<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:content="https://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom">
  <channel>
    <title>Yenisafak UR</title>
    <link>http://ur.yenisafak.com</link>
    <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/rss-feeds?category=news" rel="self" type="application/rss+xml" />
    <description>RSS Feed</description>
    <copyright>(c) 2026, Yenisafak UR</copyright>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 10:47:52 GMT+3</lastBuildDate>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 10:47:26 GMT+3</pubDate>
    <language>tr-TR</language>
    <image>
      <title>Yenisafak UR</title>
      <url>https://assets.yenisafak.com/yenisafak/wwwroot/images/site-icon/yenisafak-ur.png</url>
      <link>http://ur.yenisafak.com/</link>
    </image>
    <item>
      <title>امریکہ کی ایران کے لیے پابندیوں میں نرمی، اگر معاہدے کی پاسداری نہ کی تو جو ضروری ہوا وہ کروں گا: ٹرمپ کی تنبیہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2895</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2895" rel="standout" />
      <description>امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت تہران پر عائد بعض پابندیاں 60 روز کے لیے اٹھا لی ہیں جب کہ ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ایران نے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی کی تو 'جو ضروری ہوا، وہ کریں گے۔'</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کو ایران کے لیے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا جو 21 اگست تک جاری رہیں گی۔ اس استثنیٰ کے تحت تہران کو تیل اور اس سے متعلقہ مصنوعات فروخت کرنے اور ان کی ادائیگیاں وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی آمد و رفت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران ہتھیاروں کے معائنے کی اجازت دے گا تاکہ جوہری معاملات پر شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے یہ تنبیہ کی کہ 'اگر ایران اپنے معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا یا مناسب رویہ اختیار نہیں کرتا تو میں وہی کروں گا جو ضروری ہوگا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کے لیے پابندیوں میں نرمی، بیرون ملک منجمد اثاثوں کے ایک حصے تک رسائی اور ایران کی تعمیر نو اور ترقی کے منصوبے کے آغاز کو یقینی بنایا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ادھر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایک طریقہ کار کے تحت امریکہ اور قطر منجمد ایرانی فنڈز کے اجرا کے بعد ان پر نگرانی رکھیں گ، جب کہ یہ رقم امریکہ سے مکئی، سویا بین اور گندم کی خریداری پر خرچ کی جا سکے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا جو رقم ہم جاری کریں گے، وہ ہمارے ہی کسانوں تک پہنچے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ ایسی کوئی شرط موجود نہیں اور منجمد فنڈز کے کم از کم ایک حصے کو دیگر غیر پابندی زدہ اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات نے حتمی امن معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ تاہم ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت شروع کر دی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ اسرائیل اس امن معاہدے کا فریق نہیں ہے لیکن اس نے جمعہ کے روز لبنان میں ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کی رات سے لڑائی میں واضح کمی آئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی سیکیورٹی زون برقرار رکھے گا اور اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو لاحق خطرات کو 'ختم' کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے تکنیکی سطح کے مذاکرات اب بھی سوئٹزرلینڈ میں جاری ہیں جو پورا ہفتہ جاری رہنے کا امکان ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2895</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/23/7bb14160-amrh-n-e-l-pbdwn-e-s-t-j-d-t-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 10:47:26 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>میرے والد کو قید نہیں کیا جا سکتا: راشد غنوشی کی بیٹی کی ینی شفق سے گفتگو</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2890</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2890" rel="standout" />
      <description>تیونس کی ایک سیاسی جماعت 'النهضہ موومنٹ' کے رہنما راشد الغنوشی کو سنائی گئی عمر قید کی سزا پر بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے جب کہ ان کی بیٹی سمیہ غنوشی نے ینی شفق سے گفتگو کرتے ہوئے اسے سیاسی بنیادوں پر دی گئی سزا قرار دیا ہے۔ سمیہ الغنوشی کا کہنا ہے کہ ان کے والد پر مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'میرے والد کی صحت اچھی ہے، میرے والد کو دبایا نہیں جا سکتا اور ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔'</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیونس میں موجودہ صدر قیس سعید کی حکومت، جس نے 25 جولائی 2021 سے ملک کی جمہوری کامیابیوں کو ختم کرنے کا عمل شروع کیا تھا، اب آمریت کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ حال ہی میں النهضہ موومنٹ کے رہنما اور پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر راشد الغنوشی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جس کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">84 سالہ غنوشی کو 'النهضہ کی خفیہ تنظیم' کے نام سے مشہور مقدمے میں عمر قید کی سزا دی گئی جب کہ متعدد دیگر سیاستدانوں کو بھی سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ غنوشی کی بیٹی سمیہ غنوشی نے ینی شفق سے گفتگو میں اپنے والد کی صحت کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'میرے والد کی میراث زندہ رہے گی'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سمیہ غنوشی نے بتایا کہ ان کے 84 سالہ والد کو پارکنسن کی بیماری ہے جس کا اثر ان کے دائیں ہاتھ پر ہے۔ تاہم ابھی اس بیماری کی شدت کم ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد، جنہیں اس عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا، جیل میں قید ہیں مگر ان کے حوصلے بلند ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سمیہ کا کہنا تھا کہ 'میرے والد کمزوری یا ہتھیار ڈالنے کو نہیں جانتے۔ انہوں نے بورقیبہ حکومت کے خلاف مزاحمت کی اور پھر بن علی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ آج دونوں حکومتیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں لیکن غنوشی اور ان کی نمائندگی کرنے والی اقدار آج بھی قائم ہیں۔ قیس سعید کی حکومت بھی ایک دن ختم ہو جائے گی مگر غنوشی کی میراث زندہ رہے گی۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'یہ مکمل طور پر سیاسی مقدمہ ہے'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سمیہ غنوشی نے تیونس کے سیاسی ماحول کے بارے میں بھی اہم باتیں کیں اور موجودہ صورتِ حال کا موازنہ ترکیہ میں اے کے پارٹی اور اس کی سیاسی روایات کو درپیش مشکلات سے کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ 'راشد الغنوشی اور النهضہ موومنٹ پر خفیہ تنظیم کے الزامات مکمل طور پر سیاسی مقاصد کے لیے گھڑے گئے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ میرے والد کئی برسوں سے اعتدال اور تحمل کی علامت رہے ہیں۔ نام نہاد خفیہ تنظیم کا الزام حقیقت سے زیادہ سائنس فکشن لگتا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا 'یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب سپریم جوڈیشل کونسل کو تحلیل کر دیا گیا اور سیاسی شخصیات کے مقدمات سننے کے لیے خصوصی جج مقرر کیے گئے۔ یہ پورا مقدمہ سیاسی مقاصد کے تحت تیار کیا گیا۔ اسی وجہ سے میرے والد نے تفتیشی عمل کا بائیکاٹ کیا اور عدالت میں پیش ہونے سے انکار کیا۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">آزادی، انصاف اور وقار</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سمیہ غنوشی نے کہا کہ 'تیونس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ترکیہ میں ماضی کی فوجی مداخلتوں اور جمہوریت مخالف اقدامات کی یاد دلاتا ہے۔ میرے والد کا ماننا ہے کہ آزادی اور اسلام کا وہ منصوبہ جس کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کی، آج بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سمیہ کے بقول 'میرے والد سمجھتے ہیں کہ آمریت کبھی کوئی بھلائی نہیں لا سکتی اور اتحاد کی بنیاد آزادی، انصاف، وقار اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے اصولوں پر ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک آزادی ایک عالمی قدر ہے جسے پوری انسانیت کی مشترکہ بھلائی کے لیے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2890</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/22/994087dc-mre-wald-q-nhn-j-st-sh-gh-bt-f-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 12:06:53 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>برطانیہ میں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کی تیاریاں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/technology/2883</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/technology/2883" rel="standout" />
      <description>برٹش پرائم منسٹر کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانوی حکومت بھی آسٹریلیا کی طرح 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے جا رہی ہے۔</description>
      <category>ٹیکنالوجی</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>برٹش پرائم منسٹر کیئر اسٹارمر نے واضح کر دیا ہے کہ برطانوی حکومت بھی آسٹریلیا کی طرح 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے جا رہی ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/technology/2883</link>
      <subcategory>ٹیکنالوجی</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/16/8227e9f2-brtanh-mn-h-chw-e-sshl-d-te-p-d-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 11:05:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پوائنٹس کے بدلے گفٹ کی آفر، پاکستان میں موبائل فون صارفین کے ساتھ نیا فراڈ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/technology/2875</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/technology/2875" rel="standout" />
      <description>پاکستان میں ایک موبائل نیٹ ورک کمپنی کے نام سے متعدد صارفین کو ایک میسج موصول ہو رہا ہے جس میں پوائنٹس کے بدلے تحفے کی پیش کش کی گئی ہے۔ لیکن یہ دراصل ایک فراڈ ہے جس کا کئی صارفین نشانہ بنے اور ان کے اکاؤنٹ سے ہزاروں روپے کی رقم نکال لی گئی۔ یہ فراڈ کیسے ہو رہا ہے اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ جانیے عدیل احمد کی اس رپورٹ میں۔</description>
      <category>ٹیکنالوجی</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں ایک موبائل نیٹ ورک کمپنی کے نام سے متعدد صارفین کو ایک میسج موصول ہو رہا ہے جس میں پوائنٹس کے بدلے تحفے کی پیش کش کی گئی ہے۔ لیکن یہ دراصل ایک فراڈ ہے جس کا کئی صارفین نشانہ بنے اور ان کے اکاؤنٹ سے ہزاروں روپے کی رقم نکال لی گئی۔ یہ فراڈ کیسے ہو رہا ہے اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ جانیے عدیل احمد کی اس رپورٹ میں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/technology/2875</link>
      <subcategory>سوشل میڈیا</subcategory>
      <editor>عدیل احمد</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/11/ff44e4c2-pwaynts-e-bdl-f-ar-t-mn-s-h-d.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 16:34:52 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کے دور رس نتائج ہوں گے: انڈین وزیرِ کے بیان پر پاکستان کا انتباہ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/pakistan/2874</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/pakistan/2874" rel="standout" />
      <description>پاکستان کے دفترِ خارجہ نے تنبیہ کی ہے کہ انڈیا کی جانب سے جان بوجھ کر پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔</description>
      <category>پاکستان</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انڈین وزیرِ کے پانی روکنے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے انتہائی ضروری پانی کو روکنے کے کسی بھی اقدام کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جنگی اقدام کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ گزشتہ روز انڈیا کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انڈیا یقینی بنائے گا کہ پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہدایت کے مطابق اس منصوبے پر کام کر رہی ہے اور آئندہ چند برسوں میں یہ ممکن ہو سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2871" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2026/6/10/667b85ed-qn-ba-rhe-n-p-wd-h-st-ch-d-a-yl-z-.webp" data-title="یقینی بنا رہے ہیں کہ پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہ پہنچ سکے: انڈیا کے آبی وسائل کے وزیر کا بیان" data-url="/world/2871" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">یقینی بنا رہے ہیں کہ پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہ پہنچ سکے: انڈیا کے آبی وسائل کے وزیر کا بیان</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ' 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے روزگار، زراعت اور فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر پانی کو روکنے یا اس کے بہاؤ میں نمایاں کمی لانے کی کوئی بھی کوشش انتہائی غیر ذمے دارانہ اقدام ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اقدام سرحد کے دونوں جانب بہنے والے دریاؤں سے متعلق بین الاقوامی ذمے داریوں اور پاکستان و بھارت کے درمیان موجود دو طرفہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہوگا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طاہر اندرابی نے زور دیا کہ پاکستان اس تصور کو سختی سے مسترد کرتا ہے کہ پانی کو سیاسی ہتھیار ، دباؤ ڈالنے کے آلے یا کسی ملک کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جائے۔ ایسا کوئی بھی اقدام نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ اس سے باہر بھی خطرات پیدا کرے گا اور اس کی مکمل ذمے داری انڈیا پر عائد ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بقول پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے دستیاب تمام سفارتی، سیاسی، قانونی، اقتصادی اور دیگر ذرائع بھرپور انداز میں استعمال کرےگا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ پاکستان بھی اپنی معیشت اور اہم قومی مفاد اور 25 کروڑ عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے سے متعلق ایک سوال پر طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا اور نہ ہی اسلحے کی تعداد بڑھانے پر یقین رکھتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں اسٹرٹیجک استحکام برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتِ حال کو سنجیدگی سے دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/pakistan/2874</link>
      <subcategory>پاکستان</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/11/e5ab246b-pan-rwe-s-bh-sh-d-tyj-hn-d-z-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 13:58:34 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>فلپائن میں 7.8 شدت کا طاقت ور زلزلہ، 15 افراد ہلاک، سونامی الرٹ جاری</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2866</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2866" rel="standout" />
      <description>فلپائن کے جنوبی علاقوں میں پیر کو 7.8 شدت کے طاقتور زلزلے سے بھاری جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تقریباً 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ درجنوں زخمی ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جن میں لوگوں کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">زلزلہ فلپائن کے ساحلی علاقے جنرل سانٹوز سٹی کے قریب آیا جس کے بعد حکام کی جانب سے سونامی کے خدشے کے پیشِ نظر ساحلی آبادیوں کے رہائشیوں کو انخلا کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/8/79a0a715-flpayn-mn-78-shdt-tq-wr-zh-15-s-t-j.webp" data-card-width="800" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/8/79a0a715-flpayn-mn-78-shdt-tq-wr-zh-15-s-t-j.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکام کے مطابق انخلا کی وارننگ کے بعد ہزاروں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ جنرل سانتوز کا ایئرپورٹ بھی تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کے ابتدائی جھٹکوں کے  تقریباً دو گھنٹے بعد تک علاقے میں کئی طاقتور آفٹر شاکس محسوس کیے جاتے رہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوشل میڈیا پر زلزلے کی کئی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں عمارتوں کو تباہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی بین الاقوامی اداروں نے ویڈیوز کی تصدیق بھی کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سونامی کی پیش گوئی کرنے والے ایک امریکی ادارے 'دی پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر' نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد فلپائن، انڈونیشیا، پلاؤ، تائیوان اور پاپوا نیو گنی کے ساحلی علاقوں میں سونامی کی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلپائن کے پڑوسی ممالک انڈونیشیا اور ملائشیا نے بھی اپنے ساحلی علاقوں میں آباد افراد کو انخلا کی وارننگ جاری کی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ فلپائن بحرِ اوقیانوس کے 'رنگ آف فائر' میں موجود ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے فلپائن میں بھی زلزلے معمول کی بات ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ سال اکتوبر میں بھی فلپائن میں 7.4 اور 6.7 شدت کے زلزلے آئے تھے جن میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جب کہ اس سے چند روز قبل 6.9 شدت کے زلزلے سے فلپائن کے مرکزی صوبے سیبو میں 76 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 72 ہزار سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2866</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/8/f4e7a138-flpayn-mn-78-shdt-tq-wr-zh-15-s-t-j.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 12:47:45 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> ’سیاحت اقتصادی ترقی کا نیا ستون‘، انگولا میں عالمی سیاحت سرمایہ کاری سربراہی اجلاس</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2862</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2862" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>انگولا عالمی سرمایہ کاروں کو ایک واضح اور پراعتماد پیغام دے رہا ہے کہ سیاحت اب ملک کی ترقیاتی حکمتِ عملی کا ایک ثانوی شعبہ نہیں رہی، بلکہ اقتصادی تنوع، بین الاقوامی شناخت اور طویل المدتی ترقی کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک ستون کے طور پر ابھر رہی ہے۔</p><p><br></p><p>انگولا سیاحت کے شعبے کو اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے ایک اہم محرک کے طور پر پیش کرنے کی اپنی حکمت عملی کو مزید آگے بڑھا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا 18 اور 19 جون 2026 کو دارالحکومت لوانڈا میں منعقد ہوگی۔</p><p>سرکاری خبر رساں ادارے انگوپ کے مطابق انگولا جون میں اس بین الاقوامی سیاحتی سرمایہ کاری کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ جبکہ انگولا کے روزنامہ اخبار ’ڈی انگولا‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ورلڈ ٹورازم فورم انسٹیٹیوٹ کے صدر بلوت باغجی نے صدر ژواؤ لورینسو سے صدارتی دفتر میں ملاقات کی۔ ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سربراہی اجلاس نہ صرف سیاحت بلکہ حکومتی سطح پر بھی ایک اہم ترجیح بن چکا ہے۔</p><p>رپورٹ کے مطابق یہ اقدام محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت انگولا خود کو عالمی سطح پر ایک پرکشش سیاحتی اور سرمایہ کاری کے مقام کے طور پر متعارف کرا رہا ہے۔ حکومت سیاحت کو صرف تشہیری شعبہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، روزگار کے مواقع، برانڈنگ اور پائیدار اقتصادی نمو کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔</p><p>انگولا کے صدر ژواؤ لورینسو اس حکمت عملی کی کھل کر حمایت کر چکے ہیں۔ مارچ 2026 میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق حکومت نے سیاحت کے ترجیحی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے تقریباً 500 ملین یورو مختص کیے ہیں۔ اس پیکیج میں سڑکوں، بجلی اور صفائی ستھرائی کے منصوبے شامل ہیں، جن کا مقصد کابو لیڈو، موسولو، کالاندولا اور اوکاوانگو کے انگولائی حصے سمیت اہم سیاحتی مقامات میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔</p><p>ان حالات میں متوقع ہے کہ یہ سربراہی اجلاس سیاحت میں سرمایہ کاری، اسٹریٹجک شراکت داریوں اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے انگولا کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر اعلیٰ سطحی مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔</p><p><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/3/95002d74-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp" data-card-width="1251" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/3/95002d74-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp" data-card-caption="’سیاحت اقتصادی ترقی کا نیا ستون‘، انگولا میں عالمی سیاحت سرمایہ کاری سربراہی اجلاس"></p><p>افریقی ممالک جہاں سیاحت کو معیشت میں تنوع اور طویل المدتی استحکام کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، وہیں انگولا بھی اس شعبے میں زیادہ واضح وژن اور بلند عزائم کے ساتھ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p><p>انگولا کے صدر ژواؤ لورینسو نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک پیداواری سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے اور اصلاحات، مضبوط ادارہ جاتی تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرُعزم ہے۔</p><p>ان کا کہنا ہے کہ افریقی ملک انگولا سنجیدہ، دور اندیش اور شراکت داری کے لیے آنے والے سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ صدر لورینسو کے مطابق حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے اور بین الاقوامی شراکت داروں کو محفوظ اور کامیاب کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔</p><p><br></p><p>صدر نے کہا کہ سیاحت ان شعبوں میں شامل ہے جن کے ذریعے انگولا اپنی قومی صلاحیتوں کو روزگار، اقتصادی ترقی اور عالمی مسابقت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔</p><p><br></p><p>دوسری جانب انگولا کے وزیر سیاحت مارسیو ڈی جیسس لوپس ڈینیئل نے بھی ملک کی اقتصادی تنوع اور پائیدار ترقی میں سیاحت کے کردار کو کلیدی قرار دیا ہے۔</p><p>برلن میں منعقدہ ’آئی ٹی بی‘ برلن کے دوران ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سیاحت کو تیل پر انحصار کم کرنے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، مقامی آبادی کی معاونت اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔</p><p>وزیر سیاحت کے مطابق انگولا سیاحت کے شعبے میں ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صرف ملک کے قدرتی اور ثقافتی اثاثوں کو فروغ دینا نہیں بلکہ انہیں پائیدار سرمایہ کاری، مضبوط بین الاقوامی شراکت داریوں اور طویل المدتی اقتصادی فوائد میں تبدیل کرنا ہے۔</p><p>انہوں نے کہا کہ گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انگولا اعتماد، وژن اور واضح حکمت عملی کے ساتھ دنیا کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہے۔</p><p><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/3/9872233a-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp" data-card-width="1256" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/3/9872233a-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp"></p><p>ورلڈ ٹورازم فورم انسٹیٹیوٹ کے صدر بلوت باغجی نے کہا ہے کہ انگولا سیاحت اور سرمایہ کاری کے میدان میں ایک نئے اور اہم دور میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ملک خود کو صرف ایک سیاحتی منزل کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط سرمایہ کاری کی کہانی کے طور پر متعارف کرا رہا ہے۔</p><p>انہوں نے کہا کہ 18 اور 19 جون 2026 کو لوانڈا میں منعقد ہونے والا گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا عالمی سطح پر ملک کو مواقع، شراکت داری اور طویل المدتی وژن کے تناظر میں پیش کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔</p><p>بلوت باغجی کے مطابق ’انگولا صرف ایک ابھرتی ہوئی سیاحتی منزل نہیں بلکہ سیاحت میں سرمایہ کاری کے لیے ایک سنجیدہ اور پرکشش موقع بن کر سامنے آ رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ انگولا کے پاس وہ تمام عناصر موجود ہیں جو اسے افریقہ کے نمایاں سیاحتی سرمایہ کاری مراکز میں شامل کر سکتے ہیں۔‘</p><p><br></p><p>انہوں نے کہا کہ انگولا کی سیاحتی صلاحیت کو صرف سیاحوں کی آمد تک محدود نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے معیشت کے وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، جس میں ہوٹل انڈسٹری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، فضائی رابطے، سرمایہ کاروں کا اعتماد، بین الاقوامی تشہیر اور پائیدار اقتصادی ترقی شامل ہیں۔</p><p><br></p><p>بلوت باغجی کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں سیاحت صرف سیاحوں کی تعداد کا نام نہیں بلکہ یہ سرمایہ کاری، روزگار، عالمی شناخت اور پائیدار اقتصادی قدر پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔</p><p>انہوں نے مزید کہا کہ انگولا کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ ایسا نیا ماڈل تشکیل دے جس میں سیاحت اقتصادی تنوع کو فروغ دے، عالمی سطح پر ملک کی شناخت مضبوط کرے اور نجی شعبے کے ساتھ بامعنی شراکت داریوں کی بنیاد رکھے۔</p><p>ماہرین کے مطابق اس سربراہی اجلاس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افریقہ بھر میں سیاحت کو محض ایک موسمی یا تشہیری سرگرمی کے بجائے قومی ترقی، بین الاقوامی تشخص اور نجی شعبے کی شمولیت کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p><p>رپورٹس کے مطابق انگولا کی موجودہ حکومتی پالیسیوں، ادارہ جاتی حمایت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک خود کو اس نئے اور مسابقتی منظرنامے میں ایک مضبوط مقام دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p><p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا کی اصل اہمیت صرف بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور شراکت داروں کو لوانڈا لانے تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ اس سے پیدا ہونے والی نئی شراکت داریوں، ترقیاتی منصوبوں اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے مواقع میں بھی مضمر ہے۔</p><p><br></p><p>ان پیش رفتوں کے تناظر میں انگولا بتدریج افریقہ کے ان ممالک میں شامل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جنہیں سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ابھرتے ہوئے اہم مراکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2862</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/3/febe87b2-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 04:40:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکی ریاست فلوریڈا نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا، چیٹ جی پی ٹی پر سنگین الزامات
</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/technology/2863</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/technology/2863" rel="standout" />
      <category>ٹیکنالوجی</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>امریکی ریاست فلوریڈا نے پیر کو مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے چیٹ باٹ چیٹ جی پی ٹی سے کئی قسم کے نقصانات ہو سکتے ہیں۔ کمپنی نے ممکنہ خطرات سے آگاہی کے باوجود ایک غیر محفوظ پروڈکٹ جاری کی۔</p><p>امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ریاست فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز اُتھمائر کی جانب سے دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ماس شوٹنگ کرنے والوں کی مدد کی۔ بعض صارفین کو خودکشی کی ترغیب دی، تنقیدی سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کیا اور بچوں میں لت لگنے میں بھی کردار ادا کیا۔</p><p><br></p><p>مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ مبینہ نقصانات اوپن اے آئی کی مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے شعبے میں برتری حاصل کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔</p><p>درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’ان نقصانات کی طویل فہرست چیٹ باٹ بنانے والوں کی مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتنے اور بھاری مالی فوائد حاصل کرنے کی خواہش سے جڑی ہوئی ہے۔‘</p><p>مقدمے میں اوپن اے آئی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حفاظتی خدشات کے باوجود چیٹ جی پی ٹی کو عوام کے لیے جاری کرنے کی اجازت دی۔</p><p>یہ قانونی کارروائی اپریل میں شروع ہونے والی ایک فوجداری تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں استغاثہ نے گزشتہ سال فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں چیٹ جی پی ٹی کے مبینہ کردار کا جائزہ لیا تھا۔</p><p>حکام کے مطابق ملزم فینکس اکنر نے حملے کی منصوبہ بندی میں مدد کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا تھا۔ تاہم ان الزامات پر اوپن اے آئی کا مؤقف فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/technology/2863</link>
      <subcategory>ٹیکنالوجی</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/4/61551da1-amr-st-flwd-ne-p-ay-kh-qdh-cht-j-z.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 01:20:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>استنبول فنانشل سینٹر نے ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں تین بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کر لیے
