<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:content="https://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom">
  <channel>
    <title>Yenisafak UR</title>
    <link>http://ur.yenisafak.com</link>
    <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/rss-feeds?category=economy" rel="self" type="application/rss+xml" />
    <description>RSS Feed</description>
    <copyright>(c) 2026, Yenisafak UR</copyright>
    <lastBuildDate>Tue, 16 Jun 2026 10:59:01 GMT+3</lastBuildDate>
    <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 10:58:55 GMT+3</pubDate>
    <language>tr-TR</language>
    <image>
      <title>Yenisafak UR</title>
      <url>https://assets.yenisafak.com/yenisafak/wwwroot/images/site-icon/yenisafak-ur.png</url>
      <link>http://ur.yenisafak.com/</link>
    </image>
    <item>
      <title>ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے جہازوں کی 'ٹول فری' آمد و رفت شروع ہو گی: امریکہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2882</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2882" rel="standout" />
      <description>امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے جہازوں کو بغیر کوئی ٹول دیے گزرنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی معاشی فائدے کے حصول سے قبل معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمے داریاں اور وعدے پورے کرنا ہوں گے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ معاہدے کہ تحت ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 'ٹول' وصول نہیں کرے گا۔ البتہ بحری خدمات کے عوض فیس لینے کا اختیار برقرار رہے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز مفاہمتی یادداشت (جو کہ تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے) پر الیکٹرونک دستخط کر دیے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر ٹرمپ خود اس معاہدے پر ذاتی طور پر دستخط کرنا چاہتے تھے کیوں کہ وہ اس عمل سے اپنی مکمل وابستگی اور سنجیدگی کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ ایک عمومی دستاویز ہے۔ جے ڈی وینس جمعے کو جینیوا میں دستخط کی باضابطہ تقریب میں شرکت کریں گے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ معاہدے میں جنگ سے متاثرہ ملک کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ فنڈ کا بھی ذکر ہے۔ لیکن ان کے بقول رقم کی فراہمی ایران کی کارکردگی اور معاہدے پر عمل درآمد سے مشروط ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس معاہدے پر جمعے کو دستخط کے ساتھ ہی 60 روزہ مدت کا آغاز ہو جائے گا جس دوران ایران اور امریکہ ایک جامع اور مستقل امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تفصیلی مذاکرات کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ 'ہم پہلے جوہری معاملات پر بات کرنا چاہیں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ فوری توجہ کا مرکز ہے کیوں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اس کے عالمی معیشت پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آبنائے ہرمز کے انتظام کی عملی تفصیلات دونوں ممالک کے درمیان جاری تیکنیکی مذاکرات میں طے کی جائیں گی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک امریکی عہدے دار کے مطابق بحری جہازوں کی آمدورفت آئندہ چند ہفتوں میں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائے گی جبکہ ٹریفک میں پہلے ہی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2882</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/16/ea109bc1-arn-mehde-b-ay-z-s-jwn-tl-f-t-sh-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 10:58:55 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> ’سیاحت اقتصادی ترقی کا نیا ستون‘، انگولا میں عالمی سیاحت سرمایہ کاری سربراہی اجلاس</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2862</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2862" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>انگولا عالمی سرمایہ کاروں کو ایک واضح اور پراعتماد پیغام دے رہا ہے کہ سیاحت اب ملک کی ترقیاتی حکمتِ عملی کا ایک ثانوی شعبہ نہیں رہی، بلکہ اقتصادی تنوع، بین الاقوامی شناخت اور طویل المدتی ترقی کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک ستون کے طور پر ابھر رہی ہے۔</p><p><br></p><p>انگولا سیاحت کے شعبے کو اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے ایک اہم محرک کے طور پر پیش کرنے کی اپنی حکمت عملی کو مزید آگے بڑھا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا 18 اور 19 جون 2026 کو دارالحکومت لوانڈا میں منعقد ہوگی۔</p><p>سرکاری خبر رساں ادارے انگوپ کے مطابق انگولا جون میں اس بین الاقوامی سیاحتی سرمایہ کاری کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ جبکہ انگولا کے روزنامہ اخبار ’ڈی انگولا‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ورلڈ ٹورازم فورم انسٹیٹیوٹ کے صدر بلوت باغجی نے صدر ژواؤ لورینسو سے صدارتی دفتر میں ملاقات کی۔ ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سربراہی اجلاس نہ صرف سیاحت بلکہ حکومتی سطح پر بھی ایک اہم ترجیح بن چکا ہے۔</p><p>رپورٹ کے مطابق یہ اقدام محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت انگولا خود کو عالمی سطح پر ایک پرکشش سیاحتی اور سرمایہ کاری کے مقام کے طور پر متعارف کرا رہا ہے۔ حکومت سیاحت کو صرف تشہیری شعبہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، روزگار کے مواقع، برانڈنگ اور پائیدار اقتصادی نمو کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔</p><p>انگولا کے صدر ژواؤ لورینسو اس حکمت عملی کی کھل کر حمایت کر چکے ہیں۔ مارچ 2026 میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق حکومت نے سیاحت کے ترجیحی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے تقریباً 500 ملین یورو مختص کیے ہیں۔ اس پیکیج میں سڑکوں، بجلی اور صفائی ستھرائی کے منصوبے شامل ہیں، جن کا مقصد کابو لیڈو، موسولو، کالاندولا اور اوکاوانگو کے انگولائی حصے سمیت اہم سیاحتی مقامات میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔</p><p>ان حالات میں متوقع ہے کہ یہ سربراہی اجلاس سیاحت میں سرمایہ کاری، اسٹریٹجک شراکت داریوں اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے انگولا کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر اعلیٰ سطحی مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔</p><p><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/3/95002d74-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp" data-card-width="1251" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/3/95002d74-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp" data-card-caption="’سیاحت اقتصادی ترقی کا نیا ستون‘، انگولا میں عالمی سیاحت سرمایہ کاری سربراہی اجلاس"></p><p>افریقی ممالک جہاں سیاحت کو معیشت میں تنوع اور طویل المدتی استحکام کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، وہیں انگولا بھی اس شعبے میں زیادہ واضح وژن اور بلند عزائم کے ساتھ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p><p>انگولا کے صدر ژواؤ لورینسو نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک پیداواری سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے اور اصلاحات، مضبوط ادارہ جاتی تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرُعزم ہے۔</p><p>ان کا کہنا ہے کہ افریقی ملک انگولا سنجیدہ، دور اندیش اور شراکت داری کے لیے آنے والے سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ صدر لورینسو کے مطابق حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے اور بین الاقوامی شراکت داروں کو محفوظ اور کامیاب کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔</p><p><br></p><p>صدر نے کہا کہ سیاحت ان شعبوں میں شامل ہے جن کے ذریعے انگولا اپنی قومی صلاحیتوں کو روزگار، اقتصادی ترقی اور عالمی مسابقت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔</p><p><br></p><p>دوسری جانب انگولا کے وزیر سیاحت مارسیو ڈی جیسس لوپس ڈینیئل نے بھی ملک کی اقتصادی تنوع اور پائیدار ترقی میں سیاحت کے کردار کو کلیدی قرار دیا ہے۔</p><p>برلن میں منعقدہ ’آئی ٹی بی‘ برلن کے دوران ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سیاحت کو تیل پر انحصار کم کرنے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، مقامی آبادی کی معاونت اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔</p><p>وزیر سیاحت کے مطابق انگولا سیاحت کے شعبے میں ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صرف ملک کے قدرتی اور ثقافتی اثاثوں کو فروغ دینا نہیں بلکہ انہیں پائیدار سرمایہ کاری، مضبوط بین الاقوامی شراکت داریوں اور طویل المدتی اقتصادی فوائد میں تبدیل کرنا ہے۔</p><p>انہوں نے کہا کہ گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انگولا اعتماد، وژن اور واضح حکمت عملی کے ساتھ دنیا کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہے۔</p><p><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/3/9872233a-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp" data-card-width="1256" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/3/9872233a-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp"></p><p>ورلڈ ٹورازم فورم انسٹیٹیوٹ کے صدر بلوت باغجی نے کہا ہے کہ انگولا سیاحت اور سرمایہ کاری کے میدان میں ایک نئے اور اہم دور میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ملک خود کو صرف ایک سیاحتی منزل کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط سرمایہ کاری کی کہانی کے طور پر متعارف کرا رہا ہے۔</p><p>انہوں نے کہا کہ 18 اور 19 جون 2026 کو لوانڈا میں منعقد ہونے والا گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا عالمی سطح پر ملک کو مواقع، شراکت داری اور طویل المدتی وژن کے تناظر میں پیش کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔</p><p>بلوت باغجی کے مطابق ’انگولا صرف ایک ابھرتی ہوئی سیاحتی منزل نہیں بلکہ سیاحت میں سرمایہ کاری کے لیے ایک سنجیدہ اور پرکشش موقع بن کر سامنے آ رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ انگولا کے پاس وہ تمام عناصر موجود ہیں جو اسے افریقہ کے نمایاں سیاحتی سرمایہ کاری مراکز میں شامل کر سکتے ہیں۔‘</p><p><br></p><p>انہوں نے کہا کہ انگولا کی سیاحتی صلاحیت کو صرف سیاحوں کی آمد تک محدود نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے معیشت کے وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، جس میں ہوٹل انڈسٹری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، فضائی رابطے، سرمایہ کاروں کا اعتماد، بین الاقوامی تشہیر اور پائیدار اقتصادی ترقی شامل ہیں۔</p><p><br></p><p>بلوت باغجی کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں سیاحت صرف سیاحوں کی تعداد کا نام نہیں بلکہ یہ سرمایہ کاری، روزگار، عالمی شناخت اور پائیدار اقتصادی قدر پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔</p><p>انہوں نے مزید کہا کہ انگولا کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ ایسا نیا ماڈل تشکیل دے جس میں سیاحت اقتصادی تنوع کو فروغ دے، عالمی سطح پر ملک کی شناخت مضبوط کرے اور نجی شعبے کے ساتھ بامعنی شراکت داریوں کی بنیاد رکھے۔</p><p>ماہرین کے مطابق اس سربراہی اجلاس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افریقہ بھر میں سیاحت کو محض ایک موسمی یا تشہیری سرگرمی کے بجائے قومی ترقی، بین الاقوامی تشخص اور نجی شعبے کی شمولیت کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p><p>رپورٹس کے مطابق انگولا کی موجودہ حکومتی پالیسیوں، ادارہ جاتی حمایت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک خود کو اس نئے اور مسابقتی منظرنامے میں ایک مضبوط مقام دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p><p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلوبل ٹورازم فورم انویسٹمنٹ سمٹ انگولا کی اصل اہمیت صرف بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور شراکت داروں کو لوانڈا لانے تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ اس سے پیدا ہونے والی نئی شراکت داریوں، ترقیاتی منصوبوں اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے مواقع میں بھی مضمر ہے۔</p><p><br></p><p>ان پیش رفتوں کے تناظر میں انگولا بتدریج افریقہ کے ان ممالک میں شامل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جنہیں سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ابھرتے ہوئے اہم مراکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2862</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/3/febe87b2-saht-qsd-r-n-w-l-mn-e-h-b-j.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 04:40:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>استنبول فنانشل سینٹر نے ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں تین بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کر لیے
</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2861</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2861" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>استنبول فنانشل سینٹر (آئی ایف سی ) نے امریکی ادارے انٹرنیشنل ایوارڈ ایسوسی ایٹ (آئی اے اے ) کی جانب سے منعقدہ ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں تین مختلف شعبوں میں ایوارڈز حاصل کر کے عالمی رئیل سٹیٹ سیکٹر میں ایک اہم کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔</p><p>رئیل اسٹیٹ، کنسٹرکشن اور انٹیریئر ڈیزائن کے شعبوں میں دنیا کے نمایاں منصوبوں کا جائزہ لینے والے اس بین الاقوامی پروگرام میں استنبول فنانشل سینٹر کو کمرشل ہائی رائز، ’مکش یوز، آفس ڈیویلپمنٹ  کیٹیگریز میں اعزازات سے نوازا گیا۔</p><p>بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے مربوط ایک مضبوط ماحولیاتی نظام فراہم کرنے کے لیے قائم استنبول فنانشل سینٹر نے ان ایوارڈز کے ذریعے خود کو عالمی معیار کے رئیل اسٹیٹ، دفتری اور کثیر المقاصد ترقیاتی منصوبے کے طور پر مزید نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ </p><p>گزشتہ پانچ برسوں میں مکمل ہونے والے منصوبوں کو تخلیقی صلاحیت، معیار اور وژن کی بنیاد پر جانچنے والے ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں استنبول فنانشل سینٹر نے اپنے مربوط شہری منصوبہ بندی کے ماڈل کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔</p><p><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/6/2/e4f76343-astnbwl-fsh-tr-e-y-p-dz-mn-q-e-.webp" data-card-width="1024" data-card-height="768" data-card-path="/piri/upload/3/2026/6/2/e4f76343-astnbwl-fsh-tr-e-y-p-dz-mn-q-e-.webp" data-card-caption="استنبول فنانشل سینٹر نے ’ٹائٹن پراپرٹی ایوارڈز‘ میں تین بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کر لیے">رہائشی، تجارتی، دفتری، تفریحی اور عوامی سہولیات کو ایک ہی جامع منصوبے کے تحت یکجا کرنے والے استنبول فنانشل سینٹر کو مکسڈ یوز ڈیویلپمنٹ اور کمرشل ہائی رائز کیٹیگریز میں اعلیٰ ترین اعزاز ’پلاٹینم ونر‘ دیا گیا۔</p><p>اسی طرح دفتری ڈیزائن، صارفین کے تجربے اور اعلیٰ معیار کے ورک اسپیسز کے اعتراف میں آفس ڈیویلپمنٹ کیٹیگری میں ’گولڈ ونر‘ ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔</p><p><br></p><h4>استنبول فنانشل سینٹر کیا ہے؟</h4><p><br></p><p>بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ مربوط ایک مضبوط مالیاتی ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا استنبول فنانشل سینٹر قلیل مدت میں علاقائی اور عالمی مالیاتی مرکز بننے کے وژن کے تحت کام کر رہا ہے۔</p><p>اس مرکز میں سرکاری و نجی بینکوں، اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیوں، بروکریج اداروں، انشورنس کمپنیوں اور پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ایک ہی جگہ پر جمع کیا گیا ہے۔</p><p>ترکیہ کے مرکزی بینک (سی بی آر ٹی) اور بینکنگ ریگولیشن اینڈ سپرویژن ایجنسی (بی آر ایس اے) سمیت کئی اہم مالیاتی ادارے پہلے ہی یہاں منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ کیپیٹل مارکیٹس بورڈ آف ترکیہ (سی بی ایم) اور بورسا استنبول کی بھی 2027 تک یہاں منتقلی متوقع ہے۔</p><p>1.3 ملین مربع میٹر دفتری رقبے، 100 ہزار مربع میٹر تجارتی و سماجی سرگرمیوں کے لیے مختص علاقے اور ایک کانگریس سینٹر پر مشتمل یہ منصوبہ کاروباری برادری کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک جامع ماحول فراہم کرتا ہے۔</p><p>سمارٹ سٹی تصور کے تحت تیار کیا گیا استنبول فنانشل سینٹر اعلیٰ آپریشنل استحکام کے ساتھ ترکیہ کی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والا ایک اسٹریٹجک مرکز بن چکا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2861</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/6/2/30600b10-astnbwl-fsh-tr-e-y-p-dz-mn-q-e-.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 16:39:38 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ خلیجِ فارس میں پھنسے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکلنے میں مدد دے گا، ایرانی فوج کی غیر ملکی فورسز کو نشانہ بنانے کی تنبیہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2825</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2825" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی خلیجِ فارس سے نکلنے میں مدد کرے گا۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کی جانب سے اس منصوبے کی کوئی واضح تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر اتوار کو جاری بیان ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ان ملکوں کو کہا ہے کہ ہم اس آبی گزرگاہ سے  بحفاظت طور پر نکلنے کے لیے جہازوں کی رہنمائی کریں گے۔ تاکہ وہ آزادانہ اپنے کاروبار سرانجام دے سکیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ 'پروجیکٹ فریڈم' کا آغاز پیر کی صبح سے ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے دھمکی بھی دی کہ اگر اس آپریشن کے دوران کوئی مداخلت ہوئی تو اس سے پوری قوت سے نمٹا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سے خلیجِ فارس میں سینکڑوں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جن پر موجود عملے کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق وہ 15 ہزار فوجی اہلکاروں اور 100 سے زیادہ ہوائی جہازوں کے علاوہ جنگی کشتیوں اور ڈرونز کی مدد سے آبنائے ہرمز سے نکلنے میں جہازوں کی مدد کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اپنے بیان میں کہا کہ 'علاقائی سیکیورٹی اور عالمی معیشت کی خاطر اس دفاعی مشن کے لیے ہماری حمایت ضروری ہے جب کہ ہم ایران کی بحری ناکہ بندی بھی برقرار رکھیں گے۔' </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا ردعمل</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فورسز آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے باز رہیں۔ ایرانی فوج کی مرکزی کمان کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فورسز کسی بھی خطرے سے 'سختی سے نمٹیں گی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی فوج کی مرکزی کمانڈ کے سربراہ علی عبداللہی نے بیان میں کہا کہ 'ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی ہمارے ہاتھوں میں ہے اور جہازوں کو محفوظ راستے سے گزرنے کے لیے مسلح افواج سے تعاون کرنا ہوگا۔ آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی کسی بھی غیر ملکی مسلح فورس کو نشانہ بنایا جائے گا۔ خصوصاً امریکی فوج کو۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس اعلان کے بعد برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ ہوا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">جہاز پر حملے کی اطلاعات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایجنسی کے مطابق جہاز پر حملہ فجیرہ کی بندرگاہ سے کچھ فاصلے پر ہوا تاہم حملے میں عملہ محفوظ رہا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کیا تھا اور وہ اب تک مؤثر طریقے سے اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول رکھنے میں کامیاب ہے۔ جب کہ جواب میں امریکہ نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کر رکھی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنانے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کے قیام کی تجویز پیش کیے جانے اور دیگر ملکوں سے مدد مانگنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سینٹ کام نے کہا ہے کہ حالیہ کوششوں میں 'سفارتی اقدامات کے ساتھ فوجی تعاون بھی شامل ہوگا۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2825</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/4/0d90023c-54cwir15orxoxbnb668anc.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 04 May 2026 09:50:53 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>جرمنی: ماحولیاتی ٹیکنالوجی کی نمائش میں ترکش کمپنی کادیمے کی شرکت
</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2827</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2827" rel="standout" />
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>جرمنی کے شہر میونخ میں منعقد ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی ماحولیاتی ٹیکنالوجی نمائش افت 2026 میں ترکش کمپنی کادیمے نے بھی شرکت کی ہے۔ 4 سے 7 مئی 2026 تک جرمنی کے شہر میونخ میں جاری اس نمائش کے پہلے ہی روز کادیمے کے پیش کردہ جدید آلات اور ٹیکنالوجی کو شرکا کی جانب سے غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔پانی، سیوریج، ویسٹ مینجمنٹ اور خام مال کے شعبوں سے متعلق اس عالمی نمائش میں کادیمے نے اپنی مقامی انجینئرنگ سے تیار کردہ روڈ سویپرز، الیکٹرک روڈ سویپرز اور ہائیڈرولک کمپیکٹر ویسٹ گاڑیاں بین الاقوامی ماہرین کے سامنے پیش کیں۔ نمائش کے پہلے دن ہی سٹال پر آنے والوں کی بڑی تعداد کمپنی کی عالمی مارکیٹ میں مضبوط پوزیشن کو واضح کرتی ہے۔البیئراک گروپ کے بورڈ ممبر محمد فاتح البیراک نے اس موقع پر کہا ہے کہ ’ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم افت (IFAT)  جیسے دنیا کے معتبر ترین پلیٹ فارمز میں سے ایک پر اپنی مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کردہ مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔ اس سال ہم نے اپنے سٹال کے رقبے کو تقریباً دوگنا کر دیا ہے۔ کادیمے کے طور پر ہم نہ صرف ترکیہ بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘</p><p><br></p><h5>الیکٹرک گاڑیاں توجہ کا مرکز</h5><p><br></p><p>نمائش میں خاص طور پر کادیمے کی الیکٹرک کمپیکٹ روڈ سویپر گاڑی نے نمائش میں آنے والوں  کی بھرپور توجہ حاصل کی، کیونکہ دنیا بھر میں ماحول دوست اور پائیدار ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ گاڑی بہتر آپریشن، آلودگی کے اخراج اور اعلیٰ کارکردگی کی بدولت مستقبل کے شہروں کے لیے ایک مؤثر حل کے طور پر سامنے آئی ہے۔</p><p><br></p><p>محمد فاتح البیراک نے مزید کہا ہے کہ ’ہماری الیکٹرک مصنوعات طویل مدتی تحقیق و ترقی کا نتیجہ ہیں۔ نمائش کے پہلے ہی دن ملنے والا مثبت ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم درست سمت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ہم صاف اور قابلِ رہائش شہروں کے لیے جدید حل فراہم کرتے رہیں گے۔‘</p><p><br></p><h4>کادیمے کے عالمی اہداف</h4><p><br></p><p>2011 میں قائم ہونے والی کادیمے مختصر عرصے میں اس شعبے کی تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہو چکی ہے اور اس وقت 65 سے زائد ممالک کو برآمدات کر رہی ہے۔ افت (IFAT) 2026  اس کمپنی کے لیے موجودہ شراکت داریوں کو مضبوط بنانے اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔</p><p><br></p><p>محمد فاتح البیراک نے مزید کہا ہے کہ ’ہم اپنی مقامی پیداوار سے تیار کردہ ٹیکنالوجی کو عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہوئے اپنے ملک کے لیے قدر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ نمائش ہمارے عالمی ترقی کے اہداف کے لیے نئی شراکت داریوں کی راہ ہموار کرے گا۔‘</p><p>کادیمے IFAT 2026 کے دوران اپنی جدید مصنوعات اور پائیدار حل کے ساتھ بین الاقوامی ماہرین کا خیرمقدم جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2827</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/5/4/e68c6f3f-odgigtja0i3o8ydv4559n.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 04 May 2026 03:46:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ کے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے دیگر ملکوں سے رابطے، بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی تجویز</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2822</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2822" rel="standout" />
      <description>امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے بین الاقوامی برادری رابطے شروع کر دیے ہیں اور وہ کئی ملکوں پر زور دے رہا ہے کہ ایک اتحاد قائم کر کے اس بحری راستے پر آزادانہ نقل و حرکت کو بحال کریں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اس نے امریکی محکمۂ خارجہ کا ایک مراسلہ دیکھا ہے جس میں ملکوں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کو دو ماہ ہو چکے ہیں اور اس عرصے کے دوران یہ اہم آبی گزرگاہ بند رہی ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کا 20 فیصد تیل و گیس گزرتا ہے۔ اس کی بندش سے دنیا بھر میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">محکمۂ خارجہ کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ دیگر ملکوں کو ایک نئے بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کی دعوت دے رہا ہے۔ یہ اتحاد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مراسلے کے مطابق یہ مجوزہ اتحاد جسے 'میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ' کا نام دیا گیا ہے، معلومات کے تبادلے، سفارتی رابطے برقرار رکھنے اور پابندیوں کے نفاذ میں مدد دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فرانس، برطانیہ اور دیگر ملکوں نے بھی ایک ایسا ہی اتحاد قائم کرنے کی بات کی ہے لیکن انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اتحاد جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے قائم کیا جا سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران واضح کر چکا ہے کہ جب تک اس کے لیے خطرہ موجود ہے اور حملے جاری ہیں، وہ آبنائے ہرمز بند رکھے گا جس سے خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔ </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2822</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/30/46d622f8-fgwscejryhrjauaoohqond.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 11:05:52 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>متحدہ عرب امارات کی 'اوپیک' سے علیحدگی کیا ٹرمپ کی جیت ہے اور اس کے اثرات کیا ہوں گے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2820</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2820" rel="standout" />
      <description>متحدہ عرب امارات نے منگل کو تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم 'اوپیک' اور 'اوپیک پلس' سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے جس کا اطلاق یکم مئی سے ہوگا۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے سے نہ صرف اوپیک کا تیل کی عالمی پیداوار پر کنٹرول کمزور ہوگا بلکہ امارات اور سعودی عرب کے تعلقات میں دوریاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی عرب کو اوپیک میں شامل ملکوں اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں نمایاں مقام اور لیڈر کی حیثیت حاصل ہے جب کہ متحدہ عرب امارات تیل پیدا کرنے والے بڑے ملکوں میں شامل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اوپیک میں شامل ملکوں کا تیل کی پیداوار کے لیے ایک کوٹا مختص ہے تاہم اوپیک سے علیحدگی کے بعد اب امارات اس پابندی سے بھی آزاد ہوگا اور وہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات کے وزیرِ توانائی سہیل محمد المزروئی نے رائٹرز کو انٹرویو میں کہا ہے کہ اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ ملک کی توانائی کی حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ امارات نے اس مسئلے پر کسی اور ملک سے مشاورت نہیں کی۔ وزیر توانائی کے بقول 'یہ پالیسی سے متعلق فیصلہ تھا جو پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی پالیسیوں اور صورت حال کے باریک بینی سے جائزے کے بعد لیا گیا ہے۔' </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو مزید توانائی کی ضرورت ہو گی اور متحدہ عرب امارات اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سامنے آ سکے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اماراتی وزیرِ توانائی کے بقول انہیں اس فیصلے کے تیل کی عالمی منڈی پر اثرات کی توقع نہیں ہے کیوں کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا امارات کا یہ فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ کی فتح ہے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم پر الزام لگایا تھا کہ وہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے 'باقی پوری دنیا کو لوٹ رہی ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اوپیک کے ممبران کا دفاع کر رہا ہے جب کہ وہ 'تیل کی زیادہ قیمتیں لے کر اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔' </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات کی اوپیک سے علیحدگی ایک طرح سے ٹرمپ کی فتح کو ظاہر کرتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امارات کا یہ اقدام صارفین اور معیشتوں کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے متحدہ عرب امارات کے لیے زیادہ مارکیٹ شیئر کے دروازے کھلیں گے اور جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال معمول پر آئے گی تو امارات اس فیصلے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک سے علیحدہ رہ کر متحدہ عرب امارات زیادہ تیل پیدا کر سکتا ہے جو اسے فائدہ پہنچائے گا۔ اور اس سے سعودی عرب کے کردار کے برقرار رہنے پر بھی سوالات کھڑے ہوں گے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امارات اور سعودی عرب کے درمیان گہری ہوتی خلیج</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، ماضی کے حلیف اب حریف میں بدل گئے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تیل کی پالیسی اور علاقائی جیوپالیٹیکس سمیت کئی معاملات پر کھلے اختلافات ہیں جس سے دونوں کے درمیان خلیج گہری ہو رہی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات کو خطے میں ایک کاروباری مرکز اور معاشی حب کا مقام حاصل ہے اور وہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اہم ترین اتحادیوں میں بھی شامل ہے۔ امارات نے جارحانہ خارجہ پالیسی اپنائی ہے اور اپنے اثر و رسوخ کا دائرہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک پھیلا دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران جنگ کے دوران تہران کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد امارات نے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات ان اولین ملکوں میں شامل تھا جنہوں نے ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے 2020 میں اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات حال ہی میں یمن کے معاملے پر بھی عیاں ہوئے تھے۔ دونوں ماضی میں یمن میں ایک اتحادی کے طور پر جنگ میں شامل ہوئے تھے تاہم اب مخالف فریقین کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2820</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/29/1976d479-r0g3iwpcan9b113ui8jls8.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 12:33:49 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے نقصان اٹھانے والی انڈین ایئرلائنز مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور تیل کی بڑھتی قیمتوں سے دوہری مشکلات کا شکار</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2819</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2819" rel="standout" />
