<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:content="https://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom">
  <channel>
    <title>Yenisafak UR</title>
    <link>http://ur.yenisafak.com</link>
    <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/rss-feeds?category=world" rel="self" type="application/rss+xml" />
    <description>RSS Feed</description>
    <copyright>(c) 2026, Yenisafak UR</copyright>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 13:51:11 GMT+3</lastBuildDate>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:51:08 GMT+3</pubDate>
    <language>tr-TR</language>
    <image>
      <title>Yenisafak UR</title>
      <url>https://assets.yenisafak.com/yenisafak/wwwroot/images/site-icon/yenisafak-ur.png</url>
      <link>http://ur.yenisafak.com/</link>
    </image>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو یا نہ ہو، 'اسرائیلی چھاؤنی' کو ختم کر دیا جائے گا۔ جو لوگ 'نئے جغرافیے' کو نہیں سمجھتے، وہ خودکشی کر رہے ہیں۔ عثمانیوں نے بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر ایک دور بدل دیا تھا۔ اب ترکیہ 'دوسری بار' دور بدلے گا۔ کیسے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2898</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2898" rel="standout" />
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-small" style="color: rgb(230, 0, 0);">تحریر: ابراھیم کاراگل (کالم نگار)</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور ایران کسی حقیقی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو خطے میں طاقت کا نقشہ کیسا ہوگا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا جنگ سے کمزور ہونے والا ایران، جس کی علاقائی طاقت بھی متاثر ہوئی ہے، دوبارہ مضبوط ہو کر ابھرے گا یا ایک کمزور ریاست کی صورت میں اپنی سرزمین تک محدود ہو جائے گا؟ یا پھر وہ خود کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کرے گا جس نے "امریکہ کے خلاف فتح حاصل کی؟"</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ خلیجی ریاستیں جو ایرانی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس سمت لے جائیں گی؟ کیا خلیجی عرب ممالک کو یہ ادراک ہوگا کہ امریکہ نہ تو ان کی حفاظت کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنے فوجی اڈوں کی۔ اور یہ کہ اسرائیل کے ساتھ امن صرف اسرائیل کی طاقت بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے؟ کیا وہ ایک نئی طاقت ور شراکت داری کو مکمل طور پر قبول کر لیں گے جس کے آثار ہم پہلے ہی دیکھ رہے ہیں؟</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور یورپ کے لیے "اسرائیل کا بوجھ" اٹھانا "خودکشی" کے مترادف ہوگا۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا اسرائیل کے اثر و رسوخ کا دائرہ سکڑ جائے گا یا فلسطین، لبنان اور شام پر اس کے حملے مزید شدت اختیار کریں گے؟ اور کیا امریکہ اور یورپ یہ سمجھ پائیں گے کہ اسرائیل کی حمایت کر کے وہ اپنے ہی اثر و رسوخ اور علاقوں سے محروم ہو جائیں گے جو ان کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا ترکیہ اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے اسرائیل کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات امریکہ اور یورپ کو کوئی پیغام دینے کے لیے کافی ہوں گے؟ یا وہ اسی اندھے پن میں گرفتار رہیں گے جو انہیں دنیا سے محروم کر دے گا اور وہ "اسرائیل کا بوجھ" اٹھاتے رہ جائیں گے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا امریکہ یہ محسوس کرنے کے بعد کہ اسرائیل کے ذریعے خطے کو تشکیل دینا اب ممکن نہیں رہا، ترکیہ کی قیادت میں بننے والے جغرافیائی نقشے کو اپنے مفادات کے لیے زیادہ موزوں سمجھے گا؟ کیا وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک "محدود علاقے میں قید ملک" کی شبیہ سے نکل سکے گا؟ کیا وہ نظریاتی انتہا پسندی سے آزاد ہو سکے گا؟</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا نئی علاقائی شراکت داری امید کی کرن بن سکتی ہے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا ترکیہ، شام، عراق، سعودی عرب، مصر اور پاکستان جیسے ممالک کے درمیان سیکیورٹی شراکت داری خطے اور بیرونی مداخلت کرنے والوں کو ایک نئی حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور کر دے گی؟ چاہے وہ دل سے ایسا نہ بھی چاہتے ہوں، کیا وہ اسے نئی عالمی حقیقت کے طور پر قبول کریں گے اور اس سمت میں اقدامات لینا شروع کریں گے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے خطے میں بالکل نئی حقیقتیں پیدا کر دی ہیں۔ تمام ممالک کے مؤقف ازسرِنو متعین ہو رہے ہیں۔ تمام ممالک کے امریکہ اور یورپ کے ساتھ تعلقات دوبارہ تشکیل پائیں گے۔ اسرائیل کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا تمام ممالک کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ اسٹیٹس کو ختم ہو چکا ہے۔ اسرائیل کے ترجیحی علاقائی نقشہ سازی کے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور یورپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا علاقائی اسٹیٹس کو ختم ہو چکا ہے۔ یورپ، امریکہ اور اسرائیل کی برتری پر مبنی جو طاقت کا نقشہ ترتیب دیا گیا تھا، وہ اب بکھر چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مغرب کے مقابلے میں احساسِ کمتری اور کمتر ہونے کا احساس ختم ہو چکا ہے۔ خطہ اپنی پرانی طاقت دوبارہ حاصل کر رہا ہے اور ایک ایسی سرزمین میں تبدیل ہو رہا ہے جو باہر سے مسلط کی جانے والی ہر قسم کی صف بندی کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور یورپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ اسرائیل کو استعمال کرکے حکومتوں اور ممالک کو ڈرانے اور تابع رکھنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں "امریکہ اور یورپ کیا کہیں گے؟" کا خوف ختم ہو چکا ہے۔ امریکی اور یورپی ہتھیاروں کے ذریعے ممالک پر حملہ کرنے، انہیں تقسیم کرنے اور دہشت گرد تنظیموں کو ان کی تادیب کے لیے استعمال کرنے کی تاریخ ختم ہو چکی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ دور بھی ختم ہو چکا ہے جس میں امریکہ اور یورپ، ترکہ اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات اسرائیل کے ذریعے قائم کرتے تھے اور اسرائیل کو ترجیح دینے والا علاقائی ڈیزائن تشکیل دیتے تھے۔ اب اس حوالے سے کوئی قوت باقی نہیں رہی۔ اب سے جب تک اسرائیل موجود رہے گا، امریکہ اور یورپ اس کی قیمت چکائیں گے اور وہ قیمت بہت بھاری ہوگی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کو ترکیہ کے ساتھ میز پر بیٹھنا ہوگا! وہ تمام میزیں جہاں اسرائیل موجود تھا، اب منہدم ہو چکی ہیں۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر وہ اب بھی خطے میں اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ترکیہ، عرب ممالک اور ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ اگر وہ انہیں نظر انداز کرکے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری رکھتے ہیں تو وہ ہمیشہ کے لیے ہار جائیں گے۔ ایک ایسے دور میں جب صرف خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا "اسرائیلی اضافے" کا بوجھ اٹھا رہی ہے، اس "چھاؤنی" کو بند کرنا سب کا مشترکہ مفاد بن چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ جو بھی طریقہ اختیار کریں، جب تک اسرائیل کے ساتھ اسی راستے پر چلتے رہیں گے، وہ ہارتے رہیں گے۔ یہ ناگزیر ہے۔ جب ترکیہ کی بیداری اور اس جغرافیے کی بیداری زمین کے محور پر ایک عظیم طوفان میں تبدیل ہو رہی ہے جو بحرِ اوقیانوس کے ساحلوں سے لے کر بحرالکاہل کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی ہے، تو ان کا "پرانی کہانیوں" پر اصرار شاید مغربی عالمی غلبے کے لیے سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">زوال، سرپرستی اور تباہی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب وہ نقشے نہیں بنا سکیں گے…</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمارے خطے کے لیے تباہی، زوال اور سرپرستی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ممالک کو ان کے رہنماؤں اور حکومتوں کو خرید کر تابع بنانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ تشدد کی دھمکیوں اور اسرائیل کے خوف کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کسی خطے کے وسائل، دولت، حکومتوں اور سرزمین کا استحصال کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ مغربی تہذیب کی دو سو سالہ بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ہم ایک ایسے تاریخی دور کے اختتام پر پہنچ چکے ہیں جس میں طاقت، دفاع، آزادی، خودمختاری اور قومی سرحدوں کا تعین مغرب کرتا تھا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">"نئی چیزیں" ہمارے ملک میں پھل پھول رہی ہیں۔ وہ "پرانی دنیا" کے نمائندے ہیں۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم ایک نئی دنیا میں بیدار ہو چکے ہیں، لیکن وہ نہیں ہوئے۔ ہم نے خود کو ایک نئی طاقت کے لیے وقف کر دیا ہے جب کہ وہ اپنی طاقت کھونا شروع ہو چکے ہیں۔ ہم ایک وسیع تر جغرافیائی نقشے پر غور کر رہے ہیں جب کہ وہ اب بھی پرانے نقشوں کو روند رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پانچ سو سال بعد ہم دنیا کے نئے طاقت کے نقشے کے مرکز میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ وہ صرف اپنی موجودہ حیثیت بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں نئی چیزیں جنم لے رہی ہیں جب کہ وہ ایک فرسودہ دنیا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انسانیت نے بحرِ اوقیانوس کی صدیوں پر محیط بالادستی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا ہے جب کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے اندر مزید سمٹتے جا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر وہ صرف ترکیہ کو سمجھ سکتےتو یہ بھی کافی ہوتا۔ لیکن اس کے بجائے وہ اپنے غرور، ہتھیاروں، دولت اور ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتے ہوئے طاقت کے نشے میں مبتلا ہو گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے ترکیہ کو نظر انداز کیا۔ حالاں کہ ترکیہ ایک ایسی سیاسی جینیاتی ساخت رکھتا تھا جو جغرافیہ کو تشکیل دیتی ہے۔ ایک سو سال تک وہ ترکیہ کو اپنی گرفت میں رکھنے کے عادی رہے۔ حالانکہ ترکیہ ایک ایسے طاقتور نقشے کا وارث تھا جو دیوارِ چین سے لے کر ویانا تک پھیلا ہوا تھا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ ترکیہ کو روک نہ سکے مگر اب جلد ہی اسے روکنے کی کوشش کریں گے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اور اب ایک صدی بعد، ترکیہ اپنے نقشے، اپنی تاریخ اور اپنے سیاسی ڈی این اے کی طرف واپس آ چکا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری واپسی صدیوں کا رخ بدل دیتی ہے۔ جو لوگ اسے محض بیان بازی سمجھتے ہیں، وہ سلطنتوں کی تاریخ کو یاد نہیں رکھتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم اس وقت تاریخ کے اسی موڑ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ صرف ہم ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ بھی اسے دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ بیس سال ترکیہ کو "روکنے" کے لیے اندرونی اور بیرونی حملے ہوتے رہے لیکن وہ سب ناکام ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ ترکیہ کی رفتار بھی کم نہ کر سکے۔ اس لیے اب صرف ایک راستہ بچا ہے: ترکیہ کے قریب رہنا۔ میرا ماننا ہے کہ اب امریکہ اور یورپ اپنی کلیدی پالیسیوں میں ترکیہ کے قریب رہنے کو ترجیح دیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اور اس جغرافیے میں ترکیہ کی ترجیحات، جغرافیہ اور تاریخ کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر، اور شراکت داری کا وہ نقشہ جسے وہ قائم کرنا چاہتا ہے، سب سے اہم ہوں گے۔ کوئی بھی اسے روک نہیں سکے گا۔ جو اسے روکنے کی کوشش کریں گے وہ نقصان اٹھائیں گے اور جو ترکیہ کے ساتھ چلیں گے وہ طاقت حاصل کریں گے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">"اسرائیلی چھاؤنی ختم کی جائے گی اور جنگوں کو جغرافیے سے باہر دھکیل دیا جائے گا"</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمارے نئے جغرافیائی خطے میں "اسرائیلی چھاؤنی" ایک خطرہ ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے۔ تمام دہشت گرد تنظیمیں اسرائیل اور مغرب سے جنم لیتی ہیں اور ان سب کو ختم کیا جانا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملکوں پر حملہ کرنے اور علاقوں پر قبضہ کرنے کا دور ختم کر دیا جائے گا۔ جنگوں اور تنازعات کو یقینی طور پر جغرافیائی حدود سے باہر دھکیل دیا جائے گا۔ فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات کو جنگوں میں تبدیل کرنے والے تمام راستے بند کر دیے جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمارے جغرافیائی ڈیزائن میں آبنائے ملاکا سے نہر سویز تک، خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک، آبنائے داردانیلز اور باسفورس سے مشرقی بحیرہ روم اور بحیرہ اسود تک، اور زمینی تجارتی راہداریوں سے سمندری گزرگاہوں تک، تمام علاقوں کو بیرونی مداخلت اور کنٹرول سے محفوظ رکھا جائے گا۔ یہ تمام خطے علاقائی ممالک کے مکمل کنٹرول اور خودمختاری کے تحت ہوں گے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">"نئے جغرافیے" کو ایک سپر نسل درکار ہے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئے جغرافیائی ڈیزائن میں وسطی ایشیا سے مشرقی افریقہ تک اور جنوبی ایشیا سے پورے مغربی ایشیا تک پھیلا ہوا ایک سپر بیلٹ اور مڈل بیلٹ معاشی خطہ قائم کیا جائے گا۔ اس خطے کو مغربی مداخلت اور قبضے کے نقشوں سے نکال دیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دانش مند شہروں کے تجربے اور تاریخ کو، جو بعض اوقات ریاستوں سے بھی بڑھ کر رہے ہیں، آج کے دور تک منتقل کیا جائے گا۔ اس وسیع علاقے میں مشترکہ دفاعی وسائل تشکیل دیے جائیں گے اور اس جغرافیے کی دولت خود اسی جغرافیے کے لوگوں کی ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ، پاکستان، مصر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا ایک نیا جال جو دیگر ممالک کی بھی گہری توجہ حاصل کر رہا ہے، اس نئے عالمی نظام کا بنیادی مرکز بن سکتا ہے۔ اگر سیاسی ارادہ اس ہدف کو حاصل نہ کر سکا تو خطرات اور دنیا کے نئے طاقت کے توازن اسے مجبور کر سکتے ہیں۔ خطے کے طاقتور ممالک کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ کو اسرائیل کی سرحدوں پر اپنی موجودگی قائم کرنی چاہیے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اسرائیل جس کے پاس اپنی کوئی حقیقی طاقت نہیں، ترکیہ اور مصر دونوں کے لیے خطرہ ہے اور اسی طرح سعودی عرب کے لیے بھی خطرہ بنے گا۔ پورے اس وسیع خطے کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ اسرائیل کو نقشے سے ہٹا دیا جائے، کیونکہ مستقبل کا کوئی اور منظرنامہ ان ممالک کو سلامتی فراہم نہیں کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ، شام، عراق اور لبنان کے درمیان فوری طور پر ایک مشترکہ دفاعی ڈھال قائم کی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر شام اور لبنان کے درمیان قربت، بلکہ شراکت داری فوری طور پر قائم کی جانی چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ کو شام اور لبنان دونوں کے ذریعے اسرائیل کی سرحدوں پر اپنی موجودگی قائم کرنی چاہیے۔ اسرائیل کی بحیرہ روم کے علاوہ تمام زمینی سرحدوں کو محدود کرنے کے لیے ترکیہ کے پاس بڑے اقدامات اٹھانے کا وقت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">عثمانیوں نے بازنطینیوں کو شکست دے کر ایک دور بدل دیا۔ ترکیہ دوسری بار دور بدلتے ہوئے اسرائیل کو ختم کرے گا</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چاہے امریکہ اور ایران سوئس مذاکرات میں کسی معاہدے تک پہنچیں یا نہ پہنچیں، خطے کے لیے تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہو چکا ہے۔ آگے کا راستہ تبدیل نہیں ہوگا۔ خطے اور اس کی اقوام کی تقدیر متعین ہو چکی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اس راستے پر چلیں جو ہمارے سامنے کھل چکا ہے، غیر یقینی صورت حال کے سامنے سرنگوں ہوئے بغیر۔ یہ تاریخ کا ایک نیا موڑ ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سلطنتِ عثمانیہ نے بازنطین کو شکست دے کر ایک دور کو بدل دیا تھا۔ اس نے کرسچین دنیا کی عظیم سلطنت کو تباہ کر دیا تھا جس سے یورپ اور عالمی تاریخ دونوں تبدیل ہو گئیں۔ ترکیہ بھی جغرافیہ کے نقشے سے اسرائیل کو ہٹا کر دوسری بار تاریخ اور دور کو بدل دے گا۔ اس بار یہودی نسل سے تعلق رکھنے والی وہ "چوکی" جو ہماری جغرافیائی سرزمین کے دل میں بنائی گئی اور جس نے خوفناک تباہیوں کو جنم دیا، ختم کر دی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاریخ کو کبھی کم مت سمجھو۔ اقوام کی سیاسی جینیات کو کبھی کم مت سمجھو۔ جغرافیے کی طاقت کو کبھی کم مت سمجھو۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ جغرافیے کے اندرونی تنازعات کو جغرافیے سے باہر لے جائیں۔ باقی سب خود بخود ہو جائے گا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہر کسی کے لیے اب "درست اندازے" لگانے کا وقت آ گیا ہے!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوئٹزرلینڈ میں کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ واضح نہیں ہے۔ ایک معاہدہ ہو سکتا ہے، یا اسرائیل اسے سبوتاژ کر سکتا ہے۔ جو بھی ہو، امریکہ اور یورپ اب اسرائیل کی حمایت کا بوجھ برداشت نہیں کر سکیں گے، اور نہ ہی اس کے لیے خطے کے تمام ممالک کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئے علاقائی طاقت کے نقشے کی شکل واضح ہو چکی ہے۔ یہ طوفان سینکڑوں سال تک جاری رہے گا۔ ہم یقیناً اپنے حساب کتاب کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے لیے بھی اب اپنے حساب کتاب کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو وہ اس دنیا کو مزید تیزی سے کھو دیں گے جو وہ پہلے ہی کھو رہے ہیں، اور اس خطے میں ان کی طاقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2898</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/26362da8-amrh-w-n-e-d-e-syl-chhw-kht-j-ghf-n-sh-th-bzt-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:51:08 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>یورپی یونین کا اہم بیان: 'ترکیہ کے بغیر رابطہ کاری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا'</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2897</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2897" rel="standout" />
      <description>یورپی یونین کی توسیع سے متعلق کمشنر مارٹا کوس نے کہا ہے کہ ترکیہ رابطہ کاری کے معاملات میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور انقرہ کے بغیر اس منصوبے کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برسلز میں کنیکٹیویٹی ایجنڈا پلیٹ فارم کی اعلیٰ سطحی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مارٹا کوس نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ترکیہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر عبدالقادر اورال اوغلو بھی اجلاس میں شریک ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ یورپی یونین ترکیہ کے ساتھ اپنے روابط جاری رکھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آج ترک حکام سے ملاقات کریں گی جب کہ رواں ماہ کے آخر میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس اور داخلی امور و ہجرت کے کمشنر میگنس برونر کے ہمراہ انقرہ کا دورہ بھی کریں گی۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/6d9bea8a-wrp-n-a-hm-b-t-e-gh-t-s-h-n-j-s.webp" data-card-width="1199" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/23/6d9bea8a-wrp-n-a-hm-b-t-e-gh-t-s-h-n-j-s.webp" data-card-caption="مارٹا کوس کی ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان کے ہمراہ ایک تصویر (فائل فوٹو)"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'میں ترکیہ کے بغیر اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مارٹا کوس کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین اور ترکیہ کے تعلقات اس وقت دو مختلف سمتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ ترکیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کے عمل میں فی الحال کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی تاہم رابطہ کاری ایجنڈا کے حوالے سے بہت کام کیا جانا باقی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ 'میں ایک مضبوط مڈل کوریڈور کے ساتھ ڈیجیٹل، توانائی اور تجارتی روابط کا تصور ترکیہ کی مضبوط شمولیت کے بغیر نہیں کر سکتی۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مارٹا کوس نے بتایا کہ ترکیے کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ممکنہ کنیکٹیویٹی منصوبوں کی ایک فہرست موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا جائزہ دیگر ممالک کی تجاویز کے ساتھ لیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے کام جاری ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2897</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/15b2dcff-wrp-n-a-hm-b-t-e-gh-t-s-h-n-j-s.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 12:34:01 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ کی ایران کے لیے پابندیوں میں نرمی، اگر معاہدے کی پاسداری نہ کی تو جو ضروری ہوا وہ کروں گا: ٹرمپ کی تنبیہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2895</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2895" rel="standout" />
      <description>امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت تہران پر عائد بعض پابندیاں 60 روز کے لیے اٹھا لی ہیں جب کہ ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ایران نے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی کی تو 'جو ضروری ہوا، وہ کریں گے۔'</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کو ایران کے لیے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا جو 21 اگست تک جاری رہیں گی۔ اس استثنیٰ کے تحت تہران کو تیل اور اس سے متعلقہ مصنوعات فروخت کرنے اور ان کی ادائیگیاں وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی آمد و رفت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران ہتھیاروں کے معائنے کی اجازت دے گا تاکہ جوہری معاملات پر شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے یہ تنبیہ کی کہ 'اگر ایران اپنے معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا یا مناسب رویہ اختیار نہیں کرتا تو میں وہی کروں گا جو ضروری ہوگا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کے لیے پابندیوں میں نرمی، بیرون ملک منجمد اثاثوں کے ایک حصے تک رسائی اور ایران کی تعمیر نو اور ترقی کے منصوبے کے آغاز کو یقینی بنایا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ادھر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایک طریقہ کار کے تحت امریکہ اور قطر منجمد ایرانی فنڈز کے اجرا کے بعد ان پر نگرانی رکھیں گ، جب کہ یہ رقم امریکہ سے مکئی، سویا بین اور گندم کی خریداری پر خرچ کی جا سکے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا جو رقم ہم جاری کریں گے، وہ ہمارے ہی کسانوں تک پہنچے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ ایسی کوئی شرط موجود نہیں اور منجمد فنڈز کے کم از کم ایک حصے کو دیگر غیر پابندی زدہ اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات نے حتمی امن معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ تاہم ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت شروع کر دی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ اسرائیل اس امن معاہدے کا فریق نہیں ہے لیکن اس نے جمعہ کے روز لبنان میں ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کی رات سے لڑائی میں واضح کمی آئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی سیکیورٹی زون برقرار رکھے گا اور اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو لاحق خطرات کو 'ختم' کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے تکنیکی سطح کے مذاکرات اب بھی سوئٹزرلینڈ میں جاری ہیں جو پورا ہفتہ جاری رہنے کا امکان ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2895</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/7bb14160-amrh-n-e-l-pbdwn-e-s-t-j-d-t-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 10:47:26 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>قطر کے راس لفان گیس کمپاؤنڈ میں دھماکے سے 13 افراد ہلاک، تمام افراد انڈین یا پاکستانی شہری تھے</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2894</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2894" rel="standout" />
      <description>قطر کے راس لفان کیس کمپاؤنڈ میں گزشتہ روز ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 تک پہنچ گئی ہے اور یہ تمام افراد انڈین یا پاکستانی شہری ہیں۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قطر کے وزیر مملکت برائے توانائی سعد الکابی نے پیر کو اپنے بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ راس لفان کے ایل این جی کمپاؤنڈ میں دھماکہ 'تیکنیکی خرابی' کی وجہ سے ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ کوئی تخریب کاری یا حملہ نہیں بلکہ صرف ایک حادثہ تھا جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیر مملکت نے کہا کہ واقعے میں 13 افراد کی جانیں گئیں جو پاکستانی یا انڈین شہریت رکھتے تھے۔ ان کے بقول 66 افراد زخمی ہیں جنہیں علاج کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں قطر، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، کینیا، گھانا، تنزانیہ، نائجیریا اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب قطر میں انڈین سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ ان کے 12 شہری راس لفان واقعے میں ہلاک ہوئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں صرف ایک پاکستانی ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/8d5603f5-qtr-e-as-lfn-mpwd-n-dh-13-h-t-sh-.webp" data-card-width="1245" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/23/8d5603f5-qtr-e-as-lfn-mpwd-n-dh-13-h-t-sh-.webp" data-card-caption="راس لفان کی تنصیب"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">راس لفان بندرگاہ دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی بندرگاہ ہے اور یہاں ایل این جی برآمد کرنے کی دنیا کی سب سے بڑی سہولت موجود ہے۔ اس سال کے اوائل میں یہ ایرانی حملوں کا نشانہ بھی بنی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیرِ توانائی نے کہا کہ دسمبر 2025 سے دیکھ بھال کی ہنگامی ضروریات کے باعث پلانٹ کی پیداوار مکمل طور پر بند کی گئی تھی اور اسے صرف دو دن قبل ہی دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا تعین کرنا مشکل ہو گا کہ یہاں کام دوبارہ کب شروع ہو گا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2894</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/4917264a-qtr-e-as-lfn-mpwd-n-dh-13-h-t-sh-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 10:21:02 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>یورپی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں ہیٹ ویو کے دوران کم از کم 18 افراد ہلاک</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2893</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2893" rel="standout" />
      <description>فرانس میں جاری گرمی کی شدید لہر نے کم از کم 18 جانیں لے لی ہیں جن میں دو ایسے کمسن بچے بھی شامل ہیں جو کار میں موجود تھے اور شدید درجۂ حرارت کی وجہ سے جان سے گئے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فرانس ان یورپی ملکوں کا حصہ ہے جو ہیٹ ویو کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی یورپی شہروں میں گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">موسم کی شدت کے پیش نظر فرانس میں اسکولوں میں یا تو اوقاتِ کار تبدیل کیے گئے ہیں یا پھر کئی اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کو فرانسیسی شہر بورڈو میں درجۂ حرارت 41.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا جو اس علاقے میں گرمی کا نیا ریکارڈ تھا۔ ایک اور فرانسیسی شہر پواٹیے میں پارہ 41.2 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جس نے 1947 کا ریکارڈ توڑا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو بچے ایک گاڑی میں ہلاک ہو گئے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فرانس میں ایک خاتون نے اپنے دو بچوں کو بے ہوشی کی حالت میں اپنی کار میں پایا۔ ان بچوں کی عمریں دو اور چار برس تھیں۔ گاڑی گھر کے باہر کھڑی تھی جس کی وجہ سے اس میں شدید گرمائش تھی اور بچے اس کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے علاوہ تین معمر افراد بورڈو کے علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق ان کی موت گرمی کی وجہ سے صحت کی پیچیدگیاں پیدا ہونے سے ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اتوار اور پیر کو 13 افراد سوئمنگ کرتے ہوئے ڈوب کر بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ فرانس کی سول سیفٹی سروس کے ترجمان نے ہدایت کی ہے کہ صرف ان جگہوں پر سوئمنگ کریں جو مختص کی گئی ہیں۔ فرانس میں گزشتہ سال ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی شرح میں 172 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/ab3222b6-wrp-mal-shd-t-n-fns-h-e-z-18-.webp" data-card-width="1199" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/23/ab3222b6-wrp-mal-shd-t-n-fns-h-e-z-18-.webp" data-card-caption="پیرس میں لوگ ایک تالاب میں نہا رہے ہیں"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب اسپین کا علاقہ سین سیبیسٹین جو عموماً سرد رہتا ہے، یہاں بھی درجۂ حرارت 40 ڈگری تک پہنچ رہا ہے جب کہ برطانیہ کے ماہرینِ موسمیات بھی اس ماہ گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اٹلی نے پیر کو اپنے 12 شہروں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیے ہیں جو ہیٹ ویو سے متاثر ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک عالمی موسمیاتی ادارے کی اپریل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ باقی دنیا سے دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانیہ میں گرمی 1976 کا ریکارڈ توڑ سکتی ہے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانیہ کے محکمۂ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ چار روزہ جاری ہیٹ ویو کے دوران کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 39 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے جو 1976 میں جون کی گرمی کا ریکارڈ توڑ دے گا۔ برطانیہ میں 1957 اور 1976 میں جون کے مہینے میں 35.6 ڈگری تک گرمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2893</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/198db396-wrp-mal-shd-t-n-fns-h-e-z-18-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 10:12:18 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیئر اسٹارمر مستعفی، برطانیہ کا نیا وزیرِ اعظم کیسے منتخب ہوگا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2892</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2892" rel="standout" />
      <description>برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے پیر کو اعلان کر دیا ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ نئے وزیرِ اعظم کا انتخاب پارلیمنٹ کا وقفہ ختم ہونے کے بعد ستمبر میں ہوگا۔ تب تک کیئر اسٹارمر ہی وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئے وزیرِ اعظم کا انتخاب کیسے ہوگا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو بھی امیدوار اسٹارمر کی جگہ وزیرِ اعظم بننا چاہے، اسے پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے 20 فیصد اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔ اس وقت لیبر پارٹی کی ایوان میں 403 نشستیں ہیں، اس حساب سے 81 اراکین کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امیدواروں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لیبر پارٹی کی نچلی سطح کی تنظیموں اور وابستہ اداروں، جیسے ٹریڈ یونینز وغیرہ کی جانب سے مقررہ حد تک حمایت حاصل کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یعنی صرف پارلیمانی ارکان کی حمایت کافی نہیں ہوگی بلکہ امیدوار کو پارٹی کے مقامی ڈھانچے اور مزدور یونینز سمیت دیگر وابستہ تنظیموں کی جانب سے بھی مطلوبہ تعداد میں تائید حاصل کرنا ہوگی۔ تاکہ وہ قیادت کے انتخاب میں باضابطہ طور پر حصہ لے سکے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">فاتح کا تعین کون کرے گا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر ایک سے زیادہ اراکین حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان میں سے فاتح کا اعلان ووٹنگ کے ذریعے ہوگا۔ ووٹنگ میں لیبر پارٹی اور ان کے اتحادی حصہ لیں گے اور جو زیادہ ووٹ حاصل کرے گا، وہ اگلا وزیرِ اعظم بنے گا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس عمل میں کتنا وقت لگے گا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گو کہ ٹائم لائن پارٹی کی گورننگ باڈی طے کرتی ہے، تاہم اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ نامزدگیاں جمع کرانے کا عمل نو جولائی سے شروع ہو جائے گا اور 16 جولائی کو پارلیمنٹ کے وقفے پر جانے تک جاری رہے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ اگر امیدوار ایک سے زیادہ ہوتے ہیں اور بات مقابلے پر جاتی ہے تو یہ تمام عمل یکم ستمبر کو پارلیمنٹ کا وقفہ ختم ہونے کے بعد مکمل ہو جائے گا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر ایک ہی امیدوار ہوا تو کیا ہوگا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر وزارتِ عظمیٰ کے لیے صرف ایک ہی امیدوار مقررہ حمایت حاصل کر پاتا ہے تو ووٹنگ نہیں ہوگی۔ وہ امیدوار بلا مقابلہ منتخب قرار پائے گا اور برطانیہ کا اگلا وزیر اعظم ہوگا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2892</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/a9f1d1c4-yr-astm-tef-btnh-wz-z-e-kh-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 13:37:30 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کا مستعفی ہونے کا اعلان، لیبر پارٹی کی قیادت سے بھی دست بردار</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2891</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2891" rel="standout" />
      <description>برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے پیر کو اپنی ایک پریس کانفرنس میں وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا اور حکمران جماعت لیبر پارٹی کی قیادت بھی چھوڑ دی ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سر کیئر اسٹامر نے کہا کہ ان کا ہر فیصلہ اپنے ملک کے لیے ہوتا ہے۔ اسٹارمر کا کہنا تھا کہ 'ان کی جماعت یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا اگلے عام انتخابات میں قیادت کے لیے وہ بہترین انتخاب ہیں یا نہیں اور میں نے اپنی پارٹی کا جواب سن لیا ہے جسے میں خوش دلی سے قبول کرتا ہوں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسٹارمر نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی سے کہیں گے کہ وہ قیادت کے انتخاب کا ٹائم ٹیبل طے کرے جس کے تحت 9 جولائی سے امیدواروں کی نامزدگی کے عمل کا آغاز ہوگا اور یہ عمل گرمیوں کی پارلیمانی تعطیلات سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/6ae906f8-brtanw-z-ezm-y-st-tf-he-l-p-qd-h-.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/22/6ae906f8-brtanw-z-ezm-y-st-tf-he-l-p-qd-h-.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا 'اگر قیادت کے لیے مقابلہ ہوا تو اس سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ پارلیمنٹ کے ستمبر میں دوبارہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے نئی قیادت اپنی ذمے داریاں سنبھال لے۔ میں اس انتخابی عمل کے مکمل ہونے تک وزیرِ اعظم کے عہدے پر برقرار رہوں گا اور اقتدار کی منظم اور ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سر اسٹامر کے مستعفی ہونے کا مطلب ہے کہ برطانیہ کو چار برس میں اب پانچواں نیا وزیرِاعظم ملے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رواں برس مئی میں برطانیہ میں مقامی کونسلز کے انتخابات ہوئے تھے جس میں کیئر اسٹارمر کی قیادت میں حکمران جماعت لیبر پارٹی تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/bb9b7dbc-brtanw-z-ezm-y-st-tf-he-l-p-qd-h-.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/22/bb9b7dbc-brtanw-z-ezm-y-st-tf-he-l-p-qd-h-.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان نتائج نے برطانوی سیاست میں بھونچال کھڑا کر دیا تھا اور اس کے بعد سے کیئر اسٹارمر سے مستعفی ہونے کے مطالبات کیے جا رہے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود کیئرا سٹامر نے اس وقت استعفی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 'میں ملک کو افراتفری کی صورتِ حال میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا اور اپنی پانچ سالہ مدت پوری کروں گا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم پیر کو انہوں نے بالآخر استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا اور ایک موقع پر فرط جذبات سے ان کی آنکھوں میں آنسو بھی آ گئے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2891</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/dcaa0234-brtanw-z-ezm-y-st-tf-he-l-p-qd-h-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 12:45:07 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>میرے والد کو قید نہیں کیا جا سکتا: راشد غنوشی کی بیٹی کی ینی شفق سے گفتگو</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2890</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2890" rel="standout" />
