تو یوکرین آرمی نے روسی علاقے میں داخل ہوکر کرسک علاقے میں جوابی کارروائی شروع کردی۔  جس کے بعد پہلے کے مقابلے اب صورتحال مختلف نظر آرہی ہے۔ جو ملک دفاع کر رہا تھا وہ اب حملہ کر رہا ہے اور جو ملک حملہ کر رہا تھا وہ اب دفاع کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ جدید دنیا کتنی پیچیدہ اور غیر متوقع ہے لیکن گراوٴنڈ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ مشکل نظر آرہی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجھے یاد ہے کہ جب پہلی بار یہ جنگ شروع ہوئی تو ایک ٹی وی کمنٹیٹر نے بڑے اعتماد سے کہا تھا کہ ’یہ جنگ ایک ہفتے میں ختم ہو جائے گی‘، یہ سادہ نظریہ اس لیے تھا کہ وہ اس میں شامل گہرے، تاریخی مسائل کو نہیں سمجھتے تھے۔ وہ غالباً 1968 کے پراگ بہار یا 1956 کے ہنگری انقلاب جیسے پرانے واقعات کے بارے میں سوچ رہے تھے اور یہ خیال کر رہے تھے کہ سرد جنگ ابھی بھی ہو رہی ہے۔ انہوں نے ویتنام اور افغانستان جیسے حالیہ تنازعات پر غور نہیں کیا۔ درحقیقت ویتنام جنگ اور اسی طرح کے دیگر تنازعات کی وجہ سے سرد جنگ کا نظریہ پہلے ہی بدل چکا تھا۔ جنگ اب صرف طاقتور کے ہمیشہ جیتنے اور کمزور کے ہمیشہ ہارنے کے بارے میں نہیں تھی۔ ضروری نہیں کہ زیادہ ہتھیار، سازوسامان اور فائر پاور رکھنے والے فوج ہی ہمیشہ جنگ جیت لے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عام طور پر کسی بھی ملک کی آرمی صنعتی دور کے معاشروں کے لیے تیار کی جاتی ہیں جو سرکاری دفتر یا فیکٹری کی طرح ہوتی ہے۔ تاہم سرکاری اور آرمی کے ڈھانچے میں بہت کم فرق ہوتا ہے۔ ان کے اسٹرکچر، کمانڈر اینڈ کنٹرول سسٹم بڑے لیکن کسی کام کے نہیں ہوتے۔ جدید دور کی جنگوں میں بہت سارے وسائل اور مضبوط اسٹرکچر والی فوجیں آپس میں لڑیں گی اور فتح کا فیصلہ اس کے زیادہ وسائل اور طاقت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ  ویلنگٹن، نپولین یا کٹوزوف جیسے باصلاحیت جرنیلوں کے اثر و رسوخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو جنگی صورتحال کا نقشہ پلٹ سکتے تھے۔ لیکن ان کی قابلیت  مضبوط اسٹرکچر والی فوجوں پر ہی مبنی تھی۔ جنرل گیاپ، جنہیں آج کم ہی یاد رکھا جاتا ہے، کٹوزوف کی طرح شہرت یا اثر و رسوخ نہیں رکھتے تھے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنرل گیاپ  کم فائر پاور اور وسائل کے باوجود ویتنام کے چیلنجنگ ماحول میں امریکی فوج کے خلاف لڑے۔ اگرچہ انہوں نے  ملٹری اکیڈمی سے گریجویشن نہیں کی تھی لیکن وہ ہسٹری پڑھاتے تھے۔ پھر بھی انہوں نے جدید ہتھیار سے لیس امریکی فوج کو کافی نقصان پہنچایا۔ جنرل گیاپ نے ایسی حکمت عملیوں کا استعمال کیا جن میں وہ دشمن کے خلاف براہ راست نہیں لڑتے تھے بلکہ وہ چھپتے، جال بچھاتے اور اچانک حملے شروع کرتے تھے۔ ویتنام جنگ اس کی ایک واضح مثال ہے کہ مخالف جتنا بھی مضبوط ہو، ایک کمزور فریق اسے شکست دے سکتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایشین مارشل آرٹس، جس میں سکھایا جاتا ہے کہ مضبوط حریف کو کیسے قابو میں رکھا جاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوویت حکومت، جس نے ویت کانگ کی حمایت کی تھی، اس تجربے سے سبق حاصل نہیں کرسکی، اس نے 1979 میں افغانستان پر حملہ کر کے غلطی کی۔ امریکی حکومت، جس نے افغان گورلیا کی حمایت کی اور سویت یونین کی شکست دیکھی، نے 2001 میں اسی غلطی کو دہرایا اور 2021 میں بھی اسی طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’وہ افغانستان میں ہار گئے لیکن عراق میں کامیاب ہوئے‘۔ یہ سچ ہے لیکن عراق نے اپنے اندرونی مسائل کی وجہ سے مزاحمت نہیں کی اور اگر اس نے مزاحمت کی ہوتی تو عراق باآسانی امریکہ اور برطانیہ کے لیے ایک اور افغانستان میں تبدیل ہوسکتا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسا لگتا ہے کہ ان تمام تجربات نے روس اور امریکہ دونوں کو سبق سکھایا ہے۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ فوج کے پاس چاہے جتنے بھی جدید ہتھیار ہو، وہ مزید حملہ آور اور علاقے پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ قبضوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب توجہ طیاروں اور میزائلوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے پر مرکوز ہوگئی ہے تاہم ایسا کرنے سے دشمن کا دفاعی سسٹم مضبوط ہوگا۔ براہ راست جنگ لڑنے کے بجائے، یہ طاقتیں اب دوسروں کو آپس میں لڑائی کروانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں (جیسا کہ پراکسی وارز)۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس تبدیلی نے دنیا اور فوجی تاریخ میں ایک نیا عنصر متعارف کرایا ہے اور وہ یہ ہے کہ پراکسی جنگوں میں اضافہ ہوا اور ایسی فوجیوں کی شمولیت میں بڑھ گئی جو سیاسی مفادات کی پرواہ کیے بغیر کسی بھی ریاست یا قوم کے لیے لڑتے ہوں۔ یہ نیا طریقہ جنگ لڑنے کے پرانے نپولین انداز سے مختلف ہے۔ نکولو میکیاولی اگر آج زندہ ہوتے تو وہ شاید اس نئے طریقے کو دیکھ کر پریشان ہوتے کیونکہ انہوں نے اپنے زمانے میں ایسے فوجیوں کی شمولیت کی سخت مخالفت کی تھی۔ جس دن پیوٹن نے یوکرین میں جنگ شروع کی، تو انہوں نے روسی عوام کو سنجیدگی اور فکرمندی کے ساتھ کہا کہ یہ جنگ مشکل اور لمبے عرصے تک چل سکتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ روسی فوج کو شروع میں شمالی محاذ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، پھر انہوں نے اپنی حکمت عملی  تبدیل کی  اور مشرق سے نئی مہم شروع کی۔ بہرحال اگر ہم تصور کریں کہ روس یوکرین کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا اور یوکرین کا کنٹرول سنبھال لیا اور مغرب بھی اس ساری صورتحال سے پیچھے ہٹ جائے  تو کیا معاملہ یہیں پر ختم ہوجائے گا؟ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ یوکرین ایک نیا افغانستان بن جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرمایہ داری نظام بنیادی مسائل کی وجہ سے اپنے حمایت کرنے والوں سمیت ختم ہو رہا ہے۔ سکڑتا ہوئے محنت کش اور متوسط طبقے کی وجہ سے معیشت، بیوروکریسی اور فوج بھی کمزور ہورہی ہے۔ یہ ہمیں ماضی کے جاگیردارانہ دور کی یاد دلاتا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم پرانے مسائل اور طریقوں کی طرف واپس لوٹتے جارہے ہیں جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ سرمایہ داری نظام کے اندر اب نیا سسٹم تشکیل پارہا ہے جو ہمیں آگے نہیں بلکہ پیچھے گھیسٹ رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم جیسی تیسری عالمی جنگ کی توقع رکھنا بے معنی ہے۔ اس کے بجائے ہم ایک ایسی افراتفری کی صورت حال دیکھ رہے ہیں جہاں لوگ اپنے ہی ملکوں میں ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں، جب کہ بیرونی طاقتیں پراکسی گروپس کے ذریعے لڑ رہی ہیں۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/suleyman-seyfi-ogun/1240</link>