      <description>انڈین ایئرلائنز کی تنظیم نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ انڈیا کی ایوی ایشن انڈسٹری مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے اب بندش کے دہانے پر پہنچ گئی ہے اور کسی بھی وقت آپریشنز بند ہو سکتے ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ جیسی بڑی انڈین ایئرلائنز کی نمائندگی کرنے والی تنظیم 'فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز' نے 26 اپریل کو ملک کی وزارتِ ہوابازی کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈین میڈیا کے مطابق ایئرلائنز نے حکومت سے جہازوں کے فیول پر عائد 11 فیصد ایکسائز ڈیوٹی مؤخر کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایئر لائن چلانے کے اخراجات میں فیول کی لاگت تقریباً 40 فیصد ہوتی ہے۔ اپنے خط میں ایئرلائنز کی تنظیم نے کہا ہے کہ 'ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ایئرلائنز کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا جس سے طیارے گراؤنڈ کرنے پڑیں گے اور پروازیں منسوخ ہوں گی۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خط میں فضائی آپریشن جاری رکھنے کے لیے حکومت سے فوری مداخلت اور مدد کی درخواست بھی کی گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ انڈین ایئرلائنز پہلے ہی پاکستانی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے نقصان کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس دوران مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ان کے کاروبار کو مزید چوٹ پہنچائی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان نے گزشتہ سال اپریل میں انڈیا سے جھڑپوں کے بعد سے انڈین ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے جس کی وجہ سے ہر ہفتے انڈین ایئرلائنز کی تقریباً 800 پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایئرانڈیا نے پاکستانی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے تقریباً 60 کروڑ ڈالر سالانہ نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2819</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/29/01afe347-nyp7xse1svmrhld9rkg6.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 11:35:34 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ترک کمپنی 'الپورٹ' نے استوائی گنی میں مالابو اور باتا بندرگاہوں کا کنٹرول سنبھال لیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2802</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2802" rel="standout" />
      <description>ترکیہ کی افریقہ میں میری ٹائم اور لاجسٹک انفراسٹرکچر میں موجودگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ترکیہ کے البائراک گروپ کے بین الاقوامی بندرگاہی برانڈ 'الپورٹ' نے استوائی گنی کی دو بڑی بندرگاہوں مالابو اور باتا کا باضابطہ کنٹرول سنبھال لیا ہے۔</description>
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تقریباً دو سال تک جاری رہنے والے مذاکرات اور باہمی دوروں کے بعد 13 نومبر 2024 کو ہونے والے معاہدے کے تحت منتقلی کا عمل مکمل کر لیا گیا جس کے بعد یکم اپریل 2026 سے بندرگاہی آپریشنز الپورٹ استوائی گنی کے حوالے کر دیے گئے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اعلیٰ سطحی تقریب میں بندرگاہ کے انتظام کی منتقلی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آپریشن کی منتقلی کے حوالے سے تقریب دارالحکومت مالابو میں منعقد ہوئی۔ صدارتی محل میں سرکاری استقبال کے بعد وزیر اعظم آفس میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں حکومتی شخصیات، ترک سفارتی مشن اور البائراک گروپ کے نمائندے شریک ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شرکا میں استوائی گنی کے وزیر اعظم مانوئیل اوسا زوئے زوا کے علاوہ وزیرِ ٹرانسپورٹ ہونارتو اویتا اوما اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ ترکیہ کی نمائندگی سفیر احمت ارگن نے کی جب کہ نائب سفیر عائشے ایسی بجاکچی کے علاوہ سفارت خانے کے دیگر عہدے داران بھی موجود تھے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/20/09859201-s8hj66hdlw8534hakx8a3.webp" data-card-width="1112" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/20/09859201-s8hj66hdlw8534hakx8a3.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">البائراک گروپ کی جانب سے نائب چیئرمین نوری البائراک، بورڈ ممبر فاروق البائراک، الپورٹ پورٹس کے جنرل کوآرڈینیٹر مصطفیٰ لیونت ادالی اور استوائی گنی کے کنٹری مینیجر علی فوات اور دیگر عہدے داران بھی تقریب میں موجود تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">معاہدے کے تحت مالابو اور باتا بندرگاہوں کے 25 سال تک آپریشن، جدیدکاری اور ترقی کی ذمے داری الپورٹ کے سپرد کی گئی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">خلیجِ گنی میں اسٹریٹجک اہمیت</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">باتا اور مالابو بندرگاہیں خلیج گنی کے ساحل پر واقع ہیں اور وسطی افریقہ کے لیے اہم تجارتی راستہ سمجھی جاتی ہیں۔ الپورٹ کا ہدف ان بندرگاہوں کے ذریعے چاروں طرف سے زمین  سے گھرے ممالک جیسے چاڈ اور وسطی افریقی جمہوریہ تک رسائی کو بہتر بنانا اور علاقائی تجارتی راہداریوں کو فروغ دینا ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/20/f48a2c6e-m5zrvdn51ogummz7kqamc.webp" data-card-width="1209" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/20/f48a2c6e-m5zrvdn51ogummz7kqamc.webp" data-card-caption="مالابو بندرگاہ کا ایک منظر"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">عالمی سطح پر ترکیہ کی بندرگاہی موجودگی میں اضافہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ترکیہ کے نجی شعبے کے ذریعے عالمی بندرگاہی نظام میں بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ البائراک گروپ نے اپنی بندرگاہی سرگرمیوں کا آغاز ترکیہ میں طرابزون بندرگاہ سے کیا تھا جس کے بعد اس نے عالمی سطح پر الپورٹ کے ذریعے وسعت حاصل کی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمپنی نے 2014 میں موغادیشو بندرگاہ کے ساتھ افریقہ میں قدم رکھا، جس کے بعد گنی میں کوناکری، گیمبیا میں بنجول اور کانگو میں پوائنٹ نوائر بندرگاہوں کا انتظام سنبھالا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عالمی بینک کے مطابق کوناکری اور موغادیشو کی بندرگاہیں حالیہ برسوں میں اپنے ذیلی خطے کی بہترین کارکردگی دکھانے والی بندرگاہیں قرار دی گئی ہیں جو الپورٹ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">افریقہ سے باہر، الپورٹ باکو بندرگاہ بھی چلا رہا ہے جس سے یوریشین تجارتی راستوں میں اس کی موجودگی مضبوط ہو رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمپنی نے حال ہی میں ترکیہ ویلتھ فنڈ کے ساتھ السانکک پورٹ کے کنٹینر اور جنرل کارگو ٹرمینل کے آپریشن کے لیے بھی معاہدہ کیا ہے جس کا مقصد بندرگاہ کی جدیدکاری اور گنجائش میں اضافہ ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/20/49bcf723-z9oqr0ih7kswxq0fb9m9j.webp" data-card-width="1201" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/20/49bcf723-z9oqr0ih7kswxq0fb9m9j.webp" data-card-caption="مالابو بندرگاہ"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">افریقہ میں کثیر شعبہ جاتی سرمایہ کاری</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">البائراک گروپ بندرگاہوں کے علاوہ افریقہ میں مختلف شعبوں میں بھی سرگرم ہے۔ جن میں صومالیہ میں تعمیرات، گنی میں زراعت و شہری خدمات، کانگو میں ویسٹ مینجمنٹ اور مراکش میں ٹیکسٹائل انڈسٹری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لیبیا، گیمبیا اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کے مطابق ترکیہ کی افریقہ میں بڑھتی ہوئی بندرگاہی سرمایہ کاری نہ صرف تجارتی بلکہ اسٹریٹجک لحاظ سے بھی اہم ہے جو نئے تجارتی راستوں اور لاجسٹک نیٹ ورکس کو فروغ دے رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مالابو اور باتا بندرگاہوں کا الپورٹ کے حوالے کیا جانا ترکیہ کی افریقہ میں بڑھتی ہوئی بندرگاہی اور لاجسٹک حکمتِ عملی کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2802</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/20/840c4515-0piu7je5yrqq0scshi47ama.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 15:47:21 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کیا ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2797</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2797" rel="standout" />
      <description>ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر کے وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کے لیے ٹول ٹیکس لگانے کا عندیہ دیا ہے۔ لیکن کیا ایران قانونی طور پر ایسا کرنے کا حق رکھتا ہے اور بین الاقوامی قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ آئیے اس کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان ایک تنگ سمندری راستہ ہے جو خلیجِ عمان کو خلیجِ فارس سے جوڑتا ہے۔ یہ آبنائے صرف 167 کلو میٹر طویل ہے لیکن اس کی چوڑائی کہیں زیادہ اور کہیں بہت کم ہے۔ سب سے تنگ جگہ پر اس کی چوڑائی اتنی کم ہے کہ جہازوں کے گزرنے کے لیے صرف دو میل کے چینلز ہیں جن کے درمیان دو میل کا فاصلہ بفرزون کے طور پر رکھا گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کم چوڑائی کی وجہ سے ہی ایران نے اسے مؤثر طریقے سے کنٹرول کر رکھا ہے اور وہ مطالبہ کر رہا ہے کہ یہاں سے گزرنے والے جہاز اسے ٹول ٹیکس ادا کریں۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/16/a4b69768-judtwyrzxucipenmy61h7m.webp" data-card-width="800" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/16/a4b69768-judtwyrzxucipenmy61h7m.webp"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس آبی گزرگاہ پر کون سے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقوامِ متحدہ کا 'لا آف سی' یعنی سمندروں سے متعلق قانون ہے جو 1982 میں بنایا گیا تھا اور 1994 سے اس کا اطلاق شروع ہوا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کا آرٹیکل 38 بحری جہازوں کو دنیا بھر میں 100 سے زیادہ آبناؤں سے بلا روک ٹوک گزرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ اس میں آبنائے ہرمز بھی شامل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس بین الاقوامی معاہدے کے تحت آبنائے سے متصل ملک اپنے 'علاقائی سمندر' میں، جو سرحد سے 12 ناٹیکل میل تک ہوتا ہے، آمد و رفت کو منظم کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم اسے 'بے ضرر گزرگاہ یا انوسنٹ پیسج کی اجازت دینا لازمی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بے ضرر گزرگاہ سے مراد ایسی آمدورفت ہے جو اس ملک کے امن، نظم و ضبط اور سلامتی کے لیے خطرہ نہ ہو۔ اس گزرگاہ کے ذریعے فوجی کارروائیاں، سنگین آلودگی، جاسوسی اور ماہی گیری کی اجازت نہیں ہوتی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لا آف سی یا سمندوں کے بین الاقوامی قوانین کو تقریباً 170 ممالک اور یورپی یونین اس معاہدے کی توثیق کر چکے ہیں لیکن تاہم ایران اور امریکہ نے اسے اب تک باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی لیے یہ مسئلہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا یہ بین الاقوامی قوانین تمام ملکوں پر لاگو ہوں گے یا صرف ان پر جو انہیں مانتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ عمومی طور پر بین الاقوامی ہی تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ ملک جنہوں نے اس کی توثیق نہیں کی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ وہ اس کے پابند نہیں۔ کیونکہ وہ مستقل طور پر ان قوانین پر اعتراض اٹھاتے رہے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا بھی کہنا ہے کہ اس نے بھی کئی اعتراضات اٹھائے ہیں اور اس قانون کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔ لیکن امریکہ ایران کے اس اختیار کو تسلیم نہیں کرتا کہ وہ آبناؤں سے گزرنے پر ٹیکس عائد کرے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹول ٹیکس کو کیسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لا آف سی کے نفاذ کے لیے کوئی باضابطہ طریقۂ کار موجود نہیں ہے۔ اس معاہدے کے تحت قائم جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں واقع 'انٹرنیشنل ٹریبیونل فور لا آف سی' اور نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالتِ انصاف فیصلے تو دے سکتے ہیں لیکن  انہیں نافذ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">البتہ ممالک اور کمپنیاں ٹول ٹیکس کے خلاف دیگر اقدامات کر سکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کے مطابق کوئی ملک یا ممالک کا اتحاد اس معاہدے پر عمل درآمد کرانے کی کوشش کر سکتا ہے جب کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ٹول کے خلاف قرارداد بھی منظور کر سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب کمپنیاں اپنی ترسیلات کو آبنائے ہرمز کے بجائے متبادل راستوں پر منتقل کر سکتی ہیں اور بعض نے ایسا کرنا شروع بھی کر دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مزید یہ کہ کچھ ممالک ایران کی حکومت کو فائدہ پہنچانے والے مالی لین دین پر پابندیاں سخت کر سکتے ہیں، مثلاً اُن کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں جو ٹول ٹیکس ادا کرنے پر آمادہ ہوں تاکہ ایران کو دباؤ میں لا کر ٹول ختم کرایا جا سکے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2797</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/16/2722a037-awwhzpn4vxure3zy4zbsc.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 14:24:04 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کوراد-ون منصوبہ صومالیہ کے شعبہ توانائی کے لیے نئے دور کا آغاز ہے: ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائیراکتر</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2789</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2789" rel="standout" />
      <description>ترکیہ کے وزیر توانائی و قدرتی وسائل الپ أرسلان بائیراکتر نے کہا ہے کہ کوراد-ون منصوبے کے آغاز کے ساتھ صومالیہ کے توانائی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔</description>
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیر توانائی کے مطابق کوراد-1 ترکیہ کا پہلا آف شور کنواں ہے جو صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سے تقریباً 372 کلومیٹر دور واقع ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">موغادیشو بندرگاہ پر ڈرل شپ "چاغری بے" کی آمد کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس جہاز کی آمد صومالیہ کے پانیوں میں ترکیہ کی توانائی تلاش کی کوششوں کے ایک نئے مرحلے کی نشان دہی کرتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ کوراد-1 کنواں ترکیہ کی بیرونِ ملک توانائی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ کیونکہ اب صومالیہ کے ساحل کے قریب گہرے سمندری علاقوں میں باضابطہ طور پر تلاش کا عمل شروع ہو رہا ہے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2789</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/10/c32aec08-47e0envpeetzuekcorufhf.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 19:00:18 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>'پاکستان کی درخواست پر' امریکہ اور ایران دو ہفتوں کی جنگ بندی پر راضی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی اونچی اڑان اور تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2786</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2786" rel="standout" />
      <description>ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد تہران میں جشن منایا جا رہا ہے۔ جب کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کی مذاکراتی ٹیموں کو جمعے کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے تاکہ جنگ کے مستقل حل کے لیے شرائط پر بات چیت ہو سکے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بدھ کی علی الصبح حملوں کے لیے دی گئی امریکی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا جس کی ایران نے بھی تصدیق کی۔ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا بالخصوص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی ان کی درخواست پر کی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2041691042630811855" data-url="https://t.co/gg7FOMqVBl" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Iranians in the capital city of Tehran, celebrate Iran’s victory in the American-Zionist-imposed war following the announcement of a two-week ceasefire. &lt;a href=&quot;https://t.co/gg7FOMqVBl&quot;&gt;pic.twitter.com/gg7FOMqVBl&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Iran in India (@Iran_in_India) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/Iran_in_India/status/2041691042630811855?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;April 8, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/gg7FOMqVBl</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں تمام فریقین سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کا بیان</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے ان سے درخواست کی کہ وہ آج رات ایران پر حملے نہ کریں، اس شرط کے ساتھ کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کے لیے رضا مند ہو۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/8/7922d6df-bc7pidn8dxlp74qf0z5nb.webp" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/8/7922d6df-bc7pidn8dxlp74qf0z5nb.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ معطل کرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم پہلے ہی تمام فوجی اہداف حاصل کر چکے ہیں اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک حتمی معاہدے پر کافی کام کر چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر نے کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ماضی کے تنازعات کے تقریباً تمام مختلف نکات پر امریکہ اور ایران میں اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم دو ہفتوں کی یہ مدت معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اسے عملی جامہ پہنانے میں مدد دے گی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایران کی جانب سے بھی جنگ بندی پر اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر سرکاری بیان جاری کیا گیا جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پر بھی شیئر کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان تھک کوششیں کیں۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/8/be45ef81-hfvqiorxcaagejc.webp" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/8/be45ef81-hfvqiorxcaagejc.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عباس عراقچی نے مزید کہا کہ وہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے باضابطہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ اگر ایران کے خلاف حملے روکے جاتے ہیں تو ہماری مسلح افواج اپنی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔ دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی تاہم اس سے گزرنے کے لیے ایرانی فوج سے رابطہ رکھنا ہو گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تنازع میں شریک تیسرے ملک اسرائیل نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی کے فیصلے کی حمایت تو کی ہے مگر یہ بھی کہا ہے کہ اس کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی فریقین کو اسلام آباد آنے کی دعوت</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب تمام فریقین کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خوشی کا اظہار کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں امریکہ اور ایران کی مذاکراتی ٹیموں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد تشریف لائیں تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید بات چیت کی جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ 'اسلام آباد مذاکرات' کامیاب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید خوش خبریاں سننے کو ملیں گی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کا عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی مثبت اثر دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کچھ کم ہوئی ہیں تو دوسری جانب پاکستان کے اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو بڑا اضافہ ہوا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں بدھ کی دوپہر 12 بجے تک 12 ہزار 600 سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے جب کہ عالمی منڈی میں امریکی کروڈ آئل کی قیمت میں 16 ڈالر فی بیرل اور برینٹ کروڈ میں 14 ڈالر فی بیرل سے زیادہ کی کمی آ چکی ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/8/93f210b6-ccqh9l65bmeyudsdimfj6.webp" data-card-width="1324" data-card-height="316" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/8/93f210b6-ccqh9l65bmeyudsdimfj6.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی کروڈ آئل کی فی بیرل قیمت اب 96.11 ڈالر اور برینڈ کروڈ 94.76 ڈالر فی بیرل پر آ چکا ہے جو خاصی بڑی کمی ہے۔ تاہم یہ قیمتیں اب بھی اس سطح سے کافی زیادہ ہیں جو 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل تھیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2786</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/8/6a1171a6-tqmc1g6k5r67ko5pgzd5i.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 10:33:06 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکی حملے کی صورت میں تیل و گیس کی سپلائی برسوں تک متاثر کر سکتے ہیں: ایران کی دھمکی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2785</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2785" rel="standout" />
      <description>ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو وہ خطے میں تیل اور گیس کی فراہمی کو 'برسوں تک' متاثر کر سکتا ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے 'ارنا' کے مطابق منگل کو پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر اس کی 'ریڈ لائن' عبور کی گئیں تو وہ خطے سے باہر بھی جواب دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچائیں گے جس کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں کئی سال تک تیل اور گیس سے محروم ہو جائیں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ایران نے اب تک اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے  لیکن اب یہ تمام عوامل ختم بھی کیے جا سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے اب تک شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنایا۔ تاہم اگر اس کے شہری ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو وہ بھرپور جواب دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے منگل کی رات تک آبنائے ہرمز نہ کھولی اور معاہدہ نہ کیا تو ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں پر بم باری کر کے انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خطے میں کشیدگی 28 فروری سے جاری ہے جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل، امریکی اہداف اور ان خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جس کے نتیجے میں تمام فریقین کا جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2785</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/7/cd2e6995-d79y20kmo25qvlasaxcfdh.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 15:50:43 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پیٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2780</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2780" rel="standout" />
      <description>پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بھاری اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت 137.23 روپے اور ڈیزل کی قیمت 184.49 روپے فی لیٹر بڑھائی گئی ہے جس پر شہری اور مختلف سیاسی و سماجی حلقے سخت تنقید کر رہے ہیں۔</description>
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایران جنگ کے اثرات کی وجہ سے ناگزیر تھا اور عوام کو گزشتہ ایک ماہ کے دوران ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ حکومت نے موٹرسائیکل سواروں، چھوٹے کاشت کاروں اور ٹرانسپورٹرز کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اس حکومتی فیصلے پر عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر سخت تنقید بھی ہو رہی ہے اور بعض حلقوں کا کہنا ہے اس سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لے گا اور تمام اشیا کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حذیفہ نامی صارف نے ایکس پر اسے قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عام آدمی کو کچل دیا ہے۔ ایک عام شہری کیسے اس اضافے کو برداشت کر پائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ معاشی تباہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2039777214657634334" data-url="https://t.co/mqB48Kj3Z1" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;History’s biggest hike! 💣 The government has absolutely crushed the common man by increasing Petrol by Rs. 137 and Diesel by Rs. 184.&lt;br&gt;​How is the average citizen supposed to survive with Petrol at Rs. 458 and Diesel at Rs. 520? This isn't a price hike; it's an economic disaster! &lt;a href=&quot;https://t.co/mqB48Kj3Z1&quot;&gt;pic.twitter.com/mqB48Kj3Z1&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Huzaifa_Exclusives (@MemeVibes55) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/MemeVibes55/status/2039777214657634334?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;April 2, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/mqB48Kj3Z1</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بھی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پھینکا گیا پیٹرول بم قرار دیا اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ملک میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2039801785490063395" data-url="https://t.co/eSFixCNf3V" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;ur&quot; dir=&quot;rtl&quot;&gt;پٹرول، ڈیزل کی قیمت میں وحشیانہ اضافہ قبول نہیں، آج سے ہی پورے ملک میں احتجاج تحریک کا آغاز کررہے ہیں، نوجوان ہمارا ساتھ دیں &lt;a href=&quot;https://t.co/eSFixCNf3V&quot;&gt;pic.twitter.com/eSFixCNf3V&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/NaeemRehmanEngr/status/2039801785490063395?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;April 2, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/eSFixCNf3V</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران جنگ شروع ہونے سے قبل پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت ڈھائی سو روپے سے کچھ زیادہ تھی جس میں اب تقریباً دو سو روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح ڈیزل، مٹی کے تیل اور ایل پی جی گیس کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کیا جا چکا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیٹرول کی موجودہ قیمت 458.40 روپے (1.65$) جب کہ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے (1.87$) ہو چکی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مستحق طبقوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دے گی۔ موٹر سائیکل سواروں کو فی لیٹر 100 روپے کی رعایت دی جائے گی تاہم یہ صرف 20 لیٹر ماہانہ پیٹرول کے لیے ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی طرح چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ زمین پر 1500 روپے یکمشت دیے جائیں گے تاکہ وہ فصل کی کاشت کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکے اثرات سے بچ سکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکومت ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی رعایت دے گی اور سامان بردار ٹرکوں کو ماہانہ 70  ہزار روپے تک دیے جائیں گے، بڑی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو 80 ہزار اور مسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ تک دیے جائیں گے تاکہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں ٹرانسپورٹ کی مد میں کم سے کم اضافہ ہو۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سبسڈیز کا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا جب کہ پاکستان ریلوے کو بھی کم آمدنی والے طبقوں کے لیے کرائے کم رکھنے میں حکومت مدد دے گی۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2780</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/3/d7f5f3ff-3nwh2xx6vo9ikyn3lpt2z.