</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2861</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2861" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>استنبول فنانشل سینٹر (آئی ایف سی ) نے امریکی ادارے انٹرنیشنل ایوارڈ ایسوسی ایٹ (آئی اے اے ) کی جانب سے منعقدہ ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں تین مختلف شعبوں میں ایوارڈز حاصل کر کے عالمی رئیل سٹیٹ سیکٹر میں ایک اہم کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔</p><p>رئیل اسٹیٹ، کنسٹرکشن اور انٹیریئر ڈیزائن کے شعبوں میں دنیا کے نمایاں منصوبوں کا جائزہ لینے والے اس بین الاقوامی پروگرام میں استنبول فنانشل سینٹر کو کمرشل ہائی رائز، ’مکش یوز، آفس ڈیویلپمنٹ  کیٹیگریز میں اعزازات سے نوازا گیا۔</p><p>بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے مربوط ایک مضبوط ماحولیاتی نظام فراہم کرنے کے لیے قائم استنبول فنانشل سینٹر نے ان ایوارڈز کے ذریعے خود کو عالمی معیار کے رئیل اسٹیٹ، دفتری اور کثیر المقاصد ترقیاتی منصوبے کے طور پر مزید نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ </p><p>گزشتہ پانچ برسوں میں مکمل ہونے والے منصوبوں کو تخلیقی صلاحیت، معیار اور وژن کی بنیاد پر جانچنے والے ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں استنبول فنانشل سینٹر نے اپنے مربوط شہری منصوبہ بندی کے ماڈل کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔</p><p><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/2/e4f76343-astnbwl-fsh-tr-e-y-p-dz-mn-q-e-.webp" data-card-width="1024" data-card-height="768" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/2/e4f76343-astnbwl-fsh-tr-e-y-p-dz-mn-q-e-.webp" data-card-caption="استنبول فنانشل سینٹر نے ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں تین بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کر لیے">رہائشی، تجارتی، دفتری، تفریحی اور عوامی سہولیات کو ایک ہی جامع منصوبے کے تحت یکجا کرنے والے استنبول فنانشل سینٹر کو مکسڈ یوز ڈیویلپمنٹ اور کمرشل ہائی رائز کیٹیگریز میں اعلیٰ ترین اعزاز ’پلاٹینم ونر‘ دیا گیا۔</p><p>اسی طرح دفتری ڈیزائن، صارفین کے تجربے اور اعلیٰ معیار کے ورک اسپیسز کے اعتراف میں آفس ڈیویلپمنٹ کیٹیگری میں ’گولڈ ونر‘ ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔</p><p><br></p><h4>استنبول فنانشل سینٹر کیا ہے؟</h4><p><br></p><p>بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ مربوط ایک مضبوط مالیاتی ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا استنبول فنانشل سینٹر قلیل مدت میں علاقائی اور عالمی مالیاتی مرکز بننے کے وژن کے تحت کام کر رہا ہے۔</p><p>اس مرکز میں سرکاری و نجی بینکوں، اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیوں، بروکریج اداروں، انشورنس کمپنیوں اور پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ایک ہی جگہ پر جمع کیا گیا ہے۔</p><p>ترکیہ کے مرکزی بینک (سی بی آر ٹی) اور بینکنگ ریگولیشن اینڈ سپرویژن ایجنسی (بی آر ایس اے) سمیت کئی اہم مالیاتی ادارے پہلے ہی یہاں منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ کیپیٹل مارکیٹس بورڈ آف ترکیہ (سی بی ایم) اور بورسا استنبول کی بھی 2027 تک یہاں منتقلی متوقع ہے۔</p><p>1.3 ملین مربع میٹر دفتری رقبے، 100 ہزار مربع میٹر تجارتی و سماجی سرگرمیوں کے لیے مختص علاقے اور ایک کانگریس سینٹر پر مشتمل یہ منصوبہ کاروباری برادری کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک جامع ماحول فراہم کرتا ہے۔</p><p>سمارٹ سٹی تصور کے تحت تیار کیا گیا استنبول فنانشل سینٹر اعلیٰ آپریشنل استحکام کے ساتھ ترکیہ کی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والا ایک اسٹریٹجک مرکز بن چکا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2861</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/2/30600b10-astnbwl-fsh-tr-e-y-p-dz-mn-q-e-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 16:39:38 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ ایران معاہدے میں بڑی پیش رفت، ٹرمپ کا 'زیادہ تر معاملات طے پا جانے' کا بیان: اب تک کیا تفصیلات سامنے آئی ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2860</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2860" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک امن معاہدے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر 'زیادہ تر مذاکرات مکمل' ہو چکے ہیں جس سے یہ توقعات بڑھ گئی ہیں کہ تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی حتمی تفصیلات اور باقی نکات پر بات چیت جاری ہے اور جلد اعلان کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹس کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی میں توسیع، ایرانی جہاز رانی پر امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کا فریم ورک شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق معاملات پر آئندہ 30 سے 60 دن کے دوران مزید مذاکرات ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اتوار تک مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے تاہم یہ ابھی حتمی نہیں۔ روبیو نے یہ عندیہ بھی دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج مزید کوئی اعلان کر سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> دوسری جانب ایک سینئر ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اگر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اس مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی تو اسے حتمی توثیق کے لیے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس بھیجا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بعض اہم شقوں پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ادھر اسرائیلی سیاست دان بینی گینٹز نے لبنان میں جنگ بندی کو ایران معاہدے کا حصہ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے لیے ایسا کرنا اسٹریٹجک غلطی ہوگی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ اسرائیل کو لبنان سمیت ہر خطرے کے خلاف کارروائی کی آزادی حاصل رہنی چاہیے جس پر ٹرمپ نے اتفاق کیا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجوزہ معاہدے کی تفصیلات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے مفاہمی یادداشت کی کچھ تفصیلات اپنے ذرائع کے حوالے سے شائع کی ہیں جن کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایرانی تیل پر بعض پابندیوں میں نرمی کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے تیار ہے‘ کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت سے قبل بھی ہم نے اعلان کیا تھا اور آج دوبارہ اسے دہرانے جا رہے ہیں کہ ہم دنیا کو یہ یقین دلانے کے لیے تیار ہیں کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ یورینیم افزودگی اس کا حق ہے۔ تاہم مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کی افزودگی کی سطح بجلی پیدا کرنے کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے میں ایران کی جوہری پروگرام سے متعلق کوئی یقین دہانی شامل نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ کے مطابق ایران نے معاہدے کے مسودہ میں اپنے کسی بھی جوہری مواد کی حوالگی سے متعلق کوئی وعدہ نہیں کیا جب کہ خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ مغربی میڈیا اس کے برعکس خبریں دے رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تسنیم کے مطابق موجودہ مسودہ صرف جنگ کے خاتمے کے معاملے تک محدود ہے اور اس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق مجوزہ ڈرافٹ میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران یا اس کے اتحادیوں پر حملہ نہیں کریں گے جبکہ ایران بھی پیشگی حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہوگا:</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1۔ جنگ کا باضابطہ خاتمہ</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2۔ آبنائے ہرمز بحران کا حل</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">3۔ وسیع تر معاہدے کے لیے 30 روزہ مذاکراتی عمل، جس میں توسیع بھی ممکن ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی ختم ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ اگر معاہدے کا خاکہ منظور ہو گیا تو آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی اور کسی قسم کا ٹول ٹیکس نہیں ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تسنیم کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت سے متعلق کسی بھی تبدیلی کا انحصار امریکہ کی جانب سے دیگر وعدوں پر عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔ ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ پابندیوں کے باعث منجمد کیے گئے اس کے بعض فنڈز پہلے مرحلے میں بحال کیے جائیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس ہفتے اختلافات میں کمی آئی ہے، تاہم اب بھی کئی معاملات ایسے ہیں جن پر ثالثوں کے ذریعے مزید بات چیت ضروری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے سب سے اہم مسئلہ امریکی حملوں کے خطرے کا خاتمہ اور لبنان میں تنازع کا حل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے دوران ایرانی مسلح افواج نے اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کر لی ہیں، اور اگر امریکہ نے جنگ دوبارہ شروع کی تو اس کے نتائج پہلے سے زیادہ سخت اور تلخ ہوں گے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2860</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/24/f01ba990-amrh-n-ede-n-br-psh-ft-t-z-l-t-j-s-s-y-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Sun, 24 May 2026 16:10:49 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کوئٹہ میں سیکیورٹی اہلکاروں کو لے جانے والی شٹل ٹرین پر دھماکے میں 24 افراد ہلاک، بی ایل اے نے ذمے داری قبول کر لی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/pakistan/2859</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/pakistan/2859" rel="standout" />
      <description>پاکستان کے صوبے بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو لے جانے والی ایک شٹل ٹرین پر اتوار کے روز بم دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور تقریباً 70 زخمی ہو گئے ہیں۔ حملے کی ذمے داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔</description>
      <category>پاکستان</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دھماکہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک سے گزرنے والی ٹرین کے قریب ہوا۔ پاکستان ریلوے کے مطابق  شٹل ٹرین جعفر ایکسپریس کے مسافروں کو کوئٹہ کے کنٹونمنٹ علاقے تک پہنچا رہی تھی جو حملے کا نشانہ بن گئی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک سیکیورٹی اہلکار کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ٹرین کے ایک ڈبے سے ٹکرائی گئی۔ رہائشی علاقہ قریب ہونے کی وجہ سے بعض عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا اور ہلاک ہونے والوں میں قریبی عمارتوں کے کچھ رہائشی بھی شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق اتوار کی صبح کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی جس سے انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-url="https://www.facebook.com/plugins/post.php?href=https://www.facebook.com/yenisafakur/posts/pfbid02h5SDa4QtXKEpxzxsQe1sUtov6jywjJ2tYSZVARbALCeKoe2PQbAeRcWPz3mcP1uRl&amp;show_text=true&amp;width=500" data-embed-type="facebook" contenteditable="false" data-html-content="&lt;iframe src=&quot;https://www.facebook.com/plugins/post.php?href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fyenisafakur%2Fposts%2Fpfbid02h5SDa4QtXKEpxzxsQe1sUtov6jywjJ2tYSZVARbALCeKoe2PQbAeRcWPz3mcP1uRl&amp;amp;show_text=true&amp;amp;width=500&quot; width=&quot;500&quot; height=&quot;671&quot; style=&quot;border:none;overflow:hidden&quot; scrolling=&quot;no&quot; frameborder=&quot;0&quot; allowfullscreen=&quot;true&quot; allow=&quot;autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share&quot;&gt;&lt;/iframe&gt;" style="color: rgb(66, 103, 178); background-color: black;"><span>https://www.facebook.com/plugins/post.php?href=https://www.facebook.co</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے خودکش بم حملہ قرار دیا ہے۔ بی ایل اے نے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوئٹہ کینٹ سے فوجی اہلکاروں کو لانے والی ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صوبائی حکومت اور سیکیورٹی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھماکہ حالیہ مہینوں میں صوبے میں ہونے والے حملوں کی ہی ایک کڑی ہے۔ پاکستان نے ایران اور افغانستان سے ملحقہ شورش زدہ علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جب کہ بلوچستان کئی برسوں سے مہلک حملوں کی لپیٹ میں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جائے واقعہ کی تصاویر میں جلی ہوئی گاڑیاں، تباہ شدہ رہائشی عمارتیں، مڑی ہوئی دھات اور ریلوے ٹریک کے قریب بکھرا ہوا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/5/24/6040e0b7-wyth-mn-sr-al-e-jn-sh-p-dh-24-f-b-dh-q-.webp" data-card-width="1199" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/5/24/6040e0b7-wyth-mn-sr-al-e-jn-sh-p-dh-24-f-b-dh-q-.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاک افراد کے خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا اور کہا کہ پوری قوم بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ بلوچستان میں ٹرینوں کو دہشت گردوں کی جانب سے نشانہ بنانے کے واقعات بڑھے ہیں۔ مارچ 2025 میں بی ایل اے کے جنگجوؤں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کرکے سینکڑوں افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بعد ازاں فوجی کارروائی کے بعد مسافروں کو چھڑایا گیا۔ فوج کے مطابق تمام 33 حملہ آور مارے گئے تھے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/pakistan/2859</link>
      <subcategory>پاکستان</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/24/7cc652f1-wyth-mn-sr-al-e-jn-sh-p-dh-24-f-b-dh-q-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Sun, 24 May 2026 15:52:15 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>صمود فلوٹیلا کے رضاکاروں سے بدسلوکی پر اسرائیل کو عالمی تنقید کا سامنا، اسرائیلی وزیر کے خلاف ملک کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2857</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2857" rel="standout" />
      <description>گلوبل صمود فلوٹیلا کے حالیہ قافلے میں شامل سینکڑوں رضاکاروں کی گرفتاری کے بعد اسرائیل میں ان کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کیے جانے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں جس پر عالمی برادری کا سخت ردعمل آیا ہے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی فوج نے رواں ہفتے غزہ جانے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 428 ایکٹیوسٹس کو بین الاقوامی سمندر سے گرفتار کر کے اسرائیل کے اشدود پورٹ پر منتقل کر دیا تھا۔ ان میں 78 ترک شہری اور کچھ پاکستانی رضاکار بھی شامل ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گرفتار افراد کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جن میں ان کے ساتھ غیر انسانی اور غیر مناسب سلوک کیا جا رہا ہے۔ رضاکاروں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا جب کہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر بین گویر ان کا مذاق اڑاتے اور اشتعال انگیزی کرتے نظر آئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی فوجیوں نے رضاکاروں کو دھکے دیے، انہیں زدوکوب کیا اور مختلف نفسیاتی حربوں سے پریشان کرنے کی کوشش کی جب کہ بین گویر اس پر اسرائیلی فوجیوں کی تعریف کرتے رہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین گویر کے سامنے ایک خاتون رضاکار نے 'فلسطین کو آزاد کرو' کا نعرہ لگایا تو انہیں دھکا دے کر نیچے گرا دیا گیا جس پر اسرائیلی وزیر نے فوجی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ 'ان سے ایسے ہی نمٹنا چاہیے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2057046925417824697" data-url="https://t.co/7Hf8cAg7fC" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;iw&quot; dir=&quot;rtl&quot;&gt;ככה אנחנו מקבלים את תומכי הטרור&lt;br&gt;&lt;br&gt;Welcome to Israel 🇮🇱 &lt;a href=&quot;https://t.co/7Hf8cAg7fC&quot;&gt;pic.twitter.com/7Hf8cAg7fC&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— איתמר בן גביר (@itamarbengvir) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/itamarbengvir/status/2057046925417824697?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 20, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/7Hf8cAg7fC</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین گویر اس کے بعد قومی پرچم لہرا کر اسرائیل زندہ باد کے نعرے بھی لگاتے رہے اور گرفتار رضاکاروں کے ساتھ اشتعال انگیزی کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے یہ تمام مناظر خود اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے اور رضاکاروں پر طنز کرتے ہوئے 'ویلکم ٹو اسرائیل' لکھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گرفتار رضاکاروں کی ان  تصاویر اور ویڈیوز پر دنیا بھر سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا جب کہ عالمی برادری نے بھی اسرائیل کے ان اقدامات پر آواز اٹھائی ہے۔ خود اسرائیل کے اندر بھی اس عمل کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور بین گویر پر تنقید کی جا رہی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">عالمی ردعمل</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اشدود پورٹ پر گرفتار رضاکاروں کے ساتھ نامناسب رویے، اشتعال انگیزی کی کوششوں اور غیر انسانی سلوک پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت تنقید کی گئی۔ کئی یورپی ممالک، جو اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی پر مبنی کارروائیوں کے حامی بھی ہیں، بھی اس واقعے پر ردعمل دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے فلوٹیلا اراکین کو غیر قانونی طور پر روکنے جانے، انہیں گرفتار کرنے اور حراست کے دوران بدسلوکی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ نے بھی اسرائیلی اقدامات اور گرفتار اراکین کے ساتھ بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے بین گویر کی حرکتوں کو بربریت کا اظہار قرار دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فرانس کے وزیرِ خارجہ نے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/5/21/ba1f2f8c-smwd-flta-e-rdn-s-b-p-y-e-tnq-z-kh-h-a-.webp" data-card-width="800" data-card-height="450" data-card-path="/piri/upload/3/2026/5/21/ba1f2f8c-smwd-flta-e-rdn-s-b-p-y-e-tnq-z-kh-h-a-.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسپین نے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسرائیلی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ میں طلب کیا ہے۔ اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے درخواست کی ہے کہ یورپی یونین بین گویر پر پابندی عائد کرے جس سے وہ یورپی ملکوں کا سفر نہ کر سکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی سفیر کو طلب کریں گی۔ انہوں نے بھی اسرائیل سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیدر لینڈز کے وزیرِ اعظم نے بھی اسرائیلی سفیر کی طلبی کا اعلان کیا ہے اور اسے 'ناقابل قبول سلوک' قرار دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کینیڈا کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان 'پریشان کن' تصاویر پر اسرائیلی سفیر کی طلبی ہونی چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فن لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی سفیر سے اس معاملے پر وضاحت طلب کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوبی کوریا کے صدر نے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو ان کے ملک میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی گرفتاری کے امکان پر غور کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آسٹریا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفیر کو اس پر اپنے مؤقف سے آگاہ کر دیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولینڈ کے وزیرِ خارجہ نے اہنے شہریوں کے لیے انصاف اور اسرائیلی حکام کے لیے سزا کا مطالبہ کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئرلینڈ نے قافلے میں شریک اپنے شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقوامِ متحدہ نے گرفتار ایکٹیوسٹس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل میں بھی بین گویر پر تنقید</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیدون سعار نے بین گویر کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'اس شرم ناک مظاہرے کے ساتھ آپ نے جان بوجھ کر ہمارے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہے۔ نہیں، آپ اسرائیل کا چہرہ نہیں ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جواب میں قومی سلامتی کے وزیر بین گویر نے وزیرِ خارجہ پر 'دہشت گردی کے حامیوں کے سامنے جھکنے' کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 'سعار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسرائیل اب قربانی کا بکرا نہیں ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے گرفتار ایکٹیوسٹس کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ نیتن یاہو نے بھی بین گویر کی اشتعال انگیز حرکتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ اسرائیل کی اقدار اور اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم بعض وزرا بین گویر کے حق میں بھی بیانات دیتے نظر آئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ یہ انفرادی واقعہ نہیں ہے۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ نے بین گویر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جو غزہ کا محاصرہ توڑنے آتے ہیں، ان کے ساتھ یہ سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'دہشت گردی کے حامیوں کا ٹھکانہ جیل ہے۔ لیکن ظاہر ہے ہم انہیں ان کے آبائی وطن واپس بھیج دیں گے۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2857</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/21/495a4597-flwta-s-e-th-ry-mn-bd-p-e-kh-z-n-q-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 11:28:06 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ میں مسجد پر حملے میں تین افراد ہلاک، 'میرا بیٹا گھر سے تین بندوقیں لے کر بھاگا ہے؛' حملہ آور کی والدہ کا پولیس کو فون</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2852</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2852" rel="standout" />
      <description>امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں پیر کو دو مسلح لڑکوں نے ایک مسجد پر فائرنگ کر دی جس سے ایک سیکیورٹی گارڈ اور مسجد کے باہر موجود دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حملہ سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد پر ہوا ہے جس میں مذہبی تعلیم کے لیے مدرسہ بھی موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت مدرسے میں طلبہ بھی موجود تھے جو اس واقعے میں محفوظ رہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور بھی مردہ حالت میں پائے گئے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے خود کو گولی ماری۔ حملے کو امریکہ میں کسی خاص گروہ کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سان ڈیاگو پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے مقامی ادارے اور وفاقی تحقیقاتی بیورو (ایف بی آئی) حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم فی الحال حملے کے پیچھے کی کوئی وجہ یا مقصد سامنے نہیں آ سکا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2056614578817999233" data-url="https://t.co/8Yd00E3nUh" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;A shooting has taken place at the largest Islamic center in San Diego, USA&lt;br&gt;&lt;br&gt;Three people were killed, including a security guard. Five others were injured.&lt;br&gt;&lt;br&gt;According to police, the attack is being treated as a hate crime. Anti-Islamic graffiti and a note containing racist… &lt;a href=&quot;https://t.co/8Yd00E3nUh&quot;&gt;pic.twitter.com/8Yd00E3nUh&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— NEXTA (@nexta_tv) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/nexta_tv/status/2056614578817999233?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;May 19, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/8Yd00E3nUh</span></span></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">حملے سے قبل مشتبہ حملہ آور کی والدہ کا پولیس کو فون</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس سربراہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک لڑکی کی والدہ نے حملے سے دو گھنٹے قبل پولیس کو کال کر کے اطلاع دی تھی کہ ان کا بیٹا گھر سے ان کی تین بندوقیں اور گاڑی لے کر بھاگا ہے۔ پولیس چیف کے مطابق لڑکے کی والدہ نے اپنے بیٹے کو خودکش کہہ کر پکارا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سان ڈیاگو کے پولیس چیف اسکاٹ واہل نے مزید کہا کہ والدہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ ہے اور دونوں نے کیموفلاج لباس پہنا ہوا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس نے والدہ کی اطلاع کے بعد ان لڑکوں کی تلاش شروع کر دی تھی اور انہیں ڈھونڈنے کی کوششیں جاری تھیں کہ اسی دوران مسجد پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اسکاٹ واہل کے بقول حملے سے قبل پولیس کو کسی خاص مقام پر حملے کے خطرے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا کہ مسجد، مذہبی سینٹر، اسکول، شاپنگ سینٹر یا کسی ایسی جگہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/5/19/690d2c41-amrh-n-sjd-p-hle-tn-f-bt-h-wq-a-.webp" data-card-width="1199" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/5/19/690d2c41-amrh-n-sjd-p-hle-tn-f-bt-h-wq-a-.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مسجد پر حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جہاں انہیں تین افراد کی لاشیں ملیں جو مسجد سے وابستہ تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے سیکیورٹی گارڈ نے ممکنہ طور پر بڑی خونریزی سے بچا لیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ ہی دیر بعد پولیس کو ایک گاڑی سے دو لڑکوں کی لاشیں بھی مل گئیں جن کی عمریں 17 اور 18 برس تھیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ہی گولیوں سے ہلاک ہوئے۔ پولیس چیف کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے کوئی فائر نہیں کیا گیا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2852</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/19/475607bf-amrh-n-sjd-p-hle-tn-f-bt-h-wq-a-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 10:58:59 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران پر چھپ کر حملے کیے گیے: امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2841</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2841" rel="standout" />
      <description>ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات نے بھی خفیہ طور پر تہران پر کئی حملے کیے ہیں۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' میں شائع رپورٹ میں معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امارات کا ایک ہدف ایران کے لوان جزیرے پر واقع آئل ریفائنری تھی جسے اپریل کے اوائل میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کرنے والے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ریفائنری پر ایک بڑی آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد تیل کی یہ تنصیب بند کر دی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ نے امارات کی جنگ میں شمولیت کا خاموشی سے خیر مقدم کیا۔ ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر متحدہ عرب امارات اور کویت پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات کو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ نشانہ بنایا۔ حتیٰ کہ اسرائیل سے بھی زیادہ حملے امارات پر کیے گئے اور اس پر 2800 سے زیادہ میزائل اور ڈرون حملے کیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان حملوں نے متحدہ عرب امارات کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے باعث ملازمین کی برطرفیوں اور جبری رخصتوں میں اضافہ ہوا۔ خلیجی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی اخبار کو بتایا کہ ان حملوں نے ملک کی اسٹریٹجک سوچ میں 'بنیادی تبدیلی' پیدا کر دی ہے اور اب امارات ایران کو ایک 'بے قابو ریاست' کے طور پر دیکھتا ہے جو غیر ملکی ماہر افرادی قوت، سلامتی، اور استحکام پر مبنی اس کے معاشی و سماجی ماڈل کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے جب اس معاملے پر تبصرے کے لیے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو وزارت نے اس پر بیان دینے سے گریز کیا۔ تاہم اس نے پہلے جاری ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابوظہبی حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشرقِ وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھنے والی تجزیہ کار دینا اسفندری نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ایک اہم پیش رفت ہے کہ کسی خلیجی عرب ملک نے براہِ راست ایران پر حملہ کرتے ہوئے جنگ میں فریق کا کردار اختیار کیا ہے۔ اب تہران کوشش کرے گا کہ متحدہ عرب امارات اور اُن دیگر خلیجی عرب ممالک کے درمیان مزید فاصلے پیدا کرے جو جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2841</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/12/e2314a46-dk12dkfpn3ts5spaqmigio.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 10:52:58 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>انڈیا کے آٹھ طیارے گرائے، انہوں نے ابھی ہماری جنگی صلاحیت کا صرف 10, 15 فیصد مظاہرہ دیکھا ہے: افواجِ پاکستان کے افسران کی مشترکہ پریس کانفرنس</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/pakistan/2834</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/pakistan/2834" rel="standout" />
      <description>پاکستان اور انڈیا کے درمیان گزشتہ سال مئی میں ہونے والی جھڑپوں کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے اعلیٰ حکام نے پریس کانفرنس کی اور اس جنگ سمیت افغانستان، کشمیر اور کئی دیگر معاملات پر بات کی۔</description>
      <category>پاکستان</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">افواجِ پاکستان کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے انڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انڈیا اپنے لوگوں پر دہشت گردی کرواتا ہے اور اس کا الزام دوسروں پرعائد کرتا ہے۔ انڈیا کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا بیانیہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ معرکۂ حق کے دوران دنیا نے دیکھ لیا کہ ذمے دارانہ کردار کون ادا کر رہا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ گزشتہ برس انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردوں نے سیاحوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد انڈیا اور پاکستان میں شدید جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے گئے۔ انڈیا نے اس چار روزہ کارروائی کو 'آپریشن سندور' کا نام دیا تھا جب کہ پاکستان میں اسے معرکۂ حق اور آپریشن 'بنیان مرصوص' کے نام دیے گئے ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'انڈیا جو کرنا چاہے کر لے، بھرپور جواب دیں گے'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افواج پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔ ہم پہلے بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا خود سب سے بڑا دہشت گرد ہے، وہ بتائے کہ اس نے کس دہشت گردی کے کیمپ کو نشانہ بنایا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے لیکن پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے وہ آج بھی عالمی برادری، پاکستانی عوام اور خود بھارتی عوام کے سامنے جوں کے توں موجود ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بین الاقوامی برادری آج بھی یہ سوال کر رہی ہے کہ پہلگام واقعے کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ پاکستانی عوام کے ساتھ انڈیا کے باشعور حلقے بھی ان سوالوں کے جواب مانگ رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ انڈیا بار بار پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا رہا۔ لیکن معرکہ حق کے بعد یہ ڈراما ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔ دنیا اب خود دیکھ رہی ہے کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا کردار کون ادا کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بقول پاکستان اور اس کی قیادت خطے میں امن کے قیام کی کوششیں کر رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و ملٹری سفارت کاری آج دنیا دیکھ رہی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'انڈیا نے ہماری عسکری قوت کا بہت کم مظاہرہ دیکھا'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستانی افواج کی عسکری قوت سے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'معرکہ حق میں جو کچھ انڈیا نے دیکھا وہ ہماری طاقت کا صرف 10 سے 15 فیصد تھا۔ ہم تب بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، کسی کو شک ہے تو جان لیں کہ اپنی طاقت کی ایک قسط ہم نے دکھائی ہے۔ اس بار 14اگست پر عظیم الشان پریڈ ہوگی، اپنی عسکری صلاحیتوں کی چھوٹی سی جھلک عوام کو دکھائیں گے۔' </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈی جی آئی ایس پی آر کے بقول 'انڈیا کے لیے واضح اور دو ٹوک پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کرلیں۔ چاہے وہ روایتی ہو یا غیر روایتی۔ ہم یہیں کھڑے ہیں۔ بھرپور طاقت سے جواب دیں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ 'ہندوستانی بچے بھی جانتے ہیں کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی. یہ الگ بات ہے کہ انڈیا اسے تسلیم نہیں کرتا۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">معرکہ حق میں انڈیا کے ’آٹھ جہاز گرائے: ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ پریس کانفرنس میں پاکستانی فوج کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف طارق غازی نے دعویٰ کیا کہ معرکہ حق میں انڈیا کے چار رافیل طیاروں سمیت آٹھ طیارے گرائے گئے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا اسکور آٹھ - صفر ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ ایک ایس یو 30، ایک مگ 29، ایک میراج طیارہ اور ایک انتہائی مہنگا ملٹی رول ڈرون مار گرایا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بقول پاک فضائیہ نے معرکہ حق میں پیشہ ورانہ مہارت اور جدید جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/pakistan/2834</link>
