<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:content="https://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom">
  <channel>
    <title>Yenisafak UR</title>
    <link>http://ur.yenisafak.com</link>
    <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/rss-feeds?category=life" rel="self" type="application/rss+xml" />
    <description>RSS Feed</description>
    <copyright>(c) 2026, Yenisafak UR</copyright>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Dec 2025 13:10:48 GMT+3</lastBuildDate>
    <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 12:28:00 GMT+3</pubDate>
    <language>tr-TR</language>
    <image>
      <title>Yenisafak UR</title>
      <url>https://assets.yenisafak.com/yenisafak/wwwroot/images/site-icon/yenisafak-ur.png</url>
      <link>http://ur.yenisafak.com/</link>
    </image>
    <item>
      <title>ترکیہ میں 600 سال پرانی بلاک پرنٹنگ کی روایت آج بھی زندہ  </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2612</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2612" rel="standout" />
      <description>بلاک پرنٹنگ کپڑے پر ڈیزائن بنانے کے قدیم طریقوں میں سے ایک ہے۔ کپڑوں پر چھپائی کرنے والے ٹھپوں کو ایک مخصوص لکڑی پر تیار کیا جاتا ہے۔  </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/gallery/news/2612</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/12/23/97a33d97-i8824pijt6mheo6w8fwru.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 12:28:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>موسمیاتی آفات، مسلح تنازعات اور فیس میں اضافہ: کے ٹو سے نانگا پربت تک، پاکستان میں غیر ملکی کوہ پیماوٴں کی آمد میں 90 فیصد کمی </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2269</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2269" rel="standout" />
      <description>پاکستان کے پہاڑ طویل عرصے سے دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے توجہ کا مرکز رہے ہیں لیکن اس سیزن میں غیر ملکی کوہ پیماوٴں کی آمد میں کمی دیکھنے میں آئی۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انادولو ایجنسی کی <a href="https://www.aa.com.tr/en/asia-pacific/high-peaks-low-arrivals-pakistan-s-climbing-industry-faces-uncertain-future/3689368" target="_blank">رپورٹ</a> کے مطابق غیر متوقع موسمی آفات، علاقائی مسلح تنازعات اور پرمٹ فیس میں اچانک اضافے کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی، جس سے ملکی سیاحت اور کی کوہ پیمائی صنعت کو بڑا دھچکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گلگت بلتستان میں پانچ پہاڑ ایسے ہیں جو دنیا کے 14 بلند ترین پہاڑوں میں شمار ہوتے ہیں جن میں کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک، گاشر برم اول اور دوم شامل ہیں۔ الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان اس موسم گرما میں صرف 270 غیر ملکی کوہ پیما مہم پر آئے، جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 2000 سے زیادہ تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/9/19/97c4d8b8-74u9f5z8nzypczuadcjgwa.webp" data-card-width="995" data-card-height="637" data-card-path="/piri/upload/3/2025/9/19/97c4d8b8-74u9f5z8nzypczuadcjgwa.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الپائن کلب کے نائب صدر کرار حیدری کہتے ہیں کہ سخت موسمی حالات یعنی برفانی تودے گرنا، پتھر گرنا اور بہت تیز ہوائیں چلنے کی وجہ سے بہت سی کوہ پیماؤں کی ٹیموں کو اپنی مہم ادھوری چھوڑنی پڑی اور وہ پہاڑ کی چوٹی تک پہنچے بغیر ہی واپس لوٹ آئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کو اس سال موسمیاتی آفات کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ حالیہ مون سون بارشوں کی وجہ سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگ جان سے گئے، ہزاروں دیہات بہہ گئے، زرعی زمین ڈوب گئی اور صرف پنجاب میں ہی 20 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم کرار حیدری نے کہتے ہیں کہ کوہ پیمائی میں کمی کی وجہ صرف موسم نہیں ہے۔ بلکہ بارشوں اور سیلاب کے علاوہ، حالیہ (پاک انڈیا) جنگوں اور کوہ پیمائی کی فیس میں اضافے نے بھی غیر ملکی کوہ پیماؤں کی تعداد میں کمی پیدا کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ تنازع  ہوا تھا، اس دوران گولہ بارود، فائرنگ اور دھماکے بھی ہوئے تھے۔ جبکہ جون میں پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران کی اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ ہوئی تھی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سیزن میں صرف 40 کوہ پیماؤں نے کے ٹو سر کیا، 25 نے نانگا پربت، جبکہ چند ایک نے گاشر برم اول کی چوٹی سر کی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/9/19/bae90717-yxz50uzn3felwi0dga4i5t.webp" data-card-width="996" data-card-height="636" data-card-path="/piri/upload/3/2025/9/19/bae90717-yxz50uzn3felwi0dga4i5t.webp"></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مقامی سیاحت اور پورٹرز کی مشکلات</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گلگت بلتستان طویل عرصے سے عالمی سیاحوں اور کوہ پیماؤں کے لیے جنت تصور کیا جاتا ہے، لیکن غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں کمی نے مقامی معیشت پر بہت بُرا اثر ڈالا ہے۔ ہوٹل مالکان، دکاندار، ٹرانسپورٹرز حتیٰ کہ قراقرم ہائی وے پر چائے کے کھوکے لگانے والے بھی سب کاروبار کی کمی اور نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اشرف علی رضا سدپارہ، جو علاقے کے سب سے تجربہ کار پورٹرز میں سے ایک ہیں اور تین بار کے ٹو سر کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ ’ 2020 کے بعد یہ پہلا سیزن ہے جو بالکل خالی جا رہا ہے، اس سال میں کسی ایک مہم میں بھی شامل نہیں ہو سکا۔ عام طور پر یہ ہمارا سب سے مصروف وقت ہوتا تھا۔ ہمیں تو بہت زیادہ آفرز کی وجہ سے کئی مہم جوئیوں کو انکار کرنا پڑتا تھا۔ لیکن اس سال کا سیزن ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہو گیا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پورٹرز (وہ مقامی لوگ جو کوہ پیماؤں کا سامان اُٹھاتے اور مہم کے دوران ان کی مدد کرتے ہیں) ہمالیہ میں شرپا کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ مہم کی تیاری اور سامان ڈھونے میں ماہر ہوتے ہیں، لیکن اکثر ان کے ساتھ ناانصافی یا استحصال کیا جاتا ہے۔ اب چونکہ غیر ملکی سیاح نہیں آ رہے، اس لیے وہ روزگار سے محروم اور بیروزگار ہو گئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الپائن کلب کے نائب صدر کے مطابق مقامی سیاحت بھی ماند پڑ گئی ہے۔ گزشتہ سال ایک ملین سے زائد مقامی سیاح اور 24 ہزار غیر ملکی وزیٹرز (بغیر پرمٹ کے) گلگت بلتستان آئے تھے، لیکن اس سال کمی ’انتہائی تشویشناک‘ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/9/19/57723cef-f91y6ypaqgtkzxfxmwxcrf.webp" data-card-width="996" data-card-height="638" data-card-path="/piri/upload/3/2025/9/19/57723cef-f91y6ypaqgtkzxfxmwxcrf.webp"></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’فیس میں اضافہ کے ٹو سمیت دیگر پہاڑوں کی حفاظت کے لیے ہے‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق حکومت کی طرف سے کوہ پیمائی کی فیسوں میں اضافہ بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔ گلگت بلتستان انتظامیہ نے کے ٹو کا پرمٹ فیس  ایک ہزار 750 ڈالرز سے بڑھا کر  3 ہزار 500 ڈالرز فی کوہ پیما کر دی، جبکہ دیگر 8 ہزار میٹر بلند پہاڑوں کے لیے فیس ایک ہزار ڈالر سے بڑھا کر  2 ہزار 500 ڈالر کر دی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسلام آباد کے ایک ایکسپڈیشن آپریٹر انور سید کہتے ہیں کہ ’کوہ پیما سالوں تک پیسہ بچاتے ہیں تاکہ اپنے خواب پورے کر سکیں۔ جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ اخراجات دگنے یا تگنے ہو گئے ہیں، تو اکثر اپنی مہم جوئی منسوخ کر دیتے ہیں۔ اس پر علاقائی جنگوں نے مزید جلتی پر تیل کا کام کیا‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر جنرل برائے سیاحت اقبال حسین نے فیس میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ 1999 کے بعد پہلی بار اضافہ کیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ کہتے ہیں کہ ’یہ فیصلہ کئی عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا گیا، بنیادی طور پر ماحولیات کے تحفظ کے لیے۔ اگر بڑھتی ہوئی کمرشل مہم جوئی کو محدود نہ کیا گیا تو یہ پہاڑوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اضافہ کے ٹو پر بھیڑ کو کم کرنے کے لیے بھی ہے، جو دنیا کا دوسرا بلند ترین لیکن انتہائی خطرناک پہاڑ ہے، جہاں اب تک 86 کوہ پیما اپنی جان گنوا چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقبال حسین نے پاکستان کی فیسوں کا موازنہ نیپال سے کیا، جو ایورسٹ پرمٹ کے لیے  15 ہزار ڈالر وصول کرتا ہے۔ ’ہم اپنی سیاحت کو فروغ دینے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن پہاڑوں کی حفاظت بھی ضروری ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1776" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/4/3/350c71d9-mngv14j5w18tg1fl63lzk.jpeg" data-title="عید تعطیلات کے دوران خیبرپختونخوا میں 95 ہزار سے زائد سیاحوں کی آمد" data-url="/news/1776" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">عید تعطیلات کے دوران خیبرپختونخوا میں 95 ہزار سے زائد سیاحوں کی آمد</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1505" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/1/3/d1b19321-da2xsxh1o1y1bft952dja.jpeg" data-title="پہاڑوں کا علاقہ گلگت بلتستان سی این این  کی ٹریول لسٹ 2025 میں شامل " data-url="/news/1505" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">پہاڑوں کا علاقہ گلگت بلتستان سی این این  کی ٹریول لسٹ 2025 میں شامل </span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1844" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/5/2/7bfb5809-4oiigr90ssual0kp4iv6j.jpeg" data-title="انڈیا سے جنگ کا خدشہ: پاکستان کی خوبصورت وادی سیاحوں سے خالی " data-url="/news/1844" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">انڈیا سے جنگ کا خدشہ: پاکستان کی خوبصورت وادی سیاحوں سے خالی </span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1189" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/8/12/1ca2f147-vj5luzq2s5zqrtjo3wp1.jpeg" data-title="مراد سدپارہ: ’میرے دل میں جو لگی ہے اس لگن سے پوچھیے میں کس لیے برباد ہوا کے-ٹو سے پوچھیے‘" data-url="/video/sports/1189" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">مراد سدپارہ: ’میرے دل میں جو لگی ہے اس لگن سے پوچھیے میں کس لیے برباد ہوا کے-ٹو سے پوچھیے‘</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1348" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/10/9/a751b087-gio63ibrs5gct76pt3c7rh.jpeg" data-title="سرباز خان: دنیا کی 8 ہزار میٹر بلند تمام 14 چوٹیاں سر کرنے والے پہلے پاکستانی" data-url="/news/1348" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">سرباز خان: دنیا کی 8 ہزار میٹر بلند تمام 14 چوٹیاں سر کرنے والے پہلے پاکستانی</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1186" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/8/12/a0c96a6b-r5fg2rdt6gb4lahc3goif5.jpeg" data-title="مراد سدپارہ: ’خطرناک چوٹیوں پر دوسروں کو ریسکیو کرنے والا خود مدد کا انتظار کرتے ہوئے چل بسا‘" data-url="/sports/1186" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">مراد سدپارہ: ’خطرناک چوٹیوں پر دوسروں کو ریسکیو کرنے والا خود مدد کا انتظار کرتے ہوئے چل بسا‘</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1085" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/7/11/894363aa-q1l03vzusdauk40w25xo9e.jpeg" data-title="پیرو کے بلند ترین پہاڑ سے لاپتہ کوہ  پیما کی لاش 22 سال بعد برآمد " data-url="/news/1085" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">پیرو کے بلند ترین پہاڑ سے لاپتہ کوہ  پیما کی لاش 22 سال بعد برآمد </span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2269</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/9/19/991e8130-lbp6fqves6h9j5lsy8l1ql.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 15:24:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>دس کروڑ سے زیادہ پاکستانی موٹاپے کا شکار ہیں: ماہرینِ صحت کا دعویٰ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/life/2207</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/life/2207" rel="standout" />
      <description>ماہرینِ صحت کا کہنا تھا کہ موٹاپا ذیابطیس، دل کے دورے، فالج، کینسر، بانجھ پن اور اوبسٹرکٹو سلیپ اپنیا (سوتے ہوئے سانس لینے میں دشواری کی بیماری) جیسے امراض میں خطرناک اضافہ کر رہا ہے۔</description>
      <category>لائف اینڈ اسٹائل </category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں موٹاپے کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہر سال ہزاروں نوجوان اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ دس کروڑ سے زیادہ پاکستانی موٹاپے کا شکار ہیں یا پھر ان کا وزن زیادہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ انکشاف جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والی ایک میڈیکل کانفرنس کے دوران کیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں ملکی اور بین الاقوامی ماہرین شریک تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرینِ صحت کا کہنا تھا کہ موٹاپا ذیابطیس، دل کے دورے، فالج، کینسر، بانجھ پن اور اوبسٹرکٹو سلیپ اپنیا (سوتے ہوئے سانس لینے میں دشواری کی بیماری) جیسے امراض میں خطرناک اضافہ کر رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو صحت کے ایک ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یونیورسٹی آف برمنگھم سے منسلک پروفیسر ڈاکٹر وسیم حنیف نے کہا کہ دنیا بھر میں 18 سال سے زائد عمر کے تقریباً ڈھائی ارب افراد کا وزن زیادہ ہے جب کہ ایک ارب لوگ موٹاپے کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے لوگ نسبتاً کم وزن پر بھی زیادہ خطرات سے دوچار ہو جاتے ہیں۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/9/5/c9e89dfa-x1l9tch2rd8hpuu2qr4nw.webp" data-card-width="1188" data-card-height="661" data-card-path="/piri/upload/3/2025/9/5/c9e89dfa-x1l9tch2rd8hpuu2qr4nw.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا مزید کہنا تھا کہ موٹاپا ایک دائمی بیماری ہے جو کم عمری میں موت کا باعث بنتی ہے۔ سلیپ ایپنیا کے ذریعے انسان کو معذور کر دیتی ہے اور معیارِ زندگی کو تباہ کر دیتی ہے۔ پاکستان میں 10 کروڑ سے زائد افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔ لیکن ٹرزیپیٹائیڈ جیسا انقلابی نیا علاج تازہ ہوا کا جھونکا ہے جو وزن میں 25 فیصد تک کمی لا سکتا ہے۔ لیکن یہ متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش کے ساتھ ہونا چاہیے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسلام آباد میں کے آر ایل اسپتال کے ہیڈ آف میڈیسن پروفیسر سلیم قریشی نے کہا کہ اگر یہی ٹرینڈ جاری رہا تو 57 فیصد پاکستانی بچے 35 سال کی عمر کو پہنچنے تک موٹاپے کا شکار ہو جائیں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرینِ صحت کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کو مریضوں کی رہنمائی کرنی چاہیے کہ وہ ورزش، جسمانی سرگرمی اور متوازن غذا کی طرف آئیں۔ علاج کے ساتھ ساتھ لائف اسٹائل میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب امریکہ کی میڈیکل ڈیوائس بنانے والی ایک بڑی انجینئرنگ فرم بوسٹن سائنٹیفک نے پاکستان میں موٹاپے کے علاج کے لیے جدید اور کم تکلیف دہ طریقہ علاج متعارف کرا دیا ہے جو کراچی کے ایک اسپتال میں دستیاب ہوگا۔ اینڈوسکوپک اسلیو گیسٹروپلاسٹی یا ای ایس جی میں سرجری کے بغیر معدے کے سائز کو کم کیا جاتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/life/2207</link>
      <subcategory>لائف اینڈ اسٹائل </subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/9/5/7cb2503c-126gqcccpaqpngdimv4mt.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 05 Sep 2025 12:33:24 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کہانی آلو کی۔۔۔ کیا آلو ٹماٹر سے بنا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/life/2112</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/life/2112" rel="standout" />
      <description>آلو ہزاروں سال پہلے جنوبی امریکہ کے اینڈیز نامی پہاڑی خطے میں اگایا گیا تھا اور یہ 16 ویں صدی میں وہیں سے پوری دنیا میں پھیلا۔ لیکن ایک حالیہ تحقیق میں کچھ نئے حقائق سامنے آئے ہیں جن سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آلو کیسے دنیا میں آیا۔</description>
      <category>لائف اینڈ اسٹائل </category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آلو ان خوراکوں میں سے ایک ہے جو دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر کھائی جاتی ہیں۔ اور پاکستان میں تو آلو وہ سبزی ہے جو ہر سالن میں فٹ ہو جاتی ہے۔ مگر کبھی آپ نے سوچا کہ آلو اُگا کیسے اور ہم تک کیسے پہنچا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آلو پر ہونے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اسے وجود میں لانے میں ٹماٹر کا بھی ہاتھ تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آلو ہزاروں سال پہلے جنوبی امریکہ کے اینڈیز نامی پہاڑی خطے میں اگایا گیا تھا اور یہ 16 ویں صدی میں وہیں سے پوری دنیا میں پھیلا۔ لیکن آلو کے ارتقا کی کہانی اب تک ایک راز بنی ہوئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن ایک حالیہ تحقیق میں کچھ نئے حقائق سامنے آئے ہیں جن سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آلو کیسے دنیا میں آیا۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/8/4/4c615fa0-iw11yxe79ag1nsdtp1zwf4.jpeg" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2025/8/4/4c615fa0-iw11yxe79ag1nsdtp1zwf4.jpeg" data-card-caption="فائل فوٹو"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سائنس دانوں نے آلوؤں کی 450 اگائی جانے والی اقسام اور 50 جنگلی اقسام کے آلوؤں کے ڈی این اے پر ایک تحقیق کی۔ اس میں انہیں معلوم ہوا کہ آلو تقریباً 90 لاکھ سال پہلے جنوبی امریکہ میں جنگلی ٹماٹر اور آلو سے ملتے جلتے ایک پودے کے قدرتی ملاپ سے پیدا ہوا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">محققین کے مطابق اس قدرتی ملاپ کے نتیجے میں آلو کی ابتدائی شکل وجود میں آئی اور زمین کے اندر ’ٹیوبر‘ یعنی گانٹھ پیدا ہوئی۔ سائنس دانوں نے تحقیق کے دوران گانٹھ بننے کی وجہ بننے والے دو اہم جینز بھی دریافت کیے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ تحقیق جمعے کو ایک سائنسی جریدے ’سیل‘ میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں جینوم بایولوجسٹ اور چائنیز اکیڈمی آف اگریکلچرل سائنسز میں پودوں پر کام کرنے والے سان وین ہوانگ نے بھی حصہ لیا اور وہ اس تحقیق کے مصنف بھی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سان وین ہوانگ کا کہنا تھا کہ آلو واقعی ایک شاندار خوراک ہے۔ لوگ اسے صرف کاربوہائیڈریٹ سمجھتے ہیں، لیکن یہ وٹامن سی، پوٹیشیم، فائبر، اور اسٹارچ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور یہ قدرتی طور پر گلوٹن فری بھی ہوتا ہے۔ ان کے بقول یہ غذائت سے بھرپور کیلوری دینے والی خوراک ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/8/4/3cbb98e2-50t4m4dtat3352b0d28ru9.jpeg" data-card-width="1199" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2025/8/4/3cbb98e2-50t4m4dtat3352b0d28ru9.jpeg" data-card-caption="فائل فوٹو"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آلو اور ٹماٹر کے پودے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ ٹماٹر کے پودے میں کھانے کے قابل حصہ اس کا پھل ہوتا ہے جو زمین کے اوپر پودے پر اگتا ہے لیکن آلو کے پودے میں کھانے کے قابل حصہ یہی گانٹھ یا ٹیوبر ہوتا ہے اور یہ زمین کے اندر اگتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آج جو آلو پایا جاتا ہے اس کا سائنسی نام سولانم ٹیوبروسم ہے۔ اور جن دو پودوں کے ملاپ سے آلو پیدا ہوا، ان میں آلو سے ملتی ملتی ایک پودے کی قسم جو پرو میں پائی گئی تھی، اس کا نام ہے ای ٹیوبروسم۔ یہ پودا آلو دکھنے میں آلو کے پودے جیسا ہوتا ہے لیکن اس میں ٹیوبر یا گانٹھ نہیں ہوتی۔ جب کہ دوسرا پودا ٹماٹر کا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ دونوں پودے جن کے ملاپ سے آلو بنا تھا، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ خود بھی ایک ہی پودے سے پیدا ہوئے تھے تقریباً ایک کروڑ چالیس سال پہلے۔ اور 50 لاکھ سال بعد ان میں قدرتی ملاپ ہوا۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/8/4/38314f56-41dwetqp3lw3zzy7s1k4x.jpeg" data-card-width="1197" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2025/8/4/38314f56-41dwetqp3lw3zzy7s1k4x.jpeg" data-card-caption="فائل فوٹو"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس تحقیق کی شریک مصنفہ ساندرا ناپ کے مطابق جب ان پودوں کا ملاپ ہوا جسے ہائبرڈائزیشن بھی کہا جاتا ہے، تو اس سے ان کی جینز کی ترتیب میں تبدیلی آئی۔ جس کے نتیجے میں نئی نسل کے پودے گانٹھیں یعنی ٹیوبرز بنانے لگے۔ اس سے یہ پودے اینڈیز کے بلند ہوتے پہاڑی سلسلے میں پیدا ہونے والے نئے سرد اور خشک علاقوں میں پھیلنے کے قابل ہو گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ ہائبرڈائزیشن اس دور میں ہوئی جب اینڈیز میں پہاڑیاں بلند ہو رہی تھیں۔ گانٹھ کی موجودگی نے آلو کے پودے کو بدلتے ہوئے مقامی ماحول کے ساتھ مطابقت اختیار کرنے اور پہاڑوں کی سخت آب و ہوا میں نشوونما پانے کے قابل بنا دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہوانگ کے مطابق یہ ٹیوبر غذائی اجزا کو محفوظ رکھ سکتے ہیں اور پودے کی بغیر بیج کے افزائش کو بھی ممکن بناتے ہیں تاکہ سرد علاقوں میں کم زرخیزی کے مسئلے کا حل نکل سکے۔ انہی خوبیوں نے آلو کے پودے کو زندہ رہنے اور تیزی سے پھیلنے کے قابل بنایا۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/8/4/7794d219-mrvrfsz3c3vyi9ppadk8q.jpeg" data-card-width="1198" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2025/8/4/7794d219-mrvrfsz3c3vyi9ppadk8q.jpeg" data-card-caption="فائل فوٹو"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ریسرچرز کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج آلوؤں کی مستقبل کی کاشت پر اثر انداز ہوں گے اور مستقبل میں زیادہ بہتر آلو کی اقسام بنائی جا سکتی ہیں جو ماحولیاتی چیلنجز کا بھی مقابلہ کر سکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے ایک ریسرچر ژیانگ ژینگ کہتے ہیں کہ اس تحقیق کے نتیجے میں ایک ایسا نیا پودا اگانے پر کام کیا جا سکے گا جس میں اوپر ٹماٹر اور زمین کے نیچے آلو اگیں گے۔ یعنی ایک ہی پودا آلو اور ٹماٹر دونوں اگائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پرو میں قائم انٹرنیشنل پوٹاٹو سینٹر ریسرچ آرگنائزیشن کے مطابق آج دنیا میں تقریباً پانچ ہزار اقسام کا آلو ملتا ہے۔ یہ چاول اور گندم کے بعد دنیا میں انسانوں کی خوراک کے لیے تیسری بڑی اگائی جانے والی فصل ہے۔ چائنہ دنیا میں سب سے زیادہ آلو اگانے والا ملک ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small"><em>(یہ تفصیلات خبر رساں ادارے رائٹرز سے لی گئی ہیں)</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/life/2112</link>
      <subcategory>لائف اینڈ اسٹائل </subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/8/4/3ee6a50d-36r4jzdwu88otkvtxinhif.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 04 Aug 2025 13:57:13 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بیٹ باکسنگ: جب آواز ہی ساز بن جائے، پاکستانی نوجوانوں میں بڑھتا جنون </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/2080</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/2080" rel="standout" />
      <description>اس وقت پاکستان میں قریب 300 بیٹ باکسرز ہیں ، جو نیشنل سطح پر چیمپئن شپ میں حصہ تو لیتے ہیں، لیکن ان کا شکوہ ہے کہ انہیں وہ پزیرائی حاصل نہیں ملتی جو عالمی سطح پر بیٹ باکسنگ کو ملتی ہے</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں موسیقی نے ہر دور میں نئی پہچان بنائی۔۔۔ قوالی سے لے کر پاپ، پاپ سے ریپ میوزک اور اب ایک نیا جنون ابھر رہا ہے جسے بیٹ باکسنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں کوئی انسٹرومنٹ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف آواز کی مدد سے سُر پیدا کیے جاتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ویڈیو: اقرا حسین</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/2080</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>اقرا حسین</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/7/28/b5c50169-fgi2umrxwkr2veocyy8bg5.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 28 Jul 2025 14:22:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>اداکارہ حمیرہ اصغر کی لاش تقریباً 6 ماہ پرانی ہے، کراچی پولیس</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1995</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1995" rel="standout" />