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 09:45:49 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>جنگ کے خاتمے کی کوئی ٹائم لائن نہیں اور ایران کو پتھر کے دور میں بھیجنے کی دھمکی، ٹرمپ نے امریکی قوم سے خطاب میں کیا کہا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2779</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2779" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب اپنے ایک اہم خطاب میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق اپنی پالیسی کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اپنا مشن مکمل کرنے کے قریب ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایران کو 'پتھر کے دور میں واپس بھیجنے' کی دھمکی بھی دہرائی۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">19 منٹ کے اس خطاب کے دوران عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں اور اپنی کم ہوتی مقبولیت کے پس منظر میں ٹرمپ نے کئی اہم نکات پر بات کی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنگ کا خاتمہ؟ ابھی نہیں</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنگ سے تھکے ہوئے امریکی عوام اور گرتی ہوئی مقبولیت کے دباؤ کے باوجود ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اور اس کے بیلسٹک میزائل و جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں حملے 'انتہائی شدت' کے ساتھ جاری رہیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم اس کے باوجود انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دینے سے گریز کیا اور عندیہ دیا کہ اگر ایران نے مذاکرات میں امریکی شرائط نہ مانیں تو جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے جس میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے ہر لمحہ بدلتے بیانات اس تنازع میں غیر یقینی برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے عالمی معاشی منڈیوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ کسی بیان میں وہ سفارتی حل کی طرف بڑھنے کی بات کرتے ہیں اور جنگ کے جلد خاتمے کا عندیہ دیتے ہیں تو اگلے ہی لمحے کسی اور بیان میں وہ ایران کو مزید شدت سے نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے نظر آتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کی جانب سے ایک ہی خطاب میں دھمکیوں اور سفارتی حل دونوں کا ذکر کرنے سے مالیاتی منڈیوں اور امریکی عوام میں بے چینی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے متضاد بیانات نے صورتِ حال کو مزید الجھا دیا ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/2/364a9ebe-oy2z7purjirzozlpc9c3mo.webp" data-card-width="1422" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/2/364a9ebe-oy2z7purjirzozlpc9c3mo.webp"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">آبنائے ہرمز: فیصلہ کن مسئلہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ واضح نہیں کیا کہ آیا امریکی فوجی کارروائیاں آبنائے ہرمز کھلنے سے پہلے ختم ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے اور اس پر ایران کا کنٹرول عالمی سطح پر توانائی کے بحران کا سبب بنا ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے خلیجی ملکوں کے تیل پر انحصار کرنے والے ممالک سے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے خود آگے بڑھیں اور یہ بوجھ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا امریکہ کو اس خطے سے توانائی کی ضرورت نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب امریکہ کے مغربی اتحادی اس جنگ میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔ کیوں کہ ان کے مطابق یہ تنازع امریکہ اور اسرائیل نے ان سے مشورہ کیے بغیر شروع کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خدشہ یہ ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کلیدی قوت حاصل ہو جائے گی جس سے خلیجی ریاستیں بھی خوش نہیں ہوں گی۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کیا امریکہ کا مشن واقعی مکمل ہوا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ جنگ میں امریکی کامیابیوں کا ذکر کر رہے ہیں مگر یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا وہ اپنا بنیادی ہدف، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، حاصل کر پائے ہیں یا نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنگ کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ایران کے پاس افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے جو ممکنہ طور پر زیرِ زمین محفوظ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اچانک اپنے پہلے مؤقف سے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ اب انہیں اس یورینیم کی فکر نہیں کیونکہ وہ 'بہت گہرائی میں' ہے اور امریکی سیٹلائٹس اس پر نظر رکھ سکتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے اس ذخیرے کو کہیں اور منتقل کرنے کی صورت میں ایران پر دوبارہ فضائی حملوں کی دھمکی بھی دی لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ اسے قبضے میں لینے کے لیے کوئی اسپیشل فورس بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں کیوں کہ امریکی حکام یہ کہہ چکے تھے کہ یہ تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/2/b60d4144-pmr6bs0pj8amsamyzd8o8.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/2/b60d4144-pmr6bs0pj8amsamyzd8o8.webp"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی عسکری صلاحیت برقرار</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ ٹرمپ ایران کی فوجی طاقت کو تباہ کرنے کے دعوے مسلسل دہرا رہے ہیں۔ تاہم ایران نے دکھایا ہے کہ اس کے باقی ماندہ میزائل اور ڈرونز اب بھی اسرائیل، خلیجی اتحادیوں اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی حکومت کو گرانے کے حوالے سے بھی ٹرمپ کے ابتدائی بیانات حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ اگرچہ ایران کے کئی اعلیٰ عہدے دار مارے جا چکے ہیں مگر ان کی جگہ مزید سخت مؤقف رکھنے والے افراد نے لے لی ہے۔ یعنی صرف چہرے بدلے ہیں، رجیم اب بھی برقرار ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اندرونی سیاست اور عوامی ردعمل</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ خطاب 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد ٹرمپ کا پہلا اہم خطاب تھا جس کا مقصد امریکی عوام کے خدشات کم کرنا تھا۔ تاہم انہوں نے مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں پر عوامی تشویش کو عارضی قرار دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا 'بہت سے امریکی پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر پریشان ہیں۔ یہ عارضی اضافہ مکمل طور پر ایرانی حکومت کے غیر ذمے دارانہ حملوں کا نتیجہ ہے۔ وہ کمرشل آئل ٹینکروں اور پڑوسی ملکوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کا اس تنازع سے کوئی لینا دینا نہیں۔'<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/4/2/40ee041e-d87v1addwqsrd7eghy76.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/4/2/40ee041e-d87v1addwqsrd7eghy76.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ ٹرمپ کے حامی اب تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم بڑھتی مہنگائی اور طویل جنگ ان کی مقبولیت کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے، خاص طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل۔ ایک سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت 36 فیصد تک گر چکی ہے، جو ان کی دوسری ٹرم کی کم ترین سطح ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے خطاب کے بعد ایک بار پھر اسٹاک مارکیٹس میں کمی، ڈالر میں مضبوطی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ کیوں کہ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی واضح لائحہ عمل پیش نہیں کیا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمزور خطاب؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ یہ خطاب ٹرمپ کے لیے عوام سے دوبارہ جڑنے کا موقع تھا مگر انہوں نے زیادہ تر روایتی نکات ہی دہرائے اور جنگ میں جانے کی وجوہات کو واضح نہیں کیا۔ ان کا انداز بھی غیر معمولی طور پر سنجیدہ اور مدھم رہا جو ان کے عام جارحانہ انداز سے مختلف تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2779</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/4/2/db467b06-v69djhd051imgptl4ud459.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 10:02:38 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>مارسیلیا چیمبر آف کامرس اور کاروباری افراد کے وفد کا کوناکری بندرگاہ کا دورہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2772</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2772" rel="standout" />
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مارسیلیا چیمبر آف کامرس کے صدر اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) پر مشتمل وفد نے گنی کے قومی چیمبر آف کامرس کی دعوت پر بدھ کو کوناکری بندرگاہ کا دورہ کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وفد نے بندرگاہ کے آپریٹر ادارے الپورٹ کوناکری ایس اے کا دورہ کیا اور ادارے کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ اس موقع پر البیراک گروپ کا عمومی تعارف پیش کیا گیا جب کہ الپورٹ کوناکری کی سرمایہ کاری اور بندرگاہ میں جاری جدید اصلاحاتی اقدامات پر بھی پریزنٹیشن دی گئی۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/26/2547fddb-bw5j2541lwt75vdll2c5xp.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/26/2547fddb-bw5j2541lwt75vdll2c5xp.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گنی کے قومی چیمبر آف کامرس کے صدر ایم بالدی نے اپنے بیان میں ترکیہ کی جانب سے البیراک گروپ کے ذریعے کی جانے والی سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ الپورٹ کوناکری کی جانب سے بندرگاہ پر کی گئی جدیدیت اور ترقیاتی اقدامات ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ دورہ گنی کی جانب سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے اور ملک کی معاشی صلاحیت کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کی حکمت عملی کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/26/3a4360b2-9dw0lex2qn5ux3yn4h5ffe.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/26/3a4360b2-9dw0lex2qn5ux3yn4h5ffe.webp"></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2772</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/26/4449e011-nd54g5n48xa2k1pc0gl5s.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 26 Mar 2026 16:25:30 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ورک فرام ہوم اور اسمارٹ لاک ڈاؤن: کئی ایشیائی ملکوں میں کرونا دور کی طرح کے اقدامات، توانائی کی بچت کے لیے کون سا ملک کیا کر رہا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2768</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2768" rel="standout" />
      <description>ایران جنگ کی وجہ سے توانائی کے بحران کے باعث کئی ایشیائی ممالک کرونا وبا کے دور میں کیے گئے اقدامات اور پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ جیسے ورک فرام ہوم اور اسمارٹ لاک ڈاؤن وغیرہ۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے ایشیائی ملک زیادہ متاثر ہیں جن کا انحصار اس خطے سے حاصل ہونے والے تیل پر ہے۔ ایشیائی ملکوں کا 80 فیصد تیل آبنائے ہرمز کے راستے سے آتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فی الحال کسی بھی ملک نے ورک فرام ہوم کو نافذ تو نہیں کیا ہے لیکن اس پر غور ضرور ہو رہا ہے۔ پاکستان سمیت بعض ملکوں نے توانائی کی بچت کے لیے کچھ دیگر اقدامات کیے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین الاقوامی توانائی ایجنسی، جس نے اپنے اسٹرٹیجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل فراہم کیا ہے، نے اب تجویز دی ہے کہ تیل کی قیمتوں کے بحران سے بچنے کے لیے ورک فرام ہوم کی سہولت پر جانا چاہیے اور فضائی سفر سے اجتناب کرنا چاہیے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوبی کوریا کے وزیرِ توانائی نے اسے قابلِ عمل تجویز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے رواں ہفتے سڈنی میں ایک کانفرنس کے دوران توانائی میں بچت کے حوالے سے یہ تجاویز دیں۔ انہوں نے کہا کہ 'روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یورپی ملکوں نے بھی ایسے ہی اقدامات کو اپنایا۔ ان اقدامات نے روسی توانائی کے بغیر اس مشکل وقت سے نکلنے میں مدد دی۔'</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ممالک توانائی بچانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوبی کوریا نے منگل کو عوامی سطح پر توانائی کی بچت کے لیے ایک مہم شروع کی ہے جس میں لوگوں کو غسل کے وقت کا دورانیہ کم کرنے، دن کے وقت موبائل فون چارج کرنے اور ویکیوم کلینر صرف ہفتہ وار چھٹی کے روز چلانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوبی کوریا کے وزیرِ توانائی نے کہا ہے کہ 'ہم متعلقہ وزارتوں سے مشاورت کریں گے اور ورک فرام ہوم کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کریں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فلپائن جس کا زیادہ تر انحصار مشرق وسطیٰ سے آنے والے تیل پر ہے، نے کچھ سرکاری دفاتر میں ہفتے کے کام کے دن کم کر دیے ہیں۔ فلپائنی صدر نے نیشنل انرجی ایمرجنسی بھی نافذ کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں دو ہفتوں کے لیے اسکول بند کیے گئے اور دفاتر کے ملازمین کے گھروں سے کام کو ترجیح دینے کا کہا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سری لنکا میں فیول کی بچت کے لیے ہر بدھ کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سنگاپور اپنے شہریوں اور کاروباروں پر توانائی کی بچت کرنے والی مشینوں، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال اور اے سی کا درجہ حرارت زیادہ رکھنے پر زور دے رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تھائی لینڈ کے وزیرِ اعظم نے سرکاری افسران کے بیرونِ ملک دورے معطل کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایئرکنڈیشنڈز کے درجہ حرارت کو 25 ڈگری سے اوپر رکھنے، سوٹ اور ٹائی پہننے سے گریز، ورک فرام ہوم اور لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کے استعمال جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جاپان کی حکومت نے منگل کو کہا ہے کہ وہ فیول پر سبسڈی دینے پر غور کر رہی ہے۔ پانچ ارب ڈالر کی یہ سبسڈی ریزرو فنڈ سے دی جائے گی تاکہ پیٹرول کی قیمتوں کو اوسطاً 170 ین فی لیٹر پر برقرار رکھا جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیوزی لینڈ نے کم آمدنی والے طبقوں کے لیے ہفتہ وار مالی مدد کا اعلان کیا ہے۔ تقریباً 29 ڈالر کے قریب رقم ہر ہفتے غریب گھرانوں کو دی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آسٹریلیا میں سینکڑوں پیٹرول اسٹیشنوں پر معمول سے زیادہ خریداری کی وجہ سے پیٹرول کی قلت ہو گئی ہے۔ اسی طرح انڈیا میں بھی پیٹرول پمپس پر لوگوں کا رش لگا ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعض ایشیائی ملکوں میں پیٹرول اور ڈیزل کا معیار بھی گرایا گیا ہے تاکہ سپلائی زیادہ ہو سکے۔ یعنی ملاوٹ کے ذریعے مقدار بڑھائی جا رہی ہے۔ کچھ ملکوں نے اپنی مقامی ذخائر سے پیٹرول اور ڈیزل مارکیٹ میں پہنچایا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2768</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/25/afcc7d41-1f9hf2buh3eguql9xnq1fr.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 14:07:03 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران نے ٹرمپ کی مذاکرات کی باتوں کو 'جھوٹی خبر' قرار دے دیا، اسرائیل پر میزائلوں کی نئی لہر سے حملہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2765</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2765" rel="standout" />
      <description>اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر کئی  میزائل داغے ہیں جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور گرڈ پر حملے کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ تاہم ایران نے ٹرمپ کی تہران سے مذاکرات کی باتوں کو 'جھوٹی خبر' قرار دیا ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے نئے میزائلوں کی لہر سے تل ابیب اور ملک کے دیگر علاقوں میں سائرن بج اٹھے۔ شمالی اسرائیل میں کچھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے تاہم کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مابین 'مشرق وسطیٰ کے مسائل کے مکمل اور حتمی حل' کے لیے 'بہت اچھی اور تعمیری' بات چیت ہوئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کا وقت دیا تھا۔ بصورتِ دیگر ایران کے بجلی گرڈ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ ایران نے بھی جواب میں امریکی اتحادیوں کے انفراسٹرکچر پر ایسی ہی کارروائیوں کی دھمکیاں دی تھیں۔ تاہم پیر کو ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ٹرمپ نے حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ وہ نتیجتاً ایران کے پاور گرڈ پر حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے کم ہو کر 100 ڈالر سے نیچے گئیں۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/24/49b960b4-rr0fqguxcgixqfsvxhvk8.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/24/49b960b4-rr0fqguxcgixqfsvxhvk8.webp" data-card-source="AFP" data-card-caption="ایران نے اسرائیل پر متعدد میزائل فائر کیے۔"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">'کوئی مذاکرات نہیں ہوئے'</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم معاملہ منگل کو ایک بار پھر بگڑتا دکھائی دے رہا ہے اور تیل کی قیمتیں بھی دوبارہ بڑھ گئی ہیں جب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کی ایران سے مذاکرات کی باتوں کو 'فیک نیوز' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیلی عہدے دار اور دو دیگر ذرائع کے مطابق محمد باقر قالیباف ایران کی طرف سے مذاکرات میں شامل ہوتے ہیں۔ لہذا ان کا یہ بیان اہمیت کا حامل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2036108700524347420" data-url="https://twitter.com/mb_ghalibaf/status/2036108700524347420?ref_src=twsrc%5Etfw" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;2/ No negotiations have been held with the US, and fakenews is used to manipulate the financial and oil markets and escape the quagmire in which the US and Israel are trapped.&lt;/p&gt;— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/mb_ghalibaf/status/2036108700524347420?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;March 23, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://twitter.com/mb_ghalibaf/status/2036108700524347420?ref_src=tws</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قالیباف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ 'امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ معاشی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کے لیے جھوٹی خبروں کو استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اس دلدل سے نکل سکیں جس میں امریکہ اور اسرائیل پھنس چکے ہیں۔' </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ وہ امریکی اہداف پر نئے حملے کر رہے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے ٹرمپ کے بیانات سے متعلق کہا ہے کہ اس سے تہران کی لڑائی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے اس اعلان کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت پھر 104.21 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے جو پیر کو 10 فیصد تک نیچے آئی تھی۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں مذاکرات کا امکان</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک یورپی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ تاہم مصر، پاکستان اور خلیجی ملکوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کے مطابق ایک پاکستانی عہدے دار اور دیگر ذرائع نے اسے بتایا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستانی عہدے دار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کی رواں ہفتے اسلام آباد میں ایرانی حکام سے ملاقات کا امکان ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وائٹ ہاؤس نے ڈونلڈ ٹرمپ اور جنرل عاصم منیر کی ٹیلیفونک رابطے کی تصدیق کی ہے جب کہ ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان کا پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے رابطہ ہوا ہے جس میں علاقائی سلامتی اور جنگ کی صورتِ حال پر گفتگو کی گئی۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2765</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/24/60890516-makes5l1tgfgktpuuwxy.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 09:44:03 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ورلڈ بریک بلک ایکسپو 2026 میں الپورٹ کا عالمی لاجسٹکس وژن نمایاں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/economy/2764</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/economy/2764" rel="standout" />
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ورلڈ بریک بلک ایکسپو 2026 کا انعقاد 19 اور 20 مارچ کو شنگھائی ورلڈ ایکسپو ایگزیبیشن اینڈ کنوینشن سینٹر میں ہوا جس میں الپورٹ نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے عالمی لاجسٹکس کے شعبے میں اپنے اہم کردار کو نمایاں اور اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس ایونٹ میں 700 سے زائد عالمی صنعت کار رہنماؤں نے شرکت کی جہاں پروجیکٹ کارگو، ہیوی لفٹ لاجسٹکس اور بریک بلک شپنگ کے مستقبل پر غور کیا گیا۔ یہ تقریب تعاون، معلومات کے تبادلے اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے فروغ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الپورٹ کے وفد کی قیادت جنرل کوآرڈی نیٹر مصطفیٰ لیونت ادالی نے کی۔ جنہوں نے عالمی شراکت داروں کے ساتھ اہم ملاقاتیں اور نیٹ ورکنگ سیشنز میں حصہ لیا۔ ان ملاقاتوں میں انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن، آئل اینڈ گیس، مائننگ اور اسٹیل جیسے اہم شعبوں میں پیچیدہ لاجسٹکس آپریشنز کے لیے جدید حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایکسپو کے دوران مصطفیٰ ادالی اور الپورٹ بانجول کے جنرل مینیجر صالح لیونت کاچار نے ایک چینی ٹی وی چینل کو انٹرویو بھی دیا جس میں انہوں نے افریقہ میں کمپنی کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔ کاچار نے بتایا کہ صرف ایک سال کے اندر الپورٹ بانجول میں آپریشنل اور کارکردگی کے حوالے سے نمایاں بہتری آئی ہے جس کا سہرا انفراسٹرکچر، تعمیرات اور آلات میں بڑے پیمانے پر کی گئی سرمایہ کاری کو جاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">الپورٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جدت کے ذریعے بندرگاہوں کے آپریشنز کو بہتر بنا کر اور روابط کو فروغ دے کر عالمی تجارت کو مزید مضبوط بنائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمپنی نے اپنے چینی شراکت دار اکیتا گروپ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ایونٹ کے دوران تعاون اور میزبانی فراہم کی۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/economy/2764</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/23/ffc1e8e3-4fp8jmedmy6qpikkoaee7q.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 23 Mar 2026 16:25:19 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>خلیجی ملکوں کی گیس تنصیبات پر حملے: برطانیہ سمیت یورپی ملکوں میں گیس کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2763</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2763" rel="standout" />
      <description>قطر کے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے مرکز پر بدھ کو ایران کے حملوں کے بعد یورپی یونین میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ یورپی ملکوں میں گیس کی قیمتیں جنوری 2023 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جمعرات کو ایک موقع پر یورپی قدرتی گیس کی قیمتیں 25 فیصد سے زائد بڑھ کر تقریباً 78 ڈالر فی میگاواٹ گھنٹہ تک جا پہنچی جو تین سال سے زائد عرصے کی سب سے بلند سطح ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بدھ کو ایران نے قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر حملے کیے جو دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی کا برآمدی مرکز ہے۔ میزائل حملوں کے نتیجے میں قطر کے راس لفان ایل این جی کمپلیکس کے کچھ حصوں میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے دنیا کے بڑے گیس مراکز میں سے ایک کو نقصان پہنچا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات نے بھی میزائل گرانے کے بعد اپنے حبشان گیس مرکز پر کام روک دیا جب کہ بحرین کے ایل این جی اثاثوں پر بھی شدید میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا بھر میں ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل عام طور پر آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے جو 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب برطانیہ میں بھی قدرتی گیس کی قیمتیں 140 فیصد تک بڑھ چکی ہیں کیوں کہ ایران کے خلاف اسرائیل-امریکہ جنگ نے عالمی توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔ برطانیہ میں بھی قیمتیں جنوری 2023 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانیہ توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور قطر سے آنے والی گیس پر۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2763</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/19/ee18149e-2g68d7uvw6bipxsngihna.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 19 Mar 2026 13:51:46 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے لیے چائنہ سمیت سات ملکوں سے رابطہ، اگر مدد نہیں کی تو یاد رکھیں گے: ٹرمپ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2756</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2756" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے اور بحری جہازوں کو اس آبی راستے سے بحفاظت گزارنے کے لیے اتحادیوں سے مدد کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب جاپان اور آسٹریلیا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نیوی بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اتوار کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جو ملک خلیجی ملکوں کے تیل پر انحصار کرتے ہیں، ان کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے چائنہ سے بھی پوچھا کہ کیا آپ آنا پسند کریں گے؟ اور ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے اپنے سرکاری جہاز 'ایئرفورس ون' میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ 'میں ان ملکوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اپنے علاقے کی حفاظت کریں کیوں کہ یہ ان کا علاقہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے وہ توانائی حاصل کرتے ہیں۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ چائنہ کو بھی مدد کرنی چاہیے کیوں کہ وہ اپنا 90 فیصد تیل ان راستوں سے حاصل کرتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے بقول امریکی حکومت نے اس ضمن میں سات ملکوں سے رابطہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے ملکوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔ تاہم ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ چائنہ، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر قوتیں حصہ لیں گی۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/16/f4d6f7c6-v2m0vo4opjh8pf5x0z8v5p.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/16/f4d6f7c6-v2m0vo4opjh8pf5x0z8v5p.webp" data-card-caption="ٹرمپ ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنے ہم منصبوں سے کہا ہے کہ اگر وہ مدد نہیں کرتے تو ہم یاد رکھِیں گے۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے اس بیان کے بعد تیل کی قیمتیں مزید بڑھی ہیں اور برینٹ کروڈ ایک فیصد اضافے کے بعد 104 ڈالر کی سطح سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیٹو اتحادیوں کو 'بہت برے' مستقبل کی دھمکی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے یورپی اتحادیوں پر دباؤ ڈالتے ہوئے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے میں مدد دینے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کی کہ اگر نیٹو کے اراکین امریکہ کی مدد کو نہ آئے تو نیٹو کا مستقبل 'بہت برا' ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اس معاملے پر پیر کو بات چیت کریں گے جس کے بعد ان کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے آنے کی توقع ہے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/16/fbafa320-9xfmzzzb9jah9pq0ecj7t8.webp" data-card-width="1183" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/16/fbafa320-9xfmzzzb9jah9pq0ecj7t8.webp" data-card-caption="امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں نیوی بھیجنے کے مطالبے کے خلاف جنوبی کوریا میں امریکی سفارت خانے کے باہر لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی سے گفتگو میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے جب کہ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی درخواست کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایران اب تک مؤثر طریقے سے بند رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور صرف ان جہازوں کو گزرنے دیا ہے جو ایران سے پیشگی اجازت لے کر گزرے ہیں۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">جاپان اور آسٹریلیا کی کنارہ کشی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جاپان کی وزیرِ اعظم سنائی تاکائچی نے پیر کو کہا ہے کہ ان کا ملک جنگوں سے دور رکھنے والے اپنے آئین کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں جہازوں کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جاپانی وزیرِ اعظم نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے اپنی کشتیاں بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ جاپان اپنے طور پر کیا کر سکتا ہے اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کیا کیا جا سکتا ہے۔'<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/16/cf3de090-o99z4n4tzaqcc7vjatjia.webp" data-card-width="1146" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/16/cf3de090-o99z4n4tzaqcc7vjatjia.webp" data-card-caption="سول میں احتجاج کا ایک اور منظر"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کے ایک اور اہم اتحادی آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نہ تو اس سے کہا گیا اور نہ ہی وہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اپنی بحری افواج بھیجے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آسٹریلوی وزیرِ اعظم کی کابینہ کے ایک رکن کیتھرین کنگ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ 'ہم جانتے ہیں کہ یہ کتنا اہم ہے لیکن نہ ہم سے اس بارے میں پوچھا گیا اور نہ ہی ہم اس میں کوئی حصہ لے رہے ہیں۔'</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2756</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/16/3b813fb2-5b2648zsac8kop4udqpx5.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 16 Mar 2026 09:48:18 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران جنگ کے صرف ابتدائی چھ دن میں امریکہ کے 11.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے: رپورٹ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2751</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2751" rel="standout" />