      <subcategory>پاکستان</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/7/71f581b6-qdgstantsbrsnisq58rh.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:59:15 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران اپنی جوہری و میزائل صلاحیتوں کا تحفظ کرے گا: مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2824</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2824" rel="standout" />
      <description>ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے جمعرات کو اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ تہران اپنی نیوکلیئر اور میزائل صلاحیتوں کا قومی اثاثے کے طور پر تحفظ کرے گا۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد سے منظرِ عام پر تو نہیں آئے اور ان کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات بھی رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔ تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کے بیانات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کا حالیہ تحریری بیان ایران کے سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ملک کے اندر اور باہر موجود نو کروڑ باوقار اور قابلِ فخر ایرانی، ایران کی تمام شناختی، روحانی، انسانی، سائنسی، صنعتی اور تکنیکی صلاحیتوں کو قومی اثاثہ سمجھتے ہیں۔ چاہے وہ نینو ٹیکنالوجی اور بایوٹیکنالوجی ہوں یا جوہری اور میزائل صلاحیتیں۔ اور وہ ان کی اسی طرح حفاظت کریں گے جیسے وہ ملک کے پانیوں، زمین اور فضائی حدود کی حفاظت کرتے ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجتبیٰ خامنہ ای کا مزید کہنا ہے کہ بحیرۂ عرب میں امریکیوں کی جگہ صرف 'سمندر کی تہہ میں ہے۔ ان کے بقول اللہ کی مدد اور طاقت سے بحیرۂ عرب کا روشن مستقبل امریکہ کے بغیر ہوگا جو  لوگوں کے لیے ترقی، آرام اور خوش حالی پر مبنی ہوگا۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/30/8a09384d-ce2rm56up6ltogwh3ismj.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/30/8a09384d-ce2rm56up6ltogwh3ismj.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رہبرِ اعلیٰ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ؛ہم اور خلیجِ عرب و فارس میں ہمارے ہمسایوں کا مقدر ایک سا ہے۔ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر لالچ کی بنیاد پر فساد برپا کرنے والے غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ کے سوا کہیں اور کہیں نہیں ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا یہ پیغام ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات آئی ہیں کہ امریکی انتظامیہ ممکنہ طور پر ایران پر مزید حملوں یا آپشنز کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور دوسری جانب امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی بھی رپورٹس آئی ہیں۔</p><p><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2822" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2026/4/30/46d622f8-fgwscejryhrjauaoohqond.webp" data-title="امریکہ کے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے دیگر ملکوں سے رابطے، بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی تجویز" data-url="/world/2822" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">امریکہ کے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے دیگر ملکوں سے رابطے، بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی تجویز</span></span></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2824</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/30/3e944083-hi92ht970envs0qb7pk5oj.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 15:27:48 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران کا پلڑا بھاری ہے، ٹرمپ جنگ بندی کے ذریعے راہِ فرار چاہتے ہیں: مشاہد حسین سید</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/pakistan/2809</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/pakistan/2809" rel="standout" />
      <description>عالمی امور پر گہری نظر رکھنے والے سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ ٹرمپ کی جانب سے غیر معینہ مدت تک جنگ بندی کا اعلان ان کی پسپائی اور ایران کی جیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے بقول مذاکرات دونوں ملکوں کے حق میں ہیں لیکن ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔</description>
      <category>پاکستان</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/pakistan/2809</link>
      <subcategory>پاکستان</subcategory>
      <editor>عدیل احمد</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/23/c63b4671-olzm33czya6ldufbp9rod.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 14:10:06 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران کے وفود کب پہنچیں گے اور اب تک کی کیا اپ ڈیٹس ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/2804</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/2804" rel="standout" />
      <description>ایران اور امریکہ کے وفود مذاکرات کے لیے اب تک اسلام آباد کیوں نہیں پہنچے؟ تاخیر کی وجہ کیا ہے اور دونوں فریقین میں کن معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔ جانیے اس رپورٹ میں۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/2804</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>عدیل احمد</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/21/a080211e-gsx41y5h5eq7tqjuf8tl7f.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 15:07:41 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے دوران سرینا ہوٹل میں کیا کچھ ہوا اور اب کیا ہو رہا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2792</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2792" rel="standout" />
      <description>ایران اور امریکہ کے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا لیکن کئی بین الاقوامی ادارے رپورٹ کر رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کی بات چیت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے 11 عہدے داروں سے بات کر کے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کے مطابق اسے مذاکرات کا انتظام دیکھنے والے عملے نے بتایا ہے کہ اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ ایک حصہ امریکی وفد، ایک ایرانی وفد کے لیے مختص کیا گیا تھا جب کہ ایک سہ فریقی مذاکرات کے لیے تھا جن میں پاکستانی حکام بھی بطور ثالث شریک تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ مرکزی ہال میں فون لانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے وفد کے ارکان بشمول امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی مذاکرات میں وقفے کے دوران کمرے سے باہر جا کر فون پر بات کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان حکومت کے ایک عہدے دار کے مطابق 'مذاکرات کے دوران بہت زیادہ امید تھی کہ کوئی پیش رفت ہو جائے گی اور دونوں فریقین کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔ تاہم چیزیں بہت کم وقت میں یکسر بدل گئیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مذاکرات میں شامل ایک اور عہدے دار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایک موقع پر فریقین معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے اور تقریباً 80 فیصد چیزوں پر اتفاق ہو گیا تھا۔ لیکن پھر یہ موقع بھی آیا جب مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'ماحول میں تناؤ تھا'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو ایرانی اعلیٰ حکام کے مطابق مذاکرات کا ماحول تناؤ والا اور غیردوستانہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ماحول میں نرمی لانے کی کوشش کی لیکن دونوں جانب سے تناؤ کم کرنے پر آمادگی نہیں دکھائی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو ایرانی ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح تک ماحول کچھ بہتر ہو چکا تھا اور امکان تھا کہ شاید مذاکرات میں ایک دن کی توسیع ہو جائے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اختلافات موجود تھے۔ امریکی ذرائع کے مطابق ایرانیوں نے امریکہ کے مقصد کو صحیح طرح نہیں سمجھا کہ وہ ایسے معاہدے پر پہنچنا چاہتا ہے جو یقینی بنائے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ اس دوران ایران کے امریکی مقاصد پر بداعتمادی بھی برقرار رہی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مذاکرات کی یہ تفصیلات ذرائع نے معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتائی ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'کوششیں اب بھی جاری ہیں'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کی جانب سے ایرانی حکومت سے رابطے اور ردعمل کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ دوسری جانب پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ایران نے آج صبح رابطہ کیا اور کہا کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے اس بیان سے متعلق ایک امریکی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اب بھی رابطے برقرار ہیں اور کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکہ کا مؤقف کبھی تبدیل نہیں ہوا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ 'ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں آ سکتا اور صدر ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم اس ریڈ لائن اور دیگر ایسے معاملات پر اٹک گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی سمت میں بڑھنے کے لیے رابطے جاری ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی دونوں ملکوں کے درمیان پیغام رسانی جاری رکھے ہوئے ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ختم کرے، تمام نیوکلیئر افزودگی کی تنصیبات ختم کرے، افزودہ یورینیم جو اس کے پاس موجود ہے وہ حوالے کرے، ایک وسیع امن معاہدہ قبول کرے، علاقائی پراکسیز کی فنڈنگ بند کرے، آبنائے ہرمز بغیر کسی ٹول کے کھولے اور ایسے سیکیورٹی فریم ورک پر آمادہ ہو جس میں علاقائی اتحادیوں کی بھی شمولیت ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی ذرائع کے مطابق ایران کے مطالبات میں جنگ بندی کی مستقل ضمانت، ایران اور اس کے اتحادیوں پر مستقبل میں کوئی حملہ نہ کرنے کی ضمانت، تمام پابندیوں کے خاتمے، تمام اثاثوں کو غیر منجمد کرنا، یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کرنا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنا شامل ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اتار چڑھاؤ اور کشیدہ لمحات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کو 11 میں سے چار ذرائع نے بتایا کہ ایک موقع پر مذاکرات اس حد تک آگے بڑھ گئے تھے کہ کم از کم ایک ابتدائی فریم ورک پر اتفاق ہو سکتا تھا۔ تاہم ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور تہران کی جانب سے منجمد اثاثوں تک رسائی کے مطالبے پر بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں زیادہ تر بات چیت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا 'مذاکرات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے، کشیدہ لمحات بھی آئے، لوگ کمرے سے باہر چلے گئے اور پھر واپس آئے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پانچ پاکستانی ذرائع کے مطابق پاکستان کی نمائندگی کرنے والے حکام، جن میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار شامل تھے، رات بھر دونوں فریقین کے درمیان رابطہ کاری کرتے رہے تاکہ مذاکرات کو درست سمت میں رکھا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق مذاکرات 20 گھنٹے سے زائد جاری رہے۔ اس دوران ہوٹل کا عملہ بھی وہیں موجود رہا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'ہم آپ پر کیسے اعتماد کر لیں؟' عباس عراقچی کا سخت لہجہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی ذرائع کے مطابق جب بات ضمانتوں یعنی عدم جارحیت کی یقین دہانی اور پابندیوں میں نرمی تک پہنچی تو عام طور پر نرم مزاج سمجھے جانے والے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا لہجہ سخت ہو گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا 'ہم آپ پر کیسے اعتماد کریں، جب جینیوا میں گزشتہ ملاقات کے دوران آپ نے کہا تھا کہ جب تک سفارت کاری جاری ہے، امریکہ حملہ نہیں کرے گا؟'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے جینیوا میں مذاکرات کے صرف دو دن بعد شروع کیے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز، پابندیوں اور دیگر امور کے علاوہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کے دائرہ کار پر بھی اختلاف رہا۔ جہاں واشنگٹن کی توجہ جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز تک محدود تھی وہیں تہران ایک وسیع تر معاہدہ چاہتا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک حکومتی ذریعے کے مطابق ایک موقع پر تناؤ اس قدر بڑھ گیا کہ بلند آوازیں کمرے کے باہر تک سنائی دیں جس پر آرمی چیف عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چائے کا وقفہ کرایا اور دونوں فریقین کو الگ الگ کمروں میں بھیج دیا۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'یہ ہماری آخری اور بہترین پیشکش ہے'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق مذاکرات کے آخری مراحل میں امریکی وفد کے ارکان ایرانی وفد کے مقابلے میں زیادہ بار مذاکراتی کمرے اور اپنے نجی فلور کے درمیان آتے جاتے رہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک سینیئر پاکستانی عہدے دار نے بتایا کہ امریکی وفد کے برعکس ایرانی وفد زیادہ تر اپنی جگہ پر موجود رہا جب کہ امریکی نمائندے بار بار مشاورت کے لیے باہر جاتے رہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک امریکی ذریعے کے مطابق جے ڈی وینس ان مذاکرات میں کسی معاہدے تک پہنچنے اور باہمی مفاہمت پیدا کرنے کے ارادے سے شریک ہوئے تھے۔ تاہم امریکی فریق طویل مذاکرات سے محتاط رہا۔ کیوں کہ اس کا ماننا ہے کہ ایران تاخیری حربے استعمال کرنے میں ماہر ہے اور آسانی سے رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تعطل کے باوجود جب وینس نے بعد میں میڈیا سے گفتگو کی تو ان کے بیانات سے ظاہر ہوا کہ کسی نہ کسی شکل میں مزید بات چیت کا امکان موجود ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا 'ہم یہاں سے ایک نہایت سادہ تجویز کے ساتھ جا رہے ہیں، ایک ایسا طریقۂ کار جو ہماری آخری اور بہترین پیشکش ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ آیا ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><sub class="ql-size-small"><em>(یہ تحریر خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے لی گئی ہے)</em></sub></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2792</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/14/dbe4b378-q5eh2yl11pmeqju0dumtg.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 11:01:03 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>'پاکستان کی درخواست پر' امریکہ اور ایران دو ہفتوں کی جنگ بندی پر راضی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی اونچی اڑان اور تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2786</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2786" rel="standout" />
      <description>ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد تہران میں جشن منایا جا رہا ہے۔ جب کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کی مذاکراتی ٹیموں کو جمعے کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے تاکہ جنگ کے مستقل حل کے لیے شرائط پر بات چیت ہو سکے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بدھ کی علی الصبح حملوں کے لیے دی گئی امریکی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا جس کی ایران نے بھی تصدیق کی۔ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا بالخصوص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی ان کی درخواست پر کی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2041691042630811855" data-url="https://t.co/gg7FOMqVBl" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Iranians in the capital city of Tehran, celebrate Iran’s victory in the American-Zionist-imposed war following the announcement of a two-week ceasefire. &lt;a href=&quot;https://t.co/gg7FOMqVBl&quot;&gt;pic.twitter.com/gg7FOMqVBl&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Iran in India (@Iran_in_India) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/Iran_in_India/status/2041691042630811855?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;April 8, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/gg7FOMqVBl</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں تمام فریقین سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا بیان</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے ان سے درخواست کی کہ وہ آج رات ایران پر حملے نہ کریں، اس شرط کے ساتھ کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کے لیے رضا مند ہو۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/8/7922d6df-bc7pidn8dxlp74qf0z5nb.webp" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/8/7922d6df-bc7pidn8dxlp74qf0z5nb.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ معطل کرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم پہلے ہی تمام فوجی اہداف حاصل کر چکے ہیں اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک حتمی معاہدے پر کافی کام کر چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر نے کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ماضی کے تنازعات کے تقریباً تمام مختلف نکات پر امریکہ اور ایران میں اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم دو ہفتوں کی یہ مدت معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اسے عملی جامہ پہنانے میں مدد دے گی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایران کی جانب سے بھی جنگ بندی پر اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر سرکاری بیان جاری کیا گیا جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پر بھی شیئر کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان تھک کوششیں کیں۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/8/be45ef81-hfvqiorxcaagejc.webp" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/8/be45ef81-hfvqiorxcaagejc.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عباس عراقچی نے مزید کہا کہ وہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے باضابطہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ اگر ایران کے خلاف حملے روکے جاتے ہیں تو ہماری مسلح افواج اپنی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔ دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی تاہم اس سے گزرنے کے لیے ایرانی فوج سے رابطہ رکھنا ہو گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تنازع میں شریک تیسرے ملک اسرائیل نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی کے فیصلے کی حمایت تو کی ہے مگر یہ بھی کہا ہے کہ اس کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی فریقین کو اسلام آباد آنے کی دعوت</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب تمام فریقین کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خوشی کا اظہار کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں امریکہ اور ایران کی مذاکراتی ٹیموں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد تشریف لائیں تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید بات چیت کی جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ 'اسلام آباد مذاکرات' کامیاب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید خوش خبریاں سننے کو ملیں گی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کا عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی مثبت اثر دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کچھ کم ہوئی ہیں تو دوسری جانب پاکستان کے اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو بڑا اضافہ ہوا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں بدھ کی دوپہر 12 بجے تک 12 ہزار 600 سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے جب کہ عالمی منڈی میں امریکی کروڈ آئل کی قیمت میں 16 ڈالر فی بیرل اور برینٹ کروڈ میں 14 ڈالر فی بیرل سے زیادہ کی کمی آ چکی ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/8/93f210b6-ccqh9l65bmeyudsdimfj6.webp" data-card-width="1324" data-card-height="316" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/8/93f210b6-ccqh9l65bmeyudsdimfj6.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی کروڈ آئل کی فی بیرل قیمت اب 96.11 ڈالر اور برینڈ کروڈ 94.76 ڈالر فی بیرل پر آ چکا ہے جو خاصی بڑی کمی ہے۔ تاہم یہ قیمتیں اب بھی اس سطح سے کافی زیادہ ہیں جو 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل تھیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2786</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/8/6a1171a6-tqmc1g6k5r67ko5pgzd5i.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 10:33:06 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد ایشیائی منڈیوں میں مندی، مختلف ملکوں میں اثرات کم کرنے کے اقدامات</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2744</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2744" rel="standout" />
      <description>اسرائیل اور امریکہ کی ایران میں جاری جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں مندی کا شکار ہو گئی ہیں تو دوسری جانب مختلف ملکوں میں ان اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند رہنے کی توقع ہے جہاں سے دنیا کو 20 فیصد کے قریب تیل سپلائی ہوتا ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی کروڈ کی قیمت میں 20 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جو جولائی 2022 کے بعد سب سے زیادہ قیمت ہے۔ برینٹ آئل کی قیمت 17 فیصد اضافے سے 108.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ برینٹ آئل کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے بھی 28 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کی بڑھتی قیمتوں پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ جب ایران کے جوہری خطرے کی تباہی ختم ہوگی تو تیل کی قیمتیں اتنی ہی تیزی سے نیچے چلی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ اور دنیا کے تحفظ اور امن کے لیے ایک بہت چھوٹی سی قیمت ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/9/dd941f8e-hgx97d07uclw9zy755kaq.webp" data-card-width="1193" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/9/dd941f8e-hgx97d07uclw9zy755kaq.webp" data-card-caption="ویتنام کے شہر ہنوئی میں ایک پیٹرول پمپ کا منظر"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ جو پہلے ہی کئی دن سے مندی کے رجحان کا شکار تھی، پیر کو کریش کر گئی ہے۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں 11 ہزار پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جاپان کی اسٹاک مارکیٹ میں چھ فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ جنوبی کوریا میں 12 فیصد اور آسٹریلیا میں تقریباً چار فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی اور ہر چیز کی قیمتوں میں اضافے کی توقع ہے۔ پاکستان میں گزشتہ جمعے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد کئی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/9/ca83bb91-ayo39zieyztdwmwddndtp.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/9/ca83bb91-ayo39zieyztdwmwddndtp.webp" data-card-caption="جاپان کے شہر ٹوکیو میں اسٹاک مارکیٹ کے باہر سے لوگ گزر رہے ہیں "></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اثرات سے بچاؤ کے اقدامات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کی قبل از وقت چھٹیاں دے دی گئی ہیں جب کہ جنوبی کوریا میں قیمتوں پر حد مقرر کی گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش اپنی توانائی کی 95 فیصد طلب امپورٹ سے پوری کرتا ہے۔ بنگلہ دیش نے توانائی کی کھپت میں کمی کے لیے ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں عید الفطر کی قبل از وقت چھٹیاں دے دی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش میں سرکاری اور نجی سکولوں میں پہلے ہی رمضان میں چھٹیاں ہیں۔ یعنی اب ملک کے تمام تعلیمی ادارے عید کی چھٹیوں تک بند رہیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا کیوں کہ نجی اور سرکاری یونیورسٹیوں میں بہت زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/9/1e74b2f1-lghz8vvawmydsluryha3b.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/9/1e74b2f1-lghz8vvawmydsluryha3b.webp" data-card-caption="فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ایک پیٹرول پمپ پر تیل ختم ہونے کا پیغام آویزاں ہے"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوبی کوریا نے 30 سال میں پہلی بار تیل کی قیمتوں پر حد مقرر کر دی ہے اور عوام 'پینک بائنگ' نہ کرنے سے خبردار کیا ہے۔ جنوبی کوریا اپنی ضرورت کا 70 فیصد تیل مشرقِ وسطیٰ سے خریدتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جاپان کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت آئل کے ملکی ذخائر سے تیل فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ جاپان 95 فیصد تیل مشرقِ وسطیٰ سے امپورٹ کرتا ہے اور اس کے پاس 354 دن کے ذخائر موجود ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ویتنام کی حکومت تیل کی درآمدات پر عائد ٹیرف ختم کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ ٹیکسز میں کمی کر کے عوام کے لیے قیمتیں کم رکھی جا سکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں بھی پیر کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں کفایت شعاری کی پالیسی کا اعلان متوقع ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ نے تیل ایکسپورٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور شپمنٹس کے پرانے وعدے بھی منسوخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل پیدا کرنے والے ملک کیا کر رہے ہیں؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قطر نے ایل این جی کی برآمدات روک دی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کویت اور عراق نے آبنائے ہرمز کی بندش کے پیشِ نظر تیل کی پیداوار کم کر دی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی جلد تیل کی پیداوار روک سکتے ہیں کیوں کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل ایکسپورٹ نہیں ہو رہا اور اسٹوریج تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2744</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/9/a21ab297-4xlrhzajea7zngizfs04.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 09 Mar 2026 10:01:51 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>مجتبیٰ خامنہ ای، ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کون ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2743</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2743" rel="standout" />
      <description>ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جانشین کے طور پر سامنے آئے ہیں اور مجلسِ خبرگان رہبری نے انہیں ملک کا نئے رہبرِ اعلیٰ بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے نو منتخب رہبر اعلیٰ کے نام کے اعلان سے متعلق مجلسِ خبرگان رہبری (جو سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے) کا بیان سرکاری ٹی وی پر سنایا گیا جس میں کہا گیا کہ 'شدید جنگی حالات، دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں اور سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں عملے اور سیکیورٹی ٹیم کے کئی اراکین کی اموات کے باوجود اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں ہوئی۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجتبیٰ خامنہ ای کا تیسرے سپریم لیڈر کے طور پر انتخاب امریکہ و اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو ان کی مخالفت کر رہے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی مجتبیٰ خامنہ ای کو 'ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں جب کہ اسرائیل کی جانب سے یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ اگلی قیادت کو بھی نشانہ بنائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب ایران میں طاقت کا محور 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ہیں۔ ملک کی طاقت ور فوج پاسدارانِ انقلاب اور مسلح افواج نے مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان سے وفاداری کی بیعت کی ہے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/9/7c174d1e-fbhm5zele8b3ux26334rk.webp" data-card-width="800" data-card-height="1118" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/9/7c174d1e-fbhm5zele8b3ux26334rk.webp" data-card-source="AA / IRANIAN LEADER PRESS OFFICE / HANDOUT"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجتبیٰ خامنہ ای، ایک پسِ پردہ مگر اہم کردار</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی طرح زیادہ منظرِ عام پر نہیں رہے نہ ہی انہوں نے کبھی کوئی سرکاری یا عوامی عہدہ رکھا ہے۔ وہ کچھ ریلیوں میں تو نظر آتے رہے ہیں لیکن کبھی ان کی جانب سے ان ریلیوں میں کوئی باضابطہ تقریر بھی نہیں کی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کا شمار ایران کی انتہائی بااثر اور پسِ پردہ رہنے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔ مجتبیٰ کو اپنے والد کا 'سایہ' بھی قرار دیا جاتا ہے اور بعض حلقے تو یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ آیت اللہ علی خامنہ ای تک پہنچنے کا راستہ مجتبیٰ سے ہو کر گزرتا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سن 1969 میں مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ، آیت اللہ علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے اپنی ثانوی تعلیم تہران کے مذہبی علوی سکول سے حاصل کی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعد ازاں انہوں نے اپنی دینی تعلیم کا سلسلہ سینیئر علما کی زیر نگرانی مکمل کیا۔ انہوں نے قم کے مدارس میں تعلیم حاصل کی جسے ایران میں شیعت کی تعلیم و ترویج کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای حجتہ الاسلام کا ٹائٹل رکھتے ہیں تاہم سپریم لیڈر بننے کے بعد اب وہ آیت اللہ کہلائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ ایران کی طاقت ور پاسدارانِ انقلاب سے بھی قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ ہائی اسکول سے فراغت کے فوراً بعد مجتبیٰ اس فورس میں شامل ہو گئے تھے اور ایران عراق جنگ میں بھی حصہ لیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صرف 17 سال کی عمر میں مجتبیٰ نے ایران عراق جنگ کے دوران کئی بار مختصر مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کا سیکیورٹی فورسز اور کاروباری حلقوں میں بھی خاصا اثر و رسوخ ہے اور وہ ایک بڑی کاروباری سلطنت کو کنٹرول کرتے آئے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجتبیٰ خامنہ ای کا شمار ان سخت گیر حلقوں میں ہوتا ہے جو جوہری معاملات پر مغربی ملکوں کے ساتھ رابطوں کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بارے میں کئی حلقے یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ مجتبیٰ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں کو آگے بڑھائیں گے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں صرف مجتبیٰ کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جان نہیں گئی بلکہ انہوں نے والدہ، اہلیہ اور کئی قریبی ساتھیوں کو بھی کھویا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی پر ٹرمپ کا ردعمل</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کے نام کا اعلان ہونے کے بعد امریکی صدر نے 'ٹائمز آف اسرائیل' کو دیے گئے انٹرویو کے دوران اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے بس اتنا کہا کہ 'ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو میں مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ باہمی مشاورت سے ہوگا اور مشترکہ فیصلہ ہوگا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2743</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/9/8f58dbab-79zyl2vz1woxkifkuwmsp.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 09 Mar 2026 09:12:01 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> لائیو: اسرائیل کی لبنان اور تہران میں حملوں کی نئی لہر، ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا جواب دیں گے: ٹرمپ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2735</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2735" rel="standout" />