      <description> 32 سالہ حمیرا نے 2014 میں ویٹ مس سپر ماڈل کا ٹائٹل جیتا تھا اور 2022 کے رئیلٹی شو ’تماشا گھر‘ میں شرکت کے بعد شہرت حاصل کی۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے علاقے ڈیفنس سے ملنے والی پاکستانی اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر علی کی لاش تقریباً چھ مہینے پرانی لگتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ انکشاف کراچی پولیس نے کیا ہے جنہوں نے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں آٹھ جولائی کو 32 سالہ ماڈل حمیرا اصغر کی لاش برآمد کی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس ان کے گھر اس وقت پہنچی جب وہ مالک مکان کی شکایت پر فلیٹ خالی کرانے پہنچے۔ پولیس کے مطابق انہوں نے دروازہ توڑا تو اندر سے خاتون کی لاش برآمد ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد کے مطابق حمیرا اصغر علی کی موت پچھلے ستمبر یا اکتوبر میں ہوئی۔ اس سے پہلے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیّہ سید نے بتایا تھا کہ لاش کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ایک مہینے پرانی ہوسکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن پولیس کی جانب سے کی گئی تحقیقات، جن میں فون ریکارڈ، سوشل میڈیا سرگرمی اور پڑوسیوں سے انٹرویوز شامل تھے، سے ظاہر ہوا کہ اداکارہ اکتوبر 2024 کے بعد زندہ نہیں تھیں۔ ان کی آخری فیس بک پوسٹ 11 ستمبر 2024 اور انسٹاگرام پوسٹ 30 ستمبر 2024 کو کی گئی تھی۔ پولیس اور رپورٹرز سے گفتگو میں پڑوسیوں نے بھی بتایا کہ وہ انہیں ستمبر یا اکتوبر 2024 کے بعد سے نہیں دیکھ پائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈی آئی جی پولیس سید اسد رضا نے تصدیق کی کہ اداکارہ کا موبائل فون آخری بار اکتوبر 2024 میں ایکٹو تھا اور آخری کال بھی اسی ماہ کی گئی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے بتایا کہ ’کال ڈیٹیل ریکارڈ کے مطابق آخری کال اکتوبر 2024 میں کی گئی۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک اہلکار نےبتایا کہ ’حمیرا کی لاش تقریباً نو ماہ پرانی ہے۔ غالباً ان کی موت اس وقت ہوئی جب انہوں نے آخری بار یوٹیلیٹی بل ادا کیا اور اس کے بعد بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے اکتوبر 2024 میں بجلی منقطع ہو گئی‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے بتایا کہ کچن میں خراب شدہ کھانے کی اشیاء اور زنگ آلود برتن اس ٹائم لائن کو ثابت کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ’برتنوں میں زنگ لگ چکا تھا اور کھانے کی چیزیں چھ ماہ قبل ایکسپائر ہو چکی تھیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تحقیقات کاروں کے مطابق اس منزل پر صرف ایک اور اپارٹمنٹ تھا، جو اس دوران خالی تھا، جس کی وجہ سے لاش کی بروقت دریافت ممکن نہ ہو سکی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسرے اہلکار نے بتایا کہ ’اس اپارٹمنٹ کے رہائشیوں نے بتایا کہ وہ فروری میں واپس آئے تھے، تب تک بدبو ختم ہو چکی تھی۔ دس سے پندرہ دن میں لاش کی بدبو کم ہو جاتی ہے۔ بالکونی کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گھر کی پانی کی لائنیں خشک اور زنگ آلود تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’گھر میں موم بتیاں بھی موجود نہیں تھیں۔‘ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیّہ سید نے بتایا کہ ’ہم نے مختلف سطحوں سے نمونے حاصل کیے ہیں، جنہیں لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس کے مطابق حمیرا کے خاندان نے لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا اپنے رشتہ داروں سے تعلق ختم ہوچکا تھا یا اس انکار کی وجہ کچھ اور ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حمیرا نے 2014 میں ویٹ مس سپر ماڈل کا ٹائٹل جیتا تھا اور 2022 کے رئیلٹی شو ’تماشا گھر‘ میں شرکت کے بعد شہرت حاصل کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے ’جسٹ میریڈ‘، ’احسان فراموش‘، ’گرو‘ اور ’چل دل میرے‘ جیسے ڈراموں میں اداکاری کی، جبکہ فلمی کیریئر میں 2015 کی ایکشن تھرلر فلم ’جلیبی‘ اور 2021 کی فلم ’لو ویکسین‘ میں جلوہ گر ہوئیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1995</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/7/10/cae0ab05-gdpdgw7qcbs1ap1bd8v23m.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 10 Jul 2025 07:46:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> جانیے سب سے زیادہ چائے کہاں پی جاتی ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/infografik/news/1967</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/infografik/news/1967" rel="standout" />
      <description>آج، اکیس مئی کو، دنیا بھر میں چائے کا دن منایا جا رہا ہے،</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/infografik/news/1967</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/7/2/3d09d6ea-gbgj7rfsc43f2jvqg7kys.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 21 May 2025 18:39:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>گریمی ایوارڈ 2025: 'البم آف دی ایئر' کا ایوارڈ  پہلی بار امریکی سنگر بیونسے کے نام  </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/life/1631</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/life/1631" rel="standout" />
      <category>لائف اینڈ اسٹائل </category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">موسیقی کی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈز، گریمی ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان کردیا گیا۔ اس سال 'البم آف دی ایئر' کا ایوارڈ پہلی بار امریکی گلوکارہ بیونسے کے نام رہا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گریمی ایوارڈز کی 67ویں تقریب امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں اتوار کو ہوئی، جہاں موسیقی کی دنیا کی نامور شخصیات نے شرکت کی۔ 2025 کے گریمی ایوارڈز میں موسیقی کے ہٹ گانوں اور بہترین ٹیلنٹ کو سراہا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سال 'البم آف دی ایئر' کا ایوارڈ امریکی گلوکارہ بیونسے کو ان کے البم 'کاؤبوائے کارٹر' کے لیے ملا۔ بیونسے نے اپنے کریئر میں اب تک 32 گریمی ایوارڈز جیتے ہیں، تاہم 'البم آف دی ایئر' کے لیے یہ ان کا پہلا ایوارڈ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی گلوکارہ چپل روآن نے بہترین نئی فنکارہ کا گریمی ایوارڈ جیتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے بیونسے کو ان کے نئے اور مشہور 'کاؤبوائے کارٹر' البم کے لیے بہترین کاؤنٹری البم کا ایوارڈ دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/2/3/115beaac-z4uwktfr94l07qbojbbmp.jpeg" data-card-width="997" data-card-height="635" data-card-path="/piri/upload/3/2025/2/3/115beaac-z4uwktfr94l07qbojbbmp.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">گریمی ایوارڈ کی فہرست:</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>سال کا بہترین گانا:</strong> امریکی ریپر کینڈرک لامر کو ’ناٹ لائیک اَس‘ کے لیے دیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>ریکارڈ آف دی ایئر ایوارڈ:</strong> امریکی ریپر کینڈرک لامر کو ’ناٹ لائیک اَس‘ کے لیے ملا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>بہترین پاپ ووکل البم کا ایوارڈ: </strong>امریکی گلوکارہ سبرینا کارپینٹر کو ’شارٹ این سویٹ‘ کے لیے دیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>بہترین پاپ سولو پرفارمنس:</strong> امریکی گلوکارہ سبرینا کارپینٹر کو ’ایسپریسو‘ کے لیے دیا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>بہترین ڈانس/الیکٹرانک ریکارڈنگ کا ایوارڈ: </strong> فرانسیسی جوڑی جسٹس اور آسٹریلوی بینڈ ٹیم امپالا کو ’نیورینڈر‘ کے لیے دیا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/2/3/3176fe5f-befunky-collage---2025-02-03t121836970.jpg" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/2/3/3176fe5f-befunky-collage---2025-02-03t121836970.jpg" data-card-caption="امریکی گلوکار سیرا فیریل ایلبم ’Trail Of Flowers‘ کے لیے بہترین امریکیانا ایلبم کا گریمی ایوارڈ دیا۔ "></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>بیسٹ پاپ ڈانس ریکارڈنگ ایوارڈ: </strong>برطانوی گلوکارہ چارلی ایکس سی ایکس کو ’Von Dutch‘ کے لیے ملا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>بیسٹ ریپ البم کا ایوارڈ:</strong> امریکی ریپر ڈوئیچی کو ’Alligator Bites Never Heal‘ کے لیے ملا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>بیسٹ میوزک ویڈیو کا ایوارڈ: </strong>’American Symphony‘ کو ملا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>پروڈیوسر آف دی ایئر (نان کلاسیکل) کا ایوارڈ:</strong> ڈینیئل نائگرو کو ملا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>پروڈیوسر آف دی ایئر (کلاسیکل) کا ایوارڈ:</strong> ایلین مارٹون کو ملا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>بیسٹ کامیڈی ایلبم کا ایوارڈ:</strong> ڈیو چیپل کو ’Dreamer‘ کے لیے ملا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>سونگ رائٹر آف دی ایئر (نان کلاسیکل) کا ایوارڈ:</strong> اییمی ایلن کو ملا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/2/3/6ca13bd2-k27c11y5wqro2j8w63gg6i.jpeg" data-card-width="989" data-card-height="635" data-card-path="/piri/upload/3/2025/2/3/6ca13bd2-k27c11y5wqro2j8w63gg6i.jpeg" data-card-caption="سنگر کالانی پی ایوارڈ کے ساتھ پوز دیتے ہوئے، جنہوں نے ’Kuini‘ کے لیے بہترین ریجنل روٹس میوزک ایلبم کا گریمی ایوارڈ جیتا، "></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1585" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/1/21/8ff422bb-cux894ydfeh0eddnlylo.jpeg" data-title="سریلی آواز اور بلوچ کلچر کو فروغ دینے کا جنون، 12 سالہ ابھرتی گلوکارہ سیمک  بلوچ کون ہے؟" data-url="/video/news/1585" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">سریلی آواز اور بلوچ کلچر کو فروغ دینے کا جنون، 12 سالہ ابھرتی گلوکارہ سیمک  بلوچ کون ہے؟</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1505" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/1/3/d1b19321-da2xsxh1o1y1bft952dja.jpeg" data-title="پہاڑوں کا علاقہ گلگت بلتستان سی این این  کی ٹریول لسٹ 2025 میں شامل " data-url="/news/1505" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">پہاڑوں کا علاقہ گلگت بلتستان سی این این  کی ٹریول لسٹ 2025 میں شامل </span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1476" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/12/16/7f69a8f6-iim09e8f674nbiie1ow8k.jpeg" data-title="’پیدا ہوا تو کان میں پہلی سرگوشی طبلے کی دھن تھی‘، انڈیا کے معروف استاد ذاکر حسین انتقال کرگئے" data-url="/life/1476" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">’پیدا ہوا تو کان میں پہلی سرگوشی طبلے کی دھن تھی‘، انڈیا کے معروف استاد ذاکر حسین انتقال کرگئے</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1431" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/11/13/093dd091-jzcpnj40sl7c6qgl44q1b5.jpeg" data-title="ادب کے شوقین ایک چھت تلے، اسلام آباد میں 10واں لٹریچر فیسٹیول " data-url="/video/news/1431" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">ادب کے شوقین ایک چھت تلے، اسلام آباد میں 10واں لٹریچر فیسٹیول </span></span></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/life/1631</link>
      <subcategory>لائف اینڈ اسٹائل </subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/2/3/9b08a8c7-bakkmzqxp4fch23tl4qk2i.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 03 Feb 2025 08:49:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حماس عسکری چیف محمد الضیف کون تھے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1151</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1151" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>یہ خبر یکم اگست 2024 کو شائع ہوئی تھی، حماس کی جانب سے محمد الضیف کی موت کی تصدیق کے بعد دوبارہ شائع کی جارہی ہے۔</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس نے آج (31 جنوری کو) اپنے ٹاپ ملٹری کمانڈر محمد الضیف کے ہلاک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’محمد الضیف ہمارے لیے قابل فخر ہیں، جو 30 سالوں تک دشمن سے لڑتے رہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے بیان میں کہا کہ محمد الضیف کو اپنی مزاحمتی سرگرمیوں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے پہلے پچھلے سال اگست مین اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ حماس کے عسکری چیف محمد الضیف 13 جولائی کو غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ الضیف سات اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے ان حملوں میں سے ایک تھے جس میں 1200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اُس وقت حماس نے اپنے رہنما کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی تھی۔ </p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></h1><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">محمد الضیف کون تھے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس کے عسکری چیف 58 سالہ محمد الضیف 1990 کی دہائی میں القسام بریگیڈ کے بانیوں میں سے ایک تھے اور انہوں نے بیس سال سے زیادہ عرصے تک اس کی قیادت کی۔ محمد الضیف خانس یونس کے پناہ گزین کیمپ میں 1965 میں پیدا ہوئے، اس وقت ان کا نام محمد مسری تھا لیکن  1987 میں حماس کا حصہ بننے کے بعد محمد الضیف کے نام سے مشہور ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">محمد الضیف نے جلد ہی  حماس کی اعلیٰ پوزیشن حاصل کرلی تھی انہوں نے اس دوران بم  بنانے میں مہارت حاصل کی اور سرنگوں کا نیٹ ورک بھی بنایا۔ ان سرگرمیوں کی وجہ سے وہ کئی سالوں سے اسرائیل کو مطلوب ترین افراد میں سرفہرست تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کی بیوی، سات ماہ کا بیٹا اور تین سالہ بیٹی 2014 میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کی 7 ​​قتل کی کوششوں میں زندہ بچ گئے تھے۔ سب سے حالیہ واقعہ  2021 میں ہوا تھا۔ جس میں انہوں نے فلسطین میں عزت اور شہرت حاصل کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی فوج کو محمد الضیف اس لیے بھی مطلوب ہے کہ ان کا دعویٰ ہے کہ محمد الضیف 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں  میں سے ایک تھے جس میں اسرائیل کے 1,139 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیتن یاہو نے تین رہنماؤں، یحییٰ سنوار، محمد الضیف اور مروان عیسیٰ کو قتل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مئی میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے محمد الضیف، یحییٰ سنوار اور حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے  گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے غزہ میں جنگ کے دوران جنگی جرائم کے الزام پر نیتن یاہو اور گیلنٹ کے وارنٹ کی بھی درخواست کی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 39 ہزار 480 افراد ہلاک اور 91 ہزار 128 زخمی ہو چکے ہیں۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1151</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/2/62bb571e-d99q16a54hsr0bhffc3jnl.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 31 Jan 2025 09:31:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>چائے اور کافی کی مدد سے پینٹنگز بنانے والے کلاکار</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1603</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1603" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائے اور کافی سے تاریخی عمارتوں کی پینٹنگ بنا کر تمغہ امتیاز حاصل کرنے والے کراچی کے آرٹسٹ مشتاق علی لاشاری کا سفر کیسے شروع ہوا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دیکھیے سید حمزہ علی کی یہ رپورٹ</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1603</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>سید حمزہ علی</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/1/27/a5460063-yi0m291qyja9lefqpvs8d.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 27 Jan 2025 09:27:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>سریلی آواز اور بلوچ کلچر کو فروغ دینے کا جنون، 12 سالہ ابھرتی گلوکارہ سیمک  بلوچ کون ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1585</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1585" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بلوچستان، جو اپنی تاریخ، ثقافت اور روایات کے لیے مشہور ہے، وہاں کی موسیقی بھی ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ بلوچستان کی موسیقی اور شاعری میں روایتی ساز، دھمال اور لوک گیتوں کا ایک الگ انداز ہوتا ہے، جن میں برہوی اور بلوچی زبان میں محبت اور جنگ کی داستانیں سنائی جاتی ہیں۔ ایسے میں بارہ سالہ سیمک بلوچ اپنی منفرد آواز کے ذریعے خطے کی ثقافت کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بارہ سالہ سیمک بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کچھی سے ہے اور سوشل میڈیا پر بلوچی اور برہوی زبان میں ان کے گانے کی ویڈیوز کو کافی پسند کیا جارہا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیمک کہتی ہیں کہ انہوں نے گانا گانے کا آغاز سات سال کی عمر میں کیا اور یہ شوق انہیں اسکول کے ماحول سے ملا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیمک بلوچ نے بتایا کہ ’میں صبح سکول جاتی ہوں پھر دوپہر کو واپس آنے کے بعد میرے استاد مجھے ٹریننگ دیتے ہیں، اوہ مجھے آواز کے اتار چڑھاؤ اور گانے کی تکنیک سکھاتے ہیں، چھ سال کی عمر سے گانا گاتے ہوئے جتنا نکھار میری آواز میں آیا ہے، وہ میرے استاد کی محنت کا نتیجہ ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے بتایا کہ ’پہلی بار جب میں نے سکول میں پرفارم کیا تب میرے سکول ٹیچر نے مجھے احساس دلایا کہ میں گا سکتی ہوں، وہ دن ہے اور آج کا دن، اپنے شوق کو کبھی نہیں چھوڑا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا ماننا ہے کہ بلوچی اور براہوی زبانوں میں گانا گنگنانا صرف ان کا شوق ہی نہیں بلکہ ایک عبادت اور قومی ذمہ داری ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیمک کا کہنا ہے کہ ’وہ قدیم شاعروں کے گیتوں کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔ اس لیے ان کی شاعری اور لوک گیتوں کو ری کریٹ کرتی ہیں۔ میری ہر وقت کوشش ہوتی ہے کہ بلوچی برہوی کلچر اور زبان کو پروموٹ کروں اور دنیا کو دکھاوں، اس کے ساتھ میں صوفی اور انقلابی خیالات پر بھی فوکس کرنا چاہتی ہوں‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اپنی پسندیدہ شاعر کا نام بتاتے ہوئے سیمک نے کہا کہ وہ استاد عظیم جان، استاد مراد پارکوئی اور استاد اختر چنال کو آئیڈیلائز کرتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ کہتی ہیں کہ ان کے گاوٴں یا فیملی میں گانے کا رواج نہیں ہے۔ یہ صرف ان کا شوق ہے جس میں ان کے والدین اور استاد نے بہت سپورٹ کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیمک نے اپنے اس سفر میں کن مشکلات کا سامنا کیا، اس سوال پر وہ بتاتی ہیں کہ ’گانے سے پہلے میں بلوچ گانوں پر ڈانس کرتی تھی پھر لوگوں نے تنقید کرنا شروع کی کہ یہ ہمارا کلچر نہیں ہے، پھر جب گنگنانا شروع تو لوگوں نے دوبارہ تنقید کی کہ ’لڑکی ہوکر گانا گارہی ہو‘، ’یہ ہمارا مذہب ہمیں نہیں سکھاتا، یہ بلوچ کلچر نہیں ہے‘، وغیرہ وغیرہ لیکن میں نے لوگوں کی باتوں پر فوکس نہیں کیا کیونکہ میرے والدین میرے ساتھ تھے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ اپنی پہلی ویڈیو شوٹنگ کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ ’پہلی بار میرے ویڈیو کی شوٹنگ میرے اپنے گاوٴں میں ہوئی تھی، وہاں کی خواتین خاص طور پر کم عمر بچیاں بہت خوش تھیں، بلوچستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے لیکن صرف تھوڑی سی مدد، حوصلہ اور توجہ کی ضرورت ہے‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’لوگ تنقید کرتے کہ بچی کو اسلامی تعلیمات سکھائیے، ناچ گانا بلوچ کلچر کا حصہ نہیں‘</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیمک کے والدین سے جب ہم نے رابطہ کیا تو ان کی والدہ نے بتایا ’بچپن میں سیمک جو گانا سنتی تھی، اسے بہت جلد یاد کر لیتی تھی اور پھر پورا دن گنگناتی رہتی تھی۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’جب سیمک کے والد فیس بک پر اس کی کوئی ویڈیو پوسٹ کرتے، تو اکثر لوگ کمنٹس میں اعتراض کرتے کہ بچی کے سر پر دوپٹہ نہیں ہے۔ کوئی کہتا کہ بچوں کو اسلامی تعلیمات سکھائیے، گانے گانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ کلچر ایسے کاموں کی اجازت نہیں دیتا۔ ان سب باتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نے اپنی بیٹی کو سپورٹ کیا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیمک کے والد، امداد بلوچ، بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے تمام بچوں کو آزادی کے ماحول میں جینا سکھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’لوگوں کا کام باتیں بنانا ہے، لیکن میں نے ہمیشہ منفی باتوں کو نظرانداز کیا اور اپنے بچوں کو بھی یہی سبق دیا۔ بطور والد اور ایک سیاسی و ثقافتی کارکن، میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ اپنے بچوں کے خوابوں کو سپورٹ کروں۔‘امداد بلوچ مزید کہتے ہیں ’سیمک ابھی پروفیشنل سنگر نہیں ہے، وہ سیکھ رہی ہے اور اپنی ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہماری مادری زبانوں اور ثقافت کو محفوظ رکھنے اور ترقی دینے کے لیے حکومتی سطح پر خاص اقدامات نہیں کیے جاتے، جو کہ بہت ضروری ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے اپنی بیٹی کے بارے میں فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’میرے لیے سب سے زیادہ قابل فخر لمحہ وہ ہوتا ہے جب سیمک کسی چیز کی کوشش کرتی ہے اور اسے کامیابی سے انجام دیتی ہے۔ وہ بہت پراعتماد ہے اور دنیا کو جاننا اور ایکسپلور کرنا چاہتی ہے۔‘</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1585</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>اقرا حسین</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/1/21/8ff422bb-cux894ydfeh0eddnlylo.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 21 Jan 2025 21:15:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بولی ووڈ اداکار سیف علی خان پر  چاقو سے حملہ، سرجری کے بعد حالت خطرے سے باہر</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1559</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1559" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کو انڈیا کے شہر ممبئی میں ان کے گھر پر ایک نامعلوم شخص نے چاقو سے حملہ کردیا، تاہم اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کی خبر رساں ادارے ایجنسی اے این آئی کے مطابق جمعرات کو رات گئے تقریباً 3 بجکر 30 منٹ پر ایک نامعلوم شخص سیف علی خان کی رہائش گاہ میں داخل ہوا اور اداکار پر چاقو سے متعدد بار حملہ کیے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> جس کے بعد  54 سالہ سیف علی خان کو کو ممبئی کے ایک قریبی ہسپتال لے جایا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیف علی خان کو چاقو مارنے والے حملہ آور کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس کا بیان</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1. ممبئی پولیس اہلکار کے مطابق حملہ آور چوری کے ارادے سے سیف علی خان کے گھر میں گھسا تھا اور اس شخص کی شناخت کرلی گئی ہے۔ حملہ آور نے اداکار کے فلیٹ میں داخل ہونے کے لیے فائر اسکیپ (ایمرجنسی گیٹ) کا استعمال کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2. ایک پولیس اہلکار کے مطابق سیف علی خان کی گھریلو ملازمہ گھر میں موجود تھی اور اس نے پہلے ملزم کو فلیٹ میں داخل ہوتے دیکھا۔ ملازمہ نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی اور اس کے ہاتھ میں چوٹیں آئیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">3. سیف علی خان نے جب اپنی ملازمہ کی چیخ سنی تو انہوں نے بھی حملہ آور سے مزاحمت کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں حملہ آور کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی اور ملزم نے سیف علی خان پر چاقو سے حملہ کردیا۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">4. حملہ آور کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا۔ سیف علی خان پر حملہ کرنے کے بعد وہ سیڑھیوں سے عمارت سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">5. پولیس اہلکار نے بتایا کہ پولیس کی 10 ٹیمیں ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">6. اداکار سیف علی خان کی ٹیم نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’سیف علی خان کے گھر پر چوری کی واردات کی کوشش کی گئی۔ اس وقت ہسپتال میں ان کی سرجری ہو رہی ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈاکٹرز کا بیان </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیلاوتی ہسپتال کے ڈاکٹر نتن ڈانگے نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ سیف علی خان کی ریڑھ کی ہڈی میں چھری پھنسنے سے شدید چوٹ آئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیف علی خان کو ایک نامعلوم شخص کے حملے کے بعد رات 2 بجے ہسپتال لایا گیا تھا۔ چاقو ان کی ریڑھ کی ہڈی میں پھنس گیا تھا، جس کی وجہ سے زخم بہت گہرا ہے۔ ڈاکٹروں نے چاقو کو ہٹانے کے لیے سرجری کررہے ہیں۔ سیف  کے بائیں ہاتھ اور گردن پر گہرے زخم تھے، جن کا علاج پلاسٹک سرجن نے کیا تھا، اب وہ صحت یاب ہو رہے ہیں اور اب ان کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہسپتال کے سی او او ڈاکٹر نیرج اتمانی نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ ’سیف کا  آپریشن صبح ساڑھے پانچ بجے شروع کیا گیا۔ انہیں 6 زخم آئے ہیں جن میں سے دو گہرے ہیں۔ ایک زخم ریڑھ کی ہڈی کے قریب ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1559</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/1/16/a050b1a2-quhh59gl78lk6cg03f4g4.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 16 Jan 2025 13:15:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’پیرس وی آر کمنگ': پی آئی اے کا وہ اشتہار جسے دیکھ کر نائن الیون یاد آجائے، یہ اشتہار کس نے سوچا؟ تحقیقات شروع </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1536</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1536" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یورپی یونین کی جانب سے چار سالہ پابندی ہٹائے جانے کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے فلائٹ آپریشن کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ اس خوشخبری کا اعلان پی آئی اے نے ’ایکس‘ پر ایک اشتہار کے ذریعے کیا تھا۔ تاہم یہ اشتہار سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا، جہاں کچھ صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے تو کچھ نے ایئرلائن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پی آئی اے اس اشتہار کے خلاف تحقیقات ہورہی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">منگل کو سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ 'وزیر اعظم نے انکوائری آرڈر کر دی ہے کہ یہ اشتہار کس نے سوچا؟'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ 'یہ اشتہار احمقانہ ہے۔ آپ ایفل ٹاور دکھا رہے ہیں، جہاز اس کے اوپر بھی دکھا سکتے ہیں۔ پھر 'وی آر کمنگ' کا سلوگن۔۔۔ جہاز کا منہ ہی دوسری طرف کر دیں۔ جس نے بھی یہ کیا اس کی باقاعدہ انکوائری ہو رہی ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پی آئی اے کا اشتہار اور سوشل میڈیا ٹوئٹس</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اشتہار میں پی آئی اے کے طیارے کو ایفل ٹاور کی جانب پرواز کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ طیارہ ایفل ٹاور سے ٹکرا جائے گا۔ پس منظر میں فرانس کے پرچم کے رنگ نمایاں ہیں، اور اشتہار پر انگریزی میں لکھا ہے: "Paris, we are coming today" (پیرس، ہم آج آ رہے ہیں)۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/10/e19e8a36-101347435baf9c3.jpg" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/10/e19e8a36-101347435baf9c3.jpg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اشتہار پر سوشل میڈیا صارفین نے پی آئی اے کے گرافک ڈیزائن کرنے والے پر سوال اٹھائے اور اشتہار کو نائن الیون واقعے سے جوڑتے ہوئے خدشات ظاہر کیے کہ ایسا لگتا ہے کہ پی آئی اے ایفل ٹاور سے ٹکرانے کی تیاری کررہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> کامیڈین شہزاد غیاث شیخ نے تبصرہ کیا: ‘کیا یہ ایک دھمکی ہے؟‘۔ ایک اور صارف نے مشورہ دیا کہ ’ایئرلائن کو اپنی اشتہاری ایجنسی کو برطرف کر دینا چاہیے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نامور صحافی اور ٹی وی ہوسٹ ماریہ میمن نے لکھا کہ ’یہ جس نے بھی اشتہار ڈیزائن کیا ہے وہ یقیناً 2001 کے بعد پیدا ہوا ہوگا‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک اور صارف نے سوال کیا: ’یہ گرافک کس نے بنایا اور کس نے اس کی منظوری دی؟‘ منیب قادر نے لکھا: ’یہ خوشی کے اعلان سے زیادہ ایک دھمکی محسوس ہو رہی ہے۔ اس اشتہار کو دیکھ کر ماضی کی ناخوشگوار یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/10/79c7e37f-xfrjiddteacqlav0odykw8.jpeg" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/10/79c7e37f-xfrjiddteacqlav0odykw8.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/10/50e831b5-odxbhiaxfwjcywhfrjx8s5.jpeg" data-card-width="1051" data-card-height="252" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/10/50e831b5-odxbhiaxfwjcywhfrjx8s5.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے پی آئی اے کے اشتہار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’کون بے وقوف لوگ اس طرح کا فضول شو چلا رہے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/10/8a0fd925-k1ppq0vg0n456o8gguc75.jpeg" data-card-width="1178" data-card-height="206" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/10/8a0fd925-k1ppq0vg0n456o8gguc75.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوشل میڈیا صارف عائشہ نے لکھا کہ 'کیا یہ پیرس واپس آنے کا پیغام ہے یا ایفل ٹاور کو گرانے کی وارننگ؟' ایکس کی صارف سحرش مان نے تبصرہ کیا کہ ’یہ نائن الیون ٹائپ آئیڈیا بے کمال لوگوں کا ہی ہو سکتا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">احمد نواز نامی صارف نے لکھا کہ ’اس اشتہار کی بدولت پی آئی اے پر دوبارہ پابندی عائد کر دی جائے گی۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک اور صارف سعد نے پی آئی اے کا 1979 کا اشتہار پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ پی آئی اے پرانے ٹرینڈ کو دوبارہ لانا چاہتا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک صارف نے حیرانی سے پوچھا کہ ’کیا یہ واقعی پی آئی اے کا آفیشل اکاوٴنٹ ہے؟‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پی آئی اے کی جانب سے 1979 میں اخبارات میں ایک اشتہار شائع کروایا تھا جس میں طیارے کا سایہ نیویارک کے نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر دکھایا گیا تھا۔ جس کے کئی سال بعد امریکی جہاز اصل میں ٹوئن ٹاورز سے ٹکرا گئے تھے۔ اور پھر اس اشتہار کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/10/127cbe91-wswvrpcmlo4wdaqkl59vb.jpeg" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/10/127cbe91-wswvrpcmlo4wdaqkl59vb.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">نائن الیون واقعہ کیا تھا؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گیارہ ستمبر 2001 کو امریکی ایئرلائن کے 2 مسافر طیارے 18 منٹ کے وقفے سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دو عمارتوں سے ٹکرائے تھے، ان واقعات میں 3 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی اُس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اشارہ دیا، جس کا آغاز 7 اکتوبر کو افغانستان میں 'آپریشن اینڈیورنگ فریڈم' کے نام سے کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1531" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/1/10/1616b724-b96dpoq4ctc71bhkcsxbsq.jpeg" data-title="چار سالہ پابندی ختم، پی آئی اے کی پہلی پرواز آج اسلام آباد سے پیرس روانہ ہوگی" data-url="/news/1531" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">چار سالہ پابندی ختم، پی آئی اے کی پہلی پرواز آج اسلام آباد سے پیرس روانہ ہوگی</span></span></span></span></span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1268" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/9/11/759d2bba-zd52c4k09x22sgcm3u6ou.jpeg" data-title="نائن الیون کے 23 برس: وہ 3 گھنٹے جس نے دنیا کا منظر نامہ بدل دیا" data-url="/news/1268" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">نائن الیون کے 23 برس: وہ 3 گھنٹے جس نے دنیا کا منظر نامہ بدل دیا</span></span></span></span></span></span></span></span></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1536</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/1/10/979ef15f-hksp3mlnf1eugvc6n33h6.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 14 Jan 2025 14:20:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>وزیراعظم شہاز شریف، آرمی چیف عاصم منیر، عمران خان سمیت متعدد پاکستانی 2025 کے لیے دنیا کی 500 بااثر مسلمانوں کی فہرست میں شامل</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1519</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1519" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف عاصم منیر، سابق وزیراعظم عمران خان، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، مذہبی اسکالر مفتی تقی عثمانی اور کئی دیگر پاکستانی سال 2025 میں دنیا کی 500 بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’دنیا کے 500 بااثر مسلم شخصیات‘ کے عنوان سے یہ فہرست ہر سال اردن میں قائم تحقیقی مرکز رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر (آر آئی ایس ایس سی) کی جانب سے شائع کی جاتی ہے۔ یہ پہلی بار 2009 میں شائع ہوئی تھی اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ بااثر مسلمانوں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس فہرست میں ثقافت، نظریہ، فنانس، سیاست اور دیگر شعبوں سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ دنیا کی نامور مسلم شخصیات کتنی بااثر ہیں، اور وہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر کس طرح اثر انداز ہوکر تبدیلیاں لا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اس سال کئی پاکستانیوں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جن میں سیاسی اور عسکری رہنماؤں سے لے کر مخیر حضرات اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس فہرست میں وزیراعظم شہباز شریف کا نام بھی شامل ہے۔ جن کے بارے میں وضاحت دی گئی کہ وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد پاکستان کے 24ویں وزیراعظم بنے۔ وہ اس سے قبل 2022 سے 2023 تک 23 ویں وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس فہرست میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بارے میں کہا گیا کہ ’عاصم منیر کا تعلق ایک مذہبی اور علمی گھرانے سے ہے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے آرمی چیف بھی ہیں جو حافظ قرآن ہیں‘۔  یہ بھی کہا گیا کہ ’وہ پاکستان کی ٹاپ ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہ کے طور پر کام کر چکے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا کی نااثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام بھی شامل ہے، جو اگست 2023 سے کئی الزامات کے تحت جیل میں ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بارے میں لکھا گیا کہ ’عمران خان 2018 میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے اس امید کے ساتھ کہ وہ ملک میں گورننس، احتساب اور بدعنوانی کو بہتر کر سکیں گے۔ اپریل 2022 میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹائے جانے سے قبل انہیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کے بارے میں مزید لکھا گیا کہ ’عمران خان کو اب بھی پاکستانی عوام اور بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کی بہت زیادہ حمایت حاصل ہے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فہرست میں مفتی تقی عثمانی، مولانا طارق جمیل جیسی پاکستانی مذہبی شخصیات بھی دنیا کے بااثر مسلمانوں میں شامل تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فہرست میں شامل دیگر پاکستانیوں میں نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، صحافی، فلمساز اور ایکٹوسٹ شرمین عبید چنائے اور ’صوفیانہ گائیکی کی ملکہ' عابدہ پروین، نعت خوان اویس رضا قادری، اور پروفیسر ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی بھی شامل ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1519</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/1/8/0b21cd9a-6lfg78z1u3d2itsnlfcuu1.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 08 Jan 2025 07:08:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’چائنہ کے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش اور ایمرجنسی نافذ‘، سوشل میڈیا پر کووڈ-19 جیسے نئے وائرس پھیلنے کے دعوؤں میں کتنی سچائی ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1508</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1508" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ میں سانس کی بیماری کا سبب بننے والے نئے وائرس پھیلنے سے متعلق سوشل میڈیا پر خبریں گردش کررہی ہیں، کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں متعدد ہسپتال میں مریضوں کا رش دیکھا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کے نشریاتی ادارے <a href="https://news.cgtn.com/news/2025-01-04/China-sees-rise-in-HMPV-infections-but-it-s-not-a-new-virus--1zTgtraMEP6/p.html" target="_blank">سی جی ٹی این</a> کے مطابق رواں موسم سرما میں چائنہ کے نارتھ علاقوں کے ہسپتالوں میں مریضوں نے بخار، سانس لینے میں دشواری اور چکر آنے جیسی شکایت کیں۔ اس وائرس کی شناخت ’میٹا نیومو وائرس (ایچ ایم پی وی)‘ کے نام سے ہوئی ہے جس میں زیادہ تر بچے متاثر ہورہے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوشل میڈیا پر افواہیں</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوگیا ہے کہ چائنہ میں نیا وائرس پھیل چکا ہے جس کی علامات کووڈ-19 سے ملتی جلتی ہیں۔ کئی صارفین نے دعویٰ کیا کہ بڑھتے کیسز کے باعث ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/6/89f385ae-wlbsi57d31kczppyvw1xcb.jpeg" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/6/89f385ae-wlbsi57d31kczppyvw1xcb.jpeg"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/6/38687ef1-15adoxkynhl0m69h3j6wiop.jpeg" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/6/38687ef1-15adoxkynhl0m69h3j6wiop.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کئی سوشل میڈیا صارفین نے سوال کیا کہ ’چائنہ نے اب کونسا وائرس بنایا ہے؟‘، ایک صارف نے لکھا کہ ’نیا سال 2025 شروع ہوتے ہی نیا وائرس بھی پھیلنے لگا؟‘ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کےعلاوہ کئی سوشل میڈیا آوٴٹ لیٹس سنسنی خیز خبریں پوسٹ کرتے دکھائی دیے کہ چائنہ میں نیا وائرل پھیلنے کے ساتھ ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کئی سوشل میڈیا اکاوٴںٹس نے ہسپتالوں میں مریضوں کے رش کی فوٹیجز بھی شئیر کیں۔ تاہم ان فوٹیجز کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے سانس کی بیماری پھیلنے کے بعد لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں میں کتنی سچائی ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کے نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کے مطابق  چائنہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے ہسپتالوں میں ہجوم اور کووڈ 19 جیسے ایک اور وائرس پھیلنے سے متعلق آن لائن افواہوں کو مسترد کردیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ ’عام طور پر سردیوں کے موسم میں سانس کا انفیکشن بڑھ جاتا ہے جو عام بات ہے۔ اس بیماری کی علامات شدید نہیں ہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں اس کے کیسز کم ہیں‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کچھ ماہرین نے گارڈین کو بتایا کہ کیسز میں واضح طور پر اضافہ ممکنہ طور پر نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہے جو بہت آسانی سے میٹا نیومو وائرس (ایچ ایم پی وی) کا پتہ لگا سکتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آسٹریلیا کی فلنڈرز یونیورسٹی میں پبلک ہیلتھ کی ماہر ڈاکٹر جیکولین سٹیفنز نے کہا کہ ’ہم اب کسی بھی وبا کے بارے میں زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔ لوگ زیادہ چوکس رہتے ہیں اور جب لوگوں نے 'ہیومن میٹاپنیووائرس' کے بارے میں سنا، تو وہ ڈر گئے لیکن یہ کووڈ جتنی سنگین بیماری نہیں ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کے صحت کے حکام اور ڈاکٹروں نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ہیومن میٹا نیومو وائرس (ایچ ایم پی وی) سانس کی بیماری ہے تاہم اس کا کووڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے علاوہ چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹا نیومو وائرس ایک عام وائرس ہے، اس کا کووڈ 19 سے کوئی تعلق نہیں۔ اس وائرس پچھلے 60 سال سے زیادہ عرصے سے موجود ہے۔ تاہم اس کی شناخت 2000 کی دہائی کے شروع میں سائنسدانوں نے کی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شنگھائی کے سنہوا ہسپتال میں متعدی امراض کے شعبہ کے نائب سربراہ روآن ژینگ شانگ نے کہا کہ ایچ ایم پی وی کی علامات دیگر بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں، جیسے کھانسی، ناک کا بہنا، تھکاوٹ، پیٹ میں درد اور تیز بخار ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہیومن میٹا نیومو وائرس کیا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہیومن میٹا نیومو وائرس (ایچ ایم پی وی) سانس کا وائرس ہے۔  یہ معمولی بیماری ہے لیکن یہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو یہ نمونیا کا بھی سبب بن سکتی ہے۔ اور اس کا زیادہ تر شکار نومولود بچے، بزرگ افراد ہوتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈاکٹر جیکولین سٹیفنز نے  <a href="https://www.theguardian.com/society/2025/jan/06/what-is-human-metapneumovirus-cases-surging-in-china-hmpv" target="_blank">دی گارڈین</a>  کو بتایا کہ ’اس طرح کے بہت سے وائرس پائے جاتے ہیں جن پر عام طور پر توجہ نہیں دی جاتی، چائنہ میں جو وائرس پھیل رہا ہے اس میں انسان کچھ دنوں کے لیے بیمار محسوس کرتا ہے لیکن آرام اور احتیاطی تدابیر کے بعد ٹھیک ہوجاتا ہے‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">علامات کیا ہیں؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کی علامات میں کھانسی، بخار، ناک کا بند ہونا اور تھکن شامل ہیں۔ ایسی صورت میں انسان زیادہ سے زیادہ تین سے چھ دن بیمار رہ سکتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برسبین میں میٹر ہیلتھ سروسز میں متعدی امراض کے ڈائریکٹرپروفیسر پال گرفن کہتے ہیں کہ اس بیماری میں ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ ’ہم لوگوں کو اس کی موجودگی کے بارے میں صرف آگاہی دے سکتے ہیں کیونکہ ابھی تک کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی اور نہ کوئی اینٹی وائرل علاج سامنے آیا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پروفیسر پال گرفن نے کہا کہ وہ ’کووڈ 19 کی طرح سخت پابندیاں تجویز نہیں کریں گے لیکن سردوں کے موسم میں کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ گھر کے اندر وقت گزاریں، کھانسی اور چھینک آنے پر رومال یا ماسک کا استعمال کریں اور باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں زور دیا کہ لوگوں کو چاہیے کہ بخار ہونے کی صورت میں دفتر نہ جائیں اور رش والی جگہوں پر ماسک پہنیں، وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا یہ وائرس دوسرے ملکوں میں بھی پھیل رہا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا ٹوڈے کے مطابق انڈیا کی ریاست بنگلورو میں ایچ ایم پی وی کے دو اور ریاست احمد آباد میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکام نے بتایا کہ احمد آباد میں دو ماہ کے بچے اور بنگلورو میں ایک آٹھ ماہ کے بچے اور تین ماہ کی بچی میں وائرس پایا۔ تمام بچے اس وقت نجی اسپتال میں زیر علاج ہے اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کی وزارت صحت نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے، صورتحال کنٹرول میں ہے۔ یہ ایک معمولی وائرس ہے جو سردیوں میں بہت عام ہے تاہم کووڈ-19 جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے علاوہ ہانگ کانگ میں بھی چند کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ کمبوڈیا اور تائیوان کے کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے نئے وائرس سے متعلق انتباہ جاری ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ چینی حکومت چینی شہریوں اور چین آنے والے غیر ملکیوں دونوں کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ صورتحال کنٹرول میں ہے اور چین میں سفر کرنا محفوظ ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1508</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/1/6/1017d73d-f6ebnxteon6xrd55acttsn.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 06 Jan 2025 09:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پہاڑوں کا علاقہ گلگت بلتستان سی این این  کی ٹریول لسٹ 2025 میں شامل </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1505</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1505" rel="standout" />
      <description>اگر آپ سفر کرنا پسند کرتے ہیں اور 2025 میں کہیں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ تحریر پڑھنا مت بھولیں۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی نشریاتی ادارے  <a href="https://edition.cnn.com/travel/best-destinations-to-visit-2025/index.html" target="_blank">سی این این</a> نے 2025 میں سیر کے لیے 25 مقامات کی فہرست جاری کی جس میں پاکستان کا خوبصورت خطہ گلگت بلتستان بھی شامل ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع ہے جس کی اپنی حکومت ہے۔ انتظامی طور پر گلگت بلتستان کو 3 ڈویژنز (گلگت، دیامر استور اور بلتستان) اور 10 اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کا دارالحکومت گلگت اور سب سے بڑا شہر سکردو ہے۔ شینا، بلتی اور بروشسکی یہاں کی مقامی زبانیں ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہر سال ہزاروں سیاح اور بین الاقوامی کوہ پیما مختلف چوٹیوں، پیرا گلائیڈنگ اور دیگر ایڈونچر کھیلوں کے لیے اس خطے کا رخ کرتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سی این این ٹریول نے کہا کہ ’قراقرم کے پہاڑوں میں گلگت بلتستان تک پہنچنا آسان نہیں ہے، پروازیں ناقابل بھروسہ ہوسکتی ہیں اور بعض اوقات سڑکیں بند ہوسکتی ہیں لیکن یہاں لیمن میرنگو پائی سے زیادہ حیرت انگیز چوٹیاں ہیں‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/3/c4d425e9-5rjn4yx89bg6x2vxeypphr.jpeg" data-card-width="1000" data-card-height="640" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/3/c4d425e9-5rjn4yx89bg6x2vxeypphr.jpeg" data-card-source="جیٹی امیجز"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہاں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں موجود ہیں جنہیں ’ایٹ تھاوٴزنڈرز‘ کے نام سے جانا جاتا ہے (یعنی آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں)، ان میں کے ٹو بھی شامل ہے جو دنیا کی دوسری بڑی چوٹی ہے لیکن اسے سر کرنا مشکل اور خطرناک ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سیاحت اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے اس خطے میں ہائیکنگ بہت مشکل ہے۔ اگر 2025 میں گلگت بلتستان آنے کا ارادہ ہے تو اکیلے آنے کے بجائے دوستوں کے گروپ کے ساتھ یہاں کا سفر کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق 2024 میں گلگت بلتستان میں کوہ پیمائی میں اضافہ ہوا تھا، لیکن پاکستان میں چوٹیوں تک پہنچنے کی کوشش کے دوران 9 کوہ پیما موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ مرنے والے کوہ پیماؤں میں پانچ جاپان، ایک روس، ایک برازیل اور دو کا تعلق پاکستان سے تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سی این این کی ٹریول لسٹ میں دیگر سرفہرست مقامات میں قزاقستان میں الماتی، انڈیا میں انڈمان اور نکوبار جزائر، بولیویا، جرمنی میں کیمنیٹز، مراکش میں رباط، کینیڈا میں وینکوور جزیرہ اور ترکیہ میں کاکر پہاڑ شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/3/f4081014-sg1j4zizk4aiggdn7dg14.jpeg" data-card-width="1000" data-card-height="640" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/3/f4081014-sg1j4zizk4aiggdn7dg14.jpeg" data-card-source="جیٹی امیجز"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1505</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/1/3/d1b19321-da2xsxh1o1y1bft952dja.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 03 Jan 2025 11:07:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>سال 2024 کے دوران پاکستان میں پولیو کی صورتحال خراب رہی، کُل کیسز کی تعداد 67 ہوگئی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1497</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1497" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سال 2024 کے دوران پاکستان میں پولیو کی صورتحال انتہائی خراب رہی، مجموعی طور پر ملک بھر میں 67 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں بلوچستان سر فہرست ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حال ہی میں سندھ کے ضلع کشمور اور خیبرپخوتنخوا کے ضلع ٹانک سے ایک ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا تھا۔ جس کے بعد سندھ میں پولیو کیسز کی تعداد 19 اور خیبرپخوتخوا میں 19 ہوگئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کےعلاوہ اس سال بلوچستان میں پولیو کیسز کی تعداد 27، اسلام آباد اور پنجاب میں ایک ایک کیس رپورٹ ہوا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1055" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/7/4/2ef8f074-q1qrfnljtjqi3zkg16rot.jpeg" data-title="کیا پاکستان میں پولیو وائرس کا خاتمہ ہوسکے گا؟" data-url="/news/1055" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">کیا پاکستان میں پولیو وائرس کا خاتمہ ہوسکے گا؟</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اور افغانستان، دنیا کے ان دو ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو اب تک ختم نہیں ہوا۔ پولیو کے کیسز کی تعداد میں ہر سال کمی واقع ہو رہی تھی تاہم اس سال کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1990 کی دہائی کے شروع میں پاکستان میں سالانہ تقریباً 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے لیکن 2018 میں یہ تعداد کم ہوکر آٹھ رہ گئی۔ 2023 میں 6 اور 2021 میں صرف ایک کیس رپورٹ ہوا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں پولیو کے خلاف ویکسین متعدد بار مہم کا آغاز ہوا تھا، حالیہ مہم پچھلے ہفتے شروع ہوئی تھی، جس کا مقصد ملک بھر میں تقریباً 44 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیو کے خاتمے سے متعلق وزیر اعظم کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے کہا تھا کہ اکستان کے 143 اضلاع میں تقریباً 4 لاکھ پولیو ورکرز پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے ہر گھر کا رخ کریں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں ویکسین سے متعلق غلط فہمیاں، ویکسین کو بیرونی سازش سمجھا جانا اور دور دراز کے علاقوں میں پولیو ٹیموں کا نہ پہنچ پانا وغیرہ شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیو ٹیموں پرہونے والے حملے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے سے ویکسینیشن مہم کو کئی خطرات کا سامنا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/1/1/df72e264-fbtlipt12qtlxolay0biy.jpeg" data-card-width="800" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2025/1/1/df72e264-fbtlipt12qtlxolay0biy.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1478" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/12/17/3b79f85c-gxqu6lsfcid4rivymgje8m.jpeg" data-title="خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر فائرنگ، ایک پولیس اہلکار ہلاک" data-url="/news/1478" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر فائرنگ، ایک پولیس اہلکار ہلاک</span></span></span></span></p><p><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1497</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/12/31/94ca75e2-xptpohvh2cnkfgngs912l.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 31 Dec 2024 12:12:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’پیدا ہوا تو کان میں پہلی سرگوشی طبلے کی دھن تھی‘، انڈیا کے معروف استاد ذاکر حسین انتقال کرگئے</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/life/1476</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/life/1476" rel="standout" />