      <description>تیونس کی ایک سیاسی جماعت 'النهضہ موومنٹ' کے رہنما راشد الغنوشی کو سنائی گئی عمر قید کی سزا پر بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے جب کہ ان کی بیٹی سمیہ غنوشی نے ینی شفق سے گفتگو کرتے ہوئے اسے سیاسی بنیادوں پر دی گئی سزا قرار دیا ہے۔ سمیہ الغنوشی کا کہنا ہے کہ ان کے والد پر مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'میرے والد کی صحت اچھی ہے، میرے والد کو دبایا نہیں جا سکتا اور ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔'</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیونس میں موجودہ صدر قیس سعید کی حکومت، جس نے 25 جولائی 2021 سے ملک کی جمہوری کامیابیوں کو ختم کرنے کا عمل شروع کیا تھا، اب آمریت کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ حال ہی میں النهضہ موومنٹ کے رہنما اور پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر راشد الغنوشی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جس کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">84 سالہ غنوشی کو 'النهضہ کی خفیہ تنظیم' کے نام سے مشہور مقدمے میں عمر قید کی سزا دی گئی جب کہ متعدد دیگر سیاستدانوں کو بھی سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ غنوشی کی بیٹی سمیہ غنوشی نے ینی شفق سے گفتگو میں اپنے والد کی صحت کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'میرے والد کی میراث زندہ رہے گی'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سمیہ غنوشی نے بتایا کہ ان کے 84 سالہ والد کو پارکنسن کی بیماری ہے جس کا اثر ان کے دائیں ہاتھ پر ہے۔ تاہم ابھی اس بیماری کی شدت کم ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد، جنہیں اس عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا، جیل میں قید ہیں مگر ان کے حوصلے بلند ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سمیہ کا کہنا تھا کہ 'میرے والد کمزوری یا ہتھیار ڈالنے کو نہیں جانتے۔ انہوں نے بورقیبہ حکومت کے خلاف مزاحمت کی اور پھر بن علی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ آج دونوں حکومتیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں لیکن غنوشی اور ان کی نمائندگی کرنے والی اقدار آج بھی قائم ہیں۔ قیس سعید کی حکومت بھی ایک دن ختم ہو جائے گی مگر غنوشی کی میراث زندہ رہے گی۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'یہ مکمل طور پر سیاسی مقدمہ ہے'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سمیہ غنوشی نے تیونس کے سیاسی ماحول کے بارے میں بھی اہم باتیں کیں اور موجودہ صورتِ حال کا موازنہ ترکیہ میں اے کے پارٹی اور اس کی سیاسی روایات کو درپیش مشکلات سے کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ 'راشد الغنوشی اور النهضہ موومنٹ پر خفیہ تنظیم کے الزامات مکمل طور پر سیاسی مقاصد کے لیے گھڑے گئے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ میرے والد کئی برسوں سے اعتدال اور تحمل کی علامت رہے ہیں۔ نام نہاد خفیہ تنظیم کا الزام حقیقت سے زیادہ سائنس فکشن لگتا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا 'یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب سپریم جوڈیشل کونسل کو تحلیل کر دیا گیا اور سیاسی شخصیات کے مقدمات سننے کے لیے خصوصی جج مقرر کیے گئے۔ یہ پورا مقدمہ سیاسی مقاصد کے تحت تیار کیا گیا۔ اسی وجہ سے میرے والد نے تفتیشی عمل کا بائیکاٹ کیا اور عدالت میں پیش ہونے سے انکار کیا۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">آزادی، انصاف اور وقار</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سمیہ غنوشی نے کہا کہ 'تیونس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ترکیہ میں ماضی کی فوجی مداخلتوں اور جمہوریت مخالف اقدامات کی یاد دلاتا ہے۔ میرے والد کا ماننا ہے کہ آزادی اور اسلام کا وہ منصوبہ جس کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کی، آج بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سمیہ کے بقول 'میرے والد سمجھتے ہیں کہ آمریت کبھی کوئی بھلائی نہیں لا سکتی اور اتحاد کی بنیاد آزادی، انصاف، وقار اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے اصولوں پر ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک آزادی ایک عالمی قدر ہے جسے پوری انسانیت کی مشترکہ بھلائی کے لیے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2890</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/994087dc-mre-wald-q-nhn-j-st-sh-gh-bt-f-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 12:06:53 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ - ایران مذاکرات: سوئٹزرلینڈ میں میں کیا پیش رفت ہوئی اور اعلامیے میں کیا کہا گیا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2889</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2889" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے پر پہنچنے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا دور سوئٹزرلینڈ میں اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بات چیت کا عمل سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں واقع برگن اسٹاک ریزورٹ میں اتوار کو شروع ہوا تھا جو پیر کی صبح تک جاری رہا۔ پاکستان اور قطر کی جانب سے بطور ثالث ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں  اب تک ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران نے حتمی معاہدے پر پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے جب کہ تیکنیکی مذاکرات برگن اسٹاک میں پورے ہفتے جاری رہیں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اعلامیے میں درج ہے کہ بات چیت ایک مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی جب کہ مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک طریقہ کار کے قیام سمیت حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔ فریقین نے مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو ثالثی کے عمل کے لیے سیاسی نگرانی فراہم کرے گی۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/cce67663-amrh-n-dht-swytzld-n-psh-f-e-e-s-a-.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/22/cce67663-amrh-n-dht-swytzld-n-psh-f-e-e-s-a-.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">'مرکزی مذاکرات کار باقاعدگی سے اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے اور جوہری امور، پابندیوں اور مفاہمتی یادداشت کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے اور دیگر امور پر بھی کام کریں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اعلامیے کے مطابق ’اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے جو مزید تیکنیکی مذاکرات کے فوری آغاز کی بنیاد فراہم کرے گا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اعلامیے کے مطابق دونوں فریقین نے لبنان میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک طریقہ کار پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کے محفوظ انخلا کو یقینی بنانے کے لیے فریقین کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ بھی قائم کیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں ایک ڈی کنفلیکشن سیل (تنازع کم کرنے والا سیل) بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے، یہ سیل فریقین کے درمیان، لبنان کے ساتھ اور ثالثوں کی معاونت سے قائم کیا جائے گا تاکہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/43a2512c-amrh-n-dht-swytzld-n-psh-f-e-e-s-a-.webp" data-card-width="1199" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/22/43a2512c-amrh-n-dht-swytzld-n-psh-f-e-e-s-a-.webp"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">عباس عراقچی نے کیا کہا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ 'پاکستان اور قطر کی ان تھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔' </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایکس پر جاری اپنے بیان میں عراقچی کا کہنا تھا کہ 'اس پیش رفت کے تحت تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی دی گئی ہے، ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے، منجمد اثاثوں کا ایک حصہ جاری کر دیا گیا ہے جب کہ ایران کے لیے ایک بڑے تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبے کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ 'اس عمل کا پہلا حقیقی امتحان لبنان میں قائم کیے جانے والے ’ڈی کنفلیکشن سیل‘ کی کارکردگی کا ہوگا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے خاتمے کے بعد فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/aa37d7c1-amrh-n-dht-swytzld-n-psh-f-e-e-s-a-.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/22/aa37d7c1-amrh-n-dht-swytzld-n-psh-f-e-e-s-a-.webp"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مذاکرات سے پہلے کیا ہوا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اتوار کو باضابطہ مذاکرات شروع ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے امریکی ٹی وی 'فاکس نیوز' نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی حکام سے کہا ہے کہ 'اگر تم نے دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو تمہارا ملک نہیں بچے گا۔' فاکس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے اپنی دھمکی بھی دہرائی کہ امریکہ اس آبی گزرگاہ کا کنٹرول سنبھال لے گا اور ممکنہ طور پر وہاں سے گزرنے پر اپنا ٹول ٹیکس بھی عائد کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے مفاہمتی یادداشت پر اس لیے اتفاق کیا تاکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی بلند قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والے عالمی معاشی بحران کو روکا جا سکے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا کہ جب ٹرمپ کی دھمکیاں منظر عام پر آئیں تو ایرانی وفد نے مذاکراتی کمرے میں واپس جانے سے انکار کر دیا۔ اگرچہ پاکستانی اور قطری ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/8983bded-amrh-n-dht-swytzld-n-psh-f-e-e-s-a-.webp" data-card-width="1199" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/22/8983bded-amrh-n-dht-swytzld-n-psh-f-e-e-s-a-.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تسنیم نے ذریعے کے حوالے سے کہا کہ ایرانیوں نے واضح کیا کہ جوہری معاملات پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت کے دیگر حصوں پر عمل درآمد ضروری ہے جن میں منجمد اثاثوں کی رہائی اور ایرانی تیل کی برآمدات کی اجازت دینے کے لیے امریکی چھوٹ شامل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب کہ مذاکرات میں شامل ایک امریکی سفارت کار نے رائٹرز سے گفتگو میں اس واقعے کو بالکل مختلف انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ 'ایرانی کبھی نہیں گئے اور اب بھی یہاں موجود ہیں۔ رات گئے تک ملاقاتیں اور مذاکرات جاری رہے۔ ہم نے آبنائے ہرمز، لبنان، جوہری معاملات اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی تفصیلات سمیت دیگر موضوعات پر بات کی۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے لبنان میں تشدد کے اثرات کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ وہاں دشمنی ختم کرنے کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات ہمیشہ کچھ نہ کچھ پیچیدہ ہوتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2889</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/263e9a14-amrh-n-dht-swytzld-n-psh-f-e-e-s-a-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 10:36:22 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے آج ہونے والے مذاکرات منسوخ، اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2888</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2888" rel="standout" />
      <description>سوئٹزرلینڈ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کے اگلے مرحلے کے لیے آج ہونے والے مذاکرات منسوخ ہو گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وین نے بھی جینیوا جانے کا پلان منسوخ کر دیا ہے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور ایران کی جانب سے جس ابتدائی معاہدے پر بدھ کو ڈیجیٹل دستخط کیے گئے، اس کی باضابطہ تقریب بھی سوئٹزرلینڈ میں جمعے کو شیڈول تھی جس کا میزبان پاکستان تھا۔ تاہم گزشتہ روز ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس تقریب میں شرکت سے متعلق عدم دلچسپی ظاہر کی گئی تھی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس تقریب کو غیر ضروری قرار دیا تھا، اس کا کہنا تھا دونوں ملکوں کے صدور پہلے ہی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ روانہ ہونا تھا تاہم روانگی سے چند گھنٹے قبل ان کا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے بعد جمعرات کی رات وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ 'ان مذاکرات کی لاجسٹکس کبھی بھی سادہ اور متوقع نہیں رہیں۔' جیسے ہی دورے کا منصوبہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے، جے ڈی وینس اور امریکی وفد وہاں جانے کے لیے تیار ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے یہ تو تصدیق کر دی ہے کہ برگن اسٹاک کے ریزورٹ میں جمعے کو طے شدہ مذاکرات اب نہیں ہو رہے۔ تاہم اس کی جانب سے تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ وہ بدھ کو 14 نکاتی معاہدے پر دستخط کے بعد تیکنیکی مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی 'تسنیم' نے جے ڈی وینس کے دورہ منسوخی کے اعلان سے قبل کہا تھا کہ ایرانی مذاکرات کار پہلے ان قرائن کا جائزہ لیں گے کہ امریکہ ابتدائی معاہدے پر عمل درآمد کر رہا ہے یا نہیں اور ابھی اس کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ایرانی وفد جینیوا جائے گا یا نہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کے حملے جاری</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب اسرائیل اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو قبول کرتا دکھائی نہیں دے رہا اور وہ لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے اسرائیلی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمعے کو اسرائیل کے تازہ ترین حملوں سے لبنان میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اب تک لبنان میں دس لاکھ سے زیادہ افراد اسرائیلی حملوں کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کی جاری کارروائیوں سے معاہدے پر بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں اور یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیل کو روکنے کے لیے کس حد تک جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ ایران معاہدے میں واضح طور پر لبنان کا نام لے کر ذکر ہے کہ وہاں بھی حملے روکے جائیں گے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا جنوبی لبنان کے علاقوں سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اس نے اپنے زیر قبضہ علاقوں کو مزید بڑھا کر ظاہر کیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2885" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2026/6/18/181e785e-amrh-w-n-ede-14-t.webp" data-title="امریکہ اور ایران معاہدے کے 14 نکات" data-url="/world/2885" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">امریکہ اور ایران معاہدے کے 14 نکات</span></span></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2888</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/19/59ab7420-swytzrlnd-mn-a-h-e-aj-dht-kh-b-p-h-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 09:51:25 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا ٹرمپ اسرائیل کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا اسرائیل سے ہٹ کر بھی کوئی امریکی انٹیلی جنس موجود ہے؟ کیا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں دوری آ سکتی ہے؟ خطے کے اصل طاقت ور عناصر متحرک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل ایک ایسی تفصیل بن گیا ہے جسے "کچل کر آگے بڑھ جانا" ہے۔ ہمارے منصوبے اس سے کہیں بڑے ہیں! کمزور ممالک کا اتحاد بھی محض ایک تفصیل ہے!</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2887</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2887" rel="standout" />
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<h6 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-small" style="color: rgb(230, 0, 0);">تحریر: ابراہیم کاراگل (کالم نگار)</span></h6><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ بظاہر اسرائیل کو شدید پریشانی میں مبتلا کر چکا ہے۔ اگر کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسرائیل کی بے چینی مزید بڑھ جائے گی اور ممکن ہے کہ یہ خوف میں تبدیل ہو جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر یہ سب کوئی ڈرامہ نہیں ہے، اگر اسرائیلی حلقوں کا ردِعمل مصنوعی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے یہ معاہدہ اسرائیل کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ شاید امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کسی قسم کی تبدیلی یا سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم یہ باتیں ایک ہزار سال تک نہیں بھولیں گے!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ اسرائیل کی اپنی کوئی حقیقی طاقت نہیں۔ اسرائیل کو طاقت امریکہ سے ملتی ہے۔ عراق پر حملے سے شروع ہونے والی اور گزشتہ تیس برسوں میں لڑی گئی تمام جنگیں امریکی طاقت کے ذریعے لڑی گئیں لیکن فائدہ اسرائیل کو پہنچانے کے لیے۔ چند گروہوں کے تحفظ کے نام پر وسیع خطے تباہ کیے گئے، ممالک ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے، شہر کھنڈرات میں بدل گئے اور لاکھوں لوگ مارے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کی خاطر امریکہ اور یورپ نے اس خطے سے جو قیمت وصول کی ہے، وہ ایک ہزار سال تک فراموش نہیں کی جائے گی۔ کوئی ایک ریاست ایسی نہیں جسے نقصان نہ پہنچایا گیا ہو، کوئی ایک قوم ایسی نہیں جسے دکھ نہ دیا گیا ہو۔ گزشتہ دو سو برسوں میں ہمارے خطے نے دو بڑی تباہیاں دیکھی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پہلی تباہی جنگ عظم اول اس کے بعد کے نتائج کی صورت میں۔ اور دوسری 1950 کی دہائی کے بعد اسرائیل کے لیے دوبارہ شروع ہونے والی تباہی کی لہر کی شکل میں۔ ہمارے لیے "اسرائیل کی قیمت" تقریباً اتنی ہی بھاری رہی ہے جتنی خود عالمی جنگ کی تباہی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہمارا غصہ شدید اور ہماری یادداشت زندہ ہے، ہر قتل کا حساب لیا جائے گا</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی اثر و رسوخ کے باعث ایک ایسی تباہی رونما ہوئی جس نے پورے مشرقِ وسطیٰ (مغربی ایشیا)، مشرقی اور شمالی افریقہ، جنوبی ایشیا کے بڑے حصے، بحیرہ احمر، خلیج فارس، مشرقی بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان خطوں کی اقوام اور ریاستیں اب مزید ایسی قیمت ادا نہیں کریں گی۔ تاہم وہ ماضی میں ادا کی گئی قیمت کا حساب ضرور لیں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہماری سرزمین انسانی تہذیب کا مرکز ہے۔ اس کی برداشت جتنی وسیع ہے، اس کا غصہ بھی اتنا ہی شدید ہے، اور اس کی یادداشت نہایت گہری ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر تباہی کی ایک قیمت ہوتی ہے اور ہر شہر کی ایک یادداشت ہوتی ہے۔ اسرائیل کے نام پر امریکہ اور یورپ نے جو جرائم، قتلِ عام اور مصائب اس خطے کی اقوام پر مسلط کیے ہیں، ان کا حساب ایک دن ضرور لیا جائے گا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑنے والی ہے؟ فوری جواب کی ضرورت نہیں!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر یہ اطلاعات درست ہیں — اور اس معاملے میں ہر خبر کو احتیاط کی نظر سے دیکھنا چاہیے — تو ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر ایران کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ ردعمل کہ "یہ آپ کا معاہدہ ہے"، اسرائیلی انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماؤں کے بیانات کہ "اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے، ہم اس معاہدے کے پابند نہیں"، امریکہ میں اسرائیل نواز سخت گیر حلقوں کا غصہ، اور یہ عمومی توقع کہ اسرائیل اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا، سب اس بات کی علامت ہو سکتے ہیں کہ ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات پیدا ہو رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ رپورٹس کے مطابق اسرائیل باضابطہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ سے معاہدے کی تفصیلات مانگ رہا ہے، لیکن امریکی انتظامیہ انہیں دینے سے انکار کر رہی ہے۔ اس دوران امریکہ کے اندر یہ بحث بھی شروع ہو چکی ہے کہ کیا "امریکی مفادات کو اسرائیلی مفادات پر ترجیح دی جانی چاہیے۔"</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو کیا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں واقعی دراڑ پڑنے والی ہے؟ کیا ٹرمپ اسرائیل کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ کیا اسرائیل کی وہ طاقت، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے امریکہ کو یرغمال بنا رکھا ہے، کمزور کی جا سکتی ہے؟ امریکہ کب تک اسرائیل کو اپنے مفادات کو نقصان پہنچانے کی اجازت دے گا؟ کیا وہ اسرائیل کو امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور اس کے عالمی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے سے روک سکے گا؟</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل دنیا کا سب سے ناپسندیدہ ملک بن چکا ہے، اس نفرت کے نتائج ضرور نکلیں گے!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان سوالات کے بارے میں یقینی طور پر کوئی بات کرنا بہت مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن اگر امریکہ میں اسرائیل سے ہٹ کر بھی کوئی آزاد سوچ موجود ہے، اگر وہ عالمی طاقت کے نقشے میں آنے والی گہری تبدیلیوں کو دیکھ سکتا ہے، تو اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل کو امریکہ کو مسلسل کمزور کرنے سے کیسے روکا جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کی ساکھ کس حد تک کم ہو چکی ہے، حتیٰ کہ یورپ میں بھی۔ اس وقت اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ ناپسندیدہ ملک بن چکا ہے اور ناپسندیدگی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اگر امریکہ اس نفرت کو اپنے ساتھ جوڑ لیتا ہے تو امریکہ کے خلاف نفرت بھی مزید بڑھے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ کے خلاف بھی منفی جذبات پہلے ہی کافی حد تک بڑھ چکے ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">معاہدہ ایران کے حق میں دکھائی دیتا ہے۔ آخر اسرائیل کو اتنی پریشانی کیوں ہے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم نہیں جانتے کہ ٹرمپ کی یہ خواہش کتنی حقیقت پسندانہ ہے کہ "اسرائیل کو لبنان سے نکل جانا چاہیے"، اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ اسرائیل اس بات پر کتنا عمل کرے گا۔ تاہم اسرائیلی انتہا پسند دائیں بازو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اکثر نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ "سخت رویہ" اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا امریکہ اسرائیل سے الگ ہو کر اس خطے میں اپنا کوئی الگ ایجنڈا آگے بڑھانا چاہتا ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی سامنے آنے والی شقیں درست ہیں تو وہ زیادہ تر ایران کے حق میں نظر آتی ہیں۔ ان شقوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی خاطر جنگ میں جانے سے ناخوش ہے۔ گویا اس نے تقریباً ہر اہم معاملے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، ایران کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے، اور ان دلائل کو بھی تقریباً کمزور کر دیا ہے جن کی بنیاد پر اسرائیل نے حملوں کا جواز پیش کیا تھا۔ یہ واضح ہے کہ یہی چیز اسرائیل کو سب سے زیادہ ناراض کر رہی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمزور ممالک کا اتحاد: اس سے کوئی نیا جغرافیائی نقشہ وجود میں نہیں آئے گا</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم اپنے سامنے ایک علاقائی طاقت کی کشمکش دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل بحیرہ احمر میں صومالی لینڈ، خلیج فارس میں متحدہ عرب امارات، مشرقی بحیرہ روم میں یونانی قبرصی انتظامیہ اور بحیرہ ایجیئن میں یونان کے ساتھ مل کر ایک نیا جغرافیائی اور سیاسی ڈھانچہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ ان نسبتاً کمزور ممالک کے ساتھ مل کر طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اپنے ہتھیاروں کے ذریعے پورے خطے پر حملے کر رہا ہے، خوف کی فضا پیدا کر رہا ہے اور تقریباً تمام ممالک کی نظر میں ایک خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن اس سے نہ کوئی نیا جغرافیائی نقشہ تشکیل پائے گا اور نہ ہی کوئی مستقل علاقائی طاقت کا نظام وجود میں آئے گا۔ جس لمحے امریکی ہتھیاروں کی طاقت ختم ہوگی، اسرائیل اور اس کے ساتھ کھڑے یہ تمام ممالک بھی تباہ ہوں گے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">"جغرافیہ کے اصل مالکان" نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ "زمین کے محور" کو بدل دے گا۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پھر ایک بہت بڑا بیداری کا عمل ہے جس کی قیادت ترکیہ کر رہا ہے۔ اس میں بڑی طاقتیں اور خطے کے ممالک شامل ہیں جو مشرقی افریقہ سے لے کر انڈیا کی سرحد تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ طاقت کا ایک ابھار ہے جو عظیم سلطنتوں اور ریاستوں کی وراثت سے چل رہا ہے اور جو 21ویں صدی کی طاقت کے توازن کو بدل رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">"جغرافیہ کے مالک" پہلی جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار دوبارہ اٹھ رہے ہیں اور زمین کے مرکز کو بدل رہے ہیں۔ اور جب یورپ زوال کے دور میں داخل ہو رہا ہے، وہ تاریخ کے بہاؤ کو اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں اور ایک بڑا جغرافیائی نقشہ احتیاط سے بنا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ یورپی ممالک نے یہ دیکھا ہے۔ اگرچہ انہوں نے غزہ میں نسل کشی میں حصہ لیا اور امریکا کے دباؤ میں اسرائیل کی حمایت کی، لیکن انہیں احساس ہوا کہ تاریخ اب اس طرح نہیں چلے گی۔ تو سوال یہ ہے کہ امریکا کی سیاسی سوچ یہ کب سمجھے گی؟ کیا وہ اسرائیل کی خاطر دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو کمزور کرتے رہیں گے؟</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل امریکہ کی طاقت کی عمر کم کر رہا ہے۔ وہ اسے زہر دے رہا ہے، اسے تیزی سے کھا رہا ہے۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا وہ یہ جوا کھیلیں گے؟ اسرائیل کی حفاظت کی خاطر امریکی طاقت کو کمزور اور دنیا سے الگ کرنے کا خطرہ مول لیں گے؟ کیا وہ سمجھیں گے کہ یہودیوں نے خود کو پوری دنیا کا دشمن بنا لیا ہے اور ایک دن لوگ ان کے خلاف بھی کھڑے ہو جائیں گے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک ایسی خطرناک طاقت کے سامنے جھکنا جو انسانیت کے خلاف جنگ کرتی ہے، تمام ریاستوں اور قوموں کو تباہ کر دے گا۔ انسانی دنیا آخرکار اس زہر کو اگل دے گی اور ایسی سلطنتوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو لوگ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ اسرائیل امریکہ کی عمر کم کر رہا ہے، وہ دنیا کے مستقبل کے بارے میں اپنی پیشگوئیوں میں ناکام ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ان کی اپنی دنیا سے باہر کی دنیا کیسے بدل رہی ہے، کیسے طاقت کی لڑائی ہو رہی ہے اور یہ کس طرح پرانے عالمی نظام کو بدل دے گی۔ کیونکہ وہ ایک موقع کھونے والے ہیں کہ وہ دنیا کو درست نظر سے دیکھ سکیں، ایک ایسی سوچ کے ساتھ جو اسرائیل اور طاقت سے متاثر ہو چکی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">جغرافیہ کے نئے معمار بڑی پیش رفت کر رہے ہیں۔ </h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ اور اس کے نئے جغرافیائی منصوبے کے معمار دنیا کے مستقبل کی طرف بڑے قدم بڑھا رہے ہیں۔ ہر وہ ملک جو عالمی اور علاقائی طاقت چاہتا ہے، اس ابھار سے فائدہ اٹھانا چاہے گا اور اس کے ساتھ نظر آنا چاہے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرد جنگ اور اس سے پہلے کے دور کا تباہ شدہ جغرافیہ اب نہیں رہے گا۔ اب کوئی "قابلِ کنٹرول" جغرافیہ نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں جو لوگ اس طاقت کے نقشے کے خلاف ہوں گے جو دنیا کا محور بن رہا ہے، وہ بھی مرکزی طاقت کے نظام میں اپنی طاقت کھو دیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پھر ہم دیکھیں گے کہ جنہوں نے اسرائیل کی "دہشت گرد سوچ" کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، انہوں نے کیا کھویا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے تاریخ اور طاقت کو کیسے کھو دیا۔ ہم دیکھیں گے کہ اسرائیل ایسے جغرافیے میں جگہ نہیں بنا سکے گا۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ اس نے کس طرح کچھ ریاستوں کو انسانی نظام میں قابو کیا ہے، اور کچھ کو تاریخ سے باہر کر دیا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مغرب کو اب "اسرائیلی چوکی" کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تو کیا امریکا یہ دیکھ سکے گا؟ یا وہ اسرائیل کے زیرِ اثر اپنی سوچ کے ساتھ دنیا کھو دے گا؟ یاد رکھیں، ان ممالک اور باقی دنیا کے درمیان فرق اب سرمایہ، ٹیکنالوجی، دفاع اور انسانی وسائل کے لحاظ سے کم ہو رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">زمین کے وسائل کی بڑی اکثریت بھی ان "نئی طاقتوں" کے کنٹرول میں ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صرف ہتھیاروں کے زور پر دنیا پر قبضہ ممکن نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل یورپ کی اور بعد میں امریکا کی، "20ویں صدی کی چوکی" ہے۔ یہ مغربی محاذ ہے جو اس صدی کی حالات کے مطابق بنایا گیا تھا۔ لیکن 20ویں صدی کے حالات اب موجود نہیں۔ وہ نظام جس میں مغرب پوری دنیا پر حاوی تھا، ختم ہو چکا ہے۔ نہ اس کے پاس وہ طاقت ہے نہ ادارے۔ مغرب کو اب اسرائیل جیسی چوکی کی ضرورت نہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کا سب سے بڑا جھوٹ: "ہم مغرب کے لیے لڑ رہے ہیں..."</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ نسل کشی کرنے والے لوگ یہ کہہ کر اپنی نئی اسٹریٹجک حیثیت بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ "ہم مغرب کے لیے لڑ رہے ہیں" لیکن دنیا کی نئی سمت میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر وہ اس پر یقین کریں، اگر وہ پورے مغرب کو ایک "دہشت گرد تنظیم" کی سوچ کے حوالے کر دیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ لیکن جلد یا بدیر قومیں موجودہ قیادت کے خلاف آواز اٹھائیں گی جو اس نظام میں الجھی ہوئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا ایران کے ساتھ معاہدہ شاید امریکہ کو ایک موقع دے سکتا ہے۔ شاید امریکی سیاسی سوچ اسرائیل سے ہٹ کر دنیا کو دیکھنے کی کوشش کرے۔ شاید وہ اس جال کو سمجھ جائیں جو اسرائیل نے ان کے لیے بنایا ہے۔ یا شاید نہیں؛ یہ ان پر ہے۔ لیکن دنیا اپنی سمت پر چلتی رہے گی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل بار بار ترکیہ پر حملہ کیوں کر رہا ہے؟ اس خوف کی وجہ کیا ہے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آج کل اسرائیل براہ راست ترکیہ پر حملے کر رہا ہے۔ "ترکیہ عثمانی سلطنت دوبارہ بنا رہا ہے" کہہ کر وہ عرب ممالک کو ڈرانے اور امریکی فوجی طاقت کو ترکیہ کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ یونان اور قبرصی انتظامیہ جیسے ممالک کے ساتھ ترکیہ کے خلاف محاذ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کھلے عام "ترکیہ پر حملے" کی دھمکیاں دے رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن جو طوفان وہ دیکھیں گے وہ اتنا بڑا ہوگا کہ یہ باتیں، یہ تلاشیں بے معنی ہو جائیں گی۔ مزید یہ کہ نیا جغرافیائی منصوبہ انہیں دبا دے گا اور وہ سانس بھی نہیں لے سکیں گے۔ "جغرافیہ ایک ہتھیار ہے" کا مطلب آج پہلے سے زیادہ واضح ہے۔ اور وہ جانتے ہیں کہ یہ ہتھیار اب ان کی طرف ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا۔ لیکن کیا امریکہ خود کو ترکیہ کے خلاف بھی استعمال ہونے دے گا؟ کیا وہ اس کے نقصانات کا حساب لگائے گا؟ کیا وہ سمجھے گا کہ یہ مغربی ایشیا میں امریکا کی موجودگی کو ختم کر دے گا؟ میرا خیال ہے وہ سمجھے گا۔ میرا خیال ہے وہ اس جال میں نہیں پھنسے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل خود کو اس پورے خطے میں "نہ ہونے کے برابر" ہونے نہیں دے گا۔ کوئی بھی ریاست جو تھوڑی سی بھی عقل رکھتی ہو، ایسا نہیں کرے گی۔ ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آگے کیا ہو سکتا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل صرف ایک تفصیل ہے، ایک معمولی چیز جسے "کچلا اور آگے بڑھا جائے گا"!</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا ٹرمپ اسرائیل کے اثر سے نکل سکتے ہیں؟ کیا وہ اسرائیل کو روک سکتے ہیں؟ کیا امریکا خود کو صرف اسرائیل کا ہتھیار سمجھتا رہے گا اور خطے میں اپنی طاقت کھو دے گا؟ یہ وہ سوال ہیں جو امریکی عوام پوچھیں گے۔ انہیں جلد یہ دیکھنا چاہیے، جیسے یورپ میں اشارے نظر آ رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم یہ بڑا تاریخی قدم، یہ طاقت کا ابھار، یہ جغرافیہ کی نئی تشکیل اسرائیل کے خلاف نہیں کر رہے۔ یہ دنیا کی سطح پر ایک عالمی کوشش ہے۔ اسرائیل اس بڑے مقصد میں صرف ایک چھوٹی سی تفصیل ہے۔ ایک تفصیل جسے اس عمل کے دوران روند کر آگے بڑھا جائے گا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2887</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/18/64ad0cc3-a-trmp-syl-qbh-te-n-h-w-n-j-d-e-a-kht-s-h-ch-f-r-z-d-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 13:49:34 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران معاہدے کے 14 نکات</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2885</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2885" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور ایران کی جانب سے بدھ کو ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے جانے کے بعد اس کے مسودے کا متن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ مفاہمتی یادداشت میں 14 نکات ہیں جو بدھ کو ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار نے صحافیوں کو پڑھ کر سنائے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان نکات میں حتمی مذاکرات کا فریم ورک، دورانیہ اور دیگر معاملات پر اتفاقِ رائے کیا گیا ہے۔ معاہدے پر 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت برائے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران' کا ٹائٹل درج ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1. امریکہ، ایران اور موجودہ جنگ میں ان کے اتحادی، اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔ اور اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ آج کے بعد ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے، ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں گے، اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنائیں گے۔ حتمی معاہدہ اس شق کی دیگر دفعات کے ساتھ تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر جنگ کے مستقل خاتمے کی توثیق کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2. امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">3. امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں گے اور اسے حاصل کریں گے۔ تاہم اس مدت میں دونوں کی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">4. اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی اور کسی بھی قسم کی رکاوٹوں یا مداخلتوں کو ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا۔ 30 دن کے اندر بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اس مدت کے دوران ایران اتنے ہی جہازوں کی آمدورفت بحال کرے گا جتنے جنگ سے پہلے گزرتے تھے۔ امریکہ حتمی معاہدے کے 30 دن بعد اپنی افواج کو ایران کے قرب و جوار سے ہٹانے کا عہد کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">5. اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران اپنی بھرپور کوششوں کے ذریعے 60 دن تک بلا معاوضہ تجارتی جہازوں کی خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج فارس تک محفوظ آمدورفت کے انتظامات کرے گا۔ تجارتی جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر شروع ہو گی اور تکنیکی و عسکری رکاوٹوں کے خاتمے اور ایران کی جانب سے بارودی سرنگوں کی صفائی کے پیش نظر 30 دن کے اندر مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی۔ ایران عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کی آئندہ انتظامیہ اور سمندری خدمات کے تعین کے لیے مذاکرات کرے گا اور اس سلسلے میں خلیج فارس کے دیگر ساحلی ممالک سے بھی بین الاقوامی قانون اور آبنائے ہرمز سے متصل ریاستوں کے خودمختار حقوق کے مطابق مشاورت کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">6. امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسلامی جمہوریہ ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب امریکی ڈالر پر مشتمل ایک حتمی اور باہمی طور پر متفقہ منصوبہ تیار کرنے کا عہد کرتا ہے۔ اس منصوبے کے نفاذ کا طریقہ کار 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر طے کیا جائے گا۔ متعلقہ مالی لین دین کے لیے درکار تمام لائسنس، استثنیٰ اور اجازت نامے امریکہ جاری کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">7. امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف تمام اقسام کی پابندیاں ختم کرنے کا عہد کرتا ہے جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، یعنی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، اور امریکہ کی تمام یکطرفہ، بنیادی اور ثانوی پابندیاں شامل ہیں جو حتمی معاہدے کے تحت باہمی طور پر طے شدہ شیڈول کے مطابق ختم کی جائیں گی۔ ایران اور امریکہ پابندیوں کے خاتمے کی اس اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ان معاملات پر فوری مذاکرات کے ذریعے باہمی اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے ارادے کا اظہار کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">8. ایران دوبارہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرے گا اور نہ ہی تیار کرے گا۔امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ جوہری مواد کے ذخائر کے مستقبل کے بارے میں ایک ایسے طریقہ کار کے تحت فیصلہ کیا جائے گا جس پر باہمی اتفاق ہو اور جو شق نمبر 7 میں مذکور شیڈول کے مطابق ہو۔ جب کہ کم از کم طریقۂ کار کے طور پر افزودہ مواد کو ایران کے اندر ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کم افزودہ درجے پر لایا جائے گا۔ دونوں فریق ایران کی افزودگی اور اس کی جوہری ضروریات سے متعلق دیگر باہمی متفقہ امور پر بھی حتمی معاہدے کے تحت ایک اطمینان بخش فریم ورک کی بنیاد پر بات چیت کریں گے۔ حتمی معاہدہ اس شق کی دفعات کی توثیق کرے گا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران مذکورہ جوہری معاملات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ان پر فوری مذاکرات کے ذریعے باہمی اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے ارادے کا اظہار کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">9. حتمی معاہدے تک امریکہ اور ایران موجودہ صورت حال برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حیثیت برقرار رکھے گا جب کہ امریکہ کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اضافی افواج تعینات نہیں کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">10. امریکہ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوری بعد اور پابندیوں کے خاتمے تک یہ عہد کرتا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ان سے متعلقہ مصنوعات کی برآمد کے لیے استثنیٰ جاری کرے گا اور ان سے متعلق تمام خدمات بشمول بینکاری لین دین، انشورنس، نقل و حمل وغیرہ کی اجازت دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">11. امریکہ ایران کے منجمد یا پابندیوں کی زد میں موجود فنڈز اور اثاثوں کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنانے کا عہد کرتا ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے بعد امریکہ اور ایران مذاکرات کے دوران ان فنڈز کے اجرا کے طریقہ کار پر باہمی اتفاق کریں گے۔ یہ فنڈز خواہ اصل اکاؤنٹس میں رہیں یا منتقل کیے جائیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے مرکزی بینک کی جانب سے نامزد کسی بھی حتمی مستفید ہونے والے فریق کو ادائیگی کے لیے مکمل طور پر قابلِ استعمال ہوں گے۔ امریکہ اس مقصد کے لیے تمام ضروری لائسنس اور اجازت نامے جاری کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">12. امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت کے کامیاب نفاذ اور آئندہ حتمی معاہدے کی پابندیوں کی نگرانی کے لیے ایک انتظامی طریقہ کار قائم کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">13. اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد، اور اس کی شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 کے نفاذ کے آغاز اور ان اقدامات کے مسلسل نفاذ سے مشروط امریکہ اور ایران صرف دیگر شقوں سے متعلق حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">14. حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے کی جائے گی جو دونوں ملکوں کو اس پر عمل درآمد کا پابند بنائے گی۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2885</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/18/181e785e-amrh-w-n-ede-14-t.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 10:44:13 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران کے صدور نے معاہدے پر دستخط کر دیے، عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں ٹرمپ کی پھر حملوں کی دھمکی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2884</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2884" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور ایران کے صدور نے جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے فریم ورک کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے پر باضابطہ طور پر دستخط کر دیے ہیں جب کہ دونوں فریقین کی جانب سے اس مفاہمتی یادداشت کا متن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جاری جی سیون اجلاس میں بدھ کو اسمعاہدے پر دستخط کیے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو وہ اس پر دوبارہ حملے بھی شروع کر سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ہم ان پر انتہائی شدید بمباری کریں گے۔ ان کے بقول 'میں نہیں چاہتا کہ وہ خلاف ورزی کریں، میں چاہتا ہوں کہ وہ اس معاہدے کا احترام کریں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے ایرانیوں کو 'اسمارٹ لوگ' بھی کہا اور امید ظاہر کی کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم امریکی صدر اپنے ایک ایسے مؤقف سے پیچھے بھی ہٹ گئے جسے ایک موقع پر انہوں ایران پر حملہ کرنے کی بنیاد بتایا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ تہران کے لیے 'غیر منصفانہ' ہوگا کہ وہ بیلسٹک میزائل نہ رکھے۔ اس سے قبل ٹرمپ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی باتیں کرتے آئے تھے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنگ سے جو حاصل کرنا تھا، مذاکرات میں اس سے زیادہ لے لیا: ایران</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ایران کی طرف سے ٹرمپ کی ان حالیہ دھمکیوں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ایران کی جانب سے تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں ایرانی صدر کو معاہدے پر دستخط کرتے دکھایا گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے مذاکراتی وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے اس معاہدے سے متعلق سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے فوجی کارروائی کے ذریعے جو کچھ حاصل کرنا چاہا تھا، مذاکرات کے ذریعے اس سے کئی گنا زیادہ حاصل کر لیا۔ دونوں کا آپس میں کوئی موازنہ ہی نہیں تھا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے اس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی جس کے تحت ایران کے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی بحال کیے جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس 14 نکاتی معاہدے میں پیچیدہ معاملات پر مذاکرات اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کا ٹائم فریم مقرر کیا گیا ہے جس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ جب کہ اس دوران لبنان سمیت ہر محاذ پر جنگ بندی ہوگی۔ اس کے علاوہ امریکہ ایران کی ناکہ بندی ختم اور ایران آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ اور مسعود پزشکیان دونوں نے معاہدے کے انگریزی اور فارسی متن پر ڈیجیٹل دستخط کیے ہیں۔ دستخط کی باضابطہ تقریب جمعے کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں پاکستان کی میزبانی میں منعقد کی جائے گی۔ تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بدھ کو ڈیجیٹل دستخط کے ساتھ ہی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔ </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2884</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/18/8c800897-amrh-w-n-e-sd-e-p-stkht-l-a-n-t-h-h-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 10:07:56 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>برطانیہ میں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کی تیاریاں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/technology/2883</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/technology/2883" rel="standout" />
      <description>برٹش پرائم منسٹر کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانوی حکومت بھی آسٹریلیا کی طرح 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے جا رہی ہے۔</description>
      <category>ٹیکنالوجی</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>برٹش پرائم منسٹر کیئر اسٹارمر نے واضح کر دیا ہے کہ برطانوی حکومت بھی آسٹریلیا کی طرح 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے جا رہی ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/technology/2883</link>
      <subcategory>ٹیکنالوجی</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/16/8227e9f2-brtanh-mn-h-chw-e-sshl-d-te-p-d-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 11:05:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے جہازوں کی 'ٹول فری' آمد و رفت شروع ہو گی: امریکہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2882</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2882" rel="standout" />
      <description>امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے جہازوں کو بغیر کوئی ٹول دیے گزرنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی معاشی فائدے کے حصول سے قبل معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمے داریاں اور وعدے پورے کرنا ہوں گے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ معاہدے کہ تحت ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 'ٹول' وصول نہیں کرے گا۔ البتہ بحری خدمات کے عوض فیس لینے کا اختیار برقرار رہے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز مفاہمتی یادداشت (جو کہ تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے) پر الیکٹرونک دستخط کر دیے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر ٹرمپ خود اس معاہدے پر ذاتی طور پر دستخط کرنا چاہتے تھے کیوں کہ وہ اس عمل سے اپنی مکمل وابستگی اور سنجیدگی کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ ایک عمومی دستاویز ہے۔ جے ڈی وینس جمعے کو جینیوا میں دستخط کی باضابطہ تقریب میں شرکت کریں گے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ معاہدے میں جنگ سے متاثرہ ملک کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ فنڈ کا بھی ذکر ہے۔ لیکن ان کے بقول رقم کی فراہمی ایران کی کارکردگی اور معاہدے پر عمل درآمد سے مشروط ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس معاہدے پر جمعے کو دستخط کے ساتھ ہی 60 روزہ مدت کا آغاز ہو جائے گا جس دوران ایران اور امریکہ ایک جامع اور مستقل امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تفصیلی مذاکرات کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ 'ہم پہلے جوہری معاملات پر بات کرنا چاہیں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ فوری توجہ کا مرکز ہے کیوں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اس کے عالمی معیشت پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آبنائے ہرمز کے انتظام کی عملی تفصیلات دونوں ممالک کے درمیان جاری تیکنیکی مذاکرات میں طے کی جائیں گی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک امریکی عہدے دار کے مطابق بحری جہازوں کی آمدورفت آئندہ چند ہفتوں میں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائے گی جبکہ ٹریفک میں پہلے ہی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2882</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/16/ea109bc1-arn-mehde-b-ay-z-s-jwn-tl-f-t-sh-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 10:58:55 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ - ایران معاہدے سے متعلق اب تک کیا تفصیلات سامنے آئی ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2881</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2881" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور ایران نے ابتدائی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ تاہم اس مفاہمتی یادداشت سے متعلق بیشتر تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتپ روز فرانس میں جی سیون اجلاس میں شرکت کے لیے آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'معاہدے پر دونوں فریقین نے دستخط کر دیے ہیں۔ اب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس دستخط کی باضابطہ تقریب میں شرکت کے لیے جمعے کو جینیوا جائیں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط امن کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ تاہم پائیدار امن کے لیے حتمی معاہدہ ہونا ابھی باقی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سی این این کو بتایا ہے کہ مفاہمتی یادداشت صرف ایک ڈیڑھ صفحے پر مبنی ہے اور یہ ابھی ابتدائی معاہدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں ایران پر سے پابندیاں ہٹانے سے متعلق نکات بھی شامل ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی حکام کے مطابق معاہدے کی تفصیلات آئندہ دو روز میں منظر عام پر لائی جائیں گی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب تک امریکی و ایرانی حکام اور مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کی جانب سے جو کچھ ابتدائی تفصیلات منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">معاہدہ کن مراحل میں نافذ ہوگا اور کب کیا ہوگا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں فریقین نے تمام فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تمام فریقوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ دستخط کے بعد مفاہمتی یادداشت کو منظرِ عام پر لایا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران اور امریکہ دونوں نے کہا ہے کہ جیسے ہی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں فریقوں نے کہا ہے کہ مزید پیچیدہ اور متنازع معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور ایران پر امریکی پابندیوں سے متعلق مذاکرات، اگلے 60 دنوں کے دوران کیے جائیں گے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز جمعے کو دوبارہ کھول دی جائے گی اور انہوں نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک سینئر ایرانی عہدے دار نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز 'تمام تجارتی جہازوں' کے لیے کھول دی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو ایران اور عمان کی باہمی ہم آہنگی سے منظم کیا جائے گا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا جوہری پروگرام</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں فریقوں نے کہا ہے کہ ایران اس بات پر متفق ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ ایک ایسا وعدہ جو تہران کئی دہائیوں سے دہراتا آ رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سینئر ایرانی عہدے دار کے مطابق حتمی معاہدے تک ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو منجمد (فریز) کر دے گا۔ یعنی نہ مزید یورینیم افزودہ کرے گا اور نہ ہی جوہری تنصیبات میں توسیع کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی عہدے دار نے کہا کہ امریکہ اس بات پر آمادہ ہو گیا ہے کہ مستقبل کے جامع معاہدے کے تحت ایران اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ایران کے اندر ہی کم افزودہ کر سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران کے جوہری مواد کے ذخیرے کو فوری طور پر حاصل کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور امریکہ اسے 'جب حالات مکمل طور پر پرسکون ہو جائیں گے' تب حاصل کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کے تحت ایران کے لیے سخت اور مضبوط نگرانی کا نظام موجود ہوگا۔ تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی حتمی معاہدے کا جائزہ لے کر اسے کانگریس کی منظوری لینا ہوگی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پابندیاں اور مالی اثرات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سینئر ایرانی عہدے دار نے کہا کہ امریکہ اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ حتمی معاہدہ ہونے تک ایران پر کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے مطابق امریکہ ایک مخصوص مدت کے لیے ایران کی تیل برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا جب کہ حتمی معاہدے کے بعد تمام امریکی اور اقوامِ متحدہ کی پابندیاں ایک طے شدہ شیڈول کے تحت ختم کر دی جائیں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی عہدے دار نے کہا کہ امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 25 ارب ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے جس میں براہِ راست نقد ادائیگیاں، علاقائی ممالک کے درمیان مالی تعاون اور کریڈٹ لائنز شامل ہوں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے مطابق امریکہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیرِ نو اور ترقی کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے گا جس پر آئندہ 60 دنوں کے اندر تہران کے ساتھ مذاکرات اور اتفاقِ رائے کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو نقد رقم فراہم نہیں کی جائے گی تاہم پابندیاں ختم کیے جانے کا امکان موجود ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">لبنان کا معاملہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہباز شریف نے کہا ہے کہ تمام فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے میں لبنان بھی شامل ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ نے کہا کہ پیر کی شب سے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں مستقل طور پر بند کر دی جائیں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ ضروری ہے اور اس فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں اپنے زیرِ قبضہ سیکیورٹی زونز میں موجود رہے گی اور وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے یہ بات ٹرمپ کو واضح طور پر بتا دی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مفاہمتی یادداشت کے اعلان سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ پورے خطے میں، بشمول لبنان، امن قائم کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے کہا کہ لبنان پر مزید اسرائیلی حملے نہیں ہونے چاہئیں اور نہ ہی ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر مزید حملے ہونے چاہئیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><sup class="ql-size-small"><em>(اس تحریر میں شامل بعض تفصیلات خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے ماخوذ ہیں)</em></sup></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2881</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/16/e7b03477-amrh-n-ede-s-tlq-b-fs-ay-n.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 10:36:49 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ ایران معاہدے پر نیتن یاہو اور ٹرمپ میں اختلافات، 'امریکی صدر نے جب معاہدے کے قریب پہنچنے کی بات کی تو اسرائیل حیران رہ گیا'</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2880</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2880" rel="standout" />
      <description>اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ ان کا مقصد تھا کہ ایران میں مذہبی قیادت کی حکومت کا تختہ الٹا جائے اور اسے دکھا کر اپنے ملک میں ہونے والے انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور اسرائیل کا یہ اتحاد مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا تھا لیکن اب اتحادیوں کے درمیان معاملات پہلے جیسے نہیں رہے بلکہ حلیف اب حریف میں بدل رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل میں سب سے طویل عرصے تک وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے نیتن یاہو اب ٹرمپ سے ٹکراؤ کے راستے پر ہیں۔ کیوں کہ ٹرمپ اب اس جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں جب کہ اسرائیل کے اہداف ابھی پورے نہیں ہوئے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ اس کے بنیادی سیکیورٹی خدشات کو حل نہیں کرے گا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی حکومتی حلقوں میں بے چینی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور ایران کے معاہدے پر فی الحال تو اسرائیلی حکام عوامی سطح پر محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں لیکن نجی گفتگو میں شدید تحفظات اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں کہا کہ یہ ابتدائی معاہدہ اسرائیل کے لیے تباہ کن ہے۔ اور اسرائیلی قیادت میں وزیر اعظم سے لے کر چیف آف اسٹاف تک، کوئی بھی ایسا نہیں جو اس سے اختلاف کرے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واشنگٹن کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق اگلے 60 روز میں جنگ بندی کے دوران دونوں فریقین کلیدی معاملات پر مذاکرات کریں گے۔ بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام پر۔ لیکن اسرائیلی حکام نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ مذاکرات کا دورانیہ ممکنہ طور پر بڑھا دیا جائے گا اور اس صورت میں اسرائیل کے ہاتھ بندھے ہوں گے کہ وہ کوئی فوجی کارروائی نہ کر سکے۔ جب کہ اس کے خدشات برقرار ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حال ہی میں یہ رپورٹس بھی آئی تھیں کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان لبنان میں جنگ روکنے کے معاملے پر کئی بار تکرار اور بحث ہوئی اور نوبت تلخ کلامی تک بھی آ پہنچی۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو 'پاگل' بھی کہا اور انہیں بیروت پر حملہ نہ کرنے کا حکم دیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو نے اس دن تو حملہ نہیں کیا لیکن پھر ایک ہفتے بعد پچھلے ہفتے عین اس دن بیروت کے مضافات میں بمباری کر دی جس دن ٹرمپ کو معاہدہ طے پانے کی امید تھی۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو نے کیا کہا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک طاقت ور اور مستحکم ملک کے طور پر ابھرا ہے اور اس کی قیادت اپنے مؤقف پر مضبوطی سے کھڑی ہے۔ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات ان کے اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ 'وہ امریکہ کے صدر ہیں اور میں اسرائیل کا وزیرِ اعظم۔ ہم کبھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں تو کبھی معاملہ مختلف بھی ہوتا ہے۔ میں اسرائیل کے سیکیورٹی مفادات کا ذمے دار ہوں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط متوقع ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان، جو اس معاہدے میں ثالثی کر رہا ہے، کے مطابق معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں مستقل طور پر روکنے کی بات شامل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوج برقرار رکھے گا اور حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی آزادی محفوظ رکھے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ 'ایران چاہتا تھا کہ ہم وہاں سے نکل جائیں، لیکن میں اپنے مؤقف پر قائم رہا۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'اسرائیل حیران رہ گیا'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی جب کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل آئندہ 60 دنوں کے مذاکرات میں طے کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز میں جن دو اہم نکات کو امریکہ اور اسرائیل نے اپنے اہداف قرار دیا تھا، یعنی ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی سرپرستی ختم کرنا، وہ موجودہ مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں دکھائی دیتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو اسرائیلی عہدے داروں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ ہفتے جب ٹرمپ نے پہلی بار کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے تو اسرائیل اس پیش رفت سے حیران رہ گیا۔ ان کا اعتراف تھا کہ اسرائیل مذاکرات پر اثرانداز ہونے میں زیادہ کامیاب نہیں رہا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تین اسرائیلی عہدے داروں نے یہ بھی کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ 60 دن کا مذاکراتی وقفہ 90 دن میں تبدیل ہو جائے گا۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی عوام میں بھی مایوسی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ یہ معاہدہ نیتن یاہو کے اس دعوے کو کمزور کرتا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بار-ایلان یونیورسٹی کے سیاسی تجزیہ کار جوناتھن رائن ہولڈ کے مطابق 'نیتن یاہو اس معاہدے کو اسرائیلی عوام کے سامنے کامیابی کے طور پر پیش نہیں کر سکیں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حالیہ سروے کے مطابق صرف 41 فیصد اسرائیلی یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اسرائیل کی سیکیورٹی کو اپنی ترجیح سمجھتے ہیں، جب کہ مارچ میں یہ شرح 64 فیصد تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی وزیرِ توانائی ایلی کوہن نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ اپنے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کو بحال کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل اکیلے بھی کارروائی کر سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بقول اگر ایران نے اپنے جوہری یا میزائل پروگرام دوبارہ شروع کیے تو ہم کارروائی کریں گے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2880</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/16/2ce9c5d3-amrh-n-ede-p-t-w-t-n-khlf-s-jb-q-ch-sy-h-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 10:03:32 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>چکوال میں سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے بچی کی ہلاکت پر آسٹریلوی وزیرِ اعظم کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ، واقعے کی تفصیلات کیا ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2879</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2879" rel="standout" />
      <description>آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آسٹریلوی بچی پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کریں جو اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیوں پر پاکستان آئی تھی۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نو سالہ ہانیہ احمد چکوال میں ایک ڈکیتی کے واقعے کے دوران پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہوئی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہانیہ آسٹریلیا کی رہائشی تھی جن کی موت پر آسٹریلیا میں بھی افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بچی کے خاندان کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">واقعہ کیسے پیش آیا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پنجاب پولیس نے واقعے کی تفصیلات کے بارے میں بتایا ہے کہ 10 جون کی رات چکوال میں مسلح ڈاکوؤں نے ایک گاڑی کو روک کر اس میں موجود فیملی کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔ اس دوران سی سی ڈی اہلکاروں نے مداخلت کی کوشش کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پنجاب پولیس کے مطابق اس دوران مشتبہ افراد کی جانب سے پولیس پر فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں پولیس اہلکاروں نے بھی فائرنگ کی۔ اسی افراتفری میں متعلقہ پولیس افسر نے غلط اندازہ لگایا کہ ملزمان متاثرین کی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">'پولیس افسر نے اپنے بندوق سے گاڑی پر فائر کھول دیا اور اس غلط فیصلے کے نتیجے میں نو سالہ بچی ہانیہ کی موت واقع ہو گئی جب کہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2066185003319341502" data-url="https://t.co/23CxsgmXPL" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;ur&quot; dir=&quot;rtl&quot;&gt;پریس ریلیز &lt;br&gt;کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ &lt;br&gt;لاہور، 14 جون 2026ء &lt;br&gt;&lt;br&gt;10 جون کو مسلح ڈکیتی کی واردات کے خلاف کارروائی کے دوران پیش آنے والے ایک المناک واقعے میں ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔ کرائم کنٹرول… &lt;a href=&quot;https://t.co/23CxsgmXPL&quot;&gt;pic.twitter.com/23CxsgmXPL&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) &lt;a href=&quot;https://x.com/OfficialDPRPP/status/2066185003319341502?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;June 14, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/23CxsgmXPL</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ پولیس افسر کا یہ طرز عمل ان کے طے شدہ مروجہ اصولوں سے انحراف تھا جس کے بعد متعلقہ افسر کے خلاف قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے افسر کو معطل کر دیا گیا تھا اور اسے حراست میں لینے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے اور شواہد محفوظ کیے جا چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پنجاب پولیس نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کی جانب سے پہلے فائرنگ ہوئی جب کہ بچی کے والد نے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے پہلے گولی چلائی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چائیں تاکہ متاثرہ فیملی سمیت سب جان سکیں کہ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا توقع کرتا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2879</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/16/d4bbfec8-chwal-mn-s-d-hr-fyn-e-b-t-p-at-z-ez-sh-hq-t-s-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 13:52:22 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>صدر ایردوان کا امریکہ - ایران معاہدے کا خیر مقدم، پاکستان کا شکریہ اور ممکنہ تخریبی کارروائیوں سے چوکنا رہنے کی تاکید</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2878</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2878" rel="standout" />
      <description>ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ایردوان نے کہا 'میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو خطے میں امن و سکون کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھتا ہوں اور اس کا خیرمقدم کرتا ہوں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترک صدر نے امید ظاہر کی کہ دنیا جس خبر کی طویل عرصے سے منتظر تھی، وہ خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے ماحول کے قیام کی راہ ہموار کرے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ معاہدے پر دستخط سے قبل ایسے بیانات یا اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2066300754567078180" data-url="https://x.com/RTErdogan/status/2066300754567078180?ref_src=twsrc%5Etfw" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;tr&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;ABD ve İran arasında varılan mutabakatı, bölgemizde sulh-u sükûnun hâkim kılınması adına önemli bir gelişme olarak görüyor, memnuniyetle karşılıyorum. &lt;br&gt;&lt;br&gt;Tüm dünyanın uzun süredir ihtiyaç duyduğu bu haberin bölgemizde kalıcı huzur ve güven ortamının tesisine vesile olmasını…&lt;/p&gt;— Recep Tayyip Erdoğan (@RTErdogan) &lt;a href=&quot;https://x.com/RTErdogan/status/2066300754567078180?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;June 14, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://x.com/RTErdogan/status/2066300754567078180?ref_src=twsrc%5Etfw</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترک صدر نے ممکنہ تخریبی کوششوں کے خلاف بھی چوکنا رکنے کی تاکید کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ایردوان نے اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی غیر معمولی کوششوں پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترک صدر نے قطر اور سعودی عرب کی جانب سے سفارتی اقدامات کی حمایت کو بھی سراہا اور کہا کہ اس عمل میں ان ممالک کا کردار قابلِ قدر ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر اردوان کا مزید کہنا تھا کہ 'ترکیہ خطے میں امن، استحکام اور سکون کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور سفارت کاری و بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر دیرپا حل کے حصول میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2878</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/15/a7c39f6c-sdr-awn-mh-ee-kh-q-pst-sh-b-yn-lf-ch-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 09:36:18 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے طے پا گیا، دستخطی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2877</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2877" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ بالآخر طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقین نے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے جب کہ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کا کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ طے پانے کا اعلان سب سے پہلے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کیا۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں کہا کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2066268332832194810" data-url="https://x.com/CMShehbaz/status/2066268332832194810?ref_src=twsrc%5Etfw" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in…&lt;/p&gt;— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) &lt;a href=&quot;https://x.com/CMShehbaz/status/2066268332832194810?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;June 14, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://x.com/CMShehbaz/status/2066268332832194810?ref_src=twsrc%5Etfw</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیرِ اعظم پاکستان کے اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس کی تصدیق کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 'ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔ میں آبنائے ہرمز بغیر کسی ٹول کے مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دیتا ہوں اور امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دیتا ہوں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے معاہدے پر سب کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ اپنے بحری جہازوں کے انجن اسٹارٹ کر لیں اور تیل کی ترسیل شروع کر دیں۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/15/17964773-amrh-w-n-e-d-j-kht-l-e-t-p-qn-t-s-brh-y.webp" data-card-width="1179" data-card-height="706" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/15/17964773-amrh-w-n-e-d-j-kht-l-e-t-p-qn-t-s-brh-y.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی جانب سے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں معاہدہ طے پانے کی تصدیق کی اور کہا کہ دستخط کی باضابطہ تقریب جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ قطر کے ثالثوں نے تہران میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے مسودے پر اتفاق رائے کے لیے تقریباً 14 سے 15 گھنٹے طویل مذاکرات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل میں بہت وقت لگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کاظم غریب آبادی کے بقول 'ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مسودے کے متن میں حتمی ترامیم پیش کیں۔ بالآخر ان ترامیم کو قبول کر لیا گیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے متن کو حتمی شکل دے دی گئی۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ حتمی معاہدے پر 60 روز کے اندر مذاکرات ہوں گے جس کے دوران ایران کو 'کئی امور پر بات کرنی ہے اور اس کی اولین ترجیح اس پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">معاہدہ طے پانے کے اعلان کے بعد کئی عالمی رہنماؤں کی جانب سے اسے اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اور پیغامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ ایران معاہدے پر دستخط کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا: شہباز شریف</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں ہوگی جس کی میزبانی اسلام آباد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران نے لبنان سمیت ہر محاذ پر فوجی کارروائیوں کے مستقل اور فوری خاتمے کا اعلان کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہباز شریف نے کہا کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ امن اور مکالمے کی فتح ہے، سفارت کاری کی کامیابی اور جنگ کی تباہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیرِ اعظم پاکستان نے امریکی اور ایرانی قیادت کو مبارک باد پیش کی اور قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے کردار پر ان کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی قیمتوں میں کمی اور سونے کی قدر میں اضافہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے اور قیمتیں چار فیصد تک گر گئی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 84.02 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جب کہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل تک گِر گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب سونے کی قیمتیں بڑھی ہیں اور فی اونس سونا 4300 ڈالر تک جا پہنچا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2877</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/15/6cc51c42-amrh-w-n-e-d-j-kht-l-e-t-p-qn-t-s-brh-y.