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب تک کی اہم معلومات</h2><ol><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">اسرائیل نے منگل کی صبح ایران اور لبنان میں فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">ایران نے بحرین میں امریکی فوجی اڈہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون گرے ہیں۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو حملوں کا جواب دیا جائے گا۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ملکوں سے اپنے شہریوں کو نکلنے کی ہدایت کی ہے۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جب کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</span></li></ol><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">خامنہ ای کا قتل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے: وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/3/d7cbbad9-yctffwnbaho2kpywhuyvi.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/3/d7cbbad9-yctffwnbaho2kpywhuyvi.webp" data-card-source="RUSSIAN FOREIGN MINISTRY PRESS SERVICE" data-card-caption="اسحاق ڈار">پاکستان کے نائب وزیر اعظم  اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ  آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے۔ پاکستان نے ایران کا مسئلہ سلجھانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور ایران بھی پاکستان کی کوششوں سے آگاہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا جس کی پاکستان نے شدید مذمت کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ میں نے ایرانی حکام سے رابطہ کر کے انہیں باور کرایا کہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری کا معاہدہ ہے، اسے ذہن میں رکھیں۔ انہوں نے یقین دہانی مانگی کہ سعودی سرزمین حملے میں استعمال نہیں ہوگی۔ میں نے انہیں یہ یقین دہانی لے کر دی اور اسی لیے سعودی عرب اور عمان پر ایران نے حملے نہیں کیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کا حصول ایران کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری ہی مسئلے کا حل ہے اور وہ عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کی جانب سے سرحدیں بند کرنے کے بعد غزہ میں خوراک اور فیول کی قلت</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد غزہ کی سرحدیں پھر بند کر دی ہیں جس سے علاقے میں خوراک اور فیول کی قلت پیدا ہو رہی ہے جس کی سپلائی پہلے ہی محدود تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان سرحدی گزرگاہ کریم شیلوم کو منگل کو امدادی سامان کی فراہمی کے لیے کھولے گی۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنی امداد داخل ہونے دی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا بحرین میں امریکی فوجی اڈے کو تباہ کرنے کا دعویٰ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں بحرین میں امریکی فضائی اڈہ تباہ ہو گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاسدران انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی 'فارس' نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدران انقلاب کے ڈرون اور میزائل حملے میں بحرین کے علاقے شیخ عیسیٰ میں امریکی کمانڈ اور وہاں کام کرنے والے عملے کو نقصان پہنچا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2028684427648201147" data-url="https://t.co/S4ThgdGhKT" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;fa&quot; dir=&quot;rtl&quot;&gt;🔴 سپاه پاسداران: ساختمان اصلی فرماندهی و ستاد پایگاه هوایی امریکا در بحرین منهدم شد&lt;br&gt;&lt;br&gt;موج چهاردهم عملیات وعده صادق۴ نیروی دریایی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی سحرگاه امروز طی حملۀ گسترده پهپادی و موشکی پایگاه هوایی آمریکا در منطقه شیخ عیسی بحرین را مورد هدف قرار داد. &lt;a href=&quot;https://t.co/S4ThgdGhKT&quot;&gt;https://t.co/S4ThgdGhKT&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/FarsNews_Agency/status/2028684427648201147?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;March 3, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/S4ThgdGhKT</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ نے فی الحال ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کے لبنان میں حملے جاری، اسرائیلی فوج نے سرحد پر دراندازی کی ہے: لبنانی عہدے دار کا دعویٰ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی فوج اب ایران کے ساتھ ساتھ لبنان میں بھی بمباری کر رہی ہے اور بیروت میں منگل کی صبح بھی کئی دھماکے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب لبنانی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کی زمینی افواج نے دراندازی کی ہے اور لبنان میں داخل ہو گئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/3/7cbd13f6-4chwdlmaueswg91321p9o.webp" data-card-width="1199" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/3/7cbd13f6-4chwdlmaueswg91321p9o.webp">لبنانی عہدے دار نے منگل کو 'رائٹرز' کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کی سرحد پر بعض مقامات پر دراندازی کی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لبنانی فوج کو کم از کم سات سرحدی چوکیوں سے پیچھے ہٹا دیا گیا ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/3/0b2f7fc4-edalgbnvbchdwokxe4gb3v.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/3/0b2f7fc4-edalgbnvbchdwokxe4gb3v.webp">اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے زمینی افواج کو دفاعی حکمتِ عملئ کے تحت لبنان کی سرحد پر تعینات کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ساتھ لبنان میں بھی حملے کر رہے ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان نے لبنان میں زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/3/b7c40fae-dsqygdkdkfo6qp77n7yurt.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/3/b7c40fae-dsqygdkdkfo6qp77n7yurt.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران پر حملے کے چار مقاصد واضح ہیں: ٹرمپ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کے ہمارے مقاصد واضح ہیں۔ ان کے بقول:</p><ol><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم ایران کی بیلسٹک میزائلوں کی صلاحیت کو تباہ کر رہے ہیں۔</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہم ان کی بحری قوت کو ختم کر رہے ہیں۔</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کی سرپرست ریاست کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">اور ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ ایرانی رجیم اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گرد افواج کو ہتھیار، فنڈنگ اور کوئی مدد فراہم نہ کر سکے۔</li></ol><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="color: rgb(187, 187, 187);">===========================================================</span></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کی اپنے شہریوں اور سرکاری اہلکاروں کو مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ملکوں سے نکلنے کی ہدایت </h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2028588420403241021" data-url="https://twitter.com/SecRubio?ref_src=twsrc%5Etfw" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;The &lt;a href=&quot;https://twitter.com/SecRubio?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;@SecRubio&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://twitter.com/StateDept?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;@StateDept&lt;/a&gt; urges Americans to DEPART NOW from the countries below using available commercial transportation, due to serious safety risks. Americans who need State Department assistance arranging to depart via commercial means, CALL US 24/7 at +1-202-501-4444 (from… &lt;a href=&quot;https://t.co/vdplAik2Sq&quot;&gt;pic.twitter.com/vdplAik2Sq&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Assistant Secretary Mora Namdar (@AsstSecStateCA) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/AsstSecStateCA/status/2028588420403241021?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;March 2, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://twitter.com/SecRubio?ref_src=twsrc%5Etfw</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ نے ایک طرف اپنے شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ملکوں سے انخلا کی ہدایت کی ہے تو دوسری جانب نان ایمرجنسی سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی مختلف ملکوں سے نکلنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی محکمہ خراجہ نے صرف انتہائی ضروری اہلکاروں کے علاوہ باقی سرکاری اہلکاروں اور ان کی فیملیز کو قطر، کویت، اردن، بحرین اور عراق سے فوری نکلنے کی ہدایت جاری کی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">علاقائی کشیدگی کے تناظر میں کویت میں امریکی سفارت خانہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے جوابی حملوں میں ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد چھ ہو گئی: سینٹ کام</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران کے حملوں سے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیوں میں 560 امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی افواج جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بنائیں گی: امریکی وزیر خارجہ کا ایران میں گرلز اسکول پر حملے میں 160 ہلاکتوں پر ردعمل</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/3/0fdbe5e5-y65m43jnlzyrkws7zaveq.webp" data-card-width="900" data-card-height="497" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/3/0fdbe5e5-y65m43jnlzyrkws7zaveq.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران میں اسکول پر حملے میں ہونے والی ہلاکتوں پر کہا ہے کہ امریکی افواج 'جان بوجھ کر اسکول کو نشانہ نہیں بنا سکتیں۔' ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں میں لڑکیوں کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 160 طالبان ہلاک ہو چکی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسکول پر حملے کی اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو اور نوبیل انعام یافتہ ایکٹیوسٹ ملالہ یوسف زئی نے بھی مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی تعلیمی ادارے، اسپتال یا شہری ڈھانچے پر جان بوجھ کر حملہ کرنا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مارکو روبیو کا پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں اس حملے پر کہنا تھا کہ 'محکمہ جنگ اس کی تحقیقات کر رہا ہے کہ یہ ہماری کارروائی تھی یا نہیں اور میں آپ کے سوال ان تک پہنچا دوں گا۔' انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ جانتے بوجھتے کسی اسکول کو نشانہ نہیں بنائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا جواب دیں گے: امریکی صدر ٹرمپ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے اور امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کا جواب دیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے سے دو ڈرونز ٹکرائے ہیں جس کے بعد سفارت خانے کی عمارت کے کچھ حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق حملے میں معمولی نقصان ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2028735027157029034" data-url="https://t.co/VWnUozGQgy" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;US embassy in Saudi Capital Riyadh hit by drones and fire reported....&lt;a href=&quot;https://t.co/VWnUozGQgy&quot;&gt;pic.twitter.com/VWnUozGQgy&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Common Person (@kimplopa) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/kimplopa/status/2028735027157029034?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;March 3, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/VWnUozGQgy</span></span></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2735</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/3/15d30d93-pxzk5it4ujgvseyqlwa81e.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2026 10:57:14 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>لائیو: امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ایران کا جوابی وار، خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملے</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2730</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2730" rel="standout" />
      <description>امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کی دوپہر ایران پر حملہ کر دیا ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران سمیت کئی شہروں میں دھماکے ہوئے ہیں جس کے بعد ایران نے بھی اسرائیل کی جانب میزائل برسائے ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب تک کیا کچھ ہو چکا ہے؟</h3><ol><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا ہے اور تہران سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔ </span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">امریکہ اور اسرائیل نے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ ایرانی قیادت کی موت کا دعویٰ کیا ہے۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">ایرانی حکام نے خؒامنہ ای کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف ’بڑی جنگی کارروائی‘ شروع کر دی ہے۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی میزائل کی صنعت کو تباہ کر دیں گے۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">اسرائیل اور ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">ایران نے بھی اسرائیل پر جوابی حملہ کیا ہے اور میزائل داغے ہیں۔</span></li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="background-color: rgb(250, 204, 204);">سعودی عرب، دبئی، ابوظہبی، بحرین، کویت اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر ایران نے میزائل داغے ہیں۔</span></li></ol><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی زندگی و موت سے متعلق متضاد اطلاعات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/1/3e284b9d-yod2509dbx2j51kx377oj.webp" data-card-width="1757" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/1/3e284b9d-yod2509dbx2j51kx377oj.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جا چکے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے جب کہ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ رہبر اعلیٰ زندہ ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ایرانی سپریم لیڈر کی موت کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ ’تاریخ کے بدترین لوگوں میں سے ایک خامنہ ای مارے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خامنہ ای ان کی انٹیلی جینس اور انتہائی جدید ٹریکنگ سسٹم سے بچ نہیں سکے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق خامنہ ای اب نہیں رہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم  ایرانی عہدے دار دعویٰ کر رہے ہیں کہ سپریم لیڈر خامنہ ای محفوظ ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’اے بی سی نیوز‘ کو بتایا ہے کہ رہبر اعلیٰ اور ایرانی صدر مسعود پرشکیان دونوں محفوظ ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی میڈیا نے بھی ایک اعلیٰ عہدے دار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ’آیت اللہ علی خامنہ ای ثابت قدم اور پرعزم ہیں اور جنگ میں ملک کی فعال طریقے سے قیادت کر رہے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی حملوں پر متحدہ عرب امارات اور بحرین کا ردعمل</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2027680335626981808" data-url="https://t.co/zy4y8t5my5" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;in&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Panic in Abu Dhabi &lt;a href=&quot;https://t.co/zy4y8t5my5&quot;&gt;pic.twitter.com/zy4y8t5my5&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Middle East Observer (@ME_Observer_) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/ME_Observer_/status/2027680335626981808?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;February 28, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/zy4y8t5my5</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات اور بحرین کا ایرانی حملوں پر ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ بحرین نے کچھ تنصیبات کے نشانہ بننے کی تصدیق کرتے ہوئے ان حملوں کو ملک کی خودمختاری اور سلامتی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بحرین نے کہا ہے کہ ’غدارانہ حملوں‘ سے بحرین اور اس کے عوام کا تحفظ اور سلامتی خطرے میں پڑ گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ایران نے بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے اور اس کے دفاعی نظام نے کئی میزائلوں کو روک لیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اماراتی وزارت دفاع کے مطابق میزائل کا ایک ٹکڑا رہائشی علاقے میں گرنے سے ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔ وزارت نے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یو اے ای ایرانی حملوں کا جواب دینے کا پورا حق رکھتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی عرب، دبئی، ابوظہبی، بحرین اور قطر میں دھماکوں کی آوازیں</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے جواب میں خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے ہیں۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض، متحدہ عرب امارات کے شہروں دبئی اور ابوظہبی سمیت بحرین اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2027675775839650067" data-url="https://t.co/6bRBMqcUAz" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;🚨 Several explosions reported in Bahrain amid confrontation following Israeli and US airstrikes in Iran&lt;br&gt;&lt;br&gt;➡️ Bahrain says the service center of the US Fifth Fleet was subjected to a missile attack &lt;a href=&quot;https://t.co/6bRBMqcUAz&quot;&gt;https://t.co/6bRBMqcUAz&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://t.co/Sa5VqGGDkV&quot;&gt;pic.twitter.com/Sa5VqGGDkV&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Anadolu English (@anadoluagency) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/anadoluagency/status/2027675775839650067?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;February 28, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/6bRBMqcUAz</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قطر کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بحرین میں امریکی اڈے کے قریب زوردار دھماکے سنے گئے ہیں جب کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی اور دبئی میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران نے بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت میں امریکی اڈوں پر بھی میزائل داغ دیے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/2/28/92d1b999-x0c0o3h3ykhep2e91bkzjo.webp" data-card-width="1145" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/2/28/92d1b999-x0c0o3h3ykhep2e91bkzjo.webp" data-card-caption="بحرین میں دھماکے کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہے۔ ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بھی میزائل داغ دیے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین الاقوامی نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران نے قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ قطر میں العدید بیس، کویت میں السالم ایئربیس، متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئربیس اور بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے حملوں کے پیش نظر خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر نے اپنی فضائی حدود بند کی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے جوابی حملے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/2/28/de831e3f-i80v3my6tt3rj19hb4b2z.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/2/28/de831e3f-i80v3my6tt3rj19hb4b2z.webp" data-card-caption="ایران کے جوابی حملوں کے بعد اسرائیل کے ایک اسپتال میں مریضوں کو پارکنگ لاٹ میں منتقل کیا گیا ہے۔"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرون داغ دیے ہیں۔ اسرائیلی فورسز نے بھی ایرانی حملے کی تصدیق کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی دفاعی فورس (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کچھ دیر قبل ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی میزائل حملے کیے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل میں سائرن بھی بجائے گئے اور لوگوں نے محفوظ پناہ گاہوں اور شیلٹرز کا رخ کر لیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس وقت اسرائیلی فضائیہ خطرات کو روکنے پر کام کر رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران اور اسرائیل نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران اور اسرائیل نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور کمرشل پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی میزائلوں کی صنعت کو زمین بوس کر دیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈٰیا پوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملے میں امریکہ بھی شامل ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران میں اہم جنگی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کئی دن سے ایران پر جوہری معاہدے کے لیے دباوٴ ڈال رہے تھے اور مسلسل دھمکی دے رہے تھے کہ وہ ایران پر حملہ کردیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2027651077865157033" data-url="https://t.co/BZuJDudLej" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;zxx&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;&lt;a href=&quot;https://t.co/BZuJDudLej&quot;&gt;pic.twitter.com/BZuJDudLej&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/realDonaldTrump/status/2027651077865157033?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;February 28, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/BZuJDudLej</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے کہا ہے ہم نے بار بار معاہدہ کرنے کی کوشش کی۔ اب امریکی أفواج نے ایران میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے میزائل تباہ کریں گے اور ان کی میزائل صنعت کو زمین بوس کر دیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے اور ایسے طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ہمارے دوستوں اور یورپی اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایک ’بڑی کارروائی‘ کر رہا ہے تاکہ ’اس بہت ظالم اور انتہا پسند آمریت کو امریکہ کے لیے خطرہ بننے سے روکا جا سکے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تہران میں حملوں کے بعد کی کچھ تصاویر</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2027654726687592959" data-url="https://twitter.com/hashtag/tehranexplosions?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;ur&quot; dir=&quot;rtl&quot;&gt;اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا ہے اور اب سے کچھ دیر قبل تہران میں کئی دھماکے ہوئے ہیں۔ تہران سے سامنے آنے والی تصاویر میں کئی مقامات پر دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔&lt;a href=&quot;https://twitter.com/hashtag/tehranexplosions?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;#tehranexplosions&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://t.co/mx4lP8w7hu&quot;&gt;pic.twitter.com/mx4lP8w7hu&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Yeni Şafak Urdu (@yenisafakur) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/yenisafakur/status/2027654726687592959?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;February 28, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://twitter.com/hashtag/tehranexplosions?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5E</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">===========================================================</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران میں وہ مقامات جہاں حملے ہوئے ہیں</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے دارالحکومت تہران کے علاوہ اصفہان، قم، کرمانشاہ اور کرج کے علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/2/28/62e16376-4ksa2u5f3s4y7q1craiai.webp" data-card-width="800" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/2/28/62e16376-4ksa2u5f3s4y7q1craiai.webp" data-card-source="AA"></h2><h6 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span style="color: rgb(187, 187, 187);">===========================================================</span></h6><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، تہران میں دھماکے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا ہے اور اب سے کچھ دیر قبل تہران میں کئی دھماکے ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے ان حملوں کو ’پری ایمپٹو‘ یعنی ’قبل از وقت‘ قرار دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع ہے۔ ایران کی ’فارس نیوز‘ کے مطابق ابتدائی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ دانش گاہ اسٹریٹ اور ری پبلک کے علاقوں میں کئی میزائل گرے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل میں بھی سائرن بجائے گئے ہیں جب کہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پورے اسرائیل میں ’خصوصی اور مستقل ہنگامی حالت‘ نافذ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2730</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/2/28/1b739915-syvqqn4uq8ai2c509ma8sa.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Sat, 28 Feb 2026 12:18:59 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>البئیراک گروپ پورٹ انفراسٹرکچر کے میدان میں عالمی توجہ کا مرکز</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2719</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2719" rel="standout" />