      <category>لائف اینڈ اسٹائل </category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کے لیجنڈ موسیقار ذاکر حسین 73 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ اپنے زمانے میں بہترین طبلہ نواز کے لیے پہچانے جاتے تھے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اُن کے اہل خانہ نے ایک بیان میں کہا کہ ذاکر حسین امریکی ریاست سان فرانسسکو کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ وہ پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انہوں نے اتوار کے روز اپنی آخری سانسیں اسی ہسپتال میں لیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اہل خانہ نے یہ بھی کہا کہ ’ذاکر حسین نے بطور استاد، مینٹور اور معلم موسیقی کی دنیا میں لازوال کام کیا اور اپنے فن سے لاتعداد موسیقاروں کو بہت متاثر کیا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذاکر حسین انڈیا کے شہر ممبئی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق  طبلہ نوازی کے معروف پنجاب گھرانے سے تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذاکر حسین کو 12 سال کی عمر میں ان کے والد استاد استاد اللہ نے طبلہ بجانے کی تربیت دی، ان کے والد بھی انڈیا کے مشہور طبلہ سازوں میں سے ایک تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’پیدائش کے بعد مجھے جب گھر لایا گیا اور والد کی گود میں دیا گیا تو انہوں نے اپنا منہ میرے کان کے قریب کیا۔ عام رواج تو یہ ہے کہ اس موقعے پر بچے کے کان میں اذان کے الفاظ پکارے جاتے ہیں۔ لیکن میرے والد نے اس وقت جو سرگوشی کی وہ طبلے کے بول تھے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذاکر حسین نے 12 سال کی عمر میں دنیا کے کئی ممالک کا سفر کیا اور اسٹیج پر پرفارم کیا، انہوں  نے نوعمری میں ہی انڈیا کے لیجنڈز اور کلاسیکی موسیقاروں کے ساتھ پرفارم کیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">18 سال کی عمر میں ذاکر حسین نے اپنی حیرت انگیز سولو پرفارمنس کی بدولت بین الاقوامی سطح پر پہچان حاصل کرلی تھی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2024 میں ذاکر حسین ایک ہی سال میں تین گریمی ایوارڈ جیتنے والے انڈیا کے پہلے موسیقار بن گئے تھے۔ انہوں نے 2009 میں بھی گریمی ایوارڈ جیتا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2023 میں ذاکر حسین کو انڈیا کا دوسرا بڑا سویلین ایوارڈ پدم وبھوشن سے بھی نوازا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/life/1476</link>
      <subcategory>ثقافت اور فنون</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/12/16/7f69a8f6-iim09e8f674nbiie1ow8k.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 16 Dec 2024 16:29:05 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر فائرنگ، ایک پولیس اہلکار ہلاک</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1478</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1478" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیو ویکسینیشن مہم کے دوران 2 مختلف حملوں کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ایک پولیو ورکر سمیت 2 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے 143 اضلاع میں پیر کو پولیو مہم کا آغاز ہوا تھا، جس کا مقصد 4 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین فراہم کرنا ہے، یہ مہم 22 دسمبر تک جاری رہے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا کی پولیس نے بتایا ہے کہ پہلا حملہ پیر کو ضلع کرک کے علاقے ٹیری میں پولیو ٹیم پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے سکیورٹی اہلکار کو ہلاک کر دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار محمد عرفان ویکسینیشن مہم کے اہلکاروں کی حفاظت کے لیے وہاں موجود تھے۔ زخمی پولیو ورکر کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا اور اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب کہ دوسری طرف پولیو ٹیم پر دوسرا حملہ بنوں میں ہوا، جہاں پولیو ٹیم کے ایک اہلکار حیات اللہ خان پر نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ گھر سے ڈیوٹی کے لیے نکل رہے تھے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی ٹانگ میں گولی لگی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔  پولیس کے مطابق حملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ دہشت گردوں کی کارروائی ہے یا کسی ذاتی دشمنی کی وجہ سے یہ حملہ کیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ  ان حملوں کے ذمہ داروں کو ڈھونڈیں اور فوری گرفتار کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ حال ہی میں  پولیو کے 4 مزید کیسز رپورٹ ہونے کے بعد اس وقت پاکستان میں پولیو کے 63 مریض ہو گئے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ کیسز بلوچستان میں 26، خیبر پختونخوا 18، سندھ 17، پنجاب اور اسلام آباد میں ایک ایک کیس شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1990 کی دہائی کے شروع میں پاکستان میں سالانہ تقریباً 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے لیکن 2018 میں یہ تعداد کم ہوکر آٹھ رہ گئی۔ 2023 میں 6 اور 2021 میں صرف ایک کیس رپورٹ ہوا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">چیلنجز اور مسائل</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں ویکسین سے متعلق غلط فہمیاں، مذہبی حلقوں کی مخالفت، ویکسین کو بیرونی سازش سمجھا جانا اور دور دراز  کے علاقوں میں پولیو ٹیموں کا نہ پہنچ پانا وغیرہ شامل ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پولیو ٹیموں پرہونے والے حملے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے  سے ویکسینیشن مہم کو کئی خطرات کا سامنا ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1478</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/12/17/3b79f85c-gxqu6lsfcid4rivymgje8m.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 16 Dec 2024 13:16:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>شادی سے پہلے ضروری بلڈ ٹیسٹ جو آنے والی نسل کو خطرناک بیماریوں سے بچا سکتے ہیں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/life/1472</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/life/1472" rel="standout" />
      <category>لائف اینڈ اسٹائل </category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’شادی کرنے سے پہلے کچھ بلڈ ٹیسٹ کروالیں‘ یہ بات سننے میں کچھ لوگوں کو عجیب لگتی ہوگی لیکن یہ طبی ٹیسٹ کروانے سے آنے والی نسل کو کئی خطرناک بیماریوں سے بچایا جاسکتا ہے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان جیسے ملک میں کئی خاندان شادی سے پہلے بلڈ ٹیسٹ کو من گھڑت اور غیر ضروری سمجھتے ہیں تاہم ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹ کروانے سے آنے والے پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض لوگ بظاہر تندرست نظر آتے ہیں لیکن وہ کچھ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جن کی علامات دیر سے ظاہر ہوتی ہیں اور شادی کے بعد یہ لوگ صرف اپنے پارٹنر کو ہی نہیں بلکہ آئندہ آنے والے بچوں کو بھی وہ بیماری منتقل کرسکتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کون سے بلڈ ٹیسٹ ضروری ہیں؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شادی سے پہلے ضروری بلڈ ٹیسٹ کرنا عام طور پر دونوں پارٹنر کی صحت کے مسائل کو جانچنا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس حوالے سے ہم نے ڈاکٹر ثاقب انصاری سے بات کی تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ ویسے تو کئی ٹیسٹ ہیں لیکن جینیاتی، موروثی اور بانچھ پن کے ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈاکٹر ثاقب انصاری کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر خون کے ٹیسٹ میں کوئی مسئلہ ظاہر ہو تو شادی کینسل کردینی چاہیے، بلکہ ایسا نہیں ہے، اگر صحیح وقت پر بیماری کی تشخیص ہوجائے علاج کروانے سے بیماری سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">1۔ بلڈ گروپ ٹیسٹ </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ ویسے تو عام بلڈ ٹیسٹ لیکن مسئلہ تب ہوتا ہے جب ماں کا خون آر ایچ نیگیٹو ہو اور بچے کا خون آر ایچ پازیٹو ہو۔ ایسی صورت میں ماں کا جسم بچے کے آر ایچ پازیٹو خون ابنارمل سمجھ لیتا ہے، جس سے بچے کے خون کے سیلز ختم ہوسکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈاکٹر ثاقب انصاری کے مطابق ایسی صورت میں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایسے بہت سے طریقے موجود ہیں جس کی مدد سے بچے کی نارمل ڈیلوری ہوسکتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">2۔ ایچ آئی وی ٹیسٹ </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر کسی میں ایچ آئی وی پازیٹو ہے تو زیادہ چانسز ہیں کہ آپ وہ بیماری اپنے پارٹنر یا بچے میں ٹرانسفر کرسکتے ہیں اور اس سے کینسر کے چانسز بھی بڑھ جاتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن وقت پر معلوم ہونے سے اس کا علاج ممکن ہے۔ یہ بیماری عام طور پر جنسی تعلق پھیلتی ہے جن کا اگر وقت پر علاج کرا لیا جائے تو بانجھ پن اور اسقاط حمل جیسے حالات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">3۔ ہیپاٹائٹس بی اینڈ سی ٹیسٹ </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بیماری بھی جنسی تعلق سے پھیلتی ہے اور آئندہ آنے والے بچے کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس بیماری میں جگر فیل یا جگر کے کینسر کا خطرہ ہوتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد علاج کی مدد سے اس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">4۔ جینیٹک اور موروثی بیماریوں کا ٹیسٹ </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ وہ بیماریاں ہیں جو انسانوں میں ایک نسل سے دوسری نسل تک چلی آرہی ہوتی ہیں، جن میں تھیلیسیمیا بہت زیادہ عام ہے اور پاکستان میں اس بیماری سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تھیلیسمیا کی بیماری اصل میں خون کی کمی سے متعلق ہے جو زیادہ تر بچوں میں ہوتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگر میاں بیوی میں تھیلیسیمیا مائنر ہے تو وہ بظاہر بہت تندرست ہوں گے لیکن جب دونوں کے بچے پیدا ہوں گے تو اسے یہ بیماری مکمل علامات کے ساتھ ہوسکتی ہے، یعنی پوری زندگی اس بچے کے جسم میں خون کی کمی ہوتی رہے گی اور لگاتار بلڈ ٹرانسیوژن کروانا پڑے گا جو بہت تکلیف دہ عمل ہے</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بانچھ پن کا ٹیسٹ </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ ٹیسٹ کئی ملکوں میں ضروری قرار دیا گیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ نئے جوڑے میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کتنی ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں جوڑے کے لیے بچے پیدا کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اگر جوڑے کے ہاں بچہ پیدا نہیں ہوتا تو عام طور پر لڑکی کو ’قصوروار‘ ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر ثاقب انصاری کے مطابق بانچھ پن کا مسئلہ مردوں میں بھی پایا جاسکتا ہے اس لیے مردوں کو بھی ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان جیسے ملک میں شادی سے پہلے بلڈ ٹیسٹ کروانے پر بہت کم بات کی جاتی ہے لیکن ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ایسے موضوعات پر آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو خطرناک بیماریوں سے بچایا جاسکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/life/1472</link>
      <subcategory>لائف اینڈ اسٹائل </subcategory>
      <editor>اقرا حسین</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/12/12/97533dd8-s6hx1dmdssi58khoelyvci.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 12 Dec 2024 07:46:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے پولیو کے 3 نئے کیسز رپورٹ، مجموعی تعداد 55 ہوگئی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1461</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1461" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں پچھلے ایک دن میں پولیو کے مزید 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد اس سال پولیو کے کُل کیسز کی تعداد 55 ہو گئی ہے ۔ پولیو کیسز کی زیادہ تعداد صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے ہے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی پولیو وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے مزید نئے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ کیسز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک دن پہلے پولیو کو ختم کرنے کی ٹیم  نے وزیراعظم شہباز شریف اور حکومت کے حکام سے ملاقات کی اور پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کی وجہ سے ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کی لیے ایک اہم میٹینگ کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں 2024 کے دوران اب تک پولیو وائرس کے 55 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور وائرس کی مختلف شہروں میں موجودگی کی وجہ سے بچوں میں ایمیونٹی کی کمی اور کم حکومتی اقدامات کو ظاہر کرتی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ریجنل ریفرنس لیبارٹری پولیو نے 3 وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کے کیسز کی تصدیق کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیبارٹری کے مطابق نئے کیسز خیبرپختونخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب اور بلوچستان کے ضلع جعفرآباد سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ متاثرہ بچوں میں 8 ماہ اور 20 ماہ کی دو بچیاں اور 5 ماہ کا ایک بچہ شامل ہے۔ ان تینوں اضلاع میں اس سال پہلے بھی پولیو کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیرہ اسماعیل خان  سے اب تک  6 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، یہ ضلع خیبرپختونخوا کے ساوٴتھ حصے کے سات پولیو زدہ اضلاع میں سے ایک ہے جہاں پچھلے تین  سالوں میں ویکسینیشن کی مہم کو بچوں تک پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی طرح بلوچستان میں بھی ویکسینیشن میں  بہت مشکلات ہیں جہاں اس سال ژوب میں 3  اور جعفرآباد میں 2 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب تک رپورٹ ہونے والے 55 کیسز میں سے 26 بلوچستان سے، 14 خیبرپختونخوا سے، 13 سندھ سے، اور پنجاب و اسلام آباد سے  ایک کیس شامل ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1461</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/11/25/dd258b29-bt8h4ygf3x5j33wuwhbk5j.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 25 Nov 2024 11:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>انڈیا میں سموگ، تاج محل بھی نظروں سے اوجھل ہوگیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1446</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1446" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کی حکومت نے دنیا کے آلودہ ترین ترین شہر نئی دہلی میں غیر ضروری تعمیرات پر پابندی عائد کردی اور رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ کوئلہ جلانے سے گریز کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سموگ کی وجہ سے دہلی کے وزیر اعلیٰ نے پرائمری اسکولوں کو بھی ہدایات جاری کی کہ وہ آن لائن کلاسز کا آغاز کریں۔ شہریوں پر زور دیا کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں اور کوئلہ اور لکڑی جلانے سے گریز کریں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئی دہلی سے 220 کلومیٹر دور تاج محل اور امرتسر میں گولڈن ٹیمپل جیسی مشہور عمارتیں زہریلے سموگ کی وجہ سے نظروں سے اوجھل ہوگئی ہیں۔ اے کیو آئی کے مطابق آج بھی نئی دہلی کی ہوا کا معیار 424 پر ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1446</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/11/19/daad9fbb-jmvmvay9vurlprbtmedno.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 19 Nov 2024 08:51:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پنجاب میں سموگ کا راج، 20 لاکھ لوگ سانس کی بیماریوں میں مبتلا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1441</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1441" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا شہر لاہور اس وقت سموگ کی ایک موٹی تہہ کی پلیٹ میں ہے۔ شہر کی سڑکیں، عمارتیں، پارک سبھی دھند میں ڈھکے ہوئے ہیں۔ وہیں دوسری طرف لاہور کے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ گیا۔ سموگ کی وجہ سے شہریوں کی آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش اور سانس لینے میں دشواری کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پنجاب ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے ایک مہینے میں صوبے بھر میں تقریبا 20 لاکھ لوگ سانس لینے میں دشواری اور سانس کی دیگر بیماریوں کے باعث ہسپتالوں کا رُخ کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 19 لاکھ 34 ہزار 30 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں لاہور سے ایک لاکھ 26 ہزار 230 کیسز ہیں۔ بدھ اور جمعرات کے درمیان پنجاب بھر میں سانس لینے میں دشواری اور سینے میں انفیکشن کے 68 ہزار 917 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان کیسز میں سے 6 ہزار 236 لاہور سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ چودہ نومبر کی رات 9 بجے تک لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 1100 تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ چند ہفتوں سے فضائی آلودگی کی وجہ سے گہری سموگ پنجاب کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اس میں لاہور اور ملتان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ملتان میں اے کیو آئی ریڈنگ پہلے ہی دو بار 2000  کراس کر چکی ہے جس سے فضائی آلودگی کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو (پی اے کیو آئی) کے مطابق فضائی آلودگی پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال 25 فیصد بڑھ گئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کے مطابق  فضائی آلودگی کی زیادہ مقدار کے سامنے آنے سے نہ صرف سانس کی بیماریاں ہوتی ہیں بلکہ ڈپریشن بھی جنم لیتا ہے اور بچوں کی نشوونما پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کے مطابق سموگ پھیپھڑوں کے ٹشوز کو نقصان پہنچاتی ہے اور خاص طور پر دمہ جیسی پہلے سے موجود سانس کی بیماریوں کے شکار افراد کے لیے بہت  خطرناک ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری طرف ایسے وقت میں کہ  جب ملک میں  مہنگائی پہلے ہی  بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، ایئر پیوری فایئر بھی مہنگا ہے۔ ان چیزوں کی قیمت 25 ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ 50 ہزار روپے سے زیادہ تک ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1441</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/11/17/8e20c0a4-7gfieg6o816otj3x6q15j.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Sun, 17 Nov 2024 07:45:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پنجاب میں 5 سال سے کم عمر کے ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچے زہریلی ہوا میں  سانس لے رہے ہیں، یونیسف کی وارننگ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1428</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1428" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت  پنجاب کے سب سے زیادہ متاثرہ ضلعوں میں 5 سال سے کم عمر کے 1 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچے اس دھند کی وجہ سے شدید خطرے میں ہیں۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یونیسیف کے پاکستان میں نمائندے عبداللہ فاضل نے فضا میں آلودگی کے اثرات  کو کم کرنے کے لیے حکومت سے فوری اور بڑی کوششوں کا مطالبہ کیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پچھلے مہینے لاہور کی فضا میں سموگ کے معیات کو ’آفت زدہ‘ قرار دیا تھا۔  فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے پنجاب حکومت نے بڑے شہروں میں اسکول 17 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب کہ دوسری طرف صوبائی حکومت نے عوام کے لیے  پارکس ، چڑیا گھروں، کھیل کے میدانوں اور کھلے مقامات  میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ عوام  کو سموگ کے نقصانات سے بچایا جاسکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پنجاب کے سات شہروں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 400 سے زیادہ تھا، سیالکوٹ میں 774 تک پہنچ گیا۔ ائیر کولٹی انڈیکس جب  300 سے زیادہ  ہو جائے تو اس کو صحت کے لیے ’خطرناک‘  قرار دیا جاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2024/11/13/2ca00a86-7zi5t9m45zk9rzkfmkck5.jpeg" data-card-width="1000" data-card-height="640" data-card-path="/piri/upload/3/2024/11/13/2ca00a86-7zi5t9m45zk9rzkfmkck5.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقوام متحدہ کے  نمائندے کی جانب سے اسلام آباد میں جاری کردہ ایک بیان کے مطابق گزشتہ ہفتے لاہور اور ملتان میں فضائی آلودگی کی سطح پچھلے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے، جبکہ دوسری طرف پنجاب کے کئی ہسپتالوں میں بچوں، بوڑھوں سمیت کئی افراد کا رش لگ گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ ’ہوا میں آلودگی اتنی شدید ہے کہ اب اسے آنکھوں سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں ان چھوٹے بچوں کی صحت کے بارے میں انتہائی فکر مند ہوں جن کو آلودہ اور  زہریلی ہوا میں سانس لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔  اس وقت 5 سال سے کم عمر کے 1 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ بچے سب سے زیادہ متاثرہ ضلعوں میں اس سموگ کا سامنا کر رہے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’فضائی آلودگی کی ان ریکارڈ توڑنے والی  سطح کی وجہ سے پہلے ہی پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں تقریباً 12 فیصد اموات فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوئی ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’ہوا کے آلودہ ذرات میں  سانس لینے سے بچوں کے پھیپھڑوں اور دماغ پر انتہائی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔’ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ ’ہوا کی آلودگی  میں سانس لینے سے دماغی ٹشوز کو  بھی نقصان پہنچ سکتا ہے جس کی وجہ سے بچوں میں  کمزوریاں اور ان کے لیے  زندگی بھر میں مشکلات اور رکاوٹیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے خواتین پر سموگ کے پڑنے والے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب حاملہ خواتین آلودہ ہوا میں سانس لیتی ہیں تو، ان کے بچے  جنم لینے سے پہلے ہی  بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان  کو سانس کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے  اور ان کے بچوں کا کم وزن ہونے کا امکان  بھی زیادہ ہوجاتا  ہے۔’ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ پاکستان کے شہروں میں پنجاب کا دارالحکومت لاہور، جوکہ پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے، وہ فضائی آلودگی کے انڈیکس میں سب سے آگے ہے جس کے پیش نظر حکومت شہریوں کو اس سے بچانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ پنجاب کئی شہروں میں سموگ کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے اور اس کی روک تھام لیے حکومتی اقدامات پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1428</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/11/13/930c36cc-kcvl27slyz90dp6wfhxcus.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 13 Nov 2024 09:41:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>لاہور میں سموگ کی سیٹلائٹ تصاویر</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1423</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1423" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ناسا کی سیٹلائیٹ کی جانب سے لی گئی تصاویر میں انڈیا کے دارالحکومت دہلی اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سمیت متعدد مقامات پر سموگ کی تہہ دیکھی جاسکتی ہے۔ چھ ہفتوں پہلے جب ان مقامات کی تصاویر لی گئی تھیں تو یہاں صاف آسمان نظر آتا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1423</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/11/12/4420cb13-sm39p1e8gnjqa3qtz6sh.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 12 Nov 2024 11:12:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ادب کے شوقین ایک چھت تلے، اسلام آباد میں 10واں لٹریچر فیسٹیول </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1431</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1431" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے دالراحکومت اسلام آباد میں دسواں لٹریچر فیسٹیول شروع ہوگیا ہے جو 10 نومبر تک جاری رہے گا۔ یہ میلہ ادب، فنون لطیفہ اور دانشورانہ سوچ کے تبادلے، خیالات اور نقطہ نظر پیش کرنے کا پلیٹ فارم ہے، جہاں کئی نامور شخصیات، صحافیوں نے شرکت کی۔ بہت سارے اسٹالز لگائے گئے جہاں خریداروں کا رش بھی دیکھا گیا۔ مزید بتا رہی ہیں رمنا سعید</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1431</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>رمنا سعید</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/11/13/093dd091-jzcpnj40sl7c6qgl44q1b5.