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 09:23:47 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ نے ایران پر طے شدہ 'شدید حملے' مؤخر کر کے ایک بار پھر جلد معاہدے کی امید ظاہر کر دی، کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا: تہران کا ردعمل</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2876</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2876" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران پر طے شدہ 'شدید حملے' مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر جلد معاہدہ طے پانے کی نوید سنائی ہے۔ تاہم تہران کا کہنا ہے کہ فی الحال معاہدے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمعرات کو امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ آج رات ایران پر شدید ترین حملے کرے گا۔ تاہم گزشتہ رات انہوں نے حملے مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اختتام ہفتہ تک ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ مارچ سے ایران کے ساتھ جلد معاہدہ طے پانے کے دعوے کرتے آ رہے ہیں اور متعدد مرتبہ یہ بات کر چکے ہیں۔ بعض اوقات وہ ایک، دو دن میں معاہدے پر دستخط ہونے کی بات بھی کرتے رہے ہیں۔ تاہم اب تک اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ 'ہم نے ابھی ایران جنگ کا ایک بہت بہترین تصفیہ طے کیا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بقول 'اس پر بہت جلد دستخط ہو سکتے ہیں اور جیسے ہی دستخط ہوئے، آبنائے ہرمز باضابطہ طور پر فوراً کھول دی جائے گی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوں گے جو اس اختتام ہفتہ پر بھی ہو سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے معاہدے کی منظوری دے دی ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ 'میں سمجھتا ہوں ان کا جواب ہاں میں ہے۔' </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ فی الحال معاہدے پر دستخط سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی میڈیا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ معاہدے کے بڑے حصے پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے لیکن ایران اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بقول 'ہم ابھی کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے جس کا متعلقہ فیصلہ ساز باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ روز کی دھمکی اور ٹرمپ کی بڑھتی مشکلات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو ایک بار پھر دھمکی دی تھی کہ وہ آج رات اس پر انتہائی شدید حملے کریں گے۔ ٹرمپ نے ایران کے خارگ جزیرے اور تیل و گیس کی تنصیبات پر قبضے کی بھی دھمکی دی تھی۔ خارگ پر ایران کی بیشتر تیل کی تنصیبات موجود ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران جنگ کا معاملہ ٹرمپ کے لیے امریکہ میں سیاسی دردِ سر بنا ہوا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں امریکی عوام میں ان کی سیاسی حمایت میں مسلسل کمی آ رہی ہے وہ بھی ایسے موقع پر جب ملک میں اسی سال مڈٹرم انتخابات ہونے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کے بعض اراکین سرعام ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکی عوام میں اس جنگ کی غیر مقبولیت کا انہیں بھاری سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور وہ کانگریس میں اکثریت کھو سکتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2876</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/12/45c6cd67-trmp-ne-a-t-shdh-hl-wkh-b-h-j-e-z-wy-t-fs-n-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 09:58:29 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران کے دوسرے دن بھی ایک دوسرے پر حملے، جنگ بندی معاہدہ خطرے میں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2873</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2873" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور ایران نے جمعرات کو دوسرے دن بھی ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں جس کے بعد دونوں کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے برقرار رہنے پر خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر تہران فوری طور پر امن معاہدہ نہیں کرتا تو وہ ایران پر مزید حملے کریں گے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی معاہدہ جو اپریل سے برقرار ہے، اب رواں ہفتے خطرے میں پڑ گیا ہے۔ حالیہ جھڑپوں کا آغاز اسی ہفتے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کی تباہی سے ہوا ہے جس کا الزام امریکہ نے ایران پر لگایا۔ گو کہ ایران نے ہیلی کاپٹر تباہ کرنے کی تردید کی مگر امریکہ نے گزشتہ روز کارروائی کرتے ہوئے ایران میں کئی مقامات پر بمباری کی جس کا تہران کی جانب سے بھی جواب دیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات کو کیے گئے حملوں میں ایرانی فوج کی نگرانی کی صلاحیتوں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی نظام کی سائٹس کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی تہران کی جانب سے 'بلاجواز جاری جارحیت' کے جواب میں کی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ نے کہا کہ کارروائی تہران میں رات گئے شروع کی گئی اور حملے تقریباً چار گھنٹوں تک جاری رہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو 'فاکس نیوز' کی رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے حملے روک دے گا۔ لیکن اگر ایرانی قیادت واشنگٹن کے ساتھ فوری طور پر معاہدے پر دستخط نہیں کرتی تو وہ شدید بمباری دوبارہ شروع کر دیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے کہا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں واشنگٹن کے 18 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاسداران انقلاب نے اردن میں الارزق ایئربیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور اس امریکی اڈے پر اس نے 12 بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی اعلیٰ فوجی کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے ایران کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دو جہازوں پر فائرنگ بھی کی گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز بند ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خطرات کے باوجود کمرشل جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی نیوز ایجنسیوں نے کئی شہروں میں دھماکے رپورٹ کیے ہیں جن میں سرک، کارگان، بندرعباس، مناب اور کرج شامل ہیں جو آبنائے ہرمز پر واقع ہیں۔ جب کہ ملک کے شمال میں واقع وارامن میں بھی دھماکے رپورٹ ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملے بھی بدستور جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں مزید حملے کیے ہیں جن میں 13 مزید افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2873</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/11/31e03af4-7k7zvtsygptwqyfux44t4.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 10:09:30 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>سال 2025 دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے زیادہ تنازعات کا سال رہا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/world/2872</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/world/2872" rel="standout" />
      <description>المی تنازعات پر نظر رکھنے والے ادارے 'پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آسلو' نے گزشتہ سال ہونے والے تنازعات کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 1946 کے بعد 2025 میں سب سے زیادہ تنازعات اور جنگیں ہوئی ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>المی تنازعات پر نظر رکھنے والے ادارے 'پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آسلو' نے گزشتہ سال ہونے والے تنازعات کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 1946 کے بعد 2025 میں سب سے زیادہ تنازعات اور جنگیں ہوئی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/world/2872</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/10/f521ed44-v4dus713l7ad0o23qhvhya.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 14:08:01 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>یقینی بنا رہے ہیں کہ پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہ پہنچ سکے: انڈیا کے آبی وسائل کے وزیر کا بیان</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2871</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2871" rel="standout" />
      <description>انڈیا کے آبی وسائل کے وزیر نے کہا ہے کہ حکومت یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ معطل ہونے کے بعد آئندہ کچھ برسوں میں انڈیا سے ایک بوند پانی بھی پاکستان نہ پہنچ سکے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کے مرکزی وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے منگل کو 'اے این آئی نیوز ایجنسی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ برسوں میں یہاں سے ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہیں جائے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اس چیز کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہدایات کے مطابق مستعدی سے کام کر رہا ہے۔ وزیرِ داخلہ امیت شاہ بھی اس پر توجہ دے رہے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ انڈیا نے گزشتہ برس پاکستان سے کشیدگی کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کے معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔ پاکستان اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2064365677020897411" data-url="https://x.com/hashtag/WATCH?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;&lt;a href=&quot;https://x.com/hashtag/WATCH?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;#WATCH&lt;/a&gt; | Delhi: On the decision to terminate the Indus Waters Treaty, Union Minister C.R. Patil says, “It still stands; rather, the treaty has been kept in abeyance. And since Prime Minister Modi took this decision, every effort is being made to ensure not a single drop flows… &lt;a href=&quot;https://t.co/vnEGNpvD0K&quot;&gt;pic.twitter.com/vnEGNpvD0K&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— ANI (@ANI) &lt;a href=&quot;https://x.com/ANI/status/2064365677020897411?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;June 9, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://x.com/hashtag/WATCH?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سندھ طاس معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان بہنے والے دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا فارمولا طے کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تین دریا پاکستان کے حصے میں آتے ہیں جب کہ تین دریا انڈیا کے حصے میں ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کہہ چکا ہے کہ اگر اس کے حصے کے دریاؤں کے پانی کو روکنے یا اس کا بہاؤ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو اسے 'جنگی اقدام' تصور کیا جائے گا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ 1960 میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ اب بھی قائم ہے اور اسے یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئی دہلی نے دریائے چناب پر دو منصوبوں کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پاکستان نے رواں ماہ کے آغاز میں الزام عائد کیا تھا کہ انڈیا پانی کو 'ہتھیار' کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مئی میں بھارت کی سرکاری کمپنی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے ایک مجوزہ سرنگ منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا جس کے تحت دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس کی جانب منتقل کیا جانا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے قبل جنوری میں بھارتی وزارتِ توانائی نے کہا تھا کہ دریائے چناب پر واقع سلال پاور اسٹیشن میں گاد نکالنے کا کام کیا جا رہا ہے جو انڈس واٹرز ٹریٹی (سندھ طاس معاہدہ) کے خاتمے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کے مطابق انڈیا کے موجودہ ڈیموں میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ دریاؤں کا پانی مکمل طور پر روک سکے یا اس کا رخ موڑ سکے۔ البتہ وہ پانی کے بہاؤ کے اوقات کو کسی حد تک متاثر کر سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے تو اس سے پاکستان کی زراعت اور مجموعی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایسے منصوبوں کے نتائج سامنے آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت کے حالیہ اقدامات نے پاکستان میں تشویش پیدا کی ہے لیکن دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں کسی بڑی اور فوری تبدیلی کا امکان فی الحال موجود نہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2871</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/10/667b85ed-qn-ba-rhe-n-p-wd-h-st-ch-d-a-yl-z-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 13:33:40 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>افغانستان کا پاکستانی فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں کا الزام، پاکستان کا 26 دہشت گرد ہلاک کرنے کا دعویٰ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/pakistan/2870</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/pakistan/2870" rel="standout" />
      <description>افغانستان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے بدھ کو اس کے تین صوبوں میں فضائی حملے کیے ہیں جن میں 13 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل ہیں۔  جب کہ دوسری جانب پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔</description>
      <category>پاکستان</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ پاکستان کے لڑاکا طیاروں نے ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور گھروں پر حملے کیے۔ ترجمان کے بقول کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں میں فضائی حملے کیے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ 11 بچے، ایک خاتون اور ایک معمر شخص ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 14 خواتین و بچے زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم انسانیت کے خلاف اس جرم اور جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2064534662882496737" data-url="https://t.co/wxFqlCZEbM" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Following an assault on a Frontier Constabulary Post in Hassan Khel, Peshawar, Pakistani airstrikes targeted militant infrastructure and camps in the southeastern Afghan provinces of Khost and Paktika ⤵︎ &lt;a href=&quot;https://t.co/wxFqlCZEbM&quot;&gt;pic.twitter.com/wxFqlCZEbM&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Anadolu English (@anadoluagency) &lt;a href=&quot;https://x.com/anadoluagency/status/2064534662882496737?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;June 10, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/wxFqlCZEbM</span></span></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں: وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کے جواب میں پاک افغان سرحدی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ افغانستان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے اس کے تین صوبوں میں فضائی حملے کیے ہیں جن میں 13 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بدھ کو اپنے بیان میں وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں، جن میں موسیٰ درہ میں ایف سی کی پوسٹ پر حملہ، شمالی وزیرستان میں فوجی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ اور بنوں میں پولیس اسٹیشن پر حملہ شامل ہیں، کے جواب میں کارروائی کی گئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں ان حملوں کے ماسٹر مائنڈز اور منصوبہ بندی کرنے والوں کے محفوظ ٹھکانوں کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2064614232579354701" data-url="https://t.co/rY0PGC6YIu" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;In the aftermath of recent terrorist incidents in Pakistan, including terrorist attack on Federal Constabulary Post in Musa Dara on 9 June 2026, Vehicle Borne Suicide Attacks on a Military Post in North Waziristan on 2 June 2026 and Police Station in Bannu on 9 May 2026, precise… &lt;a href=&quot;https://t.co/rY0PGC6YIu&quot;&gt;pic.twitter.com/rY0PGC6YIu&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) &lt;a href=&quot;https://x.com/TararAttaullah/status/2064614232579354701?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;June 10, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/rY0PGC6YIu</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیرِ اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں 26 انڈین اسپانسرڈ خوارج (ٹی ٹی پی کے جنگجو) ہلاک ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عطا تارڑ نے مزید کہا کہ چار اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا جن میں ایک ٹریننگ سینٹر، پناہ گاہ، اسلحہ خانہ اور فتنہ الخوارج کے کمانڈروں کے مراکز شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن اور سلامتی کی بات کرتا ہے لیکن ساتھ ہی ہمیں اپنے شہریوں کا تحفظ اور سلامتی یقینی بنانا بھی ہماری اولین ترجیح ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان افغانستان سے مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد افغان سرزمین پر پناہ لیتے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ افغانستان ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں ملکوں کے درمیان اس معاملے پر اختلافات کئی مہینوں سے برقرار ہیں اور اب تک کئی بار سرحدی جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے وقتاً فوقتاً افغانستان میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کے بھی کئی دور ہو چکے ہیں جو اب تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/pakistan/2870</link>
      <subcategory>پاکستان</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/10/e32f4cfb-pastn-e-r-khw-r-mn-fdy-hl-j-bch-13-shh-gh-z.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 10:20:46 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>آبنائے ہرمز کے قریب ہیلی کاپٹر کی تباہی کے بعد امریکہ کے ایران پر پھر حملے، ایران کا چار امریکی اہداف کو تباہ کرنے کا دعویٰ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2869</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2869" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور ایران کی منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک بار پھر جھڑپیں ہوئی ہیں اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے اہداف پر حملے کیے ہیں۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ کرنے کا الزام ایران پر عائد کیا جس کے بعد امریکی فوج نے ایران میں کئی مقامات پر بمباری کی۔ جواب میں ایران نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں کئی امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان حالیہ حملوں کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات پر بھی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ٹرمپ نے 'اے بی سی نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'میرا ماننا ہے کہ امریکہ کا ردعمل بہت سخت اور انتہائی طاقت ور ہونا چاہیے اور یہ ردعمل ایسا ہی تھا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں اس کے جزیرے قشم پر حملہ ہوا اور سرک شہر بھی نشانہ بنا۔ اس کے علاوہ بندرعباس اور آبنائے ہرمز پر واقع کئی اور علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک امریکی عہدے دار کے مطابق امریکہ نے ایران میں تقریباً 20 اہداف کو نشانہ بنایا اور ایران کے جوابی حملوں میں فائر کیے گئے لگ بھگ تمام ڈرونز اور میزائل بھی کامیابی سے روک لیے۔ عہدے دار کا کہنا تھا کہ امریکی تنصیبات پر فی الحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حملوں کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے ایک بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ کسی خطرے اور حملے کا جواب دینے سے نہیں چوکیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران نے جوابی حملوں میں بحرین، اردن اور کویت سمیت خطے میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں کے چار بڑے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے بحرین میں واقع امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے پر ڈرونز سے حملے کیے۔ پاسداران انقلاب نے کارروائیاں جاری رہنے کی صورت میں مزید سخت ردعمل دینے کی بھی دھمکی دی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بحرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق عوام کے تحفظ کے لیے سائرن بجائے گئے۔ بحرین کے حکام کے مطابق ملکی فضائی دفاعی نظام نے تمام حملوں کو روک لیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اردن میں امریکہ کی الارزق بیس پر بھی میزائل حملے کیے گئے۔ ان حملوں کا نشانہ ایف 35 طیاروں کے ہینگرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تھے۔ اس کے علاوہ کویت میں السالم فوجی اڈے کو بھی بنایا بنایا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کویت اور اردن کا کہنا ہے کہ ان کا دفاعی نظام ان حملوں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2869</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/10/85784d44-abnaye-hrmz-q-l-pt-t-ed-h-h-wn-ch-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 09:52:44 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>اسرائیل غزہ سے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے والے مریضوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے: غزہ کے محکمۂ صحت کا دعویٰ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2868</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2868" rel="standout" />
      <description>غزہ کی وزارتِ صحت نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ علاج کی غرض سے بیرونِ ملک جانے والے 17000 فلسطینیوں کے سفر میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس سے ان مریضوں کی اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے جو علاج کے منتظر ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ کی نائب وزیر صحت مہر شامیہ نے الشفا میڈیکل کمپلیکس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں نے 20 مئی تک 17 ہزار 757 مریضوں کو بیرونِ ملک علاج کے لیے ریفر کیا تھا۔ ان کے بقول تب سے صرف 3226 افراد ہی رفح بارڈر اور کرم ابو سالم بارڈرز کراسنگز کے ذریعے غزہ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں 1204 مریض تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کی دو سالہ جنگ کے نتیجے میں غزہ کا نظام صحت تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اسپتالوں اور طبی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچنے کے ساتھ ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ فروری میں امریکی سرپرستی میں ہونے والی جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت جزوی طور پر دوبارہ کھولی گئی تھی۔ یہ گزرگاہ مئی 2024 میں اسرائیلی فوج کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد تقریباً 20 ماہ تک بند رہی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد فروری کے آخر میں یہ راستہ دوبارہ بند کر دیا گیا تھا۔ مارچ اور اپریل میں محدود پیمانے پر اسے پھر جزوی طور پر بحال کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">21 مئی سے رفح کراسنگ صرف پیدل آمدورفت کے لیے محدود بنیادوں پر کھلی ہے جہاں اسرائیلی نگرانی میں روزانہ درجنوں مریضوں، زخمیوں اور انسانی ہمدردی کے کیسز کو باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے جب کہ ہزاروں مریض اب بھی غزہ میں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کے منتظر ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ کے صحت حکام کے مطابق علاج کے مستحق مریضوں اور باہر جانے کی اجازت پانے والوں کی تعداد میں بڑا فرق ایک خطرناک انسانی بحران کو جنم دے رہا ہے۔ اس سے مریضوں کی تکالیف بڑھ رہی ہیں اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">محکمۂ صحت کی ترجمان شامیہ نے کہا کہ اس بحران کی بنیادی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق طویل سیکیورٹی جانچ پڑتال اور سرحدی گزرگاہوں کے محدود دنوں میں کھلنے کی وجہ سے مریضوں کے انخلا میں نمایاں کمی آئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے بتایا کہ مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کے ذریعے سفر اب زیادہ سے زیادہ ہفتے میں صرف تین دن ممکن ہے جب کہ طبی انخلا کے لیے اسرائیل کے ساتھ واقع کرم شالوم کراسنگ کے ذریعے مصر جانے کے لیے ہفتے میں صرف ایک دن مختص کیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شامیہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات دراصل غزہ کے مریضوں کو بیرونِ ملک خصوصی طبی سہولیات تک رسائی سے روکنے کی ایک منظم پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے زور دیا کہ اگر غزہ کے اسپتالوں اور طبی مراکز کی بحالی اور جدید آلات سے لیس کرنے کا عمل تیز کیا جائے تو بڑی تعداد میں مریضوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر بھیجنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل نے 2007 سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ موجودہ جنگ کے نتیجے میں تقریباً 24 لاکھ آبادی میں سے 15 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں تقریباً 73 ہزار فلسطینی ہلاک جبکہ 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2868</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/9/4fb42f2d-asryl-ghzh-e-ej-bwn-m-dn-t-hr-h-st-d.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 16:42:27 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ کو ایک بار پھر ایران کے ساتھ معاہدہ دو، تین دن میں ہونے کی امید، مذاکرات امریکہ کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے نہیں ہو رہے: باقر قالیباف</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2867</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2867" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایک بار پھر امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ دو سے تین دن میں طے پا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">منگل کی صبح اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے ساتھ بات چیت کا عمل کشیدگی کے دوران بھی نہیں رکا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدہ ایک، دو دن میں طے پا سکتا ہے اور سب کچھ بہت اچھا چل رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا یہ بیان ایران اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملے بند کرنے کے اعلانات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین نے میرے توسط سے حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی اور اب ہم ایک بہت اچھے معاہدے کے آخری مراحل میں ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ کسی بھی شکل اور صورت میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔ معاہدہ طے پاتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور یہ بس دو سے تین دن میں ہو سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ صدر ٹرمپ پہلے بھی ایسے بیانات دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بہت قریب ہے۔ تاہم بارہا دعوؤں کے باوجود اب تک کسی ابتدائی معاہدے پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'مذاکرات صرف جنگ کے خاتمے کے لیے'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مذاکرات جنگ کے خاتمے اور دیرپا سیکیورٹی قائم کرنے کے لیے ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات سے امریکہ اور ایران کے تعلقات معمول پر آنے کی توقع نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">باقر قالیباف کا ایک آڈیو بیان ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پیر کو پوسٹ کیا گیا۔ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے مذاکرات اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے نہیں ہو رہے بلکہ ان کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور دیرپا سیکیورٹی کا قیام عمل میں لانا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">باقر قالیباف نے مزید کہا کہ سفارت کاری فوجی کارروائیوں کو نہیں روک سکی، اور فوجی کارروائیاں سفارت کاری کو نہیں روک سکیں۔ یہ دونوں ہتھیار اپنی ضرورت کے اعتبار سے استعمال کیے جاتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2867</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/9/935c0d48-trmp-w-a-b-h-n-e-st-ehd-n-dh-lq-f.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 10:31:26 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>فلپائن میں 7.8 شدت کا طاقت ور زلزلہ، 15 افراد ہلاک، سونامی الرٹ جاری</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2866</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2866" rel="standout" />
      <description>فلپائن کے جنوبی علاقوں میں پیر کو 7.8 شدت کے طاقتور زلزلے سے بھاری جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تقریباً 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ درجنوں زخمی ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جن میں لوگوں کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">زلزلہ فلپائن کے ساحلی علاقے جنرل سانٹوز سٹی کے قریب آیا جس کے بعد حکام کی جانب سے سونامی کے خدشے کے پیشِ نظر ساحلی آبادیوں کے رہائشیوں کو انخلا کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/8/79a0a715-flpayn-mn-78-shdt-tq-wr-zh-15-s-t-j.webp" data-card-width="800" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/8/79a0a715-flpayn-mn-78-shdt-tq-wr-zh-15-s-t-j.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکام کے مطابق انخلا کی وارننگ کے بعد ہزاروں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ جنرل سانتوز کا ایئرپورٹ بھی تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کے ابتدائی جھٹکوں کے  تقریباً دو گھنٹے بعد تک علاقے میں کئی طاقتور آفٹر شاکس محسوس کیے جاتے رہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوشل میڈیا پر زلزلے کی کئی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں عمارتوں کو تباہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی بین الاقوامی اداروں نے ویڈیوز کی تصدیق بھی کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سونامی کی پیش گوئی کرنے والے ایک امریکی ادارے 'دی پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر' نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد فلپائن، انڈونیشیا، پلاؤ، تائیوان اور پاپوا نیو گنی کے ساحلی علاقوں میں سونامی کی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلپائن کے پڑوسی ممالک انڈونیشیا اور ملائشیا نے بھی اپنے ساحلی علاقوں میں آباد افراد کو انخلا کی وارننگ جاری کی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ فلپائن بحرِ اوقیانوس کے 'رنگ آف فائر' میں موجود ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے فلپائن میں بھی زلزلے معمول کی بات ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ سال اکتوبر میں بھی فلپائن میں 7.4 اور 6.7 شدت کے زلزلے آئے تھے جن میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جب کہ اس سے چند روز قبل 6.9 شدت کے زلزلے سے فلپائن کے مرکزی صوبے سیبو میں 76 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 72 ہزار سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2866</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/8/f4e7a138-flpayn-mn-78-shdt-tq-wr-zh-15-s-t-j.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 12:47:45 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ کی نیتن یاہو کو مزید حملوں سے گریز کی ہدایت کے باوجود اسرائیل کے ایران پر حملے، تہران کا  دو فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2864</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2864" rel="standout" />