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>البئیراک گروپ بندرگاہی انفراسٹرکچر کی بدولت دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اپنے وسیع بحری بیڑے، جدید انجینئرنگ اور مربوط آپریشنل ڈھانچے کے ذریعے یہ گروپ اسٹریٹجک بندرگاہوں پر جدید انفراسٹرکچر، محفوظ جہاز رانی، اعلیٰ کارکردگی اور پائیدار ترقی میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ یہی حکمتِ عملی البئیراک گروپ کو عالمی بحری تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔</p><p>بحری تجارت اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کے شعبے میں سرگرمیوں کی بدولت البئیراک گروپ ایک مضبوط عالمی گروپ کے طور پر نمایاں ہے۔ البئیراک گروپ کے ساتھ کام کرنے والی البئیراک کنسٹرکشن مختلف جغرافیائی خطوں میں اسٹریٹجک بندرگاہوں کے انفراسٹرکچر کو ترقی دے رہی ہے، جس کے لیے اس کے پاس ڈریجنگ جہازوں، بارجز، ٹینکرز اور پائل ڈرائیونگ پلیٹ فارمز پر مشتمل ایک وسیع بحری بیڑا موجود ہے۔</p><p>آپریشنز میں 4,000 اور 3,000 مکعب میٹر صلاحیت کے دو ’ٹی ایس ایچ ڈی‘ ڈریجرز، تنگ اور کم گہرے جگہوں کے لیے تیار کیے گئے ڈریجنگ بارجز، پیٹرولیم مصنوعات کے ٹینکرز اور پائل ڈرائیونگ پلیٹ فارمز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس بیڑے کی ساخت بڑے پیمانے پر ڈریجنگ منصوبوں اور بندرگاہ پر حساس کاموں دونوں میں بلا تعطل اور انتہائی مؤثر آپریشنز کو ممکن بناتی ہے۔</p><p><strong>اسٹریٹجک بندرگاہوں پر مربوط بحری آپریشنز</strong></p><p>گروپ کے پورٹ فولیو میں ٹرابزون پورٹ، الپورٹ کوناکری، الپورٹ بنجول، الپورٹ موغادیشو اور الپورٹ پوائنٹ نوار خصوصاً شامل ہیں، جہاں انجام دی جانے والی ڈریجنگ اور بندرگاہی ترقیاتی سرگرمیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 50 لاکھ مکعب میٹر ڈریجنگ کی گئی ہے۔ یہ حجم بحری شعبے میں البئیراک گروپ کی انجینئرنگ کی صلاحیت اور آپریشنل مہارت کا مظہر ہے۔</p><p>اپنے ہی بحری بیڑے اور آلات کے ذریعے کام کرنے کی وجہ سے گروپ کو مکمل آپریشنل کنٹرول اور تیز رفتار موبلائزیشن کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، جو اسے صنعت کی دیگر کمپنیوں سے ممتاز بناتا ہے۔</p><p>ماہر انجینئرنگ ٹیموں کی جانب سے کی جانے والی ماحول دوست ڈریجنگ آپریشنز کے ذریعے بندرگاہی حوضوں میں محفوظ جہاز رانی کی گہرائیاں بحال کی جاتی ہیں۔ ان اقدامات سے بڑی ٹنّیج کے جہازوں، یعنی وہ جہاز جن میں بڑی مقدار میں سٹوریج کی گنجائش ہو، کی بندرگاہوں تک رسائی ممکن ہوتی ہے اور ہینڈلنگ صلاحیت اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔</p><p>البئیراک گروپ کے بحری بیڑے میں اعلیٰ صلاحیت کے ڈریجنگ جہاز، تنگ اور کم گہرے جگہوں کے لیے ڈریجنگ بارجز، پیٹرولیم مصنوعات کے ٹینکرز اور پائل ڈرائیونگ پلیٹ فارمز شامل ہیں، جن کے ذریعے سمندری تہہ کی ڈریجنگ، ایندھن کی فراہمی اور نئی بندرگاہی سرمایہ کاری تک وسیع پیمانے پر مربوط خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی بحری معیارات کے مطابق انجام دی جانے والی یہ سرگرمیاں علاقائی تجارت کی پائیداری میں مضبوط کردار ادا کرتی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2719</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/2/21/4c3f2602-7vzwsxu91sdn6cjonurhu.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Sat, 21 Feb 2026 21:24:49 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، امید ہے اسے استعمال نہ کرنا پڑے: ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2680</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2680" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کا ایک بیڑا خلیجی خطے کی جانب روانہ ہو رہا ہے اور ہماری توجہ ایران پر مرکوز ہے۔ جبکہ حکام کے مطابق ایک طیارہ بردار بحری جہاز پر مشتمل سٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی اثاثے آئندہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ پہنچ جائیں گے۔</p><p>جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے واپسی کے دوران ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایران پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘</p><p> ’ہم ایک بڑی فورس ایران کی سمت بھیج رہے ہیں۔‘</p><p>انہوں نے مزید کہا کہ ’ ممکن ہے ہمیں اسے استعمال نہ کرنا پڑے، ہم نے احتیاطی طور پر بہت سے بحری جہاز اس سمت روانہ کر دیے ہیں۔ ایک بڑا بحری بیڑا اس طرف جا رہا ہے، اور ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘</p><p>امریکی بحریہ میں اضافے سے متعلق ٹرمپ کا یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں میں نرمی کی تھی۔</p><p>انہوں نے کہا تھا کہ  ’انہیں تہران کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مظاہرین کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔‘</p><p>خطے میں فوجی تیاریوں کی تصدیق ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ ہفتے امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے سٹرائیک گروپ کو جنوبی بحیرۂ چین میں جاری مشقوں سے ہٹا کر مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔</p><p>دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر نے جمعرات کو واشنگٹن کو خبردار کیا کہ ملک میں ہونے والے وسیع احتجاج کے بعد ہماری فورسز کی ’انگلی ٹریگر پر ہے‘۔</p><p> ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران اب بھی مذاکرات میں دلچسپی رکھتا دکھائی دیتا ہے۔</p><p>دسمبر کے اواخر میں شروع ہونے والے دو ہفتوں پر مشتمل احتجاجی مظاہروں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران کی مذہبی حکومت کو نقصان پہنچا تھا۔ تاہم سخت کریک ڈاؤن کے باعث یہ تحریک دم توڑ گئی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اس کارروائی میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ملک بھر میں غیر معمولی انٹرنیٹ بندش بھی نافذ کی گئی۔</p><p>فی الحال ایران کے خلاف فوری امریکی فوجی کارروائی کا امکان کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ دونوں فریق اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سفارت کاری کو ایک موقع دیا جائے۔ </p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2680</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/1/23/22f9a0a8-6crn4vs6tm7xancpskvaae.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 23 Jan 2026 11:37:17 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بورڈ آف پیس معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کا ایک تاریخی موقع ہے: ترکیہ کے وزیر خارجہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2681</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2681" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے جمعرات کو غزہ کے لیے قائم کیا گیا ’بورڈ آف پیس‘ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کرتا ہے۔</p><p>ہاکان فیدان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  پر لکھا کہ ’بورڈ آف پیس‘ غزہ کے عوام کی طویل عرصے سے جاری تکالیف میں کمی، ان کی انسانی ضروریات پوری کرنے اور خطے میں پائیدار اور جامع امن کے قیام کا ایک تاریخی موقع ہے۔‘</p><p>انہوں نے بتایا کہ وہ صدر اردوان کی نمائندگی کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوئے۔</p><p>ہاکان فیدان  نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ غزہ کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے بورڈ آف پیس غزہ کے مستقبل کی تشکیل میں مضبوط کردار ادا کرے گا‘۔</p><p> ’خطے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دے گا اور  جس مستقل امن کو قائم رہ سکے گا۔‘</p><p>انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ اس عزم پر قائم ہے کہ ایسا مستقبل ممکن ہے جس میں غزہ کے عوام کی آواز سنی جائے، ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور وہ امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔</p><p>گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ جس کے ساتھ ہی نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کی منظوری بھی دی گئی۔ یہ کمیٹی ان چار اداروں میں سے ایک ہے جنہیں غزہ میں عبوری مرحلے کے انتظام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔بورڈ کے قیام کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا۔ اس جنگ میں اکتوبر 2023 سے اب تک 71 ہزار سے زائد فلسطینی لوگوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2681</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/1/23/b89dc326-hrrnhnhb2vb3ng6zbzqq7.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 23 Jan 2026 00:20:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ترکیہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’این سوشیال‘ نئے فیچرز اور جدید ڈیزائن کے ساتھ لانچ، صارفین کی تعداد 17 لاکھ سے تجاوز</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2639</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2639" rel="standout" />
      <description>ترکیہ کے نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم این سوشیال (NSosyal) نے اپنا نیا ڈیزائن اور جدید فیچرز متعارف کرا دیے ہیں، جبکہ پلیٹ فارم کے صارفین کی تعداد 17 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">این سوشیال کے مطابق ایپ کے ری لانچ کے تحت صارفین کے لیے اسٹوری شیئرنگ موڈ سمیت کئی نئے فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں، جبکہ پلیٹ فارم کو مکمل طور پر تیار کردہ سافٹ ویئر اور مقامی سرورز پر مبنی ڈیٹا انفراسٹرکچر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیشنل سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل خودمختاری</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">این سوشیال نے پہلے جو اوپن سورس سافٹ ویئر استعمال ہو رہا تھا، اسے مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے ٹیکنو فیسٹ کے نوجوان ماہرین کے تیار کردہ اینڈ ٹو اینڈ نینشل سسٹم کو اختیار کر لیا ہے</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کا مقصد یہ ہے کہ سوشل میڈیا جیسے اہم ڈیجیٹل شعبے میں کسی دوسرے ملک پر انحصار نہ رہے۔ سسٹم زیادہ محفوظ، تیز اور آسانی سے آگے بڑھنے کے قابل ہو، مستقبل میں نئی سہولیات شامل کرنا آسان ہو اور ٹیکنالوجی پر پورا کنٹرول ترکیہ کے پاس رہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مقامی ڈیٹا اسٹوریج اور شفاف نظام</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس جامع تبدیلی کے تحت این سوشیال کے تمام صارفین کا ڈیٹا اب ترکیہ کے اندر موجود سرورز پر محفوظ کیا جا رہا ہے، جس سے ڈیٹا کی بیرونِ ملک منتقلی رک جائے گی اور سائبر سیکیورٹی کے معیارات مزید مضبوط ہوں گے۔ این سوشیال کے مطابق نیا نظام صارفین کی پرائیویسی کو ترجیح دیتا ہے، اشتہارات پر مبنی پروفائلنگ نہیں ہوگی اور شفاف اور قابلِ جانچ ڈیٹا پالیسیوں کے تحت کام کرے گا۔ این سوشیال پر جو مواد آپ دیکھتے ہیں، وہ ایسے الگورتھمز کے ذریعے دکھایا جاتا ہے جو لوگوں کو جان بوجھ کر زیادہ دیر اسکرین سے چپکائے نہیں رکھتے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ حقیقی بات چیت اور صحت مند رابطہ کریں، نہ کہ بس وقت ضائع کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مصنوعی ذہانت </h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">این سوشیال میں مصنوعی ذہانت انسانوں کی مدد کے لیے استعمال ہو رہی ہے، نہ کہ صارفین کو کنٹرول کرنے کے لیے۔ یہ اے آئی سسٹم خودکار طور پر غلط، جعلی یا نقصان دہ مواد کو پہچاننے میں مدد دیتا ہے۔ اسپام پیجز، بوٹ اکاؤنٹس اور منظم پروپیگنڈا پھیلانے والی سرگرمیوں کو روکنے یا کم کرنے کے لیے اے آئی استعمال کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد پلیٹ فارم کو زیادہ محفوظ اور صاف رکھنا ہے تاکہ عام صارف متاثر نہ ہوں۔ ٹی تھری اے آئی  اسسٹنٹ اسی نظام کا حصہ ہے، جو صارفین کی رہنمائی اور مدد کے لیے کام کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ری لانچ کے بعد این سوشل کے صارفین کی تعداد 17 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے بعد یہ پلیٹ فارم ترکیہ کے سوشل میڈیا منظرنامے میں مقامی طور پر تیار کردہ ایک مؤثر متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">این سوشل ایپ درج ذیل پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے اور اس لنک کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے:</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>ایپ اسٹور:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>https://apps.apple.com/tr/app/nsosyal/id6744562233</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>گوگل پلے:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>https://play.google.com/store/apps/details?id=com.ntech.app&amp;hl=tr</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2639</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/31/43604824-qd342qqriwjffgyrzy1w.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 10:04:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ترکیہ میں فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس کی داعش کے خلاف کارروائی، 110 مشتبہ افراد  حراست</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2637</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2637" rel="standout" />
      <description>استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق ترکیہ میں پولیس نے منگل کے روز اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے خلاف ایک کارروائی میں 110 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کو ترکیہ میں فائرنگ کے واقعے میں تین پولیس اہلکار اور چھ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انادولو کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے مارمررا سمندر کے ساحل پر استنبول کے جنوب میں واقع یالووا شہر میں ایک گھر پر آٹھ گھنٹے محاصرہ کیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کارروائی کے دوران آٹھ پولیس اہلکار اور ایک اور سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ یہ وہ پراپرٹی تھی جس پر پیر کے روز حکام نے 100 سے زائد مقامات پر کارروائی کی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کارروائی سے ایک ہفتے قبل داعش کے 100 سے زائد اراکین کو کرسمس اور نئے سال کے حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پراسیکیوٹر کے بیان کے مطابق منگل کی کارروائی میں پولیس نے استنبول اور دو دیگر صوبوں میں 114 مقامات پر چھاپے مارے اور مطلوبہ 115 مشتبہ افراد میں سے 110 کو گرفتار کر لیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بیان میں کہا گیا کہ مختلف ڈیجیٹل مواد اور دستاویزات بھی قبضے میں لی گئیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/12/30/2302e45a-befunky-collage-1.webp" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/12/30/2302e45a-befunky-collage-1.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ نے اس سال مشتبہ داعش شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی کی ہے، کیونکہ یہ گروپ عالمی سطح پر دوبارہ ابھرا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ نے پچھلے ہفتے شمال مغربی نائجیریا میں شدت پسندوں کے خلاف حملہ کیا، جبکہ اس ماہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بانڈی بیچ میں یہودی تقریب  ہنوکا کے دوران فائرنگ کرنے والے دو حملہ آور بظاہر داعش سے متاثر دکھائی دیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">19 دسمبر کو امریکی اہلکاروں پر حملے کے جواب میں امریکی فوج نے شام میں داعش کے متعدد اہداف پر حملے کیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تقریباً ایک دہائی قبل اس گروپ پر ترکیہ میں شہری اہداف پر حملوں، بشمول استنبول کے نائٹ کلب اور شہر کے مرکزی ایئرپورٹ پر فائرنگ کے متعدد حملوں کا الزام تھا، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ جنگ کے دوران شام میں داخل اور باہر جانے والے غیر ملکی لڑاکاوں، بشمول داعش کے کے لیے اہم راستہ رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2637</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/30/e3322529-y9cf11plque3gmgkf84x.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 12:10:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>سال 2025 میں موسمیاتی آفات کے نتیجے میں دنیا کو 120 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2634</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2634" rel="standout" />
      <description>یورپی یونین کی کلائمیٹ اور اسپیس ایجنسی کوپرنیکس پہلے ہی ایک بیان جاری کرچکا ہے کہ 2025 دنیا کے گرم ترین سالوں میں دوسرا یا تیسرا سال ہو سکتا ہے، جبکہ 2024 سب سے زیادہ گرم سال رہا۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے گزشتہ 10 سال دنیا کے گرم ترین 10 سال رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلاحی تنظیم کرسچین ایڈ کے تجزیے کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے جڑی 10 بڑی آفات ایسی تھیں جن میں سے ہر ایک نے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان کیا، جبکہ مجموعی نقصان 122 ارب ڈالر سے بھی بڑھ گیا۔ یہ اعداد و شمار زیادہ تر انشورنس نقصانات پر مبنی ہیں، جو امیر ممالک میں زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ وہاں جائیداد کی قیمتیں اور انشورنس کوریج زیادہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ میں کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے 60 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا اور اس کے نتیجے میں 400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے،۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نومبر میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں آنے والے سمندری طوفانوں اور سیلاب سے اندازاً 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور تھائی لینڈ، انڈونیشیا، سری لنکا، ویت نام اور ملائیشیا میں 1,750 سے زیادہ افراد جان سے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ میں سیلاب سے 11.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ انڈیا اور پاکستان میں سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات میں 1,860 سے زیادہ افراد جان سے گئے اور لاکھوں لوگ متاثر ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلپائن میں سمندری طوفانوں کے باعث پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا اور 14 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کئی غریب ممالک میں ایسی آفات ہوئیں جن میں شدید انسانی نقصان ہوا، مگر وہ عالمی مالی نقصان کی فہرست میں شامل ہی نہیں ہو سکیں۔ نائیجیریا اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں سیلاب سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایران اور مغربی ایشیا میں طویل خشک سالی کے باعث تہران میں ایک کروڑ تک افراد کو پانی کی قلت کے باعث نقل مکانی کا خدشہ ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2634</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/30/a81237a1-esja979m5hi5laq5nugutx.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 09:30:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2633</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2633" rel="standout" />
      <description>بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِاعظم طویل علالت کے بعد ڈھاکہ کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئیں۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا، جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ آئندہ سال کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے ایک بار پھر ملک کی قیادت سنبھالیں گی، منگل کے روز 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے اس بات کی تصدیق کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طویل عرصے سے بیمار رہنے اور جیل کاٹنے کے باوجود خالدہ ضیا نے نومبر میں کہا تھا کہ وہ فروری 2026 میں ہونے والے انتخابات میں مہم چلائیں گی۔ یہ انتخابات گزشتہ سال ان کی سخت حریف شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بی این پی نے ایک بیان میں کہا کہ ’بی این پی کی چیئرپرسن اور سابق وزیرِاعظم، قومی رہنما بیگم خالدہ ضیا آج صبح 6 بجے، نمازِ فجر کے فوراً بعد انتقال کر گئیں۔‘ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم ان کی مغفرت کے لیے دعا گو ہیں اور عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مرحومہ کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کریں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عبوری رہنما محمد یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش ’ایک عظیم محافظ سے محروم ہو گیا ہے‘۔ نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس نے ایک بیان میں کہا کہ ’ان کی غیر مفاہمتی قیادت کے ذریعے قوم کو بارہا غیر جمہوری حالات سے نجات ملی اور آزادی کی جدوجہد کے لیے حوصلہ ملا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2633</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/30/eb97fa0d-305u9oc10lidjgd36tg3ac.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 08:52:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>روسی صدر پوتن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ، پاکستان کی مذمت</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2632</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2632" rel="standout" />
      <description>وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ پر مبینہ ڈرون حملے کی مذمت کی ہے اور اسے جاری امن کوششوں کے لیے خطرہ قرار دیا۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام لگایا کہ یوکرین نے اتوار کی شب سے پیر کی صبح کے درمیان نووگورود ریجن میں صدر پوتن کی رہائش گاہ کو نشانہ بناتے ہوئے 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے بغیر پائلٹ فضائی ڈرونز داغے، تاہم ان کے بقول تمام ڈرونز کو مار گرایا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی، جنہوں نے اتوار کو جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، نے روس کے اس دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو ممکنہ طور پر یوکرین پر بمباری میں شدت لانے کی تیاری کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی مذمت کرتا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ ’اس طرح کا گھناؤنا فعل امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہباز شریف نے صدر پوتن، روسی عوام  سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تشدد اور امن کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیوں کو مسترد کرنے کے اسلام آباد کے ’غیر متزلزل مؤقف‘ کا اعادہ کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس کے یہ الزامات ایک نہایت اہم وقت پر سامنے آئے ہیں، جب دونوں فریق واشنگٹن کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یوکرین کا کہنا ہے کہ اس نے امریکا کی جانب سے تیار کردہ امن منصوبے کے 90 فیصد نکات  (جن میں جنگ کے بعد کے سکیورٹی ضمانتوں کا معاملہ بھی شامل ہے) پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم جنگ کے بعد کے تصفیے میں علاقائی معاملات تاحال حل طلب ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس، جس نے اس بات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے کہ وہ امریکی منصوبے کے کن حصوں سے اتفاق کرتا ہے، نے پیر کے روز کہا کہ وہ امن عمل سے بدستور وابستہ ہے، تاہم مبینہ ڈرون حملے کے تناظر میں اپنے مؤقف پر ’نظرثانی‘ کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا، جسے اس نے ملک کو غیر عسکری بنانے اور نیٹو کی توسیع کو روکنے کے لیے ایک ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیف اور اس کے یورپی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں سب سے بڑی اور مہلک جنگ ہے، ایک بلااشتعال اور غیرقانونی زمینی قبضہ ہے جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تشدد اور تباہی پھیلی ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2632</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/30/472536fe-7vo48wrb5u514bx4b26evqa.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 08:36:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز جنوری کے شروع میں متوقع: اسرائیلی میڈیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2626</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2626" rel="standout" />
      <description>میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیل اور ثالثی ممالک کو بتایا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز نئے سال کے ابتدائی دنوں میں متوقع ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بدھ کے روز اسرائیل کے چینل 13 نے ایک نام ظاہر نہ کرنے والے سینئر اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ’امریکی خصوصی سفیر اسٹیو وِٹکوف نے اسرائیل اور ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ غزہ معاہدے کا دوسرا مرحلہ جنوری کے آغاز میں شروع ہوگا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق چینل 13 نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کو غیر مسلح کیے بغیر ہی معاہدے کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان 9 اکتوبر کو مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں اور ٹرمپ کی سرپرستی میں دو مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، تاہم غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی خلاف ورزیوں اور دوسرے مرحلے میں تاخیر کے باعث اس کے بعد اب تک 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اکتوبر 2023 سے غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی جنگ کے نتیجے میں اب تک 71 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2626</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/26/e49f4ca2-8h5bvo1xdik1f6utc5kbn.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 14:20:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ میں  کرسمس کی تقریبات: مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں فلسطینیوں کا مارچ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2625</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2625" rel="standout" />
      <description>مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں فلسطینیوں نے منگل کے روز غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کرسمس کی تقریبات منائیں، جو اکتوبر 2023 میں محاصرے کے دوران ہونے والے قتل عام کے آغاز کے بعد پہلی بار ہوئیں۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2625</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/26/1ef6eb75-stiyzvfhq6cpb9wgozcod.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 13:16:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پی آئی اے کی نجکاری کے بعد فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے عارف حبیب کنسورشیم میں شامل ہونے کا اعلان کردیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2624</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2624" rel="standout" />
      <description>فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت میں قائم کنسورشیم میں شامل ہو گئی ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ منگل کو عارف حبیب پی آئی اے کی نجکاری کے دوران عارف حبیب کنسورشیئم نے 135 ارب روپے میں بولی جیت لی تھی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جس میں کامیاب گروپ کو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت ہوئے تاہم کامیاب بولی دہندہ کے پاس بقیہ 25 فیصد حاصل کرنے کا بھی موقع ہوگا جس کے لیے نوے دن کا وقت دیا جائے گا (اور یہ حصہ ابھی حکومت کے پاس ہیں)</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> عارف حبیب نے کہا کہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے ان کے کنسورشیم میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور شراکت داری کی شرائط و ضوابط کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت جاری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پی آئی اے میں 75 فیصد حصص کے حصول کے لیے فوجی فرٹیلائزر کمپنی  چار بولی دہندگان میں سے ایک تھی، لیکن اس نے بولیوں کی جمع کرانے اور کھولنے سے قبل ہی بولی کے عمل سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قوانین کے تحت، کوئی بھی بولی دہندہ جو دستبردار ہو جائے، اسے کامیاب کنسورشیم میں شامل ہونے کا حق حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ پرائیویٹائزیشن کمیشن کی مقرر کردہ شرائط پوری کرے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2616" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/23/926780d6-bt245b6i84gul23rzysxg.webp" data-title="پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ: عارف حبیب کنسورشیئم نے 135 ارب روپے میں بولی جیت لی" data-url="/news/2616" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ: عارف حبیب کنسورشیئم نے 135 ارب روپے میں بولی جیت لی</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1531" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/1/10/1616b724-b96dpoq4ctc71bhkcsxbsq.jpeg" data-title="چار سالہ پابندی ختم، پی آئی اے کی پہلی پرواز آج اسلام آباد سے پیرس روانہ ہوگی" data-url="/news/1531" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">چار سالہ پابندی ختم، پی آئی اے کی پہلی پرواز آج اسلام آباد سے پیرس روانہ ہوگی</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1536" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/1/10/979ef15f-hksp3mlnf1eugvc6n33h6.jpeg" data-title="’پیرس وی آر کمنگ': پی آئی اے کا وہ اشتہار جسے دیکھ کر نائن الیون یاد آجائے، یہ اشتہار کس نے سوچا؟ تحقیقات شروع " data-url="/news/1536" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">’پیرس وی آر کمنگ': پی آئی اے کا وہ اشتہار جسے دیکھ کر نائن الیون یاد آجائے، یہ اشتہار کس نے سوچا؟ تحقیقات شروع </span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1432" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/11/13/90114f72-qykv6kgu277nbpgc1qsgf.jpeg" data-title="وہ پہلا اے آئی روبوٹ جس کی پینٹنگ ایک ملین ڈالر میں فروخت" data-url="/video/news/1432" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">وہ پہلا اے آئی روبوٹ جس کی پینٹنگ ایک ملین ڈالر میں فروخت</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1158" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/8/4/de13852c-66goude4oxiqdgqrtne3fp.jpeg" data-title="پاکستان میں وی پی این کے استعمال کو محدود کرنے کی تیاری؟ پی ٹی اے کا بیان سامنے آگیا " data-url="/technology/1158" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">پاکستان میں وی پی این کے استعمال کو محدود کرنے کی تیاری؟ پی ٹی اے کا بیان سامنے آگیا </span></span></p><p><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2624</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/26/17703f3f-duef5qb6lkcdolsc80aw.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 11:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ترکیہ میں نئے سال کی تقریبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے دولت اسلامیہ کے 115 مبینہ ارکان گرفتار: ترک سیکیورٹی فورسز</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2623</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2623" rel="standout" />
      <description>جمعرات کو استنبول کے 124 مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن کے دوران مطلوب 115 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترک سکیورٹی فورسز نے کرسمس اور نئے سال کی تقریبات کے دوران ممکنہ حملوں کو ناکام بنا دیا ہے، جب کہ استنبول میں داعش (آئی ایس آئی ایل) سے تعلق رکھنے کے شبہے میں 100 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں اس کی تصدیق کی کہ جمعرات کو استنبول کے 124 مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن کے دوران مطلوب 115 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بیان کے مطابق یہ کارروائی اس خفیہ اطلاع کے بعد کی گئی کہ داعش کے ارکان تعطیلات کے دوران ترکیہ میں، بالخصوص غیر مسلم افراد کو نشانہ بنانے کے لیے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چھاپوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے اسلحہ، گولہ بارود اور تنظیمی نوعیت کی دستاویزات بھی برآمد کیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکام کا کہنا ہے کہ باقی 22 مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ کارروائی انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور فوج کے باہمی تعاون سے کی گئی، جس کے نتیجے میں ایسے افراد گرفتار ہوئے جو داعش کی سرگرمیوں کی مالی معاونت اور اس کی پروپیگنڈا مہم میں ملوث تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق گرفتار افراد ترکی سے باہر موجود داعش کے کارندوں سے بھی رابطے میں تھے، جو اس خطرے کی سرحد پار نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ گرفتاریاں ترکیہ کی جانب سے مسلح گروہ داعش کے خلاف جاری کارروائیوں کے تازہ ترین مرحلے کی عکاسی کرتی ہیں، جسے حکام ملک کے لیے دہشت گردی کا دوسرا بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ اپنی جغرافیائی اور آبادیاتی خصوصیات کے باعث داعش کی سرگرمیوں کا ایک بڑا ہدف بن کر ابھرا ہے۔ ترکیہ کی شام کے ساتھ طویل ہے اور شام وہ ملک ہے جہاں داعش کا نیٹ ورک اب بھی کسی حد تک موجود ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے بعد داعش نے وسطی ایشیا میں اپنی سرگرمیوں میں توسیع کی ہے اور افریقہ کے مختلف حصوں میں اس کے نئے ذیلی نیٹ ورک بھی سامنے آئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">  </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">2023 تک داعش سے مبینہ تعلق کے الزام میں 19 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترک حکام کے مطابق داعش کے بعض مشتبہ ارکان 2019 میں عراق اور شام کے کچھ حصوں میں گروہ کی خودساختہ خلافت کے خاتمے کے بعد ترکیہ میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔ترکیہ نے 2013 میں داعش کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترک صدارتی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے بعد سے 2023 تک داعش سے مبینہ تعلق کے الزام میں 19 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی عرصے کے دوران غیر ملکی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبہے میں 7 ہزار 600 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو بھی ملک بدر کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمعرات کی کارروائی مارچ میں ہونے والی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے بعد سامنے آئی، جب وزیرِ داخلہ علی یرلیکایا نے اعلان کیا تھا کہ دو ہفتوں کے دوران 47 صوبوں میں 298 مشتبہ داعش ارکان کو حراست میں لیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں کی گئیں جب صرف پانچ روز قبل امریکی افواج نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر وسیع فضائی حملے کیے، جن میں 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ حملے اس ماہ کے آغاز میں پالمیرا میں ہونے والے ایک گھات لگا کر کیے گئے حملے کے جواب میں کیے گئے، جس میں دو امریکی فوجی اور ایک مترجم ہلاک ہو گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شام کی نئی حکومت، جس کی قیادت صدر احمد الشراع کر رہے ہیں، نے داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف امریکا اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بدھ کے روز دمشق نے اعلان کیا کہ ملک میں داعش کے ایک سرکردہ رہنما کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2623</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/26/1054d1a6-ohhr8wyy9l097tk8h0wq7n.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 09:09:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد  پہنچ گئے</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2622</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2622" rel="standout" />
      <description>پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق جمعے کا یہ دورہ بطور صدر ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان آج اپنے پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ رواں سال میں اماراتی صدر کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہوگا۔ اس سے قبل انہوں نے جنوری میں رحیم یار خان میں وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی، تاہم دفترِ خارجہ کے مطابق جمعے کا یہ دورہ بطور صدر ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق صدر شیخ محمد بن زاید النہیان وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور دونوں رہنما خطے اور عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی گہرائی اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ترقی اور علاقائی استحکام جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی سفارتی، معاشی اور ثقافتی تعلقات ہیں، جو تاریخی روابط اور امارات میں مقیم بڑی پاکستانی برادری کے باعث مزید مضبوط ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک اور ترسیلاتِ زر کا اہم ذریعہ ہے، جہاں ہزاروں پاکستانی مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک دفاع، توانائی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں میں بھی تعاون کرتے ہیں، جبکہ یو اے ای پاکستان کو مالی امداد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد بھی فراہم کرتا رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی سال اپریل میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط اور تبادلہ کیا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان میں سے دو مفاہمتی یادداشتیں ثقافت کے شعبے میں تعاون اور قونصلر امور کے لیے مشترکہ کمیٹی کے قیام سے متعلق تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیسری مفاہمتی یادداشت متحدہ عرب امارات چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان یو اے ای-پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل کے قیام کے لیے طے پائی تھی۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2622</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/26/fd66b9dd-3ohtlnj0pndqk3hk0co8el.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 08:50:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ترکیہ کے وزیر خارجہ کی انقرہ میں حماس کے وفد سے ملاقات</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2621</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2621" rel="standout" />
      <description>مذاکرات میں غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ترک وزیرِ خارجہ ہکان فیدان نے انقرہ میں حماس کے ایک وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن خلیل الحیہ کر رہے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بدھ کے روز ہونے والی اس ملاقات کے دوران ہکان فیدان اور حماس کے وفد نے غزہ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مذاکرات میں غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہکان فیدان نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ ہر فورم پر فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرتا رہے گا اور وفد کو جنگ سے متاثرہ غزہ میں رہائشی ضروریات پوری کرنے اور انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے ترکیہ کی جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب حماس کے وفد نے کہا کہ انہوں نے جنگ بندی کی شرائط پوری کر دی ہیں، لیکن اس کے باوجود اسرائیل غزہ اور اس کے عوام پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وفد کے مطابق یہ رویہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت کو روکنے کے لیے اپنایا جا رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وفد نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں میں سے 60 فیصد کمرشل سامان لے کر آ رہے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ علاقے میں پہنچنے والی انسانی امداد کی مقدار اب بھی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے خاص طور پر بنیادی ضروریات، ادویات، رہائش کے سامان اور ایندھن کی شدید قلت کی نشاندہی کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملاقات میں فلسطینی دھڑوں کے درمیان مفاہمتی عمل میں ہونے والی پیش رفت اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گفتگو کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے طرزِ عمل کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2621</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/24/ad7851dc-58vclwc92e75bzfiqy2xqp.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 14:19:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان سے برطانیہ منشیات سمگلنگ کرنے کے الزام میں سدرہ نوشین کو  21 سال قید کی سزا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2620</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2620" rel="standout" />
      <description>برطانیہ میں 34 سالہ سدرہ نوشین کو منشیات کے مقدمے میں اکیس سال اور چھ ماہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی <a href="https://www.nationalcrimeagency.gov.uk/news/21-years-and-six-months-behind-bars-for-woman-with-85kg-of-pakistani-heroin-in-her-bedroom" target="_blank">رپورٹ</a> مطابق ان کے گھر سے تقریباً  8.5 ملین پاونڈ کی ہیروئن برآمد ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">این سی اے کے مطابق ان پر الزام تھا کہ وہ ایک ایسے منظم سمگلنگ گروہ کا حصہ ہیں جو پاکستان سے برطانیہ ہیروئن لانے کے بعد اسے ملک میں بیچ رہا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جون 2024 میں جب سدرہ نوشین کو اُن کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا تو این سی اے افسران کو اُن کپڑوں میں چھپائی گئی ہیروئن ملی تھی۔ اس کے علاوہ حکام کو گھر میں موجود بالٹیوں، بیگز، مختلف آلات اور ایک دیوار کے وال پیپر کے پیچھے سے بھی ہیروئن ملی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> جب بریڈ فورڈ کی کراؤن کورٹ میں سدرہ نوشین کو ہیروئن کی سپلائی اور دیگر الزامات پر قید کی سزا سنائی گئی تو این سی اے کے رک مکینزی کا کہنا تھا کہ نوشین ایک بڑی سازش کا مرکزی کردار تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مزید تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ نوشین نے کئی کلو ہیروئن کے کنسائمنٹ ہینڈل کیے اور ایک موقع پر گروپ کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار پاونڈ بھی جمع کیے۔ نوشین کو مقدمے کا سامنا کرنا تھا لیکن انہوں نے اپنا مؤقف بدلتے ہوئے ہیروئن کی سپلائی اور درآمد میں سازش قبول کر لی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">این سی اے کے اہلکار رِک میکینزی نے کہا کہ ’بظاہر سدرہ نوشین بریڈ فورڈ میں عام سی زندگی گزار رہی تھیں لیکن ’حقیقت میں وہ برطانیہ میں ہیروئن سے منسلک بڑی سازش کا مرکزی حصہ تھیں، ایک ایسے کاروبار میں ملوث جو نشے اور موت سے جڑا ہوا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برادفورڈ کراؤن کورٹ نے منگل کو نوشین کو ہیروئن کی سپلائی اور درآمد میں سازش کے الزام میں سزا سنائی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">میکینزی نے کہا کہ نوشین نے معاشرے پر ہیروئن کے اثرات کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں، وہ صرف پیسہ کمانے میں دلچسپی رکھتی تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2620</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/24/8e463d35-omdofvopbpoamxap1ne005.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 13:44:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>سال 2025 کے دوران ضلع بنوں میں 134 دہشت گرد حملے ہوئے اور 27 پولیس اہلکار جان سے گئے، 53 دہشت گرد ہلاک ہوئے:: ڈی آئی جی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2619</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2619" rel="standout" />
      <description>سال 2025 کے دوران ضلع بنوں میں 134 دہشت گرد حملے ہوئے اور 27 پولیس اہلکار جان سے گئے، جوابی کارروائی میں 53 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنوں کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سجاد خان کا کہنا ہے کہ سال 2025 میں ضلع میں اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے 134 دہشتگردانہ حملوں میں 27 پولیس اہلکار جان سے گئے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بنوں پولیس نے شدت پسندوں کے خلاف جامع، منظم اور نتیجہ خیز کارروائیاں کیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کے مطابق 2025 کے دوران مجموعی طور پر 134 دہشتگردانہ حملے پولیس اسٹیشنز، چوکیوں، چیک پوسٹس، پولیس موبائلز اور پولیس پارٹیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان حملوں میں 27 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 79 زخمی ہوئے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں 53 دہشتگرد ہلاک اور 163 زخمی ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈی آئی جی نے بتایا کہ بنوں پولیس نے ضلع بھر میں 168 انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں 105 دہشتگرد گرفتار اور 65 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر 170 دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے میریان، ہاویڈ، داؤد شاہ، مامند خیل اور ڈومیل کے علاقوں میں کامیاب مشترکہ کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک ہوا جبکہ 11 پولیس اہلکار اور پانچ عام شہری زخمی ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کارروائیوں کے نتیجے میں 22 دہشتگرد ہلاک اور چار گرفتار کیے گئے، اور متعدد دہشتگردوں کے ٹھکانے اور گھر بھی مسمار کیے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردوں نے پولیس تنصیبات اور شہری آبادیوں کو نشانہ بناتے ہوئے 20 ڈرون حملے کیے، جن میں 19 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ مزید یہ کہ نو شہری شہید اور 33 زخمی ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم 18 جولائی کو اینٹی ڈرون سسٹم کی تنصیب کے بعد نمایاں بہتری دیکھی گئی، جس کے تحت 300 سے زائد ڈرون حملے ناکام بنائے گئے اور چار ڈرون کو غیر فعال کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈی آئی جی نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود پولیس تنصیبات کی حفاظت کے لیے مختلف سکیورٹی اقدامات کیے گئے، جن میں بارئیرز، بنکرز، ڈبل باونڈری والز، بلٹ پروف گیٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ پر بھی کام شروع ہو گیا ہے تاکہ پولیس اہلکاروں اور عام عوام کی حفاظت کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2619</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/24/6336c7bb-bwd7ufsy55n00pvqzd5nes6.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 13:14:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ: عارف حبیب کنسورشیئم نے 135 ارب روپے میں بولی جیت لی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2616</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2616" rel="standout" />
      <description>یہ اقدام سات ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت طے شدہ اصلاحاتی منصوبے کا حصہ ہے۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عارف حبیب کنسورشیئم نے 135 ارب روپے میں پاکستان کی قومی ایئرلائن (پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن یا پی آئی اے) کو خرید لیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسرے نمبر پر لکی سمنٹ کنسورشیم رہا جس نے 134 ارب روپے کی بولی دی جب کہ ایئر بلیو گروپ نے 26 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی لگائی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پی آئی اے کی نجکاری کا عمل آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہوا، جہاں پی آئی اے کے حصص خریدنے کی خواہش مند کمپنیوں نے اہنی اپنی بولیاں جمع کروائیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تین بولی دہندگان</h2><ol><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>لکی سیمنٹ لمیٹڈ کنسورشیم:</strong>  حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ </li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کنسورشیم:</strong> فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی سکولز (پرائیویٹ)  لمیٹڈ، اور لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>ایئر بلیو (پرائیویٹ) لمیٹڈ</strong></li></ol><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمع کی گئی بولیاں آج کھولی گئیں جس کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ بولی عارف حبیب کنسورشیم  115 ارب روپے بولی لگائی، دوسری بولی لکی سیمنٹ کنسورشیم نے 101 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی لگائی اور تیسری بولی ایئر بلیو (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے 26 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی لگائی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکومت پاکستان کی جانب سے پی آئی اے کی فروخت کے لیے کم سے کم قیمت 100 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکومت پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی اس لیے لگا رہی ہے کیونکہ آئی ایم ایف کافی عرصے سے مطالبہ کر رہا ہے کہ پاکستان اپنے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں اصلاحات کرے اور پی آئی اے کی نجکاری بھی انہی اصلاحات کا حصہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان نے پی آئی اے کو بیچنے کی ایک بار پہلے بھی کوشش کی تھی، جو ناکام ہو گئی تھی۔ پچھلی بار صرف ایک خریدار سامنے آیا تھا اور اس کی بولی حکومت کی طے شدہ قیمت سے بہت کم تھی، اس لیے حکومت نے وہ سودا منظور نہیں کیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ قومی ائیرلائن کی نجکاری تقریباً دو دہائیوں میں ملک کی پہلی بڑی نجکاری ہو گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بولیاں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے لگائی جا رہی ہیں جبکہ بقایا 25 فیصد وفاقی اپنے پاس رکھے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اپنی خسارے میں چلنے والی قومی ایئر لائن کے 51 سے 100 فیصد حصص/شئیرز فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ فنڈز اکٹھے کیے جا سکیں اور ان سرکاری اداروں میں اصلاحات کی جا سکیں جو ملکی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1536" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/1/10/979ef15f-hksp3mlnf1eugvc6n33h6.jpeg" data-title="’پیرس وی آر کمنگ': پی آئی اے کا وہ اشتہار جسے دیکھ کر نائن الیون یاد آجائے، یہ اشتہار کس نے سوچا؟ تحقیقات شروع " data-url="/news/1536" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">’پیرس وی آر کمنگ': پی آئی اے کا وہ اشتہار جسے دیکھ کر نائن الیون یاد آجائے، یہ اشتہار کس نے سوچا؟ تحقیقات شروع </span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1531" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/1/10/1616b724-b96dpoq4ctc71bhkcsxbsq.jpeg" data-title="چار سالہ پابندی ختم، پی آئی اے کی پہلی پرواز آج اسلام آباد سے پیرس روانہ ہوگی" data-url="/news/1531" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">چار سالہ پابندی ختم، پی آئی اے کی پہلی پرواز آج اسلام آباد سے پیرس روانہ ہوگی</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2588" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/16/961fd63c-nnmlhvrfg5f5opqsxf0te.webp" data-title="کیا اے آئی اخراجات کم کرنے اور پیسے بچانے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے؟" data-url="/world/2588" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">کیا اے آئی اخراجات کم کرنے اور پیسے بچانے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے؟</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2019" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/7/16/096b7407-10zbpncze09wag61avgxdl.jpeg" data-title="پاکستانی ایئرلائنز کے برطانیہ میں داخل ہونے پر پابندی ختم" data-url="/news/2019" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">پاکستانی ایئرلائنز کے برطانیہ میں داخل ہونے پر پابندی ختم</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2616</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/23/926780d6-bt245b6i84gul23rzysxg.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 15:04:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ترکیہ میں 600 سال پرانی بلاک پرنٹنگ کی روایت آج بھی زندہ  </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2612</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2612" rel="standout" />
      <description>بلاک پرنٹنگ کپڑے پر ڈیزائن بنانے کے قدیم طریقوں میں سے ایک ہے۔ کپڑوں پر چھپائی کرنے والے ٹھپوں کو ایک مخصوص لکڑی پر تیار کیا جاتا ہے۔  </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2612</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/23/97a33d97-i8824pijt6mheo6w8fwru.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 12:28:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> پاکستان کا لیبیا کی فوج کو ہتھیار فروخت کرنے کا 4 ارب ڈالر کا معاہدہ: رپورٹ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2611</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2611" rel="standout" />
      <description>لیبیا 2011 سے اقوام متحدہ کی اسلحے کی پابندی کا شکار ہے، جس میں ہتھیاروں اور متعلقہ مواد کی منتقلی کے لیے اقوام متحدہ سے منظوری درکار ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روئٹرز کی <a href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/pakistan-strikes-4-billion-deal-sell-weapons-libyan-force-officials-say-2025-12-22/" target="_blank">رپورٹ</a> کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی افریقی ملک پر ہتھیاروں خرید و فروخت کی پابندی کے باوجود اسلام آباد نے لیبیا کی فوج کو جنگی سازوسامان فروخت کرنے کے لیے چار ارب ڈالر سے زیادہ کا ایک معاہدہ کیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ کے مطابق یہ پاکستان کی اب تک کی سب سے بڑی ہتھیاروں کی فروخت کی ڈیل میں سے ایک ہے، چار حکومتی عہدیداروں نے روئٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے کو گذشتہ ہفتے پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور لیبین نیشنل آرمی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی میں ہونے والی ملاقات کے بعد حتمی شکل دی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دفاعی امور سے وابستہ تمام عہدیداروں نے معاہدے کی حساسیت کی وجہ سے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کردیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور فوج نے بھی روئٹرز کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیبیا پہلے ہی کئی برسوں سے غیر مستحکم ہے، کیونکہ 2011 میں نیٹو کی حمایت سے ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں معمر قذافی کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ملک مختلف طاقتور گروہوں اور حکومتوں میں بٹ گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی لیے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ کیا جانے والا کوئی بھی اسلحہ معاہدہ مشکوک اور حساس سمجھا جائے گا اور اس پر عالمی سطح پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل اس کی ایک کاپی جسے روئٹرز نے دیکھا تھا اس میں 16 جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کی خریداری کی فہرست درج تھی، ایک ملٹی رول لڑاکا طیارہ جسے پاکستان اور چائنہ نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے اور 12 سُپر مشاق ٹرینر طیارے، جو پائلٹ کی بنیادی تربیت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستانی حکام میں سے ایک نے تصدیق کی کہ فہرست درست تھی جب کہ ایک دوسرے اہلکار نے کہا کہ فہرست میں موجود تمام ہتھیار معاہدے کا حصہ تھے لیکن درست تعداد فراہم نہیں کر سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہتھیاروں کی پابندی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیبیا 2011 سے اقوام متحدہ کی اسلحے کی پابندی کا شکار ہے، جس میں ہتھیاروں اور متعلقہ مواد کی منتقلی کے لیے اقوام متحدہ سے منظوری درکار ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کے ایک پینل نے دسمبر 2024 میں اقوام متحدہ کو دی گئی رپورٹ میں کہا تھا کہ لیبیا پر ہتھیاروں کی پابندی ’غیر موثر‘ رہی۔ پینل نے کہا کہ کچھ غیر ملکی ریاستیں پابندیوں کے باوجود مشرقی اور مغربی لیبیا میں فورسز کو فوجی تربیت اور مدد فراہم کرنے کے بارے میں تیزی سے رائے تبدیل کر رہی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا پاکستان یا لیبیا نے اقوام متحدہ کی پابندیوں سے استثنیٰ کے لیے درخواست دی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستانی حکام میں سے تین نے کہا کہ اس معاہدے سے اقوام متحدہ کی ہتھیاروں کی پابندی نہیں ٹوٹی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک عہدیدار نے کہا کہ لیبیا کے ساتھ معاہدے کرنے والا واحد پاکستان نہیں ہے۔ ایک دوسرے نے کہا کہ حفتر پر کوئی پابندیاں نہیں ہیں اور ایک تہائی نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی برآمدات کے پیش نظر بن غازی حکام مغربی حکومتوں کے ساتھ بہتر تعلقات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2611</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/23/7f20c254-67vd9imrepbw3vc0twfc8.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 11:07:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ترکیہ کی انٹیلیجنس ایجنسی نے پاک-افغان سرحد سے خودکش حملوں میں ملوث داعش کے اعلیٰ عہدیدار کو گرفتار کرلیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2609</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2609" rel="standout" />
      <description>ترکیہ کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن کی جانب سے کی گئی افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ایک کارروائی کے دوران دہشت گرد تنظیم داعش کے اعلیٰ عہدیدار کو گرفتار کر کے ترکیہ منتقل کر لیا گیا ہے۔  </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انادولو ایجنسی کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت مہمت گورین کے نام سے کی گئی ہے جس کا کوڈ نام ’یحییٰ‘ ہے۔ گورین مبینہ طور پر کالعدم داعش خراسان میں سرگرم تھا اور ’افغانستان، پاکستان، ترکیہ اور بعض یورپی ممالک میں خود کش حملوں کا ذمہ دار تھا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع نے بتایا کہ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ افغانستان، پاکستان، ترکیہ اور یورپ میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے والے خودکش حملوں میں ملوث تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن  نے یہ بھی معلوم کیا کہ دہشت گرد ترکیہ سے افغانستان–پاکستان خطے گیا تھا، جبکہ یہ بھی انکشاف ہوا کہ وہ پاکستان میں داعش عناصر کے خلاف کیے گئے فضائی حملوں میں زندہ بچ گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص ایک اور داعش رکن اوزگور آلتن کے ساتھ مل کر کام کرتا تھا، جس کا کوڈ نام ابو یاسر الترکی تھا۔ اوزگور آلتن اس سے پہلے ترکیہ سے داعش کے جنگجوؤں کو افغانستان اور پاکستان کے علاقوں میں منتقل کرنے میں ملوث تھا۔ بعد میں اسے گرفتار کر کے واپس ترکیہ لایا گیا، جہاں اسے جیل بھیج دیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2586" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/16/52c21bc5-v2sbhsok4ps4durapmss7p.webp" data-title="آسٹریلیا: حملہ آور داعش سے متاثر تھے، باپ نے انڈین پاسپورٹ پر فلپائن کا دورہ کیا تھا" data-url="/world/2586" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">آسٹریلیا: حملہ آور داعش سے متاثر تھے، باپ نے انڈین پاسپورٹ پر فلپائن کا دورہ کیا تھا</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2599" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/19/c32ecc56-6a6oov8eshuti2x9br8plg.webp" data-title=" داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام پاکستانی حکام کی حراست میں ہے: اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل " data-url="/news/2599" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"> داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام پاکستانی حکام کی حراست میں ہے: اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل </span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1102" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/7/17/01e61f0f-a7uf4110ap8drcto3qcfs.jpeg" data-title="عمان: مسجد پر فائرنگ سے 4 پاکستانی جاں بحق، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی" data-url="/news/1102" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">عمان: مسجد پر فائرنگ سے 4 پاکستانی جاں بحق، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1709" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/3/7/257510fc-rht4iu9mnthsnlkfwjq3g.jpeg" data-title="داعش دہشتگرد کی گرفتاری کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے، اُس کی حکومت کے شکر گزار ہیں، امریکی محکمہ خارجہ" data-url="/news/1709" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">داعش دہشتگرد کی گرفتاری کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے، اُس کی حکومت کے شکر گزار ہیں، امریکی محکمہ خارجہ</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2593" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/18/8c9d7955-3p8urxci7eq4frwk34ktak.webp" data-title=" نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا، ویزے منسوخ بھی کیے جاسکتے ہیں: آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز" data-url="/news/2593" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"> نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا، ویزے منسوخ بھی کیے جاسکتے ہیں: آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز</span></span></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2609</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/23/acb318e8-5sc0i3kox6xsr16dcpmp5b.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 09:35:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس موبائل پر حملہ، 5 اہلکار ہلاک</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2608</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2608" rel="standout" />
      <description>خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے علاقے گرگوری میں پولیس موبائل پر حملے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ضلع پولیس کے ترجمان شوکت خان نے واقعے اور جانی نقصان کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع پولیس افسر (ڈی پی او) سمیت پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واقعے کی نوعیت تاحال واضح نہیں ہو سکی، تاہم ضلع پولیس کے ترجمان کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر میں پولیس موبائل کے جل کر تباہ ہونے کے آثار نظر آتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک بھائی ہلاک ہو گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے قبل رواں ماہ لکی مروت میں پولیس موبائل کو نشانہ بنانے والے خودکش حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے تھے۔ نومبر میں ضلع ہنگو میں ایک چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کے جواب میں کارروائی کے دوران تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2525" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/11/21/6a00318a-a4jyo62s9wekn49mm4i0o.webp" data-title="صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر حملہ، 7 افراد ہلاک" data-url="/news/2525" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر حملہ، 7 افراد ہلاک</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2154" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/8/16/96bc2088-01mjqkf06i6gl2w2tzdjmcc.jpeg" data-title="خیبر پختونخوا میں بارشیں اور سیلابی ریلے، ہلاکتیں 300 سے زیادہ ہو گئیں" data-url="/pakistan/2154" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">خیبر پختونخوا میں بارشیں اور سیلابی ریلے، ہلاکتیں 300 سے زیادہ ہو گئیں</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1752" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/3/21/de894c9c-7hwpvvhaussib97583rska.jpeg" data-title="خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشن، پاک فوج کے کیپٹن سمیت 10 دہشت گرد ہلاک" data-url="/news/1752" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشن، پاک فوج کے کیپٹن سمیت 10 دہشت گرد ہلاک</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2146" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/8/15/99dda78f-iwkgxbsl9xfx3q9vhre2.jpeg" data-title="🔴خیبر پختونخوا میں کلاوٴڈ برسٹ اور سیلاب سے 24 گھنٹوں میں 200 سے زیادہ ہلاکتیں، ریسکیو کیلئے جانے والا ہیلی کاپٹر کریش" data-url="/news/2146" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">🔴خیبر پختونخوا میں کلاوٴڈ برسٹ اور سیلاب سے 24 گھنٹوں میں 200 سے زیادہ ہلاکتیں، ریسکیو کیلئے جانے والا ہیلی کاپٹر کریش</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2337" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/10/8/da21908f-t70peftcqiqzwow18zh1j.webp" data-title="لیفٹیننٹ کرنل اور میجر سمیت 11 فوجی خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں ہلاک: آئی ایس پی آر " data-url="/news/2337" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">لیفٹیننٹ کرنل اور میجر سمیت 11 فوجی خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں ہلاک: آئی ایس پی آر </span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2485" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/11/12/240443fa-m0xlj1b2gwdb4xsmcxj4yl.webp" data-title="وانا کیڈٹ کالج میں گھسنے والے تمام دہشت گرد ہلاک، بارودی سرنگوں کے خطرے کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری" data-url="/pakistan/2485" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">وانا کیڈٹ کالج میں گھسنے والے تمام دہشت گرد ہلاک، بارودی سرنگوں کے خطرے کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری</span></span></p><p><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2608</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/23/6847b044-0nelwhzca7bq4rw3ejxaj.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 09:11:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بنگلہ دیش میں ایک نوجوان رہنما کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2607</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2607" rel="standout" />