      <description>ایران کے ساتھ جنگ میں اب تک امریکہ کے کتنے اخراجات ہو چکے ہیں؟ اس بارے میں امریکی کانگریس کے اراکین کو دی گئی بریفنگ کی کچھ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے اپنے ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں نے رواں ہفتے کانگریس کو ایک بریفنگ میں جنگ کے مالی اخراجات کا تخمینہ پیش کیا جس کے مطابق صرف ابتدائی چھ دن میں امریکہ کے 11.3 ارب ڈالر کے اخراجات ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ عدد منگل کو امریکی سینیٹرز کو دی گئی ایک خفیہ بریفنگ میں سامنے آیا لیکن یہ جنگ کے مکمل اخراجات نہیں ہیں۔ اصل اخراجات اب اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں کیوں کہ جنگ اب 13 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">11.3 ارب ڈالر کا عدد سب سے پہلے امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کی طرف سے رپورٹ کیا گیا۔ امریکی حکومت نے اب تک عوامی سطح پر جنگ کے اخراجات کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ نہ ہی حکومت نے کوئی دورانیہ واضح کیا ہے کہ جنگ کب تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ حکومت کے عہدے داروں نے قانون سازوں کو یہ بھی بتایا کہ صرف ابتدائی دو دن کے حملوں میں 5.6 ارب ڈالر کے ہتھیار خرچ ہو گئے تھے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کانگریس کے بعض اراکین کا کہنا ہے کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے جلد کانگریس کو جنگ کے لیے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ بعض حکام کے مطابق 50 ارب ڈالر تک کی فنڈنگ مانگی جا سکتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ روز ٹرمپ نے ریاست کینٹکی کے دورے میں دعویٰ کیا کہ 'ہم جنگ جیت چکے ہیں' مگر امریکہ کام ختم ہونے تک لڑائی جاری رکھے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف 13 روز سے جاری جنگ میں اب تک 2000 کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ زیادہ تر جانی نقصان ایران اور لبنان میں ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کانگریس کے اراکین نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ یہ تنازع امریکی فوج کے ہتھیاروں کے ذخائر کو ایک ایسے وقت میں ختم یا کمزور کر سکتا ہے جب دفاعی صنعت پہلے ہی طلب پوری نہیں کر پا رہی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے سات دفاعی کنٹریکٹرز کے حکام سے بھی ملاقات کی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کی حریف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حلفیہ طور پر بتائے کہ صدر کا جنگ کے خاتمے کا کیا منصوبہ ہے، یہ تنازع کتنا طویل ہو سکتا ہے اور جنگ ختم ہونے کے بعد امریکی حکومت ایران کے بارے میں کیا سوچ رکھتی ہے؟ </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2751</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/12/d3473c64-txqw4j5i8m8tck3icn2kgq.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 12 Mar 2026 12:45:31 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران کے عراق اور خلیجی پانیوں میں متعدد بحری جہازوں پر حملے، تیل کی قیمتیں پھر آسمان پر پہنچ گئیں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2750</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2750" rel="standout" />
      <description>ایران نے گزشتہ روز کئی بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں جس کے بعد خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے بڑھ گئی ہیں جب کہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بدھ کو ایرانی کشتیوں نے عراقی پانیوں میں موجود دو بحری آئل ٹینکروں پر حملے کیے جس کے بعد ان میں آگ لگ گئی اور عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔ پورٹس اور میری ٹائم سیکیورٹی کے مطابق گزشتہ روز خلیجی پانیوں میں بھی چار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حالیہ حملے امریکہ اور یورپ سے تعلق رکھنے والے جہازوں پر ہوئے ہیں جس کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 16 جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اگر امریکی اور اسرائیلی حملے نہ رکے تو وہ آبنائے ہرمز سے 'ایک لیٹر تیل بھی' نہیں گزرنے دیں گے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تیل کی برآمدات روکی گئیں تو وہ ایران پر زیادہ شدت کے حملے کریں گے۔ ٹرمپ نے آئل کمپنیوں کو ترغیب دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کا استعمال کریں کیوں کہ ان کے بقول ایران کی نیوی کو ختم کر دیا گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بدھ کی رات دو جہازوں پر حملے عراق کے قریب ہوئے ہیں اور نشانہ بننے والے جہازوں پر مارشل آئی لینڈز اور مالٹا کے جھنڈے تھے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ان جہازوں نے عراق سے آئل لوڈ کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2031856471235813637" data-url="https://t.co/vh1l6rAjf2" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Two foreign oil tankers carrying Iraqi fuel oil were attacked in the Persian Gulf off the coast of Basra, within Iraq’s territorial waters, causing both vessels to catch fire.&lt;br&gt;&lt;br&gt;Twenty-five crew members aboard the ships have been evacuated, Iraqi authorities reported. &lt;a href=&quot;https://t.co/vh1l6rAjf2&quot;&gt;pic.twitter.com/vh1l6rAjf2&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Visegrád 24 (@visegrad24) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/visegrad24/status/2031856471235813637?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;March 11, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/vh1l6rAjf2</span></span></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">عراق کے آئل پورٹس بند</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان جہازوں پر حملوں کے بعد عراق کی تیل کی بندرگاہوں پر آپریشنز بند کر دیے گئے ہیں جب کہ کمرشل بندرگاہیں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عراق میں بندرگاہوں کا انتظام دیکھنے والی سرکاری کمپنی 'جنرل کمپنی فور پورٹس آف عراق' کا کہنا ہے کہ اس کی کشتی نے دونوں جہازوں کے عملے کے 25 ارکان کو ریسکیو کیا جب کہ دونوں جہازوں میں آگ ابھی تک بھڑک رہی ہے۔ عراقی ریسکیو ٹیمیں عملے کے مزید ارکان کی تلاش کر رہی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پورٹ کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ ایک غیر ملکی رکن کی لاش سمندر سے برآمد ہوئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جہازوں کی مالک امریکی کمپنیوں نے فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاسدارانِ انقلاب کی تنبیہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بارہا خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ روز آبنائے ہرمز کے قریب ایک اور سامان بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس پر تھائی لینڈ کا پرچم موجود تھا۔ یہ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حملے کے بعد جہاز کے انجن روم میں آگ لگ گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2031887665117696089" data-url="https://t.co/6vlHbgqtVJ" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Thai 🇹🇭 media reported that a Thai-flagged cargo ship was attacked near the Strait of Hormuz today. The ship, the MAYUREE NAREE Bangkok, was struck while sailing in waters close to Iran 🇮🇷. There were 23 crew members on board.&lt;br&gt;&lt;br&gt;Shipping data from MarineTraffic showed the ship had… &lt;a href=&quot;https://t.co/6vlHbgqtVJ&quot;&gt;pic.twitter.com/6vlHbgqtVJ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Saad Abedine (@SaadAbedine) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/SaadAbedine/status/2031887665117696089?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;March 12, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/6vlHbgqtVJ</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جہاز کی آپریٹر شپنگ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کے عملے کے تین ارکان لاپتا ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ انجن روم میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔ کمپنی متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر انہیں ریسکیو کرنے پر کام کر رہی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ باقی 20 اراکین پر مشتمل عملے کو جہاز سے بحفاظت نکال کر عمان منتقل کر دیا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی پر جاری پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق اس جہاز پر 'ایرانی جنگجوؤں نے حملہ کیا۔' </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے علاوہ بدھ کو مزید تین جہازوں پر حملے ہوئے ہیں تاہم انہیں معمولی نقصان پہنچا ہے۔ یہ جہاز خلیجی پانیوں میں موجود تھے۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی بحریہ تحفظ فراہم کرنے سے گریزاں</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب امریکی صدر جہازوں کو گزرنے کی ترغیب تو دیتے نظر آئے ہیں تاہم امریکی بحریہ جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کر رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اسے دو ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی بحریہ کو روز شپنگ انڈسٹری کی جانب سے درخواستیں موصول ہو رہی ہیں کہ جہازوں کو حفاظی حصار میں لے کر نکالا جائے جنہیں بحریہ یہ کہہ کر مسترد کر رہی ہے کہ ابھی خطرہ بہت زیادہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حالاں کہ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ بوقت ضرورت جہازوں کو نیوی کا تحفظ دینے کے لیے تیار ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بحری جہازوں پر گزشتہ روز ہوئے حملوں کے بعد جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں نے ایک بار پھر چھلانگ لگائی ہے اور دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو گئی ہیں جب کہ دوسری جانب اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برینٹ کروڈ کی قیمت اضافے کے بعد 100.22 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے جب کہ امریکی کروڈ کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2750</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/12/1470181f-qyok9sgl5jqqadrk4reo.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 12 Mar 2026 09:26:57 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایران جنگ نے پاکستانی ایئر اسپیس کی پابندی کی شکار انڈین ایئرلائنز کی مشکلات دوگنی کر دیں، کچھ روٹس پر 64 فیصد پروازیں منسوخ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2748</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2748" rel="standout" />
      <description>ایران جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی حدود کی پابندیوں نے انڈین ایئرلائنز کی مشکلات دوہری کر دی ہیں جو پہلے ہی پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کا سامنا کر رہی تھیں۔ </description>
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈین ایئرلائنز اپنے طیاروں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد یورپ اور امریکہ کی پروازوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کا روٹ استعمال کر رہی تھیں۔ مگر جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں پروازوں کو ری شیڈولنگ یا روٹ تبدیل کرنے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے انڈین ایئرلائنز کے لیے زیادہ مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان نے گزشتہ سال اپریل میں ہوئی جھڑپوں کے بعد سے انڈین طیاروں کے اپنی فضائی حدود سے گزرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فضائی سفر پر نظر رکھنے والے ایک ادارے 'سیریم' کے ڈیٹا کے مطابق پچھلے 10 دنوں میں انڈیا کی دو بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز ایئر انڈیا اور انڈیگو نے مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکہ کے لیے اپنی 64 فیصد پروازیں نہیں چلائیں۔ ان خطوں کے لیے دونوں ایئرلائنز کی 1230 پروازیں شیڈول تھیں جن میں سے بیش تر منسوخ ہو گئیں۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/11/fed2c450-y7wrox8ai6fpwfii6syk.webp" data-card-width="777" data-card-height="437" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/11/fed2c450-y7wrox8ai6fpwfii6syk.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرِ ہوا بازی امیت متل اس صورتِ حال کو 'بین الاقوامی فضائی راستے استعمال کرنے والی انڈین ایئرلائنز پر دوہری ضرب' قرار دیتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ ہفتے لندن کے ایک معروف بینک 'ایچ ایس بی سی' نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی سے انڈین ایئرلائنز پر اخراجات کے اضافے اور منافع میں کمی کی وجہ سے 'بڑا بوجھ' پڑے گا۔ بینک نے تخمینہ لگایا تھا کہ اگر سات دن تک پروازیں منسوخ ہوتی ہیں تو ایئرلائنز کے سالانہ منافع کا 1.2 فیصد نقصان ہوگا۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیگو ایئرلائن کے مسائل</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کی انڈیگو ایئرلائن کو اس کے علاوہ بھی ایک اور بڑی مشکل کا سامنا ہے۔ انڈیگو اپنے چھ لانگ رینج بوئنگ طیاروں پر بڑا انحصار کرتی ہے جو اس نے یورپ کی پروازوں کے لیے لیز پر حاصل کر رکھے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ طیارے ناروے میں رجسٹرڈ ہیں، لہٰذا انہیں یورپی یونین کے فضائی تحفظ کے سخت قوانین و ضوابط اور ایڈوائزری پر لازمی عمل کرنا ہوتا ہے۔ یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے ایڈوائزری جاری کر رکھی ہے کہ ایئرلائنز ایران، عراق، اسرائیل، کویت، لبنان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس پابندی کی وجہ سے انڈیگو کو براستہ افریقہ لمبا روٹ استعمال کرنا پڑ رہا ہے جس سے اس کی پروازوں کا دورانیہ دو گھنٹے تک بڑھ گیا ہے جو اخراجات میں اضافے کا سبب بھی ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/11/b49e9aad-zrn94ritmjti2gicql7ka.webp" data-card-width="1024" data-card-height="683" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/11/b49e9aad-zrn94ritmjti2gicql7ka.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ ہفتے اس روٹ کے چیلنج کے باوجود انڈیگو کی نئی دہلی سے مانچسٹر جانے والی پرواز کو افریقہ سے واپس لوٹنا پڑا جب ایک افریقی ملک اریٹیریا نے اسے اپنی ایئراسپیس سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو ذرائع نے بتایا کہ اریٹیریا کا ایئر ٹریفک کنٹرول یہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ ناروے میں رجسٹر جہاز انڈیگو کیسے استعمال کر رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیگو کا کہنا تھا کہ یہ پرواز 'آخری منٹ پر فضائی حدود کی پابندیوں' کی وجہ سے تقریباً 13 گھنٹے فضا میں رہنے کے بعد واپس دہلی لوٹ آئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ذرائع کے مطابق لندن سے ممبئی آنے والے انڈیگو کے ایک اور بوئنگ طیارے کو بھی اریٹیریا میں اسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا اور پھر اسے قاہرہ کی طرف موڑا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیگو کو پچھلے سال دسمبر میں انڈیا میں سخت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا جب ایئرلائن کی وجہ سے ایک بڑا بحران کھڑا ہو گیا تھا اور ہزاروں فلائٹس کینسل ہوئی تھیں۔ اس بحران کی وجہ سے ایئرلائن کے سی ای او نے منگل کو اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کے مطابق انڈیگو اور ایئر انڈیا نے اس معاملے پر اس کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ </p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایئر انڈیا کی پریشانیاں</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایئر انڈیا نے پیر کو کہا کہ وہ ایران جنگ کی وجہ سے انڈیا سے یورپ اور امریکہ کے روٹ پر زیادہ طلب ہونے کی وجہ سے 78 اضافی پروازیں چلائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن کچھ مقامات کے لیے اس کی پروازوں کا دورانیہ دیگر ایئرلائنز کی پروازوں سے بہت زیادہ ہے اور اسٹاپ اوور بھی کرنا پڑتا ہے جس سے ایئرانڈیا کی حریف ایئرلائنز کو اس پر سبقت حاصل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایئر انڈیا کی دیلی سے نیویارک کی جو پرواز ایران جنگ سے پہلے عراق اور ترکیہ کی فضائی حدود کے ذریعے 17 گھنٹوں میں منزل پر پہنچ جاتی تھی، اب اس کا دورانیہ 22 گھنٹوں تک جا پہنچا ہے اور مسافروں کو روم میں ایک اسٹاپ اوور بھی لینا پڑتا ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/11/4529060a-64ini2u7h3fmm3a1da05hn.webp" data-card-width="1422" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/11/4529060a-64ini2u7h3fmm3a1da05hn.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی کے مقابلے میں امیریکن ایئرلائنز کی اسی روٹ پر پرواز صرف 16 گھنٹوں میں منزل پر پہنچ گئی کیوں کہ اس نے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے ایئر انڈیا کا سالانہ نقصان 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ ایئرانڈیا پہلے حکومت کی ملکیت تھی جسے اس نے 2022 میں ٹاٹا گروپ کو فروخت کر دیا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈین ایئرلائنز کے لیے طویل دورانیے کی فلائٹس کے ساتھ ساتھ ایک مشکل تیل کی بڑھتی قیمتیں بھی ہیں جو اس کے اخراجات میں مزید اضافے کی وجہ بن رہی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2748</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/11/ee3f2773-sgkwtuz6h9bpwn24mekal9.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 09:21:30 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>'ایران جنگ کافی حد تک مکمل ہو چکی،' امریکی صدر کے بیان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2746</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2746" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جلد ختم ہونے کے بیان کے بعد منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ خام تیل کی قیمتیں جو پیر کو تین سال کی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی تھیں اور 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی عبور کر چکی تھیں، اب کچھ کم ہو کر 100 ڈالر فی بیرل سے کم ہو چکی ہیں۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">برینٹ آئل کی قیمت میں 4.2 فیصد یا 4 ڈالر کی کمی آئی ہے اور اب اس کے سودے 94.79 ڈالر فی بیرل پر وصول کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمت بھی 90.96 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران جنگ کافی حد تک مکمل ہو چکی ہے اور واشنگٹن اپنے چار سے پانچ ہفتوں کے مقرر کردہ ہدف سے کافی آگے ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان سے تیل کی قیمتوں کو سہارا ملا ہے اور منڈیوں میں استحکام نظر آیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے برآمد ہونے والے مربان اور دبئی گریڈ خام تیل کی قیمتیں اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے کافی اوپر ہیں اور ان میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/10/6ef747bc-svqmlh7dwbcnxn97guk3fg.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/10/6ef747bc-svqmlh7dwbcnxn97guk3fg.webp" data-card-source="AFP" data-card-caption="ویتنام میں ایک پیٹرول پمپ پر موٹر سائیکل سواروں کی قطاریں لگی ہیں۔"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ کے جنگ ختم ہونے سے متعلق بیان پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ ختم ہونے کا فیصلہ وہ کریں گے اور جب تک امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہیں گے، تہران ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں کرنے دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قیمتوں میں کمی کی ایک وجہ امریکی اور روسی صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہے۔ روسی حکام کے مطابق ٹرمپ اور پوتن کی گفتگو میں ایران جنگ کے جلد تصفیے کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعض اطلاعات کے مطابق ٹرمپ روسی تیل پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ تیل کی عالمی قیمتیں مستحکم رہ سکیں۔ اس کے علاوہ ِخام تیل کے ہنگامی ذخائر سے تیل فراہم کرنے کا معاملہ بھی زیرِ غور ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دوسری جانب جی سیون ممالک نے بھی پیر کو کہا ہے کہ وہ خام تیل کی قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم جی سیون ملکوں کی جانب سے ہنگامی ذخائر کے استعمال کی جو توقع کی جا رہی تھی، اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2746</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/10/22bb8e40-b96zwbr4elnt7l29w3ti0l.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 10 Mar 2026 08:33:31 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد ایشیائی منڈیوں میں مندی، مختلف ملکوں میں اثرات کم کرنے کے اقدامات</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2744</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2744" rel="standout" />
      <description>اسرائیل اور امریکہ کی ایران میں جاری جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں مندی کا شکار ہو گئی ہیں تو دوسری جانب مختلف ملکوں میں ان اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند رہنے کی توقع ہے جہاں سے دنیا کو 20 فیصد کے قریب تیل سپلائی ہوتا ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی کروڈ کی قیمت میں 20 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جو جولائی 2022 کے بعد سب سے زیادہ قیمت ہے۔ برینٹ آئل کی قیمت 17 فیصد اضافے سے 108.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ برینٹ آئل کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے بھی 28 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کی بڑھتی قیمتوں پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ جب ایران کے جوہری خطرے کی تباہی ختم ہوگی تو تیل کی قیمتیں اتنی ہی تیزی سے نیچے چلی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ اور دنیا کے تحفظ اور امن کے لیے ایک بہت چھوٹی سی قیمت ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/9/dd941f8e-hgx97d07uclw9zy755kaq.webp" data-card-width="1193" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/9/dd941f8e-hgx97d07uclw9zy755kaq.webp" data-card-caption="ویتنام کے شہر ہنوئی میں ایک پیٹرول پمپ کا منظر"></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ جو پہلے ہی کئی دن سے مندی کے رجحان کا شکار تھی، پیر کو کریش کر گئی ہے۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں 11 ہزار پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جاپان کی اسٹاک مارکیٹ میں چھ فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ جنوبی کوریا میں 12 فیصد اور آسٹریلیا میں تقریباً چار فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی اور ہر چیز کی قیمتوں میں اضافے کی توقع ہے۔ پاکستان میں گزشتہ جمعے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد کئی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/9/ca83bb91-ayo39zieyztdwmwddndtp.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/9/ca83bb91-ayo39zieyztdwmwddndtp.webp" data-card-caption="جاپان کے شہر ٹوکیو میں اسٹاک مارکیٹ کے باہر سے لوگ گزر رہے ہیں "></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اثرات سے بچاؤ کے اقدامات</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کی قبل از وقت چھٹیاں دے دی گئی ہیں جب کہ جنوبی کوریا میں قیمتوں پر حد مقرر کی گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش اپنی توانائی کی 95 فیصد طلب امپورٹ سے پوری کرتا ہے۔ بنگلہ دیش نے توانائی کی کھپت میں کمی کے لیے ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں عید الفطر کی قبل از وقت چھٹیاں دے دی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بنگلہ دیش میں سرکاری اور نجی سکولوں میں پہلے ہی رمضان میں چھٹیاں ہیں۔ یعنی اب ملک کے تمام تعلیمی ادارے عید کی چھٹیوں تک بند رہیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا کیوں کہ نجی اور سرکاری یونیورسٹیوں میں بہت زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/3/9/1e74b2f1-lghz8vvawmydsluryha3b.webp" data-card-width="1200" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/3/9/1e74b2f1-lghz8vvawmydsluryha3b.webp" data-card-caption="فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ایک پیٹرول پمپ پر تیل ختم ہونے کا پیغام آویزاں ہے"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوبی کوریا نے 30 سال میں پہلی بار تیل کی قیمتوں پر حد مقرر کر دی ہے اور عوام 'پینک بائنگ' نہ کرنے سے خبردار کیا ہے۔ جنوبی کوریا اپنی ضرورت کا 70 فیصد تیل مشرقِ وسطیٰ سے خریدتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جاپان کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت آئل کے ملکی ذخائر سے تیل فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ جاپان 95 فیصد تیل مشرقِ وسطیٰ سے امپورٹ کرتا ہے اور اس کے پاس 354 دن کے ذخائر موجود ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ویتنام کی حکومت تیل کی درآمدات پر عائد ٹیرف ختم کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ ٹیکسز میں کمی کر کے عوام کے لیے قیمتیں کم رکھی جا سکیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں بھی پیر کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں کفایت شعاری کی پالیسی کا اعلان متوقع ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ نے تیل ایکسپورٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور شپمنٹس کے پرانے وعدے بھی منسوخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">تیل پیدا کرنے والے ملک کیا کر رہے ہیں؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">قطر نے ایل این جی کی برآمدات روک دی ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کویت اور عراق نے آبنائے ہرمز کی بندش کے پیشِ نظر تیل کی پیداوار کم کر دی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی جلد تیل کی پیداوار روک سکتے ہیں کیوں کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل ایکسپورٹ نہیں ہو رہا اور اسٹوریج تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2744</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/3/9/a21ab297-4xlrhzajea7zngizfs04.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 09 Mar 2026 10:01:51 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکی کسٹمز نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرفس کی وصولی روکنے کا اعلان کر دیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2722</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2722" rel="standout" />
      <description>امریکہ کی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کی وصولی منگل سے بند کر دے گی۔ </description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی سپریم کورٹ نے جمعے کو اپنے فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ملکوں پر ٹیرف عائد کرنے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ یہ وہی ٹیرفس ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت گزشتہ سال اپریل میں متعدد ملکوں پر عائد کیے تھے جن میں کئی ملکوں پر 50 فی صد اور اس سے بھی زیادہ ٹیرف عائد کیے گئے تھے۔ <img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2026/2/23/c40ee5eb-4sp08l6a93im9tohsejfz.webp" data-card-width="1600" data-card-height="800" data-card-path="/piri/upload/3/2026/2/23/c40ee5eb-4sp08l6a93im9tohsejfz.webp"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کے اس فیصلے کو غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیے جانے کے بعد محصولات وصول کرنے والے ادارے کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن ایجنسی نے منگل سے آئی ای ای پی اے کے تحت ٹیرف کی وصولی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے ردعمل میں اپنے ایک اور اختیار کا استعمال کرتے ہوئے یکساں 15 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے اور اس ٹیرف کی وصولی منگل سے ہی شروع کی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے ججوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں بے وقوف، اشاروں پر چلنے والے اور 'اپنے خاندانوں کے لیے شرمندگی کی وجہ' بننے والے قرار دیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2024917715396558971" data-url="https://t.co/VU2tLrWhCT" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;🚨 President Trump is GOING HARD against the liberal SCOTUS justices — Jackson, Sotomayor and Kagan&lt;br&gt;&lt;br&gt;&quot;Frankly, a DISGRACE to our nation! An automatic NO.&quot;&lt;br&gt;&lt;br&gt;&quot;They're being FOOLS AND LAPDOGS for RINOs and Democrats!&quot;&lt;br&gt;&lt;br&gt;&quot;You can't knock their loyalty! That's one thing you can do with… &lt;a href=&quot;https://t.co/VU2tLrWhCT&quot;&gt;pic.twitter.com/VU2tLrWhCT&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— RightLine (@RightLineNews) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/RightLineNews/status/2024917715396558971?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;February 20, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/VU2tLrWhCT</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو وہ ٹیرفس ری فنڈ بھی کرنا پڑ سکتے ہیں جو اس نے اب تک وصول کیے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ قانونی چارہ جوئی کے بغیر وصول شدہ ٹیرف واپس نہیں کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت اب تک 133 ارب ڈالرز سے زیادہ کے محصولات وصول کیے ہیں جو اس فیصلے کے بعد واپس دینا پڑ سکتے ہیں اور اس رقم کی واپسی کے مطالبات شروع بھی ہو گئے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2722</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/2/23/fec6b6b2-xgq5669q5zs3xw5jjidid1.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 23 Feb 2026 11:59:47 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>البئیراک گروپ پورٹ انفراسٹرکچر کے میدان میں عالمی توجہ کا مرکز</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2719</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2719" rel="standout" />