      <description>اسرائیل نے پیر کو ایران پر حملے کیے ہیں جس کے بعد تہران کی جانب سے بھی اسرائیل پر چند گھنٹوں میں دوسرا حملہ کیا گیا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیل اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر یہ پہلے حملے ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل نے یہ کارروائی گزشتہ روز شمالی اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کے جواب میں کی۔ ایران نے یہ حملہ بیروت میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ رات شمالی اسرائیل پر ایران کی جانب سے میزائل داغے گئے جسے اپریل کی جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کچھ دیر قبل یروشلم، وسطی اور جنوبی اسرائیل پر بھی مزید میزائل فائر کیے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایران پر مزید حملوں سے گریز کی ہدایت کی تھی۔ ایک اسرائیلی عہدے دار کے مطابق دونوں رہنماؤں کی اتوار کو ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی نیوز ویب سائٹ 'ایگزیوس' نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے رپورٹٖ کیا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کہا کہ وہ ایران پر مزید حملے نہ کریں کیوں کہ "ہم ایک معاہدے سے متعلق کچھ اچھا فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔"</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس معاملے پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم  صدر ٹرمپ نےحملوں سے چند گھنٹے قبل اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ 'اسرائیل کی جانب سے ایران پر نئے حملے امریکہ اور ایران کے معاہدے پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ فیصلے میں کروں گا، تمام فیصلے میں کروں گا نیتن یاہو نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم صدر ٹرمپ کی حملہ نہ کرنے کی ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے پیر کو تہران کے پیٹروکیمیکل پلانٹ پر حملہ کیا۔ اسرائیل کے مطابق اس نے ایران کے ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا اور دیگر فوجی اہداف پر بھی حملے کیے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعض ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے میں پلانٹ کے کئی حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ اسرائیل پر لبنان میں حملے روکنے پر بھی زور دے چکے ہیں۔ اس معاملے پر ان کی نیتن یاہو کے ساتھ تلخ کلامی کی بھی تفصیلات بھی منظر عام پر آئی تھیں۔ تاہم اس کے باوجود اسرائیل نے اتوار کو پھر بیروت کے علاقوں میں بھی حملے کیے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی جانب سے اسرائیلی اہداف پر سالوو میزائل فائر کیے گئے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ 'مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع دو اسرائیلی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق 'پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق سوموار کی صبح اسرائیلی فضائیہ کے تل نوف اور نواتیم ایئربیسز کو ہدف بنایا گیا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ان کے حملوں کو ایک وارننگ سمجھا جائے۔ اگر جارحیت جاری رہی تو وہ خطے میں اسرائیلی و امریکی اہداف کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2864</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/8/1de75fb8-trmp-nt-ahw-zd-hln-se-bj-y-f-d-sh-e.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 10:09:14 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> ’سیاحت اقتصادی ترقی کا نیا ستون‘، انگولا میں عالمی سیاحت سرمایہ کاری سربراہی اجلاس</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2862</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2862" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>انگولا عالمی سرمایہ کاروں کو ایک واضح اور پراعتماد پیغام دے رہا ہے کہ سیاحت اب ملک کی ترقیاتی حکمتِ عملی کا ایک ثانوی شعبہ نہیں رہی، بلکہ اقتصادی تنوع، بین الاقوامی شناخت اور طویل المدتی ترقی کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک ستون کے طور پر ابھر رہی ہے۔</p><p><br></p><p>انگولا سیاحت کے شعبے کو اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے ایک اہم محرک کے طور پر پیش کرنے کی اپنی حکمت عملی کو مزید آگے بڑھا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا 18 اور 19 جون 2026 کو دارالحکومت لوانڈا میں منعقد ہوگی۔</p><p>سرکاری خبر رساں ادارے انگوپ کے مطابق انگولا جون میں اس بین الاقوامی سیاحتی سرمایہ کاری کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ جبکہ انگولا کے روزنامہ اخبار ’ڈی انگولا‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ورلڈ ٹورازم فورم انسٹیٹیوٹ کے صدر بلوت باغجی نے صدر ژواؤ لورینسو سے صدارتی دفتر میں ملاقات کی۔ ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سربراہی اجلاس نہ صرف سیاحت بلکہ حکومتی سطح پر بھی ایک اہم ترجیح بن چکا ہے۔</p><p>رپورٹ کے مطابق یہ اقدام محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت انگولا خود کو عالمی سطح پر ایک پرکشش سیاحتی اور سرمایہ کاری کے مقام کے طور پر متعارف کرا رہا ہے۔ حکومت سیاحت کو صرف تشہیری شعبہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، روزگار کے مواقع، برانڈنگ اور پائیدار اقتصادی نمو کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔</p><p>انگولا کے صدر ژواؤ لورینسو اس حکمت عملی کی کھل کر حمایت کر چکے ہیں۔ مارچ 2026 میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق حکومت نے سیاحت کے ترجیحی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے تقریباً 500 ملین یورو مختص کیے ہیں۔ اس پیکیج میں سڑکوں، بجلی اور صفائی ستھرائی کے منصوبے شامل ہیں، جن کا مقصد کابو لیڈو، موسولو، کالاندولا اور اوکاوانگو کے انگولائی حصے سمیت اہم سیاحتی مقامات میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔</p><p>ان حالات میں متوقع ہے کہ یہ سربراہی اجلاس سیاحت میں سرمایہ کاری، اسٹریٹجک شراکت داریوں اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے انگولا کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر اعلیٰ سطحی مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔</p><p><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/3/95002d74-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp" data-card-width="1251" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/3/95002d74-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp" data-card-caption="’سیاحت اقتصادی ترقی کا نیا ستون‘، انگولا میں عالمی سیاحت سرمایہ کاری سربراہی اجلاس"></p><p>افریقی ممالک جہاں سیاحت کو معیشت میں تنوع اور طویل المدتی استحکام کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، وہیں انگولا بھی اس شعبے میں زیادہ واضح وژن اور بلند عزائم کے ساتھ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p><p>انگولا کے صدر ژواؤ لورینسو نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک پیداواری سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے اور اصلاحات، مضبوط ادارہ جاتی تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرُعزم ہے۔</p><p>ان کا کہنا ہے کہ افریقی ملک انگولا سنجیدہ، دور اندیش اور شراکت داری کے لیے آنے والے سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ صدر لورینسو کے مطابق حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے اور بین الاقوامی شراکت داروں کو محفوظ اور کامیاب کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔</p><p><br></p><p>صدر نے کہا کہ سیاحت ان شعبوں میں شامل ہے جن کے ذریعے انگولا اپنی قومی صلاحیتوں کو روزگار، اقتصادی ترقی اور عالمی مسابقت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔</p><p><br></p><p>دوسری جانب انگولا کے وزیر سیاحت مارسیو ڈی جیسس لوپس ڈینیئل نے بھی ملک کی اقتصادی تنوع اور پائیدار ترقی میں سیاحت کے کردار کو کلیدی قرار دیا ہے۔</p><p>برلن میں منعقدہ ’آئی ٹی بی‘ برلن کے دوران ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سیاحت کو تیل پر انحصار کم کرنے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، مقامی آبادی کی معاونت اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔</p><p>وزیر سیاحت کے مطابق انگولا سیاحت کے شعبے میں ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صرف ملک کے قدرتی اور ثقافتی اثاثوں کو فروغ دینا نہیں بلکہ انہیں پائیدار سرمایہ کاری، مضبوط بین الاقوامی شراکت داریوں اور طویل المدتی اقتصادی فوائد میں تبدیل کرنا ہے۔</p><p>انہوں نے کہا کہ گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انگولا اعتماد، وژن اور واضح حکمت عملی کے ساتھ دنیا کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہے۔</p><p><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/3/9872233a-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp" data-card-width="1256" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/3/9872233a-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp"></p><p>ورلڈ ٹورازم فورم انسٹیٹیوٹ کے صدر بلوت باغجی نے کہا ہے کہ انگولا سیاحت اور سرمایہ کاری کے میدان میں ایک نئے اور اہم دور میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ملک خود کو صرف ایک سیاحتی منزل کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط سرمایہ کاری کی کہانی کے طور پر متعارف کرا رہا ہے۔</p><p>انہوں نے کہا کہ 18 اور 19 جون 2026 کو لوانڈا میں منعقد ہونے والا گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا عالمی سطح پر ملک کو مواقع، شراکت داری اور طویل المدتی وژن کے تناظر میں پیش کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔</p><p>بلوت باغجی کے مطابق ’انگولا صرف ایک ابھرتی ہوئی سیاحتی منزل نہیں بلکہ سیاحت میں سرمایہ کاری کے لیے ایک سنجیدہ اور پرکشش موقع بن کر سامنے آ رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ انگولا کے پاس وہ تمام عناصر موجود ہیں جو اسے افریقہ کے نمایاں سیاحتی سرمایہ کاری مراکز میں شامل کر سکتے ہیں۔‘</p><p><br></p><p>انہوں نے کہا کہ انگولا کی سیاحتی صلاحیت کو صرف سیاحوں کی آمد تک محدود نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے معیشت کے وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، جس میں ہوٹل انڈسٹری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، فضائی رابطے، سرمایہ کاروں کا اعتماد، بین الاقوامی تشہیر اور پائیدار اقتصادی ترقی شامل ہیں۔</p><p><br></p><p>بلوت باغجی کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں سیاحت صرف سیاحوں کی تعداد کا نام نہیں بلکہ یہ سرمایہ کاری، روزگار، عالمی شناخت اور پائیدار اقتصادی قدر پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔</p><p>انہوں نے مزید کہا کہ انگولا کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ ایسا نیا ماڈل تشکیل دے جس میں سیاحت اقتصادی تنوع کو فروغ دے، عالمی سطح پر ملک کی شناخت مضبوط کرے اور نجی شعبے کے ساتھ بامعنی شراکت داریوں کی بنیاد رکھے۔</p><p>ماہرین کے مطابق اس سربراہی اجلاس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افریقہ بھر میں سیاحت کو محض ایک موسمی یا تشہیری سرگرمی کے بجائے قومی ترقی، بین الاقوامی تشخص اور نجی شعبے کی شمولیت کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p><p>رپورٹس کے مطابق انگولا کی موجودہ حکومتی پالیسیوں، ادارہ جاتی حمایت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک خود کو اس نئے اور مسابقتی منظرنامے میں ایک مضبوط مقام دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p><p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا کی اصل اہمیت صرف بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور شراکت داروں کو لوانڈا لانے تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ اس سے پیدا ہونے والی نئی شراکت داریوں، ترقیاتی منصوبوں اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے مواقع میں بھی مضمر ہے۔</p><p><br></p><p>ان پیش رفتوں کے تناظر میں انگولا بتدریج افریقہ کے ان ممالک میں شامل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جنہیں سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ابھرتے ہوئے اہم مراکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2862</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/3/febe87b2-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 04:40:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکی ریاست فلوریڈا نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا، چیٹ جی پی ٹی پر سنگین الزامات
</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/technology/2863</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/technology/2863" rel="standout" />
      <category>ٹیکنالوجی</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>امریکی ریاست فلوریڈا نے پیر کو مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے چیٹ باٹ چیٹ جی پی ٹی سے کئی قسم کے نقصانات ہو سکتے ہیں۔ کمپنی نے ممکنہ خطرات سے آگاہی کے باوجود ایک غیر محفوظ پروڈکٹ جاری کی۔</p><p>امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ریاست فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز اُتھمائر کی جانب سے دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ماس شوٹنگ کرنے والوں کی مدد کی۔ بعض صارفین کو خودکشی کی ترغیب دی، تنقیدی سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کیا اور بچوں میں لت لگنے میں بھی کردار ادا کیا۔</p><p><br></p><p>مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ مبینہ نقصانات اوپن اے آئی کی مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے شعبے میں برتری حاصل کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔</p><p>درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’ان نقصانات کی طویل فہرست چیٹ باٹ بنانے والوں کی مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتنے اور بھاری مالی فوائد حاصل کرنے کی خواہش سے جڑی ہوئی ہے۔‘</p><p>مقدمے میں اوپن اے آئی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حفاظتی خدشات کے باوجود چیٹ جی پی ٹی کو عوام کے لیے جاری کرنے کی اجازت دی۔</p><p>یہ قانونی کارروائی اپریل میں شروع ہونے والی ایک فوجداری تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں استغاثہ نے گزشتہ سال فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں چیٹ جی پی ٹی کے مبینہ کردار کا جائزہ لیا تھا۔</p><p>حکام کے مطابق ملزم فینکس اکنر نے حملے کی منصوبہ بندی میں مدد کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا تھا۔ تاہم ان الزامات پر اوپن اے آئی کا مؤقف فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/technology/2863</link>
      <subcategory>ٹیکنالوجی</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/4/61551da1-amr-st-flwd-ne-p-ay-kh-qdh-cht-j-z.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 01:20:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>استنبول فنانشل سینٹر نے ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں تین بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کر لیے
</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2861</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2861" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>استنبول فنانشل سینٹر (آئی ایف سی ) نے امریکی ادارے انٹرنیشنل ایوارڈ ایسوسی ایٹ (آئی اے اے ) کی جانب سے منعقدہ ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں تین مختلف شعبوں میں ایوارڈز حاصل کر کے عالمی رئیل سٹیٹ سیکٹر میں ایک اہم کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔</p><p>رئیل اسٹیٹ، کنسٹرکشن اور انٹیریئر ڈیزائن کے شعبوں میں دنیا کے نمایاں منصوبوں کا جائزہ لینے والے اس بین الاقوامی پروگرام میں استنبول فنانشل سینٹر کو کمرشل ہائی رائز، ’مکش یوز، آفس ڈیویلپمنٹ  کیٹیگریز میں اعزازات سے نوازا گیا۔</p><p>بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے مربوط ایک مضبوط ماحولیاتی نظام فراہم کرنے کے لیے قائم استنبول فنانشل سینٹر نے ان ایوارڈز کے ذریعے خود کو عالمی معیار کے رئیل اسٹیٹ، دفتری اور کثیر المقاصد ترقیاتی منصوبے کے طور پر مزید نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ </p><p>گزشتہ پانچ برسوں میں مکمل ہونے والے منصوبوں کو تخلیقی صلاحیت، معیار اور وژن کی بنیاد پر جانچنے والے ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں استنبول فنانشل سینٹر نے اپنے مربوط شہری منصوبہ بندی کے ماڈل کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔</p><p><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/2/e4f76343-astnbwl-fsh-tr-e-y-p-dz-mn-q-e-.webp" data-card-width="1024" data-card-height="768" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/2/e4f76343-astnbwl-fsh-tr-e-y-p-dz-mn-q-e-.webp" data-card-caption="استنبول فنانشل سینٹر نے ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں تین بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کر لیے">رہائشی، تجارتی، دفتری، تفریحی اور عوامی سہولیات کو ایک ہی جامع منصوبے کے تحت یکجا کرنے والے استنبول فنانشل سینٹر کو مکسڈ یوز ڈیویلپمنٹ اور کمرشل ہائی رائز کیٹیگریز میں اعلیٰ ترین اعزاز ’پلاٹینم ونر‘ دیا گیا۔</p><p>اسی طرح دفتری ڈیزائن، صارفین کے تجربے اور اعلیٰ معیار کے ورک اسپیسز کے اعتراف میں آفس ڈیویلپمنٹ کیٹیگری میں ’گولڈ ونر‘ ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔</p><p><br></p><h4>استنبول فنانشل سینٹر کیا ہے؟</h4><p><br></p><p>بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ مربوط ایک مضبوط مالیاتی ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا استنبول فنانشل سینٹر قلیل مدت میں علاقائی اور عالمی مالیاتی مرکز بننے کے وژن کے تحت کام کر رہا ہے۔</p><p>اس مرکز میں سرکاری و نجی بینکوں، اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیوں، بروکریج اداروں، انشورنس کمپنیوں اور پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ایک ہی جگہ پر جمع کیا گیا ہے۔</p><p>ترکیہ کے مرکزی بینک (سی بی آر ٹی) اور بینکنگ ریگولیشن اینڈ سپرویژن ایجنسی (بی آر ایس اے) سمیت کئی اہم مالیاتی ادارے پہلے ہی یہاں منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ کیپیٹل مارکیٹس بورڈ آف ترکیہ (سی بی ایم) اور بورسا استنبول کی بھی 2027 تک یہاں منتقلی متوقع ہے۔</p><p>1.3 ملین مربع میٹر دفتری رقبے، 100 ہزار مربع میٹر تجارتی و سماجی سرگرمیوں کے لیے مختص علاقے اور ایک کانگریس سینٹر پر مشتمل یہ منصوبہ کاروباری برادری کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک جامع ماحول فراہم کرتا ہے۔</p><p>سمارٹ سٹی تصور کے تحت تیار کیا گیا استنبول فنانشل سینٹر اعلیٰ آپریشنل استحکام کے ساتھ ترکیہ کی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والا ایک اسٹریٹجک مرکز بن چکا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2861</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/2/30600b10-astnbwl-fsh-tr-e-y-p-dz-mn-q-e-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 16:39:38 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ ایران معاہدے میں بڑی پیش رفت، ٹرمپ کا 'زیادہ تر معاملات طے پا جانے' کا بیان: اب تک کیا تفصیلات سامنے آئی ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2860</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2860" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک امن معاہدے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر 'زیادہ تر مذاکرات مکمل' ہو چکے ہیں جس سے یہ توقعات بڑھ گئی ہیں کہ تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی حتمی تفصیلات اور باقی نکات پر بات چیت جاری ہے اور جلد اعلان کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹس کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی میں توسیع، ایرانی جہاز رانی پر امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کا فریم ورک شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق معاملات پر آئندہ 30 سے 60 دن کے دوران مزید مذاکرات ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اتوار تک مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے تاہم یہ ابھی حتمی نہیں۔ روبیو نے یہ عندیہ بھی دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج مزید کوئی اعلان کر سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> دوسری جانب ایک سینئر ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اگر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اس مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی تو اسے حتمی توثیق کے لیے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس بھیجا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بعض اہم شقوں پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ادھر اسرائیلی سیاست دان بینی گینٹز نے لبنان میں جنگ بندی کو ایران معاہدے کا حصہ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے لیے ایسا کرنا اسٹریٹجک غلطی ہوگی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ اسرائیل کو لبنان سمیت ہر خطرے کے خلاف کارروائی کی آزادی حاصل رہنی چاہیے جس پر ٹرمپ نے اتفاق کیا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجوزہ معاہدے کی تفصیلات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے مفاہمی یادداشت کی کچھ تفصیلات اپنے ذرائع کے حوالے سے شائع کی ہیں جن کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایرانی تیل پر بعض پابندیوں میں نرمی کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے تیار ہے‘ کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت سے قبل بھی ہم نے اعلان کیا تھا اور آج دوبارہ اسے دہرانے جا رہے ہیں کہ ہم دنیا کو یہ یقین دلانے کے لیے تیار ہیں کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ یورینیم افزودگی اس کا حق ہے۔ تاہم مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کی افزودگی کی سطح بجلی پیدا کرنے کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے میں ایران کی جوہری پروگرام سے متعلق کوئی یقین دہانی شامل نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ کے مطابق ایران نے معاہدے کے مسودہ میں اپنے کسی بھی جوہری مواد کی حوالگی سے متعلق کوئی وعدہ نہیں کیا جب کہ خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ مغربی میڈیا اس کے برعکس خبریں دے رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تسنیم کے مطابق موجودہ مسودہ صرف جنگ کے خاتمے کے معاملے تک محدود ہے اور اس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق مجوزہ ڈرافٹ میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران یا اس کے اتحادیوں پر حملہ نہیں کریں گے جبکہ ایران بھی پیشگی حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہوگا:</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1۔ جنگ کا باضابطہ خاتمہ</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2۔ آبنائے ہرمز بحران کا حل</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">3۔ وسیع تر معاہدے کے لیے 30 روزہ مذاکراتی عمل، جس میں توسیع بھی ممکن ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی ختم ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ اگر معاہدے کا خاکہ منظور ہو گیا تو آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی اور کسی قسم کا ٹول ٹیکس نہیں ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تسنیم کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت سے متعلق کسی بھی تبدیلی کا انحصار امریکہ کی جانب سے دیگر وعدوں پر عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔ ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ پابندیوں کے باعث منجمد کیے گئے اس کے بعض فنڈز پہلے مرحلے میں بحال کیے جائیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس ہفتے اختلافات میں کمی آئی ہے، تاہم اب بھی کئی معاملات ایسے ہیں جن پر ثالثوں کے ذریعے مزید بات چیت ضروری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے سب سے اہم مسئلہ امریکی حملوں کے خطرے کا خاتمہ اور لبنان میں تنازع کا حل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے دوران ایرانی مسلح افواج نے اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کر لی ہیں، اور اگر امریکہ نے جنگ دوبارہ شروع کی تو اس کے نتائج پہلے سے زیادہ سخت اور تلخ ہوں گے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2860</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/24/f01ba990-amrh-n-ede-n-br-psh-ft-t-z-l-t-j-s-s-y-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Sun, 24 May 2026 16:10:49 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان نے ایران - امریکہ مذاکرات کی کوششیں تیز کر دیں، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے دورۂ تہران کا امکان</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2858</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2858" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک کی کیفیت آنے اور ٹرمپ کی جانب سے حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں کے بعد پاکستان نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی اور امن مذاکرات کی اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تہران کا کہنا ہے کہ وہ واشنگٹن کے حالیہ جوابات کا جائزہ لے رہا ہے جب کہ ٹرمپ نے ایران کو چند دن کا وقت دیتے ہوئے دوبارہ حملے شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس صورتِ حال میں پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ایران کے دوروں کو بھی خاصی اہمیت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ وہ ایک ہفتے میں دوسری بار ایران کا دورہ کر رہے ہیں اور اب بھی تہران میں موجود ہیں جہاں ان کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں جاری ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ایران کے دورے پر روانہ ہو سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کو مذاکرات سے آگاہ تین ذرائع نے بتایا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر جمعرات کو فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ تہران کا دورہ کریں گے یا نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے قبل ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی 'اسنا' نے بھی کہا ہے کہ جنرل عاصم منیر مشاورت کے لیے جمعرات کو ایران کا دورہ کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے ایک ذریعے نے بتایا کہ 'ہم ایران میں مختلف گروپس کے ساتھ بات کر کے رابطوں کو ترتیب میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ چیزیں تیز ہو سکیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ 'ٹرمپ کا صبر جواب دے رہا ہے جو تشویش ناک ہے لیکن ہم رابطے تیز کرنے پر کام کر رہے ہیں جن کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان پیغام رسانی ہو رہی ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ ایران نے رواں ہفتے امریکہ کو اپنی نئی تجاویز بھجوائی تھیں۔ دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں جن میں بہت بڑا فرق ہے جس کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2858</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/21/7d7c8e12-pastn-e-r-mh-dh-wshn-z-d-a-chf-jl-es-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 12:05:29 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>صمود فلوٹیلا کے رضاکاروں سے بدسلوکی پر اسرائیل کو عالمی تنقید کا سامنا، اسرائیلی وزیر کے خلاف ملک کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2857</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2857" rel="standout" />
      <description>گلوبل صمود فلوٹیلا کے حالیہ قافلے میں شامل سینکڑوں رضاکاروں کی گرفتاری کے بعد اسرائیل میں ان کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کیے جانے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں جس پر عالمی برادری کا سخت ردعمل آیا ہے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی فوج نے رواں ہفتے غزہ جانے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 428 ایکٹیوسٹس کو بین الاقوامی سمندر سے گرفتار کر کے اسرائیل کے اشدود پورٹ پر منتقل کر دیا تھا۔ ان میں 78 ترک شہری اور کچھ پاکستانی رضاکار بھی شامل ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گرفتار افراد کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جن میں ان کے ساتھ غیر انسانی اور غیر مناسب سلوک کیا جا رہا ہے۔ رضاکاروں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا جب کہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر بین گویر ان کا مذاق اڑاتے اور اشتعال انگیزی کرتے نظر آئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی فوجیوں نے رضاکاروں کو دھکے دیے، انہیں زدوکوب کیا اور مختلف نفسیاتی حربوں سے پریشان کرنے کی کوشش کی جب کہ بین گویر اس پر اسرائیلی فوجیوں کی تعریف کرتے رہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین گویر کے سامنے ایک خاتون رضاکار نے 'فلسطین کو آزاد کرو' کا نعرہ لگایا تو انہیں دھکا دے کر نیچے گرا دیا گیا جس پر اسرائیلی وزیر نے فوجی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ 'ان سے ایسے ہی نمٹنا چاہیے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2057046925417824697" data-url="https://t.co/7Hf8cAg7fC" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;iw&quot; dir=&quot;rtl&quot;&gt;ככה אנחנו מקבלים את תומכי הטרור&lt;br&gt;&lt;br&gt;Welcome to Israel 🇮🇱 &lt;a href=&quot;https://t.co/7Hf8cAg7fC&quot;&gt;pic.twitter.com/7Hf8cAg7fC&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— איתמר בן גביר (@itamarbengvir) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/itamarbengvir/status/2057046925417824697?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 20, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/7Hf8cAg7fC</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین گویر اس کے بعد قومی پرچم لہرا کر اسرائیل زندہ باد کے نعرے بھی لگاتے رہے اور گرفتار رضاکاروں کے ساتھ اشتعال انگیزی کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے یہ تمام مناظر خود اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے اور رضاکاروں پر طنز کرتے ہوئے 'ویلکم ٹو اسرائیل' لکھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گرفتار رضاکاروں کی ان  تصاویر اور ویڈیوز پر دنیا بھر سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا جب کہ عالمی برادری نے بھی اسرائیل کے ان اقدامات پر آواز اٹھائی ہے۔ خود اسرائیل کے اندر بھی اس عمل کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور بین گویر پر تنقید کی جا رہی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">عالمی ردعمل</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اشدود پورٹ پر گرفتار رضاکاروں کے ساتھ نامناسب رویے، اشتعال انگیزی کی کوششوں اور غیر انسانی سلوک پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت تنقید کی گئی۔ کئی یورپی ممالک، جو اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی پر مبنی کارروائیوں کے حامی بھی ہیں، بھی اس واقعے پر ردعمل دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے فلوٹیلا اراکین کو غیر قانونی طور پر روکنے جانے، انہیں گرفتار کرنے اور حراست کے دوران بدسلوکی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ نے بھی اسرائیلی اقدامات اور گرفتار اراکین کے ساتھ بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے بین گویر کی حرکتوں کو بربریت کا اظہار قرار دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فرانس کے وزیرِ خارجہ نے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/5/21/ba1f2f8c-smwd-flta-e-rdn-s-b-p-y-e-tnq-z-kh-h-a-.webp" data-card-width="800" data-card-height="450" data-card-path="/piri/upload/3/2026/5/21/ba1f2f8c-smwd-flta-e-rdn-s-b-p-y-e-tnq-z-kh-h-a-.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسپین نے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسرائیلی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ میں طلب کیا ہے۔ اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے درخواست کی ہے کہ یورپی یونین بین گویر پر پابندی عائد کرے جس سے وہ یورپی ملکوں کا سفر نہ کر سکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی سفیر کو طلب کریں گی۔ انہوں نے بھی اسرائیل سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیدر لینڈز کے وزیرِ اعظم نے بھی اسرائیلی سفیر کی طلبی کا اعلان کیا ہے اور اسے 'ناقابل قبول سلوک' قرار دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کینیڈا کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان 'پریشان کن' تصاویر پر اسرائیلی سفیر کی طلبی ہونی چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فن لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی سفیر سے اس معاملے پر وضاحت طلب کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوبی کوریا کے صدر نے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو ان کے ملک میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی گرفتاری کے امکان پر غور کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آسٹریا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفیر کو اس پر اپنے مؤقف سے آگاہ کر دیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولینڈ کے وزیرِ خارجہ نے اہنے شہریوں کے لیے انصاف اور اسرائیلی حکام کے لیے سزا کا مطالبہ کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئرلینڈ نے قافلے میں شریک اپنے شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقوامِ متحدہ نے گرفتار ایکٹیوسٹس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل میں بھی بین گویر پر تنقید</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیدون سعار نے بین گویر کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'اس شرم ناک مظاہرے کے ساتھ آپ نے جان بوجھ کر ہمارے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہے۔ نہیں، آپ اسرائیل کا چہرہ نہیں ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جواب میں قومی سلامتی کے وزیر بین گویر نے وزیرِ خارجہ پر 'دہشت گردی کے حامیوں کے سامنے جھکنے' کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 'سعار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسرائیل اب قربانی کا بکرا نہیں ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے گرفتار ایکٹیوسٹس کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ نیتن یاہو نے بھی بین گویر کی اشتعال انگیز حرکتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ اسرائیل کی اقدار اور اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم بعض وزرا بین گویر کے حق میں بھی بیانات دیتے نظر آئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ یہ انفرادی واقعہ نہیں ہے۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ نے بین گویر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جو غزہ کا محاصرہ توڑنے آتے ہیں، ان کے ساتھ یہ سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'دہشت گردی کے حامیوں کا ٹھکانہ جیل ہے۔ لیکن ظاہر ہے ہم انہیں ان کے آبائی وطن واپس بھیج دیں گے۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2857</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/21/495a4597-flwta-s-e-th-ry-mn-bd-p-e-kh-z-n-q-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 11:28:06 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کاکروچ جنتا پارٹی: انڈیا میں شروع ہونے والی یہ تحریک کیا ہے جس کے فالوورز صرف پانچ دن میں بی جے پی سے زیادہ ہو گئے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2856</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2856" rel="standout" />