      <description> زخمی ہونے والے 42 سالہ محمد موتالب سیکدر نیشنل سٹیزن پارٹی کے ڈویژنل چیف ہیں۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش میں ایک نوجوان رہنما کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ی ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی کے رہنما محمد موتالب سیکدر پیر کے روز جنوب مشرقی شہر کھلنا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہو گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> زخمی ہونے والے 42 سالہ محمد موتالب سیکدر نیشنل سٹیزن پارٹی کے ڈویژنل چیف ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اخبار نے پولیس کے ایک افسر رفیق الاسلام کے حوالے سے بتایا کہ گیارہ بجکر پینتالیس منٹ کے قریب گازی میڈیکل کالج ہسپتال کے مقام پر ملزمان نے ان کے سر کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی۔ انہیں شدید زخمی حالت میں کھلنا میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا۔ لیکن اب ان کی  حالت ’خطرے سے باہر‘ ہے، کیونکہ گولی ان کے کان کو چھوتی ہوئی گزر گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ واقعہ اس کے بعد سامنے آیا ہے جب شریف عثمان ہادی، جو گزشتہ سال کی طلبہ قیادت والے احتجاج میں اہم شخصیت تھے اور جنہوں نے طویل عرصے تک شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے میں کردار ادا کیا، 16 دسمبر کو ڈھاکہ میں اپنے فروری میں ہونے والے انتخابات کے لیے مہم شروع کرتے ہوئے حملہ آوروں کے ہاتھوں سر میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے اور گزشتہ جمعرات کو سنگاپور میں چل بسے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہادی پر حملے کے بعد تشدد بھرے احتجاج پھوٹ پڑے اور کئی عمارتوں کو آگ لگا دی گئی اور توڑ پھوڑ کی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2598" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/19/7284d279-e3947iumq4t30em2gnpwco.webp" data-title="طلبہ تحریک کے رہنما کی ہلاکت پر بنگلہ دیش میں ایک بار پھر مظاہرے اور جلاؤ گھیراؤ" data-url="/news/2598" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">طلبہ تحریک کے رہنما کی ہلاکت پر بنگلہ دیش میں ایک بار پھر مظاہرے اور جلاؤ گھیراؤ</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2507" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/11/18/edbedce3-m4iqgyvdbwofd68q1wfqe.webp" data-title="انڈیا شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کیوں نہیں کرے گا؟" data-url="/news/2507" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">انڈیا شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کیوں نہیں کرے گا؟</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2502" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/11/17/db73368a-gfvcsjkfde0qfaz421fgzr.webp" data-title="بنگلہ دیش کی عدالت نے شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی" data-url="/news/2502" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">بنگلہ دیش کی عدالت نے شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2565" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/10/a26f8a2d-8mcvg5ku8ni8p00flv54zi.webp" data-title="برطانیہ کی یونیورسٹیوں نے پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے داخلے بند یا محدود کر دیے" data-url="/news/2565" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">برطانیہ کی یونیورسٹیوں نے پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے داخلے بند یا محدود کر دیے</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2534" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/11/27/479b2696-yt1c2qpxqkqlcc1vbgmt8.webp" data-title="بنگلہ دیش کی عدالت نے شیخ حسینہ کو  کرپشن کے مقدمے میں  21 سال قید کی سزا سنا دی" data-url="/news/2534" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">بنگلہ دیش کی عدالت نے شیخ حسینہ کو  کرپشن کے مقدمے میں  21 سال قید کی سزا سنا دی</span></span></span></p><p><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2607</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/22/6a50b7bc-km7pu4fymudt18edqtjh8.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 15:26:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ میں اہم دوائیں اور طبی ساز و سامان ختم ہونے کے قریب: وزارت صحت</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2606</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2606" rel="standout" />
      <description>کمی کی تفصیلات میں بتاتے ہوئے وزارت کا کہنا تھا کہ 321 اہم دواؤں کے اسٹاک اسپتالوں کے گوداموں میں تقریباً ختم ہوگئے ہیں۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ کے وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی علاقے کے اسپتالوں میں دواؤں کے اسٹاک میں شدید کمی واقع ہو گئی ہے، دواؤں میں 52 فیصد اور طبی ساز و سامان میں 71 فیصد کی کمی ہو چکی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ وارننگ اتوار کو غزہ شہر کے الشفا اسپتال میں پریس کانفرنس کے دوران دی گئی، جس میں دوائیوں، طبی اور لیبارٹری سپلائی کی کمی کے سنگین نتائج پر روشنی ڈالی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت صحت کے مطابق دو سال کی جنگ اور سخت محاصرے کے بعد صحت کا نظام ایک غیر معمولی اور خطرناک حد تک کمزور ہوچکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمی کی تفصیلات میں بتاتے ہوئے وزارت کا کہنا تھا کہ 321 اہم دواؤں کے اسٹاک اسپتالوں کے گوداموں میں تقریباً ختم ہوگئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت نے بتایا کہ غزہ میں ہنگامی اور آئی سی یو سہولیات میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے تقریباً 2 لاکھ مریض ایمرجنسی علاج، ایک لاکھ مریض سرجری کی خدمات اور 700 مریض انٹینسیو کیئر سے محروم رہ سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کڈنی کی دیکھ بھال کے لیے ساز و سامان کی کمی کے باعث 650 ڈائلسیز مریضوں کو علاج میسر نہیں ہے، حالانکہ انہیں ہر ماہ تقریباً 7823 ڈائلسیز سیشنز کی ضرورت ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت نے مزید کہا کہ کینسر کے کئی مریض دوائیوں کی 70 فیصد کمی کے باعث انتقال کر چکے ہیں، جس سے تقریباً ایک ہزار مریض علاج سے محروم ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت نے خبردار کیا کہ مریض سنگین صحت کے مسائل جیسے کہ سٹروک اور دل کے دورے کا شکار ہو سکتے ہیں، جہاں تشخیصی یا علاج کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔وزارت نے مزید کہا کہ کارڈیک کیتھیٹرائزیشن اور اوپن ہارٹ سرجری کی خدمات مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں کیونکہ ان کے لیے درکار دوائیں اور طبی ساز و سامان 100 فیصد کمی کا شکار ہیں۔ محدود کیتھیٹرائزیشن خدمات صرف زندگی بچانے کے لیے ضروری کیسز کے لیے دستیاب ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت نے بتایا کہ 99 فیصد شیڈیول شدہ آرتھوپیڈک سرجریز معطل ہو چکی ہیں کیونکہ ہڈیوں کو فکس کرنے کے آلات اور دیگر اہم ساز و سامان دستیاب نہیں ہیں جو پیچیدہ آپریشنز کے لیے ضروری ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت نے کہا کہ 59 فیصد ضروری لیبارٹری ٹیسٹس دستیاب نہیں، جن میں زندگی بچانے والے طبی فیصلوں کے لیے ضروری ٹیسٹس شامل ہیں، جیسے کہ خون کی امیجنگ، الیکٹرولائٹ تجزیہ، خون کی قسم کی شناخت، بیکٹیریل کلچر اور گردے کے مریضوں کے لیے تشخیصی ٹیسٹس۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت صحت نے کہا کہ بحران میں اضافہ اسرائیل کی جانب سے طبی امداد کی فراہمی پر جاری پابندیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے، جو غزہ کے ماہانہ طبی ٹرک کی ضرورت کا صرف 30 فیصد ہی داخل ہونے کی اجازت دے رہی ہیں۔ وزارت کے مطابق جو سپلائیز داخل ہوتی ہیں وہ ناکافی ہیں۔وزارت نے متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوائیوں اور طبی ساز و سامان کی باقاعدہ رسائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مکمل انسانی بنیاد پر امدادی رسائی کی اجازت دے۔ وزارت نے خبردار کیا کہ اگر دوائیوں کے اسٹاک کی بحالی میں تاخیر ہوئی تو یہ غزہ کے صحت کے نظام کو مکمل طور پر تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2592" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/17/b4b2c732-g0kv8hhfkg8z04773c3my.webp" data-title="ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر توجہ کا مرکز" data-url="/world/2592" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر توجہ کا مرکز</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2575" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/12/21b4d5c6-hed11n31nu5qncf1xylrb.webp" data-title="غزہ میں شدید طوفان، 3 بچوں سمیت 12 افراد ہلاک، انسانی بحران میں اضافہ" data-url="/news/2575" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">غزہ میں شدید طوفان، 3 بچوں سمیت 12 افراد ہلاک، انسانی بحران میں اضافہ</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2513" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/11/19/aa977414-wz70m7mg1ln2h2umcb7982.webp" data-title="پاکستان کا خصوصی طیارہ غزہ کے لیے 100 ٹن امدادی سامان لے کر مصر پہنچ گیا" data-url="/news/2513" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">پاکستان کا خصوصی طیارہ غزہ کے لیے 100 ٹن امدادی سامان لے کر مصر پہنچ گیا</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2570" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/11/684772df-dvaiqf7kthutjm5nqxw.webp" data-title="سچ کا قتل: ترکیہ کی کتاب جو اسرائیل کے غزہ میں صحافیوں پر حملوں کو دستاویزی شکل دیتی ہے" data-url="/world/2570" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">سچ کا قتل: ترکیہ کی کتاب جو اسرائیل کے غزہ میں صحافیوں پر حملوں کو دستاویزی شکل دیتی ہے</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1632" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/2/1/32f8d50f-qjjjvvo963gm6ge2kuxmif.png" data-title="غزہ میں فلسطینیوں کو کیا حاصل ہوا؟" data-url="/columns/selcuk-turkyilmaz/1632" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">غزہ میں فلسطینیوں کو کیا حاصل ہوا؟</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2245" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/9/16/8d76ee7d-fonofbhw24ef1rk9qfesmd.webp" data-title="’غزہ جل رہا ہے‘، اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن شروع کر دیا" data-url="/world/2245" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">’غزہ جل رہا ہے‘، اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن شروع کر دیا</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2606</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/22/4de9377a-p8gtd7m2exq5vnuxxhi.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 10:37:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>روس کے سینئر جنرل ماسکو میں کار بم دھماکے میں ہلاک</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2605</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2605" rel="standout" />
      <description>روسی جنرل آج صبح ماسکو میں ہلاک ہوگئے جب ان کی گاڑی کی نیچے نصب دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روس کی تحقیقات کمیٹی نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ روسی جنرل اسٹاف کے آپریشنل ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فانیل سروروف دھماکے میں لگنے والی چوٹوں کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بیان کے مطابق 22 دسمبر کی صبح ماسکو کی یاسینیوایا اسٹریٹ پر ایک گاڑی کے نچلے حصے میں نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تحقیقات کمیٹی کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد فوجداری مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بیان میں مزید کہا گیا کہ تفتیش کار قتل کے واقعے سے متعلق مختلف پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ کارروائی یوکرینی خفیہ اداروں کی جانب سے کی گئی ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم یوکرین کی حکام نے تاحال اس الزام پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ دھماکا اس کے چند گھنٹوں بعد ہوا جب روس اور یوکرین کے وفود نے میامی میں علیحدہ مذاکرات کیے تاکہ جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی پلان ترتیب دیا جاسکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب سے ماسکو نے فروری 2022 میں یوکرین میں اپنی فوج بھیج کر حملے شروع کیے، کیف پر روسی فوجی اہلکاروں اور پرو-کریملن شخصیات کو نشانہ بنانے والے کئی حملوں کا الزام لگایا گیا ہے، جو روس اور روس کے زیرِ کنٹرول یوکرینی علاقوں میں ہوئے۔</p><ol><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپریل میں ماسکو کے قریب ایک کار دھماکے میں جنرل یاروسلاو موسکالیک، جو جنرل اسٹاف کے نائب تھے، ہلاک ہوئے۔</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">دسمبر 2024 میں، ایگور کیریلوف، روسی ریڈیولوجیکل، کیمیکل اور بایولوجیکل ڈیفنس فورسز کے سربراہ، ماسکو میں ایک بووبی ٹریپڈ الیکٹرک اسکوٹر کے دھماکے میں مارے گئے، جس کا دعویٰ یوکرین کی ایس بی یو سیکیورٹی سروس نے کیا۔</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">روسی فوجی بلاگر میکسم فومِن اپریل 2023 میں سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک کیفے میں ایک مجسمے کے دھماکے میں ہلاک ہوئے۔</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگست 2022 میں، ایک کار بم نے داریا ڈوگینا کو ہلاک کر دیا، جو الٹرانیٹلسٹ نظریہ ساز الیگزینڈر ڈوگن کی بیٹی تھیں۔</li></ol><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2590" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/16/23060663-dircv3jhdnvfdpc9utzi.webp" data-title="پاکستان اور روس کے درمیان تیل کے حوالے سے ممکنہ معاہدے پر بات چیت جاری ہے: وزیرخزانہ" data-url="/news/2590" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">پاکستان اور روس کے درمیان تیل کے حوالے سے ممکنہ معاہدے پر بات چیت جاری ہے: وزیرخزانہ</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2600" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/19/597cd071-n0hty8drel8ifgtz5degv.webp" data-title="یورپی ممالک یوکرین کو 90 ارب یورو کا بھاری قرض بلاسود دیں گے، یہ فیصلہ کتنا اہم ہے اور کیوں؟ " data-url="/world/2600" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">یورپی ممالک یوکرین کو 90 ارب یورو کا بھاری قرض بلاسود دیں گے، یہ فیصلہ کتنا اہم ہے اور کیوں؟ </span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2524" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/11/21/a9bb22d0-u0dezwxyxxqlv6j9jowdma.webp" data-title="روس یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کے 28 نکاتی مجوزہ منصوبے میں کیا شرائط شامل ہیں؟" data-url="/world/2524" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">روس یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کے 28 نکاتی مجوزہ منصوبے میں کیا شرائط شامل ہیں؟</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2519" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/11/20/9cbbb8c8-y62675qdtfo3k8dcbirld.webp" data-title="روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے 'امریکہ کا منصوبہ' کیا ہے اور اس پر کیا ردِعمل آ رہا ہے؟" data-url="/world/2519" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے 'امریکہ کا منصوبہ' کیا ہے اور اس پر کیا ردِعمل آ رہا ہے؟</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1696" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2023/1/12/a6d24f70-7o8qkij614v3qb080ct6oj.png" data-title="ٹرمپ، روس اور یوکرین: پس پردہ کیا چل رہا ہے؟" data-url="/columns/yusuf-dinc/1696" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">ٹرمپ، روس اور یوکرین: پس پردہ کیا چل رہا ہے؟</span></span></span></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2605</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/22/b03be270-o5dfkksh9ei64f6uiqm8sd.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 09:58:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>سعودی عرب کا پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے ’کنگ عبدالعزیز میڈل‘ کا اعزاز</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2603</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2603" rel="standout" />
      <description>اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان نے بتایا کہ یہ ایوارڈ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر دیا گیا۔  </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاک-سعودی تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں کے اعتراف میں کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلینٹ کلاس سے نوازا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق کنگ عبدالعزیز میڈل کی پانچ درجات ہیں، جن میں ایکسیلینٹ، فرسٹ، سیکنڈ، تھرڈ اور فورتھ کلاس شامل ہیں۔ یہ تمغہ عموماً ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے سعودی عرب یا اس کے کسی ادارے کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی پریس ایجنسی نے اتوار کی شب بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو یہ اعزاز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے میں ان کی نمایاں کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ کے مطابق یہ تقریب ریاض میں سعودی وزیرِ دفاع کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے کے دوران منعقد ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان نے بتایا کہ یہ ایوارڈ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر دیا گیا۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے پرانے تعلقات، دفاعی تعاون اور عالمی امن و سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2002821144551043326" data-url="https://t.co/bWHL08TKuz" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Upon the directive of the Custodian of the Two Holy Mosques, I presented Pakistan’s Chief of Army Staff, Field Marshal Asim Munir, with the King Abdulaziz Medal of Excellent Class for his distinguished efforts to enhance our cooperation and advance the Saudi-Pakistani relations. &lt;a href=&quot;https://t.co/bWHL08TKuz&quot;&gt;pic.twitter.com/bWHL08TKuz&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/kbsalsaud/status/2002821144551043326?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;December 21, 2025&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/bWHL08TKuz</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعد ازاں پیر کی صبح انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا، جن میں علاقائی سلامتی کی صورتحال، دفاعی و عسکری تعاون، اسٹریٹجک اشتراک اور بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی جیو اسٹریٹجک چیلنجز شامل تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بیان میں کہا گیا کہ اس ملاقات سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی ایک بار پھر توثیق ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2002959249471877229" data-url="https://t.co/R6miGvg4gX" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ, COAS &amp;amp; CDF called on His Royal Highness Prince Khalid bin Salman bin Abdulaziz Al Saud, Minister of Defence of the Kingdom of Saudi Arabia, during his official visit to the Kingdom. &lt;br&gt;&lt;br&gt;During the meeting, both sides held discussions on… &lt;a href=&quot;https://t.co/R6miGvg4gX&quot;&gt;pic.twitter.com/R6miGvg4gX&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— PTV News (@PTVNewsOfficial) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/2002959249471877229?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;December 22, 2025&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/R6miGvg4gX</span></span></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2603</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/22/ee81c09c-1i2irae9gsy2g4wxa00wa7.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 08:52:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ: مذاکرات کے لیے قطری، ترک اور مصری حکام کی میزبانی امریکا کرے گا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2602</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2602" rel="standout" />
      <description>قطر اور مصر، جو غزہ میں دو سالہ تباہ کن نسل کشی کے بعد جنگ بندی میں ثالث اور ضامن کا کردار ادا کر رہے ہیں، نے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی پر زور دیا ہے۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکا کے مشرقِ وسطیٰ کے سفیر اسٹیو وٹکوف غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے تحت فلوریڈا کے شہر میامی میں قطر، مصر اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کریں گے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل زمینی سطح پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے جمعے کے روز الجزیرہ عربی کو بتایا کہ اسٹیو وٹکوف تینوں ممالک کے نمائندوں سے اس معاہدے کے مستقبل پر گفتگو کریں گے جس کا مقصد غزہ کے خلاف اسرائیل کی نسل کش جنگ کو روکنا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی ویب سائٹ ’ایکسيوس‘ نے بھی روپورٹ کیا کہ جمعے کے روز ہونے والی اس ملاقات میں قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی، ترک وزیرِ خارجہ حاقان فدان اور مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی شرکت کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی دوران اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لینے کے لیے ایک محدود سکیورٹی مشاورت کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ سے متعلق عمل سے دستبردار ہو گئے تو اسرائیل حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے نئی فوجی مہم شروع کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایسا ہونا کم ہی ممکن ہے کیونکہ ٹرمپ غزہ میں امن و سکون برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واشنگٹن کے اس اصرار کے باوجود کہ جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اسرائیلی حملے تقریباً بلا تعطل جاری ہیں، کیونکہ وہ پہلے مرحلے کی شرائط سے مسلسل انحراف کر رہا ہے اور محصور فلسطینی علاقے میں شدید ضرورت کی انسانی امداد کی آزادانہ ترسیل کو بھی روک رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمعے کے روز پہلے، اسرائیلی افواج نے خان یونس میں فضائی حملے، گولہ باری اور شدید فائرنگ کی، جس سے غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی حملوں نے جنوبی غزہ سٹی میں اُن علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جو اسرائیلی کنٹرول میں ہیں، جبکہ گولہ باری بانی سہیلہ (خان یونس کے مشرق میں) تک جا پہنچی، جو نام نہاد ’ییلو لائن‘ کے اندر واقع علاقہ ہے (وہ علاقہ جہاں سے جنگ بندی کے تحت اسرائیل کو انخلا کرنا تھا)۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الاقصیٰ ٹی وی کے مطابق مشرقی خان یونس میں اسرائیلی توپ خانے کی فائرنگ سے کم از کم تین فلسطینی جان سے گئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ چینل نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی بحری جہازوں نے شہر کے ساحل کے قریب ماہی گیری کی کشتیوں پر بھی فائرنگ کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب اسرائیلی جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کے دیر البلح پر بمباری کی اور غزہ سٹی کے شجاعیہ محلے میں ایک اور حملہ کیا، جہاں نشانہ بنائے گئے علاقے کے اوپر دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الجزیرہ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے گزشتہ 69 دنوں میں سے 58 دن اسرائیلی افواج نے غزہ پر حملے کیے، جبکہ صرف 11 دن ایسے گزرے جن میں ہلاکتوں، زخمیوں یا تشدد کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کرسمس کی تعطیلات کے دوران فلوریڈا میں ان سے ملاقات کے لیے آ سکتے ہیں، کیونکہ امریکا معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر زور دے رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جی ہاں، وہ (نیتن یاہو) غالباً فلوریڈا میں مجھ سے ملاقات کریں گے۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ابھی باضابطہ طور پر کچھ طے نہیں ہوا، لیکن وہ ملاقات کے خواہاں ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قطر اور مصر، جو غزہ میں دو سالہ تباہ کن نسل کشی کے بعد جنگ بندی میں ثالث اور ضامن کا کردار ادا کر رہے ہیں، نے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی پر زور دیا ہے۔ اس منصوبے میں اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور بین الاقوامی استحکامی فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی شامل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2602</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/19/b93a7b43-rvq0ppu2cu90uy15j82alio.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 14:45:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق نئی تصاویر اور اسکرین شاٹس سامنے آگئے، نوام چومسکی اور بل گیٹس بھی تصاویر میں موجود</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2601</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2601" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2601</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/19/09a3f60e-hcrfgcuqochucekbojepk.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 14:20:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام پاکستانی حکام کی حراست میں ہے: اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2599</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2599" rel="standout" />
      <description>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کو رواں سال مئی پاکستانی حکام نے گرفتار کر لیا تھا۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کے مطابق سلطان عزیز عزام کو مئی 2025 میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ عزام داعش خراسان کی میڈیا سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں جبکہ ماضی میں العزام گروپ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکا میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق داعش تنظیم وسطی اور جنوبی ایشیا میں سرگرم ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی 16ویں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی نمایاں گرفتاریوں، جن میں مئی میں سرحدی علاقے سے عزام کی گرفتاری بھی شامل ہے، کے باعث خطے میں داعش خراساں کی سرگرمیاں نمایاں طور پر کمزور ہوئی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق سلطان عزیز عزام کو پاکستان–افغانستان سرحد کے قریب ایک آپریشن کے دوران انٹیلی جنس ایجنسیوں نے گرفتار کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اے پی پی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کی گرفتاری کے بعد داعش خراساں کے پروپیگنڈا نیٹ ورکس کو بڑا نقصان پہنچا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’مجموعی طور پر انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے نتیجے میں داعش کی صلاحیت کمزور ہوئی ہے۔ اس کے اہم کمانڈر اور نظریاتی رہنما ناکارہ بنائے گئے ہیں اور  داعش کے جنگجوؤں کی تعداد میں بھی ممکنہ طور پر کمی آئی ہے۔ کئی منصوبہ بند حملوں کو ناکام بنایا گیا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سرحد کے دونوں اطراف آزادانہ طور پر کارروائی کرنے کی داعش کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ کے مطابق ’طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں یا وہاں سے کوئی دہشت گرد گروہ کام نہیں کر رہا، لیکن رکن ممالک کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف دہشت گرد تنظیمیں اب بھی ملک میں سرگرم ہیں، جنہیں طالبان حکام کی جانب سے مختلف درجے کی آزادی یا نگرانی حاصل ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مزید کہا گیا کہ ’شمالی افغانستان اور پاکستانی سرحد کے قریب علاقوں میں داعش پر الزام ہے کہ وہ مدارس میں بچوں کو انتہا پسندانہ نظریات سکھاتے ہیں اور تقریباً 14 سال کے کم عمر بچوں کے لیے خودکش حملوں کی تربیت کا سلسلہ قائم کر چکا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">8 دسمبر کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے ایک خط کے ذریعے درخواست کی کہ اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے علم میں لایا جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">سلطان عزیز عزام کون ہیں؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزام 1978 میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں پیدا ہوئے اور 2005 میں ننگرہار یونیورسٹی سے فقہ و قانون (فقہ قانون) میں گریجویشن کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعد ازاں انہوں نے افغانستان کے شہر جلال آباد میں ایک ایف ایم ریڈیو چینل میں کام کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سکیورٹی ذرائع نے پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کو مزید بتایا کہ عزام نے 2016 میں داعش خراسان میں شمولیت اختیار کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق 26 اگست، 2021 کو عزام نے داعش خراساں کی جانب سے کابل میں حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں کم از کم 170 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی اہلکار مارے گئے جبکہ مزید 150 افراد زخمی ہوئے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنے بیان میں انہوں نے حملے کی تفصیلات فراہم کیں، جن میں یہ بھی شامل تھا کہ آئی ایس آئی ایل- کے کے امیر ثنا اللہ غفاری نے اس کارروائی کی نگرانی کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی طرح دو مارچ، 2021 کو آئی ایس آئی ایل- کے (داعش خراساں) نے تین خواتین صحافیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے قتل کے اگلے دن آئی ایس آئی ایل-کے کے نیوز چینل ’اخبار ولایت خراسان‘ نے اعظم کا ایک پیغام شائع کیا جس کا عنوان تھا ’ہم عمل کے لوگ ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس پیغام میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ تینوں خواتین صحافیوں کا قتل افغان حکومت کی مبینہ طور پر آئی ایس آئی ایل-کے کی آبادی والے متعدد دیہات کی تباہی کے ردعمل میں کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ویب سائٹ کا مزید کہنا ہے کہ تین اگست، 2020 کو آئی ایس آئی ایل-کے نے جلال آباد میں ایک جیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس کے دوران 29 افراد مارے گئے جبکہ 50 دیگر زخمی ہوئے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حملے کے بعد تنظیم کے میڈیا ادارے نے 20 منٹ پر مشتمل ایک آڈیو پیغام جاری کیا، جس میں عزام نے حملے کی تفصیلات بیان کیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2599</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/19/c32ecc56-6a6oov8eshuti2x9br8plg.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 10:08:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>طلبہ تحریک کے رہنما کی ہلاکت پر بنگلہ دیش میں ایک بار پھر مظاہرے اور جلاؤ گھیراؤ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2598</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2598" rel="standout" />