      <subcategory>سلیمان سیفی اوئن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Thu, 12 Sep 2024 07:49:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے پر قتل کا خدشہ: کیا کوئی انہیں بلیک میل کر رہا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/bulent-orakoglu/1214</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/bulent-orakoglu/1214" rel="standout" />
      <description>سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کے قتل کے خدشات کو سمجھنے کے لیے ہمیں 3 نومبر 2020 کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات اور 7 فروری 2020 کے آس پاس کے ہونے والے واقعات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جب ریاستی سطح پر انتخابی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس کی پریس کانفرنس میں ’ڈیل آف سنچری‘ نامی منصوبہ پیش کیا۔ جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کو حل کرنا تھا۔ یہ منصوبہ دو اہم وجوہات کی بنا پر حقیقی معاہدہ نہیں تھا، پہلی وجہ</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کے قتل کے خدشات کو سمجھنے کے لیے ہمیں 3 نومبر 2020 کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات اور 7 فروری 2020 کے آس پاس کے ہونے والے واقعات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جب ریاستی سطح پر انتخابی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس کی پریس کانفرنس میں ’ڈیل آف سنچری‘ نامی منصوبہ پیش کیا۔ جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کو حل کرنا تھا۔ یہ منصوبہ دو اہم وجوہات کی بنا پر حقیقی معاہدہ نہیں تھا، پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ فلسطین سے مشاورت کے بغیر متعارف کرایا گیا تھا۔ دوسری وجہ یہ کہ یہ بنیادی طور پر فلسطینی سرزمین کو ضم کرنے کا منصوبہ تھا، جس میں امریکی مدد کے ذریعے ان علاقوں کو اسرائیل کے قبضے میں لے لیا گیا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور عمان جیسے کچھ عرب ممالک نے بغیر کسی شرط کے اس منصوبے کو مکمل سپورٹ کیا۔ اس کے برعکس ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس منصوبے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یروشلم مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے۔ اسرائیل کو یروشلم دینے کا منصوبہ ناقابل قبول ہے، اس سے امن اور مسائل کو حل میں مدد نہیں ملے گی بلکہ فلسطین اور یروشلم میں نئی تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ اس منصوبے کا اصل مقصد فلسطین کے حقوق کو نقصان پہنچانا اور اسرائیلی قبضے کو جائز ظاہر کرنا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’ڈیل آف سنچری‘ نامی منصوبہ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر نے تیار کیا تھا جو ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے حوالے کیا گیا۔ صدارتی الیکشن میں دوبارہ حصہ لینے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی الیکشن مہم کے لیے ایسی حکمت عملی اپنائی جو کہ نیٹو ممالک کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ’قاتلانہ حملے‘ یا ’ٹارگٹ کلنگ‘ جیسے ہتھکنڈوں سے ملتی جلتی تھی۔ یہ طریقہ پہلے اسامہ بن لادن اور ابوبکر البغدادی جیسے لوگوں کے قتل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد میں اسے قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے خلاف استعمال کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم نے پہلے ذکر کیا تھا کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے الگ الگ مواقع پر ریاض میں شہزادہ محمد بن سلمان سے دو بار ملاقات کی تھی۔ پہلی ملاقات میں انہوں نے 50 سعودی شہزادوں کی فہرست پر تبادلہ خیال کیا جو سی آئی اے نے بنائی تھی۔ اس فہرست میں ممکنہ طور پر ایسے افراد شامل تھے جو امریکہ کے لیے خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ دوسری ملاقات میں انہوں نے جمال خاشقجی اور قاسم سلیمانی جیسے ناموں کی فہرست پر تبادلہ خیال کیا گیا جنہیں پہلے ہی ٹارگٹ کرکے قتل کیا جاچکا تھا، یہ فہرست بھی سی آئی اے نے تیار کی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سی آئی اے، موساد اور سعودی انٹیلی جنس کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی ٹارگٹ کرکے قتل کیے جانے والے لوگوں کی فہرست مبینہ طور پر مشرقی بحیرہ روم میں نیتن یاہو اور خود شہزادہ سلمان کے حوالے کی گئی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سی آئی اے کے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فہرست موساد اور جی آئی پی کی مدد سے بنائی گئی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ جمال خاشقجی سمیت فہرست میں شامل افراد کو امریکی کمپنی کی طرف سے تیار اور فروخت کیے گئے ’پیگاسس وائرس‘ نامی پروگرام کا استعمال کرتے ہوئے ٹریک کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں وہ اہم رہنما بھی شامل ہیں جو ’ڈیل آف سنچری‘ کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بائیڈن اور نیتن یاہو نے سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کو عرب لیگ کے رہنماؤں کو ’ڈیل آف سنچری‘ کو سپورٹ کرنے پر رضامندی کا کام سونپا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ شہزادہ سلمان نے مشورہ دیا ہے کہ اسرائیل اور عرب لیگ کے ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کی وجہ سے انہیں قتل کا خدشہ ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ خوف امریکہ یا اسرائیل کی خفیہ بلیک میلنگ کی وجہ سے ہے</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی میڈیا کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی کانگریس کے ارکان کو بتایا کہ ’ڈیل آف سنچری‘ اور اسرائیل اور عرب لیگ ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کی وجہ سے ان کی جان خطرے میں ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی ولی عہد نے غزہ میں ہونے والی نسل کشی کی وجہ سے عرب شہریوں کے اسرائیل کے خلاف شدید غصے پر بھی بات کی، جس کے نتیجے میں 40,000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح ٹائم لائن طے کرنے اور ٹھوس اقدامات کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ سعودی عوام اور مشرق وسطیٰ کے ہر فرد کے لیے بہت اہم ہے۔ اگر میں خطے کے سب سے بڑے مسئلے کو نظر انداز کروں تو میری ساکھ متاثر ہو گی‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک سینئر سعودی اہلکار نے پولیٹیکو سے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر سعودی عرب کو اقتصادی، تکنیکی اور فوجی فائدے نہیں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور استحکام حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ تیل پر صدر بائیڈن کے ساتھ حالیہ اختلافات اور امریکہ کی طرف سے ممکنہ دھمکیوں اور بلیک میل کے امکانات بتاتے ہیں کہ شہزاد محمد بن سلمان بھی امریکہ سے اپنی سیکیورٹی کی گارنٹی مانگ رہے ہیں۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/bulent-orakoglu/1214</link>