      <description>اگر آپ بھی بے روزگار، سست اور نکمے ہیں تو کاکروچ جنتا پارٹی جوائن کر سکتے ہیں۔ انڈیا میں جین زیز نے ایک طنزیہ تحریک شروع کی ہے جس کا نام بھارتیہ جنتا پارٹی کی پیروڈی پر کاکروچ جنتا پارٹی رکھا گیا ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انسٹاگرام پر اس پارٹی کے فالوورز صرف پانچ دن میں بی جے پی کے فالوورز سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ اب تک اس کے انسٹا اکاؤنٹ کو ایک کروڑ 20 لاکھ لوگ فالو کر چکے ہیں جب کہ وی سائٹ پر بھی لاکھوں افراد اس کی رکنیت کے لیے رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اس کے نام میں کاکروچ کہاں سے آیا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے 15 مئی کو ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ یعنی لال بیگوں سے تشبیہ دی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="DYhI43cAWPc" data-url="https://www.instagram.com/reel/DYhI43cAWPc/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-embed-type="instagram" contenteditable="false" data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DYhI43cAWPc/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;instagram-media&quot; data-instgrm-captioned=&quot;&quot; data-instgrm-permalink=&quot;https://www.instagram.com/reel/DYhI43cAWPc/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; data-instgrm-version=&quot;14&quot; style=&quot; background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);&quot;&gt;&lt;div style=&quot;padding:16px;&quot;&gt; &lt;a href=&quot;https://www.instagram.com/reel/DYhI43cAWPc/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; style=&quot; background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;&quot; target=&quot;_blank&quot;&gt; &lt;div style=&quot; display: flex; flex-direction: row; align-items: center;&quot;&gt; &lt;div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;&quot;&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;padding: 19% 0;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;&quot;&gt;&lt;svg width=&quot;50px&quot; height=&quot;50px&quot; viewBox=&quot;0 0 60 60&quot; version=&quot;1.1&quot; xmlns=&quot;https://www.w3.org/2000/svg&quot; xmlns:xlink=&quot;https://www.w3.org/1999/xlink&quot;&gt;&lt;g stroke=&quot;none&quot; stroke-width=&quot;1&quot; fill=&quot;none&quot; fill-rule=&quot;evenodd&quot;&gt;&lt;g transform=&quot;translate(-511.000000, -20.000000)&quot; fill=&quot;#000000&quot;&gt;&lt;g&gt;&lt;path d=&quot;M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631&quot;&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;padding-top: 8px;&quot;&gt; &lt;div style=&quot; color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;&quot;&gt;View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;padding: 12.5% 0;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;&quot;&gt;&lt;div&gt; &lt;div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;margin-left: 8px;&quot;&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot; width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;margin-left: auto;&quot;&gt; &lt;div style=&quot; width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot; width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;&quot;&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=&quot; color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;&quot;&gt;&lt;a href=&quot;https://www.instagram.com/reel/DYhI43cAWPc/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; style=&quot; color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;&quot; target=&quot;_blank&quot;&gt;A post shared by Cockroach Janta Party (@cockrochjantaapartey)&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(243, 68, 125); background-color: black;"><span>https://www.instagram.com/reel/DYhI43cAWPc/?utm_source=ig_embed&amp;utm_ca</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعد ازاں جسٹس سوریا کانت نے اپنے بیان پر وضاحت بھی دی اور کہا کہ میڈیا کے ایک حصے نے ان کی باتوں کو غلط انداز میں پیش کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس بیان کے بعد انڈیا میں نوجوانوں کی طرف سے کافی احتجاج بھی ہوا اور اسی احتجاج کے طور پر 30 سالہ ابھیجیت ڈپکے نے طنزیہ طور پر کاکروچ جنتا پارٹی کا اکاؤنٹ بنا دیا جو دیکھتے ہی دیکھتے اتنا مقبول ہو گیا کہ اب انڈین نوجوان اس پر ریلز اور میمز بنا رہے ہیں اور خود کو اس موومنٹ سے جوڑ رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کئی معروف شخصیات نے بھی ابھیجیت دیپکے کی اس مہم کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="DYgwiE_kVdK" data-url="https://www.instagram.com/p/DYgwiE_kVdK/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-embed-type="instagram" contenteditable="false" data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DYgwiE_kVdK/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;instagram-media&quot; data-instgrm-captioned=&quot;&quot; data-instgrm-permalink=&quot;https://www.instagram.com/p/DYgwiE_kVdK/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; data-instgrm-version=&quot;14&quot; style=&quot; background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);&quot;&gt;&lt;div style=&quot;padding:16px;&quot;&gt; &lt;a href=&quot;https://www.instagram.com/p/DYgwiE_kVdK/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; style=&quot; background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;&quot; target=&quot;_blank&quot;&gt; &lt;div style=&quot; display: flex; flex-direction: row; align-items: center;&quot;&gt; &lt;div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;&quot;&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;padding: 19% 0;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;&quot;&gt;&lt;svg width=&quot;50px&quot; height=&quot;50px&quot; viewBox=&quot;0 0 60 60&quot; version=&quot;1.1&quot; xmlns=&quot;https://www.w3.org/2000/svg&quot; xmlns:xlink=&quot;https://www.w3.org/1999/xlink&quot;&gt;&lt;g stroke=&quot;none&quot; stroke-width=&quot;1&quot; fill=&quot;none&quot; fill-rule=&quot;evenodd&quot;&gt;&lt;g transform=&quot;translate(-511.000000, -20.000000)&quot; fill=&quot;#000000&quot;&gt;&lt;g&gt;&lt;path d=&quot;M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631&quot;&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;padding-top: 8px;&quot;&gt; &lt;div style=&quot; color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;&quot;&gt;View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;padding: 12.5% 0;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;&quot;&gt;&lt;div&gt; &lt;div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;margin-left: 8px;&quot;&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot; width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;margin-left: auto;&quot;&gt; &lt;div style=&quot; width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot; width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot;display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;&quot;&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;&quot;&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=&quot; color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;&quot;&gt;&lt;a href=&quot;https://www.instagram.com/p/DYgwiE_kVdK/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; style=&quot; color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;&quot; target=&quot;_blank&quot;&gt;A post shared by unknown name (@cockroachjantapartykiawaz)&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(243, 68, 125); background-color: black;"><span>https://www.instagram.com/p/DYgwiE_kVdK/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campa</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اور چیف جسٹس کے کاکروچ والے ریمارکس کا جواب اس پارٹی نے یہ دیا ہے کہ 'جب انڈیا کو گٹر بناؤ گے تو یہاں سب کاکروچ ہی پیدا ہوں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کاکروچ جنتا پارٹی کی ایک ویب سائٹ بھی ہے جس پر ان کا مینیفیسٹو اور پارٹی جوائن کرنے کا کرائیٹیریا بھی موجود ہے۔ آپ اس پارٹی میں شامل ہونے کے اسی صورت می حق دار ہیں اگر آپ بے روزگار، سست، ہر وقت بس آن لائن بیٹھے رہتے ہیں یا فضول گوئی کرتے ہیں۔ یہ ان کی ویب سائٹ پر لکھا ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مگر اب سوال یہ ہے کہ اتنی مقبولیت ملنے کے بعد کیا یہ پارٹی کسی نیپال یا بنگلہ دیش کی طرح جین زیز کی کوئی تحریک کی شکل اختیار کرے گی یا باقاعدہ سیاسی جماعت بن کر الیکشن میں حصہ گی۔ یا پھر سوشل میڈیا کی یہ ہائپ اگلے کچھ دن میں ختم ہو جائے گی۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2856</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/21/db0ec32b-arwch-jnt-pt-d-mn-she-he-l-h-s-fz-s-d-b-y-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 10:26:26 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے سے متعلق قرارداد آگے بڑھانے کی منظوری دے دی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2855</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2855" rel="standout" />
      <description>امریکی سینیٹ نے منگل کو صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے سے متعلق ایک قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ اگر یہ قرارداد اگلے مراحل بھی پار کر لیتی ہے تو اس کے تحت ایران کے خلاف جنگ اس وقت تک ختم کرنا ہوگی جب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس سے باضابطہ اجازت حاصل نہ کر لیں۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے تقریباً 80 دن بعد صدر ٹرمپ کے لیے ان کی اپنی جماعت کی جانب سے ایک غیر معمولی چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قرارداد کو آگے بڑھانے کے لیے ہونے والی ابتدائی ووٹنگ میں 50 کے مقابلے میں 47 ووٹ آئے۔ صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے چار سینیٹرز نے تمام ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جب کہ تین ریپبلکن سینیٹرز ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ نتیجہ ان قانون سازوں کے لیے کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ آئین کے مطابق جنگ میں فوج بھیجنے کا اختیار کانگریس کو حاصل ہے نہ کہ صدر کو۔ تاہم یہ صرف ابتدائی مرحلے کی ووٹنگ تھی اور قرارداد کو نافذ العمل ہونے کے لیے ابھی کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر یہ قرارداد 100 رکنی سینیٹ سے منظور بھی ہو جاتی ہے تو اسے ریپبلکن اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے بھی منظوری درکار ہوگی۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کو مسترد کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین، جنہوں نے یہ قرارداد پیش کی، کا کہنا تھا کہ جنگ بندی صدر ٹرمپ کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ ایران جنگ سے متعلق اپنی حکمتِ عملی کانگریس کے سامنے رکھیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں کہ تہران نے جنگ ختم کرنے کے لیے نئی تجاویز پیش کی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بحث کے دوران ٹم کین نے کہا 'یہ بالکل مناسب وقت ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے سے پہلے اس پر بحث کی جائے۔ صدر کو امن اور سفارتی تجاویز موصول ہو رہی ہیں لیکن وہ انہیں ہمارے ساتھ شیئر کیے بغیر مسترد کر رہے ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رواں سال سینیٹ میں اس نوعیت کی سات سابقہ کوششیں ریپبلکن ارکان روک چکے ہیں جب کہ ایوانِ نمائندگان میں بھی تین جنگی اختیارات کی قراردادیں معمولی فرق سے ناکام بنائی جا چکی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2855</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/20/b85ceeec-amr-snt-e-p-j-kht-hdw-elq-a-brh-z-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 12:36:34 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ کی 'دو، تین دن میں' ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی، جنگ شروع کی امریکہ کو 'سرپرائز' ملیں  گے: ایران کا جواب</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2854</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2854" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے مؤقف اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز ایران پر حملہ خلیجی ملکوں کی درخواست پر ملتوی کرنے کے بعد اب انہوں نے پھر ایران پر حملوں کا اشارہ دے دیا ہے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">منگل کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دو سے تین دن میں معاہدہ نہیں ہوتا تو ایران پر حملے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے کے بہت قریب تھے اور حملے سے صرف ایک گھنٹہ پہلے اسے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم ان کے بقول شاید دوبارہ حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر نے مزید کہا کہ واشنگٹن 'بہت جلد اس جنگ کو ختم کرنے جا رہا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بقول 'وہ (ایرانی) معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں، وہ اس سب سے تھک چکے ہیں۔ ان کے ذہن میں اب بھی جوہری ہتھیار ہیں لیکن ہم انہیں وہ حاصل کرنے نہیں دیں گے۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنگ دوبارہ شروع کی تو امریکہ کو بہت سے 'سرپرائز' ملیں گے: عباس عراقچی کا ٹرمپ کو جواب</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی کے جواب میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں لکھا کہ 'یقین رکھیں کہ میدانِ جنگ میں واپسی کی صورت میں آپ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ 'ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد امریکی کانگریس نے اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں طیاروں کی تباہی کا اعتراف کیا ہے جس سے باضابطہ طور پر تصدیق ہو گئی ہے کہ ہماری طاقت ور مسلح افواج دنیا کی پہلی طاقت تھی جس نے جدید اور مشہور F-35 لڑاکا طیارے کو مار گرایا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عراقچی نے دعویٰ کیا کہ 'ہم نے جو اس جنگ سے سیکھا ہے اس کے ساتھ، یقین رکھیں کہ میدانِ جنگ میں واپسی اور بھی بہت سی حیرتیں ساتھ لائے گی۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع نہیں کرنا چاہتے، مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے: امریکی نائب صدر</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ٹرمپ کے بیان کے برخلاف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق دوبارہ فوجی کارروائیاں  شروع نہیں کرنا چاہتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران وینس نے کہا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ایرانی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وینس کا کہنا تھا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رہے اور اسی لیے ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ ایران اس کے ساتھ ایسے عمل میں شامل ہو جو  یقینی بنائے کہ آنے والے برسوں میں تہران دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2854</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/20/c6e58d7d-trmp-dw-tn-n-a-bh-hl-h-j-she-syz-e-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 11:26:36 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ہم جنگ ہار رہے ہیں، آپ کی غلطی کی وجہ سے اور کتنے امریکیوں کو مرنا پڑے گا؟; امریکی رکنِ کانگریس کے سینٹ کام کے کمانڈر سے سخت سوالات</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2853</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2853" rel="standout" />
      <description>امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو منگل کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا اور اراکینِ کانگریس نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">منگل کو امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروس کمیٹی کی سماعت ہوئی جس میں سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر سے ایران جنگ سے متعلق سخت سوالات کیے گئے۔ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکنِ کانگریس سیتھ مولٹن کا بریڈ کوپر کے ساتھ سخت مکالمہ ہوا جس کے کلپس سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2056879249525559377" data-url="https://t.co/sSdIru1eHI" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;With all due respect, the CENTCOM commander should be able to explain why we’ve been asking Americans to die in this war. &lt;a href=&quot;https://t.co/sSdIru1eHI&quot;&gt;pic.twitter.com/sSdIru1eHI&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Seth Moulton (@sethmoulton) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/sethmoulton/status/2056879249525559377?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 19, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/sSdIru1eHI</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رکن کانگریس نے سینٹ کام کے سربراہ سے سوال کیا کہ آپ ایران کی جوہری صلاحیتوں کے لیے بار بار 'نمایاں تنزلی' کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں جب کہ پچھلے سال جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ ان کے نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیتھ مولٹن نے پوچھا کہ کیا آپ واضح کر سکتے ہیں کہ 'نمایاں تنزلی' اور 'ختم کرنے' میں کیا فرق ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جواب میں سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل کوپر نے ان الفاظ کے ساتھ گفتگو کا آغاز ہی کیا تھا کہ 'میرا خیال ہے کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق کوئی بھی بات کرنا۔۔۔' ابھی انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ رکنِ کانگریس نے ان کی بات کاٹتے ہوئے دوسرا سوال داغ دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیتھ مولٹن نے کہا کہ میں ایران کے جوہری پروگرام کی بات ہی نہیں کر رہا۔ میں آپ سے انگریزی زبان کا پوچھ رہا ہوں کہ ختم کرنے اور نمایاں نقصان پہنچانے میں فرق کیا ہے؟ کیا یہ ایک ہی بات ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رکن کانگریس نے مزید کہا کہ آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی نمایاں تنزلی کا شکار ہوا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سینٹ کام کے کمانڈر نے جواب میں کہا کہ اس بارے میں جو اعداد و شمار آئے ہیں، وہ بہترین ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2056795874005590394" data-url="https://t.co/VR18schPQm" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;&quot;It feels like WE ARE LOSING&quot;&lt;br&gt;&lt;br&gt;The commander of US Central Command found himself getting absolutely torched by US Rep. Seth Moulton, who grilled him relentlessly on just how well the war on Iran is going so far.&lt;br&gt;&lt;br&gt;Spoiler: not well enough for Moulton to let him off the hook. &lt;a href=&quot;https://t.co/VR18schPQm&quot;&gt;pic.twitter.com/VR18schPQm&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Press TV 🔻 (@PressTV) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/PressTV/status/2056795874005590394?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 19, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/VR18schPQm</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیموکریٹک رکن کانگریس نے ایک اور سخت سوال کیا کہ صدر ٹرمپ کی اپنی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی، جس پر انہوں نے پانچ ماہ قبل دسمبر میں دستخط کیے تھے، اس میں بھی ایران کے جوہری پروگرام کے لیے  'نمایاں تنزلی' کا فقرہ استعمال کیا گیا ہے۔ تو اگر پانچ ماہ پہلے بھی ایسا ہی تھا تو پھر ہم نے جنگ کیوں شروع کی؟ کیا صدر ہم سے اس وقت جھوٹ بول رہے تھے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایڈمرل کوپر اس سوال کا بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے سکے اور رکنِ کانگریس نے ایک اور سخت سوال داغ دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ یہاں آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب کچھ پلان کے مطابق چل رہا ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا پلان میں کہاں تھا؟ کیا آپ نے اس کا اندازہ لگایا تھا؟ کیا آپ کو لگا تھا کہ ایران یہ کر سکتا ہے؟ یا یہ پلان کا حصہ تھا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیموکریٹ رکن نے مزید کہا کہ چلیں میں آپ کو رجیم چینج کا کریڈٹ دے دیتا ہوں۔ مجھے پتا ہے کہ وہ آپ کے پلان کا حصہ تھا۔ آپ نے ایک 86 سالہ شخص کو ہٹا دیا جو بیمار تھا اور جوہری ہتھیاروں کے بھی خلاف تھا۔ اور اس کی جگہ مزید سخت گیر شخص کو لے آئے جو 50 برس کا ہے۔ اور اگر وہ زیادہ سخت نہیں بھی تھا تو آپ نے اس کے پورے خاندان کو قتل کر دیا ہے۔ کیا یہ آپ کے پلان کا حصہ تھا؟ کیا آپ ایسا ہی رجیم چینج چاہتے تھے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایڈمرل بریڈ کوپر نے جواب دیا کہ ہمیں بہت واضح فوجی اہداف دیے گئے تھے کہ ایران کی طاقت دکھانے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے اور یہی ہم نے کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیتھ مولٹن نے سوال کیا کہ اب آپ کا جنگ جیتنے کا کیا پلان ہے؟ کیوں کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم ہار رہے ہیں۔ ہم جوہری معاہدہ نہیں کر سکے۔ ہم آبنائے ہرمز نہیہں کھلوا سکے۔ صدر نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیا یہ بھی پلان کا حصہ ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جواب میں سینٹ کام کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکے ہیں۔ ہم ابھی جنگ بندی میں ہیں، ایران کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر ہنگامی حالات کی تیاری کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس پر رکنِ کانگریس کا کہنا تھا کہ لگ نہیں رہا کہ کچھ اچھا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بھی پوچھنا چاہوں گا کہ آپ کی اس غلطی کی وجہ سے اور کتنے امریکیوں کو مرنا پڑے گا؟ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس بات پر سینٹ کام کے کمانڈر غصہ ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ 'میں سمجھتا ہوں کہ یہ آپ کا انتہائی غیر مناسب بیان ہے۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2853</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/20/e86003ac-hm-jn-ar-e-n-ap-ghlt-w-s-t-r-t-d-kh-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 11:18:39 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ میں مسجد پر حملے میں تین افراد ہلاک، 'میرا بیٹا گھر سے تین بندوقیں لے کر بھاگا ہے؛' حملہ آور کی والدہ کا پولیس کو فون</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2852</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2852" rel="standout" />
      <description>امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں پیر کو دو مسلح لڑکوں نے ایک مسجد پر فائرنگ کر دی جس سے ایک سیکیورٹی گارڈ اور مسجد کے باہر موجود دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حملہ سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد پر ہوا ہے جس میں مذہبی تعلیم کے لیے مدرسہ بھی موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت مدرسے میں طلبہ بھی موجود تھے جو اس واقعے میں محفوظ رہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور بھی مردہ حالت میں پائے گئے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے خود کو گولی ماری۔ حملے کو امریکہ میں کسی خاص گروہ کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سان ڈیاگو پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے مقامی ادارے اور وفاقی تحقیقاتی بیورو (ایف بی آئی) حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم فی الحال حملے کے پیچھے کی کوئی وجہ یا مقصد سامنے نہیں آ سکا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2056614578817999233" data-url="https://t.co/8Yd00E3nUh" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;A shooting has taken place at the largest Islamic center in San Diego, USA&lt;br&gt;&lt;br&gt;Three people were killed, including a security guard. Five others were injured.&lt;br&gt;&lt;br&gt;According to police, the attack is being treated as a hate crime. Anti-Islamic graffiti and a note containing racist… &lt;a href=&quot;https://t.co/8Yd00E3nUh&quot;&gt;pic.twitter.com/8Yd00E3nUh&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— NEXTA (@nexta_tv) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/nexta_tv/status/2056614578817999233?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 19, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/8Yd00E3nUh</span></span></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">حملے سے قبل مشتبہ حملہ آور کی والدہ کا پولیس کو فون</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس سربراہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک لڑکی کی والدہ نے حملے سے دو گھنٹے قبل پولیس کو کال کر کے اطلاع دی تھی کہ ان کا بیٹا گھر سے ان کی تین بندوقیں اور گاڑی لے کر بھاگا ہے۔ پولیس چیف کے مطابق لڑکے کی والدہ نے اپنے بیٹے کو خودکش کہہ کر پکارا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سان ڈیاگو کے پولیس چیف اسکاٹ واہل نے مزید کہا کہ والدہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ ہے اور دونوں نے کیموفلاج لباس پہنا ہوا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس نے والدہ کی اطلاع کے بعد ان لڑکوں کی تلاش شروع کر دی تھی اور انہیں ڈھونڈنے کی کوششیں جاری تھیں کہ اسی دوران مسجد پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اسکاٹ واہل کے بقول حملے سے قبل پولیس کو کسی خاص مقام پر حملے کے خطرے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا کہ مسجد، مذہبی سینٹر، اسکول، شاپنگ سینٹر یا کسی ایسی جگہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/5/19/690d2c41-amrh-n-sjd-p-hle-tn-f-bt-h-wq-a-.webp" data-card-width="1199" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/5/19/690d2c41-amrh-n-sjd-p-hle-tn-f-bt-h-wq-a-.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مسجد پر حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جہاں انہیں تین افراد کی لاشیں ملیں جو مسجد سے وابستہ تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے سیکیورٹی گارڈ نے ممکنہ طور پر بڑی خونریزی سے بچا لیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ ہی دیر بعد پولیس کو ایک گاڑی سے دو لڑکوں کی لاشیں بھی مل گئیں جن کی عمریں 17 اور 18 برس تھیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ہی گولیوں سے ہلاک ہوئے۔ پولیس چیف کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے کوئی فائر نہیں کیا گیا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2852</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/19/475607bf-amrh-n-sjd-p-hle-tn-f-bt-h-wq-a-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 10:58:59 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران جنگ کے دوران پاکستان نے دفاعی معاہدے کے تحت اپنے کتنے فوجی اور لڑاکا طیارے سعودی عرب بھجوائے ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2851</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2851" rel="standout" />
      <description>پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کے تحت اسلام آباد نے کتنے فوجی اور جہاز ریاض بھجوائے ہیں؟ اس بارے میں حال ہی میں کچھ تفصیلات منظرِ عام پر آئی ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران باہمی دفاعی معاہدے کے تحت اپنے آٹھ ہزار فوجی اہلکاروں کو سعودی عرب میں تعینات کیا ہے۔ اس کے علاوہ لڑاکا طیاروں کا ایک اسکواڈرن اور فضائی دفاعی نظام بھی ریاض پہنچایا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس تعیناتی کی تفصیلات پہلی بار سامنے آئی ہیں جن کی تصدیق تین سیکیورٹی حکام اور دو حکومتی ذرائع نے کی۔ ان ذرائع کے مطابق یہ ایک مکمل جنگی صلاحیت رکھنے والی فورس ہے جس کا مقصد سعودی عرب پر مزید حملوں کی صورت میں اس کی عسکری معاونت کرنا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستانی فوج، دفتر خارجہ اور سعودی حکومتی میڈیا نے اس تعیناتی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے اس باہمی دفاعی معاہدے کی مکمل شرائط سامنے نہیں آئی ہیں۔ تاہم دونوں ممالک یہ واضح کر چکے ہیں کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس صورت میں دونوں ایک دوسرے کے دفاع کے پابند ہوں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف یہ عندیہ بھی دے چکے ہیں کہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب پاکستان کے جوہری تحفظ کے دائرے میں بھی آتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تقریباً 16 طیاروں پر مشتمل ایک مکمل اسکواڈرن سعودی عرب بھیجا ہے جن میں زیادہ تر چین کے تعاون سے تیار کردہ جے ایف-17 لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ یہ طیارے اپریل کے آغاز میں سعودی عرب پہنچائے گئے تھے۔ دو سیکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان نے ڈرونز کے دو اسکواڈرن بھی روانہ کیے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پانچوں ذرائع کے مطابق اس تعیناتی میں تقریباً آٹھ ہزار پاکستانی فوجی اہلکار شامل ہیں جب کہ ضرورت پڑنے پر مزید دستے بھیجنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چین کا تیار کردہ HQ-9 فضائی دفاعی نظام بھی سعودی عرب منتقل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نظام کو پاکستانی اہلکار آپریٹ کر رہے ہیں جب کہ اخراجات سعودی عرب برداشت کر رہا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستانی فوجی سعودی عرب میں کیا کریں گے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو سیکیورٹی حکام نے کہا کہ ایران تنازع کے دوران تعینات پاکستانی فوجی اور فضائیہ کے اہلکار بنیادی طور پر تربیتی اور مشاورتی کردار ادا کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ہزاروں پاکستانی فوجی سعودی عرب میں جنگی کردار کے ساتھ مختلف معاہدوں کے تحت تعینات رہے ہیں۔ یہ آٹھ ہزار فوجی ان پہلے سے موجود فوجیوں کے علاوہ ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک حکومتی ذریعے کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ضرورت پڑنے پر پاکستان اپنے 80 ہزار تک فوجی سعودی عرب بھیج سکتا ہے۔ تاکہ سعودی افواج کے ساتھ مل کر سرحدوں کا دفاع کیا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو سیکیورٹی حکام نے یہ بھی بتایا کہ معاہدے میں پاکستانی جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ تاہم رائٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ ابھی کوئی جنگی بحری جہاز سعودی عرب پہنچے ہیں یا نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق لڑاکا طیاروں، فضائی دفاعی نظام اور ہزاروں فوجیوں پر مشتمل یہ تعیناتی صرف علامتی یا مشاورتی مشن سے کہیں زیادہ بڑی اور مؤثر عسکری موجودگی کی عکاسی کرتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو عسکری معاونت، تربیت اور مشاورتی خدمات فراہم کرتا رہا ہے جب کہ ریاض نے بھی مختلف معاشی بحرانوں کے دوران پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز اس سے قبل رپورٹ کر چکا ہے کہ ایران کے حملوں میں سعودی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے اور ایک سعودی شہری کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کو لڑاکا طیارے فراہم کیے تھے۔ کیونکہ خدشہ تھا کہ سعودی عرب سخت ردعمل دے کر تنازع کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ تمام پیش رفت اس سے پہلے کی ہے جب پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی میں بھی کردار ادا کیا جو گزشتہ چھ ہفتوں سے برقرار ہے۔ اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان واحد براہِ راست مذاکرات بھی اسلام آباد میں ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز نے بعد ازاں یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب نے جنگ کے دوران ایران پر متعدد غیر اعلانیہ حملے کیے تھے جو سعودی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں تھے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2851</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/19/17d68aa1-arn-j-e-dw-pst-fe-mh-h-z-b-hy-n.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 10:19:14 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ کا خلیجی ملکوں کی درخواست پر ایران پر نئے حملے روکنے کا اعلان، معاہدے کی امیدوں کے باوجود کوئی پیش رفت کیوں نہیں ہو رہی؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2850</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2850" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کردہ جنگ کو اب تقریباً تین مہینے ہونے کو آئے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ کسی کروٹ بیٹھنے کا نام نہیں لے رہا۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو پھر معاہدے کی امید ظاہر کرتے ہوئے ایران پر حملے ملتوی کرنے کا اعلان کیا تو وہیں تہران بھی اپنے مؤقف اور مطالبات پر ڈٹا ہوا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا حملے ملتوی کرنے کا اعلان</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اپنے ایک پیغام میں کہا کہ امریکہ نے آج ایران پر حملے کرنے تھے لیکن انہوں نے متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب کے رہنماؤں کی درخواست پر ان حملوں کو روک دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں لکھا کہ ایران پر نئے حملے منگل کو کیے جانے تھے۔ مگر قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اماراتی صدر محمد بن زید النہیان نے مجھ سے درخواست کی کہ یہ حملے روکے جائیں کیوں کہ مذاکرات کی سنجیدہ کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے بقول میں نے حکام کو ہدایت کر دی ہے کہ ایران پر شیڈول حملے فی الحال روک دیں لیکن اگر قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ کسی بھی لمحے ایران پر مکمل، بڑے پیمانے کے حملے کے لیے آگے بڑھنے کو تیار ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے اپنا مؤقف دہرایا کہ معاہدے میں سب سے اہم چیز یہ شامل ہوگی کی ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی آبنائے ہرمز پر مضبوط گرفت اور امریکہ کی جانب سے تہران کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہیں اور کوئی بھی فریق فی الحال لچک دکھانے پر آمادہ نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ میں ایک طرف ایران پر حملوں کی مخالفت پائی جاتی ہے تو وہیں امریکہ و اسرائیل میں بعض حلقے حملے دوبارہ شروع کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔ بعض حکام کا ماننا ہے کہ حملے جاری رکھنے سے تہران پر دباؤ بڑھے گا جو اسے دوبارہ مذاکرات کی میز پر لائے گا۔ تاہم ایران کی طرف سے آنے والے بیانات میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کم از کم 20 سال کے لیے روک دے اور اپنا سارا یورینیم امریکہ کے حوالے کرے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے جنگ کا خاتمہ ہو، اسے دوبارہ حملے نہ ہونے کی ضمانت دی جائے، جنگ کے نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر اس کے حق کو تسلیم کیا جائے تو وہ دیگر معاملات پر مذاکرات کرے گا۔ جب کہ امریکہ ایران کی ان شرائط کو مسترد کرتے ہوئے اپنی شرائط رکھ چکا ہے جنہیں ایران ماننے پر آمادہ نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حالیہ بیان کے مطابق تہران نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنا بیان ثالث یعنی پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔ ان کے بقول امریکہ کے مطالبات غیر حقیقی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے جنگ کے مکمل خاتمے کی کوئی گارنٹی نہیں دی گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران اپنے تمام منجمد اثاثے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے جب کہ بعض ذرائع کے مطابق امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف 25 فیصد اثاثے واپس دینے پر غور کر سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ مذاکرات میں لچک دکھا رہے ہیں۔ تاہم ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈ سینٹر نے حالیہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے ایک اور غلطی کی تو ایران پوری قوت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جواب دے گا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2850</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/19/b0e73c79-trmp-a-khlj-wn-dst-n-ye-h-e-h-b-sh-f-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 09:57:07 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امارات کے جوہری بجلی گھر پر ڈرون حملہ اور سعودی عرب کا تین ڈرون گرانے کا دعویٰ، جرمنی کی جانب سے ایران کی مذمت</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2849</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2849" rel="standout" />
      <description>جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے متحدہ عرب امارات اور دیگر شراکت داروں پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایران کو خطے کے عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فریڈرک مرز کا کہنا ہے کہ جرمنی متحدہ عرب امارات اور دیگر شراکت داروں پر ایران کے حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ جرمن چانسلر نے امارات کی 'جوہری تنصیبات' پر حملے کو پورے خطے کے عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے اتوار کو کہا تھا کہ ابو ظہبی کے قریب اس کے براکہ جوہری بجلی گھر کے باہر ایک ڈرون حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں بجلی پیدا کرنے والے ایک جنریٹر میں آگ لگ گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیانات میں کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ ڈرون 'مغربی سرحد' سے آئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے، اپنے پڑوسیوں کو دھمکانا بند کرے اور آبنائے ہرمز کو بحال کرے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے عراق سے آنے والے تین ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ ریاض نے تنبیہ کی ہے کہ اس کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزیوں کی کوششوں کا جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2849</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/18/7631566a-amrt-e-jwh-bl-h-p-dn-h-sed-dh.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 16:02:32 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران کی پاکستان کے ذریعے مذاکرات جاری رہنے کی تصدیق؛ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے، ٹرمپ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2848</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2848" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے لیے 'وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔' </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ 'ایران کو جلدی کرنا ہوگی ورنہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک دوسرے کے سامنے پانچ، پانچ شرائط رکھی گئی ہیں۔ تاہم دونوں فریق ایک دوسرے کی شرائط قبول کرنے یا ان پر لچک دکھانے سے انکاری ہیں جس کے باعث مذاکرات التوا کا شکار ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر امریکہ نے اپنے جواب میں کوئی ٹھوس رعایت نہیں دی۔ واشنگٹن کی جانب سے لچک نہ دکھانے کی صورت میں مذاکرات ’تعطل‘ کا شکار ہو سکتے ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں: اسماعیل بقائی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات پاکستان کی ثالثی سے اب بھی جاری ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی 'مہر نیوز ایجنسی' کو دیے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افزودگی اور یورینیم پر خدشات اٹھائے ہیں اور ہم کہہ چکے ہیں کہ ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے امریکی فریق نے ان کے 14 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا جس کے بعد ہمیں پاکستانی ثالث کے ذریعے ان کے نکات اور شرائط کا ایک مجموعہ موصول ہوا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا تہران کی جانب سے 14 نکاتی منصوبہ بھیجے جانے کے اگلے ہی دن انہیں امریکی شرائط موصول ہوئیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ان نکات کا جائزہ لیا گیا اور اس کے جواب میں ہماری طرف سے ردِعمل بھی فراہم کر دیا گیا ہے جب کہ پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ و بحرین کی آبنائے ہرمز سے متعلق پیش کردہ قرارداد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کو خطے کی سلامتی خطرے میں ڈالنے کا ملزم نہیں ٹہرا سکتی۔ چائنہ اور روس جانتے ہیں کہ سمندروں میں عدم تحفظ اور آزادانہ تجارت کے خلاف امریکہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بقائی کا کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی برادری ذمے دارانہ اقدام کرنا چاہتی ہے تو اسے امریکہ کے اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ادھر پاکستان پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے ریاستی وزیر محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے رابطہ ہوا ہے اور دونوں رہنماؤں نے ایران-امریکہ مذاکرات کی بحالی کی کوششوں پر گفتگو کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارتی عمل کی اہمیت کا اعادہ کیا اور علاقائی چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2848</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/18/50504de0-arn-e-l-wqt-z-s-khm-h-tp-th-dh-b-h-j-n-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 14:48:56 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>برکس کے وزرائے خارجہ اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کی تلخ کلامی، عباس عراقچی نے کیا کہا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2847</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2847" rel="standout" />