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Sun, 10 Nov 2024 08:50:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’لاہور میں سموگ کا بڑا حصہ انڈیا سے آرہا ہے‘، پنجاب حکومت کا ’گرین لاک ڈاؤن‘ کا اعلان</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1409</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1409" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی ہوا نے آلودگی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ اتوار کو شہر میں سموگ یا ایئر کوالٹی انڈیکس کی سطح 1900 تک پہنچ گئی۔ ہر طرف دھند اور سموگ کی وجہ سے حکومت نے ایک ہفتے کے لیے پرائمری اسکولز بند کر دیے اور شہر میں ’گرین لاک ڈاوٴن‘ نافذ کردیا۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صوبائی حکومت اور سوئس گروپ ایئر کوالٹی انڈیکس کی جاری کردہ ریڈنگز کے مطابق لاہور اتوار کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر رہا جہاں شہر کے بارڈر سے نزدیکی علاقوں میں 1900 کی آلودگی ریکارڈ کی گئی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے پہلے لاہور کی ہوا میں آلودگی کی سطح اس حد تک کبھی نہیں بڑھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہوا میں پارٹیکیولیٹ میٹر (پی ایم 2.5) یعنی مٹی کے چھوٹے ذرات کی مقدار 376 ریکارڈ کی گئی جو عالمی ادارہ صحت کی طرف سے  مقرر کیے گئے لیول سے 75 فیصد زیادہ ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2024/11/5/a2177776-nxtzesoqxpu51kipvy7j.jpeg" data-card-width="1000" data-card-height="640" data-card-path="/piri/upload/3/2024/11/5/a2177776-nxtzesoqxpu51kipvy7j.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سموگ سے نمٹنے کے لیے پنجاب حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے، پیر کو صوبائی محکمہ ماحولیات کی جانب سے ایک اور سموگ الرٹ جاری کیا گیا جس میں شہریوں سے احتیاتی تدابیر اختیار کرنے کو کہا گیا ہے۔ شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نکلنے سے منع کیا گیا اور باہر نکلنے کی صورت میں ماسک استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سموگ کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے محکمہ ماحولیات کے ہیڈکوارٹرز میں ایک ’سموگ وار روم‘ بھی بنایا گیا ہے، جہاں پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ڈائیریکٹر جنرل اور دیگر افسران کو سموگ سے نمٹنے کے اقدامات پر روزانہ بریف کیا جائے گا۔    </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> پنجاب حکومت کی وزیر عظمٰی بخاری نے ایک نیوز کانفرنس میں پرائمری اسکول ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا جب کہ ایک اور ہدایت نامے میں اسپیشل ایجوکیشن اداروں میں پڑھنے والے سانس، دل اور دیگر امراض میں مبتلا طلبہ  کو 1 نومبر سے 31 جنوری تک 3  مہینے کی لازمی چھٹیوں پر بھیج دیا گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہر میں گرین لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے آفسز کے 50فیصد اسٹاف کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ شہریوں کو کھڑکیاں، دروازے بند رکھنے کی ہدایات بی دی گئی ہیں۔     </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">14 ملین کی آبادی والے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر میں مسلسل ایک مہینے سے چھائی سموگ نے شہریوں کو سانس، جلد، آنکھوں کے امراض اور دیگر بیماریوں میں مبتلا کردیا ہے۔ سموگ کے خاتمے کے لیے  احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ لاہور میں مصنوئی بارش کروائے جانے کا امکان ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پنجاب حکومت کے مطابق سموگ کی دیگر وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن لاہور میں سموگ کا ایک بڑا حصہ انڈیا کی طرف سے آ رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2024/11/5/00d0537e-jbii8bd8mi8fuoo3r2pko.jpeg" data-card-width="1000" data-card-height="640" data-card-path="/piri/upload/3/2024/11/5/00d0537e-jbii8bd8mi8fuoo3r2pko.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">گرین لاک ڈاوٴن کیا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پنجاب حکومت کی جانب سے جاری نوٹی فیکشن کے مطابق لاہور کے کچھ علاقوں میں گرین لاک ڈاوٴن نافذ کیا گیا ہے جن میں ڈیوس روڈ، ایگٹن روڈ، دوراند روڈ، اور کشمیر روڈ اور ارد گرد کے علاقے شامل ہیں ان علاقوں کو ہائی الرٹ کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">‎ ان علاقوں میں چنگ چی رکشے کا داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا ہے.  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">‎ایسے کمرشل جنریٹرز جو ماحولیاتی معیار کے خلاف ہیں، ان علاقوں میں نہیں چلائے جا سکتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">‎رات 8 بجے کے بعد بار بی کیو پوائنٹس پر کھانا پکانے کی اجازت نہیں ہوگی </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">‎ان علاقوں میں ایسے ہوٹل یا پوائنٹس جو کوئلے یا لکڑی استعمال کرتے ہیں، انہیں لازمی طور پر اس کو کنٹرول کرنے کا سسٹم لگانا  ہوگا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">‎رات 10 بجے کے بعد شادی ہالز کے کھلے رہنے پر مکمل پابندی ہوگی</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">‎سرکاری اور پرائیویٹ دفتروں میں 50 فیصد لوگ گھر سے کام کریں گے</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">‎ ہیوی گاڑیوں کو چیک کیا جائے گا، ایسی گاڑیوں کا داخلہ منع ہوگا جو کالا دھواں چھوڑتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">‎ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے انکروچمنٹ یعنی (غیر قانونی قبضوں) کوختم کیا جائے گا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">‎ان علاقوں میں صرف گیلے جھاڑو یعنی گیلی صفائی کی اجازت ہوگی جسے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کرے گی۔ </p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1409</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/11/5/74b2567b-oynrb9s5fvkp3ii1oafqu9.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 05 Nov 2024 08:45:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر، ایئر کوالٹی انڈیکس ریکارڈ 1900 تک پہنچ گیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1407</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1407" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1407</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/11/5/e2887637-hrv2vs26nhtq9f72vishy.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 05 Nov 2024 07:49:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>دماغی صحت کا عالمی ، کام کی جگہ پر ذہنی مسائل پر توجہ کیوں نہیں دی جاتی؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/life/1352</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/life/1352" rel="standout" />
      <category>لائف اینڈ اسٹائل </category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا بھر میں دس اکتوبر کو ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے جسے عام طور پر اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ سال 2024 کا موضوع ’مینٹل ہیلتھ ایٹ ورک‘ یعنی کام کی جگہ پر دماغی صحت کی اہمیت‘ پر زور دینا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چونکہ روزانہ ہمارے دن کا زیادہ تر وقت کام کی جگہ پر گزرتا ہے اس لیے دفتر میں پرسکون ماحول نہ صرف ہمارا حق ہے بلکہ اس سے ترقی کے مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے دفتر جہاں دماغی صحت کو اہمیت نہیں دی جاتی وہاں کے ملازمین کو انزائٹی، ڈپریشن، تھکاوٹ اور دیگر سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ایسے دفتر جہاں مینٹل ہیلتھ کو اہمیت دی جاتی ہے وہاں کے ملازمین نہ صرف اپنی ذاتی زندگی بلکہ دفتر میں بھی اچھی پرفارمنس دکھاتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا بھر میں کام کی جگہوں یا دفاتر میں دماغی صحت کے مسائل پر خاص اہمیت دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں صورتحال خاصی تشویشناک ہے۔ ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ملکی آبادی کا تقریباً 10 فیصد حصہ یا تقریباً 20 ملین افراد ذہنی صحت کے امراض میں مبتلا ہیں۔ ان خطرناک اعداد و شمار کے باوجود ذہنی صحت پر اب بھی لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں خاص طور پر کام کی جگہوں پر جہاں اس کے بارے میں بات کرنا اکثر کمزوری کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ملازمت کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہونا، کام کا بھاری بوجھ جیسے مسائل دماغی صحت مزید خراب کرسکتی ہے اور ایسی صورتحال میں ملازمین ان مسائل کا بغیر کسی مدد اور طبی امداد لیے، خاموشی سے مقابلہ کرتے رہتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں دماغی صحت کے مسائل پر بات کرنے یا اس سے نکلنے کے لیے مدد کرنے والے ادارے بہت کم ہیں۔ اس کے برعکس بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں ملازمین کی مدد کے لیے پروگرام منقد کیے جاتے ہیں، کام کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف آپشز موجود ہوتے ہیں اور مینٹل ہیلتھ ٹریننگ پروگرامز کے ذریعے آگاہی بھی دی جاتی، اس طرح کی سہولیات پاکستان میں دکھائی نہیں دیتی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">دفاتر میں ذہنی صحت کے مسائل سے کیسے نمٹا جائے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملازمین کی ذہنی تندرستی کو بہتر بنانے کے لیے ورکرز کے پاس یہ آپشن ہونا چاہیے کہ وہ کب، کہاں اور کیسے کام کرتے ہیں۔ اس سے دماغی تناؤ کم ہو سکتا ہے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اے پی اے 2024 ورک اِن امریکہ سروے کے مطابق ملازمین کام پر زیادہ مطمئن اُس وقت محسوس کرتے ہیں جب ان کے پاس یہ فیصلہ  کرنے کا اختیار ہوتا ہے کہ آیا وہ دفتر میں آکر یا گھر میں بیٹھ کر یا کسی اور جگہ بیٹھ کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کام کرنے کے فیصلہ پر ملازمین کا اختیار ہونے سے وہ اچھی پرفارمنس دکھا سکتے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملازمین اپنی جاب سے زیادہ مطمئن اور لمبے وقت کے لیے کام اس وقت کرتے ہیں جب انہیں کام کی جگہ پر آزادی اظہار رائے حاصل ہو۔ رائے دینے، مشورہ دینے یا آئیڈیاز شئیر کرنے کی آزادی سے نہ صرف تناوٴ میں کمی آتی ہے بلکہ مہارت بھی بہتر ہوتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/life/1352</link>
      <subcategory>لائف اینڈ اسٹائل </subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/10/10/9cac8129-t7jfna7hff8swyuaoapx9l.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 10 Oct 2024 08:27:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ویڈیو: استنبول کے ذائقے، اسلام آباد میں۔۔۔</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/life/1233</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/life/1233" rel="standout" />
      <category>لائف اینڈ اسٹائل </category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ کے کھانے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اگر آپ کا تعلق اسلام آباد سے ہے تو ان کھانوں کا مزہ لینا مت بھولیں۔ دیکھیے رمنا سعید کی رپورٹ</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/life/1233</link>
      <subcategory>ثقافت اور فنون</subcategory>
      <editor>رمنا سعید</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/27/11c13a25-yndr7ntkw8mbr7zbij08cf.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 27 Aug 2024 08:57:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’پرانی سوچ کے سیاستدان ،نئے زمانے کے مسائل نہیں سمجھتے‘، انٹرنیشنل یوتھ ڈے پر پاکستانی طلبہ کیا کہتے ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1191</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1191" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1191</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>رمنا سعید</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/13/158017e9-csqofpghkspg7tfl7c1v.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 13 Aug 2024 09:37:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پروفیسر محمد یونس نے بنگلا دیش کے عبوری سربراہ کے طور پر حلف اُٹھا لیا </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1180</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1180" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے بنگلادیش کی عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">84 سالہ محمد یونس نے جمعرات کو ڈھاکہ کے صدارتی محل میں ایک تقریب کے دوران حلف اٹھایا جس میں سیاسی رہنما، سول سوسائٹی کے رہنماؤں، جرنیلوں اور سفارت کاروں نے شرکت کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تقریب میں حسینہ واجد کی عوامی لیگ کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیرس سے بنگلادیش آنے کے بعد ایک نیوز بریفنگ کے دوران محمد یونس نے کہا تھا کہ ’بہت کام کرنا باقی ہے۔ ان کی پہلی ترجیح ملک میں امن کی بحالی ہوگی۔ بنگلا دیش میرے لیے ایک فیملی کی طرح ہے۔ ہمیں اسے متحد کرنا ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">محمد یونس نے ایسے وقت بنگلادیش کی حکومت سنبھالی ہے جب 2 اگست کو پرتشدد مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ واجد اچانک استعفیٰ دے کر پڑوسی ملک انڈیا فرار ہوگئی تھیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ مظاہرے پچھلے مہینے جولائی میں شروع ہوئے تھے جو بنیادی طور پر سرکاری نوکریوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف تھے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج حکومت مخالف تحریک میں بدل گئے اور مظاہرین نے شیخ حسینہ نے استعفے کا مطالبہ کیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">محمد یونس کو ملک کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے کئی چیلنجز درپیش ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ طلبا مظاہرین نے ملک کو بچایا تھا، ہمارے طلبا ہمیں جو بھی راستہ دکھائیں گے، ہم اس کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شیخ حسینہ کے سخت ترین ناقد محمد یونس بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے اور اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا کہ مظاہروں کے دوران  طلبا پر فائرنگ کی گئی گئی۔ ان کی قربانی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نگراں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے محمد یونس کو مبارک باد دی اور ’نیک خواہشات‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  انڈیا ہمسایہ ملک بنگلادیش کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکا نے بنگلا دیش میں نئی ​​عبوری حکومت کا بھی خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کی امید رکھتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بتایا کہ ’ہم حالیہ تشدد کے خاتمے کے لیے ڈاکٹر محمد یونس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہم عبوری حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1180</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/9/925a62ea-xxqc77gtg2a9na9wi7mgh8.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 09 Aug 2024 12:05:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>انگلینڈ میں مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کیوں بڑھ رہی ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1173</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1173" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانوی شہر ساؤتھ پورٹ میں 3 بچیوں کے قتل کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروپس پُرتشدد احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور وہاں رہنے والے مسلمانوں پر حملہ کررہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ مظاہرے کب اور کیسے شروع ہوئے اور مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی کیا وجہ ہے۔ ذیشان نیاز کی اس رپورٹ میں دیکھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ: ذیشان نیاز</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایڈیٹنگ: سید حمزہ علی</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1173</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/8/c37beca0-vxlk1xnfmqvwrw5blb0cn.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 08 Aug 2024 09:04:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حماس کے نئے سیاسی لیڈر ’22 سال اسرائیلی جیل گزارنے والے‘ یحییٰ سنوار کون ہیں؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1170</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1170" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد یحییٰ السنوار کو سیاسی بیورو کا نیا سربراہ مقرر کردیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق حماس نے کہا کہ 31 جولائی کو تہران میں اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد کمانڈر یحییٰ سنوار کو حماس کے پولیٹیکل بیورو کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل 61 سالہ یحییٰ سنوار کو 7 اکتوبر کے حملے کا ماسٹر مائنڈ مانتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا تھا جس میں گیارہ سو اسرائیلی ہلاک اور دو سو کے قریب لوگوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس حملے کے بعد سے اسرائیل غزہ پر مسلسل بمباری کررہا ہے جس میں اب تک تقریباً 40,000 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں خواتین اور بچے ہیں۔ اور تقریباً 2.3 ملین آبادی  بے گھر ہوگئی ہے اور بڑے پیمانے پر غذائی قلت اور صحت کی انتہائی خراب صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی جیل میں 22 سال قید میں رہنے سے حماس کے سربراہ تک کا سفر</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یحییٰ سنوار 2017 سے غزہ میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے طور پر کام کررہے ہیں۔ حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حماس کی قیادت نے متفقہ طور پر یحییٰ سنوار کو منتخب کیا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل نے ہنیہ کو قتل کیا اب انہیں سنوار اور ملٹری لیڈرشپ سے نمٹنا ہوگا‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ ’اسماعیل ہنیہ کی جگہ دہشت گرد یحییٰ سنوار کو حماس کا نیا لیڈر مقرر کرنا ایک اور اہم وجہ ہے کہ اس تنظیم کو تیزی سے صفحہ ہستی سے ختم کردیا جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل ڈیفنس فورسز کے ترجمان ریئر ایڈم ڈینیئل ہاگری نے سعودی نیوز چینل العربیہ کو بتایا کہ ’یحییٰ سنوار ایک دہشت گرد ہے، انہیں جلد ہلاک کردیا جائے گا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اکتوبر میں ہونے والے حملوں کے بعد سے یحییٰ سنوار کو میڈیا میں نہیں دیکھا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ سنوار غزہ میں زیرِ زمین سرنگوں میں چھپے ہوئے ہیں اور اس ڈر سے وہ کسی سے رابطہ نہیں کر رہے کہ کہیں ان کی لوکیشن کے بارے میں اسرائیل کو معلوم نہ ہو جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> یحییٰ سنوار 1962 میں غزہ کے شہر خان یونس کے پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔ انہیں ’ابو ابراہیم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1980 کی دہائی کے آخر میں یحییٰ سنوار، جب ان کی عمر صرف پچیس سال تھی، نے حماس کی سیکیورٹی سروس کی بنیاد رکھی جسے مجد کہا جاتا ہے.</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسرائیلی جیل میں گزارا ہے۔ وہ سنہ 1988 سے 2011 تک 22 سال تک قید میں رہے۔ جیل میں رہتے ہوئے انہوں نے عبرانی زبان سیکھی اور اسرائیلی معاملات اور ملکی سیاست کے بارے میں معلومات حاصل کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2011 میں سنوار کو اسرائیل نے ایک معاہدے کے بعد رہا کر دیا تھا جس میں 1028 فلسطینی اور اسرائیلی عرب قیدی رہا ہوئے تھے اور اس کے بدلے میں اکیلے اسرائیلی یرغمالی فوجی جیلاد شالیت کی رہائی ممکن ہوئی۔ جسے حماس نے پانچ سال سے زائد عرصے تک قید رکھا ہوا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکا نے 61 سالہ یحییٰ سنوار کو ’انٹرنیشنل دہشت گردوں‘ کی بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الجزیرہ کی <a href="https://www.aljazeera.com/news/2024/8/6/who-is-yahya-sinwar-ismail-haniyehs-successor-as-hamas-chief" target="_blank">رپورٹ</a> کے مطابق یحییٰ سنوار نے اسرائیل پر فلسطینیوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا۔ یحییٰ سنوار نے کہا کہ ’کیا دنیا ہم سے یہ توقع رکھتی ہے کہ ہمیں مارا جارہا ہو اور پھر بھی ہم اچھا سلوک کریں، ہمارے لوگوں کو ذبح کیا جارہا ہو اور ہم شور بھی نہ مچائیں؟‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1170</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/7/2c9106db-4fth34ftkbqfckt4kulnkk.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 07 Aug 2024 09:19:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بنگلادیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس، جن پر حسینہ واجد نے ’غریبوں کا خون چوسنے‘ کا الزام لگایا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1169</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1169" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلا دیش کے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو ملک کے عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔ یہ اعلان آج (بدھ) صبح صدر محمد شہاب الدین کے پریس سیکریٹری جوینال عابدین نے کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ بنگلادیش میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے حسینہ واجد مستعفی ہوگئی تھیں۔ ملک میں مظاہرے بنیادی طور پر سرکاری نوکریوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف جولائی میں شروع ہوئے تھے جو دیکھتے ہی دیکھتے حکومت مخالف تحریک میں بدل گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">محمد یونس مظاہروں کے نتیجے میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے والی حسینہ واجد کے سخت ناقدین اور سیاسی مخالفین میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے حسینہ کے استعفے کے بعد کہا کہ ’ملک دوسری بار آزاد‘ ہوا ہے۔ ایک موقع پر حسینہ واجد نے محمد یونس کوغریبوں کا ’خون چوسنے والا‘ قرار دیا تھا اور وہ انہیں عوام دشمن بھی سمجھتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">محمد یونس پیشے کے لحاظ سے ماہر معاشیات اور بینکر ہیں۔ 84 سالہ محمد یونس نے 2006 میں امن کا نوبل انعام جیتا تھا۔ انہوں نے گرامین بینک کی بنیاد رکھی اور مائیکرو لونز پروگرام شروع کیا جس سے لاکھوں لوگوں کو غربت سے باہر نکلنے میں مدد ملی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نوبل انعام کی ویب سائٹ پر کے مطابق محمد یونس 1940 میں بنگلا دیش کے شہر چٹاگانگ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد وہ  فل برائیٹ اسکالر شپ پر معاشیات میں پی ایچ ڈی کرنے امریکا کی وینڈربلٹ یونیورسٹی چلے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">محمد یونس نے 1983 میں گرامین بینک کی بنیاد رکھی جو غریب لوگوں (خاص طور پرخواتین) کو کاروبار شروع کرنے کے لیے چھوٹے قرضے فراہم کرتا ہے ۔ لوگوں کو غربت سے نکالنے میں بینک نے اہم کردار ادا کیا تھا، جس کی وجہ سے دوسرے ممالک نے متاثر ہوکر اسی طرح کی مائیکرو لونز منصوبے  شروع کرنے کی کوشش کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وہ یونس سینٹر کے بانی بھی ہیں، جو ڈھاکہ میں قائم ایک تھنک ٹینک ہے جو نئے سماجی کاروبار کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہیں 2008 میں اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب حسینہ واجد کی انتظامیہ نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کیں۔ لیکن 2007 میں (جب ملک میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت تھی) محمد یونس نے ایک سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا لیکن بعد میں انہوں نے یہ ارادہ ترک کر دیا تھا اور کہا  کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تحقیقات کے دوران شیخ حسینہ نے محمد یونس پر گرامین بینک کے سربراہ کے طور پر غریب دیہی خواتین سے قرض لینے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ البتہ محمد یونس نے ان الزامات کی تردید کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان پر 2013 میں حکومت کی اجازت کے بغیر رقم وصول کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا، جس میں ان کے نوبل انعام اور کتاب کی رائلٹی سے حاصل کردہ رقم بھی شامل ہے۔ بعد ازاں انہیں مزید قانونی مسائل اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا جس میں ان کی اپنی کمپنی گرامین ٹیلی کام بھی شامل ہے جو کہ ملک کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی گرامین فون کا حصہ ہے، جو ناروے کی ٹیلی کام کمپنی ٹیلی نار کی ذیلی کمپنی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2023 میں گرامین ٹیلی کام کے کچھ سابق ورکرز نے محمد یونس کے خلاف ملازمت کے دوران فوائد سے محروم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ دائر کیا۔ تاہم محمد یونس نے الزامات کی بھی تردید کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں جنوری 2024 میں لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی اور جون میں بنگلا دیش کی ایک خصوصی عدالت کے جج نے محمد یونس اور دیگر 13 افراد پر 2 ملین ڈالرز کی کرپشن کے مقدمے میں فرد جرم عائد کی تھی۔  تاہم محمد یونس نے اپنے جرم کا اعتراف نہیں کیا اور وہ فی الحال ضمانت پر ملک سے باہر ہیں۔ ان کے ترجمان نے بتایا کہ وہ پیرس سے ڈھاکہ واپس آرہے ہیں جہاں ان کا معمولی طبی معائنہ کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">محمد یونس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد کے ساتھ خراب تعلقات کی وجہ سے محمد یونس پر سیاسی الزامات اور مقدمات چلائے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فروری میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے محمد یونس نے کہا کہ ان کے خلاف کرپشن کے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے ہراساں کیا جانا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طلبا مظاہرین محمد یونس کا نام کیوں تجویز کیا تھا؟ جب طلبا نے نے حسینہ واجد کے خلاف احتجاج کیا تو وہ ایسے شخص کو سامنے لانا چاہتے  تھے جو حسینہ واجد کے سخت ترین مخالفین میں سے ایک ہوں اور محمد یونس ان کے لیے ایک نمایاں نام تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1169</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/7/5c1f34cc-17wnws01kmezja1uqhvc8.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 07 Aug 2024 08:03:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بنگلا دیش کے نوبل انعام یافتہ محمد یونس ملک کے عبوری حکومت کے سربراہ مقرر </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1168</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1168" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلا دیش کے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو ملک کے عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ اعلان آج (بدھ) صبح صدر محمد شہاب الدین کے پریس سیکریٹری جوینال عابدین نے کیا۔ اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ محمد یونس کی زیرقیادت حکومت کے دیگر ارکان کا فیصلہ سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طلبا تحریک کے رہنماوٴں، ملک کی تینوں فوج کے سربراہاں، سول سوسائٹی کے اراکین اور کاروباری رہنماوٴں نے منگل کو صدر کے ساتھ پانچ گھنٹے سے زیادہ دیر تک میٹنگ کی تاکہ عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جاسکے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے قبل طلبا تحریک کے رہنماوٴں نے 83 سالہ محمد یونس کو ہی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کرنے کے لیے تجویز دی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق ممکنہ طور پر وہ پیرس سے جلد ہی وطن واپس آئیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> فیصلے کے بعد طلبا رہنما صدر کے سرکاری رہائش گاہ سے واپس چلے گئے۔ طلبا تحریک نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طلبا گروپ کی ایک رہنما ناہید اسلام نے مذاکرات کو ’نتیجہ خیز‘ قرار دیا اور کہا کہ صدر شہاب الدین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کم سے کم وقت میں عبوری حکومت قائم کی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر شہاب الدین نے پرتشدد مظاہروں کے بعد پولیس کے سربراہ کو بھی برطرف کر دیا۔ یہ یاد رہے کہ بنگلادیش میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے حسینہ واجد مستعفی ہوگئی تھیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملک میں مظاہرے بنیادی طور پر سرکاری نوکریوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف جولائی میں شروع ہوئے تھے جو دیکھتے ہی دیکھتے حکومت مخالف تحریک میں بدل گئے تھے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1168</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/7/bdb645f7-die7lsv4yov9oipczlyt0e.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 07 Aug 2024 07:55:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بنگلادیش: طلبہ تحریک کا فوج کی حمایت یافتہ حکومت قبول کرنے سے انکار</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1167</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1167" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طلبا مظاہرین فوج کی حمایت والی حکومت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ بنگلا دیش اسٹوڈنٹ پروٹیسٹ کوآرڈینیٹر نے فیس بک پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ فوجی حکمرانی کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے امن کے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو بطور چیف ایڈوائزر نئی عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلادیش اسٹوڈنٹ مومنٹ کے ناہید اسلام نے ویڈیو میں کہا کہ ’ہماری تجویز کردہ حکومت کے علاوہ کسی بھی حکومت کو قبول نہیں کیا جائے گا،  ملک میں نوبل انعام یافتہ بنگلا دیشی ماہر اقتصادیات پروفیسر محمد یونس کی نگرانی میں جلد از جلد عبوری حکومت تشکیل دی جائے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">84 سالہ محمد یونس نے 2006 میں امن کا نوبل انعام جیتا تھا۔ انہوں نے گرامین بینک کی بنیاد رکھی اور ایک مائیکرو کریڈٹ پروگرام بنایا جس سے لاکھوں لوگوں کو غربت سے بچنے میں مدد ملی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جون میں بنگلا دیش کی ایک عدالت نے ان پر رقم کی چوری یا اس کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا  لیکن انہوں نے ان الزامات کی تردید کی۔ ان حامیوں نے کہا کہ محمد یونس پر سیاسی وجوہات کی بنا پر انہیں نقصان پہنچانے کے لیے الزام لگایا جارہا ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1167</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/6/3def1313-mzwwijm0lebjzvfgndetbf.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 06 Aug 2024 09:56:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’ہم آزاد ہوگئے، آج ہم نے تاریخ لکھی ہے‘، مظاہرین کا شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کا جشن</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1166</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1166" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کی خبروں کے بعد نوجوان مظاہرین نے سڑکوں پر جشن منایا اور نعرے بازی کی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کئی مظاہرین نے حسینہ واجد کی سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کیا اور جو ہاتھ لگا اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے دکھائی دیے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کئی لوگوں نے مٹھایاں بھی تقسیم کیں، اس موقع پر ایک نوجوان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی بنگلا کو بتایا کہ ’یہ ہمارے لیے ایک فتح ہے، ہم بہت خوش ہیں کیونکہ حسینہ کی برسوں کی آمریت کے بعد ہمیں آزادی ملی، ہمیں اپنی اظہار رائے کی آزادی واپس مل گئی ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تنویر نامی نوجوان نے بتایا کہ ’آج ہم نے تاریخ لکھی ہے۔ میں پچھلے مہینے سے اس احتجاج کا حصہ رہا ہوں۔ ان مظاہروں میں میرا بایاں ہاتھ مکمل جل چکا ہے اور کئی بار ربڑ کی گولیاں میرے قریب سے گزری ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ’یہ ہماری پہلی فتح تھی لیکن ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد بھی ان کا پورا گھر لوٹ لیا گیا۔ یہ وہ چیز نہیں ہے جس کی میں امید کر رہا تھا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تنویر نے کہا کہ ’مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے ابھی مزید جدوجہدر کرنی ہے اور مزید لڑائیاں لڑنی ہے کیونکہ ہم مہذب اور تعلیم یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فاطمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں یہاں اپنی آزادی کا جشن منا رہی ہوں۔ میرا ملک دوبارہ آزاد ہوچکا ہے۔ میں، میرے بھائیوں اور بہنوں نے اس کے لیے جدوجہد کی ہے۔ اور آخر کار ہمیں آزادی مل گئی ہے۔ ہم وہ کریں گے جو  ہمیں کرنا پسند ہے۔ وہ نہیں جو دوسرے ہمیں کہیں گے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تعلیمی ادارے کھل گئے لیکن کلاسز خالی</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پیر کی رات اعلان کیا تھا کہ تمام تعلیمی ادارے منگل سے دوبارہ کھل جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کلاسز کب دوبارہ شروع ہوں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈھاکہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم افسر مُنا نے منگل کی صبح بی بی سی بنگالہ سروس کو بتایا کہ ’تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں لیکن کلاسز خالی ہیں‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جگناتھ یونیورسٹی کے ایک اور طالب علم نے بھی کہا کہ کیمپس کھلنے کے باوجود کلاسز شروع نہیں ہوئی تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">راجشاہی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی ابھی تک نہیں کھلی۔ ’میں نے سنا ہے کہ آج طلبہ خود ہال کھولیں گے اور اندر جائیں گے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جہانگیر نگر یونیورسٹی کے ایک طالب علم تنویر حسیب نے کہا کہ بہت سے طلباء گھر جا چکے ہیں اور انہیں ڈھاکہ واپس آنے میں وقت لگے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خیال کیا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کے مختلف حصوں میں یونیورسٹی اساتذہ کی تنظیم یونیورسٹی ٹیچرز نیٹ ورک آج مقامی وقت کے مطابق 11 بجے میٹنگ  کرے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1166</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/6/07488f6c-3xcoxjk4i16r4wueuuugvn.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 06 Aug 2024 08:52:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بنگلادیش: شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کے بعد ملک کا کنٹرول کون سنبھالے گا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1165</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1165" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد عہدہ چھوڑ کر انڈیا فرار ہوگئیں</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حسینہ واجد نے پیر کے روز ایسے وقت میں استعفیٰ دیا جب کئی ہفتوں سے نوجوان طلبا پرتشدد مظاہرے کررہے تھے۔ کئی بار مارشل لا لگنے کے خطرات بھی منڈلاتے رہے۔ اب یہ سوال کیا جارہا ہے کہ ملک کا کنٹرول کون سنبھالے گا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قوم سے خطاب کرتے ہوئے بنگلادیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے اعلان کیا کہ اب عبوری حکومت بنگلادیش کا کنٹرول سنبھالے گی، انہوں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل بھی کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب پیر کی شب قوم سے خطاب میں صدر محمد صحاب الدین نے کہا ہے کہ جلد ہی عبوری حکومت قائم ہو جائے گی جو قبل از وقت انتخابات کرائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا  کو رہا کرنے اور طلبہ تحریک سمیت دیگر مقدمات میں زیر حراست تمام قیدیوں کو بھی رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے گا اور زخمیوں کا علاج کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی ایس پی آر کے مطابق ملک میں 17 دن بعد منگل کی صبح سے کرفیو ختم کیا جا رہا ہے۔ منگل سے سرکاری و نجی دفاتر، عدالتیں، تعلیمی ادارے، کارخانے کھول دیے جائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شیخ حسینہ کے بیٹے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی والدہ سیاست میں واپسی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ ان کے مطابق شیخ حسینہ ’اپنی سخت محنت کے بعد بہت مایوس ہیں کہ ایک اقلیت ان کے خلاف کھڑی ہوئی۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ناقدین کا کہنا ہے کہ  حسینہ واجد کے دور میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور اپوزیشن شخصیات اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دو دہائیوں تک ملک پر حکمرانی کرنے والی حسینہ واجد پیر کو فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے انڈیا روانہ ہوئیں جس کے بعد لوگوں نے ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حسینہ واجد کو لے جانے والا ایک ہیلی کاپٹر نئی دہلی کے قریب ہندن ایئر بیس پر اترا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شیخ حسینہ واجد کا استعفیٰ اُس وقت آیا جب کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہو گئے۔ اتوار کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوبارہ ہونے والی جھڑپ میں 100 کے قریب لوگ ہلاک اور کرفیو کا اعلان کر دیا گیا تھا۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></h1><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلادیش کا اقتدار کون سنبھال سکتا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شیخ حسینہ کے اچانک استعفے کے بعد ملک کا اقتدار سنبھالنے کے لیے تین اہم شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں جو ملک کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">خالدہ ضیا</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان اہم شخصیات میں سے ایک خالدہ ضیا ہیں جو اپوزیشن جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن ہیں، وہ سابق وزیراعظم بھی وہ چکی ہیں۔ انہوں نے 1991 سے 1996 تک وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں لیکن انہیں 2018 میں کرپشن کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات سیاسی بنیاد پر لگائے گئے ہیں۔ 78 سالہ خالدہ ضیا کی رہائی کا حکم حسینہ واجد کے فرار ہونے کے چند گھنٹوں بعد دیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">شفیق الرحمان</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملک کا اقتدار سنبھالنے کے لیے ایک اور اہم شخصیت شفیق الرحمان ہیں، جو بنگلا دیش کی سب سے بڑی اسلام پسند سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے سربراہ ہیں۔ کئی سالوں سے اقتدار سے دور رہنے کے باوجود جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے ماضی میں بی این پی کے ساتھ اتحاد کیا ہے اور کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر آج الیکشن ہوتے ہیں تو یہ اتحاد جیت سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">طلبہ تحریک کی عبوری حکومت</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش طلبا کے احتجاج کے کوآرڈینیٹرز نے بھی ایک نئی عبوری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے جس میں نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کو اس کا چیف ایڈوائزر بنایا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">طلبہ تحریک کا کہا ہے کہ وہ ’کسی بھی فوج کی حمایت یافتہ یا فوج کی قیادت والی حکومت کو قبول نہیں کریں گے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p><p><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1165</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/6/4f6a4878-obr521biv2sp6vqepmtm5s.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 06 Aug 2024 07:52:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>تصاویر: ڈھاکہ کی سڑکوں پر جشن اور لوٹ مار</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1163</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1163" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1163</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/5/92aa023f-wh4xs253aru6p5ozrm5i.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 05 Aug 2024 15:21:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ویڈیو: شیخ حسینہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے انڈیا روانہ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1164</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1164" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک انڈیا پہنچ چکی ہیں۔ </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1164</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/5/841f6e8d-ch6g4h61mxj42vystisqf.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 05 Aug 2024 14:23:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بنگلادیشی وزیراعظم شیخ حسینہ عہدے سے مستعفی، انڈیا فرار ہوگئیں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/1161</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/1161" rel="standout" />
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلادیش میں دو مہینے سے جاری مظاہروں کے بعد وزیراعظم شیخ حسینہ وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے کر انڈیا فرار ہوگئیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے رائٹرز اور اے ایف پی نے بتایا کہ مظاہرین نے وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کیا تاہم شیخ حسینہ وہاں موجود نہیں تھیں۔ ذرائع نے بتایا کہ وہ اپنی بہن کے ہمراہ ایک ہیلی کاپٹر میں انڈین شہر اگرتلا کے ’محفوظ مقام‘ روانہ ہوئی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اطلاعات کے مطابق ملک کے آرمی چیف وقار الزمان مختلف سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اور وہ جلد اس صورتحال پر خطاب کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کی خبروں پر مظاہرین کی طرف سے جشن منایا گیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ ڈھاکہ سمیت ملک بھر میں فوج تعینات ہیں۔ ملک میں طلبا مظاہرین شیخ حسینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔ طلبا نے ڈھاکہ کی طرف لانگ مارچ کا ارادہ کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پچھلے روز پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور گرینڈ پھینکنے کے واقعات میں 100 لوگ ہلاک ہوگئے تھے جن میں 13 پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ پورے ملک میں پُرتشدد واقعات روکنے کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ مظاہرے جولائی میں شروع ہوئے تھے جو بنیادی طور پر سرکاری نوکریوں میں کوٹا سسٹم کے خلاف تھا مگر یہ مظاہرے جلد ہی  حکومت مخالف تحریک میں بدل گیا۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اب تک بنگلا دیش کے پُرتشدد واقعات میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش کے بانی کی 76 سالہ بیٹی شیخ حسینہ 2009 سے وزیراعظم ہیں اور اس سے قبل 1996 سے 2001 تک اس عہدے پر فائز تھیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/1161</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/5/8550e897-z6hn78vsvwrkcg8gkkfn.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 05 Aug 2024 11:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>بنگلادیش: شیخ حسینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ، کوٹہ سسٹم مظاہرے حکومت مخالف کیسے تبدیل ہوئے؟  </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1160</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1160" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلادیش میں طلبہ کے کوٹہ سسٹم کے خلاف مظاہرے حکومت اور وزیراعظم شیخ حسینہ کے خلاف  پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ مظاہرین نے آج دالرالحکومت ڈھاکہ کی طرف مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتوار کو پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور گرینیڈ پھینکنے کے واقعات میں کم از کم 100 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے انادولو اور اے ایف پی کے مطابق چار اگست کو بنگلا دیش میں حکومت مخالف مظاہرین نے دارالحکومت ڈھاکہ کی طرف مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا جس میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہو گئے۔ جن میں کم از کم 14 پولیس افسران بھی شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلادیش کی فوج نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا اور حکام نے موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مظاہرین اب اپوزیشن رہنماوٴں اور وزیراعظم شیخ حسینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ وزیراعظم شیخ حسینہ کہتی ہیں کہ ’یہ طالب علموں کا مظاہرہ نہیں رہا اب یہ لوگ کرمنلز بن چکے ہیں‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلادیش میں حالیہ ہفتوں میں کم از کم 11,000 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بدامنی کے باعث ملک بھر میں اسکول اور یونیورسٹیاں بھی بند ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسٹوڈنٹ موومنٹ کے ایک کوآرڈینیٹر آصف محمود نے الجزیرہ کو بتایا کہ 'مارچ ٹو ڈھاکہ' احتجاج منگل کے بجائے آج (پیر) کو ہوگا۔  ’حکومت نے ہمارے طلبا کو قتل کیا ہے۔ جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔ ہر کوئی ڈھاکہ کی طرف مارچ کریں‘۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’مارچ ٹو ڈھاکہ‘ کے پیش نظر آرمی ٹینک اور پولیس کی گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کردی گئی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز گشت کررہی ہے۔ چند موٹر سائیکلوں اور ٹیسکیوں کے علاوہ ڈھاکہ میں سڑکیں ویران ہیں</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری طرف بنگلادیش آرمی نے ترفیو قوانین پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا ہے۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></h1><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کوٹہ سسٹم کے خلاف مظاہرے حکومت مخالف کیسے تبدیل ہوئے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">۔پچھلے مہینے بنگلا دیش میں یونیورسٹی کے طلبا سرکاری نوکریوں میں 1971 میں پاکستان کے خلاف لڑنے والوں کے اہلخانہ کے لیے مختص کوٹہ کے خلاف احتجاج  شروع ہوا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ان مظاہروں میں پچھلے مہینے 100 سے زائد لوگ ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے تھے جب جون میں ہائی کورٹ نے 2018 کے حکم نامے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کوٹہ سسٹم دوبارہ بحال کردیا تھا۔ جس کے بعد حکومت نے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس حوالے سے سپریم کورٹ کی سماعت 7 اگست کو ہونا تھی لیکن پرتشدد مظاہروں کے بعد عدالت نے قبل از وقت فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سپریم کورٹ نے 1971 کی جنگ میں لڑنے والوں کے اہل خانہ کے لیے 5 فیصد کوٹہ مختص کرنے کا حکم دیا جبکہ 93 فیصد نوکریاں میرٹ پر دی جائیں گی، اس کے علاوہ باقی دو فیصد کوٹہ اقلیتوں اور ٹرانس جینڈرز اور معذور افراد کے لیے مختص کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن پچھلے مہینے ہونے والے مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتیں اور مظاہرین کی گرفتاریوں کی وجہ سے یہ مظاہرے پر تشدد اختیار کرگئے اور طالب علموں نے ملک کی وزیراعظم شیخ حسینہ سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ </p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></h1><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">موبائل، انٹرنیٹ سروس بند، عام تعطیل کا اعلان</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس دوران حکومت نے پیر سے بدھ تک عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ عدالتیں غیر معینہ مدت تک بند رہیں گی۔ بنگلادیش کی فوج نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا اور حکام نے موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کےعلاوہ ملک بھر میں ریلوے اور گارمنٹس انڈسٹری بند ہو گئی ہے۔ جب کہ موبائل ڈیٹا پر فیس بک اور واٹس ایپ تک رسائی ختم کردی ہے</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1160</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/5/9fa16e34-bay4d8x7d2p8gbt1rcbduk.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 05 Aug 2024 09:04:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران نے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1157</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1157" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے کہا ہے کہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے   ’شارٹ رینج پروجیکٹائل‘ سے نشانہ بنایا گیا۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">واضح رہے کہ 31 جولائی کو اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں قتل کردیے گئے تھے، ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ انہیں ایک میزائل حملے سے ان کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا۔ہنیہ ایران کے نومنتخب مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large"> حماس نے اس حملے کا الزام اسرائیل کو ٹھہرایا ہے جبکہ اسرائیل نے اب تک اس حملے کی تصدیق کی ہے نہ تردید۔ </span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">دوسری جانب امریکا اس حملے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اور نہ امریکا اس حملے میں ملوث ہے۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کی جانب سے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ واقعے سے 4 روز بعد جاری کی گئی ہے۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اپنے بیان میں کہا کہ اب تک کی گئی تحقیقات کے مطابق ہنیہ پر حملہ کم فاصلے سے مارنے والے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا جس میں تقریباً 7 کلو گرام دھماکہ خیز مواد تھا۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">اس میں مزید کہا گیا کہ اسماعیل ہنیہ پر حملے کا بدلہ شدید ہوگا، مناسب وقت، جگہ اور طریقے سے بدلہ لیں گے۔ اسرائیل کو اس حملے میں امریکا کی مدد شامل تھی۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">سیکیورٹی تجزیہ کار ایچ اے ہیلیر کے مطابق ایران اسماعیل ہنیہ کے قتل کے طریقہ کار کو بیان کرنے کے لیے جو بیانیہ اپنائے گا وہ اسرائیل کے خلاف اس کی شدت میں اضافہ کرے گا۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large"> یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ہنیہ کو کیسے قتل کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں کوئی بھی پیشرفت تنازع میں اضافہ کرے گی </span></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1157</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/4/ae8d1ec3-fs0jr6hcidjscaaykb4pgh.