      <subcategory>بیلانت اوراکوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Wed, 21 Aug 2024 16:31:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا امریکا اسرائیل اور ایران کے جنگ پسند عناصر کو قائل کرسکتا ہے؟   </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1194</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1194" rel="standout" />
      <description>ان دنوں بائیڈن انتظامیہ ایران کو اسرائیل پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم نیتن یاہو کی حکومت کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی ضرورت سے زیادہ حمایت کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ پچھلے سال 7 اکتوبر کے حملے کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے نہ صرف مسلسل اسرائیل کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا بلکہ انسانی حقوق کے قوانین (جو امریکا دوسرے ممالک پر عائد کرتا آیا ہے) کو نظر انداز کیے بغیر اسرائیل کو ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کیے۔ جب امریکا نے رفح میں آپریشن کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا تو نیتن یاہو</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان دنوں بائیڈن انتظامیہ ایران کو اسرائیل پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم نیتن یاہو کی حکومت کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی ضرورت سے زیادہ حمایت کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ پچھلے سال 7 اکتوبر کے حملے کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے نہ صرف مسلسل اسرائیل کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا بلکہ انسانی حقوق کے قوانین (جو امریکا دوسرے ممالک پر عائد کرتا آیا ہے) کو نظر انداز کیے بغیر اسرائیل کو ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب امریکا نے رفح میں آپریشن کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا تو نیتن یاہو کی جانب سے ’ریڈ لائن‘ کو نظر انداز کرنے کے باوجود بائیڈن نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔  امریکا اقوام متحدہ میں اسرائیل کو تحفظ دینے کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہے یہاں تک کہ اگر اسے ایسا کرنے سے اسے عالمی برادری میں تنہا بھی رہنا پڑے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کو سپورٹ کرنے پر بائیڈن کے خلاف اسرائیل مخالفین مظاہرین نے ’Genocidal Joe‘ (یعنی نسل کشی کرنے والے جوبائیڈن) کے نعرے لگائے۔ اس کے باوجود بائیڈن کی پالیسی نہ تو جنگ بندی کامیاب بنا سکی اور نہ ہی خطے میں بڑی جنگ کے خطرے کو روک سکی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بائیڈن کی کمزوری</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنے صدارتی دور کے دوران بائیڈن کو اسرائیل کی طرف سے پیدا کیے گئے ملک کے سیاسی اور سفارتی مسائل دیکھنا پڑے، بعض اوقات بائیڈن نے میڈیا کے سامنے اپنی ناراضی ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے غزہ سے متعلق نیتن یاہو سے کتنی سختی سے بات کی ہے۔ میڈیا کے سامنے نیتن یاہو پر غصے کا اظہار کرنا اور اسی دوران اسرائیل کی حفاظت کے لیے جنگی طیارے بھیجنا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ بائیڈن موٴثر پالیسیاں بنانے اور اسرائیل کو راضی کرنے میں ناکام رہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> پیر کو قومی سلامتی کے اجلاس سے لیک ہونے والے پیغام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بات پر غیر یقینی صورتحال ہے کہ ایران کب اور کیسے اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے لیکن اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکا اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا۔ بائیڈن انتظامیہ غزہ میں لڑائی کو روکنے یا اسرائیل ایران تنازع کو ایک بڑی علاقائی جنگ میں بڑھنے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور ایسا لگتا ہے کہ وہ اسرائیل یا ایران میں سے کسی کو بھی اپنی مرضی پر راضی کرنے سے قاصر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ (جو غزہ میں لڑائی کو روکنے یا اسرائیل ایران تنازعے کو ایک بڑی جنگ کے خطرات سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکی) اسرائیل یا ایران میں سے کسی ایک کو اپنے راستے پر چلنے کے لیے راضی کرنے میں ناکام ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چونکہ بائیڈن امریکی مفادات کو ترجیح دے کر ایک موٴثر سفارتی حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکتے اس لیے انتظامیہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں پر صفائیاں دیتی نظر آرہی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے پر ایران کو پرسکون رہنے کی ہدایت کررہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ بائیڈن انتظامیہ نیتن یاہو کے جاری اقدامات کو چیلنج کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔ اس کے بجائے وہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کو تنازعے میں لانے کی کوششوں کررہی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے کہا تھا کہ اسرائیل کی غزہ میں کارروائیں اس وقت تک قابل قبول ہیں جب تک کہ یہ غزہ تک محدود رہتے ہیں اور علاقائی تنازعے کا باعث نہیں بنتے۔ تاہم امریکا اپنے اس بیان پر خود ہی عمل نہیں کرسکا۔ بائیڈن نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے نیتن یاہو کی جنگی حکمت عملی کو نظر انداز کرکے ملک میں نومبر کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے جنگ بندی کا ساتھ دیا۔ تاہم نیتن یاہو نے اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنایا (جو جنگ بندی اور دیرپا امن مذاکرات کے لیے اہم شخصیت تھے)۔ ایرانی دارالحکومت تہران میں ہنیہ کو نشانہ بنا کر نیتن یاہو نے علاقائی تنازعے میں اضافہ کردیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ، جو اب نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے میں ناکام نظر آرہی ہے، دیگر ممالک کے ذریعے پیغامات بھیج کر ایران کے ردعمل میں نرمی کی کوشش کررہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپریل میں جوبائیڈن نے یہ وضح کرنے کی کوشش کی کہ ایران اسرائیل پر کب اور کیسے حملہ کرسکتا ہے تاکہ تل ابیب کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔ تاہم انہوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ نیتن یاہو کا اصل ہدف اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے تنازعے کو بڑھانا ہے۔ آج اگر حماس نے سرنڈر کر بھی لیا تو نیتن یاہو حماس کو نہ صرف حماس کو ناقابل اعتماد قرار دے گا بلکہ اصرار کرے گا کہ اصل مسئلہ ایران ہے اور علاقائی جنگ کو جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ نیتن یاہو (جو فلسطین ریاست کے قیام کے خلاف رہا ہے اور امن کی کوششوں کے لیے کوئی موٴثر موٴقف نہیں اپنایا) امریکہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کا فائدہ اٹھا کر اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی صرف اس صورت یقینی ہوگی جب ایران کو حکومت بدلے گی۔ بائیڈن سے نیتن یاہو جیسے سیاسی رہنما کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے خطے میں تناؤ کو کم کرنے کی توقع رکھنا حقیقت کے برعکس ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی وارننگ </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کو امریکہ اور یورپ کی طرف سے ملنے والی حمایت کے بارے میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بیان دیا کہ جاری علاقائی جنگ نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔  ایک بات تو واضح ہے کہ اسرائیل اور ایران ایک دوسرے کے سخت ترین مخالفت ہیں اور دونوں دیرپا امن میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ حقیقی اور دیرپا امن تب ہی حاصل ہوسکتا ہے جب دونوں یہ مان لیں کہ امن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر امریکہ امن کے حصول کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے یہ ظاہر کرنا چاہیے کہ جاری اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی ایران اور اسرائیل کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے واضح پالیسی بنائے بغیر واشنگٹن ترکیہ جیسے ممالک کے ساتھ سفارتی رابطہ تعلقات قائم نہیں کرسکے گا جو جاری تنازع کو اپنے مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> بائیڈن کو نیتن یاہو پر یہ واضح کرنا چاہیے کہ تنازعے میں اضافہ کرنے سے ان کی قیادت خطرے میں پڑسکتی ہے۔ ساتھ ہی انہیں ایران کے سخت گیر رہنماوٴں  کو یقین دلانا چاہیے کہ اسرائیل ایران پر اپنے براہ راست حملے بند کر دے گا۔ بائیڈن انتظامیہ، جو امریکہ میں اسرائیل کے حامیوں کے ردعمل سے خوفزدہ ہے، نیتن یاہو پر دباؤ نہیں ڈال سکتی اور نہ ہی ایران کے ساتھ برابری کا رویہ اپنا سکتی ہے۔ بائیڈن کا اسرائیل پر دباوٴ نہ ڈالنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی پالیسیاں فائدہ مند نہیں ہیں اور وہ خطے میں ہونے والی پیش رفت میں بیانات کے ذریعے ردعمل ظاہر کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے اور اس بات کا امکان کم نظر آتا ہے کہ وہ اسرائیل یا ایران میں سے کسی ایک کو قائل کرسکیں گے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1194</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Thu, 15 Aug 2024 11:03:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا قاتلانہ حملہ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی کرسی تک لے جائے گا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1112</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1112" rel="standout" />
      <description>امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کے بعد ملک میں صدارتی دوڑ کے نتائج واضح طور پر تبدیل ہوگئے ہیں. ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ایسے وقت پیش آیا جب ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر جوبائیڈن پر استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔ قاتلانہ حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں تو عوام انہیں ایسے رہنما کے طور پر دیکھنے لگے جو خطرہ مول لے کر امریکی عوام کے لیے لڑتے ہیں۔ ریپبلکنز اس صورتحال کو سیاسی فتح کے طور پر دیکھ رہے ہیں، ٹرمپ کو اب اپنے حامیوں کو اکھٹا کرنا اور</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کے بعد ملک میں صدارتی دوڑ کے نتائج واضح طور پر تبدیل ہوگئے ہیں. ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ایسے وقت پیش آیا جب ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر جوبائیڈن پر استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قاتلانہ حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں تو عوام انہیں ایسے رہنما کے طور پر دیکھنے لگے جو خطرہ مول لے کر امریکی عوام کے لیے لڑتے ہیں۔ ریپبلکنز اس صورتحال کو سیاسی فتح کے طور پر دیکھ رہے ہیں، ٹرمپ کو اب اپنے حامیوں کو اکھٹا کرنا اور ریپبلکنز کی مکمل حمایت حاصل کرنا آسان ہوجائے گا۔ اس تمام صورتحال کے باوجود ملک کی پولرائزڈ سیاست کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ ٹرمپ یقینی طور پر امریکہ کے اگلے صدر ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ناقص سیکیورٹی اور ہائی پروفائل ٹارگٹ</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور بہت سے سازشی نظریے (کانسپریسی تھیوریز) تجویز کیے گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد لوگوں  نے مختلف تھیوریز بنائیں، ان میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا کے ڈیپ اسٹیٹ (خفیہ ادارے) ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کام کررہے ہیں اور ان سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، یہی نہیں بلکہ کئی تھیوریز میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ’سٹیجڈ‘ (یعنی ڈرامہ) تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">البتہ یہ ہم ضرور جانتے ہیں کہ سیکرٹ سروس ٹرمپ کے حفاظت کی ذمہ دار تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ اس ناکامی کی وجوہات پر اب تک اگلے کئی مہینوں تک تحقیقات اور بحث ہوتی رہے گی۔  سیکرٹ سروس کی کارکردگی اور طریقہ کار کی بھی چھان بین کی جائے گی اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ یہ بحث کا موضوع بنا ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس بات کا امکان ہے کہ ریپبلکن سیاسی حکمت عملی کے تحت اس واقعے کا الزام ڈیموکریٹس پر ڈالنے کی کوشش کریں گے اور سیکرٹ سروس کی پرفارمنس کی تحقیقات کا عمل سیاسی ہوسکتا ہے اور اسے سیاسی پولرائزیشن کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اس طرح کی حکمت عملی سے ٹرمپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ کسی بھی قاتلانہ حملے کی تحقیقات کرنا معمول کی بات ہے لیکن اسے ڈیموکریٹس اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف ایک سیاسی جنگ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ملک کو نقصان ہوسکتا ہے۔ صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کو عوام کے لیے ایک ایسا لیڈر ہونا چاہیے کہ جس نے اپنے ملک کے لیے گولی تک برداشت کرلی لیکن پھر بھی وہ ایسے واقعے کے بعد وہ قوم کو متحد یا ایک پیج پر کھڑا کرسکتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کو اب بھی  ووٹرز کو اپنی طرف قائل کرنے ضرورت ہے اور اگرچہ ٹرمپ کے لیے یہ بہت آسان ہے کہ وہ ووٹرز کو یقین دلائیں کہ بائیڈن صدارتی مباحثے میں اپنی خراب کارکردگی کے بعد ملک چلانے کے قابل نہیں ہیں۔ تاہم ٹرمپ کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ وہ ووٹرز کو یقین دلائیں کہ وہ ملک کو افراتفری یا غیر یقینی صورتحال کی طرف نہیں لے جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">نائب صدر جے ڈی وینس</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کی کانگریس میں ٹرمپ نے اوہائیو کے 39 سالہ سینیٹر جے ڈی وینس کو اپنا نائب صدارتی امیدوار نامزد کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جے ڈی وینس اس سے قبل ٹرمپ کے لیے سخت الفاظ کرنے والے سینیٹر کے طور پر پہنچانے جاتے تھے اور ان پر تنقید کرتے ہوئے کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وینس نے ’ہِلبِلی ایلیجی‘ (Hillbilly Elegy) کے عنوان سے اپنی سوانح عمری شائع کر کے خوب نام بھی کمایا۔ اس کتاب میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح غربت میں رہنے والے سفید فام لوگوں کو فلاحی ریاست میں کن مسائل کا سامنا ہے اور وہ ٹرمپ جیسے پاپولسٹ لیڈروں کی حمایت کررہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2016 میں ٹرمپ ایسے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو بے روزگاری اور منشیات جیسے مسائل سے  تنگ تھے۔ تاہم وہ بائیڈن کو محنت کش طبقے سے حمایت حاصل کرنے سے نہیں روک سکے، اس کی ایک وجہ مزدور یونینوں کے ساتھ بائیڈن کے اچھے تعلقات تھے۔ وینس کو نائب صدر نامزد کرکے ٹرمپ نے ایک اہم الیکشن اسٹریٹیجی اپنائی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جے ڈی وینس کو نائب صدر نامزد کرنے کا فیصلہ اور قاتلانہ حملے سے ہمدردی اور سیاسی حمایت حاصل کرنا فی الحال ان کے حق میں کام کررہا ہے۔ اگر ٹرمپ لوگوں کو تقسیم کرنے والی سیاست کا استعمال بند کر دیتے ہیں اور اس کے بجائے لوگوں کو متحد  کرنے پر زور دیتے ہیں تو انہیں سیاسی طور پر مزید فائدہ ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ حملہ سیاسی پولرائزیشن کا نتیجہ ہے وہ حالیہ سیاسی ماحول کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرائیں گے۔  اور ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کو ووٹ دینا ملک کو ایک نئی مصیبت کی طرف لے جائے گا۔ اس صورتحال میں ڈیموکریٹس نئے امیدوار کا انتخاب کرکے اہم تبدیلی لا سکتے ہیں اور ریپبلکنز کے ساتھ صورتحال برابر ہوسکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری صورت میں اگر بائیڈن الیکشن لڑنے پر بضد ہیں تو ڈیموکریٹس کے لیے صورتحال مشکل ہوجائے گی کیونکہ قاتلانہ حملے کے بعد ٹرمپ کے خلاف محاذ بنانا ڈویموکریٹس کی جیت کے لیے کافی نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ اگست 2016 میں ٹرمپ کی انتخابی مہم انتشار کا شکار تھی اس کے باوجود ہلری کلنٹن کے خلاف تحقیقات نے الیکشن کا رخ بدل دیا تھا۔ اور ٹرمپ کی انتخابی مہم چند مہینوں میں ہی دوبارہ ابھری اور الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئی، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اس سال بائیڈن الیکشن کی دوڑ میں رہیں گے یا نہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس اپنا اگلا لائحہ عمل کیا اپنائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اور اگر ڈیموکریٹک پارٹی اپنی پوزیشن واضح کردیتی ہے تو اس دوران دیگر کئی بدلتی ہوئی چیزیں الیکشن کا رخ بدل سکتی ہے، فی الحال ٹرمپ کی اس وقت مضبوط پوزیشن ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ٹرمپ ہی صدر بنیں گے۔ صدر بننے کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ کسی دہشت گرد حملے کا ہدف بن کر لوگوں سے ہمدری سمیٹیں بلکہ ووٹرزکے لیے یہ بھی اہم ہے کہ ٹرمپ کس طرح ملک کی قیادت کریں گے جو ڈیموکریٹس سے مختلف ہو۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/kadir-ustun/1112</link>
      <subcategory>قدیر استن</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 05 Aug 2024 14:13:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’غزہ اور بیجنگ ڈیکلریشن‘، کیا فلسطین مسئلہ ایک دستاویز پر دستخط کرنے سے حل ہوجائے گا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1156</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1156" rel="standout" />
      <description>1987 میں پہلے انتفادہ نے ظاہر کیا کہ اسرائیلی قبضے کے حوالے سے فلسطینیوں کے حق میں فیصلہ کیے بغیر فلسطین میں مظاہروں اور بدامنی پر قابو پانا ناممکن ہے۔ فلسطینیوں پر کئی دہائیوں سے جاری ظلم و ستم اب ان کی برداشت سے باہر ہے۔ (یاد رہے کہ انتفادہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب کوئی تحریک شروع کرنا، عام طور پر یہ لفظ اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینیوں کی مزاحمت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے) اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینی شہری مزاحمت کررہے ہیں اور اسرائیل کی جوابی کارروائی کی وجہ سے ان میں صرف غصہ اور ناراضی</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1987 میں پہلے انتفادہ نے ظاہر کیا کہ اسرائیلی قبضے کے حوالے سے فلسطینیوں کے حق میں فیصلہ کیے بغیر فلسطین میں مظاہروں اور بدامنی پر قابو پانا ناممکن ہے۔ فلسطینیوں پر کئی دہائیوں سے جاری ظلم و ستم اب ان کی برداشت سے باہر ہے۔ (یاد رہے کہ انتفادہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب کوئی تحریک شروع کرنا، عام طور پر یہ لفظ اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینیوں کی مزاحمت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے) اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینی شہری مزاحمت کررہے ہیں اور اسرائیل کی جوابی کارروائی کی وجہ سے ان میں صرف غصہ اور ناراضی پائی جاتی ہے۔ 