      <description>انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں جاری برکس تنظیم کے اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ واقعہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب حال ہی میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران جنگ کے دوران بنیامین نیتن یاہو نے امارات کا خفیہ دورہ کیا اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ملاقات بھی کی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات نے گزشتہ روز اسرائیل کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔ تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ایرانی سیکیورٹی ایجنسیوں نے یہ بات پہلے ہی ایرانی قیادت کو بتائی تھی۔ عراقچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر تفرقہ پھیلانے والوں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعد ازاں ایرانی وزیرِ خارجہ نے نئی دہلی میں برکس تنظیم کے اجلاس کے دوران بھی اس معاملے کو اٹھایا جس پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی سخت جواب دیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عباس عراقچی نے برکس اجلاس میں دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ایران غیر قانونی توسیع پسندی اور جنگجویانہ پالیسیوں کا شکار ہے۔ انہوں نے برکس پلس تنظیم کے رکن ممالک، جن میں برازیل، روس، انڈیا، چائنہ، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھیوپیا، متحدہ عرب امارات، ایران اور انڈونیشیا شامل ہیں، پر زور دیا کہ وہ مغربی بالادستی اور اس استثنیٰ کے احساس کے خلاف مزاحمت کریں جسے امریکہ اپنا حق سمجھتا ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/5/15/ba8874a0-io21w1etxqgu9j8pmhcoyd.webp" data-card-width="800" data-card-height="1200" data-card-path="/piri/upload/3/2026/5/15/ba8874a0-io21w1etxqgu9j8pmhcoyd.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ 'ایران برکس کے رکن ممالک اور عالمی برادری کے تمام ذمے دار ارکان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی واضح مذمت کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے بعد متحدہ عرب امارات کای جانب سے بھی اس معاملے پر جواب دیا گیا جس کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں کہ اماراتی نمائندے کی جانب سے کیا کہا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امارات کے جواب کے بعد عباس عراقچی نے کہا کہ 'میں نے اتحاد برقرار رکھنے کی خاطر (برکس) میں دیے گئے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امارات میرے ملک کے خلاف کی گئی جارحیت میں براہِ راست شامل رہا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے مزید کہا کہ 'جب حملے شروع ہوئے تو امارات نے مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی میڈیا نے اماراتی نمائندے کا بیان جاری نہیں کیا کہ ان کی جانب سے کیا کہا گیا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کو نہ امریکی فوجی اڈے سیکیورٹی فراہم کر سکتے ہیں نہ ہی اس کا اسرائیل سے اتحاد۔ انہوں نے کہا کہ امارات کو ایران سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/5/15/611c8175-hvfx04xo72uw2lcgn7dn0o.webp" data-card-width="1508" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/5/15/611c8175-hvfx04xo72uw2lcgn7dn0o.webp">ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ 'ہمیں ایک ساتھ امن سے رہنا چاہیے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ پرامن تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں میں سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات پر کیے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل پر بھی اتنے میزائل اور ڈرونز فائر نہیں کیے جتنے امارات پر کیے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حال ہی میں ایک امریکی اخبار کی جانب سے یہ رپورٹ بھی سامنے آئی کہ متحدہ عرب امارات نے بھی خفیہ طور پر ایران پر حملے کیے تھے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2847</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/15/b4c9ebeb-jqo4rlbt2z9ete032izy89.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 10:25:43 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چائنہ کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ، دونوں صدور نے دورے کو کامیاب قرار دے دیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2846</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2846" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا دو روزہ سرکارہ دورۂ چین مکمل کرنے کے بعد جمعے کی دوپہر واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور چائنہ دونوں نے اس دورے کو کامیاب قرار دیا ہے تاہم کئی معاملات پر اب بھی دونوں ملکوں کے اختلافات برقرار ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ٹرمپ کا اپنے حالیہ بیان میں کہنا تھا کہ 'یہ ایک ناقابلِ فراموش دورہ رہا۔ اس کے بہت اچھے اثرات نکلیں گے۔ ہم نے بہت شاندار معاہدے کیے ہیں جو دونوں ملکوں کے لیے فائدے مند ہوں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ٹرمپ نے اس سے قبل فاکس نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ چائنہ نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے معاملے پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اور چینی صدر اس پر کافی یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کے معاملے پر بات کی ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارا مؤقف تقریباً یکساں ہے۔ ہم اس مسئلے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کریں۔ ہم آبنائے کھلی رکھنا چاہتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم صدر شی کی جانب سے تو ایران جنگ سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی مگر چائنہ کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کی صبح ایک بیان میں کہا کہ ایران جنگ نہیں ہونی چاہیے تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چین کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے کے لیے ’بھرپور‘ کوششیں کر رہا ہے اور اسے امید ہے کہ وہ امن مذاکرات کی مزید حمایت کرتے ہوئے دیرپا امن کے قیام میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چینی وزارتِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاز رانی کے راستے جلد از جلد کھول دینے چاہئیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمعے کو چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو چین کی اعلیٰ قیادت کے لیے اہم سمجھے جانے والے ونگ نان ہائی کا دورہ کرایا۔ اس دورے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی شی جن پنگ کے ساتھ تجارت، ایران اور بہت سے دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے ریمارکس میں امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ایک تاریخی اور یادگار موقع ہے۔ صدر شی کے بقول اس دورے میں ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان نئے اور تعمیری اسٹرٹیجک تعلقات کی بنیاد رکھی ہے۔ اسے ایک تاریخی موقع قرار دیا جانا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر شی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک نیا دوطرفہ تعلق قائم ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس ملاقات سے چند گھنٹے قبل فاکس نیوز نے ٹرمپ کا ایک انٹرویو نشر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ چینی صدر نے وعدہ کیا ہے کہ چین ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے مطابق لیکن اسی وقت صدر شی نے کہا کہ وہ وہاں سے بہت سا تیل خریدتے ہیں اور وہ اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ چین نے امریکہ سے تیل اور بوئنگ کے 200 طیارے خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2846</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/15/ca134e74-9xchf1a4zcodevwasiwfkc.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 09:45:14 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کا نیتن یاہو اور اماراتی صدر کی خفیہ ملاقات کا دعویٰ، امارات کی تردید</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2845</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2845" rel="standout" />
      <description>متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی خفیہ ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو نے ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ایک خفیہ ملاقات بھی کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم بدھ کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارات کے اسرائیل سے تعلقات اعلانیہ ہیں اور 'غیر شفاف یا غیر سرکاری انتظامات پر مبنی' نہیں ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امارات کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'کسی غیر اعلانیہ دورے اور خفیہ انتظامات سے متعلق دعوے صریحاً بے بنیاد ہیں جب تک امارات کے متعلقہ حکام اس حوالے سے باضابطہ اعلان نہ کریں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2054660274846855225" data-url="https://t.co/rl5XSzX2RG" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;ar&quot; dir=&quot;rtl&quot;&gt;الإمارات تنفي ما يتم تداوله بشأن زيارة رئيس الوزراء الإسرائيلي أو استقبال وفد عسكري إسرائيلي &lt;a href=&quot;https://t.co/rl5XSzX2RG&quot;&gt;pic.twitter.com/rl5XSzX2RG&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— MoFA وزارة الخارجية (@mofauae) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/mofauae/status/2054660274846855225?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 13, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/rl5XSzX2RG</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی اس خفیہ ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک 'تاریخی پیش رفت' بھی ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے آگاہ ایک ذریعے نے انہیں بتایا ہے کہ نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زید کی ملاقات العین شہر میں ہوئی جو امارات اور عمان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات 26 مارچ کو ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس ذریعے کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ نے بھی ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کے کم از کم دو دورے کیے جن کا مقصد فوجی کارروائی میں معاونت تھا۔ موساد کے سربراہ کے دورے کو سب سے پہلے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں شروع کی گئی جنگ میں تہران کے حملوں کا نشانہ بننے کے بعد متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل سے اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ امارات نے ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے 2020 میں اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے جو اب خاصے گہرے ہو چکے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے منگل کو کہا کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے اپنے فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم کی کچھ بیٹریز اور انہیں چلانے والا عملہ بھی متحدہ عرب امارات کو فراہم کیا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کے ساتھ تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ کا تبصرہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات کے صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کی خفیہ ملاقات کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو نے سرِعام وہ بات ظاہر کر دی ہے جو ایران کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہماری قیادت کو پہلے ہی بتا چکی تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ 'عظیم ایرانی قوم کے ساتھ دشمنی ایک احمقانہ جُوا ہے اور اس راستے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر تفریق پھیلانے والوں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2845</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/14/13508731-j2wa47ayd28vli6yxgpx1n.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 10:54:50 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> صدر ٹرمپ کی چائنہ میں مصروفیات شروع، صدر شی سے ملاقات اور 'ٹیمپل آف ہیون' کا دورہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2844</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2844" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی صبح اپنے دورۂ چین کی مصروفیات کا آغاز کر دیا ہے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آج صبح ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ کے سرکاری ایوان گریٹ ہال آف دی پیپل پہنچے جہاں فوجی دستے اور پرچم اٹھائے بچوں نے ان کا استقبال کیا۔ چینی صدر شی جن پنگ کے ڈونلڈ ٹرمپ کا استقبال کیا اور ریڈ کارپٹ پر دوستانہ ماحول میں مصافحہ کیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ابتدائی مختصر گفتگو بھی کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2054757875688292597" data-url="https://twitter.com/MargoMartin47?ref_src=twsrc%5Etfw" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Chinese students welcome President Trump to the Great Hall of the People in Beijing 💐 &lt;br&gt;&lt;br&gt;🎥: &lt;a href=&quot;https://twitter.com/MargoMartin47?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;@MargoMartin47&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://t.co/wChlpVnphh&quot;&gt;pic.twitter.com/wChlpVnphh&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/RapidResponse47/status/2054757875688292597?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 14, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://twitter.com/MargoMartin47?ref_src=twsrc%5Etfw</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ابتدائی کلمات میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ 'پوری دنیا اس ملاقات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور عالمی صورتِ حال ہنگامہ خیز ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر شی نے کہا کہ دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ کیا چین اور امریکہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں؟ کیا چین اور امریکہ مل کر عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور دنیا کو زیادہ مستحکم بنا سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا، دونوں ممالک کے شہریوں اور انسانیت کے مستقبل کے لیے باہمی تعلقات پر مبنی روشن مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر شی نے ٹرمپ اور امریکہ کو آزادی کی 250 ویں سالگرہ پر مبارک باد بھی دی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چائنہ اور امریکہ کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس موقع پر صدر ٹرمپ نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ یہ ملاقات ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔ ان کے بقول 'ہمارے تعلقات اچھے رہے ہیں۔ جب مسائل پیش آئے تو ہم نے انہیں حل کر لیا۔ میں آپ کو فون کر لیا کرتا تھا اور آپ مجھے فون کر لیتے تھے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چینی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں سب سے کہتا ہوں کہ آپ ایک عظیم رہنما ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں رہنماؤں کی اس کے بعد باضابطہ دو طرفہ مذاکرات شروع ہوئے جو لگ بھگ دو گھنٹے تک جاری رہے۔  مذاکرات کا یہ دورانیہ طے شدہ وقت سے زیادہ تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2054746562597675512" data-url="https://twitter.com/POTUS?ref_src=twsrc%5Etfw" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;.&lt;a href=&quot;https://twitter.com/POTUS?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;@POTUS&lt;/a&gt; introduces President Xi to the U.S. delegation at the Great Hall of the People in Beijing, China &lt;a href=&quot;https://t.co/Cn2RbtIWyq&quot;&gt;pic.twitter.com/Cn2RbtIWyq&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/RapidResponse47/status/2054746562597675512?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 14, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://twitter.com/POTUS?ref_src=twsrc%5Etfw</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس بات چیت کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کی جو صدر ٹرمپ کے ساتھ آئے ہیں۔ ٹرمپ کے وفد میں ایک درجن سے زائد بڑی کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ چین کی ترقی میں امریکی کمپنیوں کا بہت زیادہ کردار ہے اور اس سے دونوں فریقین کو فائدہ ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چینی اور امریکی صدور نے بعد ازاں بیجنگ میں قدیم عبادت گاہوں کے مجموعے اور ایک اہم سیاحتی مرکز ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چائنہ بہت خوب صورت ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2054792715615822012" data-url="https://twitter.com/POTUS?ref_src=twsrc%5Etfw" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;.&lt;a href=&quot;https://twitter.com/POTUS?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;@POTUS&lt;/a&gt; walks the grounds of the Temple of Heaven with President Xi in Beijing &lt;a href=&quot;https://t.co/Foijq0uCIW&quot;&gt;pic.twitter.com/Foijq0uCIW&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/RapidResponse47/status/2054792715615822012?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 14, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://twitter.com/POTUS?ref_src=twsrc%5Etfw</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی موقع پر جب صدر ٹرمپ سے سوال ہوا کہ مذاکرات کیسے رہے تو ان کا کہنا تھا کہ بہترین۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب صدر ٹرمپ آج شام ایک سرکاری ضیافت میں شرکت کریں گے اور جمعے کے دن بھی ان کی صدر شی سے ملاقات شیڈیول ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چائنہ میں مصروفیات کا شیڈول</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">جمعرات، 14 مئی</span></p><ol><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">صبح 10:00 بجے: بیجنگ میں صدر شی کے ساتھ استقبالیہ تقریب</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">10:15: دونوں صدور کی ملاقات</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹیمپل آف ہیون کا دورہ</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">شام 06:00 بجے: سرکاری عشائیے میں شرکت</li></ol><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">جمعہ، 15 مئی</span></p><ol><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">11:30: دونوں صدور کی دوستانہ تصویر</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">11:40: صدر شی کے ساتھ چائے پر ملاقات</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">12:15: صدر شی کے ساتھ ظہرانہ</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمعے کی شام میں کسی وقت امریکہ روانگی</li></ol>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2844</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/14/54eaedbf-0bekintsdwpbqedmncrwk.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 09:54:31 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان اور عراق نے آبنائے ہرمز سے اپنی سپلائی کے لیے ایران کے ساتھ ڈیل کر لی ہے: رپورٹ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2843</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2843" rel="standout" />
      <description>خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور عراق دونوں نے خلیجِ فارس سے تیل و گیس کی ترسیل کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کے مطابق معاملے سے آگاہ پانچ ذرائع نے انہیں اس ڈیل کی تصدیق کی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو بڑے مؤثر طریقے سے کنٹرول اور بند کیا ہے جس کی وجہ سے یہاں سے گزرنے والی تیل و گیس کی سپلائی بری طرح متاثر ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بجائے اس کی رسائی کنٹرول کرنے کی طرف جا رہا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عراق کا بیش تر تیل آبنائے ہرمز کے راستے برآمد ہوتا ہے۔ اس لیے عراق تیل پیدا کرنے والے ان ملکوں میں شامل ہے جو اس راستے کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان جو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اس کا بڑا انحصار مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کیے جانے والے تیل و گیس پر ہے جس کی وجہ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بغداد اور تہران کے درمیان ڈیل کے تحت عراق نے کروڈ آئل سے لدے دو بڑے جہازوں کے لیے محفوظ راستہ حاصل کیا ہے۔ یہ جہاز 20, 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر اتوار کو آبنائے ہرمز سے گزرے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عراق اب مزید جہاز گزارنے کے لیے ایران کی اجازت حاصل کرنے پر کام کر رہا ہے۔ عراقی وزارتِ تیل کے ایک عہدے دار جو اس ساری صورتِ حال سے باخبر ہیں، نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت تیل سے ہونے والی اپنی آمدن کے تحفظ کے کام کر رہی ہے جو اس کے بجٹ میں 95 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عہدے دار کا کہنا تھا کہ 'عراق، ایران کا اہم اتحادی ہے اور عراق کی معیشت میں کوئی بھی بگاڑ ایران کے معاشی مفاد کو بھی نقصان پہنچائے گا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عراقی وزارتِ تیل کے ایک اور عہدے دار اور شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذریعے نے بھی ایران کے ساتھ بات چیت کی تصدیق کی۔ ان تمام افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کی ہے کیوں کہ یہ اس معاملے پر معلومات دینے کے مجاز نہیں ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عراقی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے لیے قطری گیس کی ترسیل</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اسی طرح اسلام آباد اور تہران کے درمیان ایک علیحدہ ڈیل کے تحت قطر کی ایل این جی گیس سے لدے دو ٹینکر پاکستان کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان قطر سے ماہانہ تقریباً 10 ایل این جی گارکو لے رہا تھا اور گرمیاں بڑھنے کے بعد اس کی ایل این جی کی طلب میں اضافہ بھی ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور عراق دونوں کی جانب سے ایران یا پاسدارانِ انقلاب کو جہاز گزارنے کے عوض براہ راست کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق قطر اس معاملے میں بالواسطہ شامل نہیں تھا۔ لیکن اس نے پاکستان کو شپمنٹ بھیجنے سے قبل امریکہ کو آگاہ کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی وزارتِ پیٹرولیم اور وزارت اطلاعات کی جانب سے رائٹرز کے تبصرے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کا بھی کوئی جواب نہیں ملا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">معاملے سے آگاہ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے توانائی کی قیمتیں اور سپلائی کے مسائل بڑھ رے ہیں، دیگر ممالک بھی اسی طرح کی ڈیلز کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شپنگ ڈیٹا کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے ہر ماہ تقریباً تین ہزار جہاز گزرتے تھے۔ اب یہ ٹریفک اس کا صرف پانچ فیصد رہ گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو باضابطہ شکل دے رہا ہے۔ عراقی وزارتِ تیل کے ایک عہدے دار کے مطابق ایران نے عراق سے کہا ہے کہ وہ ہر ٹینکر سے متعلق دستاویزات فراہم کرے تاکہ ایرانی بحری افواج کی نگرانی میں مخصوص بحری راستوں کے ذریعے ان کی آمد و رفت کو ممکن بنایا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عراقی وزارتِ تیل کی خصوصی ٹیمیں ایرانی حکام کو جہازوں سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کر رہی ہیں جن میں منزل، شپنگ تفصیلات، ملکیت اور کارگو کی نوعیت شامل ہے۔ تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جہازوں کی آمد و رفت سے متعلق ایران کے ساتھ مذاکرات سے واقف ایک پاکستانی ذریعے نے کہا کہ اس عمل میں بعض رکاوٹیں پیش آئی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بقول پاسدارانِ انقلاب کبھی کبھار شرائط بدل دیتی ہے جس کی وجہ سے معاملات کو درست سمت میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2843</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/13/55e6ef93-iuk39vurqb81gk06vbcmb.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 16:05:23 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>متحدہ عرب امارات کے بعد سعودی عرب کی جانب سے بھی ایران پر جوابی حملوں کا انکشاف</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2842</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2842" rel="standout" />
      <description>برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران سعودی عرب نے بھی خفیہ طور پر ایران پر متعدد حملے کیے جو تہران کی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کے مطابق اسے معاملے سے آگاہ دو مغربی اور دو ایرانی عہدے داروں نے سعودی عرب کی جانب سے حملوں کا بتایا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی عرب کی جانب سے ایران پر حملوں سے متعلق خبر پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب سعودی عرب کی جانب سے براہِ راست ایرانی سرزمین پر حملوں کی کوئی اطلاع آئی ہے۔ ماضی میں سعودی عرب اور ایران طویل عرصے تک ایک دوسرے کے سخت حریف رہے ہیں لیکن 2023 میں چین کی ثالثی سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہو گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو مغربی عہدے داروں نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی ایئرفورس کی جانب سے حملوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ مارچ کے اواخر میں کیے گئے۔ ان میں سے ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ یہ حملے ایران کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر کیے گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم رائٹرز یہ تصدیق نہیں کر سکا کہ سعودی عرب کی جانب سے کن مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر عہدے دار سے اس معاملے پر مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے براہِ راست اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا گیا کہ حملے کیے گئے ہیں یا نہیں۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے بھی معاملے پر کوئی رائے نہیں دی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">حملوں کے بعد کشیدگی میں کمی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی اور مغربی عہدے داروں کے مطابق سعودی عرب نے ایران کو حملوں کے بارے میں پہلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ سفارتی رابطے ہوئے اور سعودی عرب کی جانب سے مزید جوابی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہوا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ مفاہمت اسی دوران ہوئی جب بعد ازاں واشنگٹن اور تہران نے سات اپریل کو وسیع تر جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک ایرانی عہدے دار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران اور ریاض کشیدگی کم کرنے پر متفق ہوئے تھے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد 'دشمنی ختم کرنا، باہمی مفادات کا تحفظ اور تناؤ کو مزید بڑھنے سے روکنا تھا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بحیرۂ احمر جہاز رانی کے لیے کھلا رہنے کے باعث سعودی عرب تنازع کے دوران بھی اپنی تیل برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب رہا جب کہ خلیجِ فارس کے بیش تر دیگر ممالک ایسا نہ کر سکے۔ اسی لیے سعودی عرب اس جنگ میں نسبتاً کم متاثر ہوا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران نے سعودی عرب پر براہِ راست حملے محدود کر دیے: ذرائع</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مغربی ذرائع کے مطابق مارچ کے اختتام تک سفارتی رابطوں اور سعودی عرب کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی طرح سخت مؤقف اختیار کرنے اور مزید جوابی کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد ریاض اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر ایک مفاہمت طے پائی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کی جانب سے سعودی وزارتِ دفاع کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 25 سے 31 مارچ کے دوران سعودی عرب پر 105 سے زائد ڈرون اور میزائل حملے ہوئے۔ تاہم یکم سے چھ اپریل کے درمیان یہ تعداد کم ہو کر صرف 25 سے کچھ زیادہ رہ گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مغربی ذرائع کے مطابق وسیع تر جنگ بندی سے قبل سعودی عرب پر داغے گئے میزائل اور ڈرون غالباً ایران کے بجائے عراق سے فائر کیے گئے تھے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ تہران نے براہِ راست حملے محدود کر دیے تھے جبکہ اس کے اتحادی گروہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">12 اپریل کو سعودی عرب نے عراقی سرزمین سے ہونے والے حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے عراق کے سفیر کو طلب کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطے اس وقت بھی جاری رہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان وسیع تر جنگ بندی کے آغاز پر کشیدگی دوبارہ سامنے آئی۔ کیوں کہ سعودی وزارتِ دفاع نے سات اور آٹھ اپریل کو مملکت پر 31 ڈرونز اور 16 میزائل داغے جانے کی اطلاع دی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان حملوں میں اضافے کے بعد ریاض نے ایران اور عراق کے خلاف جوابی کارروائی پر غور کیا جب کہ پاکستان نے سعودی عرب کو یقین دہانی کرانے کے لیے لڑاکا طیارے تعینات کیے اور سفارتی کوششوں کے ساتھ تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی حملوں کا انکشاف</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی عرب کی جانب سے حملوں کی اطلاع اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع خاصا پھیل چکا ہے اور اس کے کئی پہلو اب تک پوری طرح منظرِ عام پر نہیں آئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے تمام چھ ممالک کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں نہ صرف امریکی فوجی اڈے بلکہ شہری تنصیبات، ہوائی اڈے اور تیل کا انفراسٹرکچر بھی نشانہ بنا جب کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے عالمی تجارت کو بھی دھچکا پہنچایا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کو ایک امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی ایران پر حملوں کا انکشاف کیا ہے۔ تاہم اس تنازع کے دوران امارات اور سعودی عرب کا طریقۂ کار مختلف رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2841" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2026/5/12/e2314a46-dk12dkfpn3ts5spaqmigio.webp" data-title="متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران پر چھپ کر حملے کیے گیے: امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف" data-url="/news/2841" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران پر چھپ کر حملے کیے گیے: امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا اور تہران کے ساتھ سفارت کاری کا عمل بہت محدود کر دیا۔ جب کہ سعودی عرب نے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی اور ایران کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا۔ ریاض میں تعینات ایرانی سفیر کے ذریعے بھی بات چیت جاری رکھی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدے دار نے اس بات کی براہِ راست تصدیق نہیں کی کہ آیا ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کا کوئی معاہدہ ہوا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'سعودی عرب اپنے مستقل مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ خطے اور اس کے عوام کے استحکام، سلامتی اور خوش حالی کے لیے کشیدگی میں کمی، تحمل اور ضبط ضروری ہے۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2842</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/13/fcb08bdf-at01bdft6sl5ewoc1uz41w.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 10:29:57 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران پر چھپ کر حملے کیے گیے: امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2841</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2841" rel="standout" />