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Sun, 04 Aug 2024 06:41:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان میں اسماعیل ہنیہ کے قتل پر سوگ کا اعلان</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1154</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1154" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے دارالحکومت تہران میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ  پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آج دو اگست کو ملک بھر میں یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہباز شریف نے یہ اعلان پچھلے روز ایک اجلاس میں کہا جہاں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہباز شریف نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل پر پاکستان، ترکیہ، روس، ایران، چین، ملائیشیا سمیت دنیا کے کئی ممالک نے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی انہوں نے مزید کہا کہ اسماعیل ہنیہ کے بچوں اور پوتوں کو بھی بے رحمی سے شہید کیا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہباز شریف نے کہا کہ فلسطین میں گزشتہ 9 مہینے سے خونریزی جاری ہے جس میں روزانہ کئی بے گناہ فلسطینیوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ اب تک ہزاروں بچوں سمیت 40 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ دنیا اس بربریت پر خاموش ہے۔ اس طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی قابل مذمت ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیراعظم نے کہا کہ نیتن یاہو فلسطین کو تباہ کرنے کے راستے پر ہیں۔ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے واضح فیصلوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اسرائیل اپنی وحشیانہ کارروائیوں سے باز نہیں آرہا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دو اگست کو پاکستان میں یوم سوگ کا اعلان کیا اور ملک بھر میں نماز جمعہ کے بعد اسماعیل ہنیہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں قرار داد پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ </p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></h1><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسماعیل ہنیہ کی موت کیسے ہوئی؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">31 جولائی کو ایران کے شہر تہران میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو ایک فضائی حملے میں قتل کر دیا گیا تھا تاہم اسرائیل نے ان کی موت کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس نے اس حملے کا الزام اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسماعیل ہنیہ کی موت کی تحقیقات سے متعلق ایران کی جانب سے کوئی رپورٹ جاری نہیں ہوئی تاہم ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہنیہ کی موت میزائل حملے کی وجہ سے ہوئی جو ان کی رہائش گاہ پر گرا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">البتہ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسماعیل ہنیہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے گیسٹ ہاؤس کے اندر ہونے والے دھماکے سے ہلاک ہوئے ہیں اور ان کے کمرے میں دھماکہ خیز مواد لگ بھگ دو ماہ قبل نصب کیا گیا تھا۔⁣</p><p><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ میں دو ایرانی عہدے داروں سمیت مشرقِ وسطیٰ کے 7 حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیویارک ٹائمز کوبتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسماعیل ہنیہ  تہران کے جس گیسٹ ہاؤس میں قیام پذیر تھے وہ جس کمپاؤنڈ میں واقع ہے اس کا کنٹرول ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے پاس تھا۔ یہ کمپاؤنڈ کئی سرکاری عمارات کے ایک سلسلے کا حصہ ہے جسے ’نشاط‘ کہا جاتا ہے۔⁣</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1154</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/2/aaa06e17-40vvxoboymqjermt8mrhfg.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 02 Aug 2024 05:36:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حماس چیف اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1153</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1153" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ادا کردی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے انادولو کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل ہنیہ کی نمازہ جنازہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پڑھائی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نمازجنازہ میں لوگوں نے اسماعیل ہنیہ کی تصویر اور فلسطین کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ اسماعیل ہنیہ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دو اگست کو سپرد خاک کیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نمازجنازہ  کا آغاز ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالب کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہید اسماعیل ہنیہ پوری دنیا کے فلسطینی عوام کی آواز تھے۔ وہ صرف ایک لیڈر ہی نہیں بلکہ ایک عقلمند شخص تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہنیہ کے قتل کا جواب لازمی دے گا۔’ہمارا جواب صحیح وقت اور صحیح جگہ پر ہوگا۔ہہمارے لیے یہ قبول کرنا مشکل ہے کہ ہمارے مہمان کو ہماری ہی سرزمین پر نشانہ بنا کر قتل کیا جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ 31 اگست کو فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے پولیوٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قتل کردیے گئے تھے۔ وہ نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ایران کے شہر تہران میں موجود تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کی موت کی تحقیقات پر ایران کی جانب سے اب تک کوئی رپورٹ جاری نہیں ہوئی لیکن رائٹرز اور ایف کے مطابق ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا وہ 31 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔ حماس نے اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے لیکن اسرائیل نے واقعے کو ایک روز گزر جانے کے باوجود اب تک نہ اس تردید کی ہے اور نہ تصدیق کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران نے حماس رہنما کے قتل کو بدلہ لینے کا وعدہ کیا ہے، انہوں نے کہا تھا کہ ’ایران کا فرض ہے کہ وہ ہنیہ کے خون کا بدلہ لیں کیونکہ وہ ایران کی سرزمین میں شہید ہوئے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ’اسرائیل جلد ہی اپنی بزدلانہ اور دہشت گردانہ کارروائی کے نتائج دیکھا گا‘۔ تاہم اسرائیل نے تہران حملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ قتل لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیل کے حملے کے بعد ہوا جہاں حزب اللہ کے سینئر  کمانڈر فواد شکر کو نشانہ بنانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد خطے میں بڑی جنگ کے خدشات پھیل گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ تہران اور بیروت میں ہونے والے حملے جنگ میں ’خطرناک اضافہ‘ کرسکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 39,445 افراد ہلاک اور 91,073 زخمی ہوئے ہیں۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1153</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/2/51a9aa35-wpjr4a15blpqc09mgyc2cj.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 01 Aug 2024 21:56:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>تصاویر: ایران کے سپریم لیڈر نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ پڑھائی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1152</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1152" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1152</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/2/cc206994-ez4d1ctdebfgtnogjs43ni.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 01 Aug 2024 20:43:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>اسرائیل کا حماس کے عسکری چیف محمد الضیف کی ہلاکت کا دعویٰ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1150</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1150" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے عسکری چیف محمد الضیف 13 جولائی کو غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ محمد الضیف کو ہلاک کردیا گیا ہے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے اپنے عسکری چیف کی ہلاکت سے متعلق فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم حماس کے ممبر عزت الرشق نے کہا کہ ’محمد الضیف کے قتل کی خبر غیر مصدقہ ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے ٹیلی گرام پر حماس کے عسکری ونگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’القسام بریگیڈ کے کسی رہنما کی شہادت کی تصدیق یا تردید کرنا ’القسام بریگیڈ کی قیادت کا معاملہ ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کا کہنا ہے کہ الضیف سات اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے ان حملوں میں سے ایک تھے جس میں 1200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے محمد الضیف کو ’غزہ کا اسامہ بن لادن‘ قرار دیا اور ان کی موت کو ’غزہ میں  حماس کو ختم کرنے کی سرگرمیوں میں ایک اہم سنگ میل‘ قرار دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انتہائی دائیں بازو کے وزیر نے ایکس پر لکھا کہ ’جیت حاصل کرنے سے پہلے ہمیں قطعی نہیں رکیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ ’حماس کے دہشت گرد یا تو سرندڑ کریں یا ہم انہیں ختم کردیں گے، جب تک ہم اپنا مشن حاصل نہیں کرلیتے ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی فوج کی جانب سے محمد الضیف کی ہلاکت کی تصدیق کا اعلان  ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پچھلے روز حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو ایران میں قتل کر دیا گیا تھا تاہم اسرائیل نے ان کی موت کی نہ تصدیق کی  اور نہ تردید کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اکتوبر میں اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا جس میں اب تک کم از کم 39 ہزار 480 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">القسام بریگیڈ کے قائد محمد الضیف کو جولائی میں غزہ کے شہر خانس یونس میں ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 90 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے تھے جسے اسرائیل نے ’محفوظ زون‘ بھی قرار دیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نے ’انٹیلی جنس‘ کی بنیاد پر اس علاقے کو نشانہ ہے جہاں حماس کے ’دو سینئر دہشت گرد‘ اور دیگر جنگجووٴں شہریوں کے درمیان چھپے ہوئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعد ازاں ایک نیوز کانفرنس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کے جن دو رہنماوٴں کو نشانہ بنایا گیا وہ محمد الضیف اور حماس کے سینئر کمانڈر رافع سلامہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دونوں میں کس کی ہلاکت ہوئی ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1150</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/1/6fab163a-y83mg3nwlnibpgc5h69dhu.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 01 Aug 2024 13:15:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: کیا اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت سے غزہ سیز فائر مذاکرات پر اثر پڑے گا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1148</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1148" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے پولیوٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قتل کردیے گئے۔ وہ  نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ایران کے شہر تہران میں موجود تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> خبر رساں اداروں میں بتایا جارہا ہے کہ وہ 31 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔ حماس نے اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے لیکن اسرائیل نے واقعے کو ایک روز گزر جانے کے باوجود اب تک نہ اس تردید کی ہے اور نہ تصدیق کی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے لیڈر ایران میں کیا کررہے تھے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اصل میں حماس  axis of resistance  نامی گروپ  حصہ ہے، اس میں کئی گروپس ہیں جو اسرائیل اور امریکا کے خلاف لڑائی کررہے ہیں اور ایران خطے میں اپنا اثر بڑھانے کے لیے انہیں سپورٹ کرتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس گروپ میں عراق اور شام میں ملیشیا، لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس اور یمن میں حوثی گروپ شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong>کیا اسماعیل ہنیہ کے قتل سے حماس کمزور ہوجائے گی؟</strong></h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ویسے تو دیکھا جائے ماضی میں حماس کے کئی اہم لیڈرز قتل کیے جاچکے ہیں۔  جنوری 1996 میں اسرائیل نے غزہ میں حماس کے فوجی رہنما یحییٰ عیاش کو نشانہ بنایا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مارچ 2004 میں حماس کے بانی شیخ احمد یاسین غزہ میں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے جب کہ ایک ماہ بعد اپریل 2004 میں شیخ یاسین کے جانشین عبدالعزیزالرنتیسی بھی غزہ میں اسرائیلی میزائل حملے میں مارے گئے۔ اس کے باوجود حماس گروپ اپنے مطابق کام کرتا رہا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حال ہی میں جنوری 2024 میں حماس کے سینئر اہلکار صالح العروری بیروت میں اسرائیلی ڈرون حملے نشانہ بنایا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل حماس کو ختم کرنے کے لیے غزہ میں جنگ کررہا ہے۔ اسی دوران وہ غزہ کے علاوہ شام، لبنان اور ایران کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرکے مڈل ایسٹ میں بے امنی بھی پھیلا رہا ہے۔ کئی اخبارات نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ  ہنیہ کی ہلاکت سے غزہ سیز فائز اور امن کی کوششوں کے مذاکرات پر بہت  پڑا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے واقعے نے غزہ میں فی الحال جنگ بندی کا امکان ختم کر دیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ چند مہینوں کے دوران حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی بات چیت ہوئی تھی جس کا مقصد غزہ میں عام شہریوں کے قتل عام کو روکنا اور ہزاروں فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن بعض ناقدین اور ماہرین کے مطابق جنگ بندی مذاکرات کمزور کرنے کے پیچھے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے فیصلے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اس خوف سے جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے کہ اِس سے ان کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت گر سکتی ہے اور ملک میں قبل از وقت انتخابات ہو سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن بین الاقوامی کرائسس گروپ کے ایکسپرٹ مایراو زونزین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو ہنیہ کے قتل کو اسرائیل کے لیے ’فتح‘ قرار دینے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے غزہ جنگ بندی کو سیاسی طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔  کچھ اسرائیلی سیاستدان ہنیہ کے قتل کا جواز بنا کر کہہ سکتے ہیں کہ اس سے وہ غزہ  جنگ بندی کے قریب آچکے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا امریکا جنگ ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب رہا؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس تمام صورتحال میں امریکا کا بھی اہم کردار ہے۔ امریکہ اب بھی اسرائیل پر جنگ ختم کرنے کے لیے  دباؤ ڈال سکتا ہے، لیکن کیونکہ وہاں نئے صدر کے لیے الیکشن  کا موسم ہے  تو ابھی ایسا ممکن نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چاہے اسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر کا معاملہ ہو، دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیل کا حملہ یا اسرائیل کے قبضے والے علاقے گولائن ہائٹس کے فٹبال اسٹیڈیم میں میزائیل حملہ جس کا ذمہ دار حزب اللہ کو ٹھہرایا جارہا ہے۔ اس سب میں امریکا ہر بار اسرائیل کو سپورٹ کرتا آیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے باوجود امریکا ہر بار یہی کہتا آیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا لیکن دوسری جانب اس نے غزہ جنگ میں اسرائیل کو ہتھیار دیے اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوج بھیجی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کا حل کیا ہوسکتا ہے ؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کا خیال ہے کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی اور اسرائیل کا وہاں سے مکمل انخلا ہی مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرسکتا ہے کیونکہ شام، لبنان، عراق اور ایران میں بڑھتی کشیدگی غزہ سے جڑی ہوئی ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1148</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/1/606f5981-0rh5a18n5rwnjzr51ghtp3d.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 01 Aug 2024 08:50:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ویڈیو: پاکستان میں اسماعیل ہنیہ کی غائبانہ نماز جنازہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1147</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1147" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے شہر راولپنڈی کے علاقے لیاقت روڈ میں  جماعت اسلامی کے زیر اہتمام فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے پولیوٹیکل بیورو کے سربراہ شہید اسماعیل ہنیہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> جماعت اسلامی کا دھرنا آج پانچویں روز بھی جاری ہے۔  امیر جماعت حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اسماعیل ہنیہ کے شہادت کی بھرپور مذمت کرتی ہے، سابق وزیراعظم فلسطین اتھارٹی اسماعیل ہنیہ کو شہید کر دیا گیا ہے، ہمیں تاریخ کا سبق یاد ہے حماس کی یہ تحریک کبھی رکے گی نہیں، ہمیشہ شہید ایک نئے انقلاب کا عنوان بن جاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">راولپنڈی میں اسماعیل ہنیہ کی غائبانہ نمازجنازہ میں شہر بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ حافظ نعیم نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں فلسطینی سفارت خانہ کے وفد اور جماعت اسلامی کے مرکزی و صوبائی قائدین نے شرکت کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ: رمنا سعید</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایڈیٹنگ: سید حمزہ علی </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1147</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>رمنا سعید</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/8/1/de4df3cf-d5wcvdbxebifjzp9kksjt.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 01 Aug 2024 06:35:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے منصوبے سے امریکا آگاہ تھا نہ ملوث ہے، انتونی بلنکن</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1146</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1146" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس کے پولیٹکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے ایران میں قتل پر امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے دعویٰ کیا کہ ’ہم اس واقعے کے بارے میں جانتے ہیں نہ ہم اس میں ملوث ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ امریکی سفارت کار سنگاپور کے دو روزہ دورے پر موجود ہیں۔ امریکا کا یہ بیان ایرانی دارالحکومت تہران میں اسماعیل ہنیہ کے قتل کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ وہ سنگاپور کے براڈکاسٹر سی این اے کے سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا اسماعیل ہنیہ کے قتل سے غزہ پر اسرائیل کی جنگ پر اثر پڑے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جس کے جواب میں انتونی بلنکن نے  اسماعیل ہنیہ پر حملے اور قتل میں امریکہ کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ  اسماعیل ہنیہ کی موت میں امریکہ ملوث نہیں اور نہ ہی اس منصوبے کا ہمیں معلوم تھا۔ اس وقت جنگ بندی کے لیے دباوٴ جاری رکھنا اہم ہے</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انتونی بلنکن نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کا ہر ایک دن شدید اور خوفناک تکلیف میں گزر رہا ہے اور غزہ میں بچے، عورتیں، مرد حماس کی جانب سے کی جانے والی کراس فائر میں پھنس گئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ آج صبح فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور مزاحمتی گروپ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو آج ایران کے دارلحکومت تہران میں ان کی رہائش گاہ پر ایک اسرائیلی حملے میں قتل کردیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس نے اسماعیل ہنیہ کی موت کی تصدیق کی ہے کہ جبکہ ایرانی میڈیا نے اسماعیل ہنیہ کے قتل سے متعلق تفصیلات شئیر نہیں کیں البتہ کہا ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کررہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی وزرا کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں آیا تاہم اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کابینہ کے وزراء کو کسی بھی قسم کا تبصرہ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہےکہ اسرائیلی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجے تہران کے قلب میں ایک میزائل فائرکیا گیا جہاں اسماعیل ہنیہ اپنے محافظ سمیت موجود تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1146</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/31/626c79ee-88t0i5z6w5aazj67muke7.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 31 Jul 2024 15:45:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>مشرق وسطیٰ میں 12 گھنٹوں کے اندر 2 ہائی پروفائل شخصیات کا قتل</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1145</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1145" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشرقی وسطیٰ میں اسرائیل کے دو بڑے حملوں کے دوران دو اہم سیاسی لیڈران کی ہلاکتیں ہوئی جن میں لبنان کے شہر بیروت میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر فواد شکر اور ایرانی دارالحکومت تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق منگل کی شام سے لے کر بدھ کی صبح تک مشرق وسطیٰ میں اسرائیل نے دو بڑے حملے کیے۔ آج صبح حماس نے ٹیلی گرام پر اعلاب کیا کہ اس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو ایران کے شہر تہران میں قتل کردیا گیا ہے، اس کا قتل کا ذمہ دار انہوں نے اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے بتایا کہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں ان کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کےعلاوہ اسرائیلی فوج نے منگل کو یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے ایک ڈرون حملے میں حزب اللہ کے اہم کمانڈر فواد شکر کو ہلاک کر دیا ہے۔ تاہم ابھی تک حزب اللہ کی جانب سے اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حزب اللہ کے کمانڈر کی ہلاکت کی خبریں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب یہ رپورٹس گردش کررہی تھیں کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک اور جنگ ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے قبل اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے گولائن ہائٹس ک فٹبال گراوٴند پر میزائل گرا تھا جس میں بچوں سمیت 12 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔  اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی میں یہ سب سے جان لیوا واقعہ تھا۔ اور اس واقعے کا ذمہ دار اسرائیل نے حزب اللہ کو ٹھہرایا تھا جبکہ وہ اس کی تردید کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1145</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/31/6dc382e1-mi8u2d8baaanvefc44ltir.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 31 Jul 2024 12:29:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>’خطے میں اسرائیلی مہم جوئی پر تشویش ہے‘، پاکستان کی اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1144</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1144" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان نے ایران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مہم جوئی پر گہری تشویش ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے بیان میں کہا کہ پاکستان آج تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کی مذمت کرتا ہے، ہم ان کے اہل خانہ اور فلسطینی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے۔ اسماعیل ہنیہ کا قتل ماورائے عدالت قتل ہے۔ پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مہم جوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ ’اس کی تازہ ترین کارروائیاں پہلے سے ہی عدم استحکام کا شکار خطے میں ایک خطرناک اضافہ ہے۔ اس سے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔‘</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1144</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/31/f9ed6d97-7xozs3y4xh3andmzt7oexp.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 31 Jul 2024 11:06:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>اسماعیل ہنیہ کے قتل سے چند گھنٹے پہلے کی تصاویر</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1143</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1143" rel="standout" />
      <description>اسماعیل ہنیہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی حلف برداری میں شرکت کے لیے منگل کو تہران پہنچے تھے۔