1988 میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے رہنما یاسر عرفات اور ان کے ساتھیوں نے ’دو ریاستی حل‘ کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔  یاسر عرفات عوام کے غصے کو عملی نتائج میں بدلنا چاہتے تھے اور پہلی انتفادہ میں قائم ہونے والا مزاحمتی گروپ حماس کا اثروسوخ ختم کرکے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے تھے تاکہ صرف یہی فلسطین کی نمائندگی کرے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">15 نومبر 1988 کو فلسطین لبریشن آرگنازیشن اور اس کے مختلف دھڑوں نے الجزائر میں ایک اجلاس کے دوران فلسطین کی آزادی کا اعلان کیا اور یاسر عرفات کو فلسطین کا صدر منتخب کیا گیا۔ اجلاس کے آخر میں فلسطین کی آزادی کا اعلان تحریری طور پر فلسطینی شاعر محمود درویش نے لکھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">البتہ آزادی کے اعلان کے باوجود فلسطین کی زمینی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اورایک جانب  فلسطین میں بڑے پیمانے پر مظاہرے اور احتجاج جاری تھا تو اسی دوران عرفات اور ان کی ٹیم اپنا اثر و سوخ برقرار رکھنے کے لیے بے چین تھے۔ یاسر عرفات کا منصوبہ تھا کہ وہ حماس کو سائیڈ لائن کردیں گے اور ایک بار جب احتجاج اور مظاہرے ختم ہوجائیں گے تو فلسطینی عوام پی ایل او کو اپنا واحد سیاسی حل کے طور پر دیکھیں گے لیکن حالیہ تاریخ عرفات کے منصوبے کو بار بار غلط ثابت کررہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلسطینی سیاست کا پیچیدہ منظر</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ ہفتے چین کے دارالحکومت میں حماس اور الفتح سمیت 14 فلسطینی گروپس کی جانب سے دستخط کیے گئے ’بیجنگ ڈیکلریشن‘ کے بارے میں خبریں پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ یہ 14 مختلف گروپ مقبوضہ سرزمین میں کس چیز کے لیے لڑ رہے ہیں۔ فلسطین میں ان گروپس کے درمیان دشمنیاں اور تنازعات  کی تاریخ طویل اور دردناک ہے۔ ایسا وقت بھی آیا جب یہ لڑائیاں تقریباً خانہ جنگی کی شکل اختیار کرنے والی تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسے میں اہم سوالات سامنے آتے ہیں: جب ایک دن صیہونی حکومت کا قبضہ ختم ہوجائے گا تو فلسطین میں کس قسم کی سیاسی صورتحال پیدا ہو گی؟ کیا فلسطینی تحریکیں جو قبضے کے دوران تنازعات کا شکار رہیں اپنے ملک کے مستقبل کی خاطر اکٹھی ہوسکیں گی؟ یا کیا ایک بار جب فلسطین قبضے سے ’آزاد‘ ہوگا تو اس میں افراتفری اور انتشار کا سامنا ہو سکتا ہے جیسا کہ کچھ دوسرے عرب ممالک میں بھی دیکھا گیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر ہم بہت کم  غور کرتے ہیں، شاید اس لیے کہ ہم جوابات سے ڈرتے ہیں لیکن یہ جواب ہمارے سامنے ایک حقیقت ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین الاقوامی اعلانات اور اندرونی چیلنجز</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چین نے حال ہی میں مسئلہ فلسطین کے بارے میں ایک بیان دیا ہے، جیسا کہ کئی دوسرے ممالک (قاہرہ، مکہ، ریاض، دوحہ) پہلے کر چکے ہیں، فلسطین کے اندر گہرے تنازعات اور اختلافات کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ فریقین کا دعویٰ ہے کہ ’یہ مفاہمت پچھلی تمام کوششوں سے بہتر ہے، ہمیں بہت امید ہے‘۔ جو بھی شخص قریب سے فلسطین کی صورت حال پر غور کررہا ہے وہ جانتا ہے کہ کسی بیرونی ملک کی مدد سے صرف ایک دستاویز پر دستخط کرنے سے ملک کے اندرونی مسائل حل نہیں ہوجاتے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شاید فلسطینی گروپس کو شاہ سلیمان کی مشہور کہانی یاد کرنی چاہیے:</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک بچے کی ماں ہونے کا دعویٰ کرنے والی دو عورتیں فیصلے کے لیے سلیمان کے پاس آئیں۔ ان عورتوں کی باتیں سن کر سلیمان نے کہا کہ ’مجھے ایک چاقو لادو، میں بچے کے دو حصے کرلیتا ہوں اور تم دونوں کو ایک ایک حصہ دے دیتا ہوں‘، یہ سن کر ایک خاتون خوفزدہ ہوکر التجا کرنے لگی کہ ’ایسا مت کرو! یہ بچہ اِس کا ہے!‘۔ تب سلیمان نے یہ اخذ کیا کہ حقیقی ماں وہ ہے جسے بچے کی بھلائی کی فکر ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلسطین کی صورت حال کا جائزہ لیتے وقت ہمیں یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ’اس بچے کی اصل ماں کون ہے؟‘۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/taha-kilinc/1156</link>
      <subcategory>طہٰ کلنچ</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Fri, 02 Aug 2024 14:02:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا ترکیہ اور شام کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے؟ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1137</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1137" rel="standout" />
      <description>میں ترکیہ اور شام کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہوں۔ خاص طور پر شام کے صدر بشارالاسد کے حالیہ بیان کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات بے نتیجہ نکلیں گے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بہت سی رکاوٹیں مذاکرات کو ناکام بنا سکتی ہیں۔ کیا انقرہ اور دمشق کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے؟ لیکن میں جو دیکھ رہا ہوں، ایسا نہیں ہوگا۔ آئیے اسے تھوڑا تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ انقرہ کا نقطہ نظر واضح ہے۔ صدر رجب طیب اردوان نے شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر زور</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">میں ترکیہ اور شام کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہوں۔ خاص طور پر شام کے صدر بشارالاسد کے حالیہ بیان کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات بے نتیجہ نکلیں گے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بہت سی رکاوٹیں مذاکرات کو ناکام بنا سکتی ہیں۔ کیا انقرہ اور دمشق کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے؟ لیکن میں جو دیکھ رہا ہوں، ایسا نہیں ہوگا۔ آئیے اسے تھوڑا تفصیل سے سمجھتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انقرہ کا نقطہ نظر واضح ہے۔ صدر رجب طیب اردوان نے شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر زور دیتے ہوئے ایک مثبت پیغام کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا۔ جون میں ہونے والا اعلان حیران کن نہیں تھا بلکہ یہ دو ماہ سے فون اور پیغامات کے ذریعے ہونے والے بات چیت کے بعد سامنے آیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مذاکرات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب اپریل میں صدر اردوان نے بغداد کا دورہ کیا تھا۔ جب عراق نے بغداد میں مذاکرات کی میزبانی کی تجویز پیش کی تو ترکیہ کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس کے بعد عراق نے ترکیہ اور شام کے درمیان ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بشارالاسد کا مبہم بیان </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شام میں روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے خصوصی ایلچی لاورینتیف کی موجودگی میں انقرہ کے مثبت پیغام پر بشارالاسد کا پہلا ردعمل بھی مثبت تھا۔ شامی حکومت نے اپنے علاقوں سے ترک فوجیوں کو فوری طور پر نکالنے کی شرائط میں نرمی کی اور اس کے بجائے فوجیوں کے انخلا کا منصوبہ تجویز کیا۔ جس پر صدر اردوان نے کہا کہ وہ بشار الاسد کو دورے کی دعوت دیں گے۔  دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کا یہ پہلا قدم تھا۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چند روز بعد عراقی وزیر خارجہ فوات حسین نے اعلان کیا کہ عراق ترکیہ اور شامی حکام کی میزبانی کرے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم اس کے بعد ایک مبہم بیان سامنے آیا جب شامی وزارت خارجہ نے فوجی انخلا سے متعلق منصوبہ بنانے کی تجویز واپس لے لی۔ جس کے بعد یہ سوال اٹھنے لگے کہ ’کیا مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں گے؟‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بغداد میں ہونے والی بات چیت</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نہیں، مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ختم نہیں ہوں گے۔ میرے تجزیے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جلد شروع ہوجائے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ شام کا مشروط بیان ’اردوان اور بشار الاسد ملاقات‘ سے متعلق ہے۔ میرا نہیں خیال کہ انہوں نے بات چیت کا دروازہ بند کردیا ہے (اگر ایسا کریں گے تو ان پر اسرائیل-امریکا-کردش کا دباوٴ بڑھ جائے گا)</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر ہم عراقی وزیر خارجہ حسین کے بیان کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ شامی حکومت نے نچلی سطح (چاہے وہ لیڈروں یا وزراء کے ساتھ ہی کیوں نہ ہوں) پر مذاکرات کرنے اور بغداد میں مذاکرات کے روڈ میپ پر چلنے  پر رضامندی ظاہر کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ ایسے اشارے موجود ہیں کہ انقرہ نے اپنے فوجوں کو شام کے علاقوں سے نکالنے کے لیے کوئی ٹائم لائن یا منصوبہ نہیں دیا اور نہ ہی دے گا لیکن شامی حکومت اب بھی نچلی سطح پر بات چیت کے لیے آمادہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا سرپرائز</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ شام کے درمیان مذاکرات کا عمل اب بھی نازک موڑ میں ہے اور کچھ ممالک اس پر اثر انداز ہونے یا سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ امریکا اپنے موٴقف پر واضح ہے وہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کی حمایت نہیں کرتا ہے۔ دہشت گرد تنظیم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) بھی ان مذاکرات سے ناخوش ہے۔ اس کی وضاحت میں آخر میں کروں گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ ایسے بھی ممالک ہیں جو کھل کر موٴقف پیش نہیں کررہے لیکن حل تجویز کررہے ہیں اور اس عمل میں اپنا فائدہ چاہتے ہیں۔ تہران ایسا کیوں کر رہا ہے؟ پہلی وجہ یہ ہے کہ ماہرین کہتے ہیں کہ ترکیہ اور شام کے تعلقات معمول پر آنے سے شام میں ایران کی اہمیت کم ہوجائے گی۔ نوگورنو کاراباخ اور جنوبی قفقاز میں اسٹریٹجک نقصان مشرق وسطیٰ تک پھیلے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حزب اللہ تک پہنچنے والی لاجسٹک لائن ختم ہو جائے گی، جس سے بحیرہ روم سے رابطہ ختم ہو جائے گا۔ تیسری اور دلچسپ وجہ یہ ہے کہ اگر تہران شام سے اپنی فوج نکالنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ وہاں موجود دسیوں ہزار ملیشیا کے ساتھ کیا کیا جائے اور تہران کے پاس اس کے لیے کوئی واضح پلان نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کہا جاتا ہے کہ روس بھی ایسا ہی چاہتا ہے۔ وہ بغداد کی کھلم کھلا مخالفت کرتے ہیں اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ کوئی بھی ملک ایسے اہم اور پیچیدہ مسئلے پر اپنا کنٹرول کھونا نہیں چاہتا۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></h1><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مذاکرات کے نتائج کیا ہیں؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انقرہ کے مذاکراتی کوششوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ آپ نے امریکہ کے منصوبے کے بارے میں پڑھا ہو گا، وہ منصوبہ یہ تھا کہ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کو دمشق سے جوڑا جائے۔ دمشق کو سعودی عرب سے بات کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ایران مخالف گروپ بنایا جائے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واشنگٹن اور دمشق کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے۔ بشار الاسد پر دباؤ ڈالا گیا اس کے بعد کردستان ورکرز پارٹی سے رابطہ کرنے سے متعلق بشار الاسد کا بیان سامنے آیا۔ اس دوران کردستان ورکرز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات کے ذریعے آزادی کی راہ ہمواہ کرنا شروع کی اور اس تمام پیش رفت پر دمشق کی نظریں تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انقرہ کے شام کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے سے بشار الاسد کی حکومت کو دہشت گرد گروپ کے خلاف مزید طاقت ملی۔ اس سے بشارالاسد کو دہشت گرد تنظیم پر دباؤ ڈال کر صورتحال کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے اور کارروائی کرنے کا موقع مل گیا۔ اس دوران کردستان ورکرز پارٹی نے بیان دیا کہ ’دمشق ہماری توقعات پر پورا نہیں اتر رہا ہے‘۔ شام کے فوجیوں اور کردستان ورکرز پارٹی کے ارکان کے درمیان کشیدگی اور تنازعات کی بھی اطلاعات رپورٹ ہوئیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی کے عسکریت پسندوں نے شامی حکومت کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ (شام میں داعش کے خلاف ترکیہ کی کارروائیوں کے دوران کردستان ورکرز پارٹی نے داعش کے جنگجوؤں کو اپنی سرزمین سے دوسرے علاقے منتقل کیا)۔ دوسرے الفاظ میں اتبدائی طور پر دمشق امریکی دباؤ کی وجہ سے کردستان کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہا تھا لیکن کشیدگی بڑھ گئی۔ یہ انقرہ کی مذاکراتی کوششوں کے ابتدائی نتائج میں سے ایک ہے۔ یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے جس میں بہت سے اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں اور نفیساتی اور سماجی جڑیں ہیں۔ اس مسئلے کو حل ہونے میں وقت لگے گا۔ لیکن ڈپلومیسی میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہمیں اس کی پیشرفت پر نظر رکھنی ہوگی۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/yahya-bostan/1137</link>