      <description>ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات نے بھی خفیہ طور پر تہران پر کئی حملے کیے ہیں۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' میں شائع رپورٹ میں معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امارات کا ایک ہدف ایران کے لوان جزیرے پر واقع آئل ریفائنری تھی جسے اپریل کے اوائل میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کرنے والے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ریفائنری پر ایک بڑی آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد تیل کی یہ تنصیب بند کر دی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ نے امارات کی جنگ میں شمولیت کا خاموشی سے خیر مقدم کیا۔ ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر متحدہ عرب امارات اور کویت پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات کو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ نشانہ بنایا۔ حتیٰ کہ اسرائیل سے بھی زیادہ حملے امارات پر کیے گئے اور اس پر 2800 سے زیادہ میزائل اور ڈرون حملے کیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان حملوں نے متحدہ عرب امارات کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے باعث ملازمین کی برطرفیوں اور جبری رخصتوں میں اضافہ ہوا۔ خلیجی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی اخبار کو بتایا کہ ان حملوں نے ملک کی اسٹریٹجک سوچ میں 'بنیادی تبدیلی' پیدا کر دی ہے اور اب امارات ایران کو ایک 'بے قابو ریاست' کے طور پر دیکھتا ہے جو غیر ملکی ماہر افرادی قوت، سلامتی، اور استحکام پر مبنی اس کے معاشی و سماجی ماڈل کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے جب اس معاملے پر تبصرے کے لیے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو وزارت نے اس پر بیان دینے سے گریز کیا۔ تاہم اس نے پہلے جاری ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابوظہبی حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشرقِ وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھنے والی تجزیہ کار دینا اسفندری نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ایک اہم پیش رفت ہے کہ کسی خلیجی عرب ملک نے براہِ راست ایران پر حملہ کرتے ہوئے جنگ میں فریق کا کردار اختیار کیا ہے۔ اب تہران کوشش کرے گا کہ متحدہ عرب امارات اور اُن دیگر خلیجی عرب ممالک کے درمیان مزید فاصلے پیدا کرے جو جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2841</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/12/e2314a46-dk12dkfpn3ts5spaqmigio.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 10:52:58 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران کے ساتھ جنگ بندی آخری سانسیں لے رہی ہے، کرد جنگجوؤں نے ہمیں مایوس کیا: ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2840</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2840" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کی تجاویز پر ایران کے جواب کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے 'کچرا' قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ 'جنگ بندی بہت ہی کمزور مقام پر ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اس کچرے (ایران کے جواب) کو پڑھنے کے بعد سب سے کمزور مقام پر ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بقول جنگ بندی آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی موقع ہے جب ڈاکٹر آ کر کہتا ہے کہ اب آپ کے مریض کا زندہ رہنے کا چانس ایک فیصد سے بھی کم ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'ایران کا جواب کچرا تھا'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ تجویز انتہائی فضول تھی اور اسے کوئی قبول نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ ایرانی رہنما محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تہران کی تجویز قبول کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جواب کے لیے چار دن کا وقت لینے پر بھی تنقید کی۔ ان کے بقول انہوں نے ہمیں اس دستاویز کے لیے چار دن انتظار کرایا جو صرف 10 منٹ کا کام تھا۔ انہوں نے ضمانت دی تھی کہ طویل عرصے تک کسی جوہری ہتھیار پر کام نہیں کریں گے اور اس کے علاوہ کچھ دیگر معاملات پر بھی اتفاق ہوا تھا، لیکن جواب میں یہ چیزیں شامل نہیں تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہم سے اتفاق کرتے ہیں اور پھر مکر جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور یہ بات انہوں نے اپنے خط میں نہیں کہی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا حل اب بھی ممکن ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی حکام نے اپنے پیغامات میں امریکی حملوں میں تباہ ہونے والا یورینیم کا ذخیرہ واشنگٹن کے حوالے کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جن تنصیبات کو امریکہ اور اسرائیل نے گزشتہ سال جون میں تباہ کیا تھا، وہاں اتنی تباہی ہوئی ہے کہ اب جوہری مادے کا ذخیرہ نکالنا تقریباً ناممکن ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے بقول 'دنیا میں صرف دو ہی ملک ہیں جو اس ذخیرے کو نکال سکتے ہیں۔ صرف امریکہ اور چائنہ کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ اسے نکال سکیں۔ وہ اتنا نیچے دفن ہے اور اس قدر تباہ ہے کہ اس تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'کردوں نے ہمیں مایوس کیا'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے کرد جنگجو گروہوں سے مایوسی کا اظہار کیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کے لیے بھجوایا گیا اسلحہ رکھ لیا۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہتے تھے لیکن ان کے پاس ہتھیار نہہیں تھے۔ ہم نے سوچا کہ کرد انہیں اسلحہ دیں گے لیکن کردوں نے ہمیں مایوس کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بقول 'کرد صرف لیتے گئے۔ کانگریس میں ان کی بڑی اچھی ساکھ ہے۔ کانگریس نے کہا کہ یہ بڑے جنگجو لوگ ہیں، انہیں پیسے دو تو یہ جی جان سے لڑتے ہیں۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی 14 نکاتی تجویز کو قبول کرنے کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے: محمد باقر قالیباف</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 14 نکاتی تجویز میں عوام کے حقوق واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ یہ حقوق تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ 'اس کے علاوہ اختیار کی جانے والی ہر حکمتِ عملی مکمل طور پر بے نتیجہ ہوگی اور اس کا حاصل ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ امریکی اسے قبول کرنے میں جتنی تاخیر کریں گے، امریکی ٹیکس دہندگان کو اس کی اتنی ہی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2840</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/12/c9365a68-mg7kfp6zfpdf149go7h6.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 10:25:32 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورۂ بیجنگ؛ صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں کن اہم معاملات پر بات ہو گی؟ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2839</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2839" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے چائنہ کا اہم دورہ کریں گے۔ دو روزہ دورے سے متعلق امریکی حکام کو امید ہے کہ اس میں ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت، جوہری ہتھیاروں سمیت کئی اہم معاملات زیرِ بحث آئیں گے اور معدنیات کے معاہدے پر بھی کوئی پیش رفت ہونے کا امکان ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ٹرمپ بدھ کو بیجنگ پہنچیں گے جب کہ جمعرات اور جمعے کو ان کی ملاقاتیں ہوں گی۔ یہ 2017 کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دورۂ چین ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی چھ ماہ سے زائد عرصے کے بعد پہلی بالمشافہ ملاقات ہوگی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، ایران جنگ اور کئی دیگر معاملات پر بڑے اختلافات ہیں جنہیں حل کرنے کی کوششوں کے لیے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">طیاروں، زراعت اور تجارت سے متعلق معاہدے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس دورے میں امریکہ اور چائنہ کے درمیان باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مختلف فورمز پر اتفاق متوقع ہے۔ جب کہ چینی حکام کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بوئنگ طیاروں، امریکی زرعی مصنوعات اور توانائی سے متعلق خریداریوں کا اعلان کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 'بورڈ آف ٹریڈ' اور 'بورڈ آف انویسٹمنٹ' کے قیام کا باضابطہ اعلان بھی متوقع ہے۔ اگرچہ ان اداروں کے عملی نفاذ کے لیے مزید کام درکار ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں ممالک اس تجارتی جنگ بندی میں توسیع پر بھی بات کریں گے جس کے تحت چین سے امریکہ کو نایاب معدنیات کی فراہمی جاری ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ معاہدے میں اسی ہفتے توسیع ہوگی یا نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک امریکی عہدے دار نے اس امید کا اظہار کیا کہ گزشتہ خزاں میں طے پانے والا یہ معاہدہ بالآخر توسیع پا جائے گا۔ تاہم واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تائیوان، جوہری ہتھیار، ایران اور اے آئی جیسے حساس معاملات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں ایسے معاملات بھی زیرِ بحث آنے کی توقع ہے جو طویل عرصے سے امریکہ اور چائنہ کے درمیان کشیدگی کا باعث رہے ہیں۔ ان میں ایران، تائیوان اور جوہری ہتھیاروں کے معاملات شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے اور ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے۔ صدر ٹرمپ چائنہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ تہران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے اور جنگ ختم کرنے پر آمادہ کرے جو فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی انتظامیہ نے روس کے ساتھ چائنہ کے تعلقات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب، شی جن پنگ واشنگٹن سے تائیوان کے معاملے پر ناخوش ہیں۔ امریکہ جمہوری طرزِ حکومت رکھنے والے جزیرے تائیوان کا سب سے بڑا بین الاقوامی حامی اور اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے۔ جب کہ بیجنگ اسے اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ نے حالیہ برسوں میں تائیوان کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ انتظامیہ کے مشیروں نے چائنہ میں تیار ہونے والے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر بڑھتی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا ایک مستقل چینل ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ تنازع سے بچا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ طویل عرصے سے چائنہ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات کا بھی خواہاں رہا ہے۔ لیکن بیجنگ اب تک اپنے جوہری ذخیرے پر بات چیت سے گریز کرتا آیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ اور شی جن پنگ کی آخری ملاقات اکتوبر 2025 میں جنوبی کوریا میں ہوئی تھی جہاں دونوں رہنماؤں نے اس تجارتی جنگ کو عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا تھا جس میں امریکہ نے چینی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے تھے جبکہ چائنہ نے نایاب معدنیات کی عالمی سپلائی محدود کرنے کی دھمکی دی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ ٹرمپ کو دنیا بھر سے درآمدات پر کئی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ تاہم ٹرمپ نے دوسرے قانونی راستوں کے ذریعے بعض محصولات دوبارہ نافذ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2839</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/11/ac5e94f7-k1yq6gbnb1tsc9ww1ih15d.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 11:42:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>نیتن یاہو کو اب بھی ایرانی حکومت کے خاتمے کی امید، 'اسرائیلی منصوبہ سازوں کو جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی صلاحیت کا اندازہ ہوا'</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2838</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2838" rel="standout" />
      <description>اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ہی اسرائیلی منصوبہ سازوں کو ایران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی صلاحیت کا اندازہ ہوا۔ ان کے بقول 'انہیں یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ یہ خطرہ کتنا بڑا ہے، لیکن اب وہ اسے سمجھتے ہیں۔'</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' کے پروگرام '60 منٹس' کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے ایران میں اسرائیل کے فوجی منصوبوں یا ٹائم لائن پر بات کرنے سے گریز کیا۔ تاہم انہوں نے اس امکان پر گفتگو کی کہ اگر ایران کی قیادت تبدیل ہو گئی تو اس کے کیا اثرات ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ 'اگر یہ حکومت واقعی کمزور ہوتی ہے یا ممکنہ طور پر گر جاتی ہے تو میرا خیال ہے کہ یہ حزب اللہ کا خاتمہ ہوگا، حماس کا خاتمہ ہوگا اور غالباً حوثیوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔ ایران نے جو پراکسی نیٹ ورک کھڑا کیا ہے اس کا پورا ڈھانچہ منہدم ہو جائے گا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایرانی حکومت کا خاتمہ ممکن ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ممکن ہے مگر اس کی ضمانت نہیں ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی امداد پر انحصار کم کرنے کا عندیہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو نے امید ظاہر کی ہے کہ چوں کہ اسرائیل کے خلیجی ریاستوں سے تعلقات بڑھ رہے ہیں، اس لیے اگلے دس برسوں میں اسرائیل کا امریکی امداد پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">'60 منٹس' میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ 'اسرائیل اور امریکہ کے درمیان عسکری تعاون کا جو مالی حصہ ہے، میں امریکہ کی اس مالی معاونت کو صفر پر لانا چاہتا ہوں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بتایا کہ امریکہ اسرائیل کو ہر سال 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے۔ واشنگٹن نے 2018 سے 2028 تک اسرائیل کو 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ مگر یہ امریکہ اسرائیل کے مالی تعلقات کو ممکنہ طور پر ازسرِ نو ترتیب دینے کا بالکل درست وقت ہے۔ ان کے بقول 'میں اگلی کانگریس کا انتظار نہہیں کرنا چاہتا۔ میں ابھی شروع کرنا چاہتا ہوں۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ میں اسرائیل کی گھٹتی حمایت</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کو امریکہ میں دونوں بڑی جماعتوں کی دیرینہ حمایت حاصل ہے اور کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کے ہی اراکین تل ابیب کی فوجی امداد کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ لیکن غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی قانون سازوں اور امریکی عوام میں اسرائیل کی حمایت میں واضح کمی آئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک حالیہ سروے کے مطابق اب 60 فیصد امریکی اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں جب کہ 59 فیصد امریکیوں کو نیتن یاہو کی قابلیت پر بہت کم اعتماد ہے یا بالکل اعتماد نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت میں کمی آنے کی وجہ سوشل میڈیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد ممالک نے سوشل میڈیا پر ایسی چالبازی کی ہے جس نے اسرائیل کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2838</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/11/b359b666-8ltxbiqunfoc52465xftrs.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 10:32:55 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>جنگ کے خاتمے کی امریکی تجاویز پر ایران کا جواب ٹرمپ نے ناقابلِ قبول قرار دے دیا، ایرانی صدر کا 'دشمن کے آگے سر نہ جھکانے' کا عزم</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2837</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2837" rel="standout" />
      <description>ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کا جواب بھجوائے جانے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے کے بعد ایک بار پھر دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک کی سی صورتِ حال بنتی نظر آ رہی ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی دوران دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم کبھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے جب کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی گزشتہ روز سے اب تک متعدد بیانات سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے ایران پر سخت تنقید کی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا جواب</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران نے گزشتہ روز یعنی اتوار کو پاکستان کے ذریعے امریکہ کی جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر اپنا جواب بھجوایا۔ پاکستان اور امریکہ کی جانب سے تو ایران کے جواب کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ تاہم ایران کے سرکاری میڈیا نے کچھ تفصیلات بتائی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق تہران نے اپنے جواب میں آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت تسلیم کرنے اور جنگ سے پہنچنے والے نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی آر آئی بی کا کہنا تھا ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اس پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ٹرمپ کا ردعمل</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو 'ناقابل قبول' قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے جو مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ دونوں ملک کسی ابتدائی معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی جلد معاہدہ ہونے کی امید ظاہر کرتے نظر آئے۔ تاہم ان کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بھی ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کیے بغیر جنگ کو ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2837</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/11/f4c864a2-dqr3ewyh0sf89476iwvgyx.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 09:44:43 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>تفریحی جہاز سے پھوٹنے والی ہنٹا وائرس کی وبا: کیا یہ کرونا کی طرح خطرناک ہے اور ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2836</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2836" rel="standout" />
      <description>ہنٹا وائرس آج کل خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ایک تفریحی جہاز سے پھوٹنے والی اس وبا کو ماہرین سنجیدہ لے رہے ہیں اور حکام تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہنٹا وائرس ایک تفریحی بحری جہاز (کروز شپ) سے پھیلنا شروع ہوا ہے۔ ایم وی ہونڈائس نامی یہ اس جہاز نے گزشتہ ماہ ارجنٹینا سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ جہاز پر سفر کرنے کے بعد تین مسافروں کی موت ہوئی جب کہ چار مسافروں کا جہاز سے طبی بنیادیوں پر انخلا کرا کر انہیں علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب دنیا کے کئی ملکوں میں بڑے پیمانے پر ایک آپریشن شروع ہو گیا ہے جس کا مقصد ان افراد کی نشان دہی کرنا ہے جو ہنٹا وائرس سے ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیوں کہ بہت سے ایسے لوگ جو جہاز پر سوار تھے، یا جن کے وائرس سے متاثر ہونے یا خدشہ ہے یا وہ کسی متاثرہ شخص سے رابطے میں آئے ہیں، مختلف پروازوں کے ذریعے مختلف ملکوں میں پھیل چکے ہیں جن میں برطانیہ، جنوبی افریقہ، نیدرلینڈز، امریکہ اور سوئٹزر لینڈ بھی شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈبلیو ایچ او کے مطابق جہاز پر سوار مسافروں میں سے آٹھ افراد کے ہنٹا وائرس کے شکار ہونے کا خدشہ ہے۔ تین کے بارے میں تو تصدیق ہو چکی ہے کہ وہ اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے جب کہ پانچ کے بارے میں شبہ ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ جہاز پر یہ وبا شروع کیسے ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کے اس وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2052531990193156608" data-url="https://t.co/kvtZOXDuCS" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Latest update From Hantavirus-Hit Cruise that has Land In Europe&lt;br&gt;🪼🪼🪼&lt;br&gt;The version detected aboard the stricken Hondius ship was a rare strain known as the Andes virus, which can be transmitted between humans &lt;a href=&quot;https://t.co/kvtZOXDuCS&quot;&gt;pic.twitter.com/kvtZOXDuCS&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— MassiVeMaC (@SchengenStory) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/SchengenStory/status/2052531990193156608?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 7, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/kvtZOXDuCS</span></span></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'یہ کووڈ نہیں ہے'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عالمی ادارۂ صحت کی ڈاکٹر ماریہ وان کیرخوو نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ کسی وبا کا آغاز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ نہ کووڈ ہے نہ انفلوئنزا۔ اس کے پھیلاؤ کا طریقہ کار بہت بہت مختلف ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہنٹا وائرس کی یہ قسم جس کے کچھ مریض سامنے آئے ہیں، یہ اتنی زیادہ وبائی نہیں ہے یعنی تیزی سے نہیں پھیلتی۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق وائرس کا انسانوں سے انسانوں میں پھیلاؤ ممکن ہے لیکن عالمی سطح پر اس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہنٹا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہنٹا وائرس عموماً چوہوں سے پھیلتا ہے۔ اگر کوئی انسان ایسی فضا میں سانس لے جہاں اس وائرس کے ذرات موجود ہوں، یا وائرس سے متاثرہ چوہوں کا فضلہ یا لعاب موجود ہو تو یہ انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جس جہاز سے یہ وبا شروع ہوئی وہ جنگلی حیات کے علاقوں کا دورہ کر رہا تھا۔ تو امکان ہے کہ کوئی مسافر اس وقت اس وائرس سے رابطے میں آیا ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے سے متاثرہ کوئی مسافر جہاز پر سوار ہوا ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کا ماننا ہے کہ جہاز پر یہ وائرس کئی لوگوں میں منتقل ہوا ہوگا۔ کیوں کہ لگژری کروز جہازوں میں بھی بہرحال جگہ کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے اور لوگ لامحالہ ایک دوسرے سے رابطے میں آتے ہیں۔ لوگ آپس میں کیبنز یا کھانے کی جگہوں پر ایک دوسرے کے رابطے میں آتے ہیں جہاں یہ وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس روز مرہ کے عام رابطوں سے نہیں پھیلتا۔ مثلاً عوامی مقامات پر جانے، دکانوں، دفاتر اور اسکولوں میں جانے سے یہ نہیں پھیلتا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم یہ وائرس کسی ایسے شخص سے منتقل ہو سکتا ہے جو کسی متاثرہ شخص کے ساتھ قربت میں زیادہ وقت گزار کر آیا ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایم وی ہنڈائس جہاز کے جن تین مسافروں کی اموات ہوئیں، ان میں ایک ڈچ خاتون بھی شامل تھیں جو 24 اپریل کو سینٹ ہیلینا کے جزیرے پر جہاز رکنے کے بعد اس سے اتر گئی تھیں۔ وہ اس سے قبل اپنے شوہر کے ساتھ ایک کیبن میں رہ رہی تھیں اور ان کے شوہر کا 11 اپریل کو انتقال ہو گیا تھا۔ تاہم ابھی یہ نہیں پتا کہ ان کے شوہر بھی ہنٹا وائرس سے متاثر تھے یا نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کی علامات عموماً وائرس لگنے کے دو سے چار ہفتوں بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہے اور ایک مہینے تک رہ سکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائرس سے متاثرہ شخص کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کچھ کیسز میں اگر وائرس زیادہ بگڑ جائے تو جسم میں خون کے رساؤ اور گردے خراب ہونے کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جو جان لیوا ہو سکتا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">وبا پھوٹنے کی ٹائم لائن</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یکم اپریل: ایم وی ہنڈائس نامی جہاز نے ارجنٹینا سے اپنا سفر شروع کیا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">6 اپریل: ستر سالہ ایک معمر شخص بیمار پڑ گیا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">11 اپریل: بیمار مسافر کی جہاز پر ہی موت ہو گئی</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">24 اپریل: سینٹ ہیلینا نامی جزیرے پر جہاز سے لاش کو اتارا گیا۔ مسافر کی 69 سالہ بیوی نے بھی جہاز چھوڑ دیا اور وہ فلائٹ کے ذریعے جنوبی افریقہ چلی گئیں جہاں 26 اپریل کو ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ چار مئی کو ان کی ٹیسٹ رپورٹس آئیں جس میں وہ ہنٹا وائرس سے متاثرہ پائی گئیں۔ ان کے علاوہ دیگر دو درجن مسافروں نے بھی جہاز چھوڑ دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">27 اپریل: ایک اور بیمار مسافر کو جنوبی افریقہ منتقل کیا گیا جہاں دو مئی کو اس کے ٹیسٹ ریزلٹ بھی ہنٹا وائرس کے لیے مثبت پائے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2 مئی: ایک جرمن خاتون جو 28 اپریل سے ہنٹا وائرس کی علامات کا شکار تھیں، ان کی بھی جہاز پر موت ہو گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">3 مئی: جہاز کیپ ورڈے پر پہنچا۔ عالمی ادارہ صحت نے جہاز پر ہنٹاوائرس کی مشتبہ وبا پھیلنے کا نوٹس لیا۔ جہاز پر مزید تین دیگر مسافر بھی بیمار پڑ گئے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">7 مئی: جہاز کینیری جزائر کی طرف روانہ ہو گیا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">8 مئی: جہاز آج اسپین پہنچے گا جہاں حکام 140 مسافروں اور عملے کے ارکان کو وصول کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اسپین کے حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کو الگ تھلگ مقام پر منتقل کیا جائے گا۔ </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2836</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/8/2ee9029c-tatoi02eeiq0aqgz0ouqfwq.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:31:12 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران کا ایک دوسرے پر چھیڑ چھاڑ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام، آبنائے ہرمز میں  پھر جھڑپیں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2835</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2835" rel="standout" />
      <description>امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان خلیجِ فارس میں جھڑپیں ہوئی ہیں اور متحدہ عرب امارات بھی ایک بار پھر حملوں کی زد میں آیا ہے۔ یہ حملے ایک ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب پچھلے کئی روز سے یہ خبریں آ رہی ہیں کہ امریکہ اور ایران معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ کے تین جنگی جہازوں پر حملے ہوئے ہیں جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ 'تین بہترین امریکی جنگی جہاز حملے کے باوجود انتہائی کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن ایرانی حملہ آوروں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ ٹرمپ کے بقول 'انہوں نے آج ہم سے چھیڑ چھاڑ کی، ہم نے انہیں اڑا کر رکھ دیا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی فوجی حکام نے 'این بی سی نیٹ ورک' کو بتایا کہ انہوں نے قشم اور بندر عباس میں دو مقامات کو نشانہ بنایا۔ لیکن یہ ایک دفاعی کارروائی تھی اور اس کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ​​دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">این بی سی نیوز نے ایک ہنگامی رپورٹ میں پینٹاگون کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی جہازوں نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کارروائی کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ایرانی حکام نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام امریکہ پر لگایا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کارروائی صرف اس وقت کی جب امریکی افواج نے اس کے ایک ٹینکر کو قبضے میں لینے کی کوشش کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی فوجی کمان نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے ایرانی آئل ٹینکر اور ایک دوسرے جہاز پر حملے کیے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے اور دیگر ساحلی علاقوں میں شہری آبادیوں پر بھی فضائی حملے کیے۔ ایرانی فوج کے مطابق اس نے جوابی کارروائی میں امریکی فوجی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران میں جنگ کے انچارج خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا کہ 'ایران کی مسلح افواج نے فوری طور پر اور جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز کے مشرق میں اور چابہار بندرگاہ کے جنوب میں امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کیا، جس سے انھیں کافی نقصان پہنچا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی حملوں نے امریکہ کو 'بھاری نقصان' پہنچایا ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ اس کے کسی اثاثے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے پریس ٹی وی نے بعد ازاں رپورٹ کیا کہ کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہنے کے بعد اب ایرانی جزائر اور ساحلی علاقوں میں صورتِ حال معمول پر آ گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب انہی حملوں کے دوران متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس حملے سے متعلق فی الحال بہت کم تفصیلات دستیاب ہیں کہ امارات میں کس مقام کو نشانہ بنایا گیا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے پر زور</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ہونے والی جھڑپوں کے باوجود مذاکرات اور جنگ بندی جاری رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ 'ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان حملوں سے قبل امریکہ کی جانب سے ایران کو جنگ کے خاتمے کے ایک منصوبے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں جس پر تہران کی جانب سے فی الحال کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے سے متعلق فی الحال کسی فیصلے پر نہیں پہنچے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے امریکہ کے اس مطالبے پر آمادگی دکھائی ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اس کا کوئی چانس نہیں اور وہ بھی یہ بات جانتے ہیں اور اس پر رضا مند بھی ہو چکے ہیں۔ اب دیکھیں کہ وہ اس معاہدے کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب امریکی صدر سے سوال ہوا کہ ان کے خیال میں معاہدہ کب تک ہونے کی توقع ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ 'شاید نہ بھی ہو اور کسی بھی دن ہو بھی سکتا ہے۔' ان کے بقول 'ایرانی مجھے سے زیادہ معاہدے کے خواہش مند ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ اس جنگ کی وجہ سے ٹرمپ کو امریکہ میں اپنے مخالفین کے ساتھ ساتھ حامیوں کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ کیوں کہ وہ ماضی میں جنگوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا وعدہ بھی کرتے آئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد جہاں دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں، وہیں امریکی عوام بھی اس سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں 40 فیصد تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ فی گیلن پیٹرول کی قیمت 1.20 ڈالر سے 4 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2835</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/8/1b7066c1-5f8ko4z8osr4fog6iuw1jh.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 09:45:32 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک قلیل المدتی معاہدے کے 'انتہائی قریب'، معاہدے کی کیا تفصیلات سامنے آئی ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2833</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2833" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک محدود اور عارضی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے ہیں۔ جمعرات کو اعلیٰ عہدے داروں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک فریم ورک کا مسودہ تیار ہے جو لڑائی روک دے گا لیکن بڑے اور اہم دیرینہ مسائل فی الحال غیر حل شدہ ہی رہیں گے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، اس کے مطابق یہ ایک جامع معاہدے کے بجائے قلیل المدتی مفاہمت ہوگی۔ دونوں فریقین کے درمیان اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ فی الحال اس مرحلے پر ایک عارضی معاہدے کے ہی اشارے مل رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ عارضی معاہدہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی سمت میں لے جائے گا۔ معاہدے کی خبریں آنے کے بعد بین الاقوامی معاشی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے جب کہ تیل کی قیمتوں میں بھی قابل ذکر کمی ہوئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکام اور ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن فی الحال سارے تنازعات ایک ساتھ حل کرنے کے عزائم سے پیچھے ہٹے ہیں کیوں کہ دونوں کے درمیان اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم کے ذخائر کے مستقبل اور ایران پر جوہری منصوبوں کی پابندیوں کی مدت کے بارے میں دونوں کے مؤقف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">معاملے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں۔ اگر دونوں فریقین ابتدائی معاہدے پر رضامند ہو جاتے ہیں تو اس کے تحت ایک حتمی معاہدے کے لیے 30 دن میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق فی الحال جو مسودہ ترتیب دیا جا رہا ہے، اس میں امریکہ کے وہ اہم مطالبات شامل نہیں ہیں جو وہ کرتا آ رہا ہے اور ایران مسترد کر رہا ہے۔ مثلاً ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں، مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی پراکسیز کا خاتمہ اور افزودہ یورینیم کی حوالگی وغیرہ اس میں شامل نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان بڑے مسائل پر بات کرنے سے پہلے اب دونوں فریق ایک ایسے عارضی معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد لڑائی کو ختم کرنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک سینیئر پاکستانی عہدے دار، جو دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کے عمل میں بھی شامل ہیں، نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا ہے کہ 'ہماری ترجیح یہ ہے کہ دونوں فریقین جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کریں اور جب دونوں دوبارہ براہِ راست مذاکرات شروع کریں تو باقی مسائل حل کیے جائیں۔' </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق اس مرحلے پر جو فریم ورک تجویز کیا جا رہا ہے، اس میں تین مراحل کی بات کی گئی ہے۔ جنگ کا باضابطہ اور حتمی خاتمہ، آبنائے ہرمز کے بحران کا حل اور اس کے بعد 30 دن کے اندر مذاکرات میں دیگر بڑے مسائل کا حل تلاش کرنا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستانی عہدے دار اور ایک اور ذریعے نے بتایا ہے کہ ایک صفحے کا مسودہ جو جنگ کے حتمی خاتمے کا اعلان کرے گا، دونوں فریق اس پر کافی حد تک اتفاقِ رائے کر چکے ہیں تاہم کچھ معاملات پر اب بھی فاصلے برقرار ہیں۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ پرامید، ایران کو شبہات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خاصے پرامید ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ 'ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے جس کا بہت زیادہ امکان ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ جلد نمٹ جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایران امریکہ کی جنگ کے خاتمے کی تجاویز کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تہران امریکہ کی تجویز کا طریقہ کار کے مطابق جواب دے گا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2833</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/7/a771aef4-8zanm3wvvuqqfnrgs1ygpq.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:12:32 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان کو مذاکرات کا دوسرا دور پھر اسلام آباد میں ہونے کی توقع، ٹرمپ کو جلد معاہدہ ہونے کی امید</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2832</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2832" rel="standout" />
      <description>پاکستان کو توقع ہے کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات کا دوسرا دور اب پھر اسلام آباد میں ہو سکتا ہے جب کہ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدہ جلد ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے فی الحال اس پر خاموشی ہے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپریل کے آخری عشرے میں دونوں ملکوں کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بھرپور تیاریاں کی گئی تھیں لیکن مذاکرات کا یہ دوسرا دور منسوخ ہو گیا تھا جس کے اب دوبارہ ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترک خبر رساں ادارے 'انادلو ایجنسی' کا کہنا ہے کہ اسے ثالثی کے معاملات سے آگاہ دو پاکستانی سرکاری عہدے داروں نے بتایا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور پھر اسلام آباد میں ہونے کی توقع ہے اور پاکستان کو امید ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 14 اور 15 مئی کو چائنہ کے دورے پر جانے سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی 'ابتدائی' معاہدہ طے پا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انادلو ایجنسی سے بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ 'حالیہ پیش رفتوں کو دیکھتے ہوئے پاکستان پرامید ہے کہ آئندہ ہفتے تک دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات بحال ہو جائیں گے اور مشرقِ وسطیٰ تنازع کا کوئی باہمی حل نکل آئے گا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عہدے دار کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان 80 سے 85 فیصد معاملات پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ لیکن سب سے اہم جوہری صلاحیت کے معاملے پر اب بھی بات پھنسی ہوئی ہے۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کو معاہدہ جلد ہونے کی امید</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران اس کا احترام کرے جس پر اتفاق ہو چکا ہے، تو امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ ختم اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بدھ کو اپنے ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'فرض کریں کہ ایران وہ دینے پر راضی ہو جاتا ہے جس پر اتفاق ہو، جو کہ ایک بڑا مفروضہ ہے، لیکن پھر ایپک فیوری (اسرائیل و امریکہ کا ایران کے خلاف آپریشن) اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہٹا دی جائے گی جو بہت مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ جس سے آبنائے ہرمز ایران سمیت سب کے لیے کھل جائے گی۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں ایک بار پھر جلد معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 'ایرانی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ قوی امکان ہے کہ ہم معاہدہ کر لیں گے اور یہ معاملہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو جنگ کے خاتمے اور معاہدے سے متعلق کچھ تجاویز بھجوائی گئی ہیں جن کا ایران جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران اس پر اپنا جواب بھجوا دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی قانون ساز اور پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراھیم رضائی نے امریکی تجاویز کو 'حقیقت سے زیادہ امریکی خواہشات کی فہرست' قرار دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ روز پاکستانی و امریکی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ دونوں فریقین ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت یا ابتدائی معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے فی الحال اس کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ممکنہ طور پر معاہدے کے قریب پہنچنے کی اطلاعات پر طنز کیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں لکھا کہ 'آپریشن مجھ پر یقین کرو بھائی ناکام ہو گیا۔ اب دوبارہ آپریشن دکھاوا کر کے معمول پر آ جاؤ۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2832</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/7/6bb91e56-l6reey3v4p8cfte8h9f42g.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 10:02:38 GMT+3</pubDate>
    </item>
  </channel>
</rss>