ان کے ایران کے دورے کی تصاویر زیر گردش ہیں، یہ تصاویر آج صبح ان کی موت سے چند گھنٹے پہلے کی ہیں۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <link>http://ur.yenisafak.com/gallery/news/1143</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/31/7aab8857-yhc5dqa99tr2q0q4x2gwn.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 31 Jul 2024 10:04:41 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ترکیہ، چین، روس کی اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت، عالمی رہنماوٴں کا ردعمل </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1142</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1142" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس کے  سربراہ اسماعیل ہنیہ کو ایران کے دارالحکومت تہران میں قتل کر دیا گیا ہے۔ ان کی موت کی تصدیق فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس اور ایران کی ایلیٹ ریولوشنری گارڈ کور نے اپنے بیان میں کی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسماعیل ہنیہ کی موت کے بعد کئی ایران، ترکیہ اور روس سمیت دیگر ممالک کے مذمت کرتے ہوئے اسے مشرقی وسطیٰ کے لیے ’خطرناک پیش رفت‘ قرار دیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر کہا کہ ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینا تہران کا فرض ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل نے اپنے لیے سخت سزا کی بنیاد فراہم کی ہے اور ایران اپنے ملک کے اندر ہونے والے اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ’مجرم اور دہشت گرد صیہونی حکومت نے ہمارے گھر میں ہمارے مہمان کو شہید کیا اور ہمیں سوگوار کیا۔  اسماعیل ہنیہ نے ایک قابل عزت راہ میں سالوں تک جان داؤ پر لگا کر جدوجہد کی اور شہادت کے لیے ہمیشہ تیار رہے جب کہ انہوں نے اپنے لوگ اور بچے بھی اس راہ پر قربان کیے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلسطینی صدر محمود عباس عباس</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے ایک بیان کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس عباس نے اس قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’بزدلانہ کارروائی اور غزہ جنگ میں خطرناک پیش رفت‘ قرار دیا۔ صدر نے فلسطینیوں پر بھی زور دیا کہ وہ متحد رہیں اور ’اسرائیلی قبضے کے سامنے ہار نہ مانیں‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے کہا کہ ’اسماعیل ہنیہ کا قتل ناقابل قبول ہے اور یہ کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">حوثی سپریم انقلابی کمیٹی</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یمن میں حوثیوں کے سپریم انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا کہ ’اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنانا ایک گھناؤنا دہشت گردانہ جرم اور قوانین کھلی خلاف ورزی ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترکیہ کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی حکومت امن کے حصول کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ اگر بین الاقوامی برادری نے اسرائیل کو روکنے کے لیے کارروائی نہیں کی تو خطے کو بہت بڑے تنازعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">چین</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ انہیں اسماعیل ہنیہ کے قتل پر انتہائی تشویش ہے اور اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’غزہ میں مستقل جنگ بندی جلد از جلد ہونی چاہیے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملائیشیا</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ملائیشیا کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’ملائیشیا اس قتل کی فوری اور مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتا ہے‘۔ ملائیشیا نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ’خطے میں جلد از جلد پرامن حل تلاش کیا جائے‘۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></h1><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">آسٹریلیا</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے کہا کہ ’اسماعیل ہنیہ  7 اکتوبر کو ہونے والی کارروائیوں میں مرکزی شخص تھا، ہم مسلسل مشرقی وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کررہے ہیں، مزید کشیدگی نہیں چاہتے۔ اگر مزید حالات خراب ہوئے تو نتائج بہت خطرناک ہوں گے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1142</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/31/61d9b048-tjfg7cfwr5czbt39txl2f9.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 31 Jul 2024 09:10:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کون تھے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1141</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1141" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور مزاحمتی گروپ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو آج ایران کے دارلحکومت تہران میں ان کی رہائش گاہ پر ایک اسرائیلی حملے میں قتل کردیا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس نے اسماعیل ہنیہ کی موت کی تصدیق کی ہے کہ جبکہ ایرانی میڈیا نے اسماعیل ہنیہ کے قتل سے متعلق تفصیلات شئیر نہیں کیں البتہ کہا ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کررہے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی وزرا کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں آیا تاہم اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کابینہ کے وزراء کو کسی بھی قسم کا تبصرہ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسماعیل ہنیہ غزہ شہر کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے اور 1987 میں حماس گروپ کا حصہ بنے، 1988 میں انہیں اسرائیل نے 6 ماہ قید میں رکھا۔ 1989 میں دوبارہ گرفتاری کے بعد 1992 میں اسماعیل ہانیہ کو لبنان ڈی پورٹ کیا گیا جس کے اگلے سال اوسلو معاہدے کے بعد اسماعیل ہانیہ واپس غزہ آگئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1997 میں وہ حماس کے روحانی رہنما شیخ احمد یاسین کے پرسنل سیکرٹری بن گئے۔ اسماعیل ہانیہ حماس کے پولیٹیکل سربراہ اور پولیٹیکل بیورو کے چیئرمین تھے۔ 2006 میں فلسطین کے الیکشن میں حماس کی اکثریت کے بعد اسماعیل ہانیہ فلسطینی اتھارٹی کے دسویں وزیراعظم بنے، لیکن یہ حکومت زیادہ دیر نہ چل سکی البتہ غزہ میں حماس کی حکمرانی برقرار رہی اور اسماعیل ہانیہ ہی اس کے سربراہ ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> 2017 میں انہیں خالد مشعال کی جگہ حماس کا سیاسی سربراہ مقرر کیا گیا جس کے بعد کئی بار قتل کی کوششوں اور ملک بدر کیے جانے بعد انہوں نے غزہ شہر چھوڑ دیا تھا اور 2023 سے قطر میں قیام پذیر تھے۔ ان کے والدین کو 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل کے قصبے اشکلون کے قریب اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رواں سال 25 جون کو رفح میں اسرائیلی فضائی حملے میں اسماعیل ہنیہ کی بہن اور دیگر رشتے دار ہلاک ہوگئے تھے۔ غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں حماس سربراہ کے 3 بیٹوں اور پوتے پوتیوں سمیت کئی رشتہ دار ہلاک ہوچکے ہیں۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></h1><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ جنگ بندی مذاکرات</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے اچانک حملے میں کم از کم 1200 افراد ہلاک اور 200 کے قریب لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ جس کے بعد اسرائیل غزہ پر مسلسل بمباری کررہا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس اور اس کے رہنماوٴں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے بعد سے اب تک وہاں 39 ہزار 400 فلسطینی ہلاک اور 90 ہزار 996 زخمی ہوچکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے بعد سے اسماعیل ہنیہ امریکا اور دیگر ممالک کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ غزہ جنگ بندی پر مذاکرات کرنے والے اہم شخصیت تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ جنگ بندی معاہدے پر رضامندی بھی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے مئی میں کہا تھا کہ حماس ثالثوں کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے ’اب بھی راضی‘ ہے۔ تاہم انہوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ کسی بھی معاہدے کی صورت میں اسرائیل کو غزہ میں جنگ مکمل طور پر ختم کرنی ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جس کے جواب میں اسرائیل نے کہا کہ حماس کے مطالبات ’ناقابل قبول‘ ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اور پھر یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حال ہی میں جولائی کے شروع میں اسماعیل ہنیہ قطر اور مصر کے ثالثوں کے ساتھ رابطے میں تھے تاکہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں خیالات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، جس سے کچھ امید پیدا ہوئی کہ دونوں فریق ایک فریم ورک معاہدے کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سی این این کے سیاسی اور خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار بارک راوید نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کی موت کا ان مذاکرات پر گہرا اثر پڑے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پچھلے سال سات اکتوبر سے غزہ پر ہونے والی جنگ کے دوران اسماعیل ہنیہ نے دیگر عالمی رہنماؤں اور حکام سے ملاقاتیں جاری رکھیں۔ اس جنگ کے دوران ان کے تین بیٹوں سمیت کئی رشتہ دار بھی ہلاک ہوچکے تھے۔ تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ ان کے رشتہ داروں کو نشانہ بناکر جاری جنگ بندی مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا تھا کہ ’جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ مذاکرات کے دوران میرے بچوں کو نشانہ بنا کر حماس اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گا تو ایسا نہیں ہوگا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1141</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/31/f97d7ee8-szc9e3u2k9jv7nzposwb.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 31 Jul 2024 08:49:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں اسرائیلی حملے میں ہلاک </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1140</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1140" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو ایران کے دارالحکومت تہران میں قتل کر دیا گیا ہے، فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے ان کی موت کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ منگل کو ایران کے صدر مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں تھے۔ ’انہیں تہران میں اپنی رہائش گاہ میں اسرائیلی حملے میں شہید کیا گیا، ان کی موت فلسطینی عوام، اسلامی قوم کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے بھی اسماعیل ہنیہ کی موت کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں کہا کہ ’آج صبح تہران میں اسماعیل ہنیہ کی رہائش گاہ پر حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں وہ اور ان کا ایک محافظ شہید ہو گئے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بیان میں اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ اسماعیل ہنیہ کو کیسے مارا گیا تاہم ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے کہا کہ وہ حملے کی تحقیقات کررہے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کی موت پر خاموشی اختیار کی، اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کابینہ کے وزراء کو کسی بھی قسم کا تبصرہ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی میڈیا کی خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسماعیل ہنیہ نے 2019 میں غزہ چھوڑ کر قطر میں رہائش پذیر اختیار کرلی تھی۔ جبکہ غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشرقی وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ ’خدشہ ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد تنازعے میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے منگل کے روز بیروت میں حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کو نشانہ بنانے کے بعد کشیدگی پہلے سے ہی بڑھ چکی ہے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کے رہائشی علاقوں پر حملہ کیا تھا جس میں 1200 افراد ہلاک اور دو سو لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا جس کے بعد اسرائیل غزہ پر مسلسل بمباری کررہا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس اور اس کے رہنماوٴں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔  اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے بعد سے اب تک وہاں 39 ہزار 400 فلسطینی ہلاک اور 90 ہزار 996 زخمی ہوچکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسماعیل ہنیہ سے پہلے اسرائیل نے حماس کے کن اہم رہنماوٴں کو نشانہ بنایا؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> جنوری 1996 میں اسرائیل نے غزہ میں حماس کے فوجی رہنما یحییٰ عیاش کو ہلاک کیا۔  مارچ 2004 میں حماس کے بانی شیخ احمد یاسین غزہ میں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے جس کے ایک ماہ بعد اپریل 2004 میں شیخ یاسین کے جانشین عبدالعزیزالرنتیسی بھی غزہ میں اسرائیلی میزائل حملے میں مارے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب میڈیا کے مطابق جنوری 2024 میں حماس کے سینئر اہلکار صالح العروری بیروت میں اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1140</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/31/4857c31d-oz69sx51ciici84oc64t5d.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 31 Jul 2024 06:41:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>انڈیا: ریاست کیرالہ میں مٹی کا تودہ گرنے سے 93 افراد ہلاک</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1139</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1139" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کی ریاست کیرالہ کے پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 93 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ سیکڑوں لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب پہاڑی علاقوں سے مٹی کا تودہ گرا جس کے بعد دو ہیلی کاپٹر اور 200 سے زائد فوجیوں کو امدادی کاموں کے لیے بھیجا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈین فوج نے بتایا کہ ’لینڈ سلائیڈنگ سے سیکڑوں افراد کے دبے ہونے اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈین ایکسپریس کے مطابق اب تک 93 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں  دو بچے بھی شامل ہیں۔ جب کہ 123 کے قریب لوگ زخمی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہندو اخبار نے نامعلوم عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ سے کئی  مکانات، گاڑیاں اور دکانیں کیچڑ اور پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق مرکزی پل بھی تباہ ہو گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2024/7/30/c64f28cc-16zpkthifers8kils2t4lr.jpeg" data-card-width="800" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2024/7/30/c64f28cc-16zpkthifers8kils2t4lr.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ’صورتحال سنگین ہے، ریسکیو آپریشن کے لیے حکومت نے تمام ایجنسیوں کو اطلاع کردی ہے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مٹی کے تودے گرنے سے ضلع کے کم از کم چار دیہات سے رابطہ منقطع ہو گیا، مسلسل بارشوں اور سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ تقریباً 350 خاندان متاثر ہوئے ہیں اور اب تک 250 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہیں کیرالہ میں ہونے والے واقعہ سے افسوس ہے اور انہوں نے ریاست کے وزیر اعلی پنارائی وجین سے’ہر ممکن مدد‘ کا یقین دلایا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس دوران اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  امید ہے کہ پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرلیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کی موسمیاتی ایجنسی نے مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پورے جنوبی ایشیا میں جون سے ستمبر تک ہونے والی مون سون کی بارشوں سے بڑے پیمانے پر موت اور تباہی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حالیہ برسوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے واقعات مزید ہونے کا خدشہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1139</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/30/5bce6a28-4idoay8085t7h7gqtk10p5.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 30 Jul 2024 07:48:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>دھوپ سے بچنے کے لیے سن اسکرین لگانا کیوں ضروری ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/life/1138</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/life/1138" rel="standout" />
      <category>لائف اینڈ اسٹائل </category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس تپتی گرمی میں اپنی جلد کا خیال کیسے رکھیں؟ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سن اسکرین یا سن بلاک کا استعمال ہماری جلد کو سورج کی خطرناک شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ سن بلاک کے بغیر دھوپ میں جانے سے آپ وقت سے پہلے بوڑھے ہوسکتے اور اسکن کینسر سمیت دیگر کئی بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سن اسکرین یا سن بلاک کے بارے میں مزید اس رپورٹ میں جانیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رپورٹ: اقرا حسین </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایڈیٹنگ: سید حمزہ علی </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/life/1138</link>
      <subcategory>لائف اینڈ اسٹائل </subcategory>
      <editor>اقرا حسین</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/29/8f291e56-g2du1p68dct4mjkw40ubv6.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 29 Jul 2024 16:22:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>گولان حملے کے بعد کیا اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ہوسکتی ہے؟ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1136</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1136" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کے پہاڑوں کے قریب فٹ بال میدان پر راکٹ حملے گرنے سے بچوں سمیت 12 اسرائیلی ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر جنگ کے خدشات میں بڑھ گئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل نے اس حملے کا الزام لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ پر عائد کیا ہے لیکن تنظیم نے اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کردی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اتوار کو اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے متعدد مقامات پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ گولان پہاڑیوں پر حملے کا سختی سے جواب دیا جائے گا، حزاب اللہ نے ’ریڈ لائن‘ عبور کی ہے جس کا اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس واقعے کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں اور یہ خطے کی صورتحال کے لیے کیوں اہم ہے؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">حزب اللہ اور اسرائیل کیوں لڑ رہے ہیں؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حزب اللہ نے 8 اکتوبر کو اسرائیل کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع کیا، جس دن حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا اور پھر غزہ کا تنازع جنگ میں تبدیل ہوگیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حماس کی اتحادی تنظیم حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر حملوں کا مقصد فلسطینیوں کی حمایت کرنا ہے، جہاں اسرائیل روزانہ غزہ میں بمباری کررہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ تنازع نے پورے خطے سے ایران کی حمایت یافتہ جنگجوؤں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ انہی میں سے ایک حزب اللہ، جسے ایران کے حمایت یافتہ نیٹ ورک کا سب سے اہم گروپ سمجھا جاتا ہے، مزاحمت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حزب اللہ کا کہنا ہے کہ جب تک غزہ میں جنگ بندی نہیں ہوتی وہ اسرائیل پر اپنے حملے نہیں روکے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آٹھ اکتوبر سے شروع ہونے والے تنازع سے قبل اسرائیل اور حزب اللہ ماضی میں کئی تنازعات کا شکار رہے ہیں جن میں آخری تنازع 2006 میں ہوا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل طویل عرصے سے حزب اللہ کو اپنی سرحدوں پر سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھتا رہا ہے۔ اسے حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے ہتھیاروں اور شام میں اس کی موجودگی پر بہت تشویش ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ گروپ 1982 میں ایران کے پاسداران انقلاب نے لبنان پر حملہ کرنے والی اسرائیلی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے بنایا تھا۔ حزب اللہ نے کئی سالوں گوریلا جنگ لڑی، جس کے نتیجے میں اسرائیل سال 2000 میں جنوبی لبنان سے نکل گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حزب اللہ اسرائیل کو فلسطینی سرزمین پر قائم ہونے والی ایک ناجائز ریاست سمجھتی ہے اور وہاں اس کا خاتمہ چاہتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">حالیہ حملے کا ذمہ دار کون ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اسے جائے وقوعہ پر ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی ساختہ فلق-ون راکٹ فٹبال کی پچ پر گرا تھا اور حزب اللہ کے ایک کمانڈر نے جنوبی لبنان کے علاقے شیبہ سے حملہ کرنے  کی ہدایت کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے بعد حزب اللہ نے فوری ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حملے میں ملوث  ہونے کی تردید کرتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حزب اللہ اس سے قبل اسرائیل پر کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے، آٹھ اکتوبر کو غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد تنظیم نے اب تک کئی  فلق اور کاتیوشا راکٹوں کا استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں گولان پر ملٹری ہیڈ کواٹر پر حملہ بھی شامل ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ایکسیوس نامی امریکی نیوز ویب سائٹ نے نامعلوم امریکی اہلکارکا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ حزب اللہ نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ یہ اسرائیل کا اینٹی راکٹ انٹرسیپٹر پروجیکٹ تھا جس نے فٹبال گراؤنڈ کو نشانہ بنایا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ حزب اللہ نے گولان کی پہاڑیوں پر راکٹ فائر کیے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ہوسکتی ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اسرائیلی فوج نے راتوں رات لبنان میں فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم گولان واقعے پر کیا ردعمل ہوگا اس کا فیصلہ اتوار کو اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔ اسرائیلی قانون کے مطابق فوجی کارروائی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ جو جنگ کا باعث بن سکتا ہے،  کابینہ ارکان کے اتفاق رائے پر مبنی ہونا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشرق وسطیٰ کے سیاسی تجزیہ کار عمر بدر نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ گولان حملہ یقینی طور پر ایک حادثہ تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے بتایا کہ ’یہ بات بھی اہم ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل دونوں  جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے۔ حقیقت جاننے کے لیے آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے لیکن حزب اللہ کی طرف تردید ایک اشارہ ہے کہ اگر یہ حزب اللہ کے راکٹ ہی نکلے تو ان کا مقصد فٹبال کھیل کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری طرف ٹوکیو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتونی بلنکن نے کہا کہ امریکا گولان واقعے کے بعد تنازع میں اضافہ نہیں چاہتا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات اٹلی میں متوقع ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انتونی بلنکن  نے کہا کہ ’ہم غزہ تنازعے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس تنازع کو بہت لمبہ عرصہ ہوچکا ہے جہاں کئی لوگوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ ہم اسرائیلیوں، فلسطینیوں، لبنانیوں کو تنازعات اور تشدد کے خطرے سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا ردعمل </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تہران نے گولان واقعے کو ایک ’من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو کسی بھی ’نئی مہم جوئی‘ کے خلاف خبردار کیا  ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج کی جوابی کارروائی سے خطے میں مزید عدم استحکام آئے گا اور جنگ میں اضافہ ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو صیہونی حکومت اس طرح کے احمقانہ رویے کے غیر متوقع نتائج اور رد عمل کے لیے ذمہ دار ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا اس سے غزہ جنگ بندی مذاکرات متاثر ہوں گے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو غزہ پر جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہونے والے تمام مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی کرنے والے سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز اس وقت یورپ میں ہیں۔ ان کے ساتھ روم میں قطر، مصر اور اسرائیل کے ہم منصب بھی شامل ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ کشیدگی مذاکرات کو متاثر کرے گی، لیکن غزہ تنازع سے متعلق بھی اب تک کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">غزہ جنگ پورے خطے میں بڑھتے ہوئے تنازعے کی بڑی وجہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ حزب اللہ سمیت ایران نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام بند کر دیتا ہے اور انسانی امداد کو داخلے کی اجازت دیتا ہے تو وہ بھی حملے کرنا بند کر دیں گے۔ </p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1136</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/29/5fa703b5-7kaeoneutmy4fj7otr83al.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 29 Jul 2024 08:50:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
  </channel>
</rss>