      <subcategory>یحییٰ بوستان</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 29 Jul 2024 11:46:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا امریکہ کا مسئلہ ٹرمپ ہے، یا کچھ اور؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1123</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1123" rel="standout" />
      <description>امریکہ میں بندوقوں کی تعداد وہاں کی آبادی سے بھی زیادہ ہے اور ہر سال تقریباً 40 ہزار سے زیادہ لوگ فائرنگ کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ کئی سالوں سے اسکولوں، گرجا گھروں، عبادت گاہوں، مالز اور تھیٹر جیسی جگہوں پر فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے اہل خانہ اسلحہ خریدنے سے متعلق سخت قانون کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ملک میں بندوقوں کی خریدو فروخت میں کمی نہ آسکی۔ اس کے برعکس کچھ سیاستدان اپنی انتخابی مہم کے دوران کھلے عام اسلحے کی نمائش کرتے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے اسلحہ ساز کمپنیاں</description>
      <category>columns</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ میں بندوقوں کی تعداد وہاں کی آبادی سے بھی زیادہ ہے اور ہر سال تقریباً 40 ہزار سے زیادہ لوگ فائرنگ کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ کئی سالوں سے اسکولوں، گرجا گھروں، عبادت گاہوں، مالز اور تھیٹر جیسی جگہوں پر فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے اہل خانہ اسلحہ خریدنے سے متعلق سخت قانون کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ملک میں بندوقوں کی خریدو فروخت میں کمی نہ آسکی۔ اس کے برعکس کچھ سیاستدان اپنی انتخابی مہم کے دوران کھلے عام اسلحے کی نمائش کرتے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے اسلحہ ساز کمپنیاں ان امیدواروں کو بھاری رقم بھی دیتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سب سے مشہور ہتھیار اے آر-15 سیمی آٹومیٹک رائفل ہے، اسی قسم کا ایک ہتھیار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں استعمال ہوا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکیوں کے پاس اتنی بندوقیں کیوں ہیں؟ اس حوالے سے بہت سے امریکیوں کا خیال ہے کہ وہ خانہ جنگی کے قریب ہیں۔ یہاں تک کہ اس حوالے سے امریکہ میں ایک فلم بھی بنائی گئی جو رواں سال 12 اپریل کو ریلیز ہوئی تھی جس کا نام ’سول وار‘ تھا جسے ایلکس گارلینڈ نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ ، یہ فلم 6 جنوری 2021 کے واقعے سے متاثر ہے جب اُس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کانگریس کی عمارت پر حملہ کیا اور 2020 کے انتخابات میں ان کی شکست کو چیلنج کیا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلم کے اسکرپٹ کی بات کریں تو فلم کی کہانی ایسے موڑ پر شروع ہوتی ہے  جب خانہ جنگی پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی ہے لیکن اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ خانہ جنگی کیوں، کیسے یا کس نے شروع کی۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اگرچہ یہ فلم صدارتی انتخابات سے پہلے ریلیز ہوئی ہے لیکن اس کا حقیقت میں امریکی سیاست سے تعلق نہیں ہے۔ تاہم فلم میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کس طرح خانہ جنگی عام امریکیوں کو قاتل بنا رہی ہے۔ یہ فلم ایک ’وارننگ‘ ہے کہ کس طرح خانہ جنگی امریکی معاشرے کو بڑے پیمانے پر متاثر کرسکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">78 سالہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر اے آر- 15 ہتھیار سے حملہ کرنے والے 20 سالہ شوٹر کے پیچھے محرکات واضح نہیں ہوسکے لیکن اس واقعے نے فلم ’سول وار‘ میں پیش کیے گئے پرتشدد اور ڈرامائی مناظر یاد دلائے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک جانب جہاں اس وقت امریکہ میں انتہائی پولرائزڈ سیاسی ماحول ہے وہاں اس دوران بندوقوں کی خرید و فروخت میں اضافے سے مستقبل میں انتشار برپا ہوسکتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ زیادہ تر ریپبلکن ووٹرز اسلحے خریدنے کے شوقین ہیں، 2019 میں ایک سابق ریپبلکن نمائندے نے تبصرہ کیا تھا کہ ’لوگ ایک اور خانہ جنگی کے بارے میں باتیں کررہے ہیں۔ ایک گروپ کے پاس تقریباً 8 ٹریلین بندوقیں ہیں۔ حیرت ہے کہ کون جیتے گا؟‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ریپبلکن پارٹی کے حامی تھامس کلینگسٹائن نے امریکہ میں سیاسی تقسیم کو ’سرد خانہ جنگی‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ’سرد خانہ جنگی‘ ان لوگوں کے درمیان ہے جو امریکہ کو اچھی نظر سے دیکھتے ہیں اور ملک کا دفاع کرتے ہیں اور وہ لوگ جو امریکہ کو برا سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ریپبلکنز کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے کام کریں جیسے وہ جنگ میں ہوں، انہیں ایسے لڑنا چاہیے جیسے وہ ’آزادی‘ اور ’موت‘ کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کررہے ہوں۔ ریپبلکنز پارٹی کے انتہائی بائیں بازو کے لوگ تھامس کلینگسٹائن کے موٴقف پر چلنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کی وفاقی حکومت اور بیوروکریسی کئی دہائیوں سے قبضے میں ہے اور اگر ٹرمپ دوسری بار صدر بن جاتے ہیں تو انہیں ملک کے موجودہ نظام کو مکمل طور پر ختم اور تبدیل کردینا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خلاصہ یہ کہ امریکہ میں دو بڑی جماعتوں کے انتہائی پولرائزڈ ووٹرز ایک دوسرے کو بڑے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک پرشین فوجی تھیوریسٹ کارل وون کلاز وٹز نے اپنی کتاب ’آن وار‘ (On War) میں کہا کہ ’جب دوسرے طریقے کام نہ کررہے ہوں تو جنگ ہی سیاسی اہداف حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے‘۔ امریکہ میں اس وقت جس قدر سیاسی تنازعات بڑھ چکے ہیں ایسا لگتا ہے کہ وہاں کی سیاست جنگ جیسی صورتحال بن گئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا بھر میں امریکہ ہی واحد ملک ہے جو اپنی فوج پر سب سے زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے، ملک کا 2025 کا دفاعی بجٹ تقریباً 85 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔ تقریباً 80 ممالک میں امریکہ کے کم از کم 750 فوجی اڈے اور  ایک لاکھ 70 ہزار فوجی تعینات ہیں۔ اس کے باوجود امریکی حکومت اندرونی طور پر شدید پولرائزڈ ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ اس سیاسی تقسیم کی ایک مثال ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/columns/abdullah-muradoglu/1123</link>
      <subcategory>عبداللہ مُراد اوغلو</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image />
      <pubDate>Mon, 22 Jul 2024 11:41:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
  </channel>
</rss>