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p>البئیراک گروپ بندرگاہی انفراسٹرکچر کی بدولت دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اپنے وسیع بحری بیڑے، جدید انجینئرنگ اور مربوط آپریشنل ڈھانچے کے ذریعے یہ گروپ اسٹریٹجک بندرگاہوں پر جدید انفراسٹرکچر، محفوظ جہاز رانی، اعلیٰ کارکردگی اور پائیدار ترقی میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ یہی حکمتِ عملی البئیراک گروپ کو عالمی بحری تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔</p><p>بحری تجارت اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کے شعبے میں سرگرمیوں کی بدولت البئیراک گروپ ایک مضبوط عالمی گروپ کے طور پر نمایاں ہے۔ البئیراک گروپ کے ساتھ کام کرنے والی البئیراک کنسٹرکشن مختلف جغرافیائی خطوں میں اسٹریٹجک بندرگاہوں کے انفراسٹرکچر کو ترقی دے رہی ہے، جس کے لیے اس کے پاس ڈریجنگ جہازوں، بارجز، ٹینکرز اور پائل ڈرائیونگ پلیٹ فارمز پر مشتمل ایک وسیع بحری بیڑا موجود ہے۔</p><p>آپریشنز میں 4,000 اور 3,000 مکعب میٹر صلاحیت کے دو ’ٹی ایس ایچ ڈی‘ ڈریجرز، تنگ اور کم گہرے جگہوں کے لیے تیار کیے گئے ڈریجنگ بارجز، پیٹرولیم مصنوعات کے ٹینکرز اور پائل ڈرائیونگ پلیٹ فارمز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس بیڑے کی ساخت بڑے پیمانے پر ڈریجنگ منصوبوں اور بندرگاہ پر حساس کاموں دونوں میں بلا تعطل اور انتہائی مؤثر آپریشنز کو ممکن بناتی ہے۔</p><p><strong>اسٹریٹجک بندرگاہوں پر مربوط بحری آپریشنز</strong></p><p>گروپ کے پورٹ فولیو میں ٹرابزون پورٹ، الپورٹ کوناکری، الپورٹ بنجول، الپورٹ موغادیشو اور الپورٹ پوائنٹ نوار خصوصاً شامل ہیں، جہاں انجام دی جانے والی ڈریجنگ اور بندرگاہی ترقیاتی سرگرمیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 50 لاکھ مکعب میٹر ڈریجنگ کی گئی ہے۔ یہ حجم بحری شعبے میں البئیراک گروپ کی انجینئرنگ کی صلاحیت اور آپریشنل مہارت کا مظہر ہے۔</p><p>اپنے ہی بحری بیڑے اور آلات کے ذریعے کام کرنے کی وجہ سے گروپ کو مکمل آپریشنل کنٹرول اور تیز رفتار موبلائزیشن کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، جو اسے صنعت کی دیگر کمپنیوں سے ممتاز بناتا ہے۔</p><p>ماہر انجینئرنگ ٹیموں کی جانب سے کی جانے والی ماحول دوست ڈریجنگ آپریشنز کے ذریعے بندرگاہی حوضوں میں محفوظ جہاز رانی کی گہرائیاں بحال کی جاتی ہیں۔ ان اقدامات سے بڑی ٹنّیج کے جہازوں، یعنی وہ جہاز جن میں بڑی مقدار میں سٹوریج کی گنجائش ہو، کی بندرگاہوں تک رسائی ممکن ہوتی ہے اور ہینڈلنگ صلاحیت اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔</p><p>البئیراک گروپ کے بحری بیڑے میں اعلیٰ صلاحیت کے ڈریجنگ جہاز، تنگ اور کم گہرے جگہوں کے لیے ڈریجنگ بارجز، پیٹرولیم مصنوعات کے ٹینکرز اور پائل ڈرائیونگ پلیٹ فارمز شامل ہیں، جن کے ذریعے سمندری تہہ کی ڈریجنگ، ایندھن کی فراہمی اور نئی بندرگاہی سرمایہ کاری تک وسیع پیمانے پر مربوط خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی بحری معیارات کے مطابق انجام دی جانے والی یہ سرگرمیاں علاقائی تجارت کی پائیداری میں مضبوط کردار ادا کرتی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2719</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/2/21/4c3f2602-7vzwsxu91sdn6cjonurhu.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Sat, 21 Feb 2026 21:24:49 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>انڈیا امریکہ سے پیٹرولیم مصنوعات، دفاعی ساز و سامان، الیکٹرونکس اور جہاز بھی خریدے گا: انڈین عہدے دار</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2693</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2693" rel="standout" />
      <description>انڈیا کے ایک سرکاری عہدے دار نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ نئی دہلی تجارتی معاہدے کے تحت امریکہ سے پیٹرولیم مصنوعات، دفاعی ساز و سامان، الیکٹرونکس اشیا، ادویات، ٹیلی کام مصنوعات کے علاوہ طیارے بھی خریدے گا۔</description>
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا اور امریکہ کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت واشنگٹن نے نئی دہلی پر عائد ٹیرف کم کر دیے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بدلے میں انڈیا نہ صرف روس سے تیل کی خریداری بند کر کے امریکہ سے تیل خریدے گا، تجارتی رکاوٹیں ختم کرے گا اور اربوں ڈالر کی کئی اور مصنوعات بھی امریکہ سے لے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے بھی اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انڈیا 'پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر امریکی مصنوعات خریدے گا۔' ان کے بقول انڈیا 500 ارب ڈالر مالیت تک کی امریکی توانائی، کوئلہ، ٹیکنالوجی، زرعی ساز و سامان اور دیگر مصنوعات لے سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرکاری عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انڈیا نے امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے امریکی مصنوعات خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انڈیا کی وزارتِ تجارت نے معاملے پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کی وزارتِ کامرس کے ڈیٹا کے مطابق نئی دہلی نے امریکہ کو 85.5 ارب ڈالر کی برآمدات کی ہیں جب کہ درآمدات کا حجم اس کا تقریباً نصف 46.08 ارب ڈالر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرکاری عہدے دار نے رائٹرز کو بتایا کہ حالیہ تجارتی معاہدہ صرف ابتدا ہے، آئندہ چند ماہ میں ایک جامع اور تفصیلی معاہدے پر بھی بات چیت ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس تجارتی معاہدے کے تحت انڈیا امریکی گاڑیوں پر بھی ٹیرف کم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر یہ اقدام کیا جائے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2693</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/2/3/d5e747d8-fgg39b8o296o0knbk734i.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 10:22:51 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>انڈیا اور یورپی یونین میں تجارت کا 'سب سے بڑا' معاہدہ، تقریباً دو دہائیوں کے مذاکرات کے بعد فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر اتفاق
</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2683</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2683" rel="standout" />
      <description>انڈیا اور یورپی یونین تجارت کے ایک بڑے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ تقریباً دو دہائیوں کے مذاکرات کے بعد طے پانے والے اس معاہدے کو دونوں فریق 'مدر آف آل ڈیلز' یعنی تمام معاہدوں کی ماں قرار دے رہے ہیں۔ </description>
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">منگل کو انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان معاشی اور اسٹرٹیجک روابط مضبوط کرنے کے لیے 'فری ٹریڈ ایگریمنٹ' پر اتفاق ہو گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ دنیا کے بڑے باہمی تجارتی معاہدوں میں سے ایک ہے جس سے تقریباً دو ارب لوگوں کی معیشت جڑی ہے۔ اور یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور انڈیا دونوں ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھاری ٹیرفس کی زد میں ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نریندر مودی نے منگل کو توانائی کانفرنس سے خطاب میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 'یہ معاہدہ انڈیا اور یورپ کے لوگوں کے لیے بڑے مواقع پیدا کرے گا۔ یہ عالمی جی ڈی پی کے ایک چوتھائی اور دنیا بھر کی تجارت کے ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈار لیئن نے ایکس پر لکھا کہ 'یورپ اور انڈیا آج ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ہم نے مدر آف آل ڈیلز طے کر لی ہے۔ ہم نے دو ارب لوگوں کے لیے فری ٹریڈ زون بنایا ہے جو دونوں فریقین کو فائدہ پہنچائے گا۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="2016039782439129113" data-url="https://t.co/C7L1kQQEtr" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Europe and India are making history today.&lt;br&gt;&lt;br&gt;We have concluded the mother of all deals.&lt;br&gt;&lt;br&gt;We have created a free trade zone of two billion people, with both sides set to benefit. &lt;br&gt;&lt;br&gt;This is only the beginning.&lt;br&gt;&lt;br&gt;We will grow our strategic relationship to be even stronger. &lt;a href=&quot;https://t.co/C7L1kQQEtr&quot;&gt;pic.twitter.com/C7L1kQQEtr&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Ursula von der Leyen (@vonderleyen) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/vonderleyen/status/2016039782439129113?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;January 27, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/C7L1kQQEtr</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ 'یہ تو صرف شروعات ہے۔ ہماری اسٹرٹیجک شراکت داری مزید مضبوط ہو گی۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا ہے جس کے تحت 27 یورپی ممالک پر مشتمل یونین اور انڈیا کے درمیان کھلی تجارت ممکن ہو سکے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان مالی سال 2024-2025 میں  136.5 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی تھی۔ دونوں فریق 2030 تک اس کا حجم 200 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیرِ اعظم مودی اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وون ڈیر لیئن کی منگل کو ملاقات شیڈول ہے جس میں دونوں رہنما مشترکہ طور پر معاہدے کا اعلان کریں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ نے روسی تیل خریدنے کی وجہ سے انڈیا پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا ہے جس کے باعث مجموعی ٹیرف 50 فیصد ہو چکا ہے۔ انڈیا اسی کے باعث اپنی برآمدات کا دائرہ دیگر ملکوں تک وسیع کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ معاہدہ یورپی یونین کو دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی معیشتوں تک رسائی کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ یورپی برآمدات کاروں اور سرمایہ کاروں کی غیر مستحکم منڈیوں پر انحصار کم کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے سے محصولات میں واضح کمی آئے گی اور ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی ملے گی۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2683</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2026/1/27/15d8f6bb-15g1ls3n803cod76nshi1r.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 27 Jan 2026 13:22:47 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ایلون مسک کی تنخواہ تقریباً ایک ہزار ارب ڈالر ہو گئی، لیکن اسے حاصل کرنے کے لیے انہیں کرنا کیا ہوگا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2470</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2470" rel="standout" />
      <description>الیکٹرک کاریں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے ایلون مسک کے لیے ایک کھرب ڈالر کے تاریخی، بھاری بھرکم اور انتہائی پرکشش پے پیکج کی منظوری دی ہے۔ ٹیسلا نے یہ فیصلہ اپنے شیئر ہولڈرز کی منظوری کے بعد کیا ہے۔</description>
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹیسلا کے 75 فی صد شیئر ہولڈرز نے جمعرات کو امریکی ریاست ٹیکساس میں ہونے والے کمپنی کے سالانہ اجلاس کے دوران اس ڈیل کی منظوری دی۔ جس کے بعد ایلون مسک تقریب کے دوران اسٹیج پر ڈانسنگ روبوٹس کے ساتھ رقص کرتے بھی نظر آئے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن ایلون مسک کو اس پرکشش پیکج کو حاصل کرنے کے لیے کمپنی کو منافع بخش بنانے کے ساتھ ساتھ آئندہ 10 برس کے دوران ٹیسلا کی مارکیٹ ویلیو کو کئی گنا بڑھانا ہو گا اور اس کے علاوہ بھی کئی بڑے اہداف حاصل کرنا ہوں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="1986554753686425995" data-url="https://t.co/gDFuWjiRyx" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Elon Musk dancing with Tesla Optimus robots on stage at the Annual Shareholder Meeting, he absolutely delivered as promised! &lt;a href=&quot;https://t.co/gDFuWjiRyx&quot;&gt;https://t.co/gDFuWjiRyx&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://t.co/kHrpGbVnNb&quot;&gt;pic.twitter.com/kHrpGbVnNb&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— SMX 🇺🇸 (@iam_smx) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/iam_smx/status/1986554753686425995?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;November 6, 2025&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/gDFuWjiRyx</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بعض حلقے ایلون مسک کو دیے جانے والے پیکج پر تنقید بھی کر رہے ہیں اور کچھ سرمایہ کار اسے انتہائی مہنگا اور غیر ضروری پیکج قرار دے رہے ہیں۔ لیکن ٹیسلا کے بورڈ اراکین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو مسک کمپنی چھوڑ دیتے جس کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس پیکج میں جو اہداف طے کیے گئے ہیں وہ سرمایہ کاروں کو بھی فائدہ پہنچائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ فیصلہ ٹیسلا کے مستقبل اور اس کے تخمینے کے لیے بہت اہم تھا۔ ٹیسلا کا مستقبل ایلون مسک کے خودکار گاڑیاں بنانے، امریکہ بھر میں روبوٹک ٹیکسی نیٹ ورک کھڑا کرنے اور انسان نما روبوٹس کی فروخت کے وژن سے جڑا ہوا ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایلون مسک کو کرنا کیا ہوگا؟</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایلون مسک کو یہ پے پیکج یا تنخواہ نقد رقم یا بینک ٹرانسفر کی صورت میں نہیں ملے گی بلکہ ٹیسلا کے شیئرز کی صورت میں ملنی ہے اور اس کے لیے انہیں اگلے 10 برسوں میں کئی اہداف حاصل کرنے ہوں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مسک کے اہداف میں شامل ہے کہ کمپنی آئندہ ایک دہائی میں دو کروڑ گاڑیاں ڈیلیور کرے گی۔ ٹیسلا کی ایک کروڑ روبوٹک ٹیکسیاں سڑکوں پر موجود ہوں گی۔ ایک کروڑ روبوٹس فروخت کیے جائیں گے اور کمپنی کا خالص منافع 400 ارب تک پہنچانا ہوگا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن ان اہداف کے باوجود انہیں یہ پیکج تب ہی ملے گا جب کمپنی کے اسٹاک کی قدر بڑھ کر پہلے دو ہزار ارب اور پھر بتدریج ساڑھے آٹھ ہزار ارب ڈالرز تک نہیں پہنچ جاتی۔ ابھی ٹیسلا کی اسٹاک ویلیو ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ہر ایک ہدف حاصل کرنے پر ٹرمپ کو ایک فی صد اسٹاکس مل جائیں گے۔ یعنی اگر ایلون مسک کچھ اہداف پورے نہ بھی کر سکیں تب بھی انہیں اربوں ڈالرز ملیں گے۔ اور اگر وہ یہ سب اہداف پورے کر لیتے ہیں تو انہیں 12 فی صد اسٹاکس مل جائیں گے جو 878 ارب ڈالرز کے برابر ہوں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس دوران اگر ٹیسلا کے اسٹاکس کی قیمت میں کمی یا بڑھوتری ہوتی ہے تو مسک کے پیکج کی قیمت میں بھی اتار چڑھاؤ آئے گا۔ یعنی یہ پیکج فکس نہیں ہے بلکہ اسٹاکس کی قیمت پر منحصر ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ ایلون مسک اب بھی ٹیسلا کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں اور ان کے پاس کمپنی کے تقریباً 13 فیصد شیئرز ہیں۔ </p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2470</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/11/7/34cfcf48-8nfupuqnzbw0nczsk12rxd.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 07 Nov 2025 14:55:10 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکی حکومت شٹ ڈاؤن ہو گئی لیکن اس کا مطلب کیا ہے؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2305</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2305" rel="standout" />
      <description>شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ہزاروں وفاقی ملازمین کی نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ کیوں کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ شٹ ڈاؤن کی صورت میں وہ حکومتی محکموں میں مزید ملازمتوں کو ختم کر دیں گے۔</description>
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کی وفاقی حکومت باقاعدہ طور پر شٹ ڈاؤن ہو گئی ہے جس کے بعد حکومتی امور متاثر ہو رہے ہیں اور ملک میں غیر یقینی کی صورتِ حال ہے کہ یہ شٹ ڈاؤن کب تک جاری رہے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ شٹ ڈاؤن ڈیموکریٹس پارٹی اور ری پبلکن جماعت کے درمیان ڈیڈ لاک کی وجہ سے ہوا ہے جس کے باعث کانگریس سے اخراجات کا بل یعنی بجٹ پاس نہیں ہو سکا۔ یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی مالی سال کی فنڈنگ میں توسیع کے لیے مطلوبہ ووٹ نے ملنے کے سبب امریکی حکومت شٹ ڈاؤن ہو گئی۔ یہ 2019 کے بعد امریکی حکومت کا پہلا شٹ ڈاؤن ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ہزاروں وفاقی ملازمین کی نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ کیوں کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ شٹ ڈاؤن کی صورت میں وہ سرکاری اداروں میں مزید ملازمتوں کو ختم کر دیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کے علاوہ فضائی سفر متاثر ہوگا، سائنسی تحقیق روک دی جائے گی، امریکی فوجیوں کی تنخواہیں روک دی جائیں گی اور ساڑھے سات لاکھ وفاقی ملازمین کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج دیا جائے گا جس سے یومیہ 40 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوگا۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/10/1/4882e76c-lajnmil806lqwkgn8ix8i.webp" data-card-width="1280" data-card-height="720" data-card-path="/piri/upload/3/2025/10/1/4882e76c-lajnmil806lqwkgn8ix8i.webp"></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">شٹ ڈاؤن ہوتا کیا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جیسے پاکستان میں مالی سال 30 جون کو ختم ہوتا ہے ویسے ہی امریکہ میں مالی سال 30 ستمبر کو ختم ہوتا ہے۔ اور یکم اکتوبر سے پہلے کانگریس کو نئے مالی سال کے لیے حکومتی اداروں کے اخراجات مختص کرنا ہوتے ہیں۔ یعنی آسان الفاظ میں کہیں تو نئے مالی سال کا بجٹ پاس کرنا ہوتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اب جب یکم اکتوبر ہو گئی ہے اور امریکی سینیٹ سے بجٹ پاس نہیں ہو سکا ہے تو حکومت کے پاس اپنے آپریشنز چلانے کے لیے فنڈنگ نہیں ہے۔ اس صورت حال کو حکومت کی بندش یا ’ شٹ ڈاؤن‘ کہا جاتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ میں شٹ ڈاؤن کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام حکومتی ملازمین جن کی خدمات کے بغیر بھی حکومت کے بنیادی امور چل سکتے ہیں انھیں چھٹی پر بھیج دیا جاتا ہے جب کہ انتہائی ضروری شعبوں کے ملازمین کام کرتے رہتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق 1981 سے لے کر اب تک 14 بار شٹ ڈاؤن ہو چکا ہے اور یہ 15ویں بار ہے۔ ان میں سے کئی شٹ ڈاؤن صرف ایک یا دو دن کے لیے ہوئے۔ حالیہ برسوں میں طویل ترین شٹ ڈاؤن بارڈر سیکیورٹی سے متعلق ہونے والے تنازع کی وجہ سے ہوا تھا۔ دسمبر 2018 میں شروع ہونے والا یہ شٹ ڈاؤن 34 دن تک جاری رہنے کے بعد جنوری 2019 میں ختم ہوا تھا۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/10/1/9d7fe6d2-ynjnek1pmkhbqlzobq2o3s.webp" data-card-width="770" data-card-height="513" data-card-path="/piri/upload/3/2025/10/1/9d7fe6d2-ynjnek1pmkhbqlzobq2o3s.webp" data-card-caption="فائل فوٹو"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کئی مرتبہ اخراجات کی منظوری پر جاری مذاکرات کے دوران کانگریس سرکاری اداروں کی فنڈنگ کی مدت میں توسیع کر دیتی ہے تاکہ حتمی منظوری ملنے تک ادارے اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ لیکن اس بار یہ بھی نہیں ہو سکا اور فنڈنگ میں توسیع کے لیے مطلوبہ ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے امریکی حکومت شٹ ڈاؤن ہوئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ جب تک کانگریس اخراجات کی حتمی منظوری نہیں دے دیتی تب تک 21 نومبر تک کے لیے فنڈنگ میں توسیع کر دی جائے تاکہ حکومتی ادارے کام جاری رکھ سکیں۔ لیکن سینیٹ میں یہ تجویز منظور نہ ہو سکی۔ سینیٹ میں قانون سازی کے لیے 60 ووٹ درکار ہیں۔ حکمران جماعت ری پبلکن پارٹی کے پاس سینیٹ میں 55 سیٹیں ہیں جب کہ 45 نشستیں ڈیموکریٹس کی ہیں۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">شٹ ڈاؤن کا اثر کیا ہوتا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شٹ ڈاؤن کی صورت میں لاکھوں وفاقی ملازمین بغیر تنخواہ ملازمت سے معطل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد سرکاری کام رک جاتے ہیں۔ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے مالیاتی امور سے لے کر نیشنل پارکس میں کوڑا اٹھانے تک کئی سرکاری خدمات متاثر ہوتی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ضروری شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین کو معطل نہیں کیا جاتا اور وہ کام جاری رکھتے ہیں۔ مثلاؔ ٹیکس جمع کرنے والے ملازم، فوجی، میڈیکل کے شعبے میں کام کرنے والے یا ڈاک کے محکمے جیسے ادارے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ لیکن شٹ ڈاؤن ختم ہونے تک انہیں تنخواہ نہیں ملتی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جو شٹ ڈاؤن محض چند دنوں تک جاری رہیں ان کے اثرات بہت کم ہوتے ہیں۔ لیکن اگر دو ہفتے بعد بھی وفاقی ملازمین کو ادائیگیاں نہ ہوں تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر معیشت پر اثر پڑتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق 19-2018 میں ہونے والے شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں امریکی معیشت کو تین ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس بار شٹ ڈاؤن کیوں ہوا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ میں حکمران جماعت ری پبلکن پارٹی نے نئے مالی سال کا بجٹ سینیٹ سے منظور کرانے کے لیے بل پیش کیا تھا۔ اس بل کی منظوری کے لیے 60 ووٹ درکار ہیں لیکن سینیٹ میں ری پبلکنز کے پاس 55 سیٹیں ہیں۔ بجٹ کی منظوری کے لیے انہیں ڈیموکریٹس کی حمایت درکار ہے لیکن ڈیموکریٹس اس بل کی حمایت کے بدلے میں اپنی شرائط منظور کرانا چاہتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ صحت عامہ اور دیگر محکموں میں جو کٹوتیاں کی گئی ہیں انہیں واپس لیا جائے۔ ڈیموکریٹس کی چند شرائط میں سے ایک کم آمدن والے طبقوں کے لیے ہیلتھ انشورنس میں سبسڈی برقرار رکھنا ہے۔ دوسری جانب ری پبلکنز اور ٹرمپ انتظامیہ کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب یہ شٹ ڈاؤن اس وقت تک برقرار رہ سکتا ہے جب تک عوامی دباؤ کسی ایک فریق کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہ کر دے۔</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2305</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/10/1/abb9c691-570ney7tlvviywec7kduys.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 10:14:34 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان کو صرف جولائی میں بیرون ملک یا غیر ملکی اداروں سے تقریباً 69 کروڑ 45 لاکھ 30 ہزار ڈالر قرض ملا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2181</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2181" rel="standout" />
      <description>پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے پہلے مہینے یعنی جولائی میں بیرون ملک یا غیر ملکی اداروں سے مجموعی طور پر تقریباً 69 کروڑ 45 لاکھ 30 ہزار ڈالر قرض لیا۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اکنامک افیئرز ڈویژن کے اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 37 کروڑ 98 لاکھ 80 ہزار ڈالر بین الاقوامی اداروں (مثلاً عالمی بینک یا ایشیائی ترقیاتی بینک) سے آئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تقریباً 11 کروڑ 84 لاکھ 30 ہزار ڈالر دوسرے ممالک (دوطرفہ شراکت دار) سے لیے گئے۔ اور تقریباً 19 کروڑ 62 لاکھ 20 ہزار ڈالر ’نیا پاکستان سرٹیفکیٹ‘ کے ذریعے ملک کے اندر یا سرکاری اسکیموں کے ذریعے حاصل کیے گئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کو جن ممالک نے قرض دیا ان میں چائنہ نے  تقریباً 60 لاکھ ڈالر، فرانس نے  85 لاکھ ڈالر، جرمنی نے  20 لاکھ 20 ہزار ڈالر، جاپان نے 8 لاکھ 10 ہزار ڈالر، جنوبی کوریا نے 6 لاکھ ڈالر اور کویت نے 3 لاکھ ڈالر دیے ڈالر دیے۔</p><ol><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ: تقریباً 60 لاکھ ڈالر</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">فرانس: 85 لاکھ ڈالر</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">جرمنی: 20 لاکھ 20 ہزار ڈالر</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">جاپان: 8 لاکھ 10 ہزار ڈالر</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوبی کوریا: 6 لاکھ ڈالر</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">کویت: 3 لاکھ ڈال</li></ol><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اس کے علاوہ سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ نے اپنی تیل کی سہولت کے تحت  10 کروڑ ڈالر فراہم کیے۔ امریکہ نے پاکستان میں مستحق یونیورسٹی طلباء کی اعلیٰ تعلیم کے لیے یو ایس بیسڈ میرٹ سکالرشپ پروگرام فیز ٹو کے تحت ایک لاکھ 90 ہزار ڈالر گرانٹ دی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین الاقوامی اداروں سے ملنے والے قرض میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے 3 کروڑ 34 لاکھ 50 ہزار ڈالر، ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے19 لاکھ 90 ہزار ڈالر، انٹرنیشنل بینک فار ریکنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ  نے 5 کروڑ 25 لاکھ 60 ہزار ڈالر، انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن نے15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ  نے30 لاکھ ڈالر، اور اسلامی ترقیاتی بینک نے 13 کروڑ 12 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔</p><ol><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایشیائی ترقیاتی بینک: 3 کروڑ 34 لاکھ 50 ہزار ڈالر</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک: 19 لاکھ 90 ہزار ڈالر</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">انٹرنیشنل بینک فار ریکنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ: 5 کروڑ 25 لاکھ 60 ہزار ڈالر</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن: 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ: 30 لاکھ ڈالر</li><li data-list="ordered" class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسلامی ترقیاتی بینک: 13 کروڑ 12 لاکھ ڈالر</li></ol><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2181</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/8/26/6ac794b0-ceuh0cqiuqwa18b2l4oet.webp</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 26 Aug 2025 14:27:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>ٹرمپ نے انڈیا پر ٹیرف میں بڑے اضافے کی دھمکی دے دی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/economy/2114</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/economy/2114" rel="standout" />
      <description>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ انڈیا صرف روس سے بھاری مقدار میں تیل نہیں خرید رہا بلکہ وہ اس کی بڑی مقدار کو بڑے منافع کے لیے اوپن مارکیٹ میں فروخت کر رہا ہے۔</description>
      <category>معیشت</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس سے آئل خریدنے کی وجہ سے انڈیا پر ٹیرف کو مزید بڑھائیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ انڈیا صرف روس سے بھاری مقدار میں تیل نہیں خرید رہا بلکہ وہ اس کی بڑی مقدار کو بڑے منافع کے لیے اوپن مارکیٹ میں فروخت کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انڈیا کو کوئی پروا نہیں کہ یوکرین میں کتنے لوگ روسی جنگ میں مارے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ انڈیا پر عائد کیے گئے ٹیرف میں بڑا اضافہ کرے گا۔<img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/8/5/5f1bb3d5-3nr94hiy2d795m645gkmmv.jpeg" data-card-width="800" data-card-height="319" data-card-path="/piri/upload/3/2025/8/5/5f1bb3d5-3nr94hiy2d795m645gkmmv.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر روس یوکرین میں جنگ نہیں روکتا تو وہ جمعے سے ماسکو اور اس سے تیل خریدنے والے ملکوں پر نئی پابندیاں عائد کریں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر کے بیان پر انڈیا نے ردعمل دیتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے روسی تیل خریدنے پر انڈیا پر ہونے والی تنقید کو مسترد کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="1952412858567844061" data-url="https://t.co/O2hJTOZBby" data-embed-type="twitter" contenteditable="false" data-html-content="&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Statement by Official Spokesperson⬇️&lt;br&gt;🔗 &lt;a href=&quot;https://t.co/O2hJTOZBby&quot;&gt;https://t.co/O2hJTOZBby&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://t.co/RTQ2beJC0W&quot;&gt;pic.twitter.com/RTQ2beJC0W&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) &lt;a href=&quot;https://twitter.com/MEAIndia/status/1952412858567844061?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;August 4, 2025&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;" style="color: rgb(29, 161, 242); background-color: black;"><span>https://t.co/O2hJTOZBby</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈین وزارتِ خارجہ کے مطابق اس نے روس سے تیل اس لیے خریدنا شروع کیا تھا کیوں کہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد تیل کی زیادہ تر روایتی سپلائی یورپ جا رہی تھی اور امریکہ نے اس وقت انڈیا کی ان درآمدات کو سراہا تھا کہ اس سے عالمی منڈیاں مستحکم ہوں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کا کہنا ہے کہ روس سے اس کی برآمدات اپنے صارفین کو کم قیمت پر توانائی فراہم کرنے کے لیے ہے۔ یورپی ممالک بھی روس سے تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں اور امریکہ بھی روس سے اپنی ضرورت کی چیزیں درآمد کر رہا ہے۔ اس لیے انڈیا کو ٹارگٹ کرنا بے وجہ اور غیر منصفانہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے دباؤ کے باوجود انڈیا یہ عندیہ دے رہا ہے کہ وہ روس سے تیل خریدنا جاری رکھے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کے دو اعلیٰ عہدے داروں نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود انڈیا روس سے تیل خریدتا رہے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small"><em>(یہ تفصیلات رائٹرز سے لی گئی ہیں)</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/economy/2114</link>