      <description> 2024 میں بنگلہ دیشی طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے رہنما  شریف عثمان بن ہادی قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد گزشتہ روز انتقال کر گئے ہیں۔ وہ سنگاپور کے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سنگاپور کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ’ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود ہادی اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش کے روزنامہ ڈھاکہ ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق ہادی، جنہیں آئندہ فروری میں ہونے والے ملکی عام انتخابات میں ڈھاکہ-8 کے حلقے سے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، 12 دسمبر کو دارالحکومت ڈھاکہ میں بیٹری سے چلنے والی آٹو رکشہ میں سفر کے دوران سر میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حملہ آور نے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر ان پر فائرنگ کی، جس کے بعد ہادی کو فوری طور پر علاج کے لیے ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مقامی ڈاکٹروں نے ڈھاکہ ٹریبیون کو بتایا کہ ان کے برین اسٹیم کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس کے باعث انہیں مزید علاج کے لیے 15 دسمبر کو بنگلہ دیش سے سنگاپور جنرل اسپتال (ایس جی ایچ) کے نیورو سرجیکل آئی سی یو منتقل کیا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">شریف عثمان ہادی کون تھے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">32 سالہ شریف عثمان بن ہادی طلبہ کے احتجاجی گروپ انقلاب منچہ کے سینئر رہنما تھے اور وہ انڈیا کے کھلے ناقد تھے۔ انڈیا سابق بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کا پرانا اتحادی ہے، جہاں وہ ساختہ جلاوطنی اختیار کرکے مقیم ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمعرات کی رات فیس بک پر ان کی وفات کا اعلان کرتے ہوئے انقلاب منچہ نے کہا ’انڈین بالادستی کے خلاف جدوجہد میں اللہ نے عظیم انقلابی رہنما عثمان ہادی کو شہید کے طور پر قبول فرما لیا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس نے ہادی پر فائرنگ کرنے والے حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے، دو اہم مشتبہ افراد کی تصاویر جاری کر دی گئی ہیں اور ان کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر 50 لاکھ ٹکا (تقریباً 42 ہزار ڈالر) انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیشی اخبار دی ڈیلی اسٹار کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کی پولیس اور بارڈر گارڈز اب تک اس واقعے سے منسلک کم از کم 20 افراد کو گرفتار کر چکے ہیں، تاہم قتل کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مذمت </h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہادی کی وفات پر ملک بھر کے رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے تعزیت کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملک کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت ’قوم کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان‘ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے جمعرات کو ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ ’خوف، دہشت یا خونریزی کے ذریعے ملک کے جمہوریت کی جانب سفر کو روکا نہیں جا سکتا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکومت نے جمعے کی نماز کے بعد مساجد میں خصوصی دعاؤں اور ہفتے کے روز نصف دن کے سرکاری سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش بھر میں احتجاجی مظاہرے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہادی کی وفات کی خبر سامنے آتے ہی ڈھاکہ اور ملک کے دیگر حصوں میں سینکڑوں مشتعل مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مظاہرین کا ایک گروہ ڈھاکہ کے کروان بازار علاقے میں واقع ملک کے معروف بنگالی زبان کے روزنامہ پرتھوم آلو کے ہیڈ آفس کے باہر جمع ہوا، جس کے بعد انہوں نے عمارت میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی کی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ ہی فاصلے پر مظاہرین کے ایک اور گروہ نے ڈیلی اسٹار کے دفتر میں زبردستی داخل ہو کر عمارت کو آگ لگا دی۔ یہ مناظر ملک کے اخبار کالر کانٹھا کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں دیکھے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں عمارتوں کے باہر فوجی اور نیم فوجی بارڈر گارڈز تعینات تھے، تاہم انہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ اور 85 سالہ نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس، جو 12 فروری کو ہونے والے انتخابات تک ملک کی قیادت کر رہے ہیں، نے ہفتے کے روز کہا کہ ہادی پر فائرنگ ایک سوچا سمجھا حملہ تھا، جسے ایک طاقتور نیٹ ورک نے انجام دیا، تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2598</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/19/7284d279-e3947iumq4t30em2gnpwco.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 08:51:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>آسٹریلیا میں بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی: پاکستانی کیا سوچتے ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/2596</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/2596" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آسٹریلیا نے دس دسمبر سے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کردیے ہیں۔ ممکن ہے کہ دیگر ممالک بھی اپنے ملک میں یہ قانون متعارف کریں۔ اس قانون کے حوالے سے پاکستانی بچے اور والدین کیا سوچتے ہیں، اقرا حسین کی ویڈیو میں جانیے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/2596</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>اقرا حسین</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/18/d4aa9912-9nyuwkgcm77aw2g1ftvnvq.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 10:15:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>رواں سال پاکستان کے تمام ایئرپورٹس سے 66 ہزار 154 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا پچھلے سال یہ تعداد 35 ہزار تھی: رپورٹ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2594</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2594" rel="standout" />
      <description>حکام نے بدھ کے روز پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ رواں سال پاکستانی ایئرپورٹس سے 66 ہزار 154 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 35 ہزار تھی۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکام کے مطابق اس نمایاں اضافے کی وجہ غیر قانونی ہجرت کے خلاف حکومتی اقدامات ہیں۔ یہ انکشاف اوورسیز پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی پر قائم اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جس کی صدارت رکن پارلیمنٹ سید رفیع اللہ نے کی۔ اجلاس اس وقت بلایا گیا جب متعدد مسافروں نے شکایات کیں کہ انہیں ملک بھر کے ایئرپورٹس سے آف لوڈ کر دیا گیا، حالانکہ ان کے پاس درست سفری دستاویزات موجود تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیر اعظم شباز شریف نے اس ماہ ایک 14 رکنی کمیٹی قائم کی، جس کی قیادت وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی کر رہے ہیں، تاکہ ان رپورٹس کی تحقیقات کی جا سکیں اور امیگریشن کے عمل کو ہموار بنانے کے اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سید رفیع اللہ نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ڈائریکٹر جنرل (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) نے کہا کہ رواں سال 66 ہزار 154 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا، جو پچھلے سال آف لوڈ ہونے والے 35 ہزار مسافروں کے مقابلے میں قابلِ ذکر اضافہ ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان نے اس سال غیر قانونی ہجرت کے خلاف اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں، کیونکہ کئی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ جنوبی ایشیا کے مسافر عمرہ ویزا کا غلط استعمال کر کے سڑکوں پر بھیک مانگنے میں ملوث ہو رہے ہیں۔کمیٹی کو مطلع کیا گیا کہ اس سال سعودی عرب سے 56 ہزار افراد جو بھیک مانگنے میں ملوث تھے، ملک بدر کیے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کےعلاوہ متحدہ عرب امارات کی بڑھتی ہوئی پابندیوں اور افریقہ، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا (جیسے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ) کی طرف نئے غیر قانونی ہجرت کے راستوں کو اس سال ایئرپورٹس سے زیادہ افراد آف لوڈ کرنے کی وجوہات قرار دیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مسافروں نے شکایت کی کہ انہیں ’دستاویزات چیک کرنے، ڈیٹا اور آن لائن تصدیق کی بنیاد پر ہی روک دیا جاتا ہے۔ کسی مسافر کو سیاسی اثر یا وی آئی پی دباؤ کے بغیر نہیں جانے دیا گیا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمیٹی نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سے کہا کہ نفاذ کے ساتھ مسافروں کے لیے مضبوط شکایت اور ازالہ کا نظام بھی ہونا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سید رفیع اللہ نے کہا ’غلطی سے آف لوڈ کیے گئے پاکستانیوں کے لیے ایک میکانزم اور ایس او پی ہونا چاہیے۔ بغیر دستیاب ازالے کے نفاذ عوام اور ملک کی ساکھ دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قومی اسمبلی کی کمیٹی کے ارکان نے وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے اور وزارتِ اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دی کہ وہ تمام ہوائی اڈوں پر ایمیگریشن کاؤنٹرز پر ایس او پیز اور شکایتی نظام فوری طور پر شائع کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایف آئی اے نے بتایا کہ 2025 میں تقریباً 8.5 ملین پاکستانی بیرون ملک سفر کر چکے ہیں جبکہ مختلف ایمیگریشن سے متعلقہ جرائم کے 226 کیسز درج کیے گئے۔ ایجنسی نے مزید کہا کہ پچھلے تین مہینوں میں ایران میں غیر قانونی داخلے کی کوشش کرنے والے 450 افراد گرفتار ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستانی ٹورسٹ ویزا پر سفر کرنے والے کئی بنگلہ دیشی شہری بھی یورپ میں غیر قانونی داخلے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2594</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/18/e18c7e8a-irg8q2zeijry8hy8wlirb.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 10:01:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا، ویزے منسوخ بھی کیے جاسکتے ہیں: آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2593</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2593" rel="standout" />
      <description>آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ ان کی حکومت بونڈی بیچ پر اتوار کو ہونے والی فائرنگ کے بعد نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کریک ڈاؤن کرے گی۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ حملہ ایک یہودی تہوار ہنوکا کے دوران کیا گیا تھا۔ تہوار کے پہلے دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں دو مسلح افراد کی فائرنگ سے 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انتھونی البانیز نے کہا کہ نئے قوانین اُن افراد کے خلاف ہوں گے جو ’نفرت، تقسیم اور انتہاپسندی کو فروغ دیتے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ وزیرِ داخلہ کو نفرت پھیلانے والوں کے ویزے منسوخ کرنے یا مسترد کرنے کے نئے اختیارات دیے جائیں گے، جبکہ ایک نیا ٹاسک فورس بھی قائم کیا جائے گا تاکہ تعلیمی نظام میں یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہودی مخالف نفرت (اینٹی سیمیٹزم) کو روکا جائے، اس کا مقابلہ کیا جائے اور اس پر مؤثر ردِعمل دیا جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئے قوانین کے تحت جو مذہبی یا سماجی رہنما تشدد پر اکساتے ہیں، انہیں سزا دی جا سکے گی۔ انتہائی نفرت پر مبنی باتیں یا تقاریر کرنا اب ایک نیا وفاقی جرم ہوگا۔ اگر کوئی شخص آن لائن دھمکیاں دے یا ہراسانی کرے اور اس کے پیچھے نفرت (مثلاً مذہب یا نسل کی بنیاد پر) ہو، تو عدالت اس جرم پر زیادہ سخت سزا دے سکے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انتھونی البانیز نے کہا کہ ’ہر یہودی آسٹریلوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو محفوظ، باعزت اور اس عظیم قوم میں اپنے کردار کے حوالے سے قدر کی نگاہ سے دیکھا ہوا محسوس کرے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ’داعش سے متاثر دہشت گردوں نے آسٹریلوی عوام کو ایک دوسرے کے خلاف کرنے کی کوشش کی، لیکن آسٹریلویوں نے اس نفرت انگیز عمل کا جواب محبت اور ہمدردی کے ساتھ دیا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ان کی حکومت جولائی میں یہودی مخالف نفرت سے نمٹنے کے لیے مقرر کردہ نمائندہ جیلین سیگل کی رپورٹ میں دی گئی سفارشات کو ’مکمل طور پر اپنائے گی اور ان پر عمل کرے گی۔‘  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ملک ’نہ صرف ہماری کمیونٹی بلکہ دنیا بھر میں یہودی مخالف نفرت کے خلاف جدوجہد کے لیے ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم جولائی میں رپورٹ کے اجرا کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے اس پر تنقید بھی کی گئی تھی، خاص طور پر آزادیٔ اظہار سے متعلق خدشات کے باعث۔ تنقید میں یہ نکات شامل تھے کہ جامعات اور فنونِ لطیفہ کے اداروں کی نگرانی کی جائے گی اور اگر انہیں یہودی مخالف نفرت کے خلاف ناکام سمجھا گیا تو ان کی فنڈنگ روکی جا سکتی ہے۔ بعض ناقدین کو خدشہ تھا کہ اس سے فلسطین کے حق میں مظاہروں کو خاموش کرانے کے لیے فنڈنگ کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے بولنے کی آزادی محدود ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت جامعات اور فنونِ لطیفہ کے اداروں پر کڑی نگرانی کرے گی اور اگر یہ ادارے یہودی مخالف نفرت کو روکنے میں ناکام قرار دیے گئے تو ان کی فنڈنگ بند کی جا سکتی ہے۔ ناقدین کو ڈر ہے کہ یہ اختیار فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں یا آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2586" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/16/52c21bc5-v2sbhsok4ps4durapmss7p.webp" data-title="آسٹریلیا: حملہ آور داعش سے متاثر تھے، باپ نے انڈین پاسپورٹ پر فلپائن کا دورہ کیا تھا" data-url="/world/2586" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">آسٹریلیا: حملہ آور داعش سے متاثر تھے، باپ نے انڈین پاسپورٹ پر فلپائن کا دورہ کیا تھا</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2581" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/15/119ecc01-97q2hjezr2m4hs843uc9x5.webp" data-title="آسٹریلیا میں لوگوں پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کو گرانے والا 'مسلم ہیرو' کس حال میں ہے؟" data-url="/world/2581" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">آسٹریلیا میں لوگوں پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کو گرانے والا 'مسلم ہیرو' کس حال میں ہے؟</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="2580" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/12/15/53d85694-2yf7c2lllozdl9cllug6ko.webp" data-title="آسٹریلیا کے بونڈائی ساحل پر ’باپ اور بیٹے‘ کی فائرنگ سے 15 افراد ہلاک: حملہ آور کون تھے؟" data-url="/news/2580" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">آسٹریلیا کے بونڈائی ساحل پر ’باپ اور بیٹے‘ کی فائرنگ سے 15 افراد ہلاک: حملہ آور کون تھے؟</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2593</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/18/8c9d7955-3p8urxci7eq4frwk34ktak.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 09:55:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ نے مزید 5 ممالک اور فلسطینی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2591</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2591" rel="standout" />
      <description>ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں داخلے پر پابندی والے ممالک کی فہرست میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ جس کے تحت شام سمیت مزید پانچ ممالک کے شہری امریکا سفر نہیں کر سکیں گے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات پر سفر کرنے والے افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے کیا گیا ہے اور یہ پابندیاں یکم جنوری سے نافذ ہوں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ہاؤس کے مطابق ان ممالک میں مسافروں کی جانچ پڑتال اور معلومات کے تبادلے کا نظام کمزور ہے، جس کی وجہ سے امریکا نے سخت سفری پابندیاں عائد کی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برکینا فاسو، مالی، نائجر، جنوبی سوڈان اور شام کے لوگوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے جاری کردہ پاسپورٹ کے حامل افراد کے امریکہ میں داخلے پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ انتظامیہ نے لاؤس اور سیرا لیون کو بھی مکمل پابندی کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ اس سے قبل ان دونوں ملکوں پر جزوی پابندی عائد تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے علاوہ نائیجیریا، تنزانیہ اور زمبابوے سمیت 15 دیگر ممالک پر جزوی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سکریننگ اور جانچ کے نظام میں ناکامیوں کے باعث سفری پابندیوں میں توسیع کی ضرورت تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ ممالک جن کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر مکمل پابندی ہے</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">افغانستان</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برکینا فاسو</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برما</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چاڈ</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">استوائی گنی</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اریٹیریا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہیٹی</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لاؤس</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیبیا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مالی</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نائجر</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمہوریہ کانگو</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیرا لیون</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صومالیہ</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوبی سوڈان</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوڈان</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شام</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یمن</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے علاوہ ایسے افراد جن کے پاس فلسطینی اتھارٹی کے جاری کردہ سفری دستاویزات ہیں، ان کے بھی امریکہ میں داخلے پر مکمل پابندی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">جزوی پابندی کی فہرست میں شامل ممالک</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انگولا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انٹیگوا اور باربوڈا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بینن</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برونڈی</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کوٹ ڈی آئیوری</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیوبا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈومینیکا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گبون</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گیمبیا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملاوی</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">موریطانیہ</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نائیجیریا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سینیگال</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تنزانیہ</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹوگو</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹونگا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وینزویلا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">زیمبیا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">زمبابوے</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2591</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/17/da91f4ec-1tc5sk83lw6owfwevpslz.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 17 Dec 2025 09:38:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان اور روس کے درمیان تیل کے حوالے سے ممکنہ معاہدے پر بات چیت جاری ہے: وزیرخزانہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2590</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2590" rel="standout" />
      <description> وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس تیل کے شعبے میں ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے آر آئی اے نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’تیل کی تلاش، پیداوار اور ریفائننگ جیسے شعبے روس کی مضبوط صلاحیتوں میں شامل ہیں اور پاکستان اس شعبے میں روس کے ساتھ معاہدے کا خواہاں ہے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ کے مطابق محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملک پاکستان میں ایک اور اسٹیل پلانٹ بنانے پر غور کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روسی وزیر توانائی سرگئی تسویلیف نے نومبر میں بتایا تھا کہ روسی کمپنیوں کے ساتھ پاکستان میں ایک ریفائنری کی اپ گریڈیشن پر بھی بات ہوئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اور روس کے تعلقات حالیہ برسوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کے بعد روس نئے توانائی بازاروں کی تلاش میں ہے جبکہ پاکستان توانائی کی درآمدات کے اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے 2023 میں روسی خام تیل کی خریداری کا آغاز کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2590</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/16/23060663-dircv3jhdnvfdpc9utzi.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 16:37:26 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’بچوں کو نشانہ بنانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے‘:  پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے 11 سال مکمل</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2585</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2585" rel="standout" />
      <description>آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کو گیارہ برس گزر چکے ہیں، مگر وقت اس درد کی شدت کو کم نہ کر سکا۔ وہ والدین جنہوں نے اپنے بچوں کو دفنایا، وہ بچے جن کا بچپن چھین لیا گیا، اُن سب کے لیے دسمبر آج بھی سب سے درد بھرا مہینہ ہے، جو یادوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے ایک سکول کو قتل گاہ میں بدل دیا۔ اس حملے میں 147 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 132 طلبہ، خواتین اساتذہ اور اسکول کا عملہ شامل تھا۔ اس کے علاوہ 150 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اس سانحے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مرنے والوں میں اسکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی اور کئی اساتذہ بھی شامل تھے، جنہوں نے حملہ آوروں اور بچوں کے درمیان ڈھال بن کر کھڑے ہو کر اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سانحے کے بعد مرنے والوں کی یاد میں اے پی ایس کے اندر ایک یادگار تعمیر کی گئی۔ ہر سال شہدا کے اہلِ خانہ وہاں جمع ہو کر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جبکہ باقاعدہ سلامی بھی دی جاتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">منگل (آج) سانحہ اے پی ایس کی 11ویں برسی کے موقع پر اسکول میں تقریبات منعقد کی جائیں گی، جبکہ ملک بھر میں خاندان اپنے گھروں میں قرآن خوانی اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/12/16/830bcc27-befunky-collage---2025-12-16t122619972.webp" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/12/16/830bcc27-befunky-collage---2025-12-16t122619972.webp"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’وہ خوشی خوشی گھر سے نکلی تھی‘</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برسی کے قریب آتے ہی تلخ یادیں پھر تازہ ہو جاتی ہیں۔ حال ہی میں ایک شہید طالبہ کے والد الطاف حسین کا جذباتی پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے لکھا کہ ان کی بیٹی اسکول کے پہلے دن خوشی خوشی کتابیں ہاتھ میں لے کر گھر سے نکلی تھی، مگر واپس نہ آ سکی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ’وہ کتابیں ہاتھ میں لے کر اسکول گئی تھی اور کفن میں لپٹ کر واپس آئی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ گیارہ برس گزرنے کے باوجود درد آج بھی تازہ ہے اور کئی سوالات اب تک جواب طلب ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنی بیٹی اور دیگر شہدا کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور قوم سے نفرت اور مایوسی کے بجائے اتحاد، صبر اور انسانیت کو اپنانے کی اپیل کی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl"> <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/12/16/b1b27326-befunky-collage---2025-12-16t122638056.webp" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/12/16/b1b27326-befunky-collage---2025-12-16t122638056.webp"></h2><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’میری روح اس کے ساتھ چلی گئی‘</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک اور دل دہلا دینے والی کہانی محمد علی کی ہے، جو نویں جماعت کا طالب علم اور اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ حملے میں شدید زخمی ہوا اور اسی روز اسپتال میں دم توڑ گیا۔ بعد ازاں حکومت نے اس کی بہادری کے اعتراف میں اسے ستارۂ جرات سے نوازا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بچے کے والد نے کہا کہ ہر سال دسمبر کے قریب آتے ہی درد اور گہرا ہو جاتا ہے۔ ’بیٹے کی قربانی پر فخر ہے، مگر اس کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی‘۔ والدہ نے کہا کہ بیٹے کے بعد ان کا جسم تو زندہ ہے، مگر روح اس کے ساتھ چلی گئی۔ ’ایسا کوئی لمحہ نہیں جب میں اسے یاد نہ کرتی ہوں‘، انہوں نے دعا کی کہ پاکستان کو دوبارہ کبھی ایسا دسمبر نہ دیکھنا پڑے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شہدا کے اہلِ خانہ کا غم کم نہیں ہوا، تاہم یادوں سے جڑا عزم اور فخر آج بھی زندہ ہے۔ یہ یقین قائم ہے کہ شہدا کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور ان کی قربانی محض ایک تاریخ تک محدود نہیں رہے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سانحے کے بعد عالمی میڈیا نے اسے پاکستان کا ’9/11‘ قرار دیا۔ اس دن پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے آپریشن کرتے ہوئے تمام چھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور محصور کیمپس سے 960 افراد کو بحفاظت نکالا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/12/16/6345b4f8-befunky-collage---2025-12-16t122757775.webp" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/12/16/6345b4f8-befunky-collage---2025-12-16t122757775.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سانحے کے بعد نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا، جس کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ اور ریاستی رٹ کی بحالی تھا۔ مبصرین نے اس سانحے کا موازنہ روس کے بیسلان اسکول حملے سے بھی کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی تناظر میں سزائے موت پر عائد پابندی اٹھا لی گئی، آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں اور شمال مغربی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کی گئیں۔ 2 دسمبر 2015 کو اے پی ایس حملے میں ملوث چار دہشت گردوں کو پھانسی دی گئی۔ دو دہشت گرد حملے کے دوران ہی مارے گئے تھے۔ حملے کا ماسٹر مائنڈ عمر خراسانی اگست 2022 میں افغانستان میں مارا گیا، جبکہ اگست 2016 میں سپریم کورٹ نے مزید دو مجرموں کی سزائے موت برقرار رکھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کئی نغمے بھی جاری کیے، جن میں ’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے‘، ’مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘ اور ’ہمیں آگے ہی جانا ہے‘ شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/12/16/9534916c-befunky-collage---2025-12-16t122744427.webp" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/12/16/9534916c-befunky-collage---2025-12-16t122744427.webp"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بچوں کو نشانہ بنانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے: صدر آصف علی زرداری</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ قوم دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے ہمیشہ متحد، ثابت قدم اور پرعزم رہے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غیر متزلزل طور پر پرعزم ہے اور دہشت گردوں یا ان کی معاونت، مالی مدد، پناہ یا جواز فراہم کرنے والوں کے لیے کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر نے کہا کہ ’جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائیں یا ہمارے بچوں کو نشانہ بنائیں، ان سے کسی قسم کے مذاکرات، مفاہمت اور مصالحت نہیں ہو سکتی۔‘</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2585</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/16/dfab9d24-elzxa7a6p2lhpe6uawpg.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 08:52:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ماضی میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے اعلیٰ فوجی افسران</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/2587</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/2587" rel="standout" />
      <description>ملکی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کے پہلے سابق سربراہ ہیں جن کے خلاف کورٹ مرشل کارروائی کے ساتھ چودہ سال قید بھی ہوئی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ماضی میں فوج کے کن ہائی رینک افسران یا جرنیلوں کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا اور کیوں؟ جانیے اقرا حسین کی اس ویڈیو میں۔۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/2587</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>اقرا حسین</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/16/097a0a3d-imukodrqdqmk3jmsj2lrak.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 13:17:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
  </channel>
</rss>