      <subcategory>معیشت</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/8/5/049a338c-r9joujyo7i1ygsuueuvlv.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 05 Aug 2025 09:39:59 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ اور انڈیا کے تعلقات میں بڑھتا تناؤ، امریکی صدر کے مشیر نے انڈیا پر روسی جنگ کی مالی معاونت کا الزام لگا دیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/world/2111</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/world/2111" rel="standout" />
      <description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے انڈیا پر الزام لگایا کہ وہ روس سے تیل خرید کر اس کی یوکرین میں جاری جنگ کی مالی معاونت کر رہا ہے۔</description>
      <category>دنیا</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ اور انڈیا کے تعلقات میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ حکومت انڈیا پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ وہ روس سے تیل کی خریداری بند کر دے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے انڈیا پر الزام لگایا کہ وہ روس سے تیل خرید کر اس کی یوکرین میں جاری جنگ کی مالی معاونت کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا کہ انڈیا تیل خرید کر روس کو جنگ کے لیے وسائل فراہم کرتا رہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسٹیفن ملر ٹرمپ کے قریبی مشیر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انڈیا کے لیے اب تک کے سب سے سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسٹیفن ملر کا کہنا تھا کہ لوگ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ انڈیا روسی تیل خریدنے میں چین کے مقابل ہے۔ یہ چونکا دینے والے حقائق ہیں۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا روس سے کتنا تیل امپورٹ کرتا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کو اپنی ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے روز تقریباً 55 لاکھ بیرل تیل درکار ہوتا ہے جس کا 88 فی صد حصہ وہ امپورٹ کرتا ہے۔ اسی لیے انڈیا امریکہ اور چائنہ کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا کروڈ آئل امپورٹ کرنے والا ملک ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا ماضی میں اپنا زیادہ تر آئل مشرقِ وسطیٰ سے امپورٹ کرتا تھا لیکن 2022 کے بعد سے اس نے روس سے زیادہ تیل خریدنا شروع کر دیا جب روس نے سستے داموں پر آئل سپلائی کرنا شروع کیا تھا۔ یاد رہے کہ فروری 2022 میں روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا جنوری 2022 میں روس سے یومیہ 68 ہزار بیرل خام تیل خرید رہا تھا لیکن اسی سال جون تک اس کی خریداری 11 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔ مئی 2023 میں انڈیا روس سے روز 21 لاکھ بیرل تیل درآمد کر رہا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے ڈیٹا اینالیٹکس کمپنی کیلپر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایک موقع پر انڈیا کی آئل امپورٹس میں روس کی سپلائی تقریباً 40 فی صد تک پہنچ گئی تھی جس کے نتیجے میں ماسکو نئی دہلی کو سب سے زیادہ خام تیل فراہم کرنے والا ملک بن گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مگر اب ٹرمپ حکومت کی جانب سے انڈیا کو شدید دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ روس سے تیل خریدنا بند کرے۔ تاہم انڈیا نے عندیہ دیا ہے کہ وہ روسی تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ میں انڈین سفارت خانے کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دیا گیا تاہم رائٹرز کے مطابق انڈین حکومت کے سرکاری ذرائع نے انہیں بتایا ہے کہ نئی دہلی امریکہ کے دباؤ کے باوجود روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے انڈیا پر 25 فی صد ٹیرف لگائے ہیں اور ایک بیان میں انڈیا کی معیشت کو مردہ بھی قرار دے چکے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ وہ اگر روس جنگ بندی کا معاہدہ نہیں کرتا تو وہ روس سے آئل خریدنے والے ملکوں پر 100 فی صد ٹیرف لگا دیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ روس سے اس کے تعلقات مستحکم اور وقت کی کسوٹی پر پورا اترنے والے ہیں اور ان تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاییے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small"><em>(یہ تفصیلات رائٹرز اور اے پی سے لی گئی ہیں)</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/world/2111</link>
      <subcategory>دنیا</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/8/4/22a16cdb-ytb68cop71k0tlkxfu44vhj.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 04 Aug 2025 11:12:23 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> بِٹ کوائن کی قیمت پہلی بار ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر سے اوپر چلی گئی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/2008</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/2008" rel="standout" />
      <description>بِٹ کوائن کی قیمت میں 29 فیصد اضافے کی وجہ سے دیگر کرپٹو کرنسیز کی بھی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دنیا کی سب سے مشہور کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت پہلی بار 1 لاکھ 20 ہزار ڈالر سے اوپر چلی گئی ہے، جو کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کے روز ایشیا میں ٹریڈنگ کے دوران بِٹ کوائن نے 1,21,207 ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھوا، بعد میں تھوڑی کمی کے ساتھ 1,21,015 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس تیزی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس ہفتے امریکہ میں کرپٹو کرنسی سے متعلق قوانین پر بحث شروع ہو رہی ہے۔ ان قوانین کا مقصد کرپٹو انڈسٹری کو ایک واضح نظام دینا ہے، جس کا مطالبہ سرمایہ کار کافی عرصے سے کر رہے تھے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کرپٹو کے حق میں ہیں جنہوں نے خود کو ’کرپٹو صدر‘ کہا ہے اور چاہتے ہیں کہ قوانین کو انڈسٹری کے فائدے میں بدلا جائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے ادارے کرپٹو میں دلچسپی لے رہے ہیں، قیمتیں مزید بڑھنے کی امید ہے اور ٹرمپ کی حمایت بھی ہے۔ یہی عوامل بِٹ کوائن کی قیمت کو اوپر لے جا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک تجزیہ کار کے مطابق بِٹ کوائن جلد 1 لاکھ 25 ہزار ڈالر تک بھی جا سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سال اب تک بِٹ کوائن کی قیمت میں 29 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور دیگر کرپٹو کرنسیز جیسے ایتھیر، XRP اور سولانا کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایتھیر 5 ماہ کی بلند ترین سطح  3 ہزار 50 ڈالر پر پہنچا، XRP اور سولانا میں بھی 3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پوری کرپٹو مارکیٹ کی قدر اب  3.78 ٹریلین ڈالر ہو گئی ہے</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/2008</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/7/14/520deae5-wlb62kviuri9jaye2gvvvu.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 14 Jul 2025 10:08:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان کا بٹ کوائن ریزرو کے قیام کا اعلان: ’ہمارے پاس یہ بٹ کوائنز ہوں گے اور ہم انہیں کبھی فروخت نہیں کریں گے‘</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1897</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1897" rel="standout" />
      <description>پاکستان میں اسٹریٹیجک بٹ کوائن ریزرو قائم کیا جائے گا۔ یہ اعلان وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین اور کرپٹو بلال بن ثاقب نے بٹ کوائن ویگاس 2025 میں کیا۔ </description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لاس ویگاس میں بٹ کوائن 2025 کے نام سے تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور صدر ٹرمپ کے دو صاحبزادوں نے بھی خطاب کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس دوران بلال ثاقب کا کہنا تھا کہ ’آج ایک بہت ہی تاریخی دن ہے کیونکہ آج میں یہ اعلان کروں گا کہ پاکستانی حکومت اپنی حکومت کی زیر قیادت بٹ کوائن سٹریٹجک ریزرو قائم کر رہی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ والٹ، نیشنل بٹ کوائن والیٹ، قیاس آرائیوں کے لیے نہیں ہے۔ ہمارے پاس یہ بٹ کوائنز ہوں گے اور ہم انہیں کبھی فروخت نہیں کریں گے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بلال بن ثاقب، جو پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی ہیں، نے عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان حکومت نے حال ہی میں بٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹرز کے لیے پہلے مرحلے میں 2 ہزار میگاواٹ بجلی مختص کی ہے، جو ملک کی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ منصوبہ پاکستان کرپٹو کونسل کی قیادت میں چلایا جا رہا ہے اور اس کے تین بڑے مقاصد ہیں: پہلا، جو بجلی استعمال نہیں ہو رہی، اُسے کرپٹو مائننگ یا ڈیجیٹل شعبوں میں استعمال کر کے اُس سے پیسہ کمایا جائے۔ دوسرا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور تیسرا، بٹ کوائن مائننگ، ڈیٹا سائنس، اے آئی بلاک چین وغیرہ کے شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس قدم کو پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بٹ کوائن ریزرو کیا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بٹ کوائن ریزرو کا مطلب بٹ کوائن کا ذخیرہ ہے جو کوئی فرد، ادارہ یا حکومت بطور اثاثہ محفوظ رکھتی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> یہ بالکل ایسے ہی ہوتا ہے جیسے کسی ملک کے زرمبادلہ (فارن کرنسی) یا سونے کے ذخائر (گولڈ رزیرو) رکھتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔</p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">قومی سطح پر بٹ کوائن ریزرو کا مقصد </h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جب کوئی ملک بٹ کوائن ریزرو کرتا ہے تو اس کے پیچھے کئی اسٹریٹجک اور معاشی مقاصد ہوتے ہیں:</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">کرنسی کی قدر میں کمی سے بچاؤ</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> بٹ کوائن کو محفوظ ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ ملکی کرنسی کے غیر مستحکم ہونے پر معیشت کو سہارا دیا جا سکے کیونکہ اس کی عالمی سطح پر اہمیت اور قدر قائم رہتی ہے۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرمایہ کاری کو متنوع بنانا </h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سرمایہ کاری کو مختلف جگہوں پر لگانا بہتر ہوتا ہے۔ صرف ڈالر یا سونے پر انحصار کرنے کے بجائے ڈیجیٹل اثاثے رکھنے سے ملک کی معیشت کی بنیاد مضبوط ہو سکتی ہے۔ </p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> بٹ کوائن ریزرو اور کرپٹو پالیسیوں کے ذریعے پاکستان خود کو ایک جدید ڈیجیٹل معیشت کے طور پر پیش کر سکتا ہے، جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن سکتا ہے۔</p><h3 class="ql-align-right ql-direction-rtl">بلاک چین ٹیکنالوجی کو فروغ دینا</h3><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اس اقدام سے پاکستان میں بلاک چین اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حال ہی میں پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومتی سطح پر ایک ’اسٹریٹیجک بٹ کوائن ریزرو‘ قائم کرے گا۔  اس منصوبے کی قیادت پاکستان کرپٹو کونسل کر رہا ہے، جو وزارت خزانہ کے تحت کام کر رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس منصوبے کو حمایت حاصل ہے، جن میں بائنینس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ بھی شامل ہیں۔</p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟</h1><ol><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">کرنسی کی بے قدری کے اثرات کم ہوں گے</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کو برتری حاصل ہو سکتی ہے</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">مالیاتی نظام میں شمولیت بڑھے گی، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کے پاس بینک اکاؤنٹ نہیں۔</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئے روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی ترقی</li></ol><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1897</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/5/30/09a84acf-capfya2cqumfrxbho7g3a.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 30 May 2025 07:45:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>جنگل کا قانون نہیں چلنے دیں گے، چین کے نقصان پر امریکہ سے تجارتی معاہدے کرنیوالے ممالک محتاط رہیں: بیجنگ کی وارننگ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1818</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1818" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چین نے خبردار کیا ہے کہ چین کو نقصان پہنچانے کی قیمت پر امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے والے ممالک کو محتاط رہنا چاہیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کا یہ بیان اُس وقت آیا جب یہ خبریں ملیں کہ امریکہ دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ چائنہ کے ساتھ اپنی تجارتی سرگرمیاں کم کریں، اور بدلے میں انہیں امریکہ کی طرف سے لگائے گئے ٹیرف (ٹیکس) سے نرمی دی جائے گی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> ٹرمپ انتظامیہ ایسے ممالک (تجارتی پارٹنرز) پر دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے جو امریکا سے ٹیرف میں کمی کے خواہاں ہیں اور اس کے بدلے وہ چائنہ کے ساتھ تجارت محدود کریں۔ ایسے میں پچھلے ہفتے جاپان کا ایک وفد واشنگٹن آیا تھا اور جنوبی کوریا اس ہفتے مذاکرات شروع کرنے والا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب سے ٹیرف کا اعلان کیا گیا ہے، 70 سے زیادہ ممالک نے مذاکرات شروع کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوری میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد سے ٹرمپ نے چائنہ سے آنے والی امورٹس پر بھاری ٹیکس عائد کیے ہیں، جبکہ دیگر ممالک کو بھی اپنی اشیاء پر محصولات (لیویز) کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے کہا کہ ’مصالحانہ رویہ امن نہیں لاتا اور سمجھوتہ عزت نہیں پاتا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کو چینی مفادات کی قیمت پر معاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو چائنہ اسے کبھی قبول نہیں کرے گا اور جوابی اقدامات کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کے خلاف اپنی تجارتی جنگ کو بڑھانے کے باوجود ٹرمپ نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ بیجنگ کے ساتھ ایک ’بہت بہتر‘ تجارتی معاہدہ طے کر لیں گے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پیر کو جاری کیے گئے بیان میں چین کی وزارتِ تجارت نے ٹرمپ کی حکومت پر ’سیاست‘ اور ’یک طرفہ بدمعاشی‘ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، جسے وہ ’جوابی ٹیرف‘ کے نام پر دفاع کرنے کا بہانہ قرار دے رہے ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ترجمان نے کہا کہ ’اگر بین الاقوامی تجارت 'جنگل کے قانون' کی طرح ہو گئی، تو تمام ممالک شکار بن جائیں گے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’چین تمام فریقوں کے ساتھ یکجہتی اور تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے تاکہ یک طرفہ بدمعاشی کا مقابلہ کیا جا سکے، جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کیا جا سکے، اور بین الاقوامی انصاف اور برابری کی حفاظت کی جا سکے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1818</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/4/21/64c9bb31-oeezvnvvmwguyaruzw8k9e.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 21 Apr 2025 08:01:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان کا ٹرمپ حکومت پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1798</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1798" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے نئے ٹیرف پر تحفظات ہیں، لیکن ہمارا جوابی ٹیرف عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> وائٹ ہاوٴس کے مطابق امریکہ نے پاکستانی امپورٹس پر وقتی طور پر 29 فیصد ٹیرف پر نرمی کا اعلان کیا تھا تاہم 10 فیصد ٹیرف برقرار رہے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> بی بی سی  کو ایک انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ ’کم از کم 10 فیصد ٹیرف ہے اور پھر اضافی ٹیرف بھی ہے، میرے خیال میں ہمیں اس معاملے پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جوابی ٹیرف سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم امریکہ پر کوئی جوابی ٹیرف عائد کریں گے، تو اس کا جواب ہے نہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک غیر یقینی صورتحال ہے، اور ہمیں سب کو سوچنا ہوگا کہ اس نئے عالمی منظرنامے میں کیسے آگے بڑھنا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر 29 فیصد ٹیرف دوبارہ لاگو ہوتا ہے تو، پاکستانی ایکسپورٹس پر کل ٹیرف 37.6 فیصد تک جا سکتا ہے۔ (8.6 فیصد ایم ایف این ٹیرف سمیت)</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تحقیق کے مطابق اس سے امریکی منڈی میں پاکستانی ایکسپورٹس میں 20 سے 25 فیصد کمی ہو سکتی ہے، جو کہ سالانہ 1.1 سے 1.4 ارب ڈالر کے نقصان کے برابر ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکی ٹیرف سے ٹیکسٹائل سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہو گا، جو کہ پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ انڈسٹری ہے اور تقریباً 17 ارب ڈالر سالانہ کماتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کے مطابق اگر 29 فیصد ٹیرف دوبارہ نافذ ہوا تو، ٹیکسٹائل برآمدات میں 2 ارب ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1798</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/4/15/0655b43a-0ivr1kmk72wyeb8lzforzc.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 15 Apr 2025 09:15:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>چائنہ نے امریکہ پر ٹیرف 84 فیصد سے بڑھا کر 125 فیصد کردیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1788</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1788" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام امریکی مصنوعات پر ٹیرف 84 فیصد سے بڑھا کر 125 فیصد کر رہا ہے، جو ہفتے سے نافذ العمل ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ نئی شرح اب امریکہ کی جانب سے چینی امپورٹس پر عائد کیے گئے 'جوابی' (یعنی ریسی پروکل) ٹیرف کے برابر ہو گئی ہے، لیکن بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس سے آگے اضافہ نہیں کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ’اگر امریکہ نے مزید ٹیرف بڑھایا، تو یہ اب اقتصادی طور پر کوئی معنی نہیں رکھے گا بلکہ عالمی معیشت کی تاریخ میں ایک مذاق بن جائے گا،۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">چائنہ کا کہنا ہے کہ ’اس وقت جو بھاری ٹیرف عائد ہیں، ان کی وجہ سے امریکی مصنوعات چائنہ کی مارکیٹ میں فروخت کے قابل نہیں رہیں۔ اگر امریکہ ٹیرف کے نمبروں میں کھیل کھیلتا رہا، تو چائنہ اسے نظر انداز کر دے گا۔ لیکن اگر امریکہ نے چائنہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تو چائنہ سخت اور بھرپور جواب دے گا، اور آخر تک مقابلہ کرے گا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکی مارکیٹس کھلنے سے قبل، ایس اینڈ پی 500 اور ڈاؤ جونز میں کمی دیکھنے میں آئی، جو اس ہفتے کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے رجحان کو مزید بڑھا گئی۔ چین کے اعلان کے فوراً بعد ڈالر کی قدر یورو کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد کم ہو گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ میں جب اسٹاک مارکیٹس کھلنے والی تھیں، تو اس سے پہلے ہی دو بڑی مارکیٹ انڈیکسز میں کمی دیکھنے میں آئی۔ یہ کمی اس بات کا تسلسل تھی کہ اس ہفتے مارکیٹ پہلے ہی غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ کا شکار تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسی دوران جب چین نے اعلان کیا کہ وہ ٹیرف میں اضافہ کر رہا ہے، تو اس کے فوراً بعد ڈالر کی قیمت یورو کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد گر گئی۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">صدر ٹرمپ نے 2 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ وہ دوسرے ممالک، خاص طور پر چائنہ، پر ’جوابی‘ ٹیرف عائد کریں گے۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اسی ہفتے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان میں سے زیادہ تر ٹیرف فی الحال لاگو نہیں کیے جائیں گے، یعنی 90 دنوں کے لیے مؤخر کر دیے گئے۔ چائنہ کے علاوہ ان ممالک پر صرف ایک 10 فیصد کا بنیادی ٹیرف لاگو رکھا گیا ہے، جو فوری طور پر نافذ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اگرچہ صدر ٹرمپ نے دوسرے ممالک کے لیے ٹیرف میں وقتی نرمی کی ، لیکن چین کو اس رعایت سے باہر رکھا۔ اس کے برعکس ٹرمپ نے اعلان کیا کہ چائنہ پر اب 125 فیصد ٹیرف لگے گا۔ یہ فیصلہ چائنہ کی طرف سے پہلے سے لگائے گئے 84 فیصد ٹیرف کے جواب میں کیا گیا تھا۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1788</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/4/11/ba95f107-6y4b23cpqhmcfuyxp7nmq.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 11 Apr 2025 10:59:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستانی روپیہ ایک سال کی کم ترین سطح پر، ڈالر 280 روپے تک پہنچ گیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1720</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1720" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں ایک سال بعد پہلی بار ایک امریکی ڈالر 280 روپے تک پہنچ گیا۔ جس کی وجہ پاکستان میں امپورٹس میں اضافے اور ایکسپورٹس میں کمی بتائی جارہی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 280.10 روپے پر ٹریڈ ہو رہا تھا، جو جمعہ کے دن کے اختتام میں 279.97 روپے سے 13 پیسے زیادہ تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آخری بار  17 جنوری 2024 کو ڈالر 280.10 پاکستانی روپے کی سطح پر تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تجزیہ کاروں کے مطابق روپے پر دباؤ کی بنیادی وجہ امپورٹس میں اضافہ اور ایکسپورٹس میں کمی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق، فروری میں ایکسپورٹس 6 فیصد کم ہو کر 2.44 بلین ڈالر رہ گئیں، جبکہ اسی مہینے میں امپورٹس 10 فیصد اضافے کے ساتھ 4.7 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فروری میں پاکستان کی امپورٹس زیادہ ہونے کی وجہ سے تجارتی خسارہ 2.29 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ تھا۔ یعنی پاکستان نے جتنا مال باہر سے خریدا (امپورٹس)، اس کے مقابلے میں کم مال بیچا (ایکسپورٹس)۔ جس وجہ سے ملک کے مالی حالات پر دباؤ بڑھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جنوری میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تھا، یعنی 480 ملین ڈالر کا نقصان ہوا، جب کہ دسمبر میں ملک کو 414 ملین ڈالر کا فائدہ تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">لیکن اگر فروری میں ترسیلاتِ زر (جو لوگ باہر سے پیسے بھیجتے ہیں) زیادہ رہیں اور مارچ میں یہ 4 بلین ڈالر تک پہنچ جائیں، تو کرنٹ اکاؤنٹ سالانہ بنیادوں پر فائدے (سرپلس) میں رہنے کا امکان ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں: </strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1302" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/9/28/82658144-suh5fy09se73tt1ww4dzj.jpeg" data-title="پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر آئى ایم ایف قرض کی منظوری" data-url="/news/1302" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر آئى ایم ایف قرض کی منظوری</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1717" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/3/10/a3d576a3-43zyunl8ght95nudfpbg69.jpeg" data-title="پاکستان کا کرپٹو کرنسی کو 'اسٹریٹجک اثاثہ' بنانے کا فیصلہ، وزارت خزانہ" data-url="/news/1717" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">پاکستان کا کرپٹو کرنسی کو 'اسٹریٹجک اثاثہ' بنانے کا فیصلہ، وزارت خزانہ</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1088" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2024/7/13/ae118af8-jkcabczp98quv5tilwrngd.jpeg" data-title="پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر قرض کا نیا معاہدہ طے پا گیا" data-url="/news/1088" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر قرض کا نیا معاہدہ طے پا گیا</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1720</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/3/10/24203b74-qr61xdwar9o2v43drj4pyv.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 10 Mar 2025 13:15:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان کا کرپٹو کرنسی کو 'اسٹریٹجک اثاثہ' بنانے کا فیصلہ، وزارت خزانہ</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1717</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1717" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کرپٹو کرنسی کو معیشت کا ایک اہم حصہ بنانے پر غور کر رہا ہے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔ حکومت اس کے لیے باضابطہ قواعد و ضوابط تیار کرنے پر بھی غور کررہی ہے، جس سے لوگ محفوظ طریقے سے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی وزارت خزانہ کے مطابق اس مقصد کے لیے نیشنل کرپٹو کونسل کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ ملک میں ایسا مالیاتی نظام متعارف کرایا جا سکے جو ڈیجیٹل اثاثوں میں محفوظ سرمایہ کاری کو ممکن بنائے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس مہینے وزارت خزانہ نے فوربز کی جانب سے تسلیم شدہ کاروباری شخصیت اور ویب 3 کے سرمایہ کار بلال بن ثاقب کو پاکستان کرپٹو کونسل کے لیے وزیر خزانہ کا چیف ایڈوائزر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بلال بن ثاقب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’پاکستان کرپٹو کونسل اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں کرپٹو میں سرمایہ کاری کرنے والے سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہے۔ اس لیے حکومت اسے مزید فروغ دینے اور ایک باضابطہ نظام بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بٹ کوائن، لائٹ کوائن، پاک کوائن، ون کوائن، ڈاس کوائن، اور پے ڈائمنڈ سمیت تمام ڈیجیٹل کرنسیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان میں اس وقت 2 کروڑ سے زائد صارفین کرپٹو مارکیٹ میں شامل ہیں، لیکن انہیں ٹرانزیکشن فیس سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بلال بن ثاقب نے نشاندہی کی کہ امریکہ نے حال ہی میں بٹ کوائن اسٹریٹجک ریزرو قائم کرنے کا ایک ’تاریخی‘ اقدام اٹھایا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے کہ اب ممالک روایتی اثاثوں جیسے سونا اور تیل سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل مستقبل کو اپنا رہے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1689" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/2/28/172e8190-e1ky7ouv6ez89kkx6s8n.jpeg" data-title="انڈیا کے چھوٹے شہروں میں کرپٹو ٹریڈنگ میں اضافہ " data-url="/video/news/1689" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">انڈیا کے چھوٹے شہروں میں کرپٹو ٹریڈنگ میں اضافہ </span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1699" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/3/4/51327720-u7mqshe16ckebbwbrfnar.jpeg" data-title="ٹرمپ کا ’امریکی اسٹریٹجک ریزرو‘ کے لیے 5 کرپٹو کرنسیوں کا اعلان " data-url="/news/1699" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false">ٹرمپ کا ’امریکی اسٹریٹجک ریزرو‘ کے لیے 5 کرپٹو کرنسیوں کا اعلان </span></span></p><p><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1717</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/3/10/a3d576a3-43zyunl8ght95nudfpbg69.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 10 Mar 2025 07:19:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>انڈیا کے چھوٹے شہروں میں کرپٹو ٹریڈنگ میں اضافہ </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1689</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1689" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انڈیا میں روزگار کے کم مواقع اور کم تنخواہوں کی وجہ سے چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے زیادہ تر نوجوان اضافی پیسے کمانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ کر رہے ہیں۔ اس سے متعلق مزید جاننے کے لیے یہ ویڈیو دیکھیں:</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ویڈیو سکرپٹ: اقرا حسین</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1689</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/2/28/172e8190-e1ky7ouv6ez89kkx6s8n.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 28 Feb 2025 08:58:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> ایک ارب ڈالر کے کلائمیٹ فنانسنگ پر مذاکرات کے لیے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1681</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1681" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ پر مذاکرات  آج سے شروع ہوں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے تصدیق کی کہ آئی ایم کا  وفد 24 سے 28 فروری تک پاکستان میں موجود رہے گا تاکہ اس فنڈنگ کا جائزہ  اور بات چیت کی جاسکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> یہ رقم آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبیلٹی ٹرسٹ کے تحت دی جائے گی، جو 2022 میں ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ممالک کو قدرتی آفات سے بچاؤ اور صاف توانائی کے استعمال جیسے منصوبوں میں مدد دینا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان نے اکتوبر 2023 میں اس فنڈنگ کے لیے باضابطہ درخواست دی تھی کیونکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">جیو نیوز کے مطابق آئی ایم ایف اس ہفتے کلائمیٹ فنانسنگ (ماحولیاتی فنڈنگ) کے لیے  1 ارب ڈالر جاری کر سکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت آہستہ آہستہ بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب گزشتہ سال آئی ایم ایف نے 7 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج دیا تھا۔ اس پروگرام کے پہلے جائزے کے لیے آئی ایم ایف کا ایک اور وفد مارچ کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور   ایک ہزار 700 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ کمزور معیشت اور بھاری قرضوں کے باعث پاکستان کے لیے اس آفت سے نمٹنا مزید مشکل ہو گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1681</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/2/24/a9a2ea16-o3yzbp5qexmpilam7bymrg.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 24 Feb 2025 11:05:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>امریکہ کی چائنہ، میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ: پاکستان میں فی تولہ سونا قریب 3 لاکھ روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1642</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1642" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">امریکہ کی چائنہ، میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ کی غیر یقینی صورتحال کے بعد عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جس کے باعث پاکستان میں ایک تولہ سونے کی قیمت 3 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/2/6/eb514518-evgx6v9iovm9ggkjtkmntf.jpeg" data-card-width="1286" data-card-height="646" data-card-path="/piri/upload/3/2025/2/6/eb514518-evgx6v9iovm9ggkjtkmntf.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے بدھ (پانچ فروری) کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق:</p><ol><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">10 گرام (24 قیراط) سونے کی قیمت 4158 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 56 ہزار 859 روپے ہو گئی۔</li><li data-list="bullet" class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایک تولہ (24 قیراط) سونے کی قیمت 5300 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 99 ہزار 600 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔</li></ol><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2025/2/6/06666ba1-ztoxpegbq8p8z7pn5shbck.jpeg" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2025/2/6/06666ba1-ztoxpegbq8p8z7pn5shbck.jpeg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عالمی سطح پر بھی سونے کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، فی اونس سونا 2 ہزار 868 ڈالر تک پہنچ گیا، جو کہ ایک اونس پر 53 ڈالر کا اضافہ تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آل کراچی جیولرز اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر محمد حسین قریشی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی قیمتیں خریداروں کے لیے مسئلہ بن گئی ہیں، کیونکہ وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ سونا فوراً خریدیں یا قیمتوں کے کم ہونے کا انتظار کریں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’اگر سونے کی قیمتوں میں اضافہ اسی طرح جاری رہا، تو وہ وقت آئے گا جب قیمتی دھات کی تجارت صرف بڑے سرمایہ کاروں تک محدود ہو جائے گی اور اس کی وجہ سے جیولری کی فروخت کم ہونے سے دکانیں خالی ہو سکتی ہیں‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><strong class="ql-size-small">یہ بھی پڑھیں:</strong></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1630" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/2/3/e4926456-22fwflboupfhohjzttz075m.jpeg" data-title="نئی تجارتی جنگ کے خطرات: ٹرمپ کا میکسیکو، کینیڈا اور چائنہ کی امپورٹس پر بھاری ٹیکس لگانے کا اعلان " data-url="/news/1630" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">نئی تجارتی جنگ کے خطرات: ٹرمپ کا میکسیکو، کینیڈا اور چائنہ کی امپورٹس پر بھاری ٹیکس لگانے کا اعلان </span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1634" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/2/3/b1649eba-bfadm37z5fsb73oznqd8rs.jpeg" data-title="ٹرمپ کے بھاری ٹیکس لگانے کے اعلان پر کینیڈا، چائنہ اور میکسیکو نے کیا ردعمل دیا؟" data-url="/news/1634" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">ٹرمپ کے بھاری ٹیکس لگانے کے اعلان پر کینیڈا، چائنہ اور میکسیکو نے کیا ردعمل دیا؟</span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1607" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/1/27/9a00a23f-lcd75zwt3gs6fxqh864tp.jpeg" data-title="اسٹیٹ بینک نے سود کی شرح 12 فیصد کر دی" data-url="/news/1607" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">اسٹیٹ بینک نے سود کی شرح 12 فیصد کر دی</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-related-content-card" data-card-content-id="1501" data-cover-image-path="/piri/upload/3/2025/1/2/833bfe58-58kg51hs6wl2w9frfpx8do.jpeg" data-title="دسمبر میں پاکستان کی امپورٹس 5 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے دو سال میں سب سے زیادہ رہیں" data-url="/news/1501" contenteditable="false" style="background-color: black; font-size: 32px; color: white;"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false"><span contenteditable="false">دسمبر میں پاکستان کی امپورٹس 5 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے دو سال میں سب سے زیادہ رہیں</span></span></span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1642</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/2/6/870e132d-rsl33hfvzfhcdrvq87xqgb.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 06 Feb 2025 07:10:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>اسٹیٹ بینک نے سود کی شرح 12 فیصد کر دی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1607</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1607" rel="standout" />
      <description>گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، زرمبادلہ ذخائر مالی سال 2025 کے اختتام تک 13 ارب ڈالر ہوں گے</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے قرضوں پر ملنے والے سود کی شرح 12 فیصد کر دی ہے، جو پہلے 13 فیصد تھی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسٹیٹ بینک نے پچھلے سال جون کے بعد سے چھٹی بار شرح سود میں کمی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق شرح سود میں کمی کا مقصد ملک کی معیشت کو بہتر بنانا اور کاروبار کی ترقی کو فروغ دینا ہے، کیونکہ سود کی شرح کم ہونے سے کاروباروں کو قرض لینا سستا ہوگا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 10 فیصد کمی 2020 میں کووڈ وبا کے دوران ہونے والی 6.25 فیصد کمی سے بھی زیادہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اتنی بڑی کمی کا اثر معیشت پر بھی پڑے گا اور اقتصادی سرگرمیوں کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ مہنگائی کی شرح توقعات کے مطابق نیچے آرہی ہے اور دسمبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد رہی، جو اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مہنگائی کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں اشیاء کی مانگ کم ہو گئی ہے اور سپلائی کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ بھی کہا کہ جنوری میں مہنگائی مزید کم ہو سکتی ہے، مگر اس کے بعد مہنگائی دوبارہ بڑھ بھی سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو چیزیں عام طور پر روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہوتی ہیں، جیسے کھانے پینے کی اشیاء، ان کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے، لیکن یہ قیمتیں ابھی بھی نسبتاً زیادہ ہیں اور بلند سطح پر ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کی معیشت نے مالی سال 25-2024 کی پہلی سہ ماہی میں 0.92 فیصد کی ترقی کی۔ یہ ڈیٹا نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے منظور کیا اور دسمبر میں جاری کیا گیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کمیٹی نے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی ترقی توقع سے تھوڑی کم رہی۔ دسمبر 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس رہا، لیکن اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی، کیونکہ مالیاتی انفلوز کم تھے اور قرضوں کی ادائیگیاں زیادہ تھیں۔ دسمبر میں ٹیکس کی آمدنی میں اضافہ تو ہوا لیکن پھر بھی وہ ہدف سے کم رہی۔ اس کے علاوہ عالمی تیل کی قیمتوں میں پچھلے چند ہفتوں میں کافی اتار چڑھاؤ آیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے یہ بھی کہا کہ جون تک مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گورنر نے مزید بتایا کہ ترسیلات زر (دوسرے ممالک سے پیسے بھیجنے والی رقم) اور برآمدات کے اعداد و شمار اچھے نظر آرہے ہیں اور اس وقت پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 16.19 ارب ڈالر ہیں۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1607</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/1/27/9a00a23f-lcd75zwt3gs6fxqh864tp.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 27 Jan 2025 14:20:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>دسمبر میں پاکستان کی امپورٹس 5 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے دو سال میں سب سے زیادہ رہیں</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1501</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1501" rel="standout" />
      <description>نومبر کے مقابلے دسمبر میں امپورٹس کے حجم میں 80 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دسمبر 2024 میں پاکستان کی امپورٹس 5 ارب 20 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو پچھلے دو سالوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ یہ نومبر 2024 کے 4 ارب 40 کروڑ ڈالر سے 80 کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے نامور بزنس میگزین <a href="https://profit.pakistantoday.com.pk/2025/01/02/pakistans-december-imports-hit-5-2-billion-highest-in-two-years/" target="_blank">پروفٹ</a> کے مطابق دسمبر 2024 میں امپورٹس 5 ارب 20 کروڑ ڈالر تھیں جو دسمبر 2023 میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال دسمبر میں بہتر تجارت اور ریجنل پارٹنرشپ رہی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکومتی ذرائع کے مطابق ایران سے امپورٹس میں بہت زیادہ اضافہ ہوا جو نومبر 2024 میں 129.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ گزشتہ سال (جولائی سے نومبر) کے اسی عرصے کے مقابلے میں 47 فیصد اضافہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تجارتی تعلقات معطل ہونے کے باوجود انڈیا کے ساتھ تجارت میں بھی اضافہ ہوا۔ اگست 2023 کے مقابلے اگست 2024 میں انڈیا سے امپورٹس میں 5 فیصد اضافہ ہوا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین کا کہنا ہے کہ دسمبر میں امپورٹس میں اضافے کی وجہ امپورٹ پابندیوں میں نرمی، مضبوط علاقائی تعلقات اور مقامی انڈسٹریز کو سپورٹ کرنے کے لیے خام مال کی زیادہ مانگ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم زیادہ امپورٹس کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم یہ اضافہ اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ اسٹریٹجک پلاننگ کی ضرورت ہے تاکہ تجارتی نمو مالی استحکام کو متاثر نہ کرے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2025 میں امپورٹس ممکنہ طور پر اہم علاقائی شراکت داروں کے ساتھ جاری اصلاحات اور تجارتی پالیسیوں پر منحصر ہوں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1501</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2025/1/2/833bfe58-58kg51hs6wl2w9frfpx8do.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 02 Jan 2025 07:46:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> مالیاتی وعدے پورے کیے بغیر موسمیاتی تبدیلی سے نہیں نمٹ سکتے، شہباز شریف</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1435</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1435" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ماضی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کیے گئے وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔ پاکستانی جیسے کم ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے انٹرنیشنل سپورٹ کی ضرورت ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کے 29ویں موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (کوپ 29) میں کہی جو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کا کیس ورلڈ لیڈرز کلائمٹ ایکشن سمٹ کے دوسرے اور  آخری دن پیش کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کلائمیٹ مسائل کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے انٹرنیشنل سپورٹ کی ضرورت ہے۔ کم ترقی یافتہ ممالک کو 2030 تک تقریباً 6.8 ٹریلین امریکی ڈالرز کی ضرورت ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے رقم گرانٹ کی صورت میں ہونی چاہیے نہ کہ قرض کی صورت میں جو کمزور ممالک برداشت نہیں کرسکتے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ پاکستان عالمی موسمیاتی خطرے کے انڈیکس کے مطابق دنیا کے 10 سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان میں بار بار اور شدید موسمیاتی واقعات جیسا کہ سیلاب، شدید مون سون کی بارشیں، ہیٹ ویوو، تیزی سے گلیشیئر کا پگھلنا اور گلیشیئر جھیلوں یعنی گلاف کے پھٹنے سے سیلاب آنا جیسے واقعات میں  بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیراعظم شہباز نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوپ29 کو 'یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمیں کوپ27 اور کوپ 28 میں کیے گئے مالی وعدوں کو پورا کرنا ہوگا۔' </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایونٹ 'ان مصیبتوں کو سمجھنے کے لیے ہے جن کا کچھ ممالک پہلے ہی سامنا کر چکے ہیں اور کچھ کو سامنا کرنا پڑے گا اگر ہم نے اس کو کم کرنے کے اقدامات نہ کیے تو۔'</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2022 میں کوپ 27 میں پاکستان سمیت کئی ممالک نے موسمیاتی آفات سے متاثر ہونے والے غریب ممالک کی مدد کے لیے ’لاس اور  ڈیمیج فنڈ‘  قائم کرنے کے لیے ایک معاہدے کو منظور کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ سال کوپ 28 کانفرنس میں، اُس وقت کے عبوری حکومت  کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے موسمیاتی مالیات کے لیے 100 بلین ڈالر کے وعدوں پر فوری طور پرعمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اقوام متحدہ کے مطابق اب تک لاس اور ڈیمیج  فنڈ کے لیے تقریباً 800 ملین ڈالر کا وعدہ کیا گیا ہے، جس میں فرانس، اٹلی، جرمنی اور متحدہ عرب امارات سب سے بڑے عطیہ  دینے والے ملک ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">کوپ29 میں آج، وزیر اعظم شہباز نے 2022 کے تباہ کن مون سون سیلاب کے بارے میں بھی بات کی جس میں 1700  لوگ ہلاک ہوئے تھے اور بہت  بڑے پیمانے پر لوگوں کو  نقل مکانی کرنی پڑی ، گھر اور فصلیں تباہ ہوئیں اور پاکستان کی معیشت کو 30 بلین ڈالر سے بھی زیادہ  کا نقصان ہوا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے انٹرنیشنل کمیونٹی سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ 'موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے اس وقت اس وقت انتہائی ضروری اقدامات کریں تاکہ غریب ممالک امیر ممالک کے کیے ہوئے کاموں کا خمیازہ نا بھگتیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیراعظم نے  اس بات پر زور دیتے ہوئے  کہا کہ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جو زہریلی گیسوں کو ہوا میں چھوڑنے میں مشکل سے آدھا فیصد حصہ ڈالتا ہے اور پھر بھی سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہورہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1435</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/11/14/5b7f6a73-zj17y6gki3b9gcx21kihd.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 14 Nov 2024 12:09:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>کوپ مالیاتی وعدے پورے کرے، ہمیں انٹرنیشنل سپورٹ کی ضرورت ہے، شہباز شریف</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1436</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1436" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیراعظم شہباز شریف نے کوپ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کلائمیٹ مسائل کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے انٹرنیشنل سپورٹ کی ضرورت ہے۔ کم ترقی یافتہ ممالک کو 2030 تک تقریباً 6.8 ٹریلین امریکی ڈالرز کی ضرورت ہوگی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے رقم گرانٹ کی صورت میں ہونی چاہیے نہ کہ قرض کی صورت میں جو کمزور ممالک برداشت نہیں کرسکتے۔</p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1436</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/11/14/820a547b-4b90gx1uoclrffsyih3.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 14 Nov 2024 12:05:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>سعودی وفد کا دورہ پاکستان، 2 ارب کی سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط  </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1351</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1351" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی عرب کے وفد نے پاکستان کمپنیوں کے ساتھ 2 ارب ڈالرز سے زیادہ کے 27 معاہدوں اور  مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کردیے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آل کیئر میڈیکل گروپ کے چیئرمین سلطان المنصور نے عرب نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ہم نے پاکستان کے کاروباری پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی ہیں، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستان آہستہ آہستہ معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ تمام مثبت خبریں پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے سازگار جگہ بنا رہی ہیں۔‘ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح اس وقت 130 سے ​​زائد ارکان کے ایک بڑے وفد کے ساتھ تین روزہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں، جن میں توانائی، کان کنی، معدنیات، زراعت، کاروبار، سیاحت، صنعت کی سعودی کمپنیوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یہ وفد 9 اکتوبر کو 3 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچا تھا۔ اس دورے کے نتیجے میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 2 ارب ڈالر تک کے سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط ہوئے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">عرب نیوز کی <a href="https://www.arabnews.com/node/2574532/pakistan" target="_blank">رپورٹ</a> کے مطابق وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا تھا کہ پاکستانی پرائیوٹ کمپنیز سعودی عرب کے ساتھ سرمایہ کاری اور دو طرفہ تجارت کے لیے تیار ہیں۔ سعودی پرائیوٹ سیکٹر کا اتنا بڑا وفد پہلے کبھی نہیں آیا۔ انہوں نے وفد کی آمد کو پاک سعودی تجارتی تعلقات میں پہلا قدم اور اہم سنگ میل قرار دیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس دورے کے دوران سعودی وزیر الفالح پاکستانی صدر آصف زرداری اور وزیراعظم  شہباز شریف سے  بھی ملاقات کی۔ اس کے علاوہ  ملک کی بزنس کمیونٹیز نے بھی سعودی وفد سے ملاقاتیں کیں۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حالیہ مہینوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان  تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر تیزی سے کام ہو ریا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے پاکستان کے لیے 5 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پیکج کا اعلان کیا تھا۔ موجودہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اپنے سنگین معاشی بحران اور تیزی سے کم ہوتے زرمبادلہ ذخائر اور پاکستانی کرنسی کی گرتی ہوئی ویلیو جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے دوست ممالک سے تجارت، دفاع، توانائی اور دیگر شعبوں میں خصوصی تعاون چاہتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">گزشتہ سال جون میں پاکستان نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل تشکیل دی تھی، جو کہ ایک ہائبرڈ سول ملٹری فورم ہے، تاکہ غیر ملکی کاروباروں (خاص طور پر خلیجی ممالک سے) کو سہولت فراہم کی جا سکے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">خالد بن عبدالعزیز الفالح کا پاک سعودی بزنس فورم سے خطاب</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے پاک سعودی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں  ممالک میں معاشی تعاون کے امکانات کی کوئی حد نہیں ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسلام آباد میں پاک سعودی بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں جس طرح پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی، اور ہمارے پرانے تعلقات کی کوئی حد نہیں اسی طرح پاکستان اور سعودی عرب اقتصادی میدان  میں بھی بے حد ترقی کر سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2 ارب ڈالر  مالیت کے27 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط ہوئے‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی وزیر الفالح نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات پر اطمینان  کا اظہار کیا اور بتایا کہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت 2019 کے مقابلے میں 80 فیصد تک بڑھ کر 3 ارب سے  5.2 ارب ڈالر تک جا چکی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کیا اتفاق ہوا؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">معاہدے میں کہا گیا کہ سعودی عرب پاکستان سے الیکٹرک آلات کی مشترکہ پیداوارکرے گا، دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکسٹائل کےشعبے اور تعمیراتی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ معاہدے کے تحت دونوں ملکوں میں ٹرانسپورٹ،توانائی،پٹرولیم شعبےمیں تعاون بڑھانےپراتفاق کیا گیا ، سعودی کمپنی شیل پاکستان کے 77 فیصد شیئرز خریدے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">معاہدے میں پاکستان اورسعودی عرب کےدرمیان سائبر سیکیورٹی سےمتعلق تعاون سمیت مصالحہ جات اور سبزیوں کی برآمدمیں اضافے پر اتفاق ہوا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اورسعودی عرب میں ہنرمندافرادی قوت سےمتعلق مفاہمتی یادداشت کاتبادلہ،ای ایجوکیشن کے شعبے میں بھی تعاون کا معاہدہ ہوا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2024/10/10/aadba93b-al-shifa-befunky-collage-9.jpg" data-card-width="undefined" data-card-height="undefined" data-card-path="/piri/upload/3/2024/10/10/aadba93b-al-shifa-befunky-collage-9.jpg"></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی وفد کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات </h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے وفد کے ساتھ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’ملاقات میں مختلف شعبوں میں برادرانہ تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ آرمی چیف نے شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی  پاکستان کے لیے مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے امید ظاہر کی کہ سعودی بزنس کمیونٹی کے سب سے بڑے وفد کی آمد سے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات مضبوط ہوں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس موقعے پر آرمی چیف نے کہا کہ ’پاکستانی عوام سعودی عرب کے لیے گہری عزت اور محبت رکھتے ہیں‘۔ انہوں نے وفد کو پاکستان کی مستقل حمایت کی یقین دہانی کروائی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1351</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/10/10/ddf6e69a-7002fbndqpgtoofo64fp2e.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Thu, 10 Oct 2024 07:46:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title> ایسے کون سے مسائل ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑا؟</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/video/news/1301</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/video/news/1301" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دے دی ہے جو تین سال تک چلے گا۔ اس منظوری کے بعد پاکستان کو جلد ہی ایک ارب دس کروڑ ڈالر کی پہلی قسط مل جائے گی۔  </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">1958 کے بعد سے یہ ملک کا  آئی ایم ایف سے 25 واں قرض پروگرام ہے اور پاکستان آئی ایم ایف سے قرض لینے والا پانچواں بڑا ملک ہے، تو ایسے کون سے مسائل ہیں جس کی وجہ سے قرض لینا پڑا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مزید جاننے کے لیے یہ ویڈیو دیکھیں</p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/video/news/1301</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>اقرا حسین</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/9/27/2d1b4c30-6iwpuv6u2sado7dh7a0w08.png</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 27 Sep 2024 11:26:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر آئى ایم ایف قرض کی منظوری</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1302</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1302" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض کے پروگرام کی منظوری دے دی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ جولائی میں اگلے 37 مہینوں تک کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ کیا تھا جو 1958 کے بعد سے ملک کا 25واں قرض ہے۔ تاہم معاہدے کی منظوری میں تاخیر کی وجہ پاکستان میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">بدھ 25 ستمبر کو وزیر اعظم شہباز شریف اور آئی ایم ایف سربراہ کرسڑالینا جارجیوا  کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے نئے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دی گئی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے امریکی شہر نیویارک میں موجود ہیں۔ آئی ایم ایف قرض منظوری کے حوالے سے وزیراعظم نے اس فیصلے کو سراہا۔  انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت معاہدے کے تحت وعدے پورے کرے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پاکستان کا آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس قرض سے ملک کی معیشت سکھ کا سانس لے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اس سے حکومت پر دیرپا استحکام کے لیے ضروری اصلاحات نافذ کرنے کے لیے بہت زیادہ دباؤ پڑسکتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس ماہ کے شروع میں پاکستان کا بیرونی قرضہ 130 ارب ڈالر سے زیادہ تھا، جس کا تقریباً 30 فیصد چائنہ نے دیا تھا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کو اگلے تین سالوں میں تقریباً 90 ارب ڈالر قرض واپس کرنا ہے، جس کی اگلی بڑی ادائیگی دسمبر تک متوقع ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ماضی میں پاکستان نے اپنے اہم اتحادیوں کی مدد سے آئی ایم ایف سے قرض لیا جس کی وجہ سے ملک اپنی بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط کو پورا کرتے ہوئے ٹیکس میں اضافہ کیا تھا</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">تاہم نئے ٹیکس اور بجلی کی بل میں اضافہ کی وجہ سے چھوٹے کاروبار اور کچھ اپوزیشن رہنماوٴں نے احتجاج کیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق 11 جولائی تک پاکستان آئی ایم ایف سے قرض لینے والا سب سے بڑا ملک ہے یعنی  6.28 بلین ڈالر قرض لے چکا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں موجودہ معاشی بحران کی وجہ سے مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند سطح پر ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان کو اس پروگرام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">2022 کے مون سون سیلاب کی تباہ کاریوں، سیاسی عدم استحکام، عالمی مالیاتی بحران کے نتیجے میں گزشتہ سال پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> اس صورحال میں دوست ممالک  اور آئی ایم ایف کی فوری امداد نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے تو بچا لیا لیکن اس کے اقتصادی حالات اب بھی کمزور ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی ایم ایف کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی ایم ایف ایک عالمی مالیاتی ادارہ ہے جس کے 190 رکن ممالک ہیں اور جو مختلف ملکوں کی معیشت کی نگرانی کرتا ہےاور انہیں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کے تین بنیادی کام ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">1۔ معاشی و مالی معاملات کی نگرانی:</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> آئی ایم ایف مختلف ممالک کی معیشتوں کی کارکردگی پر نظر رکھتا ہے اور ان کی مالی حیثیت کا جائزہ لیتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl">2. مشورے دینا:</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> آئی ایم ایف رکن ممالک کو مشورے دیتا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h2 class="ql-align-right ql-direction-rtl"> 3. قرضے اور مالی امداد:</h2><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مالی مشکلات کا شکار ممالک کو مختصر مدت کے قرضے اور مالی مدد دیتا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1302</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/9/28/82658144-suh5fy09se73tt1ww4dzj.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Wed, 25 Sep 2024 19:49:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر قرض کا نیا معاہدہ طے پا گیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1088</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1088" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر قرض کا نیا معاہدہ طے پا گیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والا 7 ارب ڈالر کا نیا امدادی پیکج ملک میں معاشی استحکام لانے میں مدد دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف پاکستان سے 37 ماہ کے لیے قرض پروگرام پر آماہ ہوا، نئے قرض پروگرام کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ نیا قرض پروگرام پاکستان میں معاشی استحکام کا باعث بنے گا، گزشتہ ایک سال میں پاکستان میں مہنگائی میں کمی ہوئی، پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی ایم ایف نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے پاکستان ٹیکس آمدنی بڑھائے گا، قرض پروگرام کے دوران جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا حصہ تین فیصد تک بڑھایا جائےگا، ریٹیل سیکٹر میں بھی ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اعلامیے کے مطابق پاکستان میں زرعی شعبہ بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائےگا، پاکستان میں ٹیکس آمدنی میں جی ڈی پی کا ڈیڑھ فیصد اضافہ رواں مالی سال ہوگا، پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کیا جائےگا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اعلامیے میں کہا گیا کہ ٹیکس آمدنی بڑھانے سے سماجی شعبے کے لیے زیادہ فنڈز میسر ہوں گے، پاکستان میں ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکس میں منصفانہ اضافہ ہوگا،پاکستان میں برآمدی شعبےسے ٹیکس وصولیاں بہتر کی جائیں گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق نئے قرض پروگرام کا مقصد پاکستان میں میکرو اکنامکس استحکام کو مضبوط کرنےمیں مدد کرناہے۔ پروگرام سے پاکستان میں پائیدار ترقی حاصل کرنےمیں مدد ملے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کو فسکل اینڈ مانیٹری پالیسی میں اصلاحات لاناہوں گی۔ پاکستان کو ریاسی ملکیتی اداروں کے انتظامی امور بہتر کرنا ہوں گے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1088</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/13/ae118af8-jkcabczp98quv5tilwrngd.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Sat, 13 Jul 2024 09:57:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پاکستان میں دودھ فرانس اور آسٹریلیا سے بھی مہنگا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1061</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1061" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p><br></p><p><span class="pho-card-embed" data-id="C9C8ELrCbGF" data-url="https://www.instagram.com/reel/C9C8ELrCbGF/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-embed-type="instagram" contenteditable="false" data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/C9C8ELrCbGF/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-html-content="<blockquote class=&quot;instagram-media&quot; data-instgrm-captioned=&quot;&quot; data-instgrm-permalink=&quot;https://www.instagram.com/reel/C9C8ELrCbGF/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; data-instgrm-version=&quot;14&quot; style=&quot; background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);&quot;><div style=&quot;padding:16px;&quot;> <a href=&quot;https://www.instagram.com/reel/C9C8ELrCbGF/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; style=&quot; background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;&quot; target=&quot;_blank&quot;> <div style=&quot; display: flex; flex-direction: row; align-items: center;&quot;> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;&quot;></div> <div style=&quot;display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;&quot;> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;&quot;></div> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;&quot;></div></div></div><div style=&quot;padding: 19% 0;&quot;></div> <div style=&quot;display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;&quot;><svg width=&quot;50px&quot; height=&quot;50px&quot; viewBox=&quot;0 0 60 60&quot; version=&quot;1.1&quot; xmlns=&quot;https://www.w3.org/2000/svg&quot; xmlns:xlink=&quot;https://www.w3.org/1999/xlink&quot;><g stroke=&quot;none&quot; stroke-width=&quot;1&quot; fill=&quot;none&quot; fill-rule=&quot;evenodd&quot;><g transform=&quot;translate(-511.000000, -20.000000)&quot; fill=&quot;#000000&quot;><g><path d=&quot;M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631&quot;></path></g></g></g></svg></div><div style=&quot;padding-top: 8px;&quot;> <div style=&quot; color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;&quot;>View this post on Instagram</div></div><div style=&quot;padding: 12.5% 0;&quot;></div> <div style=&quot;display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;&quot;><div> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);&quot;></div> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;&quot;></div> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);&quot;></div></div><div style=&quot;margin-left: 8px;&quot;> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;&quot;></div> <div style=&quot; width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)&quot;></div></div><div style=&quot;margin-left: auto;&quot;> <div style=&quot; width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);&quot;></div> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);&quot;></div> <div style=&quot; width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);&quot;></div></div></div> <div style=&quot;display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;&quot;> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;&quot;></div> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;&quot;></div></div></a><p style=&quot; color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;&quot;><a href=&quot;https://www.instagram.com/reel/C9C8ELrCbGF/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; style=&quot; color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;&quot; target=&quot;_blank&quot;>A post shared by Yeni Şafak Urdu (@yenisafakur)</a></p></div></blockquote>" style="color: rgb(243, 68, 125); background-color: black;"><span>https://www.instagram.com/reel/C9C8ELrCbGF/?utm_source=ig_embed&amp;utm_ca</span></span></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1061</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/6/d6eb2baa-ynkydcjk8kgkqwky4tp2v.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 05 Jul 2024 23:02:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>یہ ملکی تاریخ کا بدترین بجٹ ہے، حکومت نے اپنے اخراجات کم کیوں نہیں کیے، شاہد خاقان عباسی</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1048</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1048" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="C84koBeiaK2" data-url="https://www.instagram.com/reel/C84koBeiaK2/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-embed-type="instagram" contenteditable="false" data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/C84koBeiaK2/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-html-content="<blockquote class=&quot;instagram-media&quot; data-instgrm-captioned=&quot;&quot; data-instgrm-permalink=&quot;https://www.instagram.com/reel/C84koBeiaK2/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; data-instgrm-version=&quot;14&quot; style=&quot; background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);&quot;><div style=&quot;padding:16px;&quot;> <a href=&quot;https://www.instagram.com/reel/C84koBeiaK2/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; style=&quot; background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;&quot; target=&quot;_blank&quot;> <div style=&quot; display: flex; flex-direction: row; align-items: center;&quot;> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;&quot;></div> <div style=&quot;display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;&quot;> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;&quot;></div> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;&quot;></div></div></div><div style=&quot;padding: 19% 0;&quot;></div> <div style=&quot;display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;&quot;><svg width=&quot;50px&quot; height=&quot;50px&quot; viewBox=&quot;0 0 60 60&quot; version=&quot;1.1&quot; xmlns=&quot;https://www.w3.org/2000/svg&quot; xmlns:xlink=&quot;https://www.w3.org/1999/xlink&quot;><g stroke=&quot;none&quot; stroke-width=&quot;1&quot; fill=&quot;none&quot; fill-rule=&quot;evenodd&quot;><g transform=&quot;translate(-511.000000, -20.000000)&quot; fill=&quot;#000000&quot;><g><path d=&quot;M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631&quot;></path></g></g></g></svg></div><div style=&quot;padding-top: 8px;&quot;> <div style=&quot; color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;&quot;>View this post on Instagram</div></div><div style=&quot;padding: 12.5% 0;&quot;></div> <div style=&quot;display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;&quot;><div> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);&quot;></div> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;&quot;></div> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);&quot;></div></div><div style=&quot;margin-left: 8px;&quot;> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;&quot;></div> <div style=&quot; width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)&quot;></div></div><div style=&quot;margin-left: auto;&quot;> <div style=&quot; width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);&quot;></div> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);&quot;></div> <div style=&quot; width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);&quot;></div></div></div> <div style=&quot;display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;&quot;> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;&quot;></div> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;&quot;></div></div></a><p style=&quot; color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;&quot;><a href=&quot;https://www.instagram.com/reel/C84koBeiaK2/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; style=&quot; color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;&quot; target=&quot;_blank&quot;>A post shared by Yeni Şafak Urdu (@yenisafakur)</a></p></div></blockquote>" style="color: rgb(243, 68, 125); background-color: black;"><span>https://www.instagram.com/reel/C84koBeiaK2/?utm_source=ig_embed&amp;utm_ca</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">سینئر سیاستدان شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ 25-2024 پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین بجٹ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ ’موجودہ بجٹ میں پاکستان کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نیوز کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے حکومت سے اپنے اخراجات کم کرنے، اسمگلنگ روکنے اور برآمدات بڑھانے کا مطالبہ کیا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">دونوں رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بجٹ پر نظرثانی کرے اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں میں اضافہ اور ایم این ایز کو ان کے حلقوں میں ترقیاتی سکیموں کے لیے 500 ارب روپے مختص کرنے جیسے اقدامات کو واپس لے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مفتاح اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ ’بجٹ میں کوئی ریفارم ایجنڈا نہیں ہے، تو ملک کیسے آگے بڑھے گا‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے عوام پر مزید ٹیکس لگائے ہیں، بالخصوص ان لوگوں پر جو پہلے سے بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ’ ٹیکس کا یکساں نظام ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انھوں نے کہا کہ آج تو حکومتی خسارہ اتنا ہے کہ آپ کے پاس عیاشیاں کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ مہنگائی کی بات کریں تو جو ریٹیلر رجسٹرڈ ہیں وہ جو چیز بیچیں گے اس پر آدھا فیصد اور جو رجسٹرڈ نہیں ہیں ان پر ڈھائی فیصد لگے گا، یہ بھی عوام کی جیب سے آئے گا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ریٹائرڈ اور شہید فوجی افسران اور سول بیوروکریٹس کی جائیدادوں پر ٹیکس استثنیٰ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسرے لوگ بھی یہ چھوٹ مانگیں گے اور حکومت ان کا مطالبہ پورا نہیں کر سکے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ ’آپ نے سویلین اور ملٹری کے ریٹائرڈ لوگوں کو چھوٹ دے دی۔ جب آپ اس قسم کی شقیں لگاتے ہیں تو لوگ سوال پوچھیں گے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’کیا حکومت اگلے سال 65 فیصد ٹیکس لگائے گی؟ اس دن کا انتظار کررہا ہوں جب عوام مکمل طور پر ٹیکس دینا بند کر دیں گے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ان کا کہنا تھا کہ ’ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ برآمدات ہے جو آزادی کے 75 سال بعد صرف 30 ارب ڈالر تک بڑھی ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ’آپ ملک کے تنخواہ دار طبقے کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ یہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں، میں حکومت ہوں اپنے اخراجات کم نہیں کروں لیکن بوجھ تم پر ڈالوں گا، تو یہ ملک کیسے چلے گا؟</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’کیا اس ملک میں جو دوسروں پر ٹیکس لگاتے ہیں خود ان پر ٹیکس نہیں لگنا چاہیے؟ یہ ہوتی ہے اشرافیہ جو اپنے آپ کو بھی بچاتی ہے اور اپنے دوستوں کو۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو اپنی غلط پالیسیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’آئی ایم ایف نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ 500 سے 600 ارب ایم این اے ایم پی ایز کو دیں، انھوں نے نہیں کہا تھا کہ آپ 24 فیصد جاری اخراجات بڑھائیں، آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ زراعت پر ٹیکس لگائیں، ریٹیلر پر فکسڈ ٹیکس لگائیں وہ آپ نہیں لگا رہے، پراپرٹی ٹیکس بھی نہیں لگا رہے، آئی ایم ایف نے تو آپ سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگانے کا نہیں کہا تھا‘۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">’اس بجٹ سے کس طبقے کو زیادہ فائدہ پہنچے گا؟‘ ینی شفق کے سوال کا جواب دیتے ہوئے  مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ  ’بڑا مشکل سوال ہے کہ کسی طبقے کو فائدہ پہنچے لیکن صرف حکومت کو فائدہ پہنچے گا، حکومت کے ایم این ایز اور ایم پی ایز، جن کے لیے 600 ارب رکھے گئے ہیں، انہیں فائدہ پہنچے گا، سیاسی پارٹیوں کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ یہ سیاسی بجٹ ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مفتاح اسماعیل نے ینی شفق کو بتایا کہ  ’ہم اس بجٹ سے نوجوانوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ بجٹ میں نوجوانوں کی تعلیم پر کوئی بات نہیں کی گئی لیکن سنسرشپ پر پیسے لگائے، انٹرنیٹ آئے دن بند کردیا جاتا ہے، ہم نوجوانوں کو ان کی زندگیوں پر کنٹرول نہیں دے رہے جس کی وجہ سے وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><h1 class="ql-align-right ql-direction-rtl">’ترقیاتی اسکیموں کی مد میں نہ تو 500 ارب روپے ایم این ایز کو دے گئے نہ ایسا کوئی ارادہ ہے، عطااللہ تارڑ کا جواب</h1><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس کے جواب میں کہا کہ ’ترقیاتی اسکیموں کی مد میں نہ تو 500 ارب روپے ایم این ایز کو دے گئے نہ ایسا کوئی ارادہ ہے۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے اپنے سابق (ن) لیگ ساتھیوں کی گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت ایک اصلاحاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور اخراجات میں کمی کے لیے پاکستان-پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ  کو تحلیل کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">موجودہ اخراجات کو کم کرنے کے لیے دیگر اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم سمیت کابینہ کا کوئی رکن تنخواہ نہیں لے رہا ہے یا مراعات حاصل نہیں کر رہا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ ’شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے بجٹ نہیں پڑھا، دونوں ہی بہت ہی لاعلم ہیں اور یہ کہنا کہ یہ سارا ضائع ہو کر کرپشن میں جاتا ہے، ہمارے ایم این ایز ایم پی ایز بہت باعزت لوگ ہیں۔‘</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">انہوں نے مزید کہا کہ ذخائر 9 ارب ڈالر تک بڑھ گئے ہیں، مفتاح اسماعیل اور خاقان عباسی کو معیشت کی بہتری کے لیے حکومتی کوششوں کو سراہنا چاہیے تھا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1048</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/2/3bcd6c34-r4yjxamdrr37d36f2qc97.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Tue, 02 Jul 2024 06:50:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے 9 روپے کا اضافہ کر دیا</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1047</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1047" rel="standout" />
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں وزارت خزانہ نے پچھلی رات ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا، جاری نوٹیفیکشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 7 روپے 45 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 56 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوگیا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اب پیٹرول کی قیمت 258.16 سے بڑھ کر 265.61 ہوگئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 267.89 سے 277.45 ہوگئی ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ </p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اس مہینے کے شروع میں 12 جون کو مالی سال 2024-25 کے وفاقی بجٹ کے اعلان کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">فنانس ڈویژن نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں لگائے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> یکم جولائی کو ہونے والے اضافہ سے پہلے حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 80 روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کر رہی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">اس کےعلاوہ حکومت نے بجٹ میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں 10 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا (60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے کردیا تھا) جس سے مہنگائی سے متاثرہ عوام پر مزید بوجھ پڑا۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"> تاہم وزارتِ خزانہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ یکم جولائی سے ہونے والے اضافے میں اس لیوی کی مد میں اضافہ شامل ہے یا نہیں۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">یاد رہے کہ جون کے مہینے میں  پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت بھی پانچ روپے کے قریب کم ہوئی تھی۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><img class="pho-card-image" contenteditable="false" src="https://image.piri.net/piri/upload/3/2024/7/1/4477a1a4-gv1tjvwcf5mxfd6o9hts0h.jpeg" data-card-width="640" data-card-height="530" data-card-path="/piri/upload/3/2024/7/1/4477a1a4-gv1tjvwcf5mxfd6o9hts0h.jpeg"></p><p><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1047</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/7/1/d9578970-ie1vb0jw4wgh435hjqqcna.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Mon, 01 Jul 2024 10:44:26 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے سے زائد کمی کا اعلان</title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1007</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1007" rel="standout" />
      <description>پٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 16 پیسے  ہوگئی ہے۔
</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پاکستان میں حکومت نے جمعہ کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اگلے پندرہ دن کے لیے کمی کا اعلان کرتے ہوئے نوٹی فیکشن بھی جاری کردیا ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 10 روپے 20 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 33 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">پٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 16 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 267 رپے 89 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پچھلے مہینے حکومت عوام کو پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مجموعی طور پر 35 روپے کا ریلیف دی چکی ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl">وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پٹرول کی کمی شہباز شریف کی طرف سے عوام کے لیے عید الاضحیٰ کا تحفہ ہے۔</p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1007</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/6/15/abf67c55-8jrhqm4jx8dnva44nt5vmn.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 14 Jun 2024 13:15:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
    <item>
      <title>عید سے پہلے پٹرول کی قیمت میں کمی کا امکان </title>
      <guid isPermaLink="true">http://ur.yenisafak.com/news/1002</guid>
      <atom:link href="http://ur.yenisafak.com/news/1002" rel="standout" />
      <description> پٹرول  9 روپے اور ڈیزل 5 روپے فی لیٹر سستا ہوسکتا ہے۔</description>
      <category>تازہ ترین</category>
      <content:encoded><![CDATA[<p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">پاکستان میں عید الضحیٰ سے پہلے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">ڈان اخبار میں پبلش ہونے والی ایک </span><a href="https://www.dawn.com/news/1839765/petrol-rates-expected-to-go-down-by-rs9-tomorrow" target="_blank" class="ql-size-large">رپورٹ</a><span class="ql-size-large"> کے مطابق پٹرول 9 روپے اور ڈیزل 5 روپے فی لیٹر سستا ہوسکتا ہے۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">حکومت کی جانب سے یہ کمی انٹرنیشل مارکیٹ میں پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ہونے کے بعد کی جا رہی ہے۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">اخبار کے ذرائع نے بتایا کہ اس سے پہلے 2 ہفتوں کے دوران انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 3.75 ڈالرز اورڈیزل  کی قیمت میں 2.7 ڈالرز فی بیرل کی کمی ہوئی ہے۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">یہی نہیں بلکہ پچھلے مہینے پٹرول کی قیمت میں تقریباً 12 ڈالر فی بیرل اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 8 ڈالر فی بیرل کمی ہوچکی ہے۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">انٹرنینشل مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت تقریباً 94 ڈالرز فی بیرل سے کم ہو کر 90 ڈالرز فی بیرل پر آ گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 98 ڈالر فی بیرل سے گر کر 95 ڈالرز پر آ گئی ہے۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="ql-size-large">یہ بھی یاد رہے کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے، جس میں تقریباً 19 سے 20 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی شامل ہے، تاہم تمام پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے۔</span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><span class="pho-card-embed" data-id="C8L62RWtu5h" data-url="https://www.instagram.com/p/C8L62RWtu5h/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-embed-type="instagram" contenteditable="false" data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/C8L62RWtu5h/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-html-content="<blockquote class=&quot;instagram-media&quot; data-instgrm-captioned=&quot;&quot; data-instgrm-permalink=&quot;https://www.instagram.com/p/C8L62RWtu5h/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; data-instgrm-version=&quot;14&quot; style=&quot; background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);&quot;><div style=&quot;padding:16px;&quot;> <a href=&quot;https://www.instagram.com/p/C8L62RWtu5h/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; style=&quot; background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;&quot; target=&quot;_blank&quot;> <div style=&quot; display: flex; flex-direction: row; align-items: center;&quot;> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;&quot;></div> <div style=&quot;display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;&quot;> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;&quot;></div> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;&quot;></div></div></div><div style=&quot;padding: 19% 0;&quot;></div> <div style=&quot;display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;&quot;><svg width=&quot;50px&quot; height=&quot;50px&quot; viewBox=&quot;0 0 60 60&quot; version=&quot;1.1&quot; xmlns=&quot;https://www.w3.org/2000/svg&quot; xmlns:xlink=&quot;https://www.w3.org/1999/xlink&quot;><g stroke=&quot;none&quot; stroke-width=&quot;1&quot; fill=&quot;none&quot; fill-rule=&quot;evenodd&quot;><g transform=&quot;translate(-511.000000, -20.000000)&quot; fill=&quot;#000000&quot;><g><path d=&quot;M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631&quot;></path></g></g></g></svg></div><div style=&quot;padding-top: 8px;&quot;> <div style=&quot; color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;&quot;>View this post on Instagram</div></div><div style=&quot;padding: 12.5% 0;&quot;></div> <div style=&quot;display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;&quot;><div> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);&quot;></div> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;&quot;></div> <div style=&quot;background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);&quot;></div></div><div style=&quot;margin-left: 8px;&quot;> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;&quot;></div> <div style=&quot; width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)&quot;></div></div><div style=&quot;margin-left: auto;&quot;> <div style=&quot; width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);&quot;></div> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);&quot;></div> <div style=&quot; width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);&quot;></div></div></div> <div style=&quot;display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;&quot;> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;&quot;></div> <div style=&quot; background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;&quot;></div></div></a><p style=&quot; color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;&quot;><a href=&quot;https://www.instagram.com/p/C8L62RWtu5h/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading&quot; style=&quot; color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;&quot; target=&quot;_blank&quot;>A post shared by Yeni Şafak Urdu (@yenisafakur)</a></p></div></blockquote>" style="color: rgb(243, 68, 125); background-color: black;"><span>https://www.instagram.com/p/C8L62RWtu5h/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campa</span></span></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p><p class="ql-align-right ql-direction-rtl"><br></p>]]></content:encoded>
      <link>http://ur.yenisafak.com/news/1002</link>
      <subcategory>تازہ ترین</subcategory>
      <editor>نیوز روم</editor>
      <image>
        <url>https://img.piri.net/piri/upload/3/2024/6/14/44c2bc3e-su115f7p6ioybazs1ks5.jpeg</url>
      </image>
      <pubDate>Fri, 14 Jun 2024 03:00:00 GMT+3</pubDate>
    </item>
  